Home » 2019 » July » 03

Daily Archives: July 3, 2019

بدعنوانی میں ملوث ارکانِ اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرجاری نہیں ہونے چاہئیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے وزارت قانون کو پروڈکشن آرڈرز رولز میں ترمیم لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدعنوانی میں ملوث ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرجاری نہیں ہونے چاہئیں۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرپشن میں سزا یافتہ افراد کو وی آئی پی جیل میں نہ رکھا جائے کیونکہ نئے پاکستان میں سارے قیدیوں سے برابر سلوک ہوگا اور بدعنوانی میں ملوث ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری نہیں ہونے چاہیئں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے وزارت قانون کو پروڈکشن آرڈرز رولز میں ترمیم لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پروڈکشن آرڈرز سیاسی قیدیوں کے لئے ہوتے ہیں اس لیے بدعنوانی میں ملوث ملزمان کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری نہیں ہونے چاہیئں، قومی خرانے میں خردبرد کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنما کی گرفتاری پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ کی گرفتاری سیاسی نہیں قانونی معاملہ ہے جس سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ وزیراعظم اجلاس میں عمران خان نے اسلام آباد کا نیا ماسٹر پلان ایک ماہ میں تیار بنانے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم کا یہ بھی  کہنا تھا کہ ملکی ہوائی اڈوں پر جنگی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جائیں، ائیر پورٹس پر تارکین وطن کیساتھ عزت واحترام سے پیش آیا جائے، اس پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے سید زبیر گیلانی کو چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ بنانے کی منظوری دے دی جب کہ 40فیصد پرائیویٹ حج کوٹہ واپس لینے کی بھی منظوری دی گئی، اضافی کوٹے میں سے پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کو دیے جانے والا کوٹہ سرکاری اسکیم میں شامل ہوگا۔

وزیراعظم 10 کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک، پارلیمنٹرینز کے اثاثوں کی تفصیلات جاری

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹرینز کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کردیں جن کے مطابق وزیراعظم 10 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں جبکہ انہوں نے بنی گالا زمین کو تحفہ ظاہر کیا ہے۔ 

الیکشن کمیشن نے ارکان قومی اسمبلی کے مالی سال 2018-19 کے گوشواروں کی تفصیلات جاری کردیں۔ وزیراعظم عمران خان 10 کروڑ 82 لاکھ 36 ہزار روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، جبکہ انہوں نے بنی گالا رہائش کی مالیت ظاہر نہیں کی بلکہ بنی گالا زمین کو تحفہ کے طور پر ظاہر کیا ہے۔ وزیراعظم کے ڈالر، پاؤنڈ اسٹرلنگ اور یورو اکاؤنٹس ہیں۔ وہ 2 لاکھ روپے کی 4 بکریوں، 6.2 مربع زرعی اور کمرشل اراضی کے بھی مالک ہیں۔

بشری بی بی

وزیراعظم نے اپنی اہلیہ بشری بی بی کے اثاثوں کی تفصیلات بھی پیش کردیں جن کے مطابق بشری بی بی کے نام بنی گالا میں 3 کنال کا گھر، پاک پتن میں 431 کنال اراضی، اوکاڑہ میں 266 کنال اراضی شامل ہے۔

آصف زرداری 

سابق صدر آصف علی زرداری 66 کروڑ روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں جبکہ ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں۔ آصف زرداری اور بیٹے بلاول بھٹو زرداری دبئی کے اقامہ ہولڈر بھی ہیں۔ آصف زرداری کے پاس 1 کروڑ روپے مالیت کے گھوڑے، دیگر جانور اور 1 کروڑ 66 لاکھ روپے کا اسلحہ بھی ہے۔

بلاول بھٹو

بلاول بھٹو زرداری امیر ترین ارکان قومی اسمبلی میں شامل ہیں اور 1 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ وہ دبئی کے دو ولاز میں حصہ دار ہیں۔

شہباز شریف

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے اثاثوں کی مالیت 18 کروڑ 96 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ ان کی اہلیہ نصرت شہباز کے نام 23 کروڑ روپے اور دوسری اہلیہ تہمینہ درانی کے 57 لاکھ 65 ہزار روپے کے اثاثے ہیں۔ شہباز شریف کے بیرون ملک 14 کروڑ روپے کے اثاثے ہیں اور لندن میں فلیٹ کے مالک بھی ہیں۔

