Home » 2019 » March » 13 (page 2)

Daily Archives: March 13, 2019

وزیراعلیٰ پنجاب کا سرکاری ٹھیکوں کیلئے ’ای ٹینڈرنگ‘ سسٹم کا فیصلہ

لاہور: حکومت پنجاب نے سرکاری ٹھیکوں میں شفافیت اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ’ای ٹینڈرنگ‘ سسٹم متعارف کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سرکاری ٹھیکوں میں ‘ای ٹینڈرنگ’ سسٹم کے فیصلے کی منظوری دے دی  جس کا اطلاق نئے مالی سال سے ہوگا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ ’ای ٹینڈرنگ‘ سسٹم نافذ کرنے کا مقصد سرکاری ٹھیکوں میں شفافیت اور بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہے اور اس نظام کا سرکاری محکموں میں جلد عمل درآمد کرایا جائے گا۔

وزیر اعلی پنجاب کا مزید کہنا ہے کہ سرکاری محکموں میں ای ٹینڈرنگ سسٹم مرحلہ وار پروگرام کے تحت نافذ کیا جائے گا جب کہ نئے مالی سال سے تمام محکمے مکمل طور پر ‘ای ٹینڈرنگ’ سسٹم کے تحت ٹھیکے دینے کے پابند ہوں گے۔

’چرنوبل‘ دنیا کے سب سے بڑے ایٹمی حادثے کی داستان

سوویت یونین کے دور میں 1986 میں یوکرین میں ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے ایٹمی حادثے پر بنائی گئی منی سیریز کی پہلی جھلک جاری کردی گئی۔

امریکی شوبز پروڈکشن کمپنی ’ایچ بی او‘ کی جانب سے تیار کی جانے والی منی سیریز میں ’چرنوبل‘ کے ایٹمی حادثے کی داستان کو پیش کیا جائے گا۔

ہدایت کار جوہن رینک کے اس ہسٹاریکل ڈزاسٹر ڈرامہ فلم کو لیتھوانیہ میں مکمل کیا گیا ہے اور اسے رواں برس 6 مئی کو ریلیز کیا جائے گا۔

’چرنوبل‘ کے جاری کیے گئے مختصر دورانیے کے ٹیزر سے دنیا کے سب سے بڑے ایٹمی حادثے کی داستان کو سمجھنا مشکل ہے، تاہم ٹیزر کو دیکھ کر ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

’چرنوبل‘ ڈرامہ فلم میں یوکرین کے شہر پریسٹ میں 1986 میں ہونے والے ایٹمی حادثے کو دکھایا جائے گا۔

ڈرامہ فلم میں چرنوبل واقعے کے اسباب کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے—اسکرین شاٹ
ڈرامہ فلم میں چرنوبل واقعے کے اسباب کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے—اسکرین شاٹ

یہ حادثہ چرنوبل نیو کلیئر پاور پلانٹ میں رات کے وقت میں اچانک پیش آیا تھا، جس سے فوری طور پر کم سے کم 35 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ میں حادثے سے بہت سارہ خطرناک تابکار مادہ ہوا میں خارج ہوا تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے یوکرین سمیت یورپ کے دیگر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

اس حادثے کی وجہ سے یورپ کے متعدد ممالک میں لاکھوں انسان کینسر اور سانس کی بیماریوں سمیت کئی خطرناک بیماریوں کا شکار ہوگئے تھے اور اب تک ان علاقوں میں بیماریوں کے اثرات پائے جاتے ہیں۔

ایچ بی او کے ’چرنوبل‘ ڈرامہ فلم کی کہانی کریگ میزن نے لکھی ہے۔

اس ڈرامہ فلم کی کاسٹ میں جیرڈ ہیرس، اسٹیلن اسکارس گارڈ، املی واٹسن، پال رٹر اور جیسی بکلے سمیت دیگر اداکار جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔

خیال رہے کہ چرنوبل نیو کلیئر پاور پلانٹ کے حادثے کے وقت یوکرین متحدہ روس یعنی سوویت یونین کا حصہ تھا۔

اس وقت چرنوبل نیو کلیئر پاور پلانٹ کے انتظامی معاملات سوویت فوج کے پاس تھے۔

بعد ازاں 1991 میں سوویت یونین بکھر گیا تو یوکرین سمیت کئی ریاستیں آزاد ممالک کی حیثیت میں وجود میں آئیں۔

ویوو کا ایک اور متاثر کن کانسیپٹ فون متعارف

چینی کمپنی ویوو نے گزشتہ سال ایک ایسا فون پیش کیا تھا جس میں بیزل نہ ہونے کے برابر تھے جبکہ سیلفی کیمرے کے لیے کوئی نوچ نہیں تھا اور اسے ایپکس کا نام دیا گیا تھا۔

اور اب اس کمپنی نے اس کا پہلے زیادہ بہتر ماڈل ویوو ایپکس 2019 پیش کیا ہے اور گزشتہ سال کے کانسیپٹ ڈیزائن کو مزید آگے بڑھایا ہے۔

ویسے تو ویوو نے رواں سال جنوری میں ایپکس 2019 کی جھلک متعارف کرائی تھی مگر اب حقیقی ڈیوائس کو ہانگ کانگ میں ایک ایونٹ کے دوران پیش کیا گیا۔

یہ اس کمپنی کا پہلا فائیو جی فون ہونے کے ساتھ ساتھ ایسا فون ہے جس میں کسی قسم کا بٹن نہیں دیا گیا۔

ویوو نے فزیکل بٹنز کو پریشر سنسرز سے بدل دیا ہے جبکہ یوایس بی پورٹ کی جگہ ایک مقناطیسی کنکٹر یا میگ پورٹ کو دی ہے، جسے فون چارج کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس میں کوئی سم کارڈ سلاٹ نہیں بلکہ اس کی جگہ ای سم کا استعمال کرنا ہوگا۔

فون کے فرنٹ پر پورا ڈسپلے فنگرپرنٹ سنسر کا کام بھی کرے گا یعنی انگلی اسکرین پر کسی بھی جگہ رکھ کر ڈیوائس کو ان لاک کیا جاسکتا ہے۔

اس میں اسپیکر گرل بھی نہیں بلکہ آواز کو اسکرین کے ارتعاش سے خارج کیا جائے گا اور یہ ٹیکنالوجی گزشتہ سال کے فون مین بھی تھی اور ہاں یہ پورا فون گلاس کے ایک ٹکڑے سے تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی نے اسے مستقبل کا فون قرار دیا ہے جس میں کئی نئی ٹیکنالوجیز کو شامل کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا فون بنانا ممکن ہے جس میں ایک سوراخ یا بٹن بھی نہ ہو۔

فوٹو بشکریہ ویوو
فوٹو بشکریہ ویوو

مگر ایپکس 2019 کو ابھی فروخت کے لیے پیش نہیں کیا جارہا اور کمپنی نے اسے کانسیپٹ ڈیوائس قرار دیا ہے جس میں چند عام فیچرز بھی موجود نہیں جیسے سیلفی کیمرا بھی اس میں موجود نہیں۔

اس کے بیک پر 13 اور 12 میگا پکسل پر مشتمل ڈوئل کیمرا سیٹ اپ موجود ہے جبکہ بیٹری محض 2000 ایم اے ایچ پاور کی ہے۔

اس کے علاوہ کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر، 12 جی بی ریم، 512 جی بی اسٹوریج، 5 جی کنکٹویٹی اور چیمبر کولنگ ٹیکنالوجی اس نئے فون کے نمایاں فیچرز ہیں۔

چونکہ اس میں کوئی سوراخ نہیں تو ممکنہ طور پر یہ واٹر پروف بھی ہوسکتا ہے مگر کمپنی نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

