- الإعلانات -

رشوت، سفارش اور اقربا پروری

لوگ شاید کبھی بھی رشوت دینا نہیں چاہتے لیکن انہیں مجبور کر دیا جاتا ہے ۔ مجبور بھی نہیں بلکہ انہیں باقاعدہ گھیرا جاتا ہے ۔بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے سے لے کر بزرگوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے مراحل کو اتنا مشکل بنایا جاتا ہے جو عام پاکستانی جو ناخواندہ یا کم پڑھا لکھا ہوکیلئے کسی سہارے کے بغیر مکمل کرنا ناممکن ہوتا ہے ۔ایسے کنٹونمنٹ کے دفترکے باہر موجود ٹاؤٹ ہی اس کیلئے یہ خدمت سرانجام دیتا ہے ۔ہر سرکاری دفتر کے باہر ایسے ہی کچھ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں جو اس دفتر کے ماحول کی مشکلات کو حل کرنے کا فن جانتے ہوتے ہیں ۔ ان کے دفتر کے اندر بابو سے تعلقات ہی وہ گیدڑ سنگھی ہوتی ہے جو ہر مشکل سے مشکل کام آسانی سے کرا دیتی ہے ۔مجھے آج بھی یاد ہے جب میں سٹوڈنٹ یونین کا ایک کردار تھا اور میرے ایک سیاسی دوست نے اس وقت افغانوں کو سیاسی عمل میں داخل کرنے اور ان سے ووٹ کے حصول کیلئے انہیں قومی شناختی کارڈ کا حصول ممکن بنایا تھا ۔ پہلے انہیں مہنگے داموں اور بھاری کمیشن پر زمین خرید کر دی گئی ۔ اسکے بعد دیگر مراحل بھی اسی طرح سیاسی پشت پناہی پر طے ہوئے ۔چند سکوں اور چند ووٹوں کی خاطر یہ سودا کرنے والے آج بھی وطن عزیزکے اسی طرح محب وطن کہلاتے اور ان کے یہ مہرے آج پورے علاقے میں دندناتے پھر رہے ہیں ۔ان چند لوگوں نے ہزااروں کی پشت پناہی کی اور آج کاروباری طور پر الیکڑانکس ،کپڑا ،لنڈا ،ریڑھی رکشہ اور عام مزدوری پر اس طرح قابض ہیں کہ عام پاکستانی شہری اس سے محروم ہے ۔رہائشی علاقوں میں ہر چار گھروں کے بعد ایک پٹھان کا گھر ہے ہر چار دوکانوں میں ایک دوکان پٹھان کی ہے ۔ کافی عرصہ پہلے میں نے پاکستانی معاشرے پر افغان مہاجرین کے اثرات کے عنوان سے کالم تحریر کیا تھا ۔آج وہ اثرات ایک بھیانک حقیقت کی طرح میرے سامنے ہیں ۔ افغان لوگ آج معیشت اور معاشرت پر اس طرح قابض ہیں کہ شاید اصلی روایات بحریہ عرب میں غرق ہو چکی ہیں ۔ناجائز منافع خوری رشوت سفارش اور اقربا پروری کے عفریت اسی ہجرت کے اثرات سے منسلک ہیں ۔سوشیالوجی اور کرمنالوجی کے طالبعلم اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جن علاقوں میں ایسی ہجرتیں بغیر کسی ضابطہ اخلاق کے ہوں وہاں پر ایسے اثرات کا پایا جانا فطرت سے بعید ہر گز نہیں ۔ دنیا میں ایسے بے شمار خطے ہیں جہاں پر لوگ مائیگریشن کرتے ہیں لیکن وہاں پر ایسے اثرات کم ہیں ۔اس کی وجہ ان معاشروں کا اپنے قوانین اور رسم و رواج پر اچھی گرفت ہے ۔ امریکہ آسٹریلیا کینیڈا جیسے ملک تو آباد ہی مائیگریشن کی وجہ سے ہیں ۔ بیشک ان ممالک کی بے مثل ترقی کے پیچھے مائیگریٹرز کا ہاتھ ہے لیکن سرسری نگاہ سے ان معاشروں میں اخلاقیات باختگی کی ریشو دیکھی جا سکتی ہے ۔