Home » 2019 » April » 02

Daily Archives: April 2, 2019

ملکی دفاع کیلیے ہرصلاحیت کا مرضی کے مطابق استعمال کا حق رکھتے ہیں، آئی ایس پی آر

 راولپنڈی: ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے اپنی ہر صلاحیت کا مرضی کے مطابق استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاک فوج کی جانب سے ایف 16 طیارے کے استعمال پر ترجمان پاک فوج  نے کہا کہ 27 فروری کا واقعہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ  جب 2 بھارتی طیاروں نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی تو انہیں پاک فضائیہ نے نشانہ بنایا، ان دو بھارتی طیاروں کو ایف سولہ

نے نشانہ بنایا یا جے ایف 17 نے، یہ سوال بے معنی ہے، پاک فضائیہ نے دونوں طیاروں کو اپنے دفاع میں مار گرایا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جب بھارتی طیارے پاکستانی حدود میں آئے تو فضائیہ کے  جہاز بشمول ایف 16 فضا میں موجود تھے، بھارت اپنی خواہش کے مطابق  ایف 16 یا کوئی بھی جہاز چُن لے اس سے نتیجے پر فرق نہیں پڑتا، اگر ایف 16 استعمال ہوا تب بھی دو بھارتی  طیارے ہی نشانہ بنے، پاکستان اپنے دفاع کے لیے اپنی ہر صلاحیت کا مرضی کے مطابق استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔

فضل الرحمان ہماری شاگردی میں آجائیں تو ملک کے لیے بہتر ہوگا، بلاول

لاڑکانہ: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین ملک کے ڈپٹی وزیر اعظم بنے ہوئے ہیں۔

نوڈیرو ہاؤس لاڑکانہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ کے مسائل کا حل کسی ایک فرد کے پاس نہیں بلکہ سب کو مل کر صوبے کے مسائل کے حل کے لیے کام کرنا چاہیے، کم وسائل کو صحیح استعمال کرکے زیادہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان خود کو نوجوانوں کا لیڈر کہتے ہیں لیکن ملک میں ڈپٹی وزیراعظم شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین بنے ہوئے ہیں، عمران خان کو نوجوانوں کو آگے لانا چاہیے، عوام دشمن حکومت مزید نہیں

چل پائے گی، میں نوجوان ہوں اور نوجوان سیاست کا دور ہے، مولانا فضل الرحمان اپوزیشن کے اچھے رہنما ہیں انہیں ہماری شاگردی میں آجانا چاہیے، اگر وہ ہماری تربیت میں آجائیں تو ملک کے لیے بہتر ہوگا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ غریبوں کی کس طرح مدد کریں، موجودہ حکومت ہمارے ہی جاری کردہ پروگرام کا نام تبدیل کرکے کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے، یہ پروگرام  2010ء میں قائم علی شاہ نے شروع کیا تھا، اب ہم سندھ کی خواتین کو سیاسی طور پر بھی مستحکم کریں گے، آئندہ حلقوں میں خواتین کی اجازت سے ہی امیدوار کو تیر کا نشان الاٹ کیا جائےگا۔

این آراو کی ضرورت خود عمران خان کو پڑے گی، شاہد خاقان عباسی

لاہور: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ این آر او صرف ڈکٹیٹراوراس کے چمچے ہی دے سکتے ہیں جب کہ عمران خان این آراو دینے کی حیثیت نہیں رکھتے اور این آراو کی ضرورت خود عمران خان کو پڑے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہ خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے جہاں پٹرول گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافے پر موقف دے اور نیشنل ایکشن پلان پر بھی بریفنگ دے جب کہ فوجی عدالت عام قانون نہیں حکومت پارلیمنٹ میں آکر بتائے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ سے فون پر بات ہوئی ہے، خورشید شاہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے تقرر کے معاملے  پر جائزہ لیں گے، الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری اور وزیر اعظم کے رویے کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ این آر او صرف ڈکٹیٹراوراس کے چمچے ہی دے سکتے ہیں، عمران خان این آراو دینے کی حیثیت نہیں رکھتے اور این آراو کی ضرورت خود عمران خان کو پڑے گی۔

