Home » 2019 » March » 14 (page 4)

Daily Archives: March 14, 2019

عورت مارچ یا عورت راج

گزشتہ دنوں عورت مارچدیکھنے کو ملا، میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ بدقسمتی سے مجھے اس نئے پاکستان میں دیکھنے کو نصیب ہوا، بلکہ یاد پڑتا ہے کہ یہ خباثت توگزشتہ سال پرانے پاکستان میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جلو افروز ہو ئی تھی جب یہی چند مشہور و معروف آنٹیاں اپنی چند سو اجرتی خواتین کے لاؤ لشکر کے ساتھ مردانہ وار اسوقت بھی پوری بن ٹھن کر مردوں کے اس حیرت زدہ قافلے کو نیست و نابود کرنے کو آ ٹکرا ئی تھیں۔ لیکن مجھے یہ بھی یاد پڑتا ہے کہ اسوقت ان کے تر کشوں میں اتنے زہر یلے تیر نہیں تھے جس سے ہمارے معاشرے،، جو کہ ایک اسلامی معاشرہ ہے ،،کو زیادہ نقصان کا اندیشہ محسوس کیا گیا اسی لیے ان پر کو ئی خاص توجہ بھی نہ دی گئی لیکن پچھلی ۔ہلہ شیری۔ کی وجہ سے جو جو کچھ انہوں نے میدان میں اس دفعہ اتارا، اب کی بار تو انہوں نے اپنے عورت نام کو بھی شرما کر رکھ دیا۔نام نہاد عورت محاذ۔نے عورت کی ا پنی عظمت، شرم و حیاء اور معاشرے کو تہہ و تیغ کرنی کے جو جو تیر اپنے ترکشوں سے اس دفعہ برسائے ،، انکی ایک ہلکی سی جھلک ملاحظہ فرمایے ،،فیصلہ آپ قارئین نے خود فر کرناہے کہ عورتیں یہ جنگ جیتیں یا ہاریں:۔

تمیز جائے بھاڑ میں۔۔۔ لو بیٹھ گئی، صحیح سے (اور ساتھ اتنا بے ہودہ نقشہ بنایا جسے یہاں بیان کرنا بھی ناممکن)،مجھے تمہاری اجازت نہیں چاہیے۔۔۔۔کھانا خود گرم کر لو۔۔Divorced happy ،میں عورت ہوں باغی ہو کر دکھاؤں گی۔۔مجھے ٹائربدلنا آتا ہے،نظر تیری گندی اور پردہ میں کروں۔۔اگر دوپٹہ اتنا اچھا ہے تو آنکھوں پر باند ھ لو،عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین نہیں۔۔۔اکیلی، آوارہ، آزاد۔۔میرے کپڑے میری مرضی،اپنا ٹائم آ گیا۔(پوسٹر میں عورت کو سگریٹ پینے کی ترغیب)رشتے نہیں حقوق چاہئیں۔میری شادی کی نہیں، میری آزادی کی فکر کرو۔۔۔میرا جسم میری مرضی،مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ ( یہ سب بظاہر، باپ، بھا ئی یا خاوند کیلئے پیغامات تھے)
میں نے اوپر لکھ دیا ہے کہ فیصلہ قارئین نے فرمانا ہے کہ یہ جنگ کون جیتا یا ہارا، لیکن میری ذاتی را�أ میں مرد اور عورت، جس کے درمیان یہ۔مرد بیزار عورتیں۔ نفرت کی ایک لمبی خلیج پیدا کرنا چاہتی ہیں، کی روزاول سے تخلیق ہی ایک دوسرے کیلئے کی گئی، دونوں ایک دو سرے کیلئے نہایت ہی قابلِ احترام اور ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔اماں حوا کو حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا گیا اورپھر یوں نسلوں کی نسلیں اور رشتے قائم ہوتے گئے۔باپ کو اولاد، بہن کو بھا ئی، بھا ئی کو بہن، ماں کو بیٹے ۔بیوی کو خاوند، یہ سب رشتے ایک دوسرے کیلئے انتہا ئی اہم اور ناگزیر ہیں اور اسی سے انسانی ارتقاء آگے بڑھتا اور خاندانی رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور شاید اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے یہ نظام بنا کر اس میں اپنی انواع اقسام کی مخلوقات پیدا کر کے سب میں اشرف المخلوقات کا درجہ انسان ہی کو عطا فرمایا جو نہ صرف اکیلامرد کو اس کا حقدار ٹھرایا ہے بلکہ اس میں عورت کا بھی وہی مرتبہ اور مقام ہے۔ اگر اس محاذ کا یہ کہنا کہ انہیں انکے حقوق نہیں مل رہے تو یہ بھی سرا سر جھوٹ ہے، کیونکہ اسوقت جتنے قوانین ہمارے ملک میں عو رت کے تحفظ کیلئے ہیں، وہ شاید مرد کیلئے موجود نہیں ہیں اور خود قر آن میں سورہ النسا ء خواتین کے حقوق کا مکمل چیپٹر ہے، جسے شاید یہ الٹرا ماڈرن عورتیں پڑھنا گوارہ ہی نہیں کرتیں اور اگر ایسا ہوتا، تو نہ کبھی ایسے عورت مارچ ہوتے اور نہ ہی عورت اپنے اصل حق سے ہٹ خاندانی نظام کو تہہ و تیغ کر کے اپنا عورت راج مسلط کرنیکا سوچتی۔