شیخ رشید، شاہد خاقان، رانا ثناء، خورشید شاہ

شاہد خاقان عباسی 60 کروڑ روپے سے زائد کے مالک ہیں جبکہ شیخ رشید احمد کے پاس 3 کروڑ 58 لاکھ روپے کے اثاثے، 8 کروڑ 73 لاکھ کا بینک بیلنس اور 25 لاکھ کےپرائز بانڈ ہیں۔ رانا ثناءاللہ 6 کروڑ 60 لاکھ روپے اور سید خورشید شاہ 6 کروڑ روپے کے اثاثوں ہیں۔

مراد سعید، شہریار آفریدی، پرویز خٹک

وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید غریب ارکان قومی اسمبلی میں شامل ہیں۔ ان کے پاس 36 لاکھ نقد اور 15 تولے سونا ہے۔ وفاقی وزیر انسداد منشیات شہریار آفریدی 2 کروڑ کے مالک جبکہ وزیر دفاع پرویز خٹک 13 کروڑ 95 لاکھ کے اثاثے اور ڈھائی کروڑ روپے کا بینک بیلنس ہے۔

دیگر

پی ٹی آئی کے ایم این اے سمیع الحسن گیلانی 1 ارب روپے سے زائد اثاثوں اور وفاقی وزیر علی زیدی 3 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے روسی بری فوج کے سربراہ کی ملاقات

 راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے روس کی بری فوج کے سربراہ جنرل اولیگ سلیوکوف نے ملاقات کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل قمرجاوید باجوہ سے روس کی بری فوج کے سربراہ جنرل اولیگ سلیوکوف نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیکیورٹی و تربیتی تعاون سمیت دوطرفہ ملٹری تعلقات کے فروغ  پر بات چیت کی گئی۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان باہمی تعاون اوربہتر تعلقات پر یقین رکھتا ہے، پاکستان اور روس کے درمیان تعاون سے نہ صرف خطے میں امن کو فروغ ملے گا بلکہ اقتصادی خوشحالی بھی آئے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق روس کی بری فوج کے سربراہ کا دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی برداری بھی پاکستان کی کامیابیوں کواہمیت دے۔ انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ مزید بہترتعلقات کاخواہاں ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل قمرجاوید باجوہ سے فرانسیسی سیکریٹری جنرل قومی دفاع  نے بھی ملاقات کی، ملاقات میں دفاع اور سلامتی سمیت باہمی دلچسپی کےامور پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ علاقائی سلامتی سے متعلق امور بھی زیرِبحث آئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فرانسیسی سیکریٹری جنرل نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی امن واستحکام کے لیے پاک فوج کے کردار کو سراہا۔

 

ایمنسٹی سکیم۔۔۔آج کے بعدایکشن شروع ۔ ۔ ۔ ۔ !