دوسری جانب لیگی رہنما رانا تنویر کا کہنا تھا کہ مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے جس سے عام آدمی متاثر ہوا ہے اور فوجی عدالتوں پر بات ہوئی تاہم حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر اس پر لائحہ عمل دیں گے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ

adaria

حکومت کا دعویٰ ہے کہ معیشت بہتر ہورہی ہے اس حوالے سے مختلف بیانات بھی سامنے آتے رہتے ہیں کہ اتنے ارب روپے خزانے میں پہنچ جائیں گے، سعودی عرب سے معاہدہ ہوچکا ہے، یو اے ای سے معاہدہ ہوگیاہے مگر نامعلوم یہ کیسے معاہدات ہیں ،مہنگائی سرچڑھ کربول رہی ہے، کبھی وزیرخزانہ کہتے کہ مہنگائی سے عوا م کی چیخیں نکل جائیں گی پھروزیراعظم کے مشیرعبدالرزاق داؤد فرماتے ہیں کہ کچھ عرصہ مہنگائی برداشت کرناپڑے گی، ہمارا حکومت سے سوال یہ ہے کہ جب معیشت مضبوط ہورہی ہے ،خزانے میں پیسے آرہے ہیں، نیب برآمدگیاں کررہا ہے، ٹیکس نیٹ بہتر کیاجارہاہے ، بیرونی سرمایہ کار پاکستان کی جانب متوجہ ہیں ،ملائیشیا کار کاپلانٹ پاکستان میں لگارہاہے ،گوادر اور سی پیک ملک کی قسمت بدل دیں گے ،لوکل سرمایہ کاروں کو بھی حکومت سہولت فراہم کرنے کے دعوے کررہی ہے ۔ان تمام تردعوؤں اور سہولیات کے باوجود مہنگائی بعیداز قیاس ہے ، پٹرول اور ڈیزل کیوں مہنگا کردیاگیاہے جب پٹرولیم مصنوعات مہنگائی ہوتی ہیں تو ہرچیز کی قیمت آسمان تک جاپہنچتی ہے ،اشیائے خوردونوش ہوں یالگژری لائف کی چیزیں تمام ترگاڑیوں پرلوڈ ہوکرآتی ہیں جب پٹرول مہنگا ہوگا تو ان کے کرایوں میں اضافہ ہوگا،کرایوں میں اضافہ ہوگاتو چیزوں کی قیمتیں بڑھیں گی ،مہنگائی منہ پھاڑتی جارہی ہے اورایک اژدھے کی مانند غریب عوام کو نگل رہی ہے ،فی زمانہ جو لوگ ایک فکس تنخواہ پر گزارا کررہے ہیں اُن کا کوئی پرسان حال نہیں، کا روباری شخص کوکوئی چیزمہنگی ملے گی تو وہ آگے اس چیز پرمزید قیمت بڑھاکرفروخت کرے گامگرایک ملازم جو اس ملک میں چندہزارتنخواہ لیتاہے وہ زائدپیسے اداکرکے کیونکرگھرکابجٹ چلاسکے گا، بچوں کوتعلیم کہاں سے دلوائے گا،گھرکاکرایہ کہاں سے ادا کرے گا،دودھ ،پانی ،بجلی گیس کے بل تو دورکی بات ہے گیس مہنگی کرنے کی بھی نویدسنادی گئی ہے اورشایدآنے والے وقتوں میں بجلی بھی مزید مہنگی ہوجائے گی ۔ابھی گزشتہ دنوں ایک پولیس اہلکارکوگرفتارکیاگیا اس سے جب پوچھاگیا کہ تم چوری کیوں کرتے ہوتو اس نے بتایا کہ گیس اور بجلی کے بل ادا کرنے کے لئے یہ اقدام اٹھاتارہاہوں یہ خبربہت سارے موقرروزناموں کی زینب بھی بنی۔جب حالات اس قدرکسمپرسی کے ہوجائیں کوئی راستہ نہ ملے ،انکم کے ذرائع انتہائی محدود ہوں تو پھرحکمرانوں سے یہ سوال ہے کہ والدین بچوں کے خشک منہ کیسے دیکھ سکتے ہیں شاید وہ خود توبھوکارہناپسندکرلیں مگربچوں کی خاطر وہ ہرذریعہ استعمال کرتے ہیں ویسے بھی وزیراعظم پاکستان نے عنان اقتدارسنبھالتے ہی یہ اعلان کیاتھا کہ پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بناچاہتے ہیں اس ریاست کے خدوخال ہرمسلمان بہت بہترانداز سے جانتاہے ۔حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتابھی پیاسارہ جائے توروزحساب کے دن مجھ سے اللہ تعالیٰ اس کے حوالے سے سوال کریگا،فی زمانہ پاکستان کے حالات کیاجارہے ہیں اگرہم غلط نہیں تو حکومت سروے کراکے دیکھ لے، ہردسواں گھربھوک وافلاس کاشکار ہے ،کھاناتودرکناریہا ں پرپینے کاصاف پانی تک میسرنہیں نامعلوم کتنے لوگ بھوکے سوجاتے ہیں،کتنے والدین بچوں کو طفل تسلیاں دے کرسلادیتے ہیں کہ ان کے والد کھانالے کرآرہے ہیں۔اب جو حکومت نے عوام پرمہنگائی کی چھری رکھی ہے پھرآئے دن اس کے وزراء اس حوالے سے نویدبھی سناتے رہتے ہیں غریب عوام کدھرجائے اب تو ایک غریب کی سواری جوکہ موٹرسائیکل تھی اس کو چلانابھی محال ہوچکا ہے تقریباً سوروپے لٹرہی پٹرول ہوگیاہے ،بارہ پیسے توکوئی واپس ہی نہیں کرتایہ روزانہ کے کروڑوں اربے روپے بنتے ہیں کیاحکومت نے ان کاکوئی حساب لیاہے باقی رہ گیاایک روپے کامسئلہ وہ تو پٹرول پمپ والوں کوجیسے جہیز میں مل گیاپھرسونے پہ سہاگہ یہ کہ پھرپٹرول پمپوں پرناپ تول کانظام بھی ’’ماشاء اللہ ‘‘ ڈسپنسرزکو بھی فکس کیاہواہے کوئی پیمانہ نہیں، شروع کے دس سے بارہ پوائنٹ کاتو پتہ ہی نہیں چلتا ایک دم ہوا کی طرح ڈسپنسرکے میٹر سے غائب ہوکراگلے پوائنٹ چلناشروع ہوجاتے ہیں۔کوئی چیکنگ نہیں،ملاوٹ بھی کھلے عام ہے ہرطرح سے غریب کاجوس نکالاجارہاہے آخرکب تک عوام قربانی دیتی رہے گی۔کیا ارباب اختیار کو اپنے اللے تللے بند کرنے کی ضرورت نہیں، جب حکومت اپنے خرچے کم کرے گی تب ہی نیچے تک ثمرات پہنچیں گے مدینہ جیسی ریاست ضروربنائیں مگر اس پرعمل کرنے کی ضرورت ہے ،ہمارے دوجہان کے رحمت الالعالمینﷺ کابسترخاک اورسرہانہ اینٹ ہوتی تھی ،کیااب کے حکمران ایسا کرسکتے ہیں کبھی بھی یہ نہیں ہوسکتامگر عوام کواتنا بھی مہنگائی میں نہ پیسیں کہ وہ آخرکار بول اٹھیں پٹرولیم مصنوعات جس میں ڈیزل اور پٹرول چھ ،چھ روپے مہنگاکردیاگیاہے جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 3,3رویے فی لیٹر اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کیاگیا ۔پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ عوام کی معاشی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ان پر مہنگائی بم گرارہی ہے، بدامنی اور مہنگائی کی وجہ سے عوام کا جینا محال ہوچکا ہے حکومت اقتدار سے پہلے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے ۔ غریب عوام اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی کیلئے دھکے کھارہے ہیں اور حکومت مہنگائی سے ان کو مزید استحصالی کی طرف دھکیل رہی ہے ۔ قیمتوں میں اضافے کے بعدمہنگائی کاطوفان آتاہے جس سے عوام اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں،عام آدمی کیلئے ضروریات زندگی پورا کرنا ایک خواب بن چکا ہے۔حکومت کے مہنگائی پر قابو پانے کے تمام دعوے ہوا میں اڑتے جارہے ہیں۔بدترین مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ بلاجوازہے۔