یو اے ای سے مزید ایک ارب ڈالر موصول، اسٹیٹ بینک

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے مزید 1 ارب ڈالر موصول ہوگئے۔

یو اے ای کی جانب سے وعدہ کیے گئے 3 ارب ڈالر کی یہ دوسری قسط تھی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 9 مارچ کو رپورٹ کیا تھا کہ انہوں نے ابوظہبی فنڈ برائے ترقیاتی امور (اے ڈی ایف ڈی) سے 2 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے جو ان کے اکاؤنٹ میں رکھے جائیں گے۔

پاکستان کو اے ڈی ایف ڈی معاہدے کے تحت 1 ارب ڈالر کی پہلی قسط پہلے ہی، جنوری کے مہینے میں موصول ہوچکی ہے۔

اسٹیٹ بینک اور ابوظہبی فنڈ برائے ترقیاتی امور کے ڈائریکٹر جنرل کے درمیان 22 جنوری کومعاہدہ طے پایا تھا۔

خیال رہے کہ یہ وزیراعظم عمران خان کے یو اے ای کے دورے کے بعد ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے لیے متحدہ عرب امارات کی طرف سے اعلان کردہ 3 ارب ڈالر کی یہ دوسری قسط ہے۔

گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں متحدہ عرب امارات نے اسٹیٹ بینک میں 3 ارب امریکی ڈالر جمع کروانے کا اعلان کیا تھا۔

ابوظہبی فنڈز برائے ترقیاتی امور کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ یہ رقم پاکستان کے مرکزی بینک میں غیر ملکی ذرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے ڈال رہے ہیں۔

اماراتی نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ یو اے ای کی جانب سے پاکستان کی مانیٹری پالیسی میں مدد دونوں ممالک اور ان کے عوام کے درمیان تاریخی تعلقات کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔

دونوں ممالک نے تمام شعبہ جات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔

ایس بی پی کو موصول ہونے والی رقم تقریباً 4 کھرب 16 ارب روپے سے زائد ہے جو صحت، توانائی، تعلیم اور روڈ انفراسٹرکچر کے 8 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔

پی ایس ایل کے آخری میچز کیلئے باؤنڈری لائن کی حد میں اضافہ

 کراچی: پی ایس ایل فور کے آخری مرحلے کے میچز کے لیے باؤنڈری لائن کی حد میں اضافہ کردیا گیا۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ایونٹ کے کوالیفائر میچ میں باؤنڈری لائن کی حد 70گز کر دی گئی، اس سے قبل یو اے ای کے تمام میچوں اور کراچی میں کھیلے گئے لیگ مرحلے کے آخری چاروں میچز میں 65 گز کی باؤنڈری تھی جس کی وجہ سے دو میچز میں پہلی بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے 200 سے زائد رنز بنائے تھے۔

میچ میں ایک بیٹسمین نے سنچری جب کہ دوسرے بیٹسمین نے 99 رنز کی اننگز بھی کھیلی تھی، پی ایس ایل میں کسی ٹیم کا سب سے بڑا مجموعی اسکور بھی نیشنل اسٹیڈیم ہی میں بنا تھا، باؤنڈری کی حد کم کرنے پر ٹیموں نے اعتراض بھی کیا تھا جس کے بعد باؤنڈری کی حد میں 5 گزکا اضافہ کردیا گیا ہے۔

 

اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت

ی کتابوں میں سے پانچ کا مطالعہ مکمل کر لیا ہے۔اب میں نے صحاح ستہ کی آخری کتاب ، سنن نسائی کی تین جلدیں میں سے پہلی جلد کا مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ میرا روزانہ کامعمول ہے کہ فجر کی نماز کے بعد پہلے قرآن شریف کے ایک رکوع کا بمعہ تفسیر مطالعہ کرتا ہوں۔ پھر حدیث کی کتاب میں سے ایک ورق یعنی دو صفحے پر جتنی بھی حدیثیں لکھی ہوتیں ہیں ان کا مطالعہ کرتا ہوں۔ میں نے ۱۹۹۴ ء میں صحاح ستہ کی چھ کتابیں، جن کی کل سترہ جلدیں ہیں، ھدیہ کرا کر اپنی ذاتی لائبریری میں اضافہ کیا تھا۔ اسی وقت سے الحمد اللہ میں ان کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ حسب معمول جب بھی کسی حدیث کی کتاب کا مطالعہ مکمل کرتا ہوں تو اس کتاب کے تعارف اور حاصل مطالعہ پر مضمون لکھ کر اخبارات میں اشاعت کے لیے ای میل کرتا رہا ہوں۔ پاکستان کی اخبارات اور رسائل نے ان مضامین کو شائع کیا ہے۔اس سے میرا مقصد یہ ہے کہ عام لوگوں میں قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث کے مطالعہ کا شوق پید اہو۔ اخبارات میں اس سے قبل بخاری،مسلم، سنن ابن ماجہ اور سنن ابودؤد کے چار مضامین شائع ہو چکے ہیں۔آج میں صحاح ستہ کی پانچویں کتاب پر مضمون لکھ کر اخبارات کی نظر کر رہا ہوں۔ان مضامین سے میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو ترغیب دلا نے کی کوشش کروں کہ جب الحمد اللہ، ہر مسلمان کے گھر میں قرآن شریف موجود ہیں تو قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث کی کتابیں بھی ہونی چاہئیں۔اچھا تو یہ ہے کہ جن حضرات کے گھروں میں ذاتی لائبریریاں ہیں ان میں صحاح ستہ بھی موجود ہوں۔ عام مسلمانوں کے گھروں میں صحاح ستہ ہونا اگر ممکن نہیں تو صحاح ستہ سے علماء حضرات نے ایک ایک جلد میں حدیثیں جمع کی گئیں وہ تو کم از کم موجود ہونی چاہئیں۔بہت عرصہ پہلے میں نے اسی طرح کی ایک کتاب جس کانام’’ارشادات رسول اکرم ﷺ ‘‘ ہے، ہدیہ کرائی تھی۔