Home » 2019 » March » 15

Daily Archives: March 15, 2019

منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے خوش آئندحکومتی کوششیں

adaria

وزیراعظم عمران خان کیسربراہی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں ملک سے غیر قانونی رقوم کی ترسیل کی روک تھام کیلئے حکومت نے انسدادِ منی لانڈرنگ اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے قوانین میں انتہائی اہم ترامیم کرنے اور ان جرائم کے مرتکب مجرموں کو 10 سال قید اور 50لاکھ روپے جرمانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں وزیر قانون فروغ نسیم نے منی لانڈرنگ کے حوالے تفصیلی بریفنگ دی جس میں یہ تجویز دی گئی کہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ اے ایم ایل اے 2010 کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اے ٹی اے 1997 میں ضم کردیا جائے۔ علاوہ ازیں فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ ایف ای آر اے 1947 میں ترامیم کر کے زیادہ سے زیادہ سزا کی مدت 2 سال سے بڑھا کر 5 سال کردی جائے اور اس طرح کے تمام جرائم نان کگنیزابیل جرائم کی طرح سمجھا جائے جن میں پولیس بغیر وارنٹ گرفتاری کا حق رکھتی ہے۔وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ادارے کی گزشتہ 4 ماہ کی کار کردگی پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ اور فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت کل 131 کیسز رجسٹرڈ کیے گئے جبکہ مجموعی طور پر 4 کروڑ 23 لاکھ 30 ہزار روپے برآمد کیے گئے، اس سلسلے میں 198 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔جبکہ 5 کروڑ 40 لاکھ روپے تک کی رقوم کی مشتبہ منتقلی کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔اجلاس میں وزیراعظم کے سامنے دبئی میں موجود غیر دستاویزی جائیداد اور بے نامی اکانٹس کی تفصیلات پیش کرنے کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ غیر ملکی ترسیلات زر میں 12فیصد اضافہ ہوا ہے۔وزیرِ اعظم کو بتایا کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے سخت اقدامات کے نتیجے میں حوالہ ہنڈی میں واضح کمی آئی ہے جولائی سے فروری کے دوران بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں 12فیصد بہتری آئی ہے ۔ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی طریقے سے رقوم کی ترسیل کے سلسلے کو روکنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے چنانچہ اس سلسلے میں اعلیٰ سطح کوششیں جاری ہیں لیکن ماہرین کے مطابق ابھی مزید بہت کچھ کرنا ہے تاکہ اس ناسور کی مکمل جڑ کاٹی جا سکے۔منی لانڈرنگ کے جن کو بوتل میں بند کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ قبل ازیں پاکستان میں منی لانڈرنگ کے خلاف کوئی موثر قانون نہیں ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت کو بے تحاشا نقصان پہنچ رہا ہے۔اسی لیے وزیراعظم عمران خان نے منی لانڈرنگ کو قومی معیشت کیلئے ناسور قرار دیتے ہوئے فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ ایف ایم یوکو مزید فعال اور مستحکم کرنے کی ہدایت کر رکھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔ ایسے عناصر کو بے نقاب کر کے ان کی اصلیت عوام کے سامنے لائی جائے۔اس امر سے ہر پاکستانی اچھی طرح آگاہ ہو چکا ہے کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے قومی معیشت پر بدترین اثرات مرتب ہو چکے ہیں۔ ملکی معیشت جو آج تباہ حال نظر آتی ہے اگر کرپشن اور منی لانڈرنگ نہ ہوئی ہوتی تو یقیناًملکی معیشت کافی مستحکم ہوتی اور ملک ایک کھرب ڈالر کا مقروض نہ ہوا ہوتا ۔ ہمارے ہاں جس سطح پر اور مالیت کی کرپشن ہوتی ہے اسکی مثال شاید کسی اور ترقی پذیر ملک میں ملتی ہو۔ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں صرف چند فرد ہی نہیں بعض مالیاتی ادارے بھی ملوث ہیں۔جعلی بنک اکاؤنٹس کیس اس مکروہ دھندے کے نیٹ ورک کی مکمل روداد ہے۔ موجودہ حکومت کی تھوڑی سی کوشش سے متعلقہ ادارے متحرک ہوئے تو بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہو چکے ہیں۔جعلی اکاؤنٹس کے ضمن میں اب تک چھ مختلف بنکوں کو 247ملین روپے جرمانہ جبکہ 109افسروں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ کسٹم حکام کی جانب سے جولائی 2018 سے جنوری 2019 تک 439 ملین روپے مالیت کی کرنسی ضبط کی جا چکی ہے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ رقم 131 ملین تھی، اس مد میں 235 فیصد اضافہ ہوا ہے۔یوں متعلقہ اداروں کی اس کارکردگی کو مناسب قرار دیا جا سکتا ہے۔اس لیے اگر حکومت مخلصانہ کوشش کرے تو سب ممکن ہے۔ کرپٹ اور منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ایسے عناصر کو جہاں بے نقاب کرنا ضروری ہے وہاں انہیں قانون کے شکنجے میں لا کر ان سے پائی پائی وصول بھی وقت کا تقاضہ ہے۔

