Home » 2019 » April » 11

Daily Archives: April 11, 2019

حکومت کا شریف خاندان کیخلاف کرپشن کے نئے مقدمات دائر کرنے کا فیصلہ

لاہور: حکومت نے شریف خاندان کیخلاف کرپشن کے نئے مقدمات دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

لاہور میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف پنجاب کی صوبائی پارلیمانی پارٹی اور صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں نئے بلدیاتی نظام کے مسودے کی منظوری دے دی گئی۔ نئے نظام کے مسودے کو منظوری کے لیے جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر میاں محمودالرشید نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے شریف فیملی کے خلاف نئے کیسز کی تیاری مکمل کرلی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت کے اداروں نے نئے کیسز کے لیے مواد اکٹھا کر لیا۔

میاں محمودالرشید نے کہا کہ شریف فیملی کے خلاف پہلے پرانے کیسز تھے مگر اب نئے مقدمات دائر ہونگے، وزیراعظم عمران خان نے وزراء کو شریف فیملی کے خلاف کرپشن کی معلومات سے آگاہ کیا اور مزید کرپشن بے نقاب کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔

نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کا قیام۔۔۔خوش آئند اقدام

adaria

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بہت اہم فیصلے کیے گئے جن میں ننکانہ میں بابا گورونانک کے نام سے ریلوے اسٹیشن بنانے کا فیصلہ ایوبکیو ٹرسٹ پراپرٹی کا نیا بورڈ تشکیل، جان لیوا بیماریوں کے علاج کا پروگرام بحال کرکے بیت المال منتقل کرنے، ماہی گیروں کیلئے بستی بنانے کی بھی منظوری دی گئی، ایم ایس ایئر لیگل لائسنس کی منظوری ، چیئرمین سول ایوی ایشن اتھارٹی کا اضافی چارج، شاہ رخ کے حوالے ، یونس ڈھاگہ کو اسٹیٹ لائف انشورنس کا تین ماہ کیلئے اضافی چارج جبکہ عمر رسول سرمایہ کاری بورڈ کے نئے چیئرمین تعینات۔ اسی طرح پاک جرمنی مالی تعاون کے معاہدے کی منظوری، میڈیا یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ نیز سب سے اہم بات یہ کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 35ہزار گھر تعمیر کیے جائیں گے چونکہ حکومت کے سامنے اس وقت سب سے بڑے دو ٹارگٹ ہیں جن میں گھروں کی تعمیر اور ایک کروڑ کے لگ بھگ ملازمتیں فراہم کرنا ہے ۔ یہ دونوں منازل حاصل کرنا بظاہر تو مشکل نظر آرہی تھیں مگر کپتان کے عزم مصمم کے سامنے پایہ تکمیل تک پہنچتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ اسی سلسلے میں وفاقی کابینہ نے جہاں دیگر اہم فیصلے کیے وہاں پر نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کی منظوری دے کر انتہائی قدم اٹھایا ہے۔ وفاقی وزیر طلاعات ونشریات نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاہے کہ کابینہ نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم 17 اپریل کو اسلام آباد میں نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت پہلے مرحلے میں ملک ب بھرمیں ایک لاکھ پینتیس ہزار اپارٹمنٹس بنائے جائیں گے، گوادر کے ماہی گیروں کی بستی بھی بنائیں گے، وفاقی وزیر خزانہ امریکہ چلے گئے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے قریب ہیں، ان کی وطن واپسی کے بعد ایمینسٹی سکیم لانچ ہو گی۔ پچھلی حکومتوں میں سارے لوگ کرپشن میں ملوث نظر آرہے ہیں، آصف زرداری، شہبازشریف اور نواز شریف ایک ہی پیٹرن پر کام کر رہے تھے، نیب کے مطابق ن لیگ کے کچھ رہنما میگا کرپشن میں ملوث ہیں، اللہ تعالیٰ کے بعد عوام کی عدالت سب سے بڑی عدالت ہے۔ پاکستان میں بادشاہت ہوتی تو ہم بھی ہوٹل میں 200 بندوں کو الٹا لٹکاتے، پیسے واپس آ جاتے، یہاں آمریت یا بادشاہت نہیں اس لیے ہمیں قانون و آئین کے مطابق چلنا ہے، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف جگہوں پر گیس کی بِلنگ کے مسائل ہیں جبکہ پاور سیکٹر میں بھی گیس کی بلنگ کے مسائل ہیں۔ پیپلز پارٹی کی ایم این اے اور سابق وزیر بھی گیس چوری میں ملوث ہیں، حنا ربانی کھر 2 سال سے بجلی چوری کے کیس میں سٹے پر ہیں۔ بجلی چوری کی مد میں اب تک 40 ارب روپے کے نقصانات روکے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تکمیل کے مراحل میں ہے جبکہ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام سرکاری ادارے پاکستان پوسٹ استعمال کریں گے۔ ایم ڈی پی ٹی وی کی تقرری کے لیے کام جاری ہے، ایم ڈی پی ٹی وی کے لیے 42 درخواستیں آئی ہیں، ایم ڈی پی ٹی وی کی تعیناتی ہو جائے گی۔ کابینہ نے وزرات اطلاعات کے فلیگ شپ پروگرام میڈیا یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دی ہے، اس کا بنیادی مقصد ہے کہ پاکستان میں میڈیا تو پڑھارہے ہیں ٹیکنالوجی نہیں پڑھارہے جس کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ میڈیا یونیورسٹی میں تینوں اکیڈمیز کو ضم کیا جائے گا اور اسلام آباد مرکز ہوگا، یونیورسٹی میں طلبہ کو ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی دی جائے گی۔ نیب کی کارروائیوں سے نظر آرہا ہے کہ خواجہ آصف اور سعد رفیق بڑی کرپشن میں ملوث ہیں۔

