Home » 2019 » March » 15 (page 2)

Daily Archives: March 15, 2019

برازیل کے اسکول ميں فائرنگ، 6 بچوں سمیت 8 افراد ہلاک

برازیلیا: برازيل کے ایک اسکول میں 2 سابق طلبا نے فائرنگ کر کے 6 بچوں اور 2 شہریوں کو ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق برازيل کے شہر ساؤ پاؤلو کے ايک اسکول ميں 2 نقاب پوش افراد نے دھاوا بول دیا، اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 6 بچے ہلاک ہوگئے جب کہ پولیس کے پہنچتے ہی حملہ آوروں نے خود کو گولی مار کر ہلاک کردیا، فائرنگ کی زد میں آکر ایک مزدور اور راہگیر بھی ہلاک ہوگیا۔

Brazile

ریسکیو اداروں نے امدادی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں 4 بچوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق 17 افراد کو زخمی حالت میں لایا گیا ہے جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ صبح 9 بجے پیش آیا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی جہاں حملہ آوروں نے پولیس کو دیکھتے ہی خود کو گولی مار لی، حملہ آوروں کی عمریں  20 سے 25 سال کے درمیان تھیں اور وہ اسکول ہی کے سابق طالب علم تھے۔

پاکستان میں ادویات کو غیر موثر کرنے والے مہلک بیکٹیریا میں اضافہ

ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈنمارک کے نیشنل فوڈ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے شائع کی گئی تحقیق میں پاکستان،افغانستان اور بنگلہ دیش سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ادویات کے اثرات کم کرنے والے مہلک بیکٹیریا کی سطح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دنیا کے 60 ممالک کے 74 شہروں سے جمع کیے گئے فضلے کے پانی (سیویج) کے تفصیلی جائزے کے بعد اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنٹ (اے ایم آر) بیکٹیریا کا عالمی ڈیٹا جاری کیا گیا ہے جو ان ممالک کےصحت مند افراد میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنٹ (اے ایم آر) بیکٹیریا وہ بیکٹیریا ہوتے ہیں جو ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کرکے انہیں غیر مؤثر کردیتے ہیں۔

اس حوالے سے محققین کا کہنا ہے کہ ان ممالک کو دو گروہوں میں شامل کیا گیا ہے، شمالی امریکا، مغربی یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں عموماً اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کی سطح انتہائی کم ہے جسے اچھا سمجھا جارہا ہے جبکہ ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکا میں یہ سطح بہت زیادہ ہے۔

بین الاقوامی جریدے نیچر میں شائع کی گئی یہ تحقیق ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈنمارک کے نیشنل فوڈ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے کی گئی تھی۔

اس تحقیق میں بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے حصہ لیا تھا جس میں آغا خان یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف پیتھولوجی اینڈ لیبارٹری میڈیسن کی ڈاکٹر رومینہ حسن اور سعدیہ شکور بھی شامل تھیں۔

ورلڈ بینک سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کی مدد سے محققین نے دنیا کے 259 ممالک میں اے ایم آر لیولز کی پیش گوئی کی اور صحت مند آبادیوں میں ان کے خلاف مزاحمت کا ایک نقشہ بھی ترتیب دیا۔

محققین کے اندازوں کے مطابق نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ اور سوئیڈن میں مزاحمت کی سطح انتہائی کم ہے جبکہ تنزانیہ، ویتنام اور نائیجیریا میں یہ سطح کافی زیادہ ہے۔

اے ایم آر کی زیادہ سطح رکھنے والے دیگر ممالک میں جنوبی ایشیا میں پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش، مشرقی افریقہ میں کینیا اور یوگینڈا شامل ہیں۔

تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان بیکٹیریا میں اکثر تبدیلیاں ملک میں صحت و صفائی کی صورتحال اور آبادی کی صحت کی وجہ سے آئی ہیں۔

ڈاکٹر رومینہ حسن نے کہا کہ ’ اے ایم آر کے عالمی بوجھ کو محدود کرنے کے لیے صحت، تعلیم اور صفائی کی صورتحال کو بہتر کرنےکی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ اے ایم آر میں اضافہ عام بیماریوں کے علاج میں ہماری صلاحیتوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے، جس کی وجہ سے لوگ طویل المدتی بیماریوں،معذوری اور موت کا شکار بن رہے ہیں، ہمیں اس حوالے سے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے‘۔

