Home » 2019 » March » 14

Daily Archives: March 14, 2019

آغا سراج کے گھر چھاپہ: ’چیئرمین نیب تحقیقات کریں ورنہ ہم ایکشن لیں گے‘

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب آغا سراج کےگھرپرچھاپہ کی تحقیقات کریں ورنہ ہمیں تحقیقات کرنا پڑے گی۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ چیئرمین نیب نے آغاسراج درانی کےگھر پر چھاپے کےخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ آغا سراج درانی کی گرفتاری کے بعد شواہد کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اس پر چیئرمین نیب اپنے ماتحت افسران کا احتساب کریں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اظہار یکجہتی کا پیغام دینے کے لیے سندھ اسمبلی آیا ہوں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جیسا کہ پورے پاکستان کو پتہ ہے کہ سندھ اسمبلی وہ اسمبلی ہے جس نے پاکستان کی قرارداد پاس کی،اس وقت کی اسمبلی میں بھی آغا سراج درانی کے رشتے دار موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی پیپلزپارٹی کا عہدہ نہیں ہے، یہ ایک ایک آئینی عہدہ ہے جسے ایوان کے اراکین کی جانب سے منتخب کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آغا سراج درانی پاکستان کا ایک بڑا سیاسی نام ہیں، ان کے والد بھی سندھ اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں،اسپیکر کا عہدہ اہم ہے۔

’آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام کسی پر بھی لگ سکتا ہے‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے پر ایک افسوسناک اور شرمناک حملہ کیا گیا جب مشرف کے بنائے ہوئے ادارے نے آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے گرفتار کیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اسلام آباد سے آغا سراج درانی کی گرفتاری شرمناک عمل ہے، قابل مذمت ہے اور میں اس کی مذمت کرتاہوں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ نیب کا آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ویسا ہی ہے جیسے کوئی پولیس آفیسر کسی بےگناہ شخص کو پکڑے اور اس پر کوئی چرس ڈال دیں اور 2 بوتل شراب کا الزام ڈال کر اسے اندر بند کردے۔

انہوں نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام کسی پر بھی لگ سکتا ہے اور یہاں ہر پاکستانی کے لیے ایک قانون نہیں ہے، اسپیکر سندھ اسمبلی کو صرف الزام کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا اگر ثبوت ہوتا تو وہ پیش کرتے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گرفتاری کے بعد آغا سراج درانی کے گھر پر چھاپہ مارنا یہی پیغام دیتا ہے کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں تھا اور ثبوت ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ پھر جس طریقے سے چادر اور چاردیواری کو پامال کیا گیا یہ ہم برداشت نہیں کریں گے، یہ ہماری ثقافت،مذہب اور انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے عورتوں اور بچوں کو یرغمال بنایا گیا، بدتمیزی کی گئی اس پر پاکستان پیپلزپارٹی نے مذمت کی وزیراعلیٰ سندھ نے بھی مذمت کی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ چیئرمین نیب نے آج تک انسانی حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ میں ایک مرتبہ پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ چیئرمین نیب اپنے ماتحت افسران کا احتساب کریں ورنہ ہمیں اس کی تحقیقات کرنی پڑے گی،ہمیں ایکشن لینا پڑے گا۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ نیب کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے،میں جانتا ہوں کہ یہ کالا قانون ہے۔