تعلیم کے حوالے سے چیف جسٹس کے فکر انگیز ریمارکس
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بالکل درست کہا ہے کہ ریاست تعلیم کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہے، ظاہر سی بات ہے جب حکومت کے پاس اتنے زیادہ تعلیمی ادارے اور اساتذہ نہیں ہونگے تو پھر ظاہر ہے کہ تمام بچے کیسے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوسکتے ہیں ۔اس وقت بھی اڑھائی کروڑ کے لگ بھگ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان کو تعلیم دلوانا ریاست کی ذمہ داری ہے اسی وجہ سے چیف جسٹس نے کہاکہ ریاست خود لوگوں کو نجی سکولز میں داخلوں پر مجبور کرتی ہے ۔ دوسری طرف نجی سکولز کو فیس کے معاملے پر پابند رکھنا چاہتی ہے۔نیزسپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ریاست تعلیم کی فراہمی میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، خود لوگوں کو نجی سکولز میں داخلوں پر مجبور کرتی ہے، ہمارے سامنے لاہور اور سندھ ہائیکورٹ کے فیصلوں کیخلاف اپیلیں ہیں، سندھ اور پنجاب میں الگ الگ قوانین رائج ہیں، سرکاری سکول نہ ہونے کی وجہ سے بچے مدارس میں جاتے ہیں، حکومت ہر مدرسے کے ساتھ سرکاری سکول تعمیر کرے، مفت سہولیات دیکر فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے کہ سکول جانا ہے یا مدارس، پہلے گلی محلوں میں سرکاری تعلیمی ادارے ہوتے تھے، اب وہ پرائمری سکول بھی نظر نہیں آتے۔ سکولز فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں ہائی کورٹس نے متعلقہ قوانین کے تحت فیصلے کیے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے گلی محلوں میں سرکاری تعلیمی ادارے ہوتے تھے، سرکاری سکول اور ان کا پہلے والا معیار آخر کہاں گیا؟ بھاری فیس ادا نہ کر سکنے والا ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سرکاری سکولز نہ ہونے کی وجہ سے بچے مدارس میں جاتے ہیں ۔ سرکاری سکول تعمیر کرے۔چیف جسٹس نے کہاکہ سرکاری سکول میں مفت کتابیں ، یونیفارم اور دودھ کا گلاس دیا جائے۔چیف جسٹس نے کہاکہ مفت سہولیات دیکر فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے کہ سکول جانا ہے یا مدارس ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عوام کے پاس آپشنز نہ ہونے کی وجہ سے مقدمہ عدالت پہنچا۔ جہاں تک سرکاری سکولوں کے معیار کی بات چیف جسٹس نے کی ہے اس سے بھی ہم سوفیصد متفق ہیں کہ فی زمانہ وہ معیار تعلیم ہی نہیں ہے اس کی بھی تما م تر ذمہ داری ریاست پر ہی عائد ہوتی ہے اسی وجہ سے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر حکومتیں تیار ہوکر آئیں۔