ڈاکٹر رومینہ حسن نے کہا کہ ’حکومت، پالیسی ساز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ملک کے لیے خصوصی اے ایم آر پلان تشکیل دینے کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ جو تحریری طور پر منصوبہ بندی کرچکے ہیں ہمیں اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے‘۔

ڈاکٹر رومینہ حسن اور ڈاکٹر سعدیہ شکور اور ان کی ٹیم نے 2016 میں پاکستان میں ادویات کے خلاف شدید مزاحمت کرنے والے ٹائیفائڈ کی نشان دہی کی تھی۔

ڈاکٹر سعدیہ شکور نے کہا کہ ’ اب ہم جانتے ہیں کہ فضلے کی نکاسی کے بنیادی ڈھانچے اور پانی کے ناقص معیار کی وجہ سے پاکستان میں ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والے ٹائیفائیڈ بخار کو پھیلنے میں مدد ملی‘۔

حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ماہرین کی ٹیم نے رواں برس نومبر میں آغا خان یونیورسٹی کے سالانہ ہیلتھ سائنسز ریسرچ سمپوزیم میں اینٹی مائیکروبیل ریزسٹزنس پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کرتارپورراہداری پر پاک بھارت مذاکرات کا پہلا دور کامیاب

لاہور: کرتارپور راہداری پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور کامیاب ہوگیا۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ راہداری سے متعلق بعض معاملات پر اب بھی اختلافات ہیں جس کی تفصیلات نہیں بتاسکتا تاہم مشترکہ اعلامیہ جاری ہونا بڑی کامیابی ہے۔

بھارت سے واپسی کے بعد ترجمان دفترخارجہ نے واہگہ بارڈرپرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرتارپور راہداری کے طریقے اورمسودے سے متعلق پہلی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، بعض معاملات پر بدستور اختلافات ہیں جس کی تفصیلات نہیں بتاسکتا۔ آج پہلے اجلاس میں کرتارپور صاحب میں زائرین کی آمدورفت کی سہولت سے متعلق غور ہوا۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ 2 اپریل کوکرتارپورراہداری سے متعلق ملاقات واہگہ بارڈر پر ہوگی، مشترکہ اعلامیہ جاری ہونا بڑی کامیابی ہے کیونکہ بھارت کے ساتھ کبھی بھی مشترکہ اعلامیہ طویل عرصے سے جاری نہیں ہوا۔

اعلامیے کے مطابق مجوزہ معاہدے کی فراہمی اور کرتارپورراہداری کے کام کو تیزترکرنے پر اتفاق ہوا، تکنیکی سطح پر بھی دنوں ممالک کے ماہرین کے درمیان بات ہوئی، کرتار پور راہداری ویزا فری کوریڈورہے اس کیلیے ویزے کی شرط نہیں۔

روانگی سے قبل ترجمان دفترخارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بابا گرونانک دیو جی کا مزار سکھ برادری کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے، پاکستان نے کرتارپور کوریڈور کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، کرتارپورراہداری پرمذاکرات کے لیے بھارت جارہے ہیں اوریہ مذاکرات کرتارپورراہداری کھولنے سے متعلق ہی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ہماری سوچ ہے کہ ایک شجر ایسا لگایا جائے کہ ہمسائے کے گھر میں سایہ جائے، ہمارا کرتارپورراہداری پراجلاس میں جانا مثبت ہمسائیگی کی طرف قدم ہے، ہم مذاکرات مثبت پیغام کےساتھ جارہے ہیں، امید ہے بھارت بھی قدم آگے بڑھائے گا اور دفترخارجہ کرتارپورراہداری پراجلاس وزیراعظم کے وژن کاعکاس ہے۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل نے مزید کہا کہ منصوبے کا سنگ بنیاد 20 نومبر2018 کو رکھا گیا جس کی تکمیل نومبر2019 میں ہوجائے گی، پاک بھارت کشیدگی میں کمی خطے کے امن کے لیے ضروری ہے، کرتارپورراہداری سے سکھ برادری کوسہولت اوردونوں ملکوں کے درمیان امن بھی ہوگا۔

کرتارپورکوریڈور کیا ہے ؟

سکھوں کے لیے مقدس مقام گوردوارہ کرتار پور بھارتی سرحد سے متصل ضلع نارروال میں واقع ہے۔ سرحد کے دوسری جانب بھارت کا ضلع گورداس پور واقع ہے۔ گوردوارہ کرتار پور سکھوں کے لیے انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔

پاکستان کے منصوبے کے تحت کرتارپور میں بارڈر ٹرمینل کی تعمیر ہوگی اور دریائے راوی پر پل بنے گا۔ سرحد کے دونوں طرف راہداری مکمل ہونے کے بعد سکھ زائرین کو ویزے کے بغیر خصوصی اجازت نامے کے تحت گوردوارے پر حاضری کی اجازت ہوگی۔ پاکستان کی جانب سے اس منصوبے پر 40 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ واہگہ بارڈر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات جاری ہیں جس کے لیے پاکستان کا 18 رکنی وفد پہنچا ہے۔ دوسری جانب بھارت نے ایک مرتبہ پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات کی کوریج کے لیے پاکستانی صحافیوں کو ویزے جاری نہیں کیے۔

واٹس ایپ میں سرچ امیج فیچر کی آزمائش

واٹس ایپ کو گزشتہ سال سے جعلی خبروں کے پھیلاﺅ کے باعث تنقید کا سامنا ہے اور اس حوالے سے کمپنی کی جانب سے متعدد اقدامات بھی کیے گئے اور اب ایک نیا فیچر جلد متعارف کرایا جارہا ہے۔

اس بار یہ کمپنی تصاویر کے ذریعے غلط معلومات کے پھیلاﺅ کی روک تھام کے لیے فیچر متعارف کرارہی ہے۔

فیس بک کی زیرملکیت ایپ اس وقت ایک نئے سرچ امیج فیچر کی آزمائش کررہی ہے جس کے ذریعے صارفین کسی تصویر کے بارے میں معلومات گوگل سے اپلیکشن کے اندر رہتے ہوئے حاصل کرسکیں گے۔

اس سلسلے میں سرچ بائی امیج پر کلک کرکے کسی دوست کے میسج میں آنے والی تصویر کو براہ راست گوگل پر اپ لوڈ کرکے اس کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکے گی۔

اس معلومات سے صارفین کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ یہ تصویر اصلی ہے یا فوٹوشاپ کا کمال، اسی طرح وہ تصویر کے پس منظر کے بارے میں بھی سب کچھ جان سکیں گے۔

واٹس ایپ اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والے ٹوئٹر اکاﺅنٹ WABetaInfo کے مطابق اس فیچر کی آزمائش اس وقت اینڈرائیڈ کے بیٹا ورژن میں ہورہی ہے۔

اس سے قبل واٹس ایپ میں جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے فارورڈ میسج کی حد کو کم کرکے 5 کیا گیا، گروپ کے لیے نئے انتظامی کنٹرول متعارف کرائے جبکہ لاکھوں اسپام اکاﺅنٹس پر پابندی بھی عائد کی۔

یہ امیج سرچ فیچر کب تک صارفین کو دستیاب ہوگا، فی الحال کہنا مشکل ہے مگر امکان ہے کہ آئندہ ماہ سے متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

