Home » 2019 » April » 10

Daily Archives: April 10, 2019

پاکستان اور چین کا سی پیک کیخلاف جاری مہم کا مل کر مقابلہ کرنے پراتفاق

اسلام آباد/ بیجنگ: پاکستان اور چین نے سی پیک کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا مل کر مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاک چین بین الاقوامی تعاون پر مشترکہ ورکنگ گروپ کا افتتاحی اجلاس بیجنگ میں ہوا جس میں پاکستان کی نمائندگی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کی جب کہ چین کی جانب سے  نائب وزیر خارجہ کانگ زوان یو نے نمائندگی کی۔

اجلاس میں فریقین نے مختلف منصوبوں سے متعلق تجاویز کا تبادلہ کیا اور  سی پیک کے مختلف منصوبوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاکستان اور چین نے سی پیک پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے  راہداری منصوبے کےخلاف چلائی جانے والی مہم کا مل کر مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا ۔

ابتدائی اجلاس کے بعد بین الاقوامی تعاون پر مشترکہ ورکنگ گروپ کا آئندہ اجلاس اسلام آباد میں کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

پاناما لیکس میں ملوث جسٹس فرخ عرفان مستعفی

لاہور: ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، انہوں نے اپنا استعفیٰ صدرمملکت عارف کو بھجوایا جنہوں نے اس کی منظوری دے دی۔ جسٹس فرخ عرفان نے اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی آگاہ کردیا ہے، جس کے بعد سپریم جوڈیشل کمیشن نے جسٹس فرخ عرفان کے خلاف کارروائی بھی ختم کردی ہے۔

جسٹس فرخ عرفان کا نام پاناما لیکس میں شامل تھا، اور ان کی آف شور کمپنیوں کا بھی انکشاف ہوا تھا۔ جسٹس فرخ عرفان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل نے کارروائی شروع کررکھی تھی، آج اس کیس میں گواہیاں مکمل ہونی تھیں اور جسٹس فرخ عرفان کا بیان بھی ریکارڈ ہونا تھا، تاہم جسٹس فرخ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کے خلاف کارروائی ختم کردی ہے۔

جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان کا کہنا ہے کہ جسٹس فرخ نے اپنا استعفیٰ صدرمملکت کو بھجوا دیا ہے، اور صدر نے استعفے کی منظوری بھی دے دی ہے،  اور اب وہ اپنے عہدے پر نہیں رہے

معیشت کی بہتری کے لئے ایمنسٹی سکیم کااعلان

adaria

ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لئے آخرکار حکومت کو ماضی کی تاریخ دہراناہی پڑ گئی، وزیرخزانہ اسدعمرنے وزیراعظم سے خصوصی ملاقات کی،اس ملاقات میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے بریفنگ دی جس کے بعد وزیراعظم نے ایمنسٹی سکیم کی باقاعدہ منظوری دیدی ہے اور اس سکیم کاپندرہ اپریل سے باقاعدہ آغاز ہوجائے گا،ساتھ ہی وزیرخزانہ اسدعمرنے کہہ دیاہے کہ ہرشخص اس سکیم سے فائدہ اٹھائے اگر مقررہ وقت تک کوئی رہ گیاتو بعد میں شکوہ نہ کرے،یہ بات درست ہے کہ حکومت اگر موقع دیتی ہے تو اس سے فائدہ اٹھاناچاہیے ،ہم تو حکومت کو یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ وہ 12مہینے کے لئے ایمنسٹی سکیم کوقائم ودائم رکھے اس سے ملکی خزانے کو بہترین فائدہ ہوسکتاہے اور کوئی بھی کالے دھن والااپنے دھن کو سفیدکرکے قومی دھارے میں شامل ہوسکتاہے۔اس اقدام سے جہاں معیشت مضبوط ہوگی وہاں پر سرمایہ کاری کے بھی مواقع پیدا ہوں گے۔وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ملکی معیشت کی بحرانی کیفیت ختم ہوگئی ہے اور اب ہم استحکام کے مرحلے میں ہیں جو ڈیرھ سال تک رہے گا۔ پاکستان کی معیشت کو تین بڑے چیلنجز درپیش ہیں، بجٹ خسارہ، تجارتی خسارہ اور سرمایہ کاری کم ہونا، پاکستان اتنی برآمدات نہیں کرتا جتنی ضرورت ہے۔ 70 سال میں کئی ملک ہم سے آگے نکل گئے جن میں بنگلہ دیش بھی شامل ہے، آج افریقہ کے آدھے ممالک کی معیشت کی ترقی کی رفتار ہم سے بہتر ہے۔ اس وقت ہم صرف پرانے قرضے واپس کرنے کیلئے نہیں لے رہے بلکہ اس پر سود ادا کرنے کیلئے بھی لے رہے ہیں، سود کی ادائیگی کیلئے 800 ارب سے زیادہ قرض لیا گیا، یہ ہم خطرناک حد سے بھی آگے چلے گئے۔2003میں ہماری برآمدات معیشت کے حجم کے ساڑھے 13 فیصد تھیں جو پچھلے سال 8 فیصد ہوگئی یعنی ہم ترقی کے بجائے تنزلی پر چلے گئے، ہمیں پچھلے سال 1900 ارب روپے کا خسارہ ہوا، یہی وجہ ہے کہ ہم دوست ممالک اور آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں اور ہر ایک سے مدد مانگتے ہیں۔ اگر صرف بلوچستان کے وسائل کا ٹھیک سے استعمال کرتے تو آئی ایم ایف کے سامنے نہ کھڑے ہوتے۔ایف بی آر ٹھیک نہیں ہوگا تو پاکستان ٹھیک نہیں ہوگا، پاکستان میں سیونگز ریٹ دنیا کے کم ترین ممالک میں سے ہے، گزشتہ سال پاکستان کا سیونگ ریٹ 10 فیصد تھا، اگر پیسہ بچائیں گے اور سرمایہ کاری کریں گے تو آگے بڑھیں گے۔لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں، اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم لانے کا فیصلہ ہوگیا ہے لیکن یہ سکیم اس وقت کامیاب ہوگی جب لوگوں کو یہ پتہ ہوگا کہ سکیم جب ختم ہوگی تو اس کے بعد ان کے پاس چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی لہٰذا سکیم سے فائدہ اٹھائیں اس کے بعد گلہ نہ کریں۔ اب بے نامی اکاؤنٹس کے حوالے سے قانون کا نوٹیفکیشن کردیا گیا ہے۔ مصنوعی طور پر روپے کو طاقتور رکھ کر معیشت کا بہت نقصان کیاگیا، روپے کی قدر بڑھاکر رکھنا مزدور، کسان اور سرمایہ کار پر ٹیکس ہے، ہم نے یہ نظام ختم کرنا ہے، ہمیں ایکسچینج ریٹ سٹیبلٹی چاہیے۔ صرف الیکشن کیلئے معیشت کے فیصلے کریں گے تو معاملات آگے نہیں بڑھیں گے۔ عوام بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔حکومتی اقدامات کے بعدعوام کامستقبل یقینی طورپرمحفوظ ہوجائے گا اب بات یہ ہے کہ اس سے کتنے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اورکتنے محروم رہ جاتے ہیں۔

دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی قربانیاں،پھرامریکی اعتراف
وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل کینتھ ایف میکنزی نے ملاقات کی جس میں افغان مسئلہ کے حل کیلئے جاری مذاکراتی عمل اور دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔ امریکی کمانڈر نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے امریکی وفد کو افغان ایشو کے سیاسی حل اورافعانستان میں استحکام کے بارے میں اپنے دیرینہ عزم کے بارے میں بتایا، انہوں نے کہا کہ طالبان سمیت تمام سٹیک ہولدرز کے ساتھ براہ راست انگیجمنٹ سے بات چیت کے ذریعے افعانستان میں جاری تنازعہ کا حل نکلنے کے بہت زیادہ امکانات ہیں، افعان سٹیک ہولڈرز کو آپس میں بیٹھ جانا چاہئے جس میں غیر ملکی فوج کے انخلا کے بعد مستقبل کی سیاست کے خدوخال پر بات کرنی چاہئے، انہوں نے افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے امریکی جنرل کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے عزم سے آگاہ کیا۔ خطرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان فوجی تعاون کا تسلسل ضروری ہے تاکہ بڑھتے ہوئے خطرات خصوصاً داعش سے نمٹا جا سکے ۔ جنرل میکنزی نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ جنرل میکنزی نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوں کو بھی سراہا اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کے خلاف حالیہ کاروائیوں پر بھی پاکستان کے کردار کی تعریف کی ۔ کمانڈر امریکی سنٹرل کمانڈ جنرل کینیتھ ایف میکنزی جونیئر ایئر ہیڈ کوارٹرز اور بحریہ کے ہیڈ کوارٹر کا بھی دورہ کیا اور ایئرفورس اور بحریہ کے چیفس سے بھی ملاقاتیں کیں۔
چیف جسٹس صاحب کے خوش آئنداقدامات
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے جو سلسلہ شروع کیا بہت خوش آئند ہے،چیف جسٹس صاحب کی کارروائی کے بہت بہتر نتائج سامنے آئیں گے، اب کو ئی بھی جھوٹی ایف آئی آر نہیں کراسکے گا،چیف جسٹس صاحب کے فیصلے سے ماتحت عدالتوں میں بھی بہت تبدیلی آئی گی،چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ منشیات کے کیسز کو بھی جلد نمٹایا جائے،منی لانڈرنگ والے کیس میں تو کوئی شک والی بات ہی نہیں ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا کوئی ایک ایجنڈا نہیں ہے،ن لیگ اورپیپلزپارٹی پر ایک ہی قسم کے کیسز ہیں،ابھی تک تو نیب کسی سے کوئی پیسہ ریکورنہیں کرسکی،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بہت بے ضابطگیاں ہوئی ہیں،بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کو شوکت خانم سے ملانا غلط بات ہے، ابھی تک توکوئی سمجھوتہ ہوتا نظر نہیں آرہا،جب یہ لوگ پاورمیں ہوتے ہیں تو اندھے ہوتے ہیں،اسد عمرکے ارادے تو شروع ہی سے نیک تھے،مگر ایمنسٹی کی امید نہیں تھی،اسد عمر کی نیت ٹھیک ہے ،وہ کام کرنا چاہتے ہیں مگر ادارے ان سے تعاون نہیں کررہے، اسد عمرچاہتے تو ہیں کہ معیشت بہتری کی طرف جائے۔سابق ڈی جی نیب،سندھ حارث نوازنے روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ وعدہ معاف تو اس کو بنایا جاتا ہے جس کو سب معلومات ہوں،وعدہ معاف گواہ خود بھی کرائم کا حصہ دار ہو،نیب کا کام یہی ہے کہ لوٹا ہوا پیسہ واپس لیا جائے اورخزانے میں جمع کرایا جائے،لوٹا ہوا پیسہ واپس آنے سے ملکی معیشت بہترہوگی۔

پاکستانی اداکارہ صنم سعید کی اداکاری سے بہت کچھ سیکھا ہے، عالیہ بھٹ

 ممبئی: اداکارہ عالیہ بھٹ کا کہنا ہے کہ نئی فلم کلنک میں اپنے کردارکو بخوبی نبھانے کے لیے پاکستانی ڈرامے ’زندگی گلزارہے‘ کو دیکھا اوربہت کچھ سیکھا تھا۔

بھارت میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ نے ایک انٹرویو کے دوران اس بات کا انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی نئی فلم ’کلنک‘ میں اپنے کردارکو بہترین انداز میں ادا کرنے کے لیے پاکستانی اداکارہ صنم سعید کی اداکاری سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ عالیہ بھٹ نے کہا کہ انہوں نے اپنے کردارکے لیے فلم مغل اعظم، امراؤجان بھی دیکھی جب کہ فلم کے ہدایتکارنے انہیں پاکستانی ڈرامے ’زندگی گلزارہے‘ بھی دیکھنے کا کہا جس میں فواد خان اور صنم سعید نے مرکزی کردار نبھائے تھے۔