تھائی لینڈ میں پہلی بار مخنث وزارت عظمی کے لیے امیدوار

کوالالمپور: تھائی لینڈ میں رواں ماہ ہونے والے انتخابات میں پہلی بار ایک مخنث خاتون بھی امیدوار ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ میں رواں ماہ کی 24 تاریخ کو انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں تھائی لینڈ کی تاریخ میں پہلی بار اپنی جنس تبدیل کروانے والی خاتون بھی وزیراعظم کے عہدے کے لیے امیدوار ہیں۔ ان انتخابات میں 20 دیگر مخنث امیدوار بھی میدان میں ہیں تاہم ان میں سے کوئی بھی وزیراعظم کے لیے انتخاب نہیں لڑ رہا ہے۔

49 سالہ پالینے گارپرنگ نے چند برس قبل ہی تبدیلی جنس کا آپریشن کراتے ہوئے مرد سے عورت جنس اختیار کی تھی، وہ ’مہا چون پارٹی‘ کی جانب سے امیدوار ہیں۔ پالینے گارپرنگ نے بطور نیوز رپورٹر اپنے کیریر کا آغاز کیا تھا بعد ازاں انہوں نے اسپورٹس پروموٹر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔

واضح رہے کہ تھائی لینڈ میں 2014 میں فوجی بغاوت کے بعد پہلی بار انتخابات ہونے جارہے ہیں جس میں مارشل لا ایڈمنسٹریٹرپریوتھ چینوچا بھی وزیراعظم کے امیدوار ہیں جب کہ شاہی خاندان سے 67 سالہ شہزادی نے بھی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا تاہم ان کے بھائی جو ملک کے بادشاہ بھی ہیں نے ان پر پابندی لگادی تھی۔

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ، پاکستان کی بادشاہت برقرار

دبئی: آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ نئی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ کے مطابق پاکستان پہلی پوزیشن پر موجود ہے جب کہ بیٹسمینوں میں بابراعظم پہلے نمبر پر موجود ہیں۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری کی جانے والی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پاکستان بدستور پہلی پوزیشن پر موجود ہے جب کہ بھارت دوسرے نمبر پر ہے، ویسٹ انڈیز میں عمدہ کارکردگی کی بدولت انگلینڈ نے جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے تیسری پوزیشن پر قبضہ کر لیا ہے جب کہ آسٹریلیا چوتھے، جنوبی افریقا پانچویں، نیوزی لینڈ چھٹے، ویسٹ انڈیز ساتویں، افغانستان آٹھویں، سری لنکا نویں اور بنگلا دیش دسویں نمبر پر ہے۔

بیٹسمینوں میں بابراعظم بدستور نمبرون، اس کے بعد ٹاپ 10 میں کولن منرو، گلین میکسویل، ایرون فنچ، لوکیشن راول،  حضرت اللہ زازئی،  ڈارسی شارٹ، ایون لیوس، فخر زمان اور الیکس ہیلز شامل ہیں۔ بولرز میں راشد خان بدستور سرفہرست، شاداب خان کا بھی دوسری پوزیشن پر قبضہ برقرار ہے، عادل راشد 2 درجے بہتری کے ساتھ تیسرے نمبر پر آگئے ہیں، عماد وسیم ایک درجہ تنزلی کے ساتھ چوتھی کلدیپ یادو بھی ایک درجہ پیچھے ہٹتے ہوئے پانچویں پوزیشن پر آگئے ہیں۔

ٹاپ 10 میں شامل دیگر بولرز میں ایڈم زمپا، شکیب الحسن، ایش سوڈھی،  فہیم اشرف اور ویسٹ انڈیز کے خلاف عمدہ کارکردگی دکھانے والے کرس جورڈن  شامل ہیں، آل راؤنڈرز میں گلین میکسویل پہلے شکیب الحسن دوسرے نمبر پر ہیں جب کہ اس فہرست میں کوئی پاکستانی ٹاپ 5 میں شامل نہیں۔