کھلی کچہریوں کا انعقاد محکموں میں انقلابی اصلاحات کا ضامن

معزز قارئین ارادہ تھا کہ ڈی سی سیالکوٹ سید بلال حیدر کی بالغ نظری،کام اور خود کو بطور ایک اچھا ضلعی منتظم ثابت کرنے پر کچھ اظہار خیال کیا جائے لیکن اس موضوع کو موخر کرتے ہوئے اس پر کسی اگلے کالم میں تفصیل سے روشنی ڈالوں گا۔کسی بھی معاشرے میں قوانین اور ضوابط وضع کرنے کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ معاشرہ کے باسیوں کی مشکلیں آسان کرتے ہوئے معاشرتی مسائل حل کئے جائیں ۔کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بنیادی ضرورت انصاف کی فراہمی اور امن و امان کا قیام ہے جس میں بنیادی کردار قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے ۔قانون سازی اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس پر عملدرآمد کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہوتا ہے کیونکہ اگر قوانین پر عمل نہ ہو تو قانون مذاق بن کر رہ جاتا ہے اور معاشرے کی اساس پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو کر رہ جاتی ہے ۔بد قسمت عوام جن کی آواز کبھی سرکار تک نہیں پہنچ پاتی تھی اگر کبھی پہنچ بھی جاتی تو اپنے مسائل کے حل سے محرومی ہی مقدر ٹھہرتی ۔یہ تو بھڑاس تک نہیں نکال سکتے تھے ۔یہ اسی خواب و خیال میں زندگی کے دن پورے کر رہے ہوتے کہ دیوا رگریہ اک بنانا چاہیے جو سب کا غم بانٹ سکے ۔محروم لوگوں کی سرد آہیں جب لفظوں کا روپ دھارتی ہیں تو پھر قرطاس ابیض کو بھی سیاہ کر دیتی ہیں ۔ایسی روسیاہ عرضداشتوں کو امن بھرے محلات میں بھلا کون جانے دیتا ہے؟ داروغوں کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ آہ و فغاں کی خاموش آواز پر سکون صاحبان اختیار کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے اور ان کے خوشگوار مزاج کو مکدر نہ کر دے ۔زمانہ قدیم میں انصاف کی زنجیریں ہوا کرتی تھیں جن کو ہلا کر فریادی اپنی فریاد سنا دیا کرتا تھا ۔اب اس ترقی یافتہ دور میں بے شمار زنجیریں ہیں جو جذبات و احساسات صاحبان اختیار تک پہنچانے میں کوشاں ہیں ۔ان میں سے ایک زنجیر کا نام ’’ کھلی کچہریاں‘‘ ہیں جہاں براہ راست عرضداشتیں متعلقہ افسران کی خدمت میں پہنچ کر لوگوں کی حالت زار اور مسائل سے واقفیت کا ذریعہ بنتی ہیں ۔امن و امان کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے ۔عام آدمی میں تحفظ پیدا کرنا،تھانہ کلچر میں تبدیلی ،تھانوں میں عوام سے شائستہ رویہ ،تشدد و ناجائز حراست کا حاتمہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔یہ ہمارے ہاں دستور رہا ہے کہ تھانے جرائم اور مجرموں کی بہتات پر نیلام ہوتے رہے ہیں ۔یہ بات ہے سمجھنے کی ،آگے کہوں میں کیا ۔جہاں آوے کا آوا ہی بگڑ جائے وہاں شاہیں تراشنے ،وارننگ دینے سے کچھ نہیں ہوتا ۔برائی ختم کرنے کیلئے جڑوں تک پہنچنا پڑتا ہے ۔ان کا گزارہ صرف تنخواہ میں نہیں ہوتا اور بھی کچھ سلسلے کام آتے ہیں

