Home » 2019 » April » 12

Daily Archives: April 12, 2019

پاکستان دوحہ میں امریکا طالبان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا، ترجمان دفترخارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان دوحہ میں امریکا طالبان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہناہے کہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری ہے، حریت رہنماؤں سمیت کشمیریوں پر بھارتی تشدد کی مذمت کرتے ہیں، عالمی برادری کشمیریوں پر بھارتی مظالم رکوانے میں کردار ادا کرے۔  پلوامہ واقعے پر بھارتی ہائی کمیشن کو مزید سوالات کا ایک سیٹ دیا گیا ہے، امید ہے بھارت واقعے سے متعلق ان سوالات کا جلد جواب دے گا، بھارتی حملےکی ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹ تھی، اسی لیے وزیرخارجہ نے اس کا ذکر کیا۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے لیکن ان مذاکرات کو پاکستان کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، پاکستان کشیدگی نہیں چاہتا لیکن جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا، بھارت نے اگر ہمارے عزم کو چیلنج کیا تو جواب وہی ہو گا جو 27 فروری کو تھا۔

ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہنا تھا کہ انٹرا افغان مذاکرات کا دوسرا دور بھی ماسکو میں ہو رہا ہے، پاکستان افغان مفاہمتی عمل کا حامی ہے، پاکستان مستقبل میں بھی مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا، لیکن پاکستان قطر کے دارالحکومت دوحا میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔

پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کی منظوری

adaria

کپتان کی ذاتی کارکردگی پر کوئی شک نہیں،نہ ہی ان پرکوئی کرپشن کاالزام ہے نہ ہی وہ مفادپرست وزیراعظم ہیں، ان کی ایک منزل ہے،مقصد ہے جس کو انہوں نے حاصل کرنا ہے ،لیکن البتہ ان کی ٹیم کے معاملات اوراقدامات زیربحث لانے والے ہیں بلکہ فکرمند حد تک بعض اوقات ایسے احکامات کردیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کی حکومت ریڈزون میں چلی جاتی ہے،ادویات کامہنگاکرنا کوئی قابل فہم نہیں تھا،کوئی پالیسی کی کمی ہے،مشورے نہیں کئے جاتے، رائے نہیں لی جاتی ،کیاوزراء اتنے آزاد ہیں یاپرائیویٹ سیکٹرمیں کوئی قانون اورآئین نہیں ہے کہ ایک دم ادویات مہنگی کردی گئیں جب شوروغوغامچاتو وزیراعظم نے بیک جنبش قلم ادویات کی قیمتیں واپس کردیں ،اس وقت وزیرصحت بھی متحرک ہوئے،ڈریب بھی متحرک ہوئی ، ادویات سازکمپنیاں بھی کہنی لگیں کہ وہ دوائیں سستی کردیں گے ۔اصل بات یہ ہے کہ جتنے دن ادویات مہنگی رہیں وہ پیسہ وزیرصحت سے برآمد کیاجائے اوراسے قومی خزانے میں جمع کیاجائے تاکہ آئندہ کوئی بھی قدم اٹھانے والے کو معلوم ہوکہ وہ کپتان کے سامنے جوابد ہ ہے۔وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں مصروف دن گزارا ،انہوں نے وزرا سے ملاقاتیں کیں اورادویات کی قیمتوں کو72 گھنٹوں میں پرانی قیمتوں پر لانے کے احکامات جاری کرنے کے سانحہ ساہیوال کے متاثرین سے ملاقات کی۔ عمران خان نے صوبائی کابینہ اجلاس کی بھی صدارت کی ۔ اجلاس میں بلدیاتی نظام کا مسودہ منظور کیا گیا۔وزیر اعظم نے نئے بلدیاتی نظام کا مسودہ پنجاب اسمبلی سے منظور کرانے کی ہدایات بھی کی ۔وزیر اعظم نے ناقص کارکردگی کے وزارا کو آخری وارننگ دی ، وزیراعظم نے کہاکہ اختیارات عوام کے حقیقی نمائندوں تک پہنچائے جائیں گے اور عوام کے مسائل انکی دہلیز پر حل کرنے کا وعدہ پورا کریں گے۔ وزیراعظم نے رمضان المبارک میں مہنگائی اور منافع خوری کے تدارک کیلئے خصوصی اقدامات کی بھی ہدایت دیں۔ پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام دو درجوں پر مشتمل ہوگا جن میں تحصیل اور ویلیج کونسل شامل ہیں، ویلج کونسل اور محلہ کونسل کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر جبکہ تحصیل اور میونسپل کونسل کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں گے ۔شہروں میں میونسپل اور محلہ کونسل جبکہ دیہات میں تحصیل اور ویلج کونسل ہوں گی۔نئے بلدیاتی نظام میں مقامی سطح پر عوامی نمائندوں کو صحیح معنوں میں بااختیار بنایا جائے گا۔ پنچایت کے اختیارات کو لوکل گورنمنٹ میں وضع کیا گیا ہے۔ نئے نظام میں ضلع کی سطح والے امور تحصیل کی سطح پر انجام دیئے جائیں گے۔دیہات میں پنچایتی اور شہروں میں نیبر ہوڈ کے نام سے نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ایک سال کے اندر پنچایت، نیبر ہوڈ اور میٹروپولیٹن کے نئے انتخابات ہوں گے نئے نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات جماعت کی سطح پر ہوں گے۔ بلدیاتی انتخابات کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا ہے تاکہ اقتدار کوصحیح معنوں میں نچلی سطح پر منتقل کیاجائے۔نئے بلدیاتی نظام میں عوام کا پیسہ عوام پر ہی لگے گا اور نچلی سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہوں گے ۔ 40ارب روپے ویلج کونسلوں کے ذریعے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے خرچ کیے جائیں گے، نئے نظام کے تحت فیصلہ سازی میں عوام کو بھی شامل کیاجائے گا۔ قومی خزانہ عوام کا ہوتا ہے ،نئے بلدیاتی انتخابات میں اس خزانے کے پیسے کو خرچ کر نے کا اختیار بھی عوام کے پاس ہوگا، نئے نظام میں احتساب اور شفافیات کو بھی یقینی بنا یا جائے گا۔ نئے بلدیاتی نظام میں پی ایچ اے صحت واسا اور ایجوکیشن سمیت دیگر ادارے بھی اس بلدیاتی نظام کے ماتحت ہوں گے ۔نئے نظام میں سابقہ 3100 یونین کونسلوں کی جگہ 22000 پنچائتیں لیں گی جن سے نمائندگی بہت زیادہ وسیع ہو جائے گی۔ پہلی دفعہ اقلیتوں کو اپنے اکثریتی علاقوں میں بلدیاتی سربراہ بننے کا موقع ملے گا جس سے وہ مساوی اختیارات کے مالک بن جائیں گے عبوری دور میں بلدیاتی اداروں کے سٹاف کی تربیت کی جائے گی تاکہ وہ نئے نظام کو احسن طریقے سے چلا سکیں اور وزیراعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق اپنے عوام کی خدمت بہتر سے بہتر انداز میں کر سکیں۔

آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کاعزمِ مصمم
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی اعزازت تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے شہدا اور غازی اصل ہیرو ہیں ، ملک میں امن و استحکام ان کی قربانیوں کا پھل ہے ، دہشت گردی کی لعنت پر عوام کی مدد سے قابو پایا، قوم ساتھ کھڑی ہو تو ہر مسئلے کا حل نکل آتا ہے ، مادر وطن کیلئے اپنی جان وار دینے سے بڑھ کر کوئی قربانی نہیں ، شہدا کو فراموش کردینے والے قومیں مٹ جاتی ہیں ، آزادی بغیر قیمت ممکن نہیں ، ملک میں دہشت گردی کم ہوئی ہے۔ آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ نے اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں فوجی افسران اور جوانوں میں اعزازت تقسیم کئے۔ اس موقع پر 35 افسران کو ستارہ امتیاز(ملٹری)، 36 افسران و جوانوں کو تمغہ بسالت اور 7 جوانوں کو یو این میڈلز سے نوازا گیا۔ شہداکے میڈلز ان کے اہل خانہ نے وصول کئے۔ تقریب میں شہداکے اہل خانہ اور غازیوں نے بھی شرکت کی۔ مادر وطن کے دفاع کیلئے جان دینے سے زیادہ کوئی نیک مقصد نہیں ہے اور شہداکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ شہدا کی بے لوث قربانیوں کی نتیجے میں امن و استحکام حاصل ہوا اورملک میں امن واپس لوٹ آیا۔ جب قوم مل کر کھڑی ہوتی ہے تو ہر مسئلے کا حل نکل آتا ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس ملک میں ایسے باپ موجود ہیں جو اپنے بیٹوں کو ملک پر قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ملک میں امن و استحکام شہدااور غازیوں کی مرہون منت ہے ۔ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں بہت کمی آئی ہے کیونکہ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے ہمارے دلیر جوان موجود ہیں ۔ دنیا میں آزادی بغیر قیمت کے حاصل نہیں ہوتی ۔جو قومیں اپنے شہداکو فراموش کردیتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں ۔
افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں
مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما راجہ ظفر الحق نے روزنیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘میں ایس کے نیازی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ہے،افغانستان کے مسئلے میں پاکستان کو خواہ مخواہ گھسیٹا جاتا ہے،چین نے ہمیشہ ہمارے ساتھ ہمدردی کی ہے، سی پیک کا کریڈ ٹ کوئی بھی لے مگریہ میاں نواز شریف کا منصوبہ ہے،پچھلے دنوں سیکورٹی کونسل میں چین کے تعاون سے مسئلہ ٹل گیا،مسائل کا احساس پاکستانی قوم کو بھی ہے،اگر ملک کی بات آتی ہے تو اپوزیشن اورحکومت اکٹھی ہوجاتی ہے،حکومت کی ذمہ دار ی سب سے پہلے آتی ہے کہ ماحول کودرست رکھیں،اگرحکومتی وزرا کے بیان دیکھیں تو ان کے ساتھ بیٹھنے کو دل نہیں کرتا ہے، حکومتی وزرامیاں صاحب کی بیماری اوراپوزیشن کے بارے میں جوباتیں کرتے ہیں وہ تکلف دہ ہیں ، حکومتی وزرا کہتے ہیں کہ ہم اپوزیشن کی چیخیں سننا چاہتے ہیں،حکومتی وزرا اپنے اورلوگوں کیلئے مسائل پیدا نہ کریں،اگروزیراعظم کام کرنا چاہتے تو اپنے وزرا کوکنٹرول کریں ۔فوج ملکی دفاع کا کردار زبرست ادا کررہی ہے، پلوامہ واقعے کے بعد فوج نے بھارت کو زبردست جواب دیا،اس واقعے سے فوج اورائیرفورس کی عوام میں عزت بڑھی ہے۔ایمنسٹی سکیم سے اگرپیسے ملک میں آتے ہیں تو بہتر ہے۔

ایفی ڈرین کیس؛ (ن) لیگی رہنما حنیف عباسی کی سزا معطل، ضمانت منظور

لاہور  : ہائی کورٹ نے ایفی ڈرین کیس میں (ن) لیگی رہنما حنیف عباسی کی سزا معطل کرتے ہوئے ضمانت منظور کرلی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے ایفی ڈرین کیس میں سزا یافتہ (ن) لیگی رہنما حنیف عباسی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، اس دوران حنیف عباسی کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ انسداد منشیات عدالت نے کیس کے فیصلے میں اہم قانونی پہلوؤں کو نظر انداز کیا جب کہ کیس میں نامزد دیگر 7 ملزمان کو شک کی بناء پر بری کیا جا چکا ہے۔ کیس کو سیاسی بنیادوں بنایا گیا لہٰذا سزا معطل کرکے درخواست ضمانت منظور کی جائے۔

عدالت نے حنیف عباسی کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ایفی ڈرین کوٹا کیس میں حنیف عباسی کی سزا معطل کرتے ہوئے درخواست منظور کرلی۔ عدالت کی جانب سے روبکار جاری ہونے کے بعد حنیف عباسی کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال راولپنڈی کی انسداد منشیات عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان نے ایفی ڈرین کوٹا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے (ن) لیگ کے رہنما حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جب کہ دیگر 7 ملزمان کو شک کی بنا پر بری کردیا گیا تھا۔