پاک فضائیہ کا جے ایف17سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

پاک فضائیہ نے جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول لڑاکا طیارے سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ملکی ساختہ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ نے جے ایف 17 تھنڈر سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس سے طیارے کو اب دن اور رات میں اہداف کونشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔

پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق یہ تجربہ ملکی دفاع میں ایک عظیم سنگ میل کی حیثیت کا حامل ہے جو قابل فخر پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جنہوں نے جے ایف 17 تھنڈر کو ملکی سطح پر تیار کردہ جدید میزائل سے لیس کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق اس کامیاب تجربے سے جے ایف 17 تھنڈر کو دن اور رات میں طویل فاصلے کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔

اس موقع پر پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے پاک فضائیہ کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اگر دشمن نے ہم پر جارحیت مسلط کی تو ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے۔

امراض قلب اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں

ایک زمانہ تھا جب ہارٹ اٹیک اور دل کے دیگر امراض درمیانی عمر یا بڑھاپے میں سامنے آتے تھے مگر اب یہ نوجوانوں میں بھی عام ہوتے جارہے ہیں۔

دل انسانی جسم کے اہم ترین اعضاءمیں سے ایک ہے مگر حیران کن طور پر ہم اس کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔

روزمرہ کے تناﺅ اور مضر صحت غذا کے استعمال سے اس پر بوجھ بڑھاتے رہتے ہیں حالانکہ سب کو علم ہے کہ بہت زیادہ چکنائی سے بھرپور غذا بلڈ کولیسٹرول کی سطح بڑھانے کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں خون کی شریانیں سکڑنے لگتی ہیں اور دل اپنے افعال سرانجام دینے سے قاصر ہونے لگتا ہے۔

اس کا نتیجہ ہارٹ اٹیک یا امراض قلب کی شکل میں نکلتا ہے۔

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ کون کون سی غذائیں دل کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں؟ اگر نہیں تو جان لیں۔

گوشت کے قتلے

گوشت کے قتلے میں ایسی چربی بہت زیادہ مقدار میں ہوتی ہے جو کہ نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ کرتی ہے جس سے ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بڑھتا ہے، ان قتلوں میں نمک کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جس سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، نمک کی زیادہ مقدار فالج، امراض قلب اور ہارٹ فیلیئر کا باعث بن سکتی ہے۔

سرخ گوشت

ایسا نہیں کہ گائے یا بکرے کا گوشت نہ کھائیں، مگر اس کا بہت زیادہ استعمال امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتا ہے، جس کی وجہ اس میں چربی کی مقدار زیادہ ہونا ہے جو کولیسٹرول کی سطح بڑھاتا ہے، تو سرخ گوشت سے لطف اندوز ہوں مگر بہت زیادہ کھانے سے گریز کریں جبکہ چربی سے پاک گوشت کو زیادہ ترجیح دیں۔

سافٹ ڈرنکس

ان میٹھے مشروبات کو کبھی کبھار پینا تو زیادہ نقصان نہیں پہنچاتا مگر ان کا روزانہ استعمال ضرور خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، جس کی وجہ ان میں مٹھاس کی مقدار بہت زیادہ ہونا ہے، ان مشروبات کو زیادہ پینے سے جسمانی وزن میں اضافہ ہوتا ہے جس سے ذیابیطس ٹائپ 2، ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے جو آگے بڑھ کر ہارٹ اٹیک اور فالج کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

بیکری کی مصنوعات

بسکٹ، کیک اور دیگر یقیناً مزیدار ہوتے ہیں مگر ان میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور انہیں زیادہ کھانا موٹاپے کا باعث بنتا ہے، ان میں ٹرائی گلیسڈر کی سطح بھی بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ امراض قلب کا باعث بنتی ہے، ان مصنوعات کی تیاری کے لیے میدے کا استعمال ہوتا ہے جو بلڈ شوگر بڑھا سکتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے۔