اس کتاب کے مولف مولانا حامد الرحمان صدیقی صاحب ہیں۔ یہ کتاب مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی نے ۱۹۸۲ء میں شائع کی ہے۔ اللہ کرے یہ کتاب اب بھی مارکیٹ میں موجود ہو۔ میں اس سے قبل چھوٹی چھوٹی حدیث کی کتابوں جیسے، زادہ راہ، انتخاب حدیث اور راہ عمل وغیرہ کا مطالعہ کر چکا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جب لوگ قرآن شریف کا مطالعہ کریں تو ساتھ حدیث کا بھی مطالعہ کریں۔ قرآن اللہ کا کلام ہے جو وحی کے ذریعے ہمارے پیارے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا۔ حدیث قرآن کی تشریح ہے جو رسول اللہؐ نے اپنے قول،فعل اور عمل سے کی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن اور حدیث رسولؐاللہ لازم و ملظوم ہیں۔ قرآن کو حدیث اور حدیث کو قرآن سے سمجھا جا تا ہے۔ کیونکہ حدیث قرآن کی تشریح ہے۔اب ہم صحاح ستہ کی پانچویں کتاب جامع ترمذی پر بات کرتے ہیں۔امام ترمذیؒ کا اسم گرامی ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی ہے۔آپ ۲۰۹ھ میں مقام ترمذ میں پیدا ہوئے اور ۲۷۹ھ میں فوت ہوئے۔ علم کا بہت شوق تھا۔ جب ذرا ہوش سنبھالا تو تحصیل علم کیلئے کوفہ، بصرہ، واسط،رے، خراساں کے سفر کئے اور حجاز میں کافی وقت گزرا۔ مراتب صحاح ستہ میں جامع ترمذی کا پانچواں نمبر ہے۔ اس کتا ب کی درجنوں اہل علم نے شروح لکھیں ہیں۔برصغیر میں صحاح ستہ کااردو ترجمہ سب سے پہلے علامہ نواب وحید الزمان ؒ نے کیاہے۔ جامع ترمذی کا ترجمہ ان کے بھائی علامہ بدیح الزامان ؒ نے کیا ہے۔ میرے مطالعہ میں جو کتاب ہے اس کو ضیاء احسان پبلشرز نے ۱۹۸۸ء میں دو جلدوں میں شائع کیا۔ پہلی جلد میں ابواب الطہارت سے ابواب الشہادت۳۳ ؍ ابواب ہیں۔ اس میں طہارت، نماز، وتر،،جمعہ، زکواۃ،صوم وغیرہ سے لے کر شہادت تک حدیثیں جمع کی ہیں۔ دوسری جلد ابواب الزّہد سے ابواب المناقب ۱۳؍ ابواب پرمشتمل ہے۔ اس جلد میں زہد سے لے کرمناقب صحابہ ؓ کے معلق حدیثیں بیان کی ہیں۔ ہر حدیث تحریر کرنے کے بعد اس کوروایت کرنے والے پہلے شخص سے آخری تک سارے حضرات کا نام درج کیا ہے۔ یہ بھی لکھا کہ کس کا حافظہ کمزور تھا ، کس کا قوی تھااور کس قبیلہ سے اس کا تعلق تھا۔ تحقیق کر کے یہ بھی بتایا کہ یہ حدیث صحیح ہے، حسن ہے،یا غریب ہے۔ مطلب یہ رسول اللہﷺ کے ہر قول ،فعل اور عمل کو حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے۔مسلمان دنیا کی واحد قوم ہے جس نے علم النساب ایجاد کیا ہے۔حدیث بیان کرنے والے نے رسول اللہﷺ کی بات خود سنی اور بیان کی۔ صحابہؓ نے حضورؐ سے کوئی بات سنی۔پھر کسی دوسرے صحابہؓ سے بیان کی۔ کچھ صحابہؓ ہر وقت رسول ﷺ کے پاس رہتے تھے۔سب سے زیادہ حدیثیں ابو ہریرہؓ نے بیان کیں ۔ اس لیے کہ وہ ہر وقت رسول اللہﷺ کے پاس رہتے تھے۔ کچھ اپنے دنیاوی کاموں میں لگے ہوتے تھے۔