’فرشتے کو بھی چیئرمین نیب بنادیں تو تب بھی سیاسی انتقام ہی ہوگا‘

ان کا کہنا تھا کہ اسی لیےشہید بینظیر بھٹو نے اپنے چارٹرڈ آف ڈیموکریسی میں، اپنے منشور میں کہا تھا کہ ہمیں نیب کو ختم کرنا ہے یہ ہماری بھی ناکامی ہے کہ ہم نیب میں کوئی اصلاحات یا اس مشن کو پورا نہیں کرسکے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ نیب ایک ایسا ادارہ ہے کہ اگر اس میں آپ فرشتہ بھی چیئرمین نیب بنادیں تو تب بھی سیاسی انتقام ہی ہوگا کچھ اور نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ کچھ اداروں میں آج بھی 2019 میں سیاسی انتقام چل رہا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ آپ یہ ہمارا بےنامی اکاؤنٹس کیس ہے اس کو ہی دیکھ لیں یہ سیاسی انتقام ہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے دوران اس قسم کے کیس پر سوموٹو لینا، تفتیش کے معاملے پر سوموٹو نہیں لیا جاسکتا یہ انسانی حقوق کا کیس نہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اس کیس میں ایف آئی آر کاٹی گئی، ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی بینکنگ کورٹ میں کیس چل رہا ہے ،کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ کیس سست روی کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ کیس سست روی کا شکار ہے تو کیا شہید ذوالفقار علی بھٹو کا قتل کیس،شہید بینظیر بھٹو کا قتل کیس، اصغر خان کیس سست روی کا شکار نہیں ہے؟

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ مگر یہ اچانک الیکشن کے دوران جب میں نے گھوٹکی میں پریس کانفرنس کی اس کے جواب میں کیس کی سست روی کو انسانی حقوق کا کیس بنادیا جاتا ہے اور سوموٹو بھی لیا جاتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ تاریخ کی بدترین دھاندلی،انسانی حقوق کی پامالی،آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کو ختم کرنا کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ توازن لانا کوئی عدالت کا قانون نہیں ہے، آپ عدالت میں نہیں کہہ سکتے کہ میں نے توازن لانا ہے میں نے جے آئی ٹی بنانی ہے، اس سے بہت بُرا پیغام جاتا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کو بٹھانا ایک غیرجمہوری عمل ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ غلط فیصلہ تھا لیکن یہ ہوگیا۔

’چیف جسٹس نے کہا بلاول بے گناہ ہے مگر تحریری فیصلے سے یہ بات نکال دی گئی‘

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور مجھے آرٹیکل 10 اے کے مطابق شفاف اور آزاد ٹرائل کا حق حاصل ہے، اس حق کو سلب کیا گیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ مسلسل 6 ماہ تک ہماری کردار کشی کی گئی، مختلف فورمز کے سامنے ہمارے بارے میں بات کی گئی لیکن ایک بار بھی کسی عدالت نے مجھے یا وزیراعلیٰ کو پیش ہونے کے لیے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے تو انصاف نہیں ہوسکتا کہ آپ کسی ملزم یا کسی گواہ کو سنے بغیر ان کے خلاف یا ان کے حق میں بھی فیصلہ سنادے۔

انہوں نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کو راولپنڈی منتقل کرنا حدود کے تصور کی خلاف ورزری ہے ،قانونی طور پر جہاں جرم کیا گیا ، جہاں ملزم ہے وہاں ٹرائل ہوگا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میرا مطلب ہے کہ اگر کیس سندھ کا، ایف آئی آر سندھ کی، بینک اکاؤنٹس سندھ کے،کمپنی سندھ کی،ملزم سندھ کے، ٹرانزیکشن سندھ کی لیکن کیس راولپنڈی کیوں منتقل کیا جارہا ہے؟ راولپنڈی میں ایسا کیا ہے پتہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ کیسے ناانصافی ہورہی ہے،سیاسی انتقام کے لیے مجھے اس کیس میں گھسیٹا جارہا ہے۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ اوپن کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان، آئی ایس آئی کے رہنما کو طلب کرتے ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ کس کے کہنے پر بلاول بھٹو کا نام جے آئی ٹی کا نام شامل کیا،اس سوال کا جواب مجھے آج تک نہیں ملا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اسی سماعت میں پورے پاکستان کے سامنے چیف جسٹس نے اپنا حکم سنایا، انہوں نے کہا تھا کہ بلاول بھٹو بے گناہ ہے ان کا نام جے آئی ٹی سے اور ای سی ایل سے نکالا جائے لیکن افسوس ہے کہ تحریری حکم نامے میں یہ جملے ہی نہیں تھے، شاید تحریری حکم نامہ کسی اور نے لکھا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پھر یہ کہا گیا کہ آپ نے غلط سمجھا، اس پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی، میں سپریم کورٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے ریکارڈ کو ایک مرتبہ پھر دیکھ لیں۔