آرمی چیف جی ایچ کیومیں ارکان پارلیمنٹ کوبریفنگ دینگے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی دفاع کا چوتھا اجلاس 4 اپریل کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہو گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کمیٹی ارکان کو کنٹرول لائن، ورکنگ باؤنڈری اور انٹرنیشنل بارڈرز کی صورت حال پر بریفنگ دیں گے ۔ 20رکنی کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں جبکہ وزیر دفاع پرویز خان خٹک کمیٹی کے ایکس آفیشیو رکن ہیں۔ کمیٹی کے سربراہ پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان ہیں۔ کمیٹی ارکان میں میجر (ر)طاہر صادق، چوہدری فرخ الطاف، سید فیض الحسن، اعجاز احمد شاہ، اورنگزیب خان کھچی، جمیل احمد خان، ڈاکٹر رامیش کمار وانکوانی، سید امین الحق، غوث بخش خان مہر، مس روبینہ عرفان، چوہدری محمد برجیس طاہر، چوہدری ریاض الحق جج، محمد خان ڈاہا، عالم داد لالیکا، میاں ریاض حسین پیرزادہ، خورشید احمد جونیجو، آفتاب شعبان میرانی، عامر علی خان مگسی اور صلاح الدین ایوبی شامل ہیں۔ کمیٹی سیکرٹری ولایت خان کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ۔ سیکرٹری وزارت دفاع سے درخواست کی گئی کہ وہ تمام متعلقہ حکام کے ساتھ اجلاس میں شرکت کریں اور اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے تمام انتظامات کریں۔ آرمی چیف قائمہ کمیٹی کو ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری کی صورتحال پر بریف کریں گے، بھارتی جارحیت اور اشتعال انگیزیوں پر پاک فوج کے جوابی اقدام کا بھی بتایا جائے گا۔ کمیٹی کو مسلح افواج کے مختلف امور پر بھی بریفنگ اعتماد میں لیا جائے گا۔ یہ ایک ماہ کے عرصے میں آرمی چیف کی پارلیمنٹیرینز کو دوسری بریفنگ ہو گی، اس سے قبل اراکین پارلیمنٹ کو 27فروری کو پارلیمنٹ میں منعقدہ ان کیمرہ سیشن میں بریفنگ دی گئی تھی جہاں اسی دن پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیارے مار گرائے تھے البتہ وزیر اعظم عمران خان نے اس بریفنگ میں شرکت نہیں کی تھی۔

عام انتخابات میں 75 فیصد عوام مودی کے خلاف ووٹ دیں گے، بھارتی ویب سائٹ

اسلام آباد: یکم اپریل کو ’ اپریل فول‘ منانے کی روایت پرانی ہے لیکن اس بار سماجی رابطے کی ویب سائٹس یہ دن بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی بے پرکی بھڑکوں، بلند بانگ دعوؤں اور کبھی نہ پورے ہونے والے وعدووں کے نام رہا جب کہ ایک بھارتی ویٹ سائٹ کا کہنا ہے کہ اس بار عام انتخا بات میں 75 فیصد عوام مودی کے خلاف ووٹ دیں گے۔