بھارتی کوششوں کوایک اوردھچکا
چین نے سلامتی کونسل میں مسعود اظہر پر پابندی کی قراردادرکوا دی ہے بھارتی میڈیا کے مطابق چین نے قرار داد کو ویٹو کر دیا جس میں مسعود اظہر پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا قرار داد فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے پیش کی تھی قرار داد کو روکا جانا بھارت کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ چوتھی بار ہے کہ چین نے اظہر مسعود کو عالمی دہشت گر قرار دینے کیلئے بھارت کا راستہ روکا ہے بھارت نے اس پر اپنا شدیدردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اقدام سے سخت مایوسی ہوئی بھارت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے 14 فروری کو پلوامہ کے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنیوالی تنظیم جیش محمد کے سربراہ کو نامزد کرنے سے عالمی برادری کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ یاد رہے بھارت مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کیلئے عالمی رہنماؤں سے رابطوں میں تھا۔ دریں ا ثنا چینی وزرائے خارجہ مسعود اظہر کیخلاف سلامتی کونسل کی قرار داد پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔ قرار داد پر فریقین سے رابطے میں رہے ہیں ہمیشہ مناسب موقف اپنایا ہے اس مسئلے پر متعلقہ اداروں کو قوانین، طریقہ کار کی پیروی کرنی ہوگی تمام فریقین کیلئے قابل قبول حل مسئلے کا مناسب حل ہوگا۔ سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کیخلاف قرار داد پر اعتراض کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کا گزشتہ روز آخری دن تھا۔فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد پیش کی۔
ایس کے نیازی کی پروگرام ’’سچی بات‘‘میں فکرانگیزگفتگو
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کا انتخاب خوش اسلوبی سے ہورہاہے،جس کے خلاف فیصلہ آتا ہے وہ خوش تو نہیں ہوتا اسلام آباد ہائیکورٹ اچھا کام کررہی ہے،مگرججزکی تعداد کم ہے،بلاول بھٹو زرداری جذباتی لگ رہے تھے،ججز کی تعداد کو بڑھا یاجائے اگرججز ایکسٹرا کام کریں توان کو سہولیات دینی چاہئیں،ماتحت عدلیہ بھی کام کررہی ہے،مگرسہولیات کی کمی ہے اورتعداد بھی کم ہے،بجلی ،گیس اورپانی کے بل بہت زیادہ آرہے ہیں، بنک آف چائنا کے کھلنے سے ہمیں بہت زیادہ فائدہ ہوگا، وزیراعظم اورآرمی چیف کی نیت بہت اچھی ہے،کام بھی کررہے ہیں ،ہمیں ایکسپورٹ کو بڑھانا چاہیے،ایکسورٹ کے بڑھنے سے ملک ترقی کرے گا،صرف پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں نہیں دوسرے اداروں کی تنخواہیں بھی بڑھانا چاہئیں،آئی ایس پی آر بہت اچھا کام کررہی ہے، افواج پاکستان کامورال بلند ہونا چاہیے۔ ائیرمارشل(ر)شاہد لطیف نے پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ الحمد اللہ ائیرفورس نے پوری قوم کا سرفخر سے بلند کردیا، ہمارے جوانوں کی65کی یاد تازہ کردی ہے،اس وقت بھی دشمن کی تعداد ہم سے زیادہ تھی،ہم نے بھارت کو جوسبق سکھایا ساری دنیا نے دیکھا۔ہمارا دنیا میں بہت اچھا تاثر گیا کہ بھارت جنگ اور پاکستان امن چاہتا ہے۔

وزیراعظم کا اگلا پی ایس ایل مکمل طور پر پاکستان میں کروانے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پاکستان سپر لیگ کا پانچواں ایڈیشن مکمل طور پر اپنے ملک میں کروانے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب سیکیورٹی کے کوئی مسائل نہیں ہیں اور یہ یہاں پر امن مکمل طور پر بحال ہوچکا ہے اس لیے پاکستان سپر لیگ کا پانچواں ایڈیشن مکمل طور پر اپنے ملک میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے گزرا لیکن اب حالات ساگاز ہیں، پاکستان امن کے راستے پر رواں دواں ہیں۔

واضح رہے پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل لاہور اور تیسرے کا کراچی میں ہوا تھا جب کہ چوتھے ایڈیشن میں 8 میچز پاکستان میں کھیلے جارہے ہیں۔