’وزیراعظم عمران خان مودی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتے‘

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت پسند جماعت ہیں،ترقی پسند ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں جب سے سیاست میں ہوں دہشت گردوں کے خلاف، کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز اٹھارہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کے خلاف تو بولتے ہیں لیکن نریندر مودی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت، اپوزیشن کو کیسے آمادہ کرے گی کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے یا کالعدم تنظیموں کے خلاف قدم اٹھائیں گے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ الیکشن میں آپ کے اتحادی تھے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی صرف اور صرف پی ٹی آئی کی مدد کرنےکے لیے کی گئی الیکشن میں جہاں کالعدم تنظیموں کو ری بین کرکے انہیں الیکشن میں لایا گیا تاکہ پی ٹی آئی کو سپورٹ ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے لیے احتساب موجود ہے،حکومت کا جو بھی ناقد ہے چاہے وہ سیاستدان ہو یا چھوٹا سا بلاگر ہو اس کے خلاف اقدامات کیے جاتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم کیا پیغام دے رہے ہیں دنیا کو کہ کالعدم تنظیموں کے لیے این آر او، استثنیٰ، کالعدم تنظیموں کے لیے عدالت میں کوئی تاریخ نہیں ملتی، ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ 3 بار کے وزیراعظم کوٹ لکھپت جیل میں ہیں بیمار ہیں لیکن کالعدم تنظیموں کو گرفتار نہیں کرواسکتے۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی کو آمدن سے زائد اثاثوں کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے لیکن کالعدم تنظیموں کو آمدن سے زائد اثاثوں پر گرفتار نہیں کرواسکتے، ان کے اثاثے کہاں سے آتے ہیں اس پر جے آئی ٹی بٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بہت مشکل سوال ہے اس کا جواب آنا چاہیے،اس لیے ہم کالعدم تنظیموں کا مقابلہ کسی دباؤ کی وجہ سے نہیں کررہے بلکہ دہشت گردی کی وجہ سے کررہے ہیں۔

پنجاب، بلوچستان اور کے پی کی پیپلز پارٹی کے لیے ایک ہی بیرک کافی ہے، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی آج سے ہی جیل بھرو تحریک شروع کر دے، پنجاب، بلوچستان اور کے پی کی پیپلز پارٹی کے لیے ایک ہی بیرک کافی ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی آج سے ہی جیل بھرو تحریک شروع کردے اور اس کا آغاز لاہور سے شروع کیا جائے اور پنجاب میں ضمانتیں ضبط کروانے والوں کو جیل میں ڈالیں، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی پیپلز پارٹی کے لیے ایک ہی بیرک کافی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی نے سابق وزیراعظم کو سندھ میں علاج کی پیشکش کی ہے، نوازشریف دل کے مریض ہیں انہیں سندھ میں علاج کی پیشکش نہ دی جائے، وہ سندھ کے اسپتالوں میں علاج برداشت نہیں کر پائیں گے، سندھ کے اسپتالوں سے بہتر ہے کہ نوازشریف علاج ہی نہ کروائیں۔

سپریم کورٹ: نواز شریف کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر جیل سے ضمانت پر رہائی کی درخواست فوری سماعت کے لیے مقرر کر دی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نواز شریف کی جانب سے دوسری مرتبہ درخواست پر اسلام ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ نواز شریف کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

خیال رہے کہ نواز شریف نے اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے بعد اس کو فوری سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواست دی تھی جس کو بھی مسترد کردیا گیا تھا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ہیں جہاں ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے جبکہ انہیں لاہور کے ہسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیے گئے تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی مسلم لیگ (ن) کے قائد کی صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ نواز شریف کو ان کی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کی اجازت دی جائے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے العزیزیہ کرپشن کیس میں سزا کے خلاف طبی بنیادوں پر ضمانت دینے کی درخواست کی تھی، جو 25 فروری کو مسترد کردی گئی تھی۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نوازشریف کی جانب سے ان کے وکیل خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں عدالت عظمیٰ سے العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کی دی گئی 7 برس قید کی سزا ختم کرتے ہوئے ضمانت کی استدعا کی گئی تھی۔

عدالت عظمیٰ میں یہ اپیل دائر کرنے کے ساتھ ہی ایک علیحدہ درخواست بھی جمع کروائی گئی تھی جس میں اس کی 6 مارچ کو جلد سماعت کی گزارش تھی۔

تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے جلد سماعت کی درخواست یہ کہتے ہوئے واپس کردی کہ اس معاملے کو خصوصی توجہ نہیں دی جاسکتی اور کارروائی معمول کے مطابق ہی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 25 فروری کو ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا تھا کہ نواز شریف کی کسی میڈیکل رپورٹ سے یہ بات ظاہر نہیں ہوتی کہ ان کی خراب صحت ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

اس کے ساتھ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ جب بھی انہیں صحت کی خرابی کی شکایت ہوئی تو انہیں وقتاً فوقتاً علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ میڈیکل بورڈ میں شامل ڈاکٹروں کی مرتب کردہ رپورٹس سے یہ بات واضح ہوتی ہیں کہ درخواست گزار کو وہ تمام بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی گئیں جو پاکستان میں کسی بھی فرد کو حاصل ہیں۔

یاد رہے کہ 24 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب کی جانب سے دائر العزیزیہ اسٹیل ملز اور فیلگ شپ ریفرنسز پر فیصلہ سنایا تھا۔

عدالت نے نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں شک کی بنیاد پر بری کردیا تھا جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ ایک ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر علیحدہ علیحدہ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

علاوہ ازیں نواز شریف کو عدالت نے 10 سال کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے سے بھی نااہل قرار دے دیا تھا۔

مذکورہ فیصلے کے بعد نواز شریف کو گرفتار کرکے پہلے اڈیالہ جیل اور پھر ان ہی کی درخواست پر انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

بعد ازاں رواں سال 3 جنوری کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سزا پانے والے سابق وزیرِاعظم نواز شریف نے اپنی سزا کی معطلی سے متعلق درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔

ملک میں مہنگائی مزید بڑھے گی جس پر لوگ چیخیں گے، وزیر خزانہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے عوام پر قیمتوں کا مزید بوجھ ڈالنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا جس پر عوام چیخیں گے۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ن لیگ کی حکومت نے بجلی کی قیمت کو انتخابی مہم کے لیے استعمال کیا تھا، اس نے ایک سال میں توانائی شعبہ میں 450 ارب روپے کا خسارہ کیا اور گیس کی کمپنیوں میں 150 ارب روپے کا نقصان کیا۔

اسد عمر نے کہا کہ اب ملک میں معیشت مستحکم دکھائی دےرہی ہے، تاہم مہنگائی مزید بڑھے گی کیونکہ بجلی اور گیس کی قیمت بڑھ رہی ہے، اس پر لوگ چیخیں گے، تاہم جب معیشت بحال ہورہی ہو تو مہنگائی بڑھتی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کےساتھ اختلافات کم ہوچکےہیں اور قرض کے لیے مذاکرات جاری ہیں، آئی ایم ایف نے مزید اقدامات کرنے کا کہا تھا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ نے جو اقدامات کیے وہ کافی ہیں۔

اسد عمر نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ اخراجات کو کم کیا جائے اور  بجلی و گیس کے نقصانات کو کنٹرول کیا جائے، آئی ایم ایف نے ڈالر کو بھی مارکیٹ ریٹ پر لانے کا مطالبہ کیا ہے تاہم فی الحال ڈالر کی قیمت بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

لیپ ٹاپ اسکیم کے بعد شہبازشریف کو سالڈ ویسٹ منیجمنٹ سے بھی کلین چٹ مل گئی

لاہور: وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ یہ درست نہیں ہے کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ میں اربوں روپے کے گھپلے ہوئے اور گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں وصول کرنے میں  سیاستدان اور سرکاری افسران ملوث ہیں۔  

لیپ ٹاپ اسکیم میں بدعنوانیوں کے الزامات سے بری قرار پانے کی خبر کے بعد اب سابق وزیراعلی شہباز شریف کو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پراجیکٹ میں بھی کلین چٹ مل گئی ہے اور پنجاب حکومت نے منصوبے کو گھپلوں سے پاک قرار دیتے ہوئے اس میں گڑبڑ اور بدعنوانی کے الزامات مسترد کردئیے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے جلاس میں ایک سوال پر تحریری جواب میں لوکل گورنمنٹ کے وزیر اور صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان کو بتایا کہ سابق دور حکومت میں 7 شہروں لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور بہاولپور میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز قائم کی گئیں، اور یہ درست نہیں ہے کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ میں اربوں روپے کے گھپلے ہوئے ہیں۔