حکومت یکساں نظام تعلیم لانے کیلئے کوشاں
قائمقام سپیکرقومی اسمبلی قاسم سوری نے روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات‘‘ ایس کے نیازی کے ساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہاہے کہ عوام لوگوں کی کارکردگی اورنظریہ دیکھ کر الیکشن میں فیصلہ کرتے ہیں، ،پاکستان تحریک انصاف پورے ملک میں ابھر کرآگے آئی ہے،میرا تعلق ایک عام خاندان سے ہے، خیبرپختونخوا کی تاریخ میں لوگوں نے پی ٹی آئی کو دوبارہ موقع دیا،خیبرپختونخوا کے لوگوں نے دیکھا کہ پی ٹی آئی پولیس اورتعلیم کے میدان میں تبدیلی لائی ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ وہ سرکاری و پرائیویٹ سکولوں اور مدارس میں یکساں نظام تعلیم لیکر آئے ۔خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے ہسپتالوں اورپٹواریوں کے نظام کودرست کیا،خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے سونامی ٹریز لگائے، پشاورمیٹروبس اتنا بڑا ایشو نہیں وہ بھی بن جائے گی،2013سے 2018تک اصل اپوزیشن عمران خان نے کی،ہم نے دھرنا دیاجس سے لوگوں میں شعورآیا،2018میں جب میں الیکشن کمپین پرگیاتولوگ بدل چکے تھے،لوگوں نے اس دفعہ نظریے کو ووٹ دیا،لوگوں نے اسلئے میرے جیسے ایک عام آدمی کو بھی اسمبلی میں بھیجا،میں اپنی کوئٹہ کی عوام کے شعور کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے نئی روایت ڈالی،پینے کے صاف پانی کا پورے پاکستان میں مسئلہ ہے۔

وطن کے دفاع میں زندگی قربان کرنے سے زیادہ کوئی عظیم مقصد نہیں، آرمی چیف

راولپنڈی: پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ مادر وطن کے دفاع میں زندگی قربان کرنے سے زیادہ کوئی اور عظیم مقصد نہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جی ایچ کیو راولپنڈی میں شہیدوں اورغازیوں کیلئے اعزازات کی تقریب منعقد ہوئی، تقریب میں شہدا اور غازیوں کے خاندانوں نے شرکت کی، اور سربراہ پاک فوج جنرل قمرجاوید باجوہ نے آپریشنز کے دوران بہادری کا مظاہرہ کرنے والے شہدا اور غازیوں کو ایوارڈز دیئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 35 آفیسرز کو ستارہ امتیاز(ملٹری)، 36 افسراں و جوانوں کوتمغہ بسالت اور 7جوانوں کو اقوام متحدہ کے میڈلز دیئے گئے، شہدا کے اعزازت ان کے خاندان کے افراد نے وصول کئے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہدا کی قربانیوں اور بہادری کو سراہا  اورقوم کے تعاون اور جرات کی تعریف کی، آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مادروطن کوخراج تحسین پیش کرنےکےلیےاکٹھےہوئے ہیں، جانوں کی پرواہ کیے بغیر افسروں اور جوانوں نے امن و استحکام کیلئے قربانیا ں دیں، یہ قربانیاں دینے والے ہی ہمارے ہیرو ہیں۔