آج ایمنسٹی سکیم کی مدت ختم ہورہی ہے اوراس کے بعد حکومت نے واضح کردیاہے کہ وہ کسی صورت بھی اضافہ نہیں کرے گی،لہٰذا جن لوگوں نے فائدہ اٹھالیا وہ ٹھیک، باقی بے نامی اثاثوں کے خلاف وسیع پیمانے پرآپریشن ہوگا اورایسی جائیدادیں جن کو ظاہرنہیں کیاگیا بحق سرکار ضبط کرلی جائیں گی، وزیراعظم نے ایک نجی ٹی وی میں اپنے اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کوتنبیہ کرتے ہوئے کہاہے کہ عام شہری اسکیم سے فائدہ اٹھا لیں ورنہ بعد میں کوئی ایمنسٹی نہیں ملے گی، بہت جلد سیاستدانوں کی بے نامی پراپرٹیز کے خلاف ایکشن شروع ہونےوالا ہے، ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعدعام لوگوں کی بے نامی پراپرٹیز ضبط ہونا شروع ہوجائیں گی، پاک فوج حکومت کے ساتھ کھڑی ہے ،آئی ایم ایف سے بہت جلدمیٹنگ ہے ،افراتفری ختم ہوگی ،اصلاحات میں پہلی چیز یہ ہے کہ لوگ فائلر بنیں ،معیشت درست کرنے کیلئے اصلاحات کے راستے پر چلنا ہوگا،ایک فیصد پاکستانی 22 کروڑ پاکستانیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، سابقہ حکومت نے 61ارب ڈالر سے گروتھ ریٹ بنایا تو ملک مقروض ہوگیا، اتنے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ نہ ہوتی تو خسارہ اتنا بڑا نہ ہوتا، ملک کنگال چھوڑ کرجانے والے ہم سے حساب مانگ رہے ہیں ، شریف خاندان کے بیٹوں نے این آر او کےلئے دو ممالک سے رابطے کئے ،این آر اوکےلئے مجھ پر کسی ملک کا دباوَ نہیں ، مشرف نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کواین آر او د یئے ، بعد میں دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو این آر او دیئے ،اپوزیشن نے جو باتیں کیں اور قوم کو دھوکہ دیا انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے ، پاکستان میں جیل بنانا شروع کردیں تو گروتھ ریٹ بڑھ جائے گا، ہاءوسنگ اسکیم تیار کرنے میں وقت لگا، اگلے ہفتے افتتاح کریں گے ، ہاءوسنگ سیکٹر پیچھے رہ گیا اس لیے پرائیویٹ سیکٹر کو لے کر آرہے ہیں ، ہاءوسنگ سیکٹر بہتر ہونے سے ملک اوپر کی طرف جائے گا، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا سوچاہے اور نہ ہی یہ ایسا سوچنے کا وقت ہے ۔ نیز وزیر اعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی، ملاقات میں ملکی سلامتی اور سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ۔ دونوں اہم شخصیات نے امن و امان کی صورتحال اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی گفتگو کی ۔ دونوں سربراہان نے ملاقات میں خطے کی صورتحال پربھی غوروخوض کیا، جہاں تک وزیراعظم کی ایمنسٹی کے حوالے سے گفتگو کاتعلق ہے تو آج وقت ختم ہونے کے بعد حکومت کو چاہیے کہ وہ آپریشن سب سے پہلے اپنی صفوں میں شروع کرکے ایک مثال قائم کرے ۔

راناثناء اللہ گرفتار۔۔۔قانون سب کے لئے ایک

مسلم لیگ نون کے سابق صوبائی وزیراور رہنماراناثناء اللہ کو منشیات کے الزام میں انسداد منشیات فروش نے دھرلیاہے جس پرساری اپوزیشن جُز بُزہورہی ہے شہبازشریف ،بلاول بھٹو اوردیگراپوزیشن رہنماءوں نے اس کی مذمت کی ہے اور حکومت کو موردالزام ٹھہرایا کہ راناثناء اللہ کو اس لئے گرفتار کیاگیا کیونکہ وہ بہت دلیرانہ موقف رکھتے تھے، مریم نواز نے بھی اس حوالے سے مذمت کی ہے ،جہاں تک راناثناء اللہ کی گرفتاری کاتعلق ہے تو اس سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ قانون سے کوئی بالاترنہیں لیکن یہی طریقہ کارحکومتی صفوں میں بھی اپناناچاہیے، ہ میں کپتان کے ارادوں پرقطعی طورپرکوئی اعتراض نہیں تاہم ان کے مشیرجوطریقہ کاراپنانے کے لئے مشورہ دیتے ہیں اس پراعتراض ضرور کیاجاسکتاہے،کرپشن اورمنشیات ہمارے معاشرے کے دوایسے کینسرزدہ ناسور ہیں جن کو ختم کرناوقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے اگر راناثناء اللہ کے پاس سے منشیات برآمد ہوناحقیقت ثابت ہوجاتاہے توپھرایسی عبرتناک سزادیناچاہیے کہ وہ دنیا کے لئے ایک مثال بن جائے ۔ وزیراطلاعات ونشریات کے بارے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے 20کروڑ روپے مالیت کی 15 کلو گرام کلو ہیروئن برآمد ہوئی ہے ۔ ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات کی بڑی مقدار برآمد ہوئی ، وزیر مملکت انسداد منشیات شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ نئے پاکستان میں کوئی قانون سے بالا تر نہیں ہے،اے این ایف ایک پروفیشنل فورس ہے،جس کے سربراہ میجر جنرل ہیں کسی کے ساتھ کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے،اس کے موقف کا انتظار کرنا چاہیے ۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کو ن لیگ سیاسی رنگ دے رہی ہے،مریم صفدر کے بیان کی مذمت کرتے ہیں ۔ سیاسی شخصیات نے بھی رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے ۔ شہباز شریف نے رانا ثنا کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عمران کا ذاتی عناد کھل کر سامنے آگیا ہے،بلاول بھٹو نے کہا کہ گرفتاریاں حکومت کی مایوسی ظاہر کرتی ہیں ۔ مریم نواز نے کہا کہ رانا ثناء کی گرفتاری میں براہ راست وزیراعظم کا ہاتھ ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان کے اندر سیاسی انتقام کی آگ بھری ہوئی ہے جس پر کرپشن کا الزام ثابت نہ ہو انہیں کسی دوسرے جعلی مقدمے میں پکڑ لیا جاتا ہے ۔ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے بعد کارکن انکے ڈیرہ پر جمع ہو گئے اور کارکنوں نے سمندری روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کر کے احتجاج کیا اس دوران پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا ۔