ٹوٹ ہی جاتی گرانی سے کمر لیکن
اور بھی کچھ سلسلے یاروں کی تنخواہوں میں ہیں
امن و امان کے قیام اورناجائز حراست کا خاتمہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔پولیس کا محکمہ امن و امان کے قیام اور معاشرے سے جرائم کی بیخ کنی اور قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانے کیلئے وجود میں آیا ۔اس محکمہ کے افسرواہلکار اس مقصد کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور کوششوں کو بروئے کار تو لائے ہوں گے لیکن عوام میں اس محکمہ کا تاثر بہتر نہیں ہو سکا اور مجموعی طور پر وہ پولیس سے نالاں ہی نظر آئے۔اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے عوام کے مسائل کے حل کیلئے ضلعی پولیس سربراہان (ڈی پی او) اور انتظامی سربراہان (ڈی سی)کو اپنے اضلاع میں کھلی کچہریاں لگانے کا حکم صادر فرمایا ہے۔عوام کی شکایات کے ازالہ کیلئے ضلعی افسران کا روزانہ اپنے دفاتر میں شہریوں کے مسائل سننااور کھلی کچہریوں کا انعقاد حکومت کی ایک بہتراور قابل تعریف حکمت عملی ہے ان کھلی کچہریوں کا ایک خاص مقصد تھانہ کے روائتی کلچر میں تبدیلی اور عوام پولیس کے مابین فاصلے کم کرنا ہے۔اس سے وہ زیادہ توجہ اور دلجمعی سے عوام کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کر سکیں گے ۔ان کھلی کچہریوں سے چٹ سسٹم کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی ۔شہر سیالکوٹ کے مختلف علاقوں میں مختلف جرائم کا غلبہ ہے ۔کسی علاقے میں چوری کی وارداتوں کی کثرت ہے ،کوئی غنڈہ گردی کیلئے مشہور ہے اور کوئی علاقہ ناجائز فروشوں کے نام سے جانا جاتا ہے ۔یہاں ڈکیتیاں اور ناجائز قبضے کے جرائم بھی ہوتے ہیں لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ ناجائز قبضوں کے معاملات میں پولیس اپنا حصہ وصول کر کے ایک طرف ہو جاتی ہے جبکہ معاملہ دو گروپوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔جسم فروشی اور ناجائز فروشی جیسے جرائم بھی ہیں ۔شہر کی سڑکوں پر سرشام ایسی عورتیں کھڑے ہو کر لوگوں کو ورغلاتی ہیں ۔بعض اطلاعات کے مطابق پولیس کی ملی بھگت سے یہ عورتیں کئی شہریوں کو تھانے کا خوف دلا کر بھی لوٹ لیتی ہیں ۔ہیروئن فروشی اور شراب کا کاروبار بھی ہے ۔یہ ناجائز فروش جس دیدہ دلیری سے اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے اڈوں پر سے پولیس اپنا حصہ بھی وصول کرتی ہے اس سے عام آدمی کے اندر یہ جذبہ ہی دم توڑ جاتا ہے کہ وہ معاشرے میں پھیلے جرائم کی نشاندہی کیلئے پولیس کو معلومات فراہم کرے ۔کھلی کچہریاں کسی حد تک اس کمی کو پورا کرتی ہیں ۔ایک ایسا مرکز بھی قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں کوئی بھی شہری معاشرے میں بد امنی اور لاقانونیت پھیلانے والے عناصر کی محفوظ طریقہ سے نشاندہی کر سکے اور اسے یقین ہو کہ اس کی اطلاعات پر پولیس ضرور کاروائی کرے گی۔معاشرے میں جہاں دیگر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہاں جرائم پیشہ افراد کے طریقہ واردات میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں ۔سٹریٹ کرائم جس میں موبائل فون ،زیورات ونقدی چھیننے کا رجحان پایا جارہا ہے ۔ان واقعات کے تدارک کیلئے سائنسی خطوط پر ایک جامع سروے کرا کر زیادہ جرائم والے علاقوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے وہاں ایسے علاقوں میں موثر پٹرولنگ اور اضافی نفری تعینات کرنا بھی ضروری ہے ۔موجودہ حکومت نے کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کروا کر ایک خوش آئیند قدم اٹھایا ہے یہ سلسلہ مفیدہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ان کھلی کچہریوں میں سینکڑوں سائلین شرکت کر کے اپنی شکایات پیش کرتے ہیں جس سے افسران کا نہ صرف عوام سے رابطہ رہتا ہے بلکہ ان کے مسائل کو جاننے میں بھی مدد ملتی ہے ۔ مشاہدہ میں آیا ہے کہ ان کھلی کچہریوں میں عوام کا سراپا احتجاج نظر آنا اور مختلف سرکاری محکموں کے خلاف شکایات کے انبار لگا دینا سرکاری محکموں کی ناقص کارکردگی اور بد عنوانی کا ثبوت ہے حکومت کی طرف سے شہریوں کی شکایات کے ازالے کیلئے زور دیا جا رہا ہے اور جہاں شہریوں کو انصاف بھی پہنچایا جا رہا ہے وہاں محکموں میں تعینات بدعنوان اہلکار اور بعض افسران عوامی مشکلات میں اضافہ اور حکومت کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر پولیس اور انتظامی سربراہان کا عوام کی دہلیز پر جا کر عوامی مسائل کا خود جائزہ لینا اور ان کی شکایات کی روشنی میں محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے ۔ان کھلی کچہریوں میں دیہی علاقوں کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ شہریوں کا ضلعی دفاتر میں رابطہ کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ دیہی علاقوں کے رہائشی افراد کیلئے شہروں میں آنا اتنا آسان نہیں ۔بہر حال ان کھلی کچہریوں میں لوگوں کی کثیر تعداد شرکت کرتی ،اپنی شکایات پیش کرتی ہے جس پر نہ صرف موقع پر احکامات صادر کئے جاتے ہیں بلکہ موقع پر ہی درخواستیں متعلقہ افسران کے حوالے کر دی جاتی ہیں ۔ان کھلی کچہریوں پر نہ صرف عوام اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ ان میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت شائد محکموں کی کار کردگی بھی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو اور محکموں کا مجموعی تاثر بہتر ہو سکے۔راقم کے خیال میں ان کھلی کچہریوں کے انعقاد سے عام آدمی میں تحفظ کا احساس ضرور پیدا ہوا ہے۔راقم کی رائے ہے کہ اس وقت تک کسی بھی شکائت کنندہ کی فائل داخل دفتر نہ کی جائے جب تک سائل کو مکمل ریلیف نہیں ملتا اس سے کھلی کچہریوں کے حقیقی مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