حاضر نے رسول اللہﷺ کی بات سن کر جو غیر حاضر ہوتا تھا اس سے بیان کی۔صحابہؓ سے حدیثوں تابعین تک پہنچی پھر تبہ تابعین تک پہنچیں۔ پھرکسی نے اپنے والد سے حدیث سنی اور آگے کسی کو بیان کی۔ اس طرح بیچ میں کئی واسطے پیدا ہو گئے۔ صحاح ستہ کو ترتیب دینے والے حضرات نے حدیثیں بیان کرنے والوں کے متعلق مکمل چھان بین کر حدیثیں تحریر کیں۔ حدیث بیان کرنے والے کے متعلق معلوم کیا کہ وہ کام کرتا ہے۔ صادق امین ہیں یا جھوٹ بولنے والا ہے۔ لین دین میں صحیح ہے یا غلط۔ کاروبار اللہ اور رسول ؐ کے احکامات کے مطابق کرتا ہے۔ کہاں کا رہنے والا ،کس قوم سے تعلق ہے وغیرہ۔ اس طرح حدیث بیان کرنے لاکھوں لوگوں کے حالات قلم بند کر دیے گئے جسے علم لنساب کہتے ہیں۔ معلومات کرنے کے بعدجو سچا تھا اس سے حدیث لی اور جو جھوٹا تھا اس سے حدیث نہیں لی۔ اگر لی بھی تو ساتھ لکھ دیا کہ ہم اس سے حدیث لے تو رہے ہیں مگر یہ شخص جھوٹا ہے۔ ایک شخص سے حدیث سننے کے بعد چار مزید لوگوں سے تصدیق کرنے کے بعد حدیث تحریر کی۔امام بخاریؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس حدیث لینے گیا تو وہ اپنی بکری کو اپنی جھولی میں ہاتھ مار مار کر پب پب کر کے اپنی طرف بلا رہا تھا۔ جب کہ اس کی جھولی میں بکری کا چارہ موجود نہیں تھا۔ امام بخاریؒ نے اس سے حدیث نہیں لی اور کہا جو شخص جانور سے جھوٹ بول رہا ہے اس سے حدیث نہیں لوں گا۔صاحبو! مسلمان دنیا کی خوش قسمت قوم ہے کہ اس کے پاس اللہ کاکلام اُسی صورت میں موجود ہے جس صورت میں ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔ اور اللہ کے آخری پیغمبرؐ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور عمل کو بھی صحابہؓ نے سنبھال کر ررکھا اور آگے بیان کیا۔ قربان جائیں پھر علماء اسلام پر کہ جنہوں نے اسے کتابوں کے اندر محفوظ کیا۔ جو امت مسلمہ کے اب بھی صحاح ستہ کی شکل میں موجود ہیں۔ جب تک مسلمان اللہ اور رسولؐ کی ان تعلیمات پر عمل کرتے رہے تو دنیا میں اُس وقت کے معلوم چار براعظموں میں سے پونے چار بر اعظموں پر اسلام کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ مسلمانوں نے ایک ہزار سال تک دنیا پر کامیابی سے حکومت کی۔ پھر مسلم حکمران دولت کی ہوس ،عیاشیوں میں مبتلا ہو کر موت سے خوف کھانے لگے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ فرمایا رسولؐ اللہ نے کہ ایک و قت ایسا آئے گا کہ میری امت پر غیر قومیں اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا امت تعدادمیں کم ہو جائے گی ۔ فرمایا نے نہیں، بلکہ امت کو وہن کی بیماری لگ جائے گی۔ پوچھا کیا وہن کی بیماری کیا ہے،۔ فرمایا دولت سے محبت اور موت کا خوف۔کیا مسلم قوم کی آج کل ایسی ہی حالت نہیں ہو گئی ہے؟ یہ اس وجہ سے ہوئی کہ مسلم قوم نے قرآن اورحدیث پر عمل کرنا چھوڑدیا ہے۔ اس پر مسلم ارباب اقتدار کو غور و فکر کرنا چاہیے اور انہی تعلیمات پر خود اور مسلم قوم کو عمل کرانا چاہیے۔