سربراہ پاک فوج نے کہا کہ لوگ پوچھتےہیں کہ دہشت گردی کے خلاف کیسےکامیابی حاصل کی؟ ملک میں امن وامان غازیوں اورشہداء کی مرہون منت ہے، مادر وطن کے دفاع میں زندگی قربان کرنے سے زیادہ کوئی اور عظیم مقصد نہیں، وطن کیلئے دی گئی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

نیوزی لینڈ میں خودکار اور نیم خودکار اسلحے پر پابندی کا قانون منظور

کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کی پارلیمان نے اسلحہ رکھنے کے قوانین میں ترمیم کی منظوری دے دی جس کے تحت خودکار اور نیم خود کار اسلحے پر پابندی عائد ہوجائے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ کی پارلیمان نے بھاری اور خودکار اسلحے پر پابندی سے متعلق وزیراعظم جیسنڈا آرڈن کی تجویز کردہ ترامیم کو کثرت رائے سے منظور کرلیا جس کے بعد نیوزی لینڈ میں زیادہ تر خود کار اور کچھ نیم خود کار ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ مخصوص اضافی پرزوں پر پابندی عائد ہوگی۔

اسلحے کے قانون میں ترمیمی بل کی حمایت میں 119 اراکین اور مخالفت میں محض ایک ووٹ ڈالا گیا، گورنر سے منظوری کے بعد ترمیم کو چند روز میں قانونی شکل دے دی جائے گی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 2 سے 10 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے تاہم ستمبر تک خودکار اسلحہ واپس کرنے والے شہری کا نقصان حکومت پورا کرے گی۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر سفید فام دہشت گرد نے خودکار اسلحے سے اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 50 نمازی شہید اور 35 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے سانحے کے بعد اسلحے کے قانون میں ترمیم کا عندیہ دیا تھا۔

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی

برما میں ایک بار پھر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق روینہ شمدسانی کا کہنا ہے کہ میانمار کے صوبے راکھائن میں گزشتہ ہفتے برمی فوج کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں میں 30 کے قریب افراد شہید ہوئے ہیں۔ جس وقت میانمار کی فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سائی دین آبشار کے قریب بمباری کی اس وقت مقامی لوگ جنگل سے بانس جمع کر رہے تھے۔ 2017 میں میانمار کی فوج نے راکھائن صوبے میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں متعدد افراد کو شہید کیا گیا۔ اسی نسل کشی سے بچنے کیلئے 7 لاکھ 30 ہزار روہنگیا مسلمانوں نے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لی تھی۔ میانمار کی شمالی ریاست راکھین سے اکتوبر 2016ء کے بعد سے قریباً سات لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو جبری طور پر بے گھر کیا جاچکا ہے اور وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی جانب چلے گئے ہیں جہاں و ہ پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔میانمار کی فوج نے تب پہلے سے ایک غیر معروف گروپ کے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے ردعمل میں روہنگیا کے خلاف نسلی تطہیر کی کارروائی شروع کی تھی۔25 اگست 2017ء کے بعد سرکاری سکیورٹی فورسز نے راکھین اور دوسرے علاقوں میں روہنگیا شہریوں کے خلاف زمینی اور فضائی حملے شروع کردیے تھے۔فوجیوں اور چاقو بردار ( بد ھ مت) بلوائیوں نے روہنگیا مردوں ، عورتوں اور بچوں کو گلے کاٹ کاٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اجتماعی مظالم کا یہ سلسلہ یہیں پر نہیں رْکا بلکہ روہنگیا مرد وخواتین،بوڑھے اور جوانوں کو زندہ جلایا جاتا رہا ہے۔ فوجیوں نے روہنگیا عورتوں اور لڑکیوں کی انفرادی اور اجتماعی عصمت ریزی کی اور سیکڑوں مردوں اور لڑکوں کو اجتماعی طور پر گرفتار کیا جاچکا ہے اور اب میانمار کی فوج نے گزشتہ سال ریاست رخائن میں مسلمانوں کی ہلاکت میں فوجی اور بدھ مذہب کے پیروکاروں کے ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔اراکان برما کا ایک مسلم اکثریتی صوبہ ہے۔ اراکان برما کا چودھواں صوبہ اور مغربی ریاست ہے۔اس کا رقبہ51 ہزار800 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی آبادی 2000 میں 40 لاکھ تھی۔ جس میں80 فیصد مسلمان ہیں، 20 فیصد آبادی میں عیسائی، ہندو اور بدھ شامل ہیں۔ اراکان کا دارالحکومت ’’اکیاب‘‘ ہے۔ یہ خطہ زراعت، قیمتی معدنیات، چاول اور مچھلی کی پیداوار کیلئے مشہور ہے۔ اراکان بندرگاہ بھی ہے۔ اراکان کا برما سے براہ راست کوئی زمینی رابطہ نہیں ہے۔ اراکان کے مشرق میں برما ہے اور کوہ ہمالیہ کی بلند چوٹیاں اسے مکمل طور پر برما سے جدا کرتی ہیں۔ البتہ بنگلادیش اس کے مغرب میں واقع ہے اور بنگلادیش کے ساتھ اراکان کی176 میل طویل آبی اور زمینی سرحد ملتی ہے۔برما 1948 میں آزاد ہوا۔ اس سے قبل یہ ہندوستان کا حصہ تھا۔ اراکان کے مسلمانوں نے 1947 کی جدوجہد آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا لیکن ان کی قسمت بھی کشمیریوں جیسی تھی۔اراکان کے مسلمان ’’روہنگیا‘‘ کہلاتے ہیں۔ یہ نام اس لیے پڑا کہ اراکان کا قدیم نام ’’روہنگ‘‘ تھا۔ یہاں اسلام عرب تاجروں کے ذریعے پہنچا۔ یہ آٹھویں صدی عیسوی کی بات ہے جب عرب تاجر پہلی مرتبہ یہاں پہنچے۔ اس کے بعد تیرھویں صدی عیسوی تک آتے آتے آسام سے ملایا تک جگہ جگہ مساجد بن چکی تھیں۔اراکان میں نسلی فسادات کی ایک لہر فروری 2001 میں پھوٹ پڑی۔ یہ فسادات اراکان کے صوبائی صدر مقام اکیاب میں ہوئے۔ بدھ مت کے پیروکاروں نے برمی پولیس فورس اور فوج کی پشت پناہی میں تین بڑے مسلم اکثریتی علاقوں اوہ منگلہ، ناظرپاڑا اور مولوی پاڑہ کو آگ لگا دی، جس میں ایک طرف املاک اور اثاثوں کو نقصان پہنچا تو دوسری طرف ڈیڑھ ہزار مسلمان مارے گئے۔ برما کے مسلمانوں کا مسئلہ ’’شناخت کا مسئلہ‘‘ تھا اور ہے۔ انہیں اس ملک کی شہریت نہیں دی جا رہی ہے جہاں وہ اور ان کے آباؤ اجداد صدیوں سے آباد چلے آرہے ہیں۔ یہ ایک سماجی، سیاسی مسئلہ تھا جسے پچاس سال سے مسلط وہاں کی فوجی حکومتوں نے حل نہیں کیا۔ برما میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم وستم زیادتیوں کا سلسلہ دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور گزشتہ کئی عشروں سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ مظالم برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جا رہے ہیں۔ لیکن آج تک دنیا والوں کو برمی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آئے اور نہ ہی اس کے سدباب کیلئے کچھ کیا گیا۔ مصائب میں گھرے مسلمانوں پر برما میں عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ برما میں بسنے والے مسلمان ہمارے بھائی ہیں۔ اسلام کا نظام کسی ساتھ زیادتی یا ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے معاشرے اورحقوق کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اراکان کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی دلانے کیلئے پاکستان کی تمام جماعتوں کو متحد کرنا ضروری ہے۔ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، برما میں ہونے والے مظالم پرامت مسلمہ کے دلوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔ بنگلہ دیش ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کی بے حسی پر دکھ ہوتا ہے کہ وہ مصیبت زدہ مسلمانوں سے تعاون کرنے کے بجائے انہیں اپنی سرحدوں میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں اور سمندر کی لہروں سے جانیں بچا کر خشکی پر پہنچنے والے مہاجرین کو بندوق کی نوک پر دوبارہ سمندر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

کشیدگی کے خاتمے کیلئے نئی بھارتی قیادت سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں، فواد چوہدری

 اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات و نشریات بیرسٹر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے نئی بھارتی قیادت سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت کا خیال ہے کہ جب تک بھارت میں انتخابی عمل مکمل نہ ہو جائے اس وقت تک کوئی بھی بات کرنا قبل از وقت ہے، تاہم  پاکستان دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے اور تعلقات کو مؤثر بنانے کے لئے نئی بھارتی قیادت سے مذاکرات کے لئے تیار ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد پاک بھارت کشیدگی پیدا ہوئی تھی، دونوں ممالک میں جنگ کا ماحول بن گیا تھا، بالخصوص میڈیا اور سوشل میڈیا پر جنگی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، پاکستان نے ایسے دہشت گردانہ ماحول کے باوجود کشیدگی کو کم کرنے کی حتی الامکان کوشش کی، لیکن ان تنازعات میں بھارتی قیادت کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، اس طرح کے بیانات پورے خطے بالخصوص پاکستان اور بھارت کے مفادات میں نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان جنگ کے حق میں نہیں اور ہم نے جوابی کارروائی کے بجائے دوطرفہ کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے 360 بھارتی قیدیوں کو جذبہ خیرسگالی کے طور پر رہا کرنے کی منصوبہ بندی کی، پاکستان کی یہ پالیسی آئندہ بھی جاری رہے گی۔

پاکستانی قیدی شاکر اللہ کی موت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ ہم نے کشیدہ حالات اور جنگی ماحول میں بھی بھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی کا پروانہ جاری کیا، لیکن اس کے جواب میں اگلے ہی روز بھارتی جیل میں قید پاکستان شاکراللہ کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اس کی میت ہمارے حوالے کی گئی، پھر بھی ہم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ سکھوں کے پیشوا بابا گرو نانک کی 550 ویں سالگرہ کے موقع  پر پاکستان میں گوردوارہ دربار صاحب کے ساتھ بھارت میں کرتاrپور کو ڈیرہ بابا نانک سے منسلک کرنے کی کوششیں جاری ہے لیکن بھارتی پنجاب حکومت نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

 

افغان فوج کی سرحدی چوکی پر طالبان کے حملے میں 20 فوجی ہلاک

کابل: افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کے حملوں میں 20 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

افغانستان میں موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ رات گئے صوبہ قندھار افغان فوج کی سرحدی چوکی پر طالبان کے حملے میں 20 فوجی ہلاک اور 8 لاپتہ ہوگئے۔

افغان حکام کے مطابق خدشہ ہے کہ لاپتہ فوجیوں کو طالبان اغوا کرکے لے گئے ہیں۔ قندھار پولیس کے سیکرٹری قاسم آزاد نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں 17 طالبان جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے چوکی پر قبضے کا دعویٰ کیا تاہم افغان حکومت نے کہا ہے کہ فوجی بدستور ان کے کنٹرول میں ہے۔