عمران خان امن کے حامی ہیں تو مسعود اظہر ہمارے حوالے کردیں، سشما سوراج

نئی دلی: بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے فوجی اور سفارتی محاذ پر ناکامی کے بعد اپنی سبکی چھپاتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اتنے بڑے امن کے داعی ہیں تو جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بھارت کے حوالے کیوں نہیں کردیتے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو جذبہ خیر سگالی کے تحت واپس بھارت بھجوائے جانے کے عمل نے نہ صرف دنیا بلکہ بھارتی عوام کے دلوں کو بھی جیت لیا تھا، وزیراعظم کے اس عمل کے بعد بھارت میں ہی مودی حکومت کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی تھیں۔

انتخابات جیتنے کے لیے مودی سرکار کی جھوٹی سرجیکل اسٹرائیک اور پھر خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کے جنگی جنون نے خود بی جے پی سے بھارتی عوام کو منحرف کردیا تاہم وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امن کے لیے اٹھایا گیا قدم مودی حکومت کو ایک آنکھ نہ بھایا۔

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے فوجی اور سفارتی محاذ پر ناکامی کے بعد اپنی سبکی چھپاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں فوراً آوازیں اٹھنا شروع ہوجاتی ہیں کہ عمران خان بڑے سیاستدان ہیں اور امن کے حامی ہیں، اگر پاکستانی وزیراعظم عمران خان اتنے بڑے امن کے داعی ہیں تو جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بھارت کے حوالے کیوں نہیں کردیتے۔

اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑدیا، یہ وقت بھی گزر جائے گا، نوازشریف

لاہور: سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑدیا اور یہ وقت بھی گزر جائے گا۔

مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سے شریف خاندان نے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کی تاہم نوازشریف نے ایک بار پھر کسی بھی اسپتال جانے سے انکارکردیا۔ ملاقات میں نوازشریف کی والدہ شمیم بیگم، شہبازشریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔ اہل خانہ نے نوازشریف کے دن بدن کم ہوتے وزن پر تشویش کااظہار کیا۔

شہبازشریف نے بڑے بھائی کو کہا کہ آپ کی طبیعت خراب ہے علاج کروائیں، تاہم نوازشریف نے کہاکہ اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑدیا ہے۔ اپنے والد سے ملاقات پر بیٹی مریم نوازجذباتی ہوگئیں جس پر نوازشریف کاکہناتھاکہ حوصلہ رکھو اور مضبوط بنو یہ وقت بھی گزر جائے گا۔

طبیعت کی خرابی کے باعث نوازشریف نے دوسری جمعرات بھی پارٹی قائدین اور کارکنان سے ملاقات نہیں کی۔

بانجھ خواتین کیلئے کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تحقیق

کیلی فورنیا: ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بانجھ خواتین کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات خاصے زیادہ ہوتے ہیں۔

سائنسی جریدے ’ہیومن ریپروڈکشن‘ میں شائع ہونے والے مقالے کے مطابق، ماہرین 30 لاکھ خواتین کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بانجھ خواتین کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات، بچے پیدا کرنے والی خواتین کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے چار سالہ تحقیق کے دوران 30 لاکھ خواتین کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ ان میں وہ خواتین جن کے بچے تھے صرف 2 فیصد کینسر میں مبتلا ہوئیں جب کہ  بانجھ خواتین کی 17.8 فیصد تعداد کینسر میں مبتلا ہوگئی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کینسر کی وجہ بانجھ پن تھا یا بانجھ پن کےلیے استعمال کی جانے والی ادویہ اس موذی مرض کا باعث بنیں۔

تحقیقی مقالے کے سربراہ اور اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر گائتری موروگپن کا کہنا ہے کہ جس عمر میں بانجھ خواتین کو کینسر لاحق ہوا، اس عمر میں بالعموم کسی صحت مند خواتین کو کینسر کا مرض نہیں ہوتا۔ ابھی کینسر کی وجہ کا واضح ہونا باقی ہے، یہ بانجھ کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے اور بانجھ پن کی ٹریٹمنٹ بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ مطالعے کے اگلے مرحلے میں یہی جاننے کی کوشش کی جائے گی۔

Google Analytics Alternative