شائقین کا پی ایس ایل میں فوجی کیپ پہننا قابل قدر لیکن کھیل سیاست سے بالاترہے، پاک فوج

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ شائقین کرکٹ یقیناً پی ایس ایل فائنل میں فوجی ٹوپیاں اور شرٹس پہن کر آنا چاہتے ہیں لیکن کھیل کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ترجمان پاک فوج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شائقین کرکٹ کو مخاطب کرتے ہوئے پیغام دیا ہے کہ پیارے پاکستانیوں، آپ یقیناً پاکستان سپر لیگ کے فائنل میچ میں فوجی ٹوپیاں اورشرٹس پہن کر آنا چاہتے ہیں، پاکستان فوج آپ کے  پیار، محبت اور حمایت کی قدر کرتی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے پیغام دیا کہ کھیل کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہئے، شائقین روشنیوں کے شہر میں کھیل سے لطف اندوز ہوں۔

واضح رہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کی جانب سے آسٹریلیا کے خلاف میچ میں فوجی کیپس پہننے کے بعد پاکستانی شائقین کرکٹ پی ایس ایل کے فائنل میچ میں فوجی شرٹس اور ٹوپیاں پہن کر آنے کے خواہشمند ہیں، اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم بھی چل رہی ہے۔

 

