Home » 2019 » April » 15

Daily Archives: April 15, 2019

طالبہ لاپتہ کیس: وزیراعظم کو ‘گمراہ’ کرنے کی کوشش پر ڈی آئی جی لاہور برطرف

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاپتہ طالبہ کے مقدمے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو ‘دھوکا’ دینے کی کوشش پر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور ڈاکٹر انعام وحید کوعہدے سے برطرف کرکے ان کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔

ایک نجی یونیورسٹی کی طالبہ کی گم شدگی کے کیس میں ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور ڈاکٹر انعام کو ایک نجی یونیورسٹی کی طالبہ کی گم شدگی کے کیس کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو ‘گمراہ’ کرنے کی کوشش پر عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل اعجاز شاہ کو معاملے پر انکوائری مکمل کرکے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ ڈی آئی جی کے خلاف لاپتہ طالبہ کی والدہ پی ایم پورٹل میں شکایت درج کرائی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی 19 سالہ بیٹی 5 ماہ قبل لاپتہ ہوگئی تھیں اور ان کی بازیاب کرانے کے بجائے ڈی آئی جی نے ان سے بدتمیزی کی۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے رائیونڈ روڈ سے یونیورسٹی کی طالبہ کی گم شدگی سے متعلق ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور کی جانب سے دیے گئے عام سے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

انتظامی عہدیدار کا کہنا تھا کہ طالبہ 4 نومبر کو اپنے گھر سے نیورسٹی کے لیے نکلی تھیں جس کے بعد وہ لاپتہ ہیں اور ان کی والدہ مقامی تھانے کے کئی چکر لگاچکی ہیں اور سینئر پولیس افسران سے بھی رابطہ کیا لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ طالبہ کی والدہ نے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے بھی ملاقات کی تھی اور انہوں نے مقدمہ درج کرکے طالبہ کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ مقدمے کے اندراج کے بعد ڈی آئی جی نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور جھوٹی رپورٹ کے ذریعے اس وقت کے چیف جسٹس کو بھی گمراہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبہ کی والدہ نے 19 فروری کو وزیراعظم کے شکایت کے پورٹل میں شکایت درج کرادی تھی جس کے بعد وزیراعظم نے آئی جی کو لڑکی کی بازیابی کے لیے سخت احکامات صادر کیے تھے۔

کیس کی تفصیلات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی نے ایک مرتبہ پھر جھوٹی رپورٹ جمع کر کے اعلیٰ حکام کو دھوکا دیا اور کہا کہ لڑکی اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر جاچکی ہیں۔

ڈی آئی جی کے رویے پر خاتون نے وزیراعظم کے اسٹاف افسر کو آگاہ کا کہ پولیس نے ان کے بیٹے اور قریبی رشتہ داروں کو اٹھایا اور تھانے لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا جس پر وزیراعظم نے آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کو سخت احکامات دیے کہ طالبہ کو 29 مارچ تک بازیاب کروایا جائے۔

بعد ازاں پولیس نے 26 مارچ کو طالبہ کو بازیاب کرایا اور ڈی آئی جی نے اعلیٰ حکام کو رپورٹ دی کہ لڑکی کو اسلام آباد کے ایک نجی ہوسٹل سے بازیاب کروا کر دارالامان بھیجوانے کا حکم دیا گیا ہے۔

طالبہ کی والدہ نے وزیراعظم سے شکایت کی کہ ڈی آئی جی ان کی بیٹی کو خاندان کے حوالے نہیں کررہے ہیں جس پر وزیراعظم عمران خان نے سینئر پولیس افسر کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

شریف خاندان نے ملک میں کرپشن کی بنیاد رکھی، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شریف خاندان نے ملک میں کرپشن کی بنیاد رکھی جب کہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کے لیے جعلی اکاؤنٹس بنائے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان پر 2 خاندان حکمران رہے، 10سال میں قرضوں میں 60 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا، پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف کو این آر او دیا گیا، شریف خاندان نے ملک میں کرپشن کی بنیاد رکھی جب کہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کے لیے جعلی اکاؤنٹس بنائے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے سندھ میں جعلی اکاؤنٹس بنائے،32 اکاؤنٹس سے بلاول بھٹو کے اخراجات سامنے آئے، ایف آئی اے نے تحقیقات میں 5 ہزار کے قریب جعلی اکاؤنٹس پکڑے جس کے ذریعے پیسے ملک سے باہر بھیجے جاتے رہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف پر بھی آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے، حدیبیہ پیپرز مل کے مالک نوازشریف تھے جب کہ ہل میٹل میں بھی وہی طریقہ اپنایا گیا جو حدیبیہ میں تھا۔

حکومت گرانا مسائل کا حل نہیں ہمیں بھی 5سال ملنے چاہئیں، شاہ محمود قریشی

ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت گرانا مسائل کا حل نہیں لہذا ہماری حکومت کو بھی 5سال ملنے چاہئیں۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت غیرذمہ داربیان بازی کرتا ہے، ہمیں ایسا نہیں کرنا، 19 مئی تک بھارت میں انتخابات کا سلسلہ جاری رہے گا لہذا تب تک پاکستان کومحتاط رہنے کی ضرورت ہے جب کہ مودی کے بارے میں وزیراعظم کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میری نظرمیں نیب خود مختارادارہ ہے، فیصلے کرنے میں آزاد ہے، نیب کرپشن ختم کرنے میں مدد کرے، عوام کو امید ہے نیب کرپشن فری پاکستان بنانے میں کردار ادا کرے گا جب کہ کرپشن کا تدارک تحریک انصاف کا ایجنڈا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیورو کریسی کا کام حکومت کی پالیسی پر عمل کرنا ہے، بیورو کریسی کا فرض ہے حکومت کی پالیسی کو عملی جامہ پہنائے جب کہ بیوکریسی میں بہت اچھے افسران ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پچھلے 10سال کی حکومت نے معیشت کو تباہ کیا، ملک پر قرضوں کا بوجھ بہت ہے، پچھلے 10سال میں ریکارڈ قرض لیا گیا لہذا مہنگائی کی وجہ 8ماہ کی پی ٹی آئی حکومت کو قرار نہیں دیا جاسکتا، اسحاق ڈار نے ڈالر کو اپنی پالیسی کے مطابق روکے رکھا، 2018 میں عوام نے تحریک انصاف کو منتخب کیا، ہماری حکومت کو بھی 5سال ملنے چاہئیں، 5 سال کے بعد عوام جو فیصلہ کریں گے قبول ہوگا تاہم حکومت گرانا مسائل کا حل نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم ایران اور چین کا دورہ کریں گے، ایران ہمارا دوست ملک ہے، بارڈر پر حالات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ میں طالبان اور امریکا مذاکرات ہورہے ہیں، امید ہے امریکا طالبان مذاکرات میں پیش رفت ہوگی جب کہ افغانستان میں امن اور خوشحالی چاہتے ہیں، افغان امن مذاکرات میں بطور دوست ملک شریک ہوتے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سانحہ ہزارہ پر ہمیں دکھاوے کی باتیں نہیں کرنیں بلکہ تحقیق کرنی ہے، کوئٹہ میں معصوم لوگوں کو شہید کیا گیا، ہزارہ کمیونٹی پاکستان کا اہم حصہ ہے، جائزہ لے رہے ہیں حملے میں کون ملوث ہے۔

سستے اور فوری انصافی کی فراہمی کے لائق تحسین اقدامات کا آغاز

adaria

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں فوری انصاف اورمعینہ کم میعاد میں کریمنل کیسوں کے مقدمات کے فیصلے کرنے کے روڈمیپ کے موضوع پرمنعقدہ نیشنل کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا بجا شکوہ کیا ہے کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں،انہوں نے اس حوالے سے بتا یا کہ جلد انصاف کی فراہمی کیلئے پارلیمنٹ کو 17 رپورٹیں دے چکے ہیں، ایوان نے کسی پر مکمل عمل نہیں کیا۔یقیناًیہ ایک افسوسناک امر ہے اس سے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے منتخب نمائندوں کے نزدیک فوری انصاف کی فراہمی ترجیح میں شامل نہیں ہے۔انہوں نے بتا یاکہ موجودہ عدالتی پالیسی ہم نے یہ بنائی ہے کہ سستے اورفوری انصاف کی راہ میں تمام رکاوٹوں کوختم کردینا چاہیے، اب وکیل کے ہونے نہ ہونے سے سماعت نہیں رکے گی، گواہوں کو پیش کرنے کی ذمہ داری ریاست کی ہوگی، فیصلہ چند روز میں سنایا جائیگا، جانشینی کیلئے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے عدالتوں میں جانا نہیں ہوگا بلکہ نادرا یہ سرٹیفکیٹ کمپیوٹر کا ایک بٹن دبا کر فیملی ٹری جاری کردیا کریگی۔چیف جسٹس صاحب نے اپنی تقریر میں جن نکات کو حوالہ دیا ہے وہ نہایت ہی بنیادی نوعیت کے ہیں۔اگر ان پر کماحقہ عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے تو ایک عام آدمی کی بہت سی مشکلات کم ہو جائیں گی جو پہلے سالہا سال عدالتوں کے دھکے کھتے پھرتے تھے۔ ماڈل کرمنل کورٹس کی اب تک کی 10 دن کی شاندار کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ 116 برادر جج ہمارے ہیرو ہیں انہیں سلیوٹ کرتے ہیں،ملک بھر میں 116ماڈل کریمینل کورٹس کی شاندار کارکردگی کے بعد چاروں صوبوں میں سول ماڈل کورٹس تشکیل دے دی گئیں ہیں انہوں نے بتا یا کہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ماڈل کورٹس سسٹم میں بھرپور تعاون کیا ہے، ملک بھر کے متعلقہ تمام حکام نہ صرف ماڈل کرمنل کورٹس بلکہ بننے والی سول ماڈل کورٹس کے جج صاحبان سے بھرپورتعاون کریں۔ کریمنل کیسوں کے مقدمات کے فیصلے کرنے کے روڈمیپ کے موضوع پرمنعقدہ نیشنل کانفرنس نہایت کامیاب رہی،اس موقع پراسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر، لاہور ہائی کورٹ بلوچستان ہائی کورٹ،پشاور ہائیکورٹ اورسندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان نے بھی اپنی اپنی ہائی کورٹ کے حوالے سے خطاب کیا۔ کانفرنس میں ایک سو16ماڈل کریمینل کورٹس کے سربراہ جج صاحبان کے علاوہ پراسیکیوٹر جنرلز،متعلقہ وفاقی وصوبائی سیکرٹریوں اورملک بھر کے ضلعی سیشن جج صاحبان نے شرکت کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے116ماڈل کورٹس کے جملہ ججوں کواپنا پاکستان عدلیہ کاہیرو قرار دیتے ہوئے ان کو سلیوٹ کیا۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے پاکستان کی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان سے کہاکہ وہ عدلیہ کی طرح قوم کوسستااورفوری انصاف فراہمی میں حائل قانونی رکاوٹیں دور کرنے کی قانون سازی کریں۔پاکستان کی عدلیہ کیسز کا انبارتلے دبی ہوئی ہے لیکن اگر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ہماری عدلیہ کی کارکردگی اتنی بھی بری نہیں کہ جس کا رونا رویا جاتا ہے۔اس حوالے سے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ کی سپریم کورٹ سال بھر میں80،90مقدمات کافیصلہ کرتی ہے۔ سپریم کورٹ آف یوکے نے ایک سال میں ایک سو مقدمات کا فیصلہ سنایا جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک سال میں26ہزار سے زیادہ مقدمات کے فیصلے سنائے۔ پاکستان بھر میں جج صاحبان کی تعداد3ہزارہے جبکہ انہوں نے 2018میں 34لاکھ مقدمات کافیصلہ کیا۔ اس لئے ہم اپنے برادر جج صاحبان کو ڈومور کرنے کا نہیں کہہ سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ عدالتی پالیسی ہم نے یہ بنائی ہے کہ سستے اورفوری انصاف کی راہ میں تمام رکاوٹوں کوختم کردینا چاہیے۔ کسی بھی مقدمے کاوقوعہ کیس14دن کے اندر چالان تیار ہوجانا چاہیے اسکے بعد تین دن میں وقوعہ کے چالان کوکورٹ میں پیش کرناضروری ہوگا جہاں کی پولیس یہ نہ کرے اس سے آئی جی پولیس کونئے سسٹم کے تحت رپورٹ کردیاجائیگا۔ اس حوالے سے انہوں نے مکمل تفصیل سے آگاہ کیا کہ کس طرح یہ طریقہ کا رکام کرے گا۔انہوں نے بتایا کہہم جو طریقہ کار یا پالیسی اپنانے جا رہے ہیں انگلینڈ میں یہی پالیسی ہے وہاں کی عدالت سماعت کا نظام اوقات بناتی ہے اورپھر سماعت کی تاریخ چاہے وہ ایک سال بعد کی ہودونوں فریقوں کے وکلا کو دے دیتی ہے اورکم وبیش تین دن میں اس مقدمے کی سماعت کرکے فیصلہ سنادیتی ہے۔ پاکستان بھر میں بھی ہم ایسا کرنے جارہے ہیں ہم بلاتعطل مقدمے کی سماعت کرکے فیصلے کیاکرینگے کسی وکیل کے ہونے نہ ہونے سے مقدمے کی سماعت نہ بحث رکاکریگی بلکہ اس وکیل کے مقرر کردہ جونیئر، نائب اورمعاون وکیل کو سماعت میں حاضرہونا لازمی کر دیگی۔اسی طرح پراسکیوٹر بھی مقدمے کی سماعت کے دوران غیر حاضر نہیں ہوا کریگابیماری یا کسی ناگہانی صورت میں پراسیکیوٹر کی جگہ پراسکیوٹر جنرل متبادل پراسکیوٹر بھیجنے کا پابند ہو گا۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ تیسرا مرحلہ گواہوں کی پیشی کا ہوتا ہے کم و بیش 50 سالوں سے انکا تجربہ ہے کہ گواہ کی عدم پیشی کی بنا پر سماعت ملتوی کر دی جاتی ہے لیکن ہم مجوزہ حکمت عملی کے مطابق اسٹیٹ کو گواہ پیش کرنے کی ذمہ داری دینگے اگر اسٹیٹ کی ایک ایجنسی یہ کام نہیں کریگی تو ہم اسٹیٹ کی متبادل ایجنسی کو کام دینگے مگر مقدمے کی سماعت چند روز میں کر کے فیصلہ سنایا کرینگے ہماری 116 ضلعی کریمنل ماڈل کورٹس جو یکم اپریل 2019 سے کام کرنے لگی ہے اس کے ساتھ ہماری اسٹیٹ اور تمام ادارے بھرپور تعاون کر رہے ہیں پولیس گواہان کو لا رہی ہے تمام آئی جی پولیس تعاون کر رہے ہیں تمام متعلقہ محکموں میں فوکل پرسن مقرر ہو گئے ہیں پولیس گواہ کو مقررہ تاریخ پر پیش کر رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جیل حکام اور اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے۔ واضح کر رہاہوں کہ ہمارا جنون مرا نہیں آج بھی زندہ ہے۔ ماڈل کورٹ کا بنیادی تصور 50 سال کے تجربے کے پس منظر سے ہے آئین کے آرٹیکل 37-P میں لکھا ہے کہ ریاست سستا اور فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائے۔ آئین کے آرٹیکل 27 میں ای کیلئے اسٹیٹ کو ذمہ داری سونپی ہے جوڈیشری اسی لئے خود قدم اٹھا رہی ہے۔

پاک فوج ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 139 ویں لانگ کورس کی پاسنگ آوٹ پریڈ سے بطور مہمان خصوصی پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری افواج کا شمار دنیا کی بہترین فوج ہوتا ہے جو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑجواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پریڈمیں نواں مجاہد کورس،58واں انٹی گریٹڈ کورس اور 14ویں لیڈی کیڈٹ کورس مکمل کرنے والے پاکستانی کیڈٹس کے علاوہ سعودی عرب اور سری لنکا کے کیڈٹس بھی شامل تھے، اس سے قبل صدر مملکت نے پریڈ کا معائنہ کیا اور کیڈٹس میں ایوارڈز بھی تقسیم کیے۔ڈاکٹر عارف علوی نے یہ بھی کہا کہ پاک فوج دنیا کی بہترین اور پیشہ ور فوج ہے اور آپ نے دنیا کی بہترین فوج میں تربیت حاصل کی ہے اور اپنی قوم کے اعتماد پر پورا اترنا ہے۔پاکستان کی مسلح افواج آج انتہائی پرعزم اور سخت جان ہے۔پاک بھارت حالیہ کشیدگی اور بھارت کی رات کے اندھیرے میں بزدلانہ جارحیت کا دن کے اجالے میں دندان شکن جواب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی محاذ پر حالیہ لڑائی اس حقیقت کا ثبوت ہے، ہماری آپریشنل تیاریوں اور بھرپور جواب نے دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دی۔بلاشبہ مکار دشمن بھارت نے ایک سازش کے تحت پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن جری اور نڈر پاک فضائیہ نے دشمن کو ایسا جواب دیا کہ اب وہ اپنی بل میں مروڑ کھا رہی ہے اور انشا اللہ کھاتی رہے گی۔

بیرون ملک گمنامی کی زندگی گزارنے والے مقبول پاکستانی فنکار

قدرت نے پاکستانی فنکاروں کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے جو اپنی جاندار اداکاری کے باعث نا صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک مقیم لوگوں کے دلوں میں بھی بستے ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنے ان بے پناہ صلاحیتوں کے حامل فنکاروں کو وہ عزت نہ دے سکے جن کے وہ حقدار ہیں۔

عاشرعظیم

نوے کی دہائی کے مقبول ترین ڈرامے’’دھواں‘‘ سے کون واقف نہیں اُس وقت اِس ڈرامے نے نا صرف مقبولیت کے ریکارڈ توڑے تھے بلکہ ڈرامے میں موجود ہر کردار کو انفرادی مقبولیت اور پہچان حاصل ہوئی تھی۔ ڈرامے کے مصنف و مرکزی اداکار عاشر عظیم اپنی جاندار اداکاری کے باعث آج بھی لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ قدرت نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے لیکن آج ہم ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کی شوبز کے لیے خدمات کو فراموش کرچکے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شوبز انڈسٹری میں آج انہیں بے تحاشا کام ملتا لیکن وہ آج کینیڈا میں گمنامی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ چند برس قبل انہوں نے پاکستانی سیاست  میں موجود کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے فلم’’مالک‘‘بنائی لیکن حکومت کی جانب سے نا صرف ان کی فلم پر پابندی عائد کردی گئی بلکہ ان پر زمین بھی تنگ کردی گئی۔ عاشر عظیم کینیڈا میں گمنامی کی زندگی گزارتے ہوئے ٹرک چلاکر گزر بسر کررہے ہیں۔

پاپ گلوکار عالمگیر

گلوکار عالمگیر کو پاکستانی پاپ میوزک کا عملبردار بھی کہاجاتاہے، عالمگیر اپنے منفرد گیتوں اور انداز کی وجہ سے ملک کے پہلے پاپ گلوکار بن کر ابھرے۔ انہوں نے امریکا اور یورپ سمیت متعدد ممالک میں کئی کامیاب شوز کیے، امریکا اوربرطانیہ میں انہیں بہت پزیرائی ملی۔

عالمگیر گزشتہ کئی برسوں سے امریکا میں قیام پزیر ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں پاکستانی گیتوں کے ساتھ، ہندوستانی گلوکاروں اور ایلوس پریسلے کے گیت گا کر شہرت حاصل کی، بعد ازاں انہوں نے اپنے گیت بھی گانے شروع کیے۔ ان کے مشہور گیتوں میں ’دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سما‘، ’میں ہوں البیلا راہی‘،’میں نے تمہاری گاگر سے کبھی پانی پیاتھا یاد کرو‘،’دیکھ تیرا کیارنگ کردیا ہے‘وغیرہ شامل ہیں۔

کیپٹن عبداللہ محمود

نوے کی دہائی کے مقبول ترین ڈراما سیریل ’’الفا براوو چارلی‘‘ میں کیپٹن کاشف کرمانی کا کردار نبھانے والے کیپٹن عبداللہ محمود نے اپنے کردار سے پاکستانیوں کے دل میں جگہ بنالی تھی۔ پاک فوج کے تعاون سے تیار کیے جانے والے ڈرامے میں تین دوستوں کی کہانی بیان کی گئی تھی جس میں ایک کیپٹن کاشف کرمانی(کیپٹن عبداللہ محمود )بھی شامل تھے۔ کیپٹن کاشف کا کردار حقیقت میں لیفٹینینٹ کرنل ریٹائرڈ ظفر عباسی سے متاثر ہوکر لکھا گیا تھا۔ کیپٹن عبداللہ نے پاک فوج سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد بیرون ملک مقیم ہونے کو ترجیح دی اور وہ اب بھی وہیں ہیں تاہم ان کے مداح آج بھی انہیں بے حد یاد کرتے ہیں۔

شہنازخواجہ

پاکستان کے مقبول ترین ڈراما سیریل ’’الفا براوو چارلی‘‘ کی مرکزی اداکارہ شہناز خواجہ نے اپنے وقت میں بہت عروج حاصل کیا تاہم شادی کے بعد وہ امریکا منتقل ہوگئیں جہاں انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اداکارہ شہناز کی کچھ عرصہ قبل تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جن میں انہیں پہچاننا بہت مشکل ہے۔ اداکارہ شہناز میں وقت کے ساتھ بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے۔

تحسین جاوید

گلوکار تحسین جاوید بھی اپنے زمانے کے مقبول ترین گلوکار تھے، تاہم وہ بھی دیگر فنکاروں کی طرح امریکا منتقل ہوگئے اور وہیں رہائش پزیر ہیں لیکن وہ اکثروبیشتر پاکستان آتے رہتے ہیں۔ تحسین جاوید کے مقبول گیتوں میں اداکار جاوید شیخ اورنیلی پر فلمایا گیا گانا ’دل ہوگیا ہے تیرا دیوانہ‘ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔ مداحوں کو تحسین جاوید کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے۔

سہیل رانا

پاکستان کے مایا ناز میوزک کمپوزر سہیل رانا کو فلم انڈسٹری میں لیجنڈ اداکار وحید مراد نے متعارف کروایا تھا۔ پاکستان کی پلاٹینئم جوبلی فلم ’’ارمان‘‘ کی موسیقی بھی سہیل رانا نے دی تھی جب کہ فلم کا مقبول ترین گیت ’’اکیلے نہ جانا‘‘ آج بھی دہائیاں گزرنے کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہے۔ فلم ’’ارمان‘‘ اور’’دوراہا‘‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ ایک انٹرویو کے دوران سہیل رعنا نے پاکستانی فلمی صنعت کے زوال کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے ذہنوں میں اپنے کام کو لے کر تکبر آگیا تھا جو ہماری انڈسٹری کے زوال کی وجہ بنا۔ سہیل رعنا نے ٹی وی پر بچوں کا میوزک پروگرام بھی شروع کیا جس نے شہرت کی نئی بلندیوں کو چھوا۔

پاکستانی فلمی صنعت کو بے شمار لازوال گیت دینے والے لیجنڈ موسیقار سہیل رانا نوے کی دہائی میں کینیڈا منتقل ہوگئے۔ انہوں نے کینیڈا منتقل ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے کینیڈ امنتقل ہونے کا فیصلہ کیا، لیکن جب بھی پاکستان مجھے بلائے گا میں واپس ضرور آؤں گا۔ سہیل رانا نے فلم انڈسٹری کوچھوڑنے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا فلمی صنعت کو خیرباد کہنے پر انہیں پچھتاوا ہوتا ہے کیونکہ فلم ایک آرٹ ہے جہاں آپ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔

جوہری تنازع؛ شمالی کوریا کی امریکا کو فیصلے کیلیے سال کے آخر تک کی مہلت

پیانگ یانک: شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ امریکا کو جرات مندانہ اقدام کے لیے سال کے آخر تک کی مہلت دے رہا ہوں جس کے بعد اپنے فیصلے میں آزاد ہوں گے۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا مناسب رویہ اختیار کرے تو وہ اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تیسری ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

شمالی کوریا کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہم بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے  مسائل کے حل کے حامی ہیں مگر امریکا کے یکطرفہ مطالبات مان لینا ہمارے لیے ممکن نہیں اور امریکا نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو ہمارے لیے ان مذاکرات میں کوئی دلچسپی برقرار نہیں رہے گی۔

کم جونگ اُن نے واضح کیا کہ گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے اور اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیسری ملاقات کے خواہاں ہیں تو انہیں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی اور شمالی کوریا کے تحفظات اور مفادات پر ضرب آئے بغیر برابری کی بنیاد پر مذاکرات کرنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا میں حال میں ہی پارلیمان نے ملکی اعلیٰ قیادت میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ہے جس کے تحت ریاست کے پریمیئر (وزیراعظم) اور صدر کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے تاہم یہ دونوں عہدے محدود اختیارات کے حامل ہیں جب کہ کم جونگ اُن کو دوبارہ سلامتی امور کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے اور ان کے لیے نئے نام ’ شمالی کوریائی عوام کے سپریم لیڈر‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

طرابلس پر قبضے کیلیے باغیوں اور سیکیورٹی فورسز میں تصادم، ہلاکتیں 121 ہوگئیں

طرابلس: لیبیا میں حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 121 ہوگئی جب کہ 600 افراد زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق لیبیا میں باغی کمانڈر حفتر کے حامی مسلح جنگجو نے دارالحکومت طرابلس میں قابض ہونے کی کوشش کی جس پر انہیں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا رہا، ایک ہفتے سے جاری جھڑپوں میں 121 افراد لقمہ اجل بن گئے اور 600 سے زائد زخمی ہیں۔

Libya 4

دارالحکومت کی سڑکوں اور گلیوں پر مسلح جنگجوؤں کا راج ہے جب کہ حکومتی فورسز نے اہم سرکاری عمارات کا گھیراؤ کر رکھا ہے، دوطرفہ فائرنگ سے دارالحکومت گونج رہا ہے اور معمولات زندگی معطل ہوکر رہ گئے ہیں، ہلاک ہونے والے اور زخمیوں کی اسپتال منتقلی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

Libya 5

خانہ جنگی کے باعث دارالحکومت میں ادویات اور طبی سہولیات کا فقدان پیدا ہوگیا ہے، مسلح افراد ایمبولینس کو بھی متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں ایسے میں عالمی ادارہ برائے صحت نے طبی ٹیموں کو ادویہ اور دیگر ضروری امدادی اشیاء کے ہمراہ لیبیا روانہ کردیا ہے۔

Libya 3

دوسری جانب مصر کے صدر السیسی نے قاہرہ میں باغی کمانڈر خلیفہ حفتر سے ملاقات کی اور لیبیا کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تاہم میڈیا کو اس اہم ملاقات کے ایجنڈے سے بے خبر رکھا گیا اور نہ ہی کوئی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔

Libya 2

واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں 41 سال تک بلا شرکت غیرے حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کے دور حکومت کا خاتمہ کردیا گیا جس کے بعد اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت قائم کی گئی تھی تاہم چند برس میں معمر قذافی کے 2 ہزار سے زائد حامی قیدیوں کے فرار کے بعد حالت بد سے بدتر ہوتے گئے ہیں۔

جنوبی ووسطی ایشیا میں امریکا ،خطرات اورخدشات کی زدمیں

چین کے ون’’بلٹ ون روڈ‘‘جیسے میگا منصوبہ نے جنوبی ایشیا سمیت بحریہ عرب خلیج فارس اور گلف آف اومان کے اس پورے خطہ میں بہت ہی مستحکم گریڈ گیم کی بنیاد رکھ دی ہے چین کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت اور پاکستان کی نمایاں ہونے والی نئی سیاسی وسفارتی جزئیات نے ماضی کے عالمی ٹھیکیدار امریکا کو کئی جہتوں میں پینترے بدلنے والی کیفیت میں لاکھڑا کیا ہے شرپسند بھارت ٹوٹتی اورمنتشر ہوتی ہوئی عالمی سرکار کی تھپکی میں بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو اپنی کوئی کامیابی سمجھ رہا ہے؟ یہ اْس کی بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ امریکا مودی کی نااہلیت کو سمجھ چکا ہے اندر سے نئی دہلی سے سخت ناراض امریکا یہ جانتا ہے کہ روس سے مہلک آبدوزوں کا سودا کرنے سے پہلے نئی دہلی نے امریکا کو اعتماد میں نہیں لیا لہٰذا جنوبی ایشیا کی چوکیداری کی پگڑی اب بھارت کے سر پر آنے سے رہی، کیونکہ امریکا اتنا بیوقوف نہیں وہ جانتا ہے کہ جنوبی ایشیا کی چوہدراہٹ بھارت کو وہ کیا دے گا اب تو اس خطہ میں امریکا کے لئے کئی انواع کی مشکلات کھڑی ہوچکی ہیں کیونکہ پاکستان اور چین ایک مستحکم قوت بن چکے ہیں جبکہ عقل و خرد سے عاری سیاسی تدبراورسفارتی حکمت عملی سے یکسر محروم امریکی صدر ٹرمپ نے چند ماہ پیشتر فوکس ٹی وی سے انٹرویو کے دوران پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے امریکی امداد کے باوجود امریکہ کیلئے کچھ نہیں کیا ہم نے پاکستان کی امداد بند کردی اب ایسا نہیں چلے گا قارئین یاد رکھیں یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے افغانستان کے حوالے سے سخت تنقید کی ہواس سے قبل جب بھی کسی فورم پر وہ افغانستان میں امریکی فرسٹریشن سے مغلوب ہوکر اسی طرح کے حماقت خیز بیانات دیتے نظرآئے ہیں تو اصل میں اْن کے یہ مبینہ بیانات امریکی مائنڈ سیٹ کی ترجمانی کرتے ہیں ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف بیانات ایک جانب دراصل ان کی مایوسی کی عکاس ہیں تو دوسری طرف ان کے ایسے متعصبانہ خیالات فرسٹریشن کے آئینہ دارہوتے ہیں کیونکہ افغانستان میں سترہ سال سے جاری جنگ میں تمام تر قوت اور جنگی حکمت عملی اختیار کرنے کے باوجود امریکہ کو افغانستان کے خاک نشین طالبان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے لیکن اْس کا یعنی امریکا کا دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کا غرور اور اس کی انا اْسے یہ عبرتناک شکست تسلیم کرنے سے مسلسل روکے ہوئے ہے مگر اس سے امریکا کو کیا فرق پڑتا ہے جیسے ویت نام ویسے ہی افغانستان ہے لیکن دنیا اس حقیقت سے پوری طرح سے آگاہ ہو چکی ہے کہ امریکہ افغانستان میں بدترین اورشرمناک شکست سے دوچار ہو چکا ہے جہاں اپنی جگہ یہ سب حقائق روشن اورعیاں ہیں وہاں ایک اور واضح اشارہ دنیا کے لئے مزید حیران کردینے والی اس بات میں مضمر ہے کہ جولائی سن دوہزاراٹھارہ میں پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں اسلام آباد کے وفاقی اقتدار میں آنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے وزیراعظم عمران خان واحد پاکستانی وزیراعظم ہیں جنہوں نے نودس ماہ گزرنے کے باوجود تاحال امریکا کا دورہ کرنا پسند نہیں کیا نہ ہی اپنی جانب سے کوئی خواہش ظاہر کی یہ دنیا کیلئے سیاسی وسفارتی اعتبار سے ایک بہت ہی اچھنبے کی بات ہے ورنہ ماضی میں پاکستان کے ہر وزیراعظم نے اپنے اقتدارکا حلف اْٹھانے کے فورا بعد یا توعمرہ ادا کرنے کیلئے وہ سعودی عرب گئے وہاں سے واشنگٹن یاترا اْنہوں نے ضرور کی ہے مسٹر ٹرمپ کو ایک یہ بھی بڑی خشمگی کا غصہ چڑھا ہوا ہے باجودیکہ پاکستان نے بہت بڑا مالی خسارے اْٹھالیا،مہنگائی کے طوفان نے پاکستانی معاشرے کو گھیرلیا، قوم بہت بْری طرح سے اپنی جگہ روپے کی گرتی ہوئی قدر پر کسمسا رہی ہے جولائی سن دوہزار اٹھارہ سے نودس ماہ بہت زیادہ عرصہ ہوتا ہے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں کی باگ دوڑ یقیناًپینٹاگان اور وائٹ ہاوس والوں کے ہاتھوں میں ہے پاکستان پر چڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں پر اپنی سخت تلخ وترش انتخابی تقریروں میں عمران خان کھل کر تنقید کرتے رہے ایسے میں یکایک کیسے بلا ترد یکایک عالمی مالیاتی اداروں کے دروازوں پر وہ جاکھڑے ہوتے؟ اس پر کافی سوچ بچار کیا گیا، کئی تجاویز پر غوروخوض کیا گیا، اسی سے ملتے جلتے کئی اور عوامل بھی پیش نظررکھے گئے مگر مان لیں کہ امریکا اور پاکستان کے تادم تحریردوطرفہ تعلقات معمول کی سطح پر نہیں ہیں سردمہری کی کیفیت سے گزرر ہے ہیں کیونکہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان اپنے کہے پر سختی سے جمے ہوئے ہیں کہ پاکستان اپنے خطہ میں اب کسی اور کی جنگ نہیں لڑے گا،یہی بات امریکا کے دل پر ایک گھاو بن کر لگی ہے اوپر سے سی پیک کے میگا منصوبے کی تعمیر کی تیر رفتاری نے امریکی ہوش وحواس اْڑا کررکھ دئیے ہیں فروری کے آخری دنوں میں امریکا کی ایما پراور اسرائیلی عملی مدد کی صورت میں پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی ناپاک اور بہیمانہ مذموم کوششوں کو جس جرات مندانہ اور تنہا اپنی دلیری سے پاکستانی عوام سیاسی حکومت اور فوج نے ناکام بنایا اور پاکستان کا امن پسند رویہ دنیا کے سامنے پیش کیا اْس پر ٹرمپ اور نیتن یاہو سمیت خود مودی وغیرہ بھی ہکابکا رہ گئے ’’پاکستان بھارت فروری جنگی چپقلش‘‘ میں پاکستان نے جس طرح کا جوابی اور فوری ردعمل دیا اس نے اس حقیقت کو آشکارہ کر دیا کہ پاکستان کی جمہوری سول حکومت اور مسلح افواج ہر اہم ترین مسئلہ پر ایک پیچ پر ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان اپنے تمام ترسیاسی سفارتی اور اقتصادی فیصلے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کرے گا پاکستانی ردعمل نے امریکہ پر یہ بھی ظاہر کر دہا ہے کہ پاکستان اب امریکا کے حلقہ اثر سے باہر آچکا ہے اب وہ تمام تر فیصلے امریکی مفادات میں نہیں بلکہ اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گا سویلین حکومت کے بعد آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کی جانب سے آنے والے ہربیانات ظاہر کرتے ہیں کہ فوج اور حکومت میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اب پاکستان امریکہ کے کسی بھی دباو کو قبول نہیں کرے گا بھارت کے علاوہ جنوبی ایشیائی ممالک جن میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بہت ہی مسلمہ بنتی جارہی ہے اسی حوالے سے جنوبی ایشیا میں امریکی اثرورسوخ کی بڑھتی ہوئی دھندلاہٹ نے وائٹ ہاوس اور پینٹاگان کی جھنجھلاہٹ کی تکلیف کو زیادہ تکلیف دہ بنا دیا ہے وائٹ ہاؤس کی سیاسی انتظامیہ اب امریکی عوام کی عدالت میں جواب دینے کی بہترپوزیشن میں نہیں رہی کہ افغانستان میں ٹرمپ کے انتخابی دعووں کے باوجود امریکا پسپا ہوگیا ٹرمپ اپنے اس کھوکھلے دعوے کے بعد امریکی عوام کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہا یاد رہے کہ بھارت مکمل جنوبی ایشیا نہیں ہے اسی طرح سے ایشیا پیسفک ممالک بھی سوچ رہے ہیں یہاں زیادہ تفصیل لکھنے کی گنجائش نہیں عرض مدعا یہ ہے کہ ٹرمپ کی غیر ذمہ دارانہ اور نااہلیت پر بنائی گئی پالیسیوں نے امریکی صدر کو عالمی گداگر بنادیا ہے سلطنت اومان جیسی خلیجی ریاست کے سامنے امریکا بھکاری بن گیا ہے سی پیک کے عظیم الشان راہداری کے منصوبے کا توڑ ڈھونڈنے کیلئے سلطنت اومان کے ساحلوں پرجگہ تلاش ہورہی ہے چین کے خلاف کوئی سازش ہے یا پاکستان کو؛ٹف ٹائم؛ دینے کی سازش؟’’ سلطنت اومان بیس معاہدے‘‘ امریکی سامراجی ذہنیت کے بہت سے پردے چاک کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مطلب یہ کہ کیا امریکا اب سی پیک منصوبہ کی راہ میں اس طرح سے رکاوٹیں کھڑی کرنے پر اترآیا ہے دیکھتے ہیں سلطنت اومان نے دنیا کی یک قطبی سپرپاور کو اپنے ساحلی علاقہ استعمال کرنے کی بالاآخر اجازت دے ہی دی یوں عرب محاورے کے مصداق امریکی اونٹ نے اپنی گردان صحرائے عرب میں لگے ہوئے ایک خیمہ میں گھسیڑ ہی دی ہے اب بیچارے عرب جانے اور امریکی اونٹ جانے! زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا اب دیکھنا ہوگا کہ اومان کی بندرگاہ دقم کا مستقبل کیا ہوگا؟ چونکہ بندرگاہ دقم گلف آف اومان اور خلیج فارس سے محض پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے امریکی نکتہ نظر سے یہ فکرمندی کامقام ہے کہ امریکا کیا افغانستان سے بے عزت ہوکر نکلنے کے بعد خلیج فارس کے پانیوں میں کسی نئی مہم جوئی کی مذموم منصوبہ بندی تو نہیں کررہا ہے؟؟۔
*****

Google Analytics Alternative