بھارت میں عام انتخابات کا آغاز رواں ماہ کی 11 تاریخ سے ہو رہا ہے، انتخابات سے قبل انتخابی مہم عروج پر ہے، بھارتی ویب سائٹ ریڈیف کے سروے کے مطابق 75 فیصد عوام حکمراں جماعت بی جے پی کے خلاف ووٹ ڈالیں گے اس لیے مودی سرکار کے لیے یہ الیکشن جیتنا آسان نہ ہوگا۔ ووٹنگ سے محض 2 روز قبل کانگرس کے صدر راہول گاندھی اور وزیر اعظم مودی کے درمیان دو بدو مباحثہ ہوگا۔

ادھر اپوزیشن جماعتیں اور بھارتی عوام

نے سوشل میڈیا پر مودی سرکار کے لیے اپریل فول کے موقع پر مضحکہ خیز ٹوئٹس کرکے صارفین کو زعفران زار کردیا۔ جہاں بھارتی شہری مودی جی کے وعدوں کا ذکر کر کے ایک دوسرے کو بیوقوف بننے پر مبارکباد دیتے رہے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ مودی جی تو کہتے تھے کہ کرپشن ختم ہو جائے گی، بے روزگاروں کے لیے 2 کروڑ نئی نوکریاں ہوں گی اگر آپ سب نے مودی جی کی باتوں پر یقین کر لیا تو اپریل فول بننے پر مبارک ہو۔

دوسری جانب جہاں کانگریس پارٹی باقاعدہ طور پر سوشل میڈیا کو ہتھیار بنا کر مودی حکومت کے خلاف مہم چلا رہی ہے وہیں جلسے جلوس میں بھی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا مقابلہ جاری ہے اور اب تو سب کو وزیراعظم مودی اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے درمیان 9 اپریل کو ہونے والے دو بدو مباحثے کا شدت سے انتظار ہے۔