کرپشن بارے سپریم کورٹ کے فکر انگیز ریمارکس

سپریم کورٹ میں مرحوم ڈی ایس پی جمیل اختر کیانی اور اہلیہ مسمات ریاض بی بی کی کرپشن کیس میں جرمانے کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی ۔ عدالت نے اپیل مسترد کرتے ہوئے کرپشن کی تین کروڑ روپے کی رقم ادا کرنے کا حکم دے دیا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کرپشن پر ہونے والاجرمانہ مرنے کے بعد بھی معاف نہیں ہوگا، کرپشن کی رقم تو واپس کرنا ہوگی، مجرموں نے جتنے کی کرپشن کی جرمانہ کی رقم اس سے بہت کم ہے،50 سال قبل لئے گئے پلاٹ کی موجودہ مالیت ڈھائی ارب روپے سے زیادہ ہوگی،2003ء میں کیا گیا 3کروڑ جرمانہ آج کے حساب سے انتہائی کم ہے ، معاملہ یہ نہیں کہ اثاثوں پر مزے کئے گئے، معاملہ یہ ہے نو کروڑ کے اثاثے کب اور کیسے بنے ۔ جمیل اختر کیانی پولیس میں 1959 میں بھرتی اور 1995 میں ڈی ایس پی کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوا، اس پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مقدمہ تھا، ٹرائل کورٹ نے جمیل اختر اور اس کی اہلیہ کو بالترتیب 10 اور 5 سال قید کی سزا کیساتھ 3 کروڑ روپے جرمانہ کیا، ملزمان نے سزا کے خلاف اپیل کی لیکن ہائیکورٹ نے بھی فیصلہ برقرار رکھا ۔ ملزمان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں اپیل میں کہا کہ ڈی ایس پی جمیل اختر کیانی کا انتقال ہوچکا ہے، جرمانہ کی تین کروڑ رقم ادا نہیں کر سکتے، نیب نے ہمارے 1995 کے بعد کے اکاءونٹ بھی ضبط کر لئے تھے ۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد مجرموں کی جرمانے کے خلاف اپیل مسترد کردی ۔

پاکستان نے بھارت کو کرتارپور راہداری کے دوسرے اجلاس کی حتمی تاریخ دے دی

اسلام آباد: پاکستان نے  کرتار پورا رہداری پر دوسرے اجلاس کا شیڈول بھارت کو دے دیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ملاقات 14 جولائی کو واہگہ میں ہوگی۔  

دنیا بھر کے سکھوں کے پاکستان پر بڑھتے اعتماد کی وجہ سے بھارت کرتارپور کوریڈور سے متعلق پاکستان سے بات چیت پر تیار ہوگیا ہے اور بھارت کی جانب سے مذاکرات کی تجویز بھی دی گئی تھی،  جواب میں پاکستان نے بھی کرتار پورا رہداری پر دوسرے اجلاس کا شیڈول بھارت کو دے دیا ہے۔

دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے کرتار پورا رہداری پر دوسرے اجلاس کا شیڈول بھارت کو دے دیا ہے جس کے تحت پاک بھارت آفیشل حکام کی دوسری بیٹھک 14 جولائی کو واہگہ میں ہوگی، اور دوسرے اجلاس میں معاہدے کے ڈرافٹ کوحتمی شکل دی جائے گی جب کہ کرتار پور سے متعلق ٹیکنیکل ایشوز بھی زیر بحث لائے جائیں گے۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ  پاکستان کرتار پورا اجلاس میں متعلقہ معاملات کو جلد تکمیل کاخواہاں ہے اور نومبر میں بابا گرو ناننک کے 550ویں سالگرہ پر راہداری کو آپریشنل کرنا چاہتا ہے۔