ایفیڈرین کیس کی تاریخ؛

ادویات بنانے والی کمپنیوں کو ایفیڈرین کی الاٹمنٹ میں ہوشربا بے ضابطگی کی باز گشت پہلی مرتبہ مارچ 2011 میں سنی گئی جب اس وقت کے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے اسمبلی کو بتایا کہ مکمل تحقیقات کے بات یہ سامنے آئی ہے کہ ایفیڈرین کی مقرر کردہ مقدار سے کئی گنا زیادہ مقدار کی غیر قانونی طور الاٹمنٹ کی گئی ہے۔ صرف دو کمپنیوں کو 9 ہزار کلو گرام ایفیڈرین الاٹ کی گئی جب کہ زیادہ سے زیادہ مقدار 5 سو کلو گرام ہے۔

وفاقی وزیر نے اس بات کا انکشاف رکن اسمبلی کے سوال کے جواب میں کیا تھا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس چوہدری محمد افتخار نے از خود نوٹس لیا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے اس مقدمے میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کو نامزد کیا گیا تھا۔

ایفیڈرین کیس کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے اینٹی نارکوٹس فورس نے 27 جولائی 2012ء کو حنیف عباسی کے خلاف چالان جمع کرایا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حنیف عباسی اور ان کے بھائی کی فارما سیوٹیکل کمپنی نے 2010 میں اپنی ضرورت سے زیادہ ایفیڈرین الاٹ کراوئی تھی لیکن اسے دو سال گزرنے کے باوجود استعمال نہیں کیا گیا۔ اے این ایف نے الزام عائد کیا تھا کہ ایفیڈرین کو منشیات فروشوں کو فروخت کردیا گیا تھا۔

ایف 16 کی تباہی صرف لفظوں میں

بھارتی سرکار اور فضائیہ سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں کہ کسی طرح پاکستان کا ایف۔16 طیارہ گرانے کا دعویٰ ثابت کرسکیں۔ اس کیلئے کبھی میڈیا پر جھوٹے دعوے کئے جاتے ہیں تو کبھی پریس کانفرنس کا سہارا لیا جاتا ہے۔ مگر ہر حربہ ناکام ہورہا ہے کیونکہ جس بات کا کوئی وجود ہی نہیں تو ثبوت کہاں سے آئے گا۔ اس ساری تگ و دو کی وجہ یہ ہے کہ 27 فروری2019کو پاک فضائیہ نے اپنی حدود پار کرنے پر بھارتی فضائیہ کے دو مگ طیارے مار گرائے تھے۔ پاکستان نے نہ صرف ان تباہ شدہ بھارتی طیاروں کے تصویری ثبوت دیئے بلکہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری، خاطر تواضع اور رہائی بھی براہ راست دنیا کو دکھائی۔ اس سے قبل بھی جب بھارت نے بالاکوٹ پرحملہ اور ساڑھے تین سو دہشت گرد مارنے کا دعویٰ کیا تھا تو کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا تھا۔ نہ کسی عمارت کی باقیات اور نہ ہی کوئی لاش حتیٰ کہ ایک قطرہ خون تک نہ دکھا سکا۔ صرف چند درختوں کی لاشیں تھیں جو موقع پر موجود تھیں۔ اب بھی بھارت ہمارا ایف 16 مارنے کا دعویٰ تو بار بار کر رہا ہے مگر اس کا کوئی ثبوت ، کوئی ملبہ دکھانے سے قاصر ہے۔ اس ضمن میں حال ہی میں امریکی جریدے نے بھارت کے جھوٹ کا پول کھولتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایف۔16 طیارے گننے کی پیش کش کی تھی جس پر امریکی حکام نے طیاروں کی تعداد مکمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسکواڈ میں سے کسی طیارے کے غائب نہ ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی پاکستانی طیارہ تباہ نہیں ہوا۔ہماری پیشہ ور مسلح افواج ڈھول نہ پیٹ کر بردباری کا مظاہرہ کر رہی ہیں جبکہ ہمارے پاس کہنے اور دکھانے کو اس سے زیادہ سچ موجود ہے۔ بھارتی طیارے کے ملبے سے چاروں میزائل درست حالت میں قبضے میں لیے گئے۔ پاکستان نے شور نہ مچا کر عاجزی کا ثبوت دیا۔27 فروری کو طیارے گرنے پر بھی بھارتی سرکار نے جھوٹ کا دامن نہیں چھوڑا ۔ بھارت کی تینوں مسلح افواج کے نمائندے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی پاکستان میں دہشت گردوں کے کیمپ کے ثبوت فراہم نہ کرسکے۔ تینوں افواج کے نمائندوں نے پہلے سے لکھے ہوئے مختصر بیانات میڈیا کو پڑھ کر سنائے اور فوٹو سیشن کے بعد چلتے بنے۔ سب سے پہلے ایئر فورس کے نمائندے ایئر وائس مارشل اے وی ایم کپور نے پہلے سے لکھا ہوا بیان پڑھا۔جس میں کہا گیا کہ 27 فروری 2019 کو صبح 10 بجے انڈین ریڈار نے بڑی تعداد میں پاکستانی طیاروں کو بھارتی حدود میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے الزام دہرایا کہ انڈین ایئر فورس نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ گرایا ہے لیکن اس بارے میں کوئی واضح ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان ایئر فورس نے بھارت کی ملٹری انسٹالیشنز کو نشانہ بنایا ، ملٹری کمپاؤنڈز میں پاکستانی بم گرے لیکن ان سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اس کے بھی کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ بھارتی ایئر وائس مارشل اے وی ایم کپور نے تسلیم کیا کہ پاک فضائیہ نے نہ صرف ان کا مگ 21 تباہ کیا ہے بلکہ اس کے پائلٹ کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا تھا کہ پاکستان نے کارروائی میں کوئی ایف 16 طیارہ استعمال نہیں کیا اور ان علاقوں کو ٹارگٹ کیا ہے جہاں سے کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ابھی چند روز قبل بھارتی فضائیہ کے ایئر وائس مارشل آر جی کے کپور نے ایک بھرپور پریس کانفرنس میں ریڈار سے حاصل ہونے والی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے سامنے پاکستان کے ایف۔16 طیاروں کا گروپ موجود تھا اور ایک ہی سکینڈ بعد دیکھا جا سکتا ہے کہ اس گروپ میں سے ایک پاکستانی جہاز غائب ہوجاتا ہے۔ مزید جھوٹ بولتے ہوئے بھارتی ایئر وائس مارشل کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس پاکستانی طیارے کے تباہ ہونے اور گرنے کی ٹیلی، آڈیو شواہد بھی موجود ہیں لیکن ان تصاویر اور آڈیو شواہد کو سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے عام نہیں کیا جا سکتا۔ اب بھلا پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کو کون خاموش کروائے۔ لہٰذا پریس کانفرنس میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی جب بھارتی فضائیہ کے افسران صحافیوں کو عام سے سوالات کے جوابات دینے میں ناکام رہے۔ ایئر وائس مارشل پاکستانی طیارے کے ملبے، طیارے کے گرنے مقام اور پاکستانی پائلٹ سے متعلق کسی سوال کا جواب نہ دے سکے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بالکل حق بات کی ہے کہ سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ بھارت نے اگر دعویٰ کیا ہے تو اس کا ثبوت بھی تو پیش کرے۔ صرف زبانی کہہ دینے سے تو طیارے نہیں گرتے۔ اگر ان کے پاس ایف 16 گرنے کا ثبوت ہوتا تو یہ چپ رہتے۔ جو لوگ ایک جھوٹ کا اتنا واویلا کر رہے ہیں ، اگر ان کے پاس دکھانے کو کوئی بھی چیز ہوتی تو وہ خاموش کیوں رہتے۔ کہا جا رہا ہے کہ تصاویر اور ویڈیو سیکورٹی خدشات کی وجہ سے نہیں دکھارہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ آڈیو، ویڈیو، تصاویر نہ دکھا کر سیکورٹی خدشات کو ہوا دے رہے ہیں۔ کم از کم اپنے عوام سے تو سچ بولیں۔ اپنے گنے چنے غیر جانبدار صحافیوں کو ہی تباہ شدہ ایف 16 کی ویڈیوز دکھادیں۔ اور نہیں تو اپنے دوست اپنے مربی امریکہ اور اسرائیل کو ہی اس کا کوئی ثبوت دے دیں۔ مگر کیسے، کوئی ثبوت ہو تو پیش کریں نہ۔ اگر ان کو ایف 16 ایک انچ کا ٹکڑا بھی مل جاتا تو اس کو پورا جہاز بنا کر پیش کر دیتے۔ مگر دعوے صرف دعوے ہی ہیں، حقیقت کچھ نہیں۔ دوسری بات یہ کہ بقول بھارتی سرکار کے ،کیا ریڈار پر نظر آنے والے طیارے ایف 16 ہیں اور ان کے پیچھے کے طیارے میں ابھی نندن بھی بیٹھا نظر آرہا ہے۔ بھارتی فضائیہ کے ایئروائس مارشل کا یہ کہنا کہ ابھی نندن کے ہٹ کرنے پر ایک جہاز غائب ہوگیا اور گر کر تباہ ہوگیا۔ اگر ابھی نندن کا جہاز ان کو ریڈار پر نظر آرہا ہے تو اس کے آگے جاتے ہوئے ایف 16 بھی صاف نظر آرہے ہوں گے۔ تو میڈیا کو کیوں نہیں دکھاتے۔ اصل میں حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہوا یہ تھا کہ آگے والے جہاز بھارتی مگ تھے جن کے پیچھے ایک ہمارا شیر تھنڈر جے ایف 17 تھا ۔ جس کے اٹیک کرنے پر ابھی نندن والا جہاز دوسرے جہازوں سے علیحدہ ہو کر آزاد کشمیر میں گر کر تباہ ہوگیا ۔ آپ خود ہی سوچئیے کہ اب کیسے اپنے جہاز کی تباہی دکھائیں۔

’’ہم مسلمان کون کون سی برائیوں میں مبتلا ہیں‘‘

آج کل کی دنیا مشینی دور کی ہے اس ہنگامہ خیز زندگی میں نفسا نفسی اور فراتفری عام ہے مارا ماری، سینہ زوری، دھکم پیل، ہٹو بچو آگے بڑھو، جائز ناجائز مال اور جائیدایں بنا کے بکھیڑوں میں انسان اپنے انجام سے بے خبر بس اس قدر مگن ہے کہ جیسے انسان کو موت کی کوئی فکر ہی نہیں ہے جیسے یہ دنیا اس کا مستقل ٹھکانہ ہو حالانکہ ایک انسان کی زندگی تو صرف ساٹھ ستر سال کی ہی ہے اور ہر زندہ چیز نے موت کا مزہ چکھنا ہے موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ جس پر نہ صرف تمام مذاہب کے پیروکار بلکہ مذاہب سے فرار اختیار کرنے والے بھی متفق ہیں ۔مغربی دنیا یا مزہب سے لاتعلق معاشروں کا رونا کیا رویا جائے ان میں زنا، شراب، سود، جوا اور دیگر معاشرتی برائیاں عام ہیں اور اس بارے میں یہ معاشرے کوئی عذر بھی پیش نہیں کرتے بدی اور اچھائی سب کچھ اوپن ہے سیکولرزم کے فلسفے پر یہ معاشرے چلتے ہیں جو چاہیں کریں ان سیکولر معاشروں میں خود اپنی نصف زندگی کے ماہ و صال گزارنے کے بعد جب مسلمان ممالک اور یہاں مقیم مسلمانوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا جائے تو دل بڑا بوجھل اور دلبرداشتہ ہوتا ہے ہم مسلمان کچھ ایسی برائیوں میں مبتلا ہیں جن کا حساب ہمیں انفرادی طور پر دینا ہے یہ جیسے حقوق اللہ کا پورا نہ کرنے کا معاملہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے لیکن حقوق العباد کے معاملے میں اللہ تعالی کی پکڑ بہت بڑی سخت ہے ۔ آج میں نے جو موضوع چنا ہے وہ بہت وسیع ہے اس کا ایک ہی کالم میں احاطہ کرنا مشکل ہے انفرادی اور اجتماعی رویوں یا سلوک کے بارے میں چند وہ برائیاں جو ہم جانے انجانے میں دن رات کرتے ہیں انکی نشاندھی کرنا مقصود ہے. غریبوں، غیر تعلیم یافتہ، مجبوروں اور نامساعد حالات میں جو لوگ برائیوں میں مبتلا ہیں انکو تھوڑی دیر اگر زیر بحث نہ لائیں اور صرف پڑھے لکھے یا مذہبی، سیاسی، سماجی اور عام سوجھ بوجھ والوں کا ذکر کریں تو دل خون کے آنسو روتا ہے آج کے اس کالم میں صرف ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دلوانے کی کوشش کر رہا ہوں اللہ نے زندگی بخشی تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔پاکستانی کشمیری مختلف ٹور آپریٹرز آجکل برطانیہ سے حج کیلئے قافلے لے جا نے کیلئے بکنگ کر رہے ہیں میں نے رواں ہفتے پورے برطانیہ کے بیس سے زیادہ حج پر لے جانے والے ٹور آپریٹرز کو فون کرکے حج پیکجز کا معلوم کیا تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ایک آدمی کے حج کے اخراجات کا کم سے کم خرچ 5150 پاؤنڈز اور زیادہ سے زیادہ 7200 کا تخمینہ بتایا گیا ہے یعنی صرف دو سٹار ہوٹل پر رہائش والے پیکچز کے لئے ایک آدمی کو دس لاکھ روپے ادا کرنے پڑ رہے ہیں اور اگر وہ ذرا مالدار آدمی ہے اور ذرا بہتر ہوٹل میں رہنا چاہتا ہے تو 14 لاکھ روپے ادا کرے گا ایک حاجی کو اپنی جیب خرچ کے لئے بھی تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ لے جانا پڑتا ہے ۔ایسے حج ٹور آپریٹرز جو خود ایجنٹ ہیں وہ تقریبا رہائش، قربانی، ٹرانسپورٹ، فوڈ اور دیگر سفری سہولیات میں سے ایک ہزار پاؤنڈز سے زائد منافع کما رہے ہیں جبکہ سب ایجنٹ پانچ سو پاؤنڈز سے زائد فی کس حاجی کما رہے ہیں نفلی حج کرنے والے بھی پانچ سالہ پابندی کے باعث 535 پاؤنڈز جرمانہ ادا کرکے بڑی تعداد میں حج ادا کر نے جاتے ہیں پہلے مولوی حضرات اور مالدار لوگ ہر سال حج پر جاتے تھے اب سعودی عرب نے پہلے حج کے بعد کچھ عرصے کی پابندی لگائی ہے حج اور عمرہ کروانے والے باقاعدہ ایک بزنس انڈسٹری سے منسلک ہیں یہ ایک منافع بخش بزنس بن چکا ہے علمائے کرام اس بزنس کی باقاعدہ سرپرستی کرتے ہیں مفت میں حج بھی کرتے ہیں اور ٹور آپریٹرز سے اپنا حصہ بھی وصول کرتے ہیں بعض علمائے کرام تو خود اسی کاروبار سے منسلک ہیں میری طرح آپکے گمان میں بھی شاید حج پر لے جانے والے نیکی اور بھلائی کیلئے یہ کام کرتے ہونگے لیکن اکثریت کا یہ کاروبار ہے میں اپنے مسلمان برطانیہ میں ہاؤس آف لارڈز کے ممبران اور ممبران آف پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ حج کے اخراجات کا معاملہ سعودی حکومت اور برطانیہ میں قائم سعودی سفارت خانے کے ساتھ اٹھائیں یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ چند سال پہلے تک وہی لوگ جو حج پر یوکے سے جاتے تھے، ان کا پیکج تقریباً پندرہ سے سولہ سو پاؤنڈ تک ہوتا تھا۔مگر گزشتہ کچھ سالوں سے یہ پیکج بڑھتے بڑھتے تقریباً چھ ہزار پاؤنڈ تک چلا گیا ہے۔ مشاہدہ میں آیا ہے کہ سب سے بڑی سروس اور انتظامات یوکے کے حج آپریٹرز کے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق یورپ اور بالخصوص ناروے اور ڈنمارک کے حج آپریٹرز کے انتظامات، ہوٹلوں کی رہائش اور حاجیوں کیلئے خدمات قابل تعریف ہیں۔ اس میں گورنمنٹ سعودی عرب کا بھی کردار ہے کیونکہ اگر آپ لندن میں سعودی سفارت خانے جائیں تو وہاں آج بھی بڑے بڑے نوٹس چسپاں ہیں کہ حج اور عمرہ کا ویزہ فری ہے جبکہ اندرون خانہ گورنمنٹ سعودی عرب نے یوکے کے کچھ آپریٹرز کو ویزہ لگوانے کے لائسنس دیئے ہوئے ہیں ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ۔حج کے دوران سعودی عرب کی فلائٹس کا کرایہ وہی ہے جو عام طور پر تعطیلات میں ہوتا ہے۔جہاں تک رہائش کی بات ہے وہی ہوٹل کا ایک کمرہ جو نارمل حالات میں سو پاؤنڈ فی رات مل سکتا ہے حج کے دنوں میں سو پاؤنڈ فی بیڈ پر دیا جاتا ہے اور پھر ایک ایک کمرے میں چھ سات بیڈ لگوا دیے جاتے ہیں اور بیڈز کا معیار یہ ہوتا ہے کہ آدمی کروٹ بھی تبدیل کریں تو گرنے کا خطرہ ہوتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق آج بھی سارے خرچے ملا کر زیادہ سے زیادہ چوبیس دن کا پیکج تین ہزار پاؤنڈ سے زیادہ نہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں سبزی دال آٹھ ریال اور گوشت کے ساتھ بارہ ریال کھانا ہوٹلوں پر دستیاب ہے چائے ایک ریال کی بکتی ہے جو آج سے کء سال پہلے بھی اسی قیمت پر دستیاب تھی جو لوگ اپنے عزیز و اقارب کیطرف سے بطور سعادت قربانی (اضافی) دینا چاہتے ہوں وہ سعودی عرب کی حکومت کے قائم کردہ مختلف دفاتر میں جا کر تین سو پچاس ریال جمع کرواتے ہیں انکو قربانی کی رسید دی جاتی ہے جبکہ حجاج کرام ان سے چار سو پاؤنڈ تک قربانی کی مد میں وصول کرتے ہیں اندازے کے مطابق حج کے اخراجات کا تخمینہ کچھ اس طرح ہے ۔چار ہفتے رہائش کا پیکج کچھ اس طرح ہے ۔نمبر1فلائٹ بمعہ ویزہ = ایک ہزار پاؤنڈ ۔نمبر2مکہ اور مدینہ میں رہائش ایک ہزار پاؤنڈ۔ نمبر3منی میں رہائش بمعہ معلم کی ، فیس اور حج ڈرافٹ چار سو پاؤنڈ ہے ۔ نمبر4قربانی فی سو پاؤنڈ ، کل میزان 2500 پاؤنڈ ہے کا بنتا ہے ۔پاکستان سے جانے والے حاجیوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔اس پر رائے انشااللہ اگلی قسط میں جانیے۔۔۔(جاری ہے)

سیاسی و عوامی منظر نامہ

ملک کی سیاسی صورتحال کا عوام پر براہ راست اثر ہوتا ہے ۔ اگر ملک کے سیاسی حالات بہتر ہوں تو عوام کی حالت بھی بہتر ہوتی ہے ۔ ہمارے ایک سیاسی اکابر نے ایک موقع پر کہا کہ جمہوریت آمریت کے خلاف بہترین انتقام ہے ۔ اس کے بعد ان کی عوام دشمن پالیسیوں نے جمہوریت کو جمہور کے خلاف انتقام ثابت کر دیا ۔ جمہوریت نے آمریت کے ستونوں کو مضبوط کیا اور جمہوریت کی بنیاد عوام کو محروم رکھا ۔ بیشک کہ اس وقت گلوبل ویلج میں جتنے معاشرے مہذب و متمدن کہلاتے ہیں وہ سب جمہوریت کے پاسدار اور پاسبان معاشرے ہیں ۔ ان میں جمہور کو اہمیت دی جاتی ہے اور جمہورکو ہی اپنے حکمران منتخب کرنے اور انہیں جمہور کے مفاد میں فیصلے کرنے کا حق دیا جاتا ہے ۔ عوام کا کام نمائندوں کو منتخب کرنا ہے ۔اس کے بعد منتخب نمائندوں کاکام جمہور کے مفادات کی نگہبانی ہوتا ہے ۔یہ نمائندے عقل فہم و فراست سے کوشش کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے انہیں منتخب کر کے اپنی نمائندگی کا اعزاز بخشا ہے وہ انہیں ہر قسم کی سہولیات سے فیضیاب کریں تاکہ انہیں اپنی نمائندہ پر فخر ہو اور وہ خود عوامی نمائندگی کے فخرسے بہرہ مند ہو سکیں ۔ شاید پاکستان کے عوام کی بد قسمتی ہے کہ وہ جسے بھی اپنا جان کر اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں وہ ان کا نہیں بنتا ۔ منتخب ہونے سے پہلے یہی امیدوار چھوٹے بھائی بن جاتے ہیں اور منتخب ہو کر بھائی سے ایک دم باس بن جاتے ہیں ۔ ہمارے لوگ مروت میں اگلی باری پھر اس کی غطلیاں معاف کر کے اسے موقعہ دیتے ہیں ۔ جس پر یہ موقع پرست اس موقع کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرانے تجربہ کی بنیاد پراپنے رہے سہے ارمان بھی پورے کر تا ہے ۔انتخابی گوشواروں میں خود کو ایک متوسط طبقہ کا فرد بتانے والے ایک باری میں ہی پراڈو مافیا میں شمار ہونے لگتے ہیں ۔ اگر احتساب کی بات چل پڑے تو یہ سیاسی انتقام ہے ۔ اگر ان سے کوئی سخت سوال پوچھا جائے تو اس سے ان کا استحقاق مجروح ہو جاتا ہے ۔ ہمارے ایک سابق وفاقی وزیر ٹیوٹر پر پنجابی میں مخالفین پر جگتیں کس رہے ہوتے ہیں ۔ میں حیران ہوں کہ اللہ پاک نے انہیں کس مرتبے سے نوازا لیکن یہ اپنے تفکر اور عمل سے خود کو بھانڈ ثابت کرتے ہیں ۔مشاہدے میں آتا ہے کہ سیاسی خانوادوں کے اکابرین و متعلقین کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے سیاسی کارکن حد سے بڑھ کر ان کی چاپلوسی اورخوشامد کرتے ہیں ۔انہیں وقت حاضر کے مفکر اور مدبر طبقہ میں لے جانے کیلئے ان کے مقلدین ایک دوسرے کے دست و گریبان ہو رہے ہوتے ہیں ۔ اس خدمت کے عوض میں وہ اپنے راہنماؤں سے اپنے مفادات کی تکمیل کراتے ہیں ۔ زیادہ تر معاشی اور معاشرتی مفادات اکثر اسی وجہ سے بے انصافی اوربے اعتدالی اور میرٹ سے انحراف کا سبب بنتے ہیں ۔ نسل در نسل خدمت کے دعویدار ان کی خدمات کا انڈکس بس ان کے خاندان کے منتخب ہونے والے افراد کی لمبی فہرست پر ہی مبنی ہوتا ہے ۔ حقیقت میں تین دفعہ کے منتخب وزیر اعظم کوئی ایسا سرکاری ہسپتال نہیں بنوا سکے جس میں وہ خود اپنے امراض کے علاج کیلئے جا سکیں ۔ ایسا کوئی ہسپتال نہیں جہاں ان کے بیوی بچے اور ان کے عزیز علاج معالجے کی سہولت سے فیضیاب ہو سکیں ۔ ایسے سرکاری سکول نہیں جہاں ان کے بچے فخرکے ساتھ اپنے معاشرے کے دوسرے بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں۔ ایسی سرکاری بس سروس ٹرین سروس نہیں جس وہ خود فخرکے ساتھ اپنے عوام کی ہمراہی میں محفوظ سفر طے کر سکیں ۔ ایسی کوئی جیل نہیں جہاں پر یہ اپنے معاشرے کے دوسرے عام لوگوں کے ساتھ اپنا برا وقت کاٹ سکیں ۔ ایسا کوئی ادارہ نہیں جو بے غرض بے لوث اور بغیر کسی مداخلت کے ان کا احتساب کرے ۔ ایسی پولیس نہیں جو انکی حفاظت اقتدار کے باہر ہونے پر بھی کرے ۔ ایسی عدلیہ نہیں جو اقتدار ہو یا اقتدار سے باہر ہر حال میں انصاف کے تقاضوں کو ہاتھ سے نہ جانے دے ۔ آج انہیں سب سے گلہ کیوں ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے میرٹ سے ہٹ کر فیصلے کیے ۔جن کا حق نہیں تھا انہیں حق دیا تو آج بھی وہ ناحق ہی فیصلے کر یں گے ۔ اس وجہ یہ ہے کہ کل وہ آپ کو خوش رکھتے تھے تو آج آپ کے سیاسی مخالفین کی خوشی کو مقدم رکھنا ان کی نوکری کیلئے ضروری ہے ۔ وہ پہلے خوشامد کرکے آپ سے ترقی حاصل کرتے رہے اب وہ موجودہ صاحب اقتدار کیلئے کورنش بجا لانے میں ہی حال کی گھڑی کو محفوظ جانتے ہیں ۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والوں کو اگر عوام کی خدمت کا منصب دے دیا جائے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کوئی عوامی مفاد کا فیصلہ کر پائیں ۔ انہیں صرف اپنا آپ ہی نظر آتا ہے ۔یہاں پر ایم اے والا پچیس ہزارلے رہا ہے اورایک مالی جسے دستخط کرنا مشکل ہیں ان سفارش آرمی چیف سے کی جاتی ہے کہ ان کی تنخواہ میں ایک دم ہی تیس ہزار کا اضافہ کیا جائے ۔ ایم اے والا ان کے انڈر کام کرتا ہے کیونکہ خوش آمد کی ڈگری اس کے پاس نہیں ۔ جن کے پاس کوئی تجربہ نہیں وہ صرف عوامی نمائندہ ہونے کی دھونس اور طاقت سے ہر ادارہ کے سربراہ بن بیٹھتے ہیں ۔ جمہوریت کے بل بوتے پرمودی جیسا چائے بیچنے والا بھی آرمی کا سپریم کمانڈر بن جاتا ہے ۔ جب بندر کے ہاتھ ماچس لگ جائے تو وہ جنگل میں ہر طرف آگ آگ کا کھیل کھیل کر پورے جنگل کی زندگی کو داؤ پر لگا دیتا ہے ۔ کم ظرف اور کم فہم آدمی کو جب اونچی کرسی پر بٹھا دیا جائے تو اس سے معاشرتی مفاد کے فیصلوں کی توقع عبث ہے ۔ جو اپنے مفاد سے آگے بڑھ کر سوچتے نہیں ان کی سوچ میں ایک پورے معاشرے کی سوچ کیونکر سما سکتی ہے ۔ میں کیسے منتخب ہوسکتا ہوں اور میں کیسے مخالف کو شکست سے دوچار کروں کہاں دھاندلی کروں کہاں منت سے کام چلے گا تو میرا سفینہ پار ہو گا کی سوچ رکھنے والے سے کسی گروہ یا پورے معاشرہ کے بھلا کی توقع رکھنا عمومی سوچ ہے ۔ جنہیں ہر طرح کے امتحانات سے دوچار کر کے ایک منصب دیا جاتا ہے ان پر ایک ایسے شخص کو مسلط کر دینا جس کو اس بارے میں بریفنگ بھی وہی صاحب سیٹ دے کیسا انصاف ہے ۔ وزیر خزانہ یا تو خود اس قابل ہوں کہ وہ بجٹ بنا سکیں تو بنائیں وگرنہ اگر انہوں نے سیکریڑی فناس ڈویژن کو ہی استعمال کرنا ہے تو پھر ان کو منسٹر کی تنخواہ اور مراعات دینا جمہور یت کی توہین ہے ۔ جب وزارت خزانہ کامیاب نہیں ہو پا رہی تو ان کے ہاتھ سے یہ ماچس کیوں چھین نہیں لی جاتی جس سے وہ جمہور اور جمہوریت کے کھیل میں آگ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔عوام کو مہنگائی کا تحفہ دینا جمہوریت کے دامن پر داغ لگا نا ہے ۔ عوام آمریت کے دور سے اس کا تقابل کرتے ہیں تو انہیں اس دور میں ضروریات زندگی کی دستیابی میں آسانی اور فراوانی جمہوریت سے متنفر کرتی ہے ۔ جمہوریت کے دعویدار خزانہ خالی ہونے کی وجہ سے عوام سے قربانی کی مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ اپنے لیے مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کا بل فورا منظور کر دیا جاتا ہے ۔ نئی گاڑیوں کی منظوری بھی فوراً دے دی جاتی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ خزانہ خالی نہیں عوام سے جھوٹ بولا جارہا ہے ۔ ایسا نہیں تو پھر آپ کے دل میں رحم نہیں کہ جن لوگوں کو نیا پاکستان کے خواب دکھائے اور ان سے ووٹ لئے سے جھوٹ بولتے ہو ۔ یا وہ جھوٹ تھا یا پھر یہ جھوٹ ہے ۔ دونوں میں سے جو سچ ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ مطلبی اور جھوٹے ہو ۔ آپ نے عوام سے فراڈ کیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کی آنکھیں بند ہیں اوروہ سیاسی جماعتوں کے منشور پر عمل کے تناسب کو چیک نہیں کر تا تاکہ آنے والے الیکشن میں اس تناسب کی بنیاد پر انہیں عوامی عدالت سے پہلے الیکشن کمیشن کی عدالت میں کھرے اور کھوٹے کی پہچان کر ادی جائے ۔

*****

پاک چین راہداری منصوبہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے سی پیک کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ راہداری منصوبہ پورے خطے میں مواقع کے دروازے کھولے گا۔

وزیراعظم عمران خان سے چینی سفیر کی قیادت میں سی پیک پر کام کرنے والی 15 کمپنیوں کے نمائندوں نے ملاقات کی۔ چینی سفیر نے عمران خان کو چینی صدر اور وزیراعظم کا نیک خواہشات کا پیغام دیا کہ چینی قیادت وزیراعظم عمران خان کے دورۂ چین کی منتظرہے۔

چینی سفیر نے چینی کمپنیوں اور کاروباری افراد کو سہولیات فراہم کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سماجی ترقی میں شراکت داری جاری رکھیں گے۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاک چین راہداری منصوبہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، سی پیک منصوبہ دونوں ممالک کی دوستی کا مظہر ہے اور اس منصوبے سے پورے خطے میں مواقع کے دروازے کھلیں گے

وزیراعظم نے منصوبے پر کام کرنے والی کمپنیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی یقین دہانی بھی کرائی۔

خوشحالی کے خواب حقیقت میں ڈھلنے لگے ۔۔۔!

عزیز میں بہت سی مشکلات کے باوجود معاشی اصلاحات کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ کامیابی کی جانب جاری و ساری ہے جس کا اعتراف غیر جانبدار معاشی ماہرین بھی کرتے نظر آتے ہیں جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ ورلڈ بینک سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اگلے 28 برس میں پاکستان 2 ٹریلین ڈالرز پر مشتمل اقتصادی قوت بننے کی اپنے آپ میں صلاحیت کا حامل ہے۔ اس منزل کے حصول کی خاطر گرچہ ابھی بہت سے مراحل طے کرنا باقی ہے مگر حالیہ چند ہفتوں میں اس تناظر میں کئی ایسی مثبت باتیں تلاش کی جا سکتی ہیں جس سے لگتا ہے کہ اس ضمن میں سفر اگرچہ دھیما ہے مگر سمت کا تعین خاصی حد تک واضح ہے ، جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں روشن امکانات کا ایک وسیع جہان نظر آنا شروع ہو چکا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ بحیثیت قوم کس حد تک اور کس انداز میں حکومت اور سوسائٹی کے دیگر حلقے اس صورتحال کو اجتماعی قومی مفاد میں استعمال کر پاتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی خاصا حوصلہ افزا ہے کہ کوئلے کے وسیع ذخائر نہ صرف دریافت ہو چکے ہیں بلکہ ان سے 300 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، اور امکان ہے کہ اس سے آنے والے عرصے میں ہزاروں میگاواٹ بجلی کا حصول ممکن ہو پائے گا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت کو ماضی قریب میں گرچہ کافی دھچکے پہنچے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ امر باعث اطمینان ہونا چاہیے کہ مجموعی طور پر وطن عزیز میں مثبت پیش رفت کا آغاز ہو چکا ہے جس کے ثمرات ہر سطح پر محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ غیر جانبدار سنجیدہ حلقوں کے مطابق اگرچہ اس ضمن میں بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے مگر یہ کہنے میں غالباً کوئی عار نہیں کہ صورتحال قدرے خوش آئند ہے گویا
حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیں؟
بارشوں کے خوف سے کیا گھر بنانا چھوڑ دیں؟
اسی ضمن میں یہ بات توجہ کی حامل ہے کہ ایک جانب سیاحت کے شعبے میں ملک میں نمایاں ترقی کا آغاز ہو چکا ہے جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں میں چین سے پاکستان آنے والے سیاحوں کی تعداد خاصی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سی پیک کی بدولت بنیادی ڈھانچے میں قابل لحاظ حد تک بہتری آئی ہے ، یہ بات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ عالمی اور علاقائی سطح پر سیاحت تب ہی فروغ پاتی ہے کہ جب سفر کرنے والوں کو سہولتیں میسر ہوں ،اس ضمن میں سی پیک نے گزشتہ کچھ عرصے سے جو کردار ادا کیا ہے اس کے نتیجے میں سیر و سیاحت کا شعبہ خاصی تیزی سے بہتری کی جانب راغب ہے۔ نہ صرف چین سے پاکستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ موجودہ حکومت کی چونکہ ترجیحات میں بھی سیاحت سر فہرست ہے، اسی لئے بہت سے ممالک نے اپنی ویزہ پالیسی میں پاکستان کیلئے خصوصی طور پر نرمی پیدا کی ہے اور اس ضمن میں مزید مثبت رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ درج ذیل باتوں پر توجہ دی جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر گزشتہ 15 سے 20 برس کے دوران تھائی لینڈ، لاؤس، ویت نام، بنگلہ دیش، میانمر ، کمبوڈیا، فلپائن ، سنگاپور ،ملائیشیا اور انڈو نیشیا میں جو قابل رشک حد تک معاشی ترقی ہوئی ہے اس میں سیاحت کے شعبے نے بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے، اس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں سیر و سیاحت کے رجحانات تقویت پا رہے ہیں اور مجموعی طور پر دنیا میں ٹورازم ان چند شعبوں میں سر فہرست ہے جو سب سے زیادہ تیزی سے پھل پھول رہے ہیں۔ ایسے میں اس امر کو خوش آئند قرار دیا جانا چاہیے اور امید کی جانی چاہیے کہ وطن عزیز میں اس ضمن میں مزید پیش رفت ہو گی۔ یہاں یہ امر توجہ کا حامل ہے کہ اس حوالے سے بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں کو خصوصی کردار ادا کرنا ہو گا اور ٹورازم کو بھرپور معاونت فراہم کرنی ہو گی۔ توجہ طلب ہے کہ مالدیپ جیسے ساڑھے 4 لاکھ سے کم آبادی پر مشتمل چھوٹے سے ملک میں بھی ہوٹل اور سیاحت کے مراکز ہی ملک کو زر مبادلہ فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ایسے میں پاکستان جہاں دنیا بھر کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں سے لے کر صحرا تک سبھی کچھ موجود ہے وہاں اگر توجہ دی جائے تو ہوٹلنگ کے شعبے میں خاطر خواہ مراعات اور سہولیات میسر کرا کر غالباً پاکستان کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔ اس بابت البتہ یہ امر ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ آگے بڑھتے ہوئے معاشرتی اور ملکی ماحول میں توازن برقرار رکھنا خاصا ضروری ہے، بہرحال یہ بات خاصی حوصلہ افزا ہے کہ وزیراعظم اس ضمن میں خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور کافی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارتی حکمران پاکستان کے حوالے سے جس طرح توسیع پسندانہ عزائم رکھتے ہیں، انہی کے تناظر میں پاکستان کے خلاف طرح طرح کے بے بنیاد الزامات گھڑتے رہتے ہیں اور بہت سی دیگر قوتوں کی آنکھوں میں بھی پاک چین دوستی کھٹکتی آ رہی ہے تبھی تو وہ اس حوالے سے سی پیک اور پاک چین تعاون کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ ان دنوں پر پوری شدت سے جاری و ساری ہے، حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ چین اور پاکستان کے مابین یہ تعلقات ایک مثالی نوعیت رکھتے ہیں اور ہر آنے والے دن کے ساتھ ان میں پختگی آتی رہی ہے۔ ایسے میں یہ توقع کی جانی چاہیے کہ مستقبل میں بھی پاک چین دوستی مزید گہری ہو گی اور مخالفین کی تمام سازشیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔
*****

Google Analytics Alternative