سفید ڈبل روٹی، پاستا اور چاول

چاول، ڈبل روٹی اور پاستا جو میدے سے بنے ہوں، ان میں صحت بخش فائبر، وٹامنز اور منرلز کی کمی ہوتی ہے، ریفائن اجناس جسم میں جاکر بہت تیزی سے شکر میں بدل جاتی ہیں جو جسم چربی کے طور پر ذخیرہ کرتا ہے۔ اس طرح کی ریفائن اجناس کا زیادہ استعمال توند کا باعث بنتا ہے جو کہ امراض قلب اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

پیزا

پیزا صحت کے لیے فائدہ مند بھی ہوسکتا ہے کہ اگر اسے درست طریقے سے پکایا جائے مگر بازار میں دستیاب اکثر پیزا نمک، چربی اور کیلوریز سے بھرپور ہوتے ہیں اور یہ سب ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھانے والے عناصر ہیں۔

فرنچ فرائیز

تیل میں بننے والے یہ چپس مزیدار تو ہوتے ہیں مگر ان میں چربی اور نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو دل کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ فرنچ فرائیز زیادہ کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں ہارٹ اٹیک یا امراض قلب سے جلد موت کا خطرہ بڑھتا ہے۔

فرائیڈ چکن

فرنچ فرائیز کی طرح فرائیڈ چکن کو بھی ڈیپ فرائی کیا جاتا ہے جس سے ان میں کیلوریز، چربی اور نمک کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جن کے نقصانات اوپر درج ہوچکے ہیں، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں تلی ہوئی غذاﺅں سے ذیابیطس ٹائپ ٹو، موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرات بڑھنے کی نشاندہی کی گئی ہے جو سب ہارٹ فیلیئر کا باعث بن سکتے ہیں۔

آئسکریم

آئسکریم میں چینی، کیلوریز اور سچورٹیڈ فیٹ کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے تو اسے کبھی کبھار کھانا ہی بہتر ہوتا ہے، چربی اور چینی سے بھرپور غذاﺅں کا زیادہ استعمال موٹاپے کے ساتھ جسم میں ٹرائی گلیسڈر کی سطح بڑھاتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک کا امکان بڑھتا ہے۔

چپس

بیکری یا کمپنیوں کے تیار کردہ چپس موٹاپے کا باعث بن سکتے ہیں جس کی وجہ ان میں چربی کی مقدار زیادہ ہونا ہے جبکہ ان میں نمک کی مقدار بھی بہت زیادہ ہے جو امراض قلب کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