پاکستان اور ترکمانستان کے تاپی گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط

اسلام آباد:  پاکستان اور ترکمانستان نے تاپی گیس پائپ لائن کے ہوسٹ معاہدے پر دستخط کر دیئے۔

پاکستان اور ترکمانستان نے تاپی گیس پائپ لائن کے ہوسٹ معاہدے پر دستخط کیے،معاہدہ پر دستخط سیکریٹری پٹرولیم اسد حیاوالدین اور ایمینوفود سی ای او تاپی پائپ لائن کارپوریشن لمیٹڈ نے کیے۔

اس موقع پر غلام سرور خان وفاقی وزیر پٹرولیم اور راشد میریدوف، وزیرخارجہ ترکمانستان بھی موجود تھے،غلام سرور خان نے اس معاہدے کو تاپی کی تاریخ کا اہم ترین معاہدہ قرار دیا۔ حکومت یہ معاہدہ تیزی کیساتھ مکمل کرنا چاہتی ہے اور یہ ممکن ہے کہ اس سال پاکستان میں تاپی کا تعمیراتی کام شروع ہوجائیگا۔

ترکمن وزیرخارجہ نے حکومت کے تاپی گیس پائپ لائن میں دلچسپی کو سراہا اور کہا کہ انھیں امید ہے کہ تاپی پائپ لائن بروقت مکمل کی جائیگی،تاپی گیس پائپ لائن کے تحت 3.2 ارب مکعب فٹ گیس ترکمانستان سے افغانستان اور پاکستان انڈیا کی سرحد تک پہنچائی جائے گی ۔

مشرقی اور مغربی سرحدوں پر چیلنجز کا سامنا ہے، وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر چیلنجز کا سامنا ہےتاہم مشرقی سرحد پر ہماری حکومت شروع سے امن اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں عالمی لیڈرزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں 25 ممالک کے 60 وفود کواس کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان آمد پرخوش آمدید کہتا ہوں، میں یورپی یونین، یورپین پارلیمنٹ کے تعاون کا شکر گزار ہوں، 26 مارچ کو موگیرینی پاکستان تشریف لارہی ہیں اوریورپی یونین اورپاکستان کے مابین اسٹریٹیجک شراکت داری پر مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستانی عوام نے تحریک انصاف کوتبدیلی کیلئے ووٹ دیا، عوام نے روایتی سیاسی جماعتوں کو مسترد کیا اورپانچ سالہ مدت کے اختتام پر آپ تبدیلی دیکھیں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد سیاسی مقاصد کیلئے جنگی ماحول پیدا کیا، وزیراعظم عمران خان نیشنل ایکشن پلان پرمکمل عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے تمام جماعتیں آگے آئیں۔

شاہ محمود نے کہا کہ ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ترجیح اقتصادی بحالی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی یہاں رہیں اورانہیں اقتصادی ترقی کے بہترین مواقع میسرہوں اوروہ اپنے پاکستانی ہونے پرفخرکرسکیں، ہمیں بہت سے اقتصادی چیلنجزکا سامنا ہے اور ہم ان سے باخبر ہیں جب کہ ہمیں اداروں کے انحطاط کا ادراک ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ 6.6 فیصد معاشی خسارہ، 10 سال میں قرضہ کے بوجھ کا کئی گنا بڑھنا، بیرونی سرمایہ کاری میں مستقل کمی اوربے روزگاری، 1/3 آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنا یہ وہ تمام چیلنجزہیں جن کا ہم پچھلے چھ ماہ سے مقابلہ کررہے ہیں، ان تمام منفی عوامل سے نمٹنے کیلئے اور اقتصادی بحالی کیلئے وزارت خارجہ میں ہمارا اولین فوکس معاشی سفارت کاری پر ہے، ہمیں اپنے معاشی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خطے میں امن کی ضرورت ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ افغانستان میں امن ہمارے خطے کی تعمیروترقی کے لئے ناگزیر ہے اس لیے ہم افغان امن عمل کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں، مشرقی اور مغربی سرحدوں پر چیلنجز کا سامنا ہے تاہم مشرقی سرحد پر ہماری حکومت شروع سے امن اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔ کرتارپور راہداری کھولنے کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے. چین کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز بھی اسی زمرے میں آتا ہے تاکہ ہم خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کا فروغ ہو۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پچھلے ادوارمیں میٹرو جیسے بڑے منصوبے شروع کر کے قرضے میں ڈوبی ہوئی معیشت پرسبسڈیز کا بوجھ لاد دیا گیا، سعودی عرب کے ساتھ 20 ارب کے معاہدے کرنا بھی ہماری اقتصادی بحالی کی طرف قدم ہے، مہاتیر محمد جلد پاکستان تشریف لا رہے ہیں ہم ان کے تجربے سے مستفید ہوں گے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم بہتراور نئے پاکستان بنانے کیلئے پوری ایمانداری اورتندہی سے کوشاں ہیں اور انشاءاللہ ہم کامیاب ہوں گے۔

ڈاکٹر دور، لیکن تشخیص کرنے اور دوا دینے والا ’فون بوتھ‘ حاضر

واشنگٹن: دور دراز علاقوں میں ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے متعدد لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ اسی ضرورت کے تحت ’آن میڈ اسٹیشن‘ بنایا گیا ہے جو کسی ٹیلیفون بوتھ یا جدید دکان کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اس میں ڈاکٹروں سے رابطے کا نظام، سینسراور دوا دینے والا خودکار ڈسپنسر نظام موجود ہے۔

بوتھ کےاندر جاتے ہی بڑے اسکرین اور کیمرے کے سامنے مریض بیٹھتا ہے اور دور بیٹھا ڈاکٹر ایچ ڈی کیمرے کے ذریعے مریض کا معائنہ کرتا ہے؛ اور اس سے بات بھی کرتا ہے۔ کسی سائنس فکشن فلم کی طرح دور موجود طبیب آڈیو اور ویڈیو سے رابطہ کرتے ہوئے مریض کو سینسر استعمال کرنے کو کہتا ہے۔ یہاں مریض اپنے قد، وزن، باڈی ماس انڈیکس( بی ایم آئی)، بلڈ پریشر، سانس لینے کے عمل، خون میں آکسیجن کی مقدار اور دیگر اشیا کو نوٹ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ کسی انفیکشن یا بخار وغیرہ کو ناپنے کےلیے تھرمل تصاویر بھی اتارتا ہے۔ ان تمام چیزوں کو دیکھ کر ڈاکٹر دیکھ کر بہتر فیصلہ کرتا ہے۔

’آن میڈ اسٹیشن‘ میں سینکڑوں دوائیں موجود ہیں جو کسی اے ٹی ایم کی طرح مریض تک پہنچتی ہیں۔ مطلوبہ دوا موجود نہ ہونے کی صورت میں مشین پرچی پر دوا کا نام اور مقدار چھاپ کر فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اسے کسی دکان سے خرید سکے۔ تاہم دوائیں مکمل طور پر بند اور محفوظ ہیں اور کوئی بھی ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر انہیں ذخیرے سے نہیں نکال سکتا۔

مریضوں کی معلومات کو اخفا میں رکھنے کےلیے خاص انتظام ہے۔ جیسے ہی مریض بوتھ میں جاتا ہے، اس کا دورازہ بند ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر سے بات کرتے ہوئے اس کی آواز بھی باہر نہیں آتی۔ یہ دروازہ مکمل محفوظ اور خودکار ہے۔  اس میں مریضوں کی شناخت کےلیے تھری ڈی نظام بھی ہے اور ڈاکٹر حقیقی وقت میں چہرے کی رنگت اور خدوخال بھی دیکھ لیتا ہے۔

تاہم اسے امریکا میں مصروف مقامات مثلاً ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر استعمال کیا جائے گا۔ اس کی افادیت ثابت ہوجانے کے بعد ہی اس جدید کلینک کو دیگر مقامات پر نصب کیا جائے گا۔

کوالیفائر: واٹسن کا لاٹھی چارج، گلیڈی ایٹرز بڑے ہدف کی جانب گامزن

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پلے آف مرحلے کے کوالیفائر میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی شین واٹسن کی دھواں دھار بیٹنگ کی بدولت پشاور زلمی کے خلاف بڑے ہدف کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس میچ میں پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی تھی۔

اپنے گزشتہ میچ میں 99 رنز پر آؤٹ ہونے والے احمد شہزاد نے شین واٹسن کے ہمراہ اننگز کا آغاز کیا اور اس مرتبہ صرف ایک رن بنانے کے بعد 3 کے مجموعے پر ٹائمل ملز کی تیز رفتار گیندر پر کلین بولڈ ہوگئے۔

ان کے بعد شین واٹسن نے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں بھی اپنے جارحانہ کھیل کی جھلک پیش کی اور احسن علی کے ہمراہ ابتدائی 5 اوور میں ہی نہ صرف ٹیم کی نصف سنچری مکمل کی بلکہ 50 رنز کی شراکت بھی مکمل کی۔

شین واٹسن نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ماضی کی تمام مایوسیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پشاور زلمی کے خلاف اپنا لاٹھی چارج جاری رکھا۔

آسٹریلیوی بلے باز نے پی ایس ایل کے دوران اپنی 7ویں نصف سنچری مکمل کی اور ٹیم کو بڑے ہدف کی جانب گامزن کیا۔

دونوں کھلاڑیوں نے 11ویں اوور میں ٹیم کی سنچری کے ساتھ ساتھ 100 رنز کی پارٹنر شپ بھی قائم کردی۔

ٹاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ وہ آج بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے پشاور زلمی کو اچھا ہدف دینے کی کوشش کریں گے۔

اس موقع پر پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی نے بتایا کہ ٹیم ایک تبدیلی کرتے ہوئے تجربہ کار مصباح الحق کی واپسی ہوئی ہے۔

پشاور زلمی کی قیادت ڈیرن سیمی کر رہے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں امام الحق، مصباح الحق، کامران اکمل، صہیب مقصود، لیام ڈاسن، کیرون پولارڈ، وہاب ریاض، حسن علی ٹائمل ملز اور سمین گل شامل ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کپتان سرفراز احمد، شین واٹسن، احمد شہزاد، احسن علی، عمر اکمل، ریلی روسو، ڈیوین براوو، محمد نواز، سہیل تنویر، محمد حسنین اور فواد احمد شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اس میچ میں جیتنے والی ٹیم براہِ راست پاکستان سپر لیگ 2019 کے فائنل میں پہنچ جائے گی۔

خیال رہے کہ کوالیفائر میچ میں شکست کھانے والی ٹیم کے پاس الیمینیٹر – 2 کی صورت میں فائنل میں پہنچنے کا ایک اور موقع ہوگا۔

الیمینیٹر – 1 کی فاتح ٹیم الیمینیٹر – 2 میں پہنچے گی جبکہ اس کی شکست خوردہ ٹیم ایونٹ سے باہر ہوجائے گی۔

Google Analytics Alternative