اسرائیلی فوج فلسطینی بچوں کے اعضاء کا کاروبار کرتی ہے

آج کل پاک بھارت کشیدگی گفتگو کا اہم موضوع ہے۔ پہلے پلوامہ سانحہ، پاکستان پر اس کا الزام، پھر ناکام بھارتی فضائی سٹرائیک اس پر پاکستان کا جواب اور دو بھارتی طیاروں کی تباہی ، 14 فروری سے لے کر 28 فروری تک اس پندرہ روزہ جھڑپوں سے بھرپور کشیدگی کا ہر سو چرچا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ انکشاف بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ یہ سب ڈرامہ کرنے کیلئے بھارت کو اسرائیل نے اکسایا تھا۔ جی ہاں! یہ سچ ہے کہ اس سارے کھیل کی ڈوریاں اسرائیل کے ہاتھ میں تھیں۔ اصل میں بھارت کو تو یہ غصہ ہے کہ پاکستان کیوں بنا۔ بھارت کو دولخت ہونا پڑا یوں قیام پاکستان سے اب تک بھارت نے پاکستان کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اسرائیل کو اسلام سے خطرہ ہے۔ اس نے فلسطین، شام، مصر اور دیگر عرب ممالک کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ پاکستان سے وہ اس لئے خار کھاتا ہے کہ پاکستان اب واحد اسلامی ملک ہے جو جوہری طاقت بھی ہے اور اس میں اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے ان کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت بھی ہے۔ لہٰذا پاکستان عظیم اسرائیل کے راستے کا پہلا پتھر ہے۔ مسئلہ فلسطین بہت بڑا انسانی المیہ ہے اور یہ صرف اور صرف اسرائیل کی امریکی سرپرستی کی وجہ سے ہے۔اس سلسلے میں علامہ اقبالؒ صحیح فرمایا کرتے تھے مغرب کی رگ جاں پنجہ یہود کے قبضہ میں ہے۔ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اب تک مسلم ممالک اسرائیل سے نہیں بلکہ اپنے بھائی اسلامی ممالک سے لڑ رہے ہیں۔ ایران ، اعراق ، شام ، مصر ، سعودی عرب یہ اسلامی ممالک اگر متحد ہو کر اسرائیل کے خلاف لڑیں تو اسرائیل چند دنوں کی مار ہے مگر۔فلسطین کو جن اسلامی ممالک سے توقع ہے کہ وہ اس کو آزاد کروائیں گے وہ سعودی عرب اور ایران ہیں جن کی آپس میں ہی نہیں بنتی تو فلسطین کی کیا مدد کریں گے۔ امریکہ ، روس، فرانس اور دیگر بڑے ممالک تو چاہیں گے کہ یہ آپس کی جنگیں چلتی رہیں تاکہ ان کا اسلحہ بکتا رہے اور دوسری طرف اسرائیل بھی ان کے سر پر سوار رہے۔ جہاں تک فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی بات ہے تو اس سلسلے میں ایک خطرناک انکشاف جامعہ عبرانی القدس کی ایک عرب پروفیسر نے کیا ہے کہ اسرائیل اکثر ہتھیاروں کی طاقت سے متعلق جاننے کیلئے معصوم فلسطینیوں یہاں تک کہ بچوں پر بھی ان کے تجربات کررہا ہے۔فلسطینی مقامات اسرائیلی سکیورٹی انڈسٹری کی لیبارٹریاں ہیں۔وہاں پر نہتے فلسطینیوں پر مہلک ہتھیار برسائے جاتے ہیں اور ان کے اثرات دیکھے جاتے ہیں۔ اسرائیلی فوج خاص طور پر نوجوان نسل کو ہتھیاروں کی اس مبینہ آزمائش کا نشانہ بناتی ہے۔یہاں پر کچھ بچوں کے انٹرویو بھی پیش کیے گئے۔ محمد نامی بچے نے کہا اسرائیلی آرمی یہ جائزہ لیتی ہے کہ ہمارے خلاف کون سے بم استعمال کریں۔ ہمیں رائفل، گیس بم یا اسٹنگ بم سے مارا جائے۔ ہمارے اوپر پلاسٹک کے بیگز رکھے جائیں یا کپڑے رکھے جائیں۔اس کے علاوہ اکثر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسرائیلی فوج قتل کیے جانے والے فلسطینی بچوں کے اعضا کا کاروبار کرتی ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ غزہ پٹی پر موجود آبادی بھوک سے مررہی ہے اور انہیں زہر دیا جاریا ہے۔ بچوں کو ان کے اعضا کیلئے اغوا اور قتل کیا جارہا ہے۔کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے قتل کیے گئے فلسطینیوں کی لاشیں کورنیا اور دیگر اعضاء کے بغیر واپس کی جاتی ہیں۔اس بات کی تصدیق نیویارک ٹائمز نے اگست 2014 میں کی جس کی رپورٹ کے مطابق 2000 سے اسرائیل انسانی اعضاء کی غیرقانونی سمگلنگ میں ’غیرمعمولی کردار ‘ ادا کررہا ہے۔ایک ٹی وی چینل کے نیوز اینکر کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو فوج میں بھیجتے ہیں، علاقوں میں بھیجتے ہیں اور وہ انسان نما جانور بن کر واپس آتے ہیں، یہ قبضے کا نتیجہ ہے۔بھارت جو کہ مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی سے پریشان ہے اس نے اسرائیل سے اس جدوجہد کو کچلنے کیلئے مدد طلب کی۔بھارت کا کہنا ہے کہ جس طرح اسرائیل نے فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کے خلاف آپریشن کیے ویسے ہی کشمیریوں کے خلاف بھی ہونے چاہئیں لہٰذا بھارت اور اسرائیل کے درمیان کشمیر اور فلسطین کی آزادی تحاریک کو کچلنے پر اتفاق ہوا۔ مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی گراؤنڈ فورسز کے سربراہ نے جموں میں بھارتی فوج کی شمالی کمان کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کرکے بھارتی فوج کے کمانڈر اور دیگر سینئر افسروں سے ملاقات کی تاکہ فلسطین اور کشمیر میں جاری آزادی کی جائز تحریکوں کو دبانے کیلئے ایک دوسرے کیساتھ تعاون بڑھایا جائے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ایک منصوبے کے تحت مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے ہندوؤں کو آباد کرنا چاہتا ہے تاکہ اگر مستقبل میں کبھی مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کروانا ہی پڑ جائے تو من پسند نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیلی طرز پر کشمیریوں کو بھی فلسطینیوں کی طرح اپنی زمینوں سے محروم کیا جائے گا۔اس کیلئے مودی سرکار خصوصی ایکٹ 35-A کو ختم کرنا چاہتی ہے جس کے تحت جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ حاصل ہے۔آرٹیکل 35 اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے نہ ہی ملازمتوں پر حق رکھتا ہے۔آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت دیتا ہے۔ اسے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ بھارت کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کر رہا ہے۔ اس کے منسوخ ہونے کی صورت میں بھارت مقبوضہ وادی میں نئی ہندو بستیاں آباد کر سکے گا۔ بھارت اور اسکے ریاستی حواری جموں کشمیر کو ایک فوجی اور پولیسی ریاست قرار دے چکے ہیں اور یہاں کے حریت پسندوں پر اسرائیلی طرز کی جارحیت کرکے انہیں تحریک آزادی سے دور کرنا چاہتے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی بھی اس بات سے متفق ہیں کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز پر شہریوں کے گھروں کو تباہ کر کے انہیں کشمیر چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے۔ وادی کے کئی علاقوں میں رہائشی مکان مسمار اور پھل دار درخت کاٹ دیئے گئے۔بھارتی حکومت نے اسرائیل کی مدد سے وادی میں کشمیری پنڈتوں پر مشتمل ایک نئی مسلح تنظیم قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کو مختلف علاقوں میں بستیاں بنا کر آباد کیا جائے گا۔ یہ فورس علاقے میں ہندوؤں کے 30 مقدس مقامات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ کرے گی۔ یہ فورس پلگام، بارہ مولہ، تاؤمل، اننت ناگ، ویری ناگ کے علاوہ دیگر علاقوں میں کام کرے گی۔ اس فورس کو مقبوضہ کشمیر میں قائم بھارتی چھاؤنیوں میں مسلح تربیت دی جائے گی۔اسرائیل بھارت کو دفاعی ساز و سامان فراہم اور اسکی تیاری میں مدد دینے والا اہم ملک ہے۔اسرائیلی لیبل کے ذریعے امریکی ٹیکنالوجی اور ہتھیار بھی منتقل کئے جا رہے ہیں لہٰذا یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک فوجی معاہدہ ہو رہا ہے اس بار بھارت اور اسرائیل ایک ارب دس کروڑ ڈلر کا معاہدہ کر رہے ہیں جس کے تحت بھارت کے ڈیفنس سسٹم کو اپ گریڈ کیا جائیگا۔ ہنود و یہود کے اس گٹھ جوڑ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کشمیر پر ناجائز قبضے کیلئے موساد اور اسرائیلی حکومت بھارت کی بھرپور مدد کر رہے ہیں تاکہ بعد میں کشمیر پر قبضہ کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں و مراعات میں اضافے کی سمری روک دی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے گورنر پنجاب محمد سرور کو اراکین اسمبلی پنجاب کی تنخواہوں کی سمری پر دستخط کرنے سے روک دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی سمری روکنے اور گورنر پنجاب کو سمری پر دستخط نہ کرنے کی ہدایت جاری کردی ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو مراعات سے متعلق بل دوبارہ ایوان میں لانے کا کہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ وزیراعلٰی کو دی گئی لائف ٹائم مراعات کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے، وزیر اعلی کو پوری زندگی کے لئے گھر دینے کا فیصلہ مناسب نہیں۔ وزیراعظم نے لائف ٹائم مراعات کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹرپراظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ میں پنجاب اسمبلی کی جانب سے وزیراعلی، وزراء اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اورمراعات میں اضافے کے فیصلے سے بہت مایوس ہوا ہوں، اس طرح کے فیصلوں کا کوئی دفاع نہیں کیا جاسکتا، عوام کوبنیادی ضرورتوں کی فراہمی تک فیصلہ نامناسب ہے، ملک میں خوشحالی ہوتو اس طرح کے فیصلوں کاجواز بھی بنتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی نے ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل منظور کیا تھا جس کے تحت اراکین اسمبلی کی تنخواہ اورمراعات 83 ہزار ماہانہ سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے تک کر دی گئی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی تنخواہ اور مراعات وزیر اعظم سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔

مسئلہ کشمیر کی بڑھتی ہوئی سنگینی پر۔اقوام متحدہ فوراً متحرک ہو

ایک گہری عمیق نظر جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے سے دوچار کرنے والے ایٹمی دیش بھارت کے اس کردار پرآج نہیں ڈالی جائے گی تو پھر کب ڈالی جائے گی جس میں بلا کسی ردوکد اور ہچکچاہٹ کے آپ کو صاف دکھائی دے گا کہ تقسیم ہند کے بعد سے تاحال بھارت کی چلی آرہی سفارتی وسیاسی مذموم کوششیں اور کاہشیں کیسی رہی ہیں دنیا کی آبادی کا ایک بڑادیش دنیا میں مہلک اسلحوں کی خریداری میں نمایاں دکھائی دینے والا دیش اپنے پڑوسی ممالک کی سرحدوں کے پار لالچائی ہوئی تمنائیں اور مبینہ خواہشات رکھنے والا دیش اور خاص کر اپنے پڑوسی مسلم ملک پاکستان کو اندرونی وبیرونی طورپر کمزور کرنے کی خاطراپنی دفاعی صلاحیت وپیشہ ورانہ کم مائیگی کے باجود گھٹیا چانکیائی سازشوں کے حربوں کو استعمال کرکے مشرقی پاکستان میں لسانی ‘بنگالی پنجابی’کے تعصبات کی آڑ غیرریاستی عناصر غنڈوں کو جنگی تربیت دے کراْنہیں وہاں بھیجنے والا دیش مشرقی پاکستان میں عین انتخابات کے موقع پر سیاسی انارکی پھیلانے اور پْرتشدد انتشار وافتراق کو ہوا دے کر مشرقی پاکستان کے مسلم عوام کوہواس باختہ کردینے والا دیش اسی پر بس نہیں بلکہ دسمبر 1971 میں جب مشرقی پاکستان میں تعینات پاکستانی فوج کو ہزاروں کے قریب ہندو دہشت گرد مکتی باہنی نے اپنے گھیرے میں پوری طرح لے لیا تھا بھارتی طیاروں نے اس موقع سے پورا فائدہ اْٹھایا اور مشرقی پاکستان کے ڈھاکہ کے علاوہ تمام آئیر پورٹس بمباری کرکے تباہ کردئیے تھے ایسے ماحول میں بھارتی گیدڑ فوج مشرقی پاکستان کے اندر جاگھسی مطلب یہ کہ پاکستانی فوج اور بھارتی فوج کے درمیان کوئی باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آئی نئی دہلی کی ایما پرپہلے پانچ برسوں کی منظم خفیہ منصوبہ بندی کے نتیجے میں ہندوغیر ریاستی عناصر نے اندرون خانہ مشرقی پاکستان کی بھارتی بنگال کی سرحدوں کو پار کیا اور وہ مسلم بنگالی عوام میں جاگھسے گھل مل گئے یوں بھارت کے لئے ممکن ہوا اور اْس نے اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کی خودمختاری پر ضرب لگائی کیونکہ مسلم دشمن عالمی طاقتوں کی پشت پناہی بھارت کو حاصل تھی لہذا وہ 1971 میں بے لگام ہوگیا تھا مشرقی پاکستان کی اندرونی انتخابی سیاست کے واضح نمایاں اندرونی اختلافات سے اْس نے فائدہ اْٹھایامسلم دشمن عالمی طاقتوں نے اْسے شہ دی اور یوں پاکستان دولخت ہوگیا 1971 سے آج 2018 تک 47 برس کا عرصہ بیت چکا ہے پاکستان سے علیحدہ ہو کر بننے والی نئی مسلم ریاست بنگلہ دیش کے عوام وہاں ایک نئی مسلم نسل پروان چڑھ چکی ہے وہ نئی نسل سوالات اْٹھا رہی ہے دھند صاف ہورہی ہے آج کا مودی اور آرایس ایس کا بھارت بنگلہ دیش کے کروڑوں مسلمانوں کا بھی ہمدرد اور دوست نہیں ہے کیونکہ بنگالی مسلمان اپنے ایمان کی پختگی میں کسی دوسرے غیر توحیدی مذاہب کی دخل اندازی کو پسند نہیں کرتے مسلم بنگلہ دیش کی سرزمین پر دنیائے اسلام کا حج کے بعد سب سے بڑا تبلیغی اجتماع ہر سال منعقد ہوتا ہے بنگلہ دیش کے قیام میں بھارتی قائدین چاہے وہ کانگریسی ہوں یا آرایس ایس سے متعلق ہوں وہ ایک ہی ‘جانبدارانہ اور متعصبانہ’سوچ رکھتے ہیں گزشتہ 47 برسوں سے آج تک مسلم دنیا بالخصوص پاکستان کو نقصان پہنچانے کی مبینہ حرکات وسکنات والی مذموم پالیسیوں سے نئی دہلی نے اپنے ہاتھ اْٹھانے تھے نہ اْٹھائے 1998 میں کھلے آزادنہ طور پر خود کو ایٹمی دھماکے کرکے ایک ایٹمی دیش قرار دے لیا پاکستان اور پاکستان کے حساس سیکورٹی ادارے بھارت کی اندرون خانہ ہونے والی ایٹمی صلاحیتوں پر کڑی نظررکھے ہوئے تھے اْنہیں اپنے خطہ میں آنے والے دنوں میں طاقت کے توازن میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کا بخوبی ادراک تھا پاکستان بھی آنے والے چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کے لئے پوری طرح سے کمربستہ تھا مغربی دنیا کو بھی احساس ہوگیا تھا جبھی تو پاکستان کو کئی طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن پاکستانی قوم نے قربانیاں دینے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرلیا تھا یوں پاکستان نے بھی بھارت کے ایٹمی تجربے کے جواب میں 1998 ہی میں 6 کامیاب ایٹمی دھماکے کردئیے دنیا کا منہ اترگیا بھارت بھی دیکھتا رہ گیا جنوبی ایشیا میں دوایٹمی قوتیں پڑوس میں ہیں اس میں کوئی مظائقہ بھی نہیں لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ بھارت نے آج تک پاکستان کو ایک آزادوخود مختار ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا نہ ہی اْس نے 1947 کے تقسیم ہند کے لندن پلان کو تسلیم کیا کاش بھارتی قائدین ہوش کے ناخن لیتے ‘لندن پلان’ کی روح کو مسلم دشمن انگریز لارڈماونٹ بیٹن کی کھلی ہوئی جانبداری بہت بْری طرح سے مجروح کیا ہے کل تک بھارت میں ‘سیکولر دیش’ کے لولی پاپ میں حکومت کرتی رہی ہے، گزشتہ پندرہ برسوں سے نئی دہلی کے اقتدار پر آرایس ایس قابض ہوچکی ہے، جس نے اعلانیہ سیکولر ازم کی بجائے دیش کو ایک ہندواسٹیٹ میں بدل دیا ہے اب وہاں ‘کٹرہندوازم’ کی مرکزی سیاست نے اپنی جڑیں پکڑلی ہیں مسئلہ کشمیر کے موضوع کو ہم بین السطور اس وجہ سے بیان نہیں کیا اس اہم علاقائی انسانی مسئلے کی سنگینی سے کون واقف نہیں اصل میں یہی بنیادی مسئلہ ہے جس نے بھارت کی نیندیں اْڑائی ہوئی ہیں بھارت کیوں ڈھیٹ بنا ہوا ہے اور کشمیریوں کی تیسری نسل نے اپنی سرزمین پر بھارتی فوج کی موجودگی کو اب تک تسلیم نہیں ہے اورنہ کبھی وہ تسلیم کریں گے اس کی وجوہات دنیا بھر میں زیر بحث ہیں پہلے سمجھنا ہوگا کہ تقسیم ہند کا ‘لندن پلان’کیا تھا جس میں غیر منقسم ہند کی ریاستوں کے والیوں اور راجہ مہاراجوں کے لئے کیا آپشنز تھیں کشمیر کی تاریخی صدیوں پرانی حیثیت کیا تھی مہاراجہ ہری سنگھ کشمیر کا مہاراجہ کیسے بن بیٹھا اْسے کیا حق تھا کہ کشمیر کا سودا انگریزوں سے کردے اور ہاں یادرہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر جب کشمیر کا مکمل الحاق بھارت نے نہیں کیا تھا مشروط الحاق تھا یہ بڑی اہم تفصیل ہے، جلد ہی ان سطور پر آپ پڑھ سکیں گے ۔انشا اللہ