ادھر صوبہ بادغیس میں طالبان نے ضلع بالا مرغاب پر بڑا حملہ کیا ہے اور وہاں گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ وہاں اب تک 30 افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 100 سے زائد طالبان بھی مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی امریکی فوجی اڈے بگرام کے قریب طالبان کے حملے میں 4 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 18 سالہ سے جاری اس جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان سے مذاکرات بھی کررہے ہیں۔

اوپو کا نیا فلیگ شپ فون رینو 10 ایکس زوم

چینی کمپنی اوپو کو سیلفی کیمرا فونز کے لیے جانا جاتا ہے اور وہ ان کے ڈیزائن کو مسلسل بدلتی رہتی ہے اور اب ایک ایسا ہی خیال ایک نئے فون میں حقیقت کی شکل اختیار کرگیا ہے۔

اوپو کے نئے فون رینو میں سیلفی کیمرے کو بالکل مختلف انداز سے چھپایا گیا ہے جو کہ روایتی سلائیڈر کیمرے سے ہٹ کر ہے۔

چین میں ایک ایونٹ کے دوران اوپو نے رینو سیریز کے فونز رینو 10 ایکس زوم اور رینو اسٹینڈرڈ ایڈیشن متعارف کرائے۔

اوپو رینو 10 ایکس زوم میں طاقتور اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ یہ فون 10 ایکس لوز لیس زوم کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ اس کمپنی نے رواں سال فروری میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران کیا۔

رینو 10 ایکس زوم

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

اوپو کے اس فون میں 6.65 انچ کا امولیڈ نوچ لیس ایچ ڈی پلس ڈسپلے دیا گیا ہے جس میں اسکرین ٹو باڈی ریشو 91.3 فیصد ہے۔

ڈسپلے کے تحفط کے لیے کورننگ گوریلا گلاس 6 استعمال ہوا ہے جبکہ سکستھ جنریشن ان اسکرین فنگرپرنٹ سنسر دیا گیا ہے۔

8 جی بی ریم اور 256 جی بی تک اسٹوریج کے ساتھ اس فون میں 4065 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جو کہ اوپو کی وی او او سی 3.0 فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ ہے۔

اس کے فرنٹ پر شارک فن کی طرح کا پوپ اپ سیلفی کیمرا دیا گیا ہے جو کہ 16 میگا پکسل کا ہے۔

اس کے بیک پر 48 میگا پکسل، 8 میگا پکسل اور 13 میگا پکسل پر مشتمل تین کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے۔

یہ فون 3999 چینی یوآن سے 4799 یوآن میں فروخت کیا جائے گا جس کا انحصار ریم اور اسٹوریج ماڈل کے مختلف ورژن پر ہوگا۔

اوپو رینو اسٹینڈرڈ

فوٹو بشکریہ اوپو
فوٹو بشکریہ اوپو

یہ فون 6.4 انچ کے ڈسپلے سے لیس ہے جس میں اسنیپ ڈراگون 710 پراسیسر دیا گیا ہے۔

3700 ایم اے ایچ بیٹری کے ساتھ فاسٹ چارجنگ سپورٹ موجود ہے جبکہ اس کے بیک پر 48 اور 5 میگا پکسل کیمروں کا ڈوئل سیٹ اپ دیا گیا ہے۔

اس کا سیلفی کیمرا بھی اوپو رینو 10 ایکس زوم جیسا ہی ہے۔

اس کی قیمت 2999 یوآن سے 3599 یوآن کے درمیان ہوگی جس کا انحصار ریم اور اسٹوریج ماڈل کے مختلف ورژن پر ہوگا۔

یہ فون دنیا کے دیگر ممالک میں 24 اپریل کو سوئس شہر زیورخ میں ایک ایونٹ کے لیے دوران متعارف کرایا جائے گا اور امکان ہے کہ اس تقریب میں اوپو رینو 5 جی ورژن بھی پیش کیا جائے۔

Google Analytics Alternative