وہاں پر لوگ اس طرح ایک نظام میں جکڑے ہوئے ہیں کہ وہ اس کے گرفت سے باہر نہیں ہو سکتے ۔ اگر وہاں پر بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رویے ہماری طرح ڈھیلے ڈھالے ہوں تو پھر الاامان الحفیظ ۔وہاں پر کھیل سے لے کر ہر شعبہ زندگی میں میرٹ کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ وہاں پر استحقاق کا مطلب میرٹ ہے ۔ جو جس چیز کامستحق ہے وہ اس کا حق ہے اور حق کی ادائیگی کیلئے وہ ہر وقت مستعد رہتے ہیں ۔گالف کے کھیل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو وہاں پر اقربا پروری کے عنصر کو غالب پایا ۔گالف کافی مہنگا کھیل ہے ۔اس کیلئے صرف ٹیلنٹ کا ہونا کافی نہیں بلکہ سرمایہ ہونا بھی انتہائی ضروری ہے ۔ ٹورنامنٹ میں شرکت کیلئے اخراجات عام آدمی کے بس کی بات نہیں خواہ وہ کتنا ہی ٹیلنڈڈ ہی کیوں نہ ہو ۔اچھی اور ریکمنڈڈ کٹ لینا اور پھرا کیڈمی اور پریکٹس کے دوران بال اور پریکٹس باسکٹس کی فیس جم وغیرہ کو شامل کریں تو عام آدمی گالف صرف دیکھ ہی سکتا ہے ۔گالف میں بھی شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ٹیلنٹ ابھر کر سامنے نہیں آپایا کیونکہ مناسب سپانسر شپ نہ ہونے کے سبب ٹیلنٹ رکھنے والا کھیل جاری نہیں رکھ پاتا یا ٹورنامنٹس میں شرکت ہی نہیں کر پاتا ۔قومی ادارے اور مختلف محکمے کھلاڑیوں کو کھیلوں کی بنیاد پر نوکری دیتے ہیں ۔ کسٹمرز اور پی آئی اے بینک وغیر ہ زیادہ توجہ کرکٹ پر دیتے ہیں شاید اسی محرومی کے سبب ہاکی کا کھیل مفلوج ہوتا جا رہا ہے ۔ سنوکر اور گالف میں پاکستان آگے نہیں آپایا ۔پولو اور کشتی رانی جیسے کھیلوں میں پاکستان باوجود ٹیلنٹ ہونے کے عالمی سطح پر کوئی اعزاز نہیں لے پاتا ۔مناسب سپانسر شپ نہ ہونے کے سبب ہمارے بچے اکثر ٹیلنٹ ہونے کے باوجود بھی کچھ نہیں کر پاتے ۔ ہم مارشل آرٹس کی ترویج کا تو تب سوچیں جب ہم اپنوں بچوں کو تعلیم دینے کے بارے میں سنجیدہ ہوں۔ سرکاری سکولوں میں اساتذہ اور فرنیچر کی کمی یا اساتذہ کا بچوں کو توجہ سے نہ پڑھانے کا سبب بھی میریٹ سے اغراض اور تعلیم کی ترویج سے لا تعلقی ہے ۔ہم ہر معاملے میں شارٹ کٹس کے قائل ہیں ۔ یہ شارٹ کٹ میرے مطابق مہاجرین کی آمد کے ثمرات میں سے ایک ہے ۔انہوں نے اپنے کام نکالنے اور معاشرے میں جگہ بنانے کیلئے شارٹ کٹس استعما ل کیے جبکہ ہم نے مستقل انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے ۔ کھیل ہو یا سیاست کامیدان ہم ہر جبکہ کوشش کرتے ہیں کہ رشوت سفارش اور اقربا پروری کے ذریعے جگہ بنائیں ۔ میرٹ والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور سفارشی اور پرچی مافیا والے میدان مار لیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم مرد میدان بننے سے محروم ہیں ۔