پاکستان کے خلاف بھارت کا داعش سے رابطہ

یورپی یونین مینڈیٹ سٹڈی کنفلیکٹ آریامینٹ ریسرچ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ بھارت داعش کو بم بنانے کے اجزاء فراہم کرنیوالا بیسواں ملک ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت سے لبنان اور ترکی میں داعش کو حکومتی جاری کردہ لائسنسوں کے تحت بم اجزاء قانونی طور پر برآمد کئے گئے۔ 20 ممالک کی کمپنیاں داعش کو بموں کے اجزاء فراہم کرنے میں ملوث پائی گئی۔ 51 ممالک کی کمپنیوں جن میں ترکی‘ برازیل اور اقوام متحدہ شامل ہیں نے داعش نے 700 بموں کے اجزاء فروخت کئے جس سے تنظیم نے دھماکہ خیز مواد بنایا۔ بیس ماہ پر مبنی اس سروے رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی سات کمپنیاں اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہیں جبکہ بھارت کا اس حوالے سے 20 واں نمبر ہے۔ بھارت افغانستان میں دہشت گرد گروپوں سے تعلق قائم کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ نہ صرف افغانستان میں عدم استحکام پیدا کیا جائے بلکہ پاکستان کو بھی نقصان پہنچانے کی سازش کی جائے۔اخبار ’’دی نیوز ‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نہ صرف پاکستانی طالبان کی پشت پناہی میں مصروف رہا ہے بلکہ افغانستان میں د اعش اور القاعدہ سے بھی اپنے تعلقات مضبوط کرنے کیلئے نئے اقدامات کررہا ہے۔ اخبار کے مطابق 2014ء میں بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول نے شام اور عراق کا دورہ کیا جس کا مقصد یہ بتایاگیا کہ وہ ان ممالک میں جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے بھارتی شہریوں کے انخلاء پر بات چیت کرنے گئے تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اس دورے کی آڑ میں دہشت گرد تنظیموں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ اسی دوران قندھار میں بھارتی قونصلیٹ کو تحریک طالبان پاکستان اور داعش کے عناصر کے درمیان تعلقات کے قیام اور فروغ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے ساتھ تعلقات پر توجہ کا بنیادی مقصد پاکستان میں دہشت گردی کی نئی مہم کا آغاز کرنا ہے۔ بھارتی کوششوں کا مقصد پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔ اس سے پہلے داعش کی طرف سے ایک بیان میں یہ تاثر دیا جاچکا ہے کہ یہ تنظیم آنے والے وقت میں جوہری ہتھیار حاصل کرسکتی ہے، اور بھارت اسی قسم کی لایعنی باتوں کا تعلق پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام سے جوڑنے کے لئے مذموم کوششوں میں مصروف ہے۔ طالبان کے حوالے سے پاکستان پر الزام تراشی کرنیوالے افغان وزراء افغانستان میں داعش کی موجودگی کے مسئلہ پر بالکل خاموش ہیں۔ جس سے متعلق مغربی اخبارات تحقیقی رپورٹس شائع کر چکے ہیں کہ ’’داعش افغانستان میں تیزی کے ساتھ اپنے رابطے آگے بڑھا رہی ہے۔ بہت سے افغان ’’وار لارڈز‘‘ داعش سے اپنے معاملات طے کرچکے ہیں جس میں بھارتی پس پشت رہتے ہوئے سہولت کار کاکردارادا کر رہا ہے اور قندوز میں پیدا شدہ صورتحال نے تو واضح کردیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال عراق سے مختلف نہیں۔ جہاں امریکہ نے عراقی فوج کی تیاری پر کثیر سرمایہ خرچ کیا لیکن امریکہ کی رخصتی کے بعد وہ فوج بجائے داعش جیسے فتنے کا مقابلہ کرنے کے خود عدم تحفظ شکار ہوگئی۔برطانوی اخبار ” ڈیلی سٹار” کے مطابق ایک طرف امریکہ داعش کے خاتمے کے لیے فرضی و نام نہاد جدوجہد کر رہا ہے اور دوسری طرف داعش کو امریکی اسلحے و گاڑیوں کی فراہمی کے انکشافات بھی تسلسل کے ساتھ سامنے آرہے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کے لیے داعش بھی ” فرینڈلی ” دہشت تنظیم کا کردار ادا کر رہی ہے۔پہلے تو امریکی ساختہ چھوٹے اسلحے کی داعش کے پاس موجودگی کے انکشافات ہوتے رہے ہیں مگر اب داعش نے انتہائی خطرناک امریکی ٹینک شکن میزائل بھی حاصل کر لیے ہیں۔ داعش سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے تصاویر شیئر کی گئی ہیں جن میں شدت پسند امریکی ساختہ میزائل چلاتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ ان اکاؤنٹس سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ داعش کے پاس اینٹی ٹینک میزائل موجود ہیں۔ یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ امریکہ کے ساختہ ہتھیار داعش کے پاس کس طرح پہنچ رہے ہیں لیکن سابق میڈیا رپورٹس میں اشارے مل چکے ہیں کہ امریکہ شام کے جن باغی گروپوں کوبشارالاسد کے خلاف لڑنے کے لیے تربیت کے ساتھ ساتھ اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے وہ امریکہ کی طرف سے ملنے والا اسلحہ آگے داعش کو فروخت کر رہے ہیں۔ افغان قیادت کو سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک بھارت کی پاکستان دشمنی میں بھارت کے خفیہ اداوں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہیں گے۔بھارتی آلہ کار کا کردار ادا کرتے رہیں گے اور بھارت کی افغانستان کو داعش کا گڑھ بنانے کیلئے کی جانے والی کوششوں کو مغربی میڈیا سے چھپاتے رہیں گے۔

*****

شاہ محمود قریشی اور جہانگیر خان ترین ایک بار پھر آمنے سامنے

لاہور  : پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے درمیان ایک بار پھر لفظی گولا باری شروع ہوگئی ہے۔