****

طالبان شدت پسندوں سے روابط ختم کردیں تو امن ممکن ہے، عبداللہ عبداللہ

کابل: افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ ملک میں امن ممکن ہے اگر طالبان دیگر شدت پسندوں تنظیموں سے روابط ختم کردیں۔

کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوسکتی ہے اگر طالبان دیگر شدت پسند تنظیموں سے روابط ختم کردیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر میں امریکا اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کی خبریں اگر درست ہیں تو افغانستان کے آدھے مسائل حل ہوجائیں گے اور امید ہے کہ ایسا ہی ہو۔

افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں مذاکرات کی آڑ میں ایک طرف تو افغانستان میں خون ریزی کو بڑھا رہی ہیں اور دوسری جانب اپنے اپنے ممالک کے مفادات کو پورا کررہی ہیں۔

گردوں کے امراض کا باعث بننے والی عام عادتیں

گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیم اور ایسڈ لیول کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔

مگر گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

گردوں کو ہونے والے نقصان کی علامات کافی واضح ہوتی ہیں تاہم لوگ جب تک ان پر توجہ دیتے ہیں اس وقت تک بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔

اور افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر لوگ گردوں کے امراض کو دعوت اپنی چند عادات یا سستی کے باعث دیتے ہیں، جو بظاہر بے ضرر ہوتی ہیں مگر ان پر قابو نہ پانا جان لیوا ہوسکتا ہے۔

گردوں کی صحت کے عالمی دن کے موقع پر اپنی ان عادات کے بارے میں جانیں جو اس عضو کو مشکل میں ڈالنے کا باعث بنتی ہیں۔

پیشاب کو روکنا

بروقت اپنے مثانے کو خالی نہ کرنا گردوں کے امراض کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اگر آپ اکثر پیشاب کو روک کر بیٹھے رہتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مثانے میں بیکٹریا کی مقدار میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے، بتدریج یہ عادت سنگین نتائج جیسے گردوں کے انفیکشن اور پیشاب غیر ارادی طور پر خارج ہونے کے شکل میں سامنے آتی ہے۔

بہت زیادہ بیٹھنا

جسمانی طور پر سرگرم رہنا بلڈ پریشر اور گلوکوز لیول کو معمول کی سطح پر رکھنے میں مدد دیتا ہے اور یہ دونوں عناصر گردوں کی صحت مستحکم رکھنے کے لیے بہت ضروری ہیں، اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا گردوں کے امراض کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھا دیتا ہے، مثال کے طور پر اگر آپ دن بھر میں 8 گھنٹے سے زائد وقت کرسی پر بیٹھ کر گزارتے ہیں تو یہ خطرہ بہت جلد حقیقی شکل اختیار کرسکتا ہے، تو اس سے بچنے کے لیے ہفتہ بھر میں کم از کم 2 سے 3 مرتبہ ورزش کو عادت بنائیں اور چہل قدمی سے بھی لطف اندوز ہو۔