اداکارہ نے کہا انہوں نے یہ فلمیں اورڈرامہ اپنے کرداراورزبان کی بہترین ادائیگی کے لیے دیکھا۔ اداکارہ نے بتایا کہ ہدایتکارنے انہیں زندگی گلزارہے، ڈرامے کو اس لیے دیکھنے کوکہا تھا کیونکہ اس میں ادا کیا گیا صنم سعید کا کردارمیرے کردارسے ملتا جلتا تھا، ایسی لڑکی جس کے کندھوں پربہت سی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جب کہ وہ خوش رہنے والی انسان بھی نہیں ہوتی لیکن پھربھی وہ ایک حوصلہ مند لڑکی ہوتی ہے۔

عالیہ نے کہا کہ ایک کردارمیں اتنے سارے زاویوں کوایک ساتھ اپنے کردارمیں لانا مشکل ہوتا ہے۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ وہ اس فلم کا حصہ بن کر بہت خوش ہیں کیونکہ وہ اس فلم میں بہت سے اداکاروں کے ساتھ کام کریں گی اور ہر کسی سے کچھ نہ کچھ سیکھیں گی۔

بھارت میں بزرگ مسلمان پر انتہاپسند ہندوؤں کا بہیمانہ تشدد، سور کا گوشت کھلادیا

بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے 68 سالہ بزرگ شوکت علی پر گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگا کر انسانیت سوز تشدد کیا اور کیچڑ میں بٹھا کر سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست آسام میں مشتعل ہجوم نے گائے کے گوشت کے فروخت کا الزام لگا کر بزرگ مسلمان شوکت علی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہندو انتہا پسندوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ بزرگ شہری کو گندے کیچڑ میں بٹھا کر سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا گیا۔

مسلمان بزرگ شہری کے انسانیت سوز مظالم کے وقت موقع پر موجود افراد ویڈیو بناتے رہے جب کہ ضعیف شخص معافی کی بھیک مانگتا رہا اور مدد کی درخواست کرتا رہا لیکن کسی نے بھی بزرگ شہری کی مدد نہیں کی، یہاں تک کہ بزرگ شہری بے ہوش ہوگئے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ کسی مسلمان پر گائے ماتا کے تقدس کے نام پر تشدد کیا گیا ہو، ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مئی 2015 سے دسمبر 2018 تک 44 افراد گائے ماتا کے نام پر مشتعل ہجوم کے تشدد کا شکار ہوئے ان میں سے 36 مسلمان تھے۔ گائے کو لیکر سفر کرنے والوں کو راستے میں روک مشتعل ہجوم تشدد کا نشانہ بناتا ہے اور قتل کردیتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں گائے ماتا کے تحفظ کا ڈھکوسلہ محض ہندوؤں کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے بی جے پی کی کارستانی ہے، جس کے لیے جارحیت پسند مودی سرکار کے دور اقتدار میں انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، انتہا پسند ہندوؤں نے نام نہاد سیکولر ریاست میں مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔

کیابھارتی مسلمان بھارت سے محبت نہیں کرتا؟

بھارتی سرکار کے بعض اراکین سیاسی رہنما کم اور فلسفی مورخ اور دانشور کی شکل میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سکول کے نصابوں میں صرف ہندو مذہبی کتابوں کے اقتباسات ہی شامل کیے جانے چاہیں کیونکہ اسلام اور مسیحی مذہب بھارت کی روح سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے بیان سے واضح طور پر مراد یہ تھی کہ بھارت کا مسلمان ملک سے محبت نہیں کرتا اور وہ ملک کا وفادار نہیں ہو سکتا اور ان کا مذہب بھی بھارت کی اقدار کے لیے موزوں نہیں ہے۔اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کا کہنا ہے کہ بھارتی مسلمان دہشت گرد ہیں جبکہ ان ہی کی ہندو برادری کے اچھوت دلت دہشت گردوں کے ہمدرد ہیں۔ قبائلی نیکسلائٹ اور سکھ خالصتانی ہیں۔ کشمیریوں کو اگروادی قرار دیا اور بھارتی عیسائیوں کو بھارت کا خون چوسنے والے کیڑے کہا۔ ان کے مطابق صرف برہمن ہی بھارت کے وفادار اور محب وطن ہیں۔ 12بلین آبادی پر مشتمل ملک بھارت میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ آبادی کا قریباً 80فیصد ہندو ہیں باقی 20فیصد میں مسلمان، عیسائی، جین، سکھ اور پارسی شامل ہیں۔12 بلین کی آبادی میں تقریباً 172.2ملین مسلمان 27.8ملین کرسچن،20.8 ملین سکھ اور 4.5 ملین جین شامل ہیں۔ با اثر ہندو خاندان جو زیادہ تر برہمن ہیں جن کو پوچھنے والا اس نام نہاد سیکولر ملک میں کوئی نہیں، طبقاتی تقسیم کے ذمہ دار ہیں۔ بھارت میں ذات پات کے نظام کی وجہ غیر برہمنی کے پیروکاروں کیساتھ بھی امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ کھشتری ویشن کے بعد شودر ایسی ذات ہے جس کو ہندو برہمن اپنے پاس بھی آنے نہیں دیتے ۔سکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں نچلی ذات کے ہندو اور اقلیتی طالبعلم ایک جماعت میں پڑھتے ہیں جبکہ برہمنوں کے بچوں کیلئے الگ سہولتیں کلاس روم اور اساتذہ ہیں۔اگر وہ احتجاج کریں تو ان پر دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولت کار اور ہمدردہونے کا لیبل لگ جاتا ہے۔ اسی لیے بھارت میں مسلسل غیرانسانی سلوک کا نشانہ بننے والے دلتوں نے برہمن سامراج سے بغاوت کا علم بلند کرتے ہوئے بھیم آرمی کو اپنی نئی پناہ گاہ بنا لیا۔برہمنوں ہی نہیں بلکہ اونچی ذات کے دیگر ہندوؤں کے رویوں سے نالاں، بھارت میں برہمنوں سمیت اونچی ذات کی تینوں ہندو ذاتوں کے غیرانسانی سلوک کا نشانہ بننے والے دلتوں میں تبدیلی مذہب کا رجحان بھی غالب رہتا ہے۔جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو وہ تو شروع دن سے ہی بھارتی ہندوؤں کو قبول نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کی تمام وارداتوں میں مسلمان شامل تھے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ دہشت گردی کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ انتہا پسند ہندو تنظیمیں بھارت میں دہشت گردی کرتی ہیں۔ گائے ذبیحہ کے مسئلے پر ہندو اور دیگر اقلیتوں میں شدید اختلاف اور کشیدگی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ دلت، عیسائی اور مسلمانوں کے نزدیک گائے کا گوشت غذائیت سے بھرپور ہے۔ ذبیحہ گاؤ سے متعلق عدالتوں میں بہت دفعہ اس کو چیلنج کیا گیا لیکن افسوس اقلیتوں کی کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔خاص طور پر کشمیری مسلمان تو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ بھارتی برہمنوں کے نزدیک تو وہ اگر وادی اور غدار ہیں ۔ 3 جون 1984 کو ہندوستانی حکومت کی جانب سے سکھ میجر جنرل کلدیپ سنگھ برار کی سربراہی میں خونی آپریشن بلیو اسٹار کے دوران بے پناہ طاقت کے استعمال نے وقتی طور پر 70 اور 80 کی دہائی میں پورے زور و شور کے ساتھ جاری علیحدہ ملک کی سکھ تحریک کو کچل دیا تھا۔ لیکن جیسا کہ آزادی کی تحریکوں میں ہوا کرتا ہے، طاقت کا استعمال وقتی طور پر تو کارگر ثابت ہوتا ہے لیکن اگلی نسلوں کے جوان ہونے تک طاقت کا استعمال بذاتِ خود تحریکوں میں نئے جذبے پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے 80 کی دہائی میں سکھوں کے علیحدہ ملک کی تحریک کے روحِ رواں تھے۔ آپریشن بلیو اسٹار کا ہدف بھی انہی کی قیادت میں ‘خالصتان’ حاصل کرنے کیلئے منظم ہونے والے نوجوان سکھ جنگجو تھے جو سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل میں مورچہ زن تھے۔ تحریک خالصتان آج کل پھر اپنے عروج پر ہے اور بھارت کی مزید تقسیم کا بہانہ بھی بن سکتی ہے۔ لہٰذا سکھ بھی بھارتی وفادار ی کے بنائے گئے پیرا گراف سے نکل گئے۔ دیگر اقلیتوں کی مانند بھارتی عیسائی بھی سنگھ پریوار کے مظالم سے محفوظ نہیں۔ دہلی میں چھ گرجا گھروں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔ اس سے پہلے بھی جب مارچ 1998میں ’’بی جے پی ‘‘کے مرکز دہلی میں برسراقتدار آئی تو بھارتی عیسائی بھی انتہا پسند ہندوؤں کے زیر عتاب آگئے تھے۔ ان کی زندگی بھی اجیرن کر دی گئی۔یوں تو اس سے پہلے کی بھارت کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ ہندو اکثریت نے کبھی بھی بھارتی عیسائیوں کے وجود کو خوش دلی سے قبول نہیں کیا۔اس امر کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو گی کہ کوئی بھی بھارتی عیسائی اگر کسی بھی شعبہ میں کوئی اعلی مقام پیدا کرتا تو ہندو انتہا پسند گرہووں کی جانب سے اس کی کردار کشی کے لیے طرح طرح کے الزام لگانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔یہاں تک کے ’’مدر ٹریسا‘‘ کو بھی نہیں بخشا گیا اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے یہاں تک کہا گیا کہ یہ عورت بھارت میں عیسائیت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بھارتی عیسائی خون چوسنے والے کیڑوں کی مانند بھارت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ غرض صرف برہمن ہندو ہی بھارت کے وفادار اور محب وطن ہیں باقی سب قومیں جن میں دیگر مذاہب اور خود ہندو نچلی ذاتیں شامل ہیں ، بھارت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ یہ تو حال ہے بھارتی حکمرانوں کا جن کو سب ہی اپنے دشمن نظر آتے ہیں۔ بھارتی برہمن کیونکہ پیسے اور اثر و رسوخ والے ہیں اسی لئے حکمرانی کرنا اور دوسروں کو ذلیل کرنا ان کو ہی بھاتا ہے۔
*****