راجہ بشارت نے جواب میں کہا کہ یہ بھی درست نہیں کہ گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں وصول کرنے میں کئی سیاستدان اور سرکاری افسران ملوث پائے گئے۔  تاہم صرف گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں پروکیورمنٹ پراسیس میں بے ضابطگیوں کی بنا پر اینٹی کرپشن میں متعلقہ افراد پر مقدمہ درج ہے۔

واضح رہے کہ لیپ ٹاپ اسکیم میں بھی پنجاب حکومت کے اسمبلی میں دئیے گئے جواب میں شہبازشریف اور ان کی حکومت کو کلین چٹ دی گئی تھی۔

خطے میں قیام امن۔۔۔جرمن اوربرطانیہ بھی پاکستان کے کردارکے معترف

adaria

وزیراعظم پاکستان نے ایک مرتبہ پھرمسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پراس وقت اجاگرکیا جب ان سے جرمن کے وزیرخارجہ نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اور کہا کہ عالمی برادری کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے جرمنی کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ بہت اہمیت دی ہے۔ جرمنی ہمارا اہم شراکت دار ہے جرمنی تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی ہمیں ٹیکنیکل تعاون فراہم کرے۔ پاکستان اور جرمنی کے تعلقات مشترکہ جمہوری اقدار میں جڑے ہیں عمران خان نے امیگریشن بحران سے نمٹنے پر جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی تعریف کی اور کہاکہ بھارت اور افغانستان کی علاقائی صورتحال میں جرمنی کا کردار قابل تعریف رہا۔ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے مابین سرمایہ کاری پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم نے توانائی اور آٹو موبائل سیکٹر میں جرمن سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا۔ اس سے قبل جرمنی کے وزیر خارجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔ جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے وزیر خارجہ شاہ محمود کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے جرمنی کے ہم منصب ہائیکو ماس کو پاکستان کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اٹھائے گئے انسداد دہشت گردی کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ساتھ ہی بتایا کہ اس پلان پر من و عن عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عالمی اور خطے کا چیلنج ہے اور پاکستان نے اس معاملے میں بہت زیادہ اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو اگر وہاں تشدد ہو تو پھر اس کا رد عمل تو آئے گا اور اس وقت اس رد عمل کو سنبھالنا مشکل ہو گالہٰذا پاکستان کا موقف ہے کہ آگے بڑھنے کیلئے مذاکرات ہی واحد ذریعہ ہے۔ جرمن وزیرخارجہ ہائیکو ماس نے جاری افغان عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے بھارت پائلٹ ابھی نندن کی فوری رہائی کو بھی سراہا۔ جرمن وزیر خا جہ نے اسلام آباد اور نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی سیکرٹری دفاع سٹیفن لیو گروف نے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آرکے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دو طرفہ امور سمیت خطے کی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانوی سیکرٹری دفاع نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔گوکہ بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر کو تسلیم بھی کررہی ہے تاہم اس کو حل کرانے میں لیت ولعل سے کیوں کا م لیاجارہاہے اس کی منطق بعیدازقیاس ہے مگر خطے میں قیام امن وامان کے لئے اس مسئلے کاحل انتہائی کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ پاکستان میں آنے والے جرمنی کے وزیرخارجہ اور برطانیہ کے سیکرٹری دفاع کی جوسیاسی وعسکری قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں اس میں بھی انہوں نے واضح طورپرتسلیم کیاکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات امن کے داعی ہیں ۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے بھی اپنے جرمن ہم منصب سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیاجس پر جرمنی نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات پرزوردیا۔گوکہ پاکستان ہرلمحے مذاکرات کے لئے تیارہے اوراس کی خواہش ہے کہ مسئلہ کشمیر کواقوام متحدہ کی قراردادوں اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجائے لیکن اس حوالے سے بھارت کسی صورت بھی رضامند ہوتانظرنہیں آتا اس کی محض صرف ایک ہی وجہ ہے کہ اُن کاوزیراعظم نریندرمودی خطے کوانارکی میں دھکیلاچاہتاہے۔

پاکستان کادفاع ناقابل تسخیرہوگیا
پاکستان کادفاع ناقابل تسخیر ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اب دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرسکتا۔پاک فضائیہ کی جانب سے جے ایف17 تھنڈر طیارے سے طویل فاصلے کے میزائل کا کامیاب تجربہ کیاگیا۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والا سمارٹ ویپن جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول لڑاکا طیارے سے فائر کیا گیا۔ کامیاب میزائل تجربہ ملکی دفاع میں اہم سنگ میل ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر کو دن اور رات میں طویل فاصلے کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہو گئی۔ ائر چیف مارشل مجاہد انور خان نے کامیاب تجربے پر سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی ہے۔ ایئر چیف مارشل نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے، دشمن نے جارحیت مسلط کی تو بھرپور جواب دیں گے۔اب دشمن کو سمجھ لیناچاہیے کہ اس کے ملک کاچپہ چپہ پاکستان کی زدمیں ہے لہٰذا اس نے اگر کوئی بھی ایسی مذموم حرکت کی تو اسے پاک فو ج کی مسلح افواج صفحہ ہستی سے نیست ونابودکردیں گی۔مودی کو چاہیے کہ وہ اب راہ راست پرآجائے انتخابات اپنی جگہ لیکن خطے کو جنگ میں جھونکنے کااسے کوئی اختیارحاصل نہیں۔ دفاعی اعتبار سے پاکستان آئے دن مضبوط سے مضبوط تر ہوتاجارہاہے ۔ چونکہ ہمارے پڑوس میں ایک ایسا شرپسند دشمن ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے دفاع پر توجہ دیناپڑتی ہے ۔پاکستان نے کبھی بھی ایل او سی پر پہل نہیں کی ہمیشہ بھارت کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی جاتی ہے مگراس کے بعد جب ہماری فوج کے بہادرجوان منہ توڑ جواب دیتے ہیں توپھردشمن اپنامنہ بغلوں میں چھپاتاپھرتاہے اس کو بھاگنے کی کہیں جگہ نہیں ملتی،جانی ومالی نقصان بھی اٹھاتا ہے مگراس کے باوجود اپنے کرتوتوں سے بازنہیں رہتا۔
ایس کے نیازی کی سچی باتیں
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ میں سب سے پہلے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بہت محنت اورجذبے سے ڈیم کے مسئلے کو شروع کیا تھا،ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان پانی کی پالیسی جلد دیں گے، جس طرح سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈیم کی فنڈ ریزنگ کا سلسلہ شروع کیا تھاوہ جاری رہنا چاہیے۔ پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز نے ڈیم فنڈ ریزنگ کیلئے باقاعدہ ٹرانسمیشن کی تھی،عمران خان کی پانی مسئلے پرٹویٹ سے بھی ہمیں اس مسئلے پرامید لگی ہے،پانی میں ہمیں خود کفیل ہونا بہت ضروری ہے،بلوچستان کا علاقہ بہت وسیع ہے،آبادی کم ہے،پانی کا لیول بہت نیچے ہے، ہمارا کام مسائل کی نشاندہی کرنا ہے اورکربھی رہے ہیں، کام کرنا حکومت کا کام ہے۔نواز شریف کا علاج ہونا چاہیے، ان کا علاج کرانا بہت ضروری ہے۔

کیا سائنسدان ‘ٹائم مشین’ بنانے کے قریب پہنچ گئے؟

سائنسدان ایک کوانٹم کمپیوٹر میں وقت کی سمت ریورس کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

یہ حیران کن دعویٰ طبیعیات (فزکس) کے بنیادی قوانین سے متضاد ہے اور اس کے نتیجے میں کائنات کے انتظام کے بارے میں انسانی علم میں تبدیلیاں آئیں گی۔

ماسکو انسٹیوٹ آف فزکس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں کی اس تحقیق میں ان کا ساتھ سوئٹزرلینڈ اور امریکا نے دیا اور انہیں توقع ہے کہ وقت کے ساتھ اس تیکنیک میں بہتری آئے گی اور یہ زیادہ قابل انحصار ہوجائے گی۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر گورڈے لیسووک نے اس بارے میں بتایا کہ ہم ایسی مصنوعی طور پر ایسا ماحول پیدا کیا جو کہ وقت کے حرکیاتی تیر کے مخالف پھیلتا ہے۔

جریدے جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع مقالے میں اس ‘ٹائم مشین’ کی وضاحت کی گئی جو کہ ایک الیکٹرون کیوبٹ پر مبنی روڈی مینٹری کوانٹم کمپیوٹر پر مشتمل ہے۔

کیوبٹ کوانٹم انفارمیشن کا بنیادی یونٹ ہوتا ہے اور سائنسدانوں نے تجربے کے دوران ایک پروگرام کے ذریعے کیوبٹس کو زیرو (0) اور ون (1) کے پیچیدہ پیٹرن میں تبدیل کیا گیا اور اس عمل کے دوران ترتیب ختم ہوگئی۔

مگر پھر ایک اور پروگرام کے ذریعے کوانٹم کمپیوٹر کی اس حالت کو ‘ریورس’ کیا یعنی انتشار سے دوبارہ ترتیب کی جانب۔

آسان الفاظ میں کیوبٹس کو چلانے کے بعد دوبارہ آغاز پر پہنچانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔

سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ محض 2 کیوبٹس کی مدد سے ٹائم ریورس کرنے کے مقصد میں کامیابی کی شرح 85 فیصد رہی جب 3 کیوبٹس کو اس عمل کا حصہ بنایا گیا تو کامیابی کی شرح 50 فیصد ہوگئی یعنی ناکامی کا امکان بڑھ گیا۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ناکامی کی شرح میں کمی آنے کی توقع ہے کیونکہ اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والی ڈیوائسز کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

ڈاکٹر گورڈے لیسووک نے بتایا کہ ہمارا الگورتھم اپ ڈیٹ ہوگا، جسے کوانٹم کمپیوٹرز کے پروگرام لکھنے اور غلطیوں کو ختم کرنے کے لیے آزمایا جائے گا۔

کشمیری طلبا کو انتہاپسندوں سے بچانے والی بھارتی صحافی کو قتل کی دھمکیاں

سری نگر: کشمیری طلبا کو تشدد سے بچا کر اور اپنے گھر میں پناہ دینے پر بھارتی صحافی کو انتہا پسند ہندو قتل کی دھمکیاں دینے لگے۔ 

جارحیت پسند مودی کے بھارت میں مسلمانوں اور خصوصاً کشمیری مسلمانوں کی مدد کرنا جرم بن گیا ہے، پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت میں کشمیری طالبعلموں کو تشدد سے بچا کر پناہ دینے اور بحفاظت آبائی گھروں تک پہنچانے والی بھارتی صحافی کو انتہا پسندوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں۔

بھارتی صحافی “ساگریکا کسسو” 26 سالہ کشمیری پنڈت ہیں اور جموں کی رہائشی ہیں جو آن لائن انگلش نیوز چینل کیلئے کام کرتی ہیں۔ پلوامہ حملے کے بعد جب بھارت میں کشمیری طالبعلموں پر تشدد کیا جا رہا تھا تو ساگریکا نے کھلے عام ٹویٹر پر کشمیری مسلمانوں کو پناہ دینے کی پیشکش کی۔

بھارتی صحافی نے ایک ماہ کے دوران تقریباً 18 کشمیریوں کو ناصرف پناہ دی بلکہ انہیں باحفاظت کشمیر میں انکے آبائی علاقوں تک بھی پہنچایا، جس پر کئی کشمیری نوجوانوں نے ٹویٹر پر انکا شکریہ بھی ادا کیا۔ ساگریکا مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بھی بناتی رہتی ہیں اور مختلف آرٹیکلز کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کا کچہ چٹھا بھی کھولتی رہتی تھیں۔

مودی کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف تنقید کرنا بھارتی انتہا پسندوں کو ایک آنکھ نہ بھایا اور ساگریکا کو حق گوئی پرغدار کہہ کر سوشل میڈیا پر قتل کی دھمکیاں دینے لگے، جس کے باعث بھارتی صحافی کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

Google Analytics Alternative