نیند کی کمی

رات کی اچھی نیند صرف ذہنی صحت کے لیے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ یہ گردوں کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے، سونے اور جاگنے کا چکر گردوں کے افعال کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے، اس عضو کے ٹشوز اسی وقت ری نیو ہوتے ہیں جب آپ سو رہے ہوتے ہیں، تو اگر نیند کی کمی کا سامنا ہوگا تو گردوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھتا ہے۔

ڈائیٹ مشروبات استعمال کرنا

طبی ماہرین کے مطابق ڈائیٹ مشروبات کے استعمال اور گردوں کے امراض کے درمیان تعلق موجود ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو خواتین دن بھر میں 2 یا اس سے زائد مرتبہ ڈائیٹ مشروبات کا استعمال کرتی ہیں، ان کے گردوں کے افعال میں نمایاں کمی آتی ہے۔

بہت زیادہ سرخ گوشت کھانا

حیوانی پروٹین کی بہت زیادہ مقدار کو جسم کا حصہ بنانا خون میں تیزاب کی مقدار کو بڑھاتا ہے، جس سے گردے جسم میں ہائیڈروجن کو متوازن نہیں رکھ پاتے، وقت گزرنے کے ساتھ یہ عارضہ سنگین نظام ہاضمہ کے مسائل کا باعث بنتا ہے جبکہ گردوں کے جان لیوا امراض شکار بناسکتے ہیں۔

چینی اور نمک کی زیادہ مقدار جزو بدن بنانا

غذا کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والے نمک کے 95 فیصد حصے کو گردے میٹابولز کرتے ہیں، تو اگر نمکین اشیاء کو زیادہ کھائیں گے تو گردوں کو اضافی نمکیات کے اخراج کے لیے سخت محنت کرنا پڑے گی، جس کے نتیجے میں گردوں کے افعال میں کمی آئے گی، اسی طرح چینی کا زیادہ استعمال بھی ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے اور ذیابیطس جیسے امراض کا باعث بنتا ہے اور یہ تینوں ہی گردوں کے فیلیئر کے اہم ترین عناصر ہیں۔

جنک فوڈ کا شوق

بیشتر پراسیس فوڈ میں نمک بہت زیادہ ہوتا ہے جو نہ صرف دل کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ گردوں کے مسائل کا باعث بنتا ہے، جب آپ زیادہ نمک جسم کا حصہ بناتے ہیں تو جسم کے لیے اس اضافی مقدار کا اخراج مسئلہ بن جاتا ہے، جو بتدریج گردوں میں پتھری کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

بلڈ پریشر کنٹرول نہ کرنا

ہائی بلڈ پریشر پورے جسم کے ساتھ گردوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، درحقیقت ہائی بلڈ پریشر کے نتیجے میں جب شریانوں پر دباﺅ بڑھتا ہے تو اس کا اثر گردوں پر بھی ہوتا ہے، اگر ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں نہ کیا جائے تو اس سے گردوں کی جانب جانے والی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور گردوں میں زخم ہوسکتے ہیں۔

تمباکو نوشی

اگر آپ کو لگتا ہے کہ تمباکو نوشی صرف پھیپھڑوں کو ہی نقصان پہنچاتی ہے تو دوبارہ سوچیں کیونکہ ایک طبی تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی سے گردوں میں کینسر کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اسی طرح تمباکو نوشی سے خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

پانی کی مناسب مقدار نہ پینا

ایک تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی شدید کمی کے نتیجے میں گردے خون میں موجود زہریلے مواد کو فلٹر کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں اور جمع ہونے والا فضلہ گردوں کے فیل ہونے کا باعث بن جاتا ہے، تحقیق میں بتایا گیا کہ پانی کی کمی کو دور کرنا گردوں کے امراض سے تحفظ دینے کا آسان طریقہ ہے خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔

درد کش ادویات کا زیادہ استعمال

دردکش ادویات یا ورم کش ادویات جیسے بروفین یا اسپرین وغیرہ سے گردوں کی جانب دوران خون کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اس عضو کو نقصان پہنچتا ہے، ایسا نہیں کہ درد ہونے پر دوا نہ کھائیں مگر ان کا بہت زیادہ استعمال کرنے سے گریز کریں۔

جسمانی وزن کو کنٹرول نہ کرنا

یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ اضافی جسمانی وزن اندرونی اعضاء پر دباﺅ بڑھاتا ہے، موٹاپے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھتا ہے جس سے بھی گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، انسولین کے مسائل سے گردوں میں ورم اور زخم کا خطرہ بڑھتا ہے۔

Google Analytics Alternative