لاہور ہائیکورٹ کا کرکٹر ناصر جمشید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

لاہور: ہائیکورٹ نے اسپاٹ فکسنگ میں سزایافتہ کرکٹر ناصر جمشید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں سابق کرکٹر ناصر جمشید کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت ہوئی، درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ اسپاٹ فکسنگ میں سزاء کے بعد ناصر جمشید کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا، غیر قانونی طور پر ای سی ایل میں نام شامل کر کے قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے وزارت داخلہ کی جانب سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کی سفارش پر نام ای سی ایل میں ڈالا۔ وکیل ایف آئی اے نے دلائل میں کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنا وزارت داخلہ کا اختیار ہے، ناصر جمشید کی کوئی انکوائری ایف آئی اے کے پاس زیرالتواء نہیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ کرکٹر ناصر جمشید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے 3 رکنی اینٹی کرپشن ٹربیونل نے اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ناصر جمشید پر ایک سال کی پابندی عائد کی تھی۔

حکومت نے ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم اتھارٹی‘‘ کے قیام کی منظوری دیدی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم اتھارٹی‘‘ بنانے کی منظوری دے دی ہے ۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر میڈیابریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے  بتایا کہ  کابینہ نے ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم اتھارٹی‘‘ کے قیام کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ایک لاکھ 35 ہزار اپارٹمنٹس تیار کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وفاقی ملازمین کے لیے اسلام آباد میں 25 ہزار اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں گے اور اس اسکیم کا وزیراعظم رواں ماہ کی 17 تاریخ کو افتتاح کریں گے جب کہ بلوچستان میں پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 10ہزار اپارٹمنٹس بنائے جائیں گے

فواد چوہدری نے کابینہ کے فیصلوں سے مزید آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یونس ڈھاگہ کو چیئرمین اسٹیٹ لائف انشورنس کا چارج دیا گیا ہے جب کہ عمر رسول کو سرمایہ کاری بورڈ کا نیا سیکرٹری بنانے اور سیکریٹری ایوی ایشن کوچیئرمین سول ایوی ایشن کا چارج دیا گیا ہے، عالمی سطح کی میڈیا یونیورسٹی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی،

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات سے مختلف معاہدے طے پاگئے ہیں جس میں ایک معاہدے کے تحت یو اے ای میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کی تفصیلات ملیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ  آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تکمیل کے قریب ہے ۔

Google Analytics Alternative