اس سے پہلے گزشتہ ماہ بھارت کی جانب سے 11 سے 14 جولائی  تک لاہور کے واہگہ بارڈر پر مذاکرات کی تجویز دی گئی تھی تاہم پاکستان کی طرف سے اس تجویز کے جواب میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے ٹیکنیکل ماہرین کے مابین کرتارپور بارڈرپر متعدد میٹنگز ہوچکی ہیں تاہم اب جولائی میں شیڈول ملاقات دونوں ملکوں کے آفیشل حکام کی دوسری بیٹھک ہوگی۔

 

بچے پیدا کرنے کے لیے شادی ضروری نہیں، ماہی گل

بولی وڈ فلم ’صاحب بیوی اور گینگسٹر‘ میں بولڈ کردار ادا کرنے سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ ماہی گل کا کہنا ہے کہ بچوں کی پیدائش کے لیے شادی کرنا ضروری نہیں۔

فلم ’ہوائیں‘ سے کیریئر کا آغاز کرنے والی 43 سالہ ماہی گل کو شہرت اسکرین پرایک ایسی شادی شدہ خاتون کے کردار ادا کرنے سے شہرت ملی جن کے ایکسٹرا میریٹل افیئر ہوتے ہیں۔

ماہی گل کو سب سے زیادہ شہرت ’صاحب بیوی اور گینگسٹر‘ میں صاحب کی ایسی بیوی کا کردار ادا کرنے سے ملی جو ایک گینگسٹر سے ناجائز تعلقات استوار کرتی ہیں۔

ماہی گل کی دوسری مقبول فلموں میں ’ڈیو ڈی، بدھا ان ٹریفک، گلال، مرچ، اوٹ پٹانگ، ناٹ اے لو اسٹوری اور دبنگ‘ شامل ہیں۔

گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں ماہی گل نے 4 درجن کے قریب ہندی، پنجابی اور دیگر زبانوں میں بننے والی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، تاہم انہیں سب سے زیادہ شہرت بولڈ اور ایکسٹرا میریٹل افیئر رکھنے والی خاتون کے کردار ادا کرنے سے ملی۔

ماہی گل غیر شادی شدہ اور ایک بچی کی ماں ہیں—فوٹو: انسٹاگرام
ماہی گل غیر شادی شدہ اور ایک بچی کی ماں ہیں—فوٹو: انسٹاگرام

وہ جلد ہی صاحب بیوی اور گینگسٹر سیریز کی چوتھی فلم میں بھی دکھائی دیں گی۔

فلموں میں بولڈ کردار ادا کرنے والی ماہی گل کا خیال ہے کہ بچوں کی پیدائش کے لیے شادی کرنا لازمی نہیں ہے اور نہ ہی زندگی گزارنے کے لیے شادی شدہ ہونا لازمی ہے۔

ڈی این اے انڈیا کے مطابق ماہی گل نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ ایک تین سالہ بچی کی ماں ہیں۔

ماہی گل کے مطابق ان کی بیٹی کا نام ویرونیکا ہے اور وہ اس وقت اپنے دیرینہ دوست کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں اور فی الحال انہوں نے شادی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، لیکن مستقبل میں اس حوالے سے سوچا جائے گا۔

ماہی گل نے اگرچہ اعتراف کیا کہ انہیں تین سالہ بیٹی بھی ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ بیٹی انہوں نے گود لی یا وہ ان کی اصلی بیٹی ہیں۔

ماہی گل نے انٹرویو میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی سے متعلق بات کرنے سمیت اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ شادی سے متعلق ہر کسی کی اپنی اپنی رائے ہوتی ہے، شادی کرنے سے پہلے یہ دیکھنا لازمی ہے کہ یہ کیوں کی جاتی ہے اور اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟

ماہی گل کو صاحب بیوی اور گینگسٹر سے شہرت ملی—اسکرین شاٹ
ماہی گل کو صاحب بیوی اور گینگسٹر سے شہرت ملی—اسکرین شاٹ

ماہی گل کا کہنا تھا کہ شادی سے متعلق ہر کسی کی اپنی ذاتی رائے اور سوچ ہی ہوتی ہے، تاہم ان کے خیال میں بچوں کی پیدائش اور خاندان بنانا شادی کے بغیر بھی ممکن ہے۔

ماہی گل کے مطابق شادی کے بغیر بھی بچے پیدا کیے جاسکتے ہیں اور ان کے خیال میں ایسا کرنے میں کوئی برائی نہیں۔

اداکارہ نے انٹرویو کے دوران شادی کو خوبصورