- الإعلانات -

ذہنی امراض اور پاگلوں کےلئے سویٹ ہوم کی ضرورت

میں جب اپنے آبائی گاءوں صوابی گھو متا پھرتا ہوں تو صوابی کے بازار میں مُجھے بُہت سارے ذہنی معذور اور پاگل لوگ نظر آتے ہیں ۔ نہ صرف صوابی بلکہ ملک کے طول وعرض میں نفسیاتی امراض کے بے تحا شا لاوارث مریض نظر آتے رہتے ہیں ۔ یہ بے دنیا مافیہا سے بے خبر اپنے دھن میں مگن ہو تے ہیں ۔ یہ میرا تجزیہ ہے کہ گذشتہ 20سالوں میں اس قسم کے ذہنی امراض میں بے تحا شا اضافہ ہوا ۔ دنیا میں نفسیاتی عوارض میں جو ممالک زیادہ آگے ہیں ۔ اُ ن میں چین پہلے نمبر پر ، بھارت دوسرے نمبر پر، امریکہ تیسرے نمبر پر ، برازیل چوتھے نمبر پر، روس پانچویں نمبر پر، انڈونیشیاء چھٹے نمبر پر، پاکستان ساتھویں نمبر پر، نائیجریا آٹھویں نمبر پر، بنگلہ دیش نویں نمبر پر اور میکسیکو دسویں نمبر پر شامل ہے ۔ اسکا مطلب ہے کہ وطن عزیز ذہنی امراض کے لحا ظ سے صف اول کے 10 ممالک میں شامل ہیں ۔ اِس مشینی اور جدیددور میں بُہت ساری آسائشوں اور سہولیات کے باوجود انسان کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے ڈیپریشن یا ذہنی امراض کا شکارہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اِس وقت پاکستان میں 50ملین یعنی 5 کروڑافراد مختلف قسم کے نفسیاتی امراض اور ڈیپریشن کا شکار ہیں ۔ ڈیپریشن ، تناءو یا ذہنی امراض کے علامات میں مسلسل پریشان اور اُداس ہونا،نا اُمیدی کی باتیں کرنا،اپنے آپکو بے یار ومدد گار اور ناتوانامحسوس کرنا، پریشان رہنا،، مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینا، سیکس کی طرف کم رُغبت ،تھکان، کام میں عدمِ دلچسپی اور عدم توجہی ،حافظے کا کمزور ہونا، غلط فیصلے کرنا، صبح جلدی اُٹھنا یا حد سے زیادہ سونا،وزن کا کم ہونا یا بڑھنا، خودکشی کی کوشش کرنا، موت کو ِسر پر سوار کرنا، بے چینی کی سی کیفیات اور بعض ایسے امراض جو کہ دوائیوں کی مسلسل استعمال سے بھی ٹھیک نہیں ہوتے، مثلاسر درد، معدے اورہاضمے کے امراض وغیرہ یہ ذہنی امراض کی علامات ہیں ۔ عورتوں میں مردوں اور بچوں کی نسبت ڈپریشن یا ذہنی امراض بہت زیادہ یعنی ستر فی صد پایا جاتا ہے ۔ اسکی بُہت ساری وجوہات میں ایک وجہ معاشرتی اور سماجی بے انصافی ، بغیر محنت کے خوب سے خوب تر کی تلاش ، ذکر الٰہی اور دین سے غافل ہونا اور اسکے علاوہ دیگر اور بھی عوامل ہیں جو ذہنی امراض کا سبب ببنتے ہیں ۔ آبادی کا جو زیادہ طبقہ اس سے متا ثر ہے وہ عورتیں ہیں ۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اس قسم کے مریضوں کا علاج نہیں کرتے بلکہ کبھی اس قسم کے مریضوں کو جا دوگروں ، ٹونے بازوں ، جعلی پیروں ، پیر بابا ، مجذوبوں ، مجنونوں اور کبھی مزارات پر لے کر اُس کو پھراتے رہتے ہیں اور انکی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہو تی ہے ۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالیں تو علاج جو کہ سُنت نبویﷺ ہے ۔ اسکے ساتھ ہ میں تاکید کی گئی ہے کہ ہم خود قُر آن مجید فُرقان حمید کو پڑھیں کیونکہ ان میں شفا ہے ۔ مگر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم خود اپنے ذھنی مریضوں پر قُر آن اور قُر آنی آیات کے اور علاج کے بجائے نام نہاد پیرعوں عاملوں اور جا دو گروں کے پاس لے جاتے ہیں اور انکے مرض میں مزید اضافہ کرتے ہیں ۔ اور اس قسم کے نفسیاتی مریضوں پر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ پھر اُس کا علاج قطعی نہیں ہو سکتا اور وہ معاشرے کے اچھے پُرزے کے بجائے ایک ناکارہ پُر زہ بن جاتا ہے ۔ اگر ہم مزید عور کر لیں تو اس قسم کے نفسیاتی امراض میں مبتلا مریض عورتیں ہیں اور یہ اسلئے کہ یہ لوگ علاج کے بجائے فضول کامواں میں لگ جاتے ہیں ۔ ما ہر نفسیات کے مطابق اس وقت پاکستان میں ذہنی امراض کی مریضوں کی تعداد 50 ملین یعنی 5کروڑ ہیں اور اس میں انتہائی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے ۔ اگر ہم مزید غور کر لیں تو وطن عزیز میں 21 کروڑ آبادی کے لئے 400 ماہر نفسیات اور 4 ہسپتال ہیں جو اونٹ کے مُنہ میں ریزے کے مترادف ہیں ۔ یا با الفاظ دیگر پاکستان میں 5لاکھ 25 ہزار مریضوں کے لئے ایک ڈاکٹر ہے ۔ جبکہ ناروے ، ہالینڈ، اور بیلجیئم میں ایک لاکھ ذ ہنی امراض کے لئے 40 ڈاکٹر اور امریکہ اور کنیڈا میں ایک لاکھ کے حساب سے 15نفسیاتی ڈاکٹر دستیاب ہیں ۔ ایک طرح اگر مریض کے لوا حقین ذہنی مریضوں پر جا دو ٹونوں کے تجربے کرتے ہیں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ بعض اوقات ڈاکٹر بھی اس قابل نہیں ہو تے جو اس قسم کے مریضوں کا احسن طریقے سے علاج کر سکیں ۔ ڈاکٹروں کے لئے بھی چاہئے کہ سال میں دو دفعہ کم ازکم ریفریشر کو رس کریں اور سینر ڈاکٹروں پرفیسروں کے زیر نگرانی کام کریں تاکہ انکو اپنے فیلڈ کے بارے میں پورا پورا علم ہو ۔ علاوہ ازیں نفسیاتی امراض کے ڈاکٹروں کو بیرون ملک بھی بھیجنا چاہئے تاکہ وہ ذہنی امراض سے متعلق امراض سے متعلق نئے رُحجانات سے با خبر ہوں ۔ جہاں تک میرا ذاتی تجربہ ہے اس قسم کے ڈاکٹروں میں سے ایک ہوگا جو اپنی فیلڈ کے ساتھ انصاف کر رہا ہوگا ۔ حکومت کو چاہئے کہ انکی استعداد کار کے لئے ڈاکٹروں کا ریفریشر کورس کریں تاکہ ڈاکٹر کی استعداد کار ٹھیک ہو ۔ دوسری میری حکومت اور صاحب ثروت لوگوں سے استد عا ہے کہ جو لا وارث پا گل لوگ بازا روں اور دوسرے جگہوں میں در بد ر کی ٹوکریں کھا رہے ہوتے ہیں ، اُنکے کھانے، سر چھپانے، اُنکے علاج، اور اُنکے نگہداشت کے لئے تحصیل اور ضلع سطح پر دارلکفالہ بنانا چاہئے تاکہ اس قسم کے مریض مزید بگا ڑ سے بچے رہیں اور ساتھ ساتھ معاشرے کے کا ر آمد شہری بنیں ۔ آقائے نامدار و دوجہان حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ تُم میں بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لئے زیادہ مفید اور اچھا ہو ۔ میری والدین سے بھی گزارش ہے کہ اگر کسی کے بچے کو نفسیاتی عارضہ ہو تو اُسکو جعلی پیروں اور عاملوں کے بجائے ماہر نفسیات کے پاس لے جانا چاہئے تاکہ اُسکا مرض نہ بگڑیں ۔ جس طرح ہ میں نزلہ زکام، بخار، ملیریا اور ٹائی فائیڈ ہو سکتا ہے اس طرح ہ میں ذہنی عا رضہ بھی لا حق ہو سکتا ہے ۔ لہذاء دوسرے بیما ریوں کی طرح اسکا علاج بھی کرنا چاہئے ۔ میں اس کالم کے تو سط سے ایک دفعہ پھر حکومت اور صاحب ثروت لوگوں سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور انکے لئے سویٹ ہوم کے طرز پر جگہیں بنائیں تاکہ یہ معاشرے کے بہترین اور صحت مند شہری بن سکیں ۔