وزیر خارجہ اور رہنما تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کی پارٹی کے لیے بے پناہ خدمات ہیں تاہم وہ سرکاری اجلاسوں میں بیٹھ کر اپوزیشن کو باتیں کرنے کا موقع دے رہے ہیں، جب جہانگیر ترین سرکاری میٹنگ میں بیٹھتے ہیں تو مریم نواز کو بولنے کا موقع ملتا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جب جہانگیر ترین سرکاری میٹنگز میں بیٹھتے ہیں تو وہ چیف جسٹس کے فیصلے کی تضحیک کرتے ہیں کیونکہ وہ اس فیصلے کے بینچ میں شریک تھے لہذا میری گزارش ہے کہ جہانگیر ترین ایسا نہ کریں کہ جس سے انگلیاں اٹھیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے اعتراض پر جہانگیر ترین نے جواب میں کہا کہ میں جہاں بھی جاتا ہوں وزیراعظم عمران خان کی مرضی اور خواہش پر جاتا ہوں، سیاسی معاملات کے حوالے سے میں صرف

اور صرف وزیر اعظم کو جواب دہ ہوں، پاکستان کی خدمت میرا حق ہے اور اس حق کو شاہ محمود سمیت کوئی بھی مجھ سے چھین نہیں سکتا۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر جہانگیر خان ترین نے ٹوئٹ میں کہا کہ میری زندگی میں صرف ایک ہی شخص ہے جسکو میں جواب دہ ہوں، اس شخص کا نام عمران خان ہے، میں عمران خان کے برے اور اچھے وقت میں ساتھ کھڑا رہا اور آخری سانس تک عمران خان کے ساتھ رہوں گا، کوئی اپنے ذاتی مقصد کی وجہ سے کچھ بھی بولے مجھے فرق نہیں پڑتا۔

سنگین غداری کیس؛ پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیدیا۔

سپریم کورٹ میں پرویز مشرف سنگین غداری کیس کی سماعت ہوئی جس میں خصوصی عدالت کا 28 مارچ کا حکم نامہ پیش کیا گیا، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف نے پیش ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس پر وکیل سابق صدر نے کہا کہ پرویز مشرف خود واپس آ کر بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف یقین دہانی کے باوجود واپس نہ آئے تو کیا ہوگا، کمٹمنٹ کرکے واپس نہ آنے پر کچھ تو ہونا ہی چاہیے۔

وکیل سابق صدر سلمان صفدر نے کہا کہ ذاتی ضمانت نہیں دے سکتا کہ پرویز مشرف واپس آئیں گے تاہم بطور وکیل مجھے ہدایات ہیں کہ وہ خود پیش ہوں گے، پرویز مشرف نے علاج کی غرض سے 13 مئی کو واپس آنے کی تاریخ دی، سپریم کورٹ میں مقدمہ غیر موثر ہو چکا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملزم کی عدم موجودگی میں ٹرائل غیر آئینی ہوتا ہے، ملزم جان بوجھ کر پیش نہ ہو تو

اس کو فائدہ نہیں اٹھانے دے سکتے، سنگین غداری کوئی معمولی جرم نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ پرویز مشرف کی واپسی تک ٹرائل آگے نہ بڑھانے کا حکم دے چکی ہے، پراسیکوشن نے بھی ٹرائل کورٹ کے 19 جولائی 2016 کے حکم کو چیلنج نہیں کیا جب کہ سابق حکومت نے مشرف کو باہر جانے سے روکنے کے لیے کارروائی نہیں کی۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے سنگین غداری کیس میں ٹرائل آگے بڑھانے سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد سنایا گیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سابق صدر دوران ٹرائل مفرور ہوئے، ان کے دفاع کا حق ختم ہو چکا ہے جب کہ پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ کی بنا پر کیس کی کارروائی نہیں رکے گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پرویز مشرف 2 مئی کو پیش نہیں ہوتے تو خصوصی عدالت استغاثہ کو سن کر فیصلہ کرے، ان کے پیش نہ ہونے پر دفاع کا حق ختم ہوجائے گا، پرویز مشرف کو سیکشن 342 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کی سہولت بھی نہیں ہوگی۔

Google Analytics Alternative