Home » 2019 » April » 14

Daily Archives: April 14, 2019

بلوچستان میں دہشت گردی۔۔۔دشمن مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتا

کوئٹہ ایک بار پھر دہشت گردی کی زد میں آگیا، ہزارہ گنجی فروٹ اینڈسبزی منڈی میں خود کش حملے میں سیکورٹی پر مامور ایف سی اہلکاراور ایک بچے سمیت 20افراد شہید جبکہ چار ایف سی اہلکاروں سمیت 50افراد ہو گئے ،مرنیوالوں میں ہزارہ برادری کے 8افراد شامل ہیں، دھماکہ اتنازوردار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے کے بعدہر طرف چیخ و پکار مچ گئی اور لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کر تے رہے، دھماکے سے چار گاڑیاں تباہ ، درجنوں دکانوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے میں 10کلو دھماکہ خیز مواد کیلیں اورنٹ بولٹ استعمال کئے گئے ،خود کش حملہ آورکی ٹانگیں اور دیگر اعضا تحویل میں لے لئے گئے ،واقعہ کے خلاف ہزارہ برادری نے احتجاج کیااور کوئٹہ چمن شاہراہ بلاک کردی۔دہشت گردی کادوسراواقعہ چمن میں مال روڈپرفلسطین چوک میں پیش آیا جس میں دوافرادجاں بحق اوردس زخمی ہوئے۔ وزیر داخلہ بلو چستا ن میر ضیااللہ لانگو نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ دھماکے کا ہدف کوئی خاص کمیونٹی نہیں تھی،سیف سٹی منصوبہ جلد مکمل کریں گے قاتلوں تک پہنچ کر انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے ، کوئٹہ کاواقعہ انتہائی افسوسناک اورقابل مذمت ہے۔ سیکیورٹی فورسزدہشت گردی کے خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں۔ملک دشمن قوتیں اوردہشت گرد عناصر بلوچستان میں افراتفری اور بد امنی پھیلا کر صوبے کے امن کو خراب کررہے ہیں۔خود کش دھماکہ کرنے والے نہ تو مسلمان ہیں نہ ہی انسان کہلانے کے لائق ہیں۔ بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان اور خاص کر بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے ، بلوچستان میں دہشت گردی میں ہمیشہ بھارت ملوث رہاہے اور اس حوالے سے حکومت پاکستان نے ثبوت بھی فراہم کئے،پاکستان میں بھارت کی کھلم کھلا مداخلت اس امر کا بین ثبوت ہے کہ وہ اب بھی پاکستان کے خلاف خفیہ کارروائیوں میں مصروف ہے۔ہمیں اس پوشیدہ و ازلی دشمن سے ہمیشہ چوکنا رہنا ہو گا بھارت بلوچستان میں افراتفری پھیلانا چاہتاہے۔ بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کے خلاف مہم میں مصروف رہتی ہیں۔ ہمارے خلاف سازشوں میں صرف بھارت ملوث نہیں ہے بلکہ اسرائیل اور امریکہ بھی ہر وقت بھارت کی پشت پناہی کو تیار رہتے ہیں۔ خاص طور پر چین کی مدد سے بننے والے سی پیک منصوبے پر تو امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں۔ ان کامقصدوطن عزیز میں دھماکے کرکے خوف و ہراس پھیلانا، معصوم لوگوں کو خون میں نہلانا اور امن و امان کی حالت کو تہس نہس کرنا ہے۔ ہمارے بعض سیاسی عناصر اور سیاسی جماعتیں دشمن قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہیں اور ان قوتوں کے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ان کی مدد گار ہیں جس کے عوض میں انہیں بھاری مالی امداد، جدید اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ عناصر بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر اور کراچی میں لسانی قوتوں کو منظم کر کے آپس میں لڑوانے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ ان عناصر کو بین الاقوامی خفیہ ہاتھ منظم کر رہے ہیں ۔’’را‘‘ ہمارے وطن عزیز میں انتشار پیدا کرنے اور فرقہ واریت پھیلانے کیلئے ہمارے بعض مذہبی فرقوں کے سرگرم کارکنوں کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کر کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں بم دھماکے کروارہی ہے۔عوام پرامن رہتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں مذہبی ہم آہنگی ،رواداری، یکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ اور متحد رہ کر ہی امن دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے ۔پاکستان خطے کا اہم ملک بننے جا رہا ہے اسکے بہت سے دشمن ہیں جو بد امنی پھیلانا چاہتے ہیں۔ دہشت گردحملے میں غریب اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جوکہ اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے مزدوری میں مصروف عمل تھے۔پاکستان نے خطے میں دہشت گردوں کے سہولت کارو ں کو بے نقاب کرنے کاعزم کررکھاہے اور دہشت گردی کے حملے اس ناسور کے خاتمے کیلئے قوم کے عزم کوغیرمتزلزل نہیں کرسکتے۔ مسلح افواج کی قربانیوں کی بدولت ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ہمسایہ ملک نے پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اپنا رکھا ہے۔ دہشت گردی کے حملے سے پاکستان کے وزیرخارجہ کے اس بیان کی توثیق ہوگئی ہے کہ بھارت ملک میں انتخابات سے قبل پاکستان کے خلاف کسی قسم کی مہم جوئی کرسکتاہے۔ جانی و مالی نقصان کے باوجود پاکستان نے عزم، اجتماعی دانش اور مسلسل جدوجہد سے دہشت گردی کا خاتمہ کیاہے، دہشت گردی کیخلاف اجتماعی طرزِ عمل، سکیورٹی فورسز اور دیگر کی جامع حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی۔بم دھماکے کرنے میں ملک دشمن قوتیں ملوث ہیں ،صوبائی حکومت اور تمام سیکورٹی ادارے ایک پیج پر ہیں اور صوبے میں امن وامان کے قیام کیلئے بھرپوراقدامات اٹھارہے ہیں۔ دہشت گرد قوتیں اصل میں انسانیت کی دشمن ہیں جو نہتے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بلوچستان میں بحالی امن کے لئے سیکورٹی فورسز اور عوام کی بے پناہ قربانیاں ہیں جنہیں ضائع ہونے نہیں دیا جائے گا۔انسانیت کے دشمن کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ملک دشمن عناصرصوبے کی ترقی نہیں چاہتے ،پہلے بھی دشمن کی ہرسازش کوناکام بنایاگیا ہے اورآئندہ بھی انشاء اللہ انہیں ناکامی کاسامناہی کرناپڑے گا۔پاکستان کی مسلح افواج نے بے شمارقربانیوں کی بدولت صوبے میں امن قائم کیاہے جسے ہرصورت قائم رکھاجائے گا ،بچے کھچے دہشت گردجلداپنے منطقی انجام کو پہنچ جائیں گے ۔
اما م کعبہ کی پاکستان آمد۔۔۔فیصل مسجدمیں خطبہ جمعہ
امام کعبہ نے اسلام آباد کی فیصل مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیا اور نمازجنازہ جمعہ کی امامت کروائی جس میں بہت بڑی تعداد میں عوام شریک ہوئے۔ خطبے میں انہوں نے مسلمانوں کو تقوی اختیار کرنے کی تلقین کی۔امام کعبہ نے خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان اور سعودی عرب توحید کی بنیاد پر قائم ہوئے اور پاکستان تمام مسلمانوں کا محور ہے، امام کعبہ نے کہا کہ مسلمانوں کو اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے دعائیں بھی کروائیں۔ اسلام امن و امان سے رہنے کا درس دیتا ہے، اسلام اخوت و بھائی چارے کا نام ہے، رمضان کا مہینہ مسلمانوں کیلئے اللہ کا تحفہ ہے اس مہینے میں صدقات اور خیرات کا اہتمام کریں۔امام کعبہ نے مسلمانوں کے اتحاد پرزوردیاہے ۔دریں اثنا انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے امام کعبہ شیخ عبداللہ عواد الجہنی نے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کی قوت ہوتے ہیں معاشرے کا کایا پلٹ سکتے ہیں۔ نوجوان اپنی قدومنزلت کو پہچانیں۔ نوجوانوں کو دین کے نام پر ورغلایا جاتا ہے۔ نوجوان گمراہ لوگوں کے جھانسے میں نہ آئیں، دینی مسائل میں علما حق سے رہنمائی حاصل کریں۔ آپﷺ کی شخصیت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے علما کرام اور دینی طبقات معاشرے کی کردار سازی کیلئے کردار ادا کرسکتے ہیں۔ آج کل اسلاموفوبیا کا چیلنجز ہے اس کا علاج ایک ہی ہے کہ نوجوان نسل کے ذریعے اس کا مقابلہ کیاجائے۔ رسولﷺ نے بھی نوجوانوں کی تربیت پر زور دیاقائداعظم محمدعلی جناحؒ جب بھی اہم اعلان کرتے تو نوجوانوں کے سامنے کرتے تھے علامہ اقبالؒ نے بھی نوجوانوں کو اپنے شاعری کا مرکز بنایا۔

فاٹا میں اصلاحات کا نفاذ

فاٹا میں ایک عرصے سے بنیادی اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تا کہ وہاں کے مقامی لوگوں کو پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح قومی ترقی کے عمل میں شریک کار کیا جا سکے۔ فاٹا میں ایف سی آر کا قانون نافذ ہونے کے باعث یہاں پر انگریز کا قانون چلا آرہا تھا اور تمام اختیارات پولیٹیکل ایجنٹ کو حاصل تھے جسے اس علاقے کا انتظام چلانے کے لیے لیوی فورسز کا تعاون حاصل تھا۔گزشتہ برس قومی اسمبلی میں 31ویں آئینی ترمیمی بل کے ذریعے فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام کر دیا گیا۔ امسال فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہوگا اور منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔وفاقی حکومت کی طرف سے فاٹا میں بنیادی اصلاحات کے نفاذ کے بعد قبائلی علاقہ جات میں پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح پولیس ایکٹ 1961ء نافذ ہو گا جبکہ فاٹا کے بنیادی عدالتی نظام میں بھی تبدیلی لائی گئی ہے جس کے بعد وہاں بھی نیا عدالتی نظام لاگو ہو گا۔فاٹاکے انضمام کے بعدمزید اصلاحات کا عمل جاری ہے لیکن بعض پیچیدگیاں بھی اپنی جگہ ہیں۔ فاٹا انضمام کے بعد ناقدین کا موقف تھا کہ حکومت نے فاٹا میں بنیادی اصلاحات تو نافذ کر دی ہیں لیکن اسی پولیٹیکل ایجنٹ اور لیویز کو نئی تبدیلیوں کے تحت عہدوں پر فائز رکھا ہے۔سابق فاٹا میں مقامی سطح پر امن و امان کی تمام تر ذمہ داری خاصہ دار اور لیوی فورس کے ذمے تھی اور اس ضمن میں انہیں قانونی تحفظ بھی حاصل تھا لیکن انضمام کے بعد ان کے سروس سٹرکچر کے بارے میں کچھ عرصہ قبل تک حکومت کی طرف سے کوئی واضح فارمولہ سامنے نہیں آیا تھا ۔ لیویز اور خاصہ دار فورس کا کہنا تھا کہ نئے نظام میں انہیں اپنا وجود نظر نہیں آرہا ہے اور نہ حکومت اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔مختلف سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمام قبائلی اضلاع میں خاصہ دار اور لیوی فورس کی کل تعداد 25000 ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ چند روز پیشتر ہی وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے لیویز اور خاصہ دار کو پولیس میں ضم کرنے کا نو ٹی فکیشن جاری کر دیاجس کے بعد 28 ہزار لیویز اہلکار آج سے خیبر پختونخوا پولیس کا حصہ ہونگے۔ ریٹائیرڈ خاصہ دار کی سیٹ پر ان کے گھر سے کسی فرد کو بھرتی کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت ہے کہ کسی کو بیروزگار نہ کیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لیویز اور خاصہ داروں نے قربانیاں دیں۔فاٹا کے انضمام کے بعدآج تاریخی دن ہے۔ جلد سے جلد خاصہ دار فورس کی ٹریننگ شروع کی جائے گی۔ خیبرپختونخوا کے پولیس کو حاصل مراعات اب نئے قبائلی اضلاع کے ضم خاصہ دار اور لیوز کو بھی حاصل ہونگے۔صوبائی حکومت کے اس اقدام سے 28 ہزار لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔ فاٹا میں بنیادی اصلاحات نافذ کرنے کے بعد لیویز کے نظام کو پولیس کے نظام میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اب لیویز کمانڈنٹ کے بجائے آئی جی پولیس سربراہ ہوں گے جب کہ نائب تحصیلدار سے کم عہدے کے شخص کو پولیس افسر تعینات نہیں کیا جا سکے گا۔ متعلقہ حدود کے پولیٹیکل ایجنٹ کو اب سیشن جج‘ مجسٹریٹ‘ مجسٹریٹ درجہ اول جب کہ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ فاٹا ٹربیونل کو ہائیکورٹ سے تبدیل کیا گیا ہے‘ پولیٹیکل ایجنٹ اب ڈی سی او کے طور پر بھی کردار ادا کر سکیں گے۔خاصہ دار فورس کو سابق فاٹا میں ایک کمیونٹی پولیس کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی بھرتی مختلف قبائل سے کی جاتی ہے اور ہر قبیلے کو ان کی آبادی کے لحاظ سے خاصہ دار دیے جاتے تھے۔خاصہ دار اہلکاروں کی بھرتی کے لیے کوئی باقاعدہ نظام یا قوانین موجود نہیں جیسے عام طور پر پولیس یا فوج میں ہوتا ہے بلکہ کوئی بھی قبائلی شخص خواہ وہ نوجوان ہو یا زیادہ عمر کے اس فورس کا حصہ بن سکتا ہے۔اس فورس کو مراعاتی فورس بھی کہا جاتا ہے۔ مثلاً اگر سابق فاٹا میں پولیٹکل انتظامیہ یا حکومت کسی بااثر قبائلی سردار یا ملک سے کوئی اہم کام لیتی تو اس کو بدلے میں نوازنے کے طور پر دو یا تین خاصہ دار دیے جاتے اور اس طرح وہ اپنے قبیلے یا خاندان میں کسی عزیز یا رشتہ دار یا اپنے بیٹے کو خاصہ دار فورس میں بھرتی کرتا اور اس طرح ان کی نوکری لگ جاتی۔عام طور پر جب کوئی خاصہ دار اہلکار ریٹائر ہو جاتا ہے تو اس کی جگہ ان کے بیٹے کو بھرتی کیا جاتا اور اس طرح یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا رہتا ہے۔اس فورس میں بھرتی ہونے والے افراد کے لیے پہلے زیادہ تربیت لازم نہیں ہوا کرتی تھی۔ چونکہ یہ فورس قبائل پر مشتمل ہوتی تھی اور قبائلی علاقوں میں ویسے بھی اکثریت افراد بندوق چلانے اور علاقائی روایات اور طور طریقوں سے واقف ہوتے ہیں لہٰذا ان کے لیے ٹریننگ کی شرط نہیں ہوتی تھی۔ تاہم قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوجانے کے بعد خاصہ دار فورس کی تربیت پر بھی توجہ دی جانے لگی۔لیوی فورس خاصہ دار اہلکاروں کے مقابلے ایک باقاعدہ فورس کے طور پر جانی جاتی ہے۔ تاہم دونوں کی ودری اور دیگر مراعات ایک جیسی بتائی جاتی ہیں۔لیوی فورس کا وجود ویسے تو برطانوی راج میں ہوا لیکن پاکستان بننے کے بعد یہ فورس بلوچستان اور سابق صوبہ سرحد میں بھی فرائض سرانجام دیتی رہی ہے۔ تاہم سابق فاٹا میں پہلے لیوی فورس تمام ایجنسیوں میں تعینات نہیں تھی بلکہ چند علاقوں تک ہی محدود تھی۔ لیکن سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب دہشت گردی کی آگ قبائلی علاقوں تک پھیلی تو اس فورس کو زیادہ تر ایجنسیوں تک توسیع دی گئی۔قبائلی علاقوں میں یہ فورس لیوی ایکٹ کے تحت پولیٹکل ایجنٹ کے ماتحت کام کرتی رہی ہے اور اس کی ذمہ داری سرحدی علاقوں سمیت تمام علاقوں میں امن و امان اور حکومتی عمل داری کو برقرار رکھنا ہے۔ اب فاٹا میں بنیادی اصلاحات نافذ ہونے کے بعد ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا وہاں ترقیاتی منصوبے تشکیل دیے جائیں گے اور فاٹا کے عوام کو تمام قانونی‘ آئینی اور بنیادی انسانی حقوق بھی مل جائیں گے۔ ایک عرصے سے یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ فاٹا کے مقامی لوگ پورے پاکستان میں کہیں بھی جا کر کاروبار کر لیتے ہیں جب کہ وہاں ایف سی آر کا قانون نافذ ہونے کے باعث دیگر علاقوں کے لوگ وہاں جا کر کاروبار نہیں کر سکتے تھے۔ جس کی وجہ سے اس علاقے میں کاروباری سرگرمیاں فروغ نہیں پا سکیں اور نہ ہی صنعتی ترقی ہو سکی۔اب ایسا ممکن ہے۔ لینڈ ریفارمز ہونے سے معاشی اور صنعتی شعبے کو مہمیز ملے گی اور روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔موجودہ حکومت نے جہاں پورے ملک میں مفاد عامہ کیلئے کاموں کا آغاز کیا ہے وہاں قبائلی علاقوں اور فاٹا میں بھی بھرپور اصلاحات کا عمل جاری ہے جس کی وجہ سے عوام الناس کی زندگی میں بہتری کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ انضمام کے بعد فاٹا اور متعلقہ علاقوں میں عوامی مسائل کے حل کیلئے صوبائی حکومت کے پی کے بھی بہت سے اقدامات کر رہی ہے۔ اب لیویز اور خاصہ دار فورس کا پولیس میں انضمام بھی بہت احسن قدم ہے جس سے نہ صرف پولیس فورس افرادی قوت کے لحاظ سے مضبوط ہوگی بلکہ لیویز اور خاصہ دار فورس کے افراد کو بے روزگاری کے مسئلے کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

 

امن کی قوتیں کبھی کمزور نہیں ہوتیں

کہتے ہیں کہ سمگلر کا کوئی وطن نہیں ہوتا اور دہشت گردکا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجدوں میں ہونے والا فائرنگ حملہ اس ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ تھا ۔اس حملے میں پچاس بے گناہ نمازی عین اس وقت جب وہ باوضو ہو کے رب کے حضور رکوع و سجود میں تھے اس سفاک انسان جس کا نام ’’برینٹن ٹیرنٹ‘‘ تھا کی سفاکیت کا نشانہ بنے اس نے اندھا دھند فائرنگ کر کے پچاس بے گناہ نمازیوں کو پل بھر میں شہید اور اتنی ہی تعداد میں لوگوں کو زخمی کر دیا ۔اس کی سفاکیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کے ساتھ ساتھ وہ اس خونی منظر کوفیس بک پر بھی لائیو نشر کرتا رہا ۔ہر آنکھ اشکبار ہو گئی ۔بے گناہ لوگوں کے خون سے زیادہ کوئی اذیت ناک منظر ہو سکتا ہے ۔عجب بے بسی کا منظر،افراتفری کی کیفیت،ایسا بہیمانہ قتل عام موویز میں بھی ہر شخص نہیں دیکھ سکتا ،اعصاب چٹخ جاتے ہیں اور انسانی جذبات میں ہیجان اور تلاطم برپا ہو جاتا ہے۔دہشت گردی کسی بھی شکل میں ہو ،کسی کی طرف سے ہو اور کہیں بھی ہو اذیت ناک بھی، قابل مذمت اور قابل نفرت بھی ہے۔ یہ دہشت گردی کا وقوع پذیر ہونے والا سانحہ گزر چکا ،دکھ شدید تھا ،اپنے جذبات و خیالات کا اظہار نہ کر سکا ۔کہتے ہیں کہ دکھ کی کیفیت ختم تو نہیں کی جا سکتی لیکن اس کی شدت میں وقت کے ساتھ کمی ضرور ہوجاتی ہے۔معزز قارئین اس حملے کا پہلا قابل غور پہلو یہ ہے کہ دہشت گرد اب کی بار مذہبی جنونی نہیں بلکہ ایک سفید فام اور نسلی تفاخر کی جنونیت میں مبتلا آسٹریلوی باشندہ نکلا ۔حملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ حملے میں مرنے اور زخمی ہونے والے سب مسلمان تھے ۔گویا اس حملے نے دہشت گردی کے حوالے سے مغرب میں پائے جانے والے اس غیر معقول تاثر اور نظریات کی بھی نفی کر دی کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی صرف مسلمانوں کا ہی شیوہ ہے۔ دراصل دہشت گردی مذہب سے ماورا اور کسی خاص نسل سے الگ فوبیا کا نام ہے۔اس دہشت گردی کے واقعے میں یہ بات بھی غلط ثابت ہوگئی جو مغربی میڈیا مسلسل باور کراتا آ رہا ہے کہ دنیا میں ہونے والی جنگوں کی وجہ صرف مسلمان انتہا پسند ہیں ۔یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کے کچھ انتہا پسند گروپ دہشت گردی کے چند واقعات میں ملوث ہیں لیکن امریکی عیسائیوں کی کچھ مذہبی بنیاد پرست جماعتیں بھی اسلامو فوبیا میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں ۔اس مذہبی شدت پسندی کا نتیجہ دونوں طرف کے بے گناہ لوگ بھگت رہے ہیں ۔دہشت پسندوں اور جنگی جنونیوں کی گولیوں کا ٹارگٹ دونوں طرف کے بے گناہ عوام ہیں ۔دہشت گرد اور انتہا پسند فقط مذہب پر نہیں بلکہ فقط دہشت گردی اور انتہا پسندی پر ہی یقین رکھتے ہیں ۔پچاس نہتے مسلمانوں کے سفاک قاتل برینٹن ٹیرنٹ کا مائنڈ سیٹ صرف سفید فام نسل کی فوقیت پر یقین رکھتا تھا ۔نہ جانے کس قصاب خانے میں رکھ کر قاتل کے ذہن میں ماضی کی صلیبی جنگوں کا خمار مشتعل کر دیا گیا تھا ۔اس انسانیت کش حرکت کو اس کا ذاتی فعل قرار دیا جا سکتا ہے تا ہم اس گھناؤنے عمل میں کار فرما سوچ کا تعاقب کیا جائے تو ایسے تشویش ناک حقائق سامنے آتے ہیں جنہیں جڑ سے ختم نہ کیا گیا تو پوری دنیا کا مستقبل نفرت کی آگ کا شکار ہو جائے گا ۔دہشت گردی کے ذریعے معصوم اور بے گناہ انسانوں کا قتل انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔دہشت گردی کاسہارا لے کے معصوم انسانوں کو نشانہ انتقام بنانا انسانی تہذیب کے چہرے پر بد نما داغ ہے۔ طوفان آیا کرتے ہیں ،وقت آتا ہے کہ معاشرے آگ میں جا گرتے ہیں ،سانحات کبھی بھی اور کہیں بھی ہو سکتے ہیں یہ مگر قیادت ہوتی ہے جو قوم کو سرخرو کر دیتی ہے۔سانحات کے بعد کا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ ان میں کس درجہ اخلاص ،ہمدری اور انسان دوستی ہے۔انسانی زندگی کی معراج انسانیت ہے اور یہ ایک انسان کی شناخت اور اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔انسانیت کا لفظ بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے معانی بہت وسیع اور گہرے ہیں ۔ آدمی اور انسان کا فرق بھی اس سے تعلق رکھتا ہے ۔ انسانی صفات جب شخصیت میں شامل ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی ذات کو فراموش کر کے دوسروں کے درد کو محسوس کرنا شروع کرتا ہے تووہ انسانیت کی منزل پا لیتا ہے بقول غالب
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
ایک فلاسفر کا کہنا ہے کہ ایک انسان کی مثال انسانی جسم میں آنکھ کی طرح ہوتی ہے جس طرح جسم کے کسی حصے کو تکلیف پہنچے تو آنکھ روتی ہے اسی طرح ایک اچھا انسان دوسروں کی تکلیف دیکھ کر روتا ہے ،درد محسوس کرتا ہے اور یہ دوسروں کا درد اسے تڑپاتا ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ دوسروں کی تکلیف دور کرے ۔اس احساس پر مجبور کرنے والا جذبہ ہی دراصل انسانیت ہے یہ جذبہ اگر تمام انسانوں میں موجود نہ ہو تو سارا سماج ایک بے رحم اور بے حس سوسائٹی کی شکل اختیار کر جائے ۔انسانیت کا یہی جذبہ ہے جو انسانوں کو آپس میں جوڑتا اور آلام ،غم اور دکھوں میں مرہم بنتا ہے۔اسی جذبے کا اظہار کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈ را نے کرائسٹ چرچ شہر کی مساجد میں لگی آگ پر محبت کے آنسووں سے نیوزی لینڈ کا وقار اوراعتباربچا لیا۔ایک عام پاکستانی نیوزی لینڈ کے بارے میں صرف اتنی معلومات رکھتا تھا کہ وہاں کرکٹ ٹیم اور کرکٹ کے سٹیڈیمز موجود ہیں لیکن یہ دیس امن اور محبت کا دیس ہے ۔اس سانحہ کے بعد نیوزی لینڈ کے باشندگان کا رویہ غم و اندوہ میں ڈوبا اور تریاق رکھنے کا تھا ۔نیوزی لینڈ میں دکانوں سے تمام پھول خرید لئے گئے تھے وہ سارے پھول پاکستانیوں کی دلجوئی اور تعزیت کیلئے خرید کر پیش کر دیے گئے ۔دہشت گرد شہرت کا حصول چاہتا تھا ،اسے دہشت گرد ہونے کی حیثیت سے شہرت تو مل گئی لیکن نیوزی لینڈ میں شہداء و زخمیوں کے اہل خانہ نے بھی جس رویے کا اظہار کیا وہ دنیا بھر کیلئے اسلام کا ایک ایسا پر امن و سلامتی کا پیام تھا جس نے نیوزی لینڈ ہی نہیں بلکہ اقوام عالم میں مسلمانوں کو شدت پسند سمجھنے والوں کے سر شرمندگی سے جھکا دیے۔نیوزی لینڈ سے ناقابل فراموش واقعات سامنے آئے کہ کس طرح مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا ۔کھانے کی کمی پر ایک شہری نے اپیل کی تو سارا شہر امڈ آیا یہاں تک کہ اپیل کرنی پڑی کہ اب کھانے کی ضرورت نہیں ۔زخمیوں و شہدا کے اہل خانہ کیلئے سوشل میڈیا پر مالی امداد کی اپیل ہوئی نہیں تھی کہ لاکھوں ڈالرز کے ڈھیر لگ گئے۔اس سانحہ نے انسانیت کے نام پر اربوں انسانوں کو ایک لڑی میں پرو دیا۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈآرڈن نے مساجد پر حملوں کے بعد مسلم کمیونٹی سے اظہار تعزیت کیا جس میں وہ سیاہ لباس میں ملبوس سر پر دوپٹہ لئے ہوئے تھیں ۔انہوں نے مسلمان خواتین کو گلے لگایا یہ دکھاوا نہیں بلکہ حقیقت میں دلی جذبات کا اظہار تھا ۔وہ ایک حساس دل کی مالک اور مہربان خاتون ہیں ۔انہوں نے اپنے قول و فعل سے باور کرایا ہے کہ انسانی جان کتنی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور کسی پر ظلم وتشدد سفاکیت کا کریہہ عمل ہے۔اسی خیر کے جذبے نے اسے پوری دنیا میں ممتاز کر دیا۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے کہا کہ اس دہشت گردی کا شکار وہ تارکین وطن ہیں جنہوں نے نیوزی لینڈ کو اپنا گھر بنایا ۔ہاں یہ ان کا گھر ہے اور وہ ہمارا حصہ ہیں ۔جس شخص نے اس بدترین جرم کا ارتکاب کیا وہ ہم میں سے نہیں ۔آج کا دن ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔براہ کرم حملہ آور کی پر تشدد ویڈیوز اور اس کے تحریری جواز کو آگے نہ بڑھائیں تا کہ اس پرتشدد سوچ کو آکسیجن نہ مل سکے ۔کسی مغربی ملک میں یہ غیر معمولی تاریخ ساز بات تھی کہ وہاں کی پارلیمنٹ کے اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا ۔وزیر اعظم نے خطاب کے آغاز اور اختتام پر اسلام و علیکم کہا۔ انہوں نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر کہا کہ وہ ایک دہشت گرد ہے ،وہ ایک مجرم ہے ،وہ ایک انتہا پسند ہے لیکن وہ بے نام و نشان رہے گا آپ مجھے کبھی اس کا نام لیتے ہوئے نہیں سنیں گے ۔اسی اجلاس میں پاکستانی نعیم رشید کی بہادری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ نعیم رشید جن کا تعلق پاکستان سے ہے حملہ آور سے بندوق چھیننے کی کو شش میں شہید ہو گئے ۔انہوں نے عبادت کرنے والے لوگوں کو بچانے کیلئے اپنی جان گنوا دی ۔مذہب اسلام کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق اس مذہب سے تھا جو کشادہ دل کے ساتھ سب کا استقبال کرتے ہیں ۔ان کے چہرے پر وہی کرب نظر آیا جو بچے کی اذیت پر کسی ماں کے انگ انگ سے پھوٹتا ہے ۔حقیقت یہی ہے کہ امن کی قوتیں کبھی کمزور نہیں ہوتیں۔
****

بحرانی کیفیت

ایک اور این آر او ہونے والا ہے آثار یہی بتا رہے ہیں، لگتا ایسا ہے کہ اس مرتبہ مجوزہ این آر او کے شرائط کچھ سخت ہیں اس وجہ سے تاخیر ہو رہی بہر حال یہ طے ہے کہ سیاست کے کچھ پرانے کھلاڑی سیاست کے میدان سے باہر نظر آئیں گے۔ یہاں کچھ بھی ممکن ہے۔ حکمران اپنا الو ایک بار پھر سیدھا کرنے کے چکر میں ہیں اور لگتا یسا ہے کہ سب ملے ہوئے ہیں،عام تاثر یہی ہے۔ جیل کو بھی با اثر افراد نے اپنا گھر بنایا ہوا ہے میاں نواز شریف ملک سے باہر نکلنے کے چکر میں ہیں اور ان کی ضمانت بھی ہوگئی ہے لگتا ہے کہ وہ نکل جائیں گے پی پی پی والے بھی این آر او کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔یہ بھی ایک تماشہ ہے کہ یہ عناصر جب جیل میں ہوتے ہیں تو یہ شدید ترین بیمار ہو جاتے ہیں اور جیسے ہی جیل سے نکل آتے ہیں تو تر و تازہ ہو جاتے ہیں۔یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ جس دن میں نواز شریف کی طبی ضمانت کی درخواست منظور ہوئی اسی دن میں شہباز شریف کا نام بھی ای سی ایل سے نکال دیا گیا۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے بات چیت ہوگئی ہے اور امید ہے شرائط میں نرمی پر آمادہ کر لیں گے۔ انہوں نے یہ نوید بھی قوم کو سنائی کہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ کرنا پڑے گا ۔ سودی قرضوں نے ملک کی معیشت کو انتہائی کمزور کر دیا ہے پرویز مشرف کے دور میں آئی ایم ایف کے قرضوں سے عوام کو بچانے کے اقدامات تھے اور کافی حد تک ملک کو آئی ایم کے نئے قرضوں سے بچایا جارہا تھا اور تیزی کے ساتھ قرضے واپس ہورہے تھے مگر اسکے بعد کی حکومت کے آئی ایم کے قرضوں پر تکیہ کیا گیا سخت شرائط پر نئے قرضے حاصل کئے گئے جس میں سابقہ پیپلز پارٹی کی حکومت اور نون لیگ کی دونوں کی حکومتیں شامل ہیں اب لگتا ہے کہ معاشی حوالے سے حالات سخت ہوں گے موجودہ حکومت کیلئے چیلنج ہے کہ آئی ایم ایف کو قسطیں کیسے ادا کی جائیں یہ ایک مسئلہ ہے جوں جوں وقت گزرے گا حالات گھمبیر ہوں گے۔ عام آدمی دست بہ دعا ہے کہ یا اللہ خیر۔پہلے جب خوشحالی کا دور تھا تو ہمارے شعرا لب کی نازکیوں کا رونا روتے تھے بڑی باریک بینی سے ہجر ووصال کے قصے بیان کیئے جاتے اور غزالی آنکھوں تذکرے ہوتے اور خد وخال کا ذکر ہوتااور عنبری زلفوں کو یاد کیا جاتا کیونکہ ملک میں خوشحالی تھی اور لوگ پیٹ کے غم سے آزاد تھے تو اس قسم کے شعر گنگناتے تھے
پھول کی ہیں پتیاں یہ لب ترے
اور تری آنکھیں شرابی نیم باز
اور کہتے تھے
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھور
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار
یہ تیرے لب یہ دیارِ یمن کے سْرخ عقیق
یہ آئینے سی جبیں ، سجدہ گاہِ لیل و نہار
مگر اب ایسا نہیں ہے ، سب قصہ پارینہ ہے ۔ اب صرف پیٹ کا رونا ہے ہر طرف سے یہ آواز آرہی ہے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے بحرانی کیفیت نے ہر شخص کو مایوسی میں مبتلا کیا ہے خوشحالی اب قصہ پارینہ بن گئی ہے ایک عام آدمی بے یقینی کا شکار ہے اور تشویش میں مبتلا ہے اور ملک کی ابتری کا رونا رو رہا ہے ایک بحران ختم ہوتا ہے تو دوسرا جنم لیتا ہے ملک پے درپے فسادات کے زد میں ہے اور اس کیفیت میں دوست دشمن کی تمیز ختم ہوگئی ہے اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون ہے؟ اس حالت میں غریبوں کا غارت ہوگیا ہے سرمایہ داروں اور اداروں کی جنگ میں عوام کا وہ حشر ہو رہا ہے جو ہاتھیوں کی جنگ میں چیونٹیوں کا ہوتا ہے آٹا، چاول، دال، گوشت، سبزی اور گھی جو عام روز مرہ کی چیزیں ہیں ان کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ملک میں جس معاشی بحران نے جنم لیا اس نے قوم کو ایک اور پوری قوم کو متاثر کیا اور ہر فرد بے یقینی اور مایوسی کا شکار ہوگیا مراعات یافتہ طبقہ تو اپنا الو سیدھا کرتا ہے مگر عام آدمی بدترین بحرانوں سے دوچار ہے اور پریشان حال ہے اور لوگ نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیں اور ذہنی الجھنوں کا شکار ہیں اور ملک میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ملک کو سیاسی،معاشی، معاشرتی اور سماجی طور پر انہوں نے اپنی بے تدبیروں، غلطیوں اور خطاؤں کی وجہ سے ناکارہ کردیا ہے اور ان کے اقدامات سے لوٹ کھسوٹ ہمارہ طرہ امتیاز بن گیا ہے مگر پھر بھی ایک بار پھر عوام کے سامنے میدان میں ہیں اور عوام ہیں کہ ان ہی سے بھلائی کی امید پر دھوکہ کھانے کیلئے تیار ہیں
میرکیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
المیہ ہمارا یہ ہے کہ میر جعفر کا پوتاہمارا پہلا صدر بنا تھا اور کچھ عرصہ یہ گورنر جنرل کے منصب پر بھی فائز رہاانہوں نے جو بویا ہے اس کی تیار فصل آج کھایا جاہا ہے اور اس کے نتیجے میں حرام خور طبقہ توندیں نکال رہا ہے اور عام آدمی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور پھر بھی عوام کو سبز باغ دکھائے جارہے رہے ہیں عوام کو الیکشن کے دنوں میں بیوقوف بنایا جاتا ہے اور ملک کا باشعور طبقہ سوچتے سوچتے کڑھتا ہے۔ یہ بحران اچانک نہیں پیدا کئے جاتے بلکہ اس کیلئے باقاعدہ پلاننگ کی جاتی ہے اور کوئی بحران آخری بحران نہیں ہوتا ہے آگے دیکھے اور بحرانوں کا تماشا کریں کیونکہ نظام بد موجود ہے اس کے آنے والے بد اثرات مزید اذیت ناک ہونگے اور ہمارے شاعر حضرات لب ورخسارکو بھول کر صرف نوحے لکھیں گے اور یہ کہنا بھول جائینگے۔۔!
*****

یاد ماضی

ہم جب کسی کو کسی چیزکیلئے مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک گھڑا گھڑایا جواب ملتا ہے یہ سب کچھ پچھلوں کا کیا دھرا ہے ۔ عوام اگر پوچھے کہ مہنگائی کیوں ہے تو جواب ملتا ہے کہ جناب پچھلی حکومت کی پالیسیاں اتنی ناقص تھیں جس کی وجہ ملک میں افراط زر اور طلب و رسد میں عدم توازن ہونے کے سبب مہنگائی ہے ۔ جناب آپ کو اسی لیے ووٹ دئیے گئے ہیں کہ آپ یہ خامیاں درست کر کے ملک کو درست سمت میں لے جائیں ۔ معاشرے کو ان ناسوروں سے نجات دلانے کیلئے ہی آپ کو ووٹ دیا گیا ہے ۔ اس کیلئے ہی اقتدار کا ہما اپ کے سر پر منڈھا گیا ہے ۔ جی جی بالکل آپ صحیح کہتے ہیں ۔ لیکن دراصل آپ سمجھتے نہیں ہیں کہ یہ کس قدر مشکل کا م ہے ۔ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پچھلی حکومت کے گند کو صاف کرنے کیلئے کچھ وقت تو درکار ہے ۔جناب اگر کوئی پالیسی غلط ہے تو اسے بدل دیا جائے ۔ پالیسی اتنی آسانی سے نہیں بدلی جا سکتی ۔ اس کے پیچھے بین الااقوامی ہاتھ ہوتے ہیں ۔ اس کے پیچھے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے ہیں ۔ اس کے پیچھے امریکہ اور دیگر ممالک کے مفادات اور یہودیوں کی سازشیں ہیں ۔ پاکستان اس وقت سخت خطرات میں گھرا ہوا ہے ۔ہمیں جمہوریت کو استحکام دینا چاہیے اور حکومت کو وقت دینا چاہیے تاکہ وہ ملک کے حالات کو بہتر کر پائے ۔ اپوزیشن پہلے حکومت میں تھی تو ہر کا م غلط ہور ہا تھا اور اب جبکہ اپوزیشن میں ہے تو پھر بھی ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔سیاسی اکابرین جو کہ حکومت میں ہوتے ہیں اپنی حکومت کی پالیسی یا اپنے اپ کو ڈینفنڈ کرنے کیلئے ہر کام کو اپوزیشن پر ڈال دیتے ہیں ۔ جبکہ سیاسی لوگوں سے اقتدار چھینا جائے تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ۔جب ان سے کسی بھی غلط پالیسی یا ان کے کسی غلطی پر گرفت کی کوشش کی جائے تو یہ سیاسی انتقام کا سبب قرار پاتا ہے ۔ سابقہ حکمران دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے دور میں ملک ترقی کی منازل طے کر رہا تھا اب ملک اناڑیوں کے ہاتھ لگنے سے دیوالیہ ہونے کو ہے ۔ بات کسی حد تک سوچنے کی بھی ہے کہ سابقہ دور میں ڈالر کی قیمت کیا تھی اور اب کیا ہے ۔ سونا کس بھاؤ بک رہا تھا اور آج کس بھاؤ پر ہے ۔ سٹاک ایکس چینج میں خسارہ کیوں ہو رہا ہے ۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار کس قسم کی سرمایہ کاری کیلئے اگے آ رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مائیکرو اکنامکس جسے کسی بھی معاشرے میں مصنوعی تنفس ہی کے مثل سمجھاجانا چاہیے کی وجہ سے سٹاک ایکسچینج میں مصنوعی کمپنیاں کھڑی کر کے ان میں سرمایہ کاری سے کسی بھی معاشرے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ بس چند خاندانوں اور سٹاک ایکسچینج سے متعلقہ لوگوں کو ہی اس کا فائدہ اور نقصان ہے ۔چائنا نے اگر ترقی کی ہے تو اس کی سٹاک ایکسچینج میں انوسٹمنٹ کر کے ترقی نہیں کی بلکہ اس نے ملک میں صنعتی اور تجارتی زون بنا کر حقیقی سرمایہ کاری سے ترقی کی ہے ۔ چائنا میں حقیقی معنوں میں ہر طرف اندسٹری کھڑی کی اور اپنے عوام کو روزگار مہیا کیا ۔ جس سے عوام کو ضروریات زندگی کے حصول ممکن ہوا جس کی وجہ سے اس کے معاشرے میں استحکام پیدا ہوا ۔ لوگ ٹیکس دینے کے قابل ہوئے ۔ لوگوں کا صنعت و حرفت پراعتماد قائم ہوا ۔ سرمایہ کار نے اپنا سرمایہ مختلف قسم کی صنعتوں میں لگایا جس ملکی سرمایہ کاری کا حجم بڑھتا گیا ۔ چین میں اس کی اپنی ملکی سرمایہ کاری کا حجم کا تناسب غیر ملکی سرمایہ کاری سے بہت زیادہ ہے ۔ اگر غیر ملکی سرمایہ کار وہاں سے اپنا سرمایہ نکالنے کی کوشش کریں بھی تو چین کو اس سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ۔ بلکہ اس کے اپنے سرمایہ کاروں کیلئے جگہ خالی ہو گی اور وہ مزید مستحکم ہو جائیں گے ۔ کافی عرصہ پہلے یہ خبر چلائی تھی کہ جلد ہی وہ وقت آئے گا جب دنیا کا اسی فیصد لوہا چائنا لے جائے گا ۔ اس وقت کسی زریعہ سے یہ خبر ملی تھی کہ چائنا کے تاجر اس وقت لوہے کے سب سے بڑے خریدار ہیں ۔ چائنا کے تاجروں نے لوہا پیتل تیل اور گیس فائبر جیسی اشیاء کی خریداری پر سرمایہ کاری کو اس لیے ترجیح دی تھی کہ انہوں نے عالمی تجارت میں چین کو کردار کو بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے عالمی منڈی سے کئی اشیاء خرید کر چین میں سرمایہ کاری پر کئی عالمی کمپنیوں کو مجبور کر دیا ۔ جاپان جیسی معاشی ایمپائر کو دھچکا لگانے میں چین کا یہی قدم تھا ۔ آج عالمی سرمایہ کار کمپنیوں کے ہیڈکوارٹر ہی شاید ان کے اپنے ممالک میں ہیں باقی وہ تمام اشیاء چین میں تیار کرا کے ان کی پیکنگ پر اپنے ملک کا نام چھاپ کر بیچ رہی ہیں ۔ سام سنگ اور نیشنل جیسی کمپنیوں کا یہی عالم ہے ۔ مارکیٹ میں کسی چیز کی ڈیمانڈ کی جائے تو اس کے پیچھے چین کا ہاتھ موجود ہوتا ہے ۔ چین نے دنیا کے دیگر ممالک تک زمینی رسائی کیلئے سی پیک کی بنیاد رکھی ہے ۔ بیشک کہ اس کا زیادہ فائدہ چین کو اس لیے حاصل ہو گا کیونکہ اس کی تیار کردہ مصنوعات کو سمند ر کے راستے آسان رسد کا راستہ مہیا ہو جائے گا ۔ چین کا یہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ ہے ورنہ چین کو یہی رسائی ایران اور بھارت کے رستہ بھی مل سکتی ہے ۔ چین ان ممالک پر پاکستان کو اہمیت دیتا ہے ۔ سی پیک کو اگر صیح معنوں میں استعمال کیا جائے تو یہ علاقہ چین کے دیگر علاقوں کی طرح ایک صنعتی زون میں تبدیل ہو کر پاکستان کیلئے آمدن کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے ۔ یہ منی ہانگ کانگ جیسا بنانا ہماری اپنی حکمت عملی ہے ۔ معذرت کے ساتھ ہمارے منصوبہ سازوں نے صرف رئیل سٹیٹ کے بزنس کی پلاننگ کی ہو گی اور پراپرٹی کے سودوں میں ٹاپ اور کمیشن کے ذریعہ روپیہ بنانے کی سکیم بنا رکھی ہو گی کیا بنا رکھی ہیں اور انہی پر عمل پیرا بھی ہیں ۔ہم کوئی اچھی پبلک ٹرانسپورٹ بس بنا کر اپنے معاشرہ کو نہیں دے سکے تو اور کیا کریں گے ۔وہ بھی باہر سے منگاؤ اور ملک کے ہر علاقہ میں ٹرانسپورٹ کو اپ گریڈ کرو ۔ کیا ہینو یہ سب کچھ نہیں بنا سکتی ۔ بنا سکتی ہے لیکن ہمارے اپنے یہ بنانے نہیں دیتے ۔ ایک شخص جہاز بنانے کی کوشش کر سکتا ہے تو کیا وجہ ہے ہم اچھی سواری نہیں بنا سکتے ۔ پاکستان کی کئی ایسی مصنوعات ہیں جو برآمد کی جاتی ہیں جن میں زرعی مصنوعات کے علاوہ کھیلوں کا سامان اہم ہے ۔ بجلی کا سامان بھی ہماری برآمدات کا اہم حصہ ہے ۔ ہمارے پاس کافی سکوپ ہے لیکن ہم صنعت و حرفت کو ترقی دینے کی منصوبہ بندی ہی نہیں کرتے ۔ اپنے لوگوں کو سہولت باہم نہیں پہنچاتے تاکہ وہ ترقی کر سکیں اور ان کا معیار زندگی بہتر ہو ۔ وہ ایک اچھی پرامن و پر آسائش زندگی گزار نے کیلئے دیار غیر میں مزدوری کیلئے جانے پر مجبور نہ ہوں ۔ پاکستان میں سیالکوٹ گجرات گوجرانوالہ فیصل آباد جیسے صنعتی علاقے موجود ہیں ۔ ایسے صنعتی زون دیگر علاقوں موجود خام مال کی دستیابی پر بنائے جا سکتے ہیں ۔ ہمارے منصوبہ ساز حکومتیں گرانے بنانے کی منصوبہ بندی کرتے یا پھر علاقہ کا ایس پی بدلنے کی کوئی پلاننگ کرنی ہوتی ہے ۔ سینٹر ایم این اے ایم پی اے علاقہ کونسلر تک کسی کو کوئی غرض نہیں کہ وہ ووٹرز کے روزگار کیلئے کوئی منصوبہ بنا ئے ۔ سکول کالج یونیورسٹی بنانے کی طرف قدم اٹھائے ۔ کام کیلئے دوسروں کی طرف دیکھنے سے ترقی کی منازل نہیں طے کی جاسکتیں ۔ نہ ہی سابقہ کے کیے دھرے کا راگ الاپنے سے پاکستان ترقی کے زینے طے کر سکتا ہے ۔ مہاتیر محمد یا طیب اردگان کا ویژن مستعار لینے سے پاکستان ترقی نہیں کر سکتا ۔ پاکستان کو پاکستانی ویژن کے مطابق اگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ ایٹم بم اور میزائل ٹیکنالوجی کیلئے پاکستانی ویژن استعمال ہوا تو بن گئے ۔ جو کر نا ہے ہمیں کرنا اورخود کرنا ہے کوئی ہمارا نہیں جب تک ہم خود اپنے نہیں بنتے ۔ پاکستانی بن کر سوچیں اور پاکستانی بن کر عمل کریں تو میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ پاکستان پانچ سالے میں ایک فلاحی ریاست بن کر کھڑا ہو گا ۔
*****

Google Analytics Alternative