نااہل نریندرا مودی کی اصلیت ۔بے نقاب

بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ ملیالم محقق دانشوراورادیبہ ارون دھتی رائے کا ایک تازہ ترین انٹرویوجواْنہوں نے ۳ جنوری ۲۰۱۹ کودیا تھا آج کے کالم کا آغاز ہم اسی انٹرویو کے ایک اقتباس سے کرتے ہیں جس میں اپنے ٹھوس’موثر’مدلل اورغیر جانبدرانہ گفتگو میں ارون دھتی رائے نے بھارتی وزیراعظم مودی کی اصلیت کا پردہ بڑی جرات مندی سے چاک کیا ہے’مس دھتی رائے’ کہتی ہیں’پرائم منسٹر مودی دراصل کارپوریٹ ہندؤ نیشنلزم کی ایک کھلی ہوئی تجسیم ہے’بی جے پی کے اکثر ممبران کی طرح وہ بھی’راشٹریہ سوامیک سنگھ’کا رکن ہے جو آج کے بھارت میں ایک طاقتوربے لگام ہندؤتنظیم ہے’بی جے پی’آرایس ایس کا سیاسی بازو ہے آر ایس ایس کا واحد مقصد عرصہ دراز سے بھارتی آئین کو سیکولر سے ہندو دیش بناناہے مودی نے سیاست میں اپنے کرئیر کا آغاز اکتوبر 2001 میں کیا جب اس کی پارٹی نے اسے (غیرمنتخب) چیف منسٹر برائے ریاست گجرات کے لیے میدان میں اتارا تھا فروری 2002ء میں(جب نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا امریکا اورمغربی دنیا میں پورے عروج پہ تھا) اْن ہی دنوں میں گجرات میں مودی کی سرپرستی میں منظم منصوبہ بندی سے وحشیانہ مسلم کش فسادات کرائے گئے ہندؤغنڈے بلوائیوں نے دن دیہاڑے مسلمانوں کا قتل عام کیا دسیوں ہزاروں کو ان کے گھروں سے بے گھر کردیا گیا اْن کی قیمتی املاک کو نذرآتش کیا گیا مسلم خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کے واقعات ریکارڈ پر آئے مذہبی منافرت کے خوفناک مناظر دیکھ کر بھارت کی کئی بڑی بڑی کارپوریشنوں کے سربراہوں نے فورا ہی اعلانیہ مودی کی حمایت کرنا شروع کردی’ ایک ایسا آدمی جس کا کوئی پولیٹکل ٹریک ریکارڈ نہیں تھا اسے انہوں نے اپنا پرائم منسٹرتک چن لیا یہ شاید اس لیے ہوا کہ انہوں نے مودی کے اندر ایک ‘فیصلہ ساز’ ہندو سیاست دان ڈھونڈ لیاتھاایک بے رحم سیاست دان کے طورپر مودی کواْنہوں نے تاڑ لیا تھا، جو نئی معاشی پالیسیوں کوبھی اپنے یکطرفہ فیصلوں سے چلا سکے گا اور ملک سے حقیقی احتجاجوں اور بے چینیوں کی آوازوں کو اپنے سفاکانہ اقدامات کے ذریعے ختم کرسکے گا؟ یہ سارے کام کانگریس پارٹی کی حکومت کرنے میں حیل و حجت سے کام لیتی رہی وہ مسلسل کارپوریشنوں کے ساتھ باہم دلچسپی کی یادداشتوں پہ دستخط کرنے کے باوجود ان کو ٹالتی چلی آرہی تھی اس سارے عمل میں 12 سال لگے’ مئی 2014ء میں مودی بھاری اکثریت کے ساتھ پردھان منتری بنے بین الاقوامی میڈیا اور سربراہان مملکت نے مودی کو جسے گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد امریکا نے ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا اس کے اندر چھپے ہوئے مسلم دشمن سیاست دان سے امریکا بڑا مرعوب ہوا یوں فورا عالمی منظر نامے پراسے خوش آمدید کہا گیا کیونکہ ان کو یقین تھا کہ’ یہ شخص’بین الااقوامی سرمایہ کی منزلوں کو اْن کی پہنچ تک ممکن بنانے بڑا مددگار ثابت ہوگا، اگرچہ مودی کے اقتدار میں آنے کے چند سال کے اندر ہی اْس کی ہردلعزیز کارپوریشنز اور اس کے قریبی تجارتی اتحادیوں کے خاندانوں نے اپنی دولت کے انباروں میں کئی گناہ اضافہ کرلیا تھا، جیسا کہ آجکل دیش میں امبانی گروپ جیسوں کے ساتھ ملی بھگت اورشراکت ذریعہ سے دفاعی سامان کی خرید کے معاہدوں اوررافیل گھپلوں کا شور دیش کی دردیواروں سے بخوبی سنا جاسکتا ہے اوپر سے مودی اتنا چاک و چوبند آزاد معشیت کا بندہ بھی ثابت نہ ہوا جتنی امیدیں اس سے لگالی گئی تھیں اس کی وجوہات کسی آئیڈیالوجی کی بجائے اس کی نااہلیت میں چھپی ہوئی تھیں جوکسی کو نہ نظرآئیں مثال کے طور نومبر 2016ء4 میں رات گئے ٹی وی پہ وہ آیا اس نے ‘ڈی مونیٹائزیشن’ کی پالیسی کا اعلان کردیا اسی لمحے 80 فیصد سے زائد بھارتی کرنسی نوٹ بے گار ہوگئے اس کا مقصد کالے دھن کا ذحیرہ کرنے والوں پہ بجلی گرانا تھا ذرا سوچئیے ایک ارب سے زائد آبادی کا ملک ایک لمحہ میں’ہالٹ’ کی پوزشن پہ آگیا یہ تو بالکل ایک مطلق العنان آمر کی طرز کا سراسرگھمنڈ پہ مبنی احمقانہ اقدام تھا کئی ہفتوں تک روزکی اجرتوں پرکام کرنے والے مزدور’ٹیکسی ڈرائیورز’چھوٹے دکاندار’کسان اوردرمیانی سرکاری اور غیرسرکاری ملامت پیشہ طبقہ کئی ہفتوں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہوئے تاکہ اپنی تھوڑی بہت بچت پہ مبنی رقوم کو نئے نوٹوں سے بدلواسکیں ساری کرنسی’ کالی اور سفید دونوں ہی قریب قریب باآسانی واپس بینکوں میں پہنچ گئیں کسی ایک بھی بوریاں بھر کر بینکوں میں دولت کے انبار لانے والوں سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ’دولت کہاں سے جمع کی ہے؟’ آج بھارت میں جگہ جگہ یہی سوال اْٹھائے جارہے ہیں’ یہ کہنا تھا ارون دھتی راے کا جبکہ یہیں سے راقم اْن سے متفق ہے اور یہ کہنا چاہتا ہے کیا اب بھی مودی کے پاس وقت ہے؟بالکل نہیں ہے کوئی عذر نہ بہانہ ہے گزشتہ پانچ برسوں میں مودی نے یاآریس ایس کی’براہمن سرکار’ نے ایک ارب بیس کروڑ سے زائد عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کچھ کیا یا نہیں؟ گجرات میں دومرتبہ ایک بار۴۱۰۲ میں فرقہ ورانہ منافرت کی جنونیت کے انتخابی نعرے لگائے گئے لیجئے اب ۹۱۰۲ آگیا اورالیکشن سرپرآگئے بھارتی عوام کو مذہبی جنونیت میں مبتلا کرکے اْنہیں اب کی بار’ماروماردو’ پاکستان کو نیست ونابود کردو؟’پٹھان کوٹ حملہ’اڑی حملہ اور اب پلوامہ حملہ’ایل اوسی پر فائرنگ کی شدت’ رہی سہی کسر بالاکوٹ پر فضائی ہلہ بول دیا گیا جس میں بھارت کو بہت بْری طرح سے منہ کی کھانی پڑی دفاعی اور سفارتی سطح پر بھارت کا رہا سہا بھرم خاک مل گیا آرایس ایس کو ڈیڑھ ماہ بعد ہونے والے چناؤ جتنے کیلئے کیا یہی سودا کافی ہے؟اور کیا’راجستھان کی عدالت کی عمارت پر سے دیش کا ترانگا پرچم اتروا کر ‘بھگوا جھنڈا’ عمارت پر گاڑ دینا مودی کے پاس عوام کو بتانے کے لئے یہی ہے پچھلے پانچ سالوں کے اپنے ‘ رام راج’ کو بیان کرنے کے لئے اوربی جے پی کے پاس کیا ہے یا اْس آئین کو بدلنے کی باتیں ماضی میں جس آئین کی بدولت بھارت سیکولر جمہوریت کا چمپیئن بنا پھرتا تھا اب تو ووٹ کا حق ‘ای وی ایم’مشینی دھوکہ دہی کے نام پر چھینا جارہا ہے دیش میں بی جے پی نفرت کی سیاست کو بڑھاوا دینے اور دیش کے محفوظ مستقبل کے لئے صحیح اشارے کہیں دوردور تک کسی کو نظرنہیں آرہے بلکہ انجانے خطرے کے اشارے نمایاں ہورہے ہیں ‘یدھ’ جنگ’ لڑائی’ اپنے جوانوں کی لاشیں گراکر سیاست کی جارہی ہے’ بھارتی فوج کے سکھ بٹالین کے جوانوں اورافسروں کی بہادری کی باتیں دیش میں جہاں دیکھیں سن لیں’لیکن ذرا عالمی سکھ برادری کی بات بھی سن لیں جو اپنے ساتھ گزشتہ ستر برسوں سے براہمن ہندووں کے امتیازی سلوک پرسخت نالاں دکھائی دیتے ہیں تازہ تفصیلات کے مطابق ورلڈسکھ پارلیمنٹ کاجنوبی ایشیا سیمتعلق اپنا پالیسی بیان جاری کردیا گیا ہے جس میں سکھوں کی عالمی تنظیم نے سکھ فوجیوں کو پاکستان کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت کی ہے اورپاکستانی وزیراعظم کو امن کا سفیر قرار دیتے ہوئے بھارتی پائلٹ کی واپسی کو ایک احسن قدم قراردیا ہے تفصیلات کے مطابق ورلڈسکھ پارلیمنٹ کاجنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی بیان جاری کیا گیا جس میں سکھوں کی عالمی تنظیم نے سکھ فوجیوں کو پاکستان کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لینے کی ہدایت کی ہے ورلڈسکھ پارلیمنٹ کا مزید کہنا تھاکہ ہندو انتہاپسندی دراصل جنوبی ایشیامیں کشیدگی اورتنازع کاباعث ہے، بھارت میں انتہا پسندی نیہمسایہ ممالک اورملک میں اقلیتوں کیلئے حالات ابتر بنادیئے ہیں، مودی سرکار صرف الیکشن کیلئے پاکستان مخالف مہم چلارہی ہے انہوں نے بھارت کو چتونی دیتے ہوئے کہا ہے کہ سکھوں کی زمین بھی بھارتی قبضے میں ہے سکھوں کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کی جائے عالمی سکھ پارلیمنٹ نے یہ ہدایت بھی جاری کی ہے اگر پاک بھارت جنگ ہوئی تو سکھ قوم اس جنگ کا حصہ نہیں بنیگی جنگ کی صورت میں سکھ فوجی واپس اپنے گھروں کو چلے جائیں گے جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے سکھ برادری کا یہ بھی کہنا ہیکہ کشمیریوں کی ا?زادی کیلئے لڑائی درست ہے عالمی برادری کو بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے اب اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ہر باشعور بھارتی ووٹر اس بات کا گواہ ہے کہ کیسے مرکز اور ریاستوں کا اقتدار حاصل کرنے کے لئے بی جے پی نے قبرستان’ شمشان’ مندر’ مسجد’ ہندووں’ مسلم اورسکھوں میں فاصلے اور اوربدگمانیاں پیدا کردیں حکومت سازی کیلئے سماجی وثقافتی نفرتیں پھیلائی گئیں ایک دوسرے کو لڑایا گیا ‘بھارتی سماج کو ٹکڑوں میں منقسم کرکے خوف وہراس کا غیر انسانی نظام وضع کیا گیا جس کے نتیجے میں سوشل میڈیا کے ذریعہ جھوٹ اور نفرت کو مشتہر کیا جارہا ہے افواہوں کو بڑھایا گیا اور اب تک کئی قتل ہونے کی خوفزدہ افواہیں گردش کرنے لگیں ہیں بھارت کی یہ بڑی بدقسمتی ہے ۔

*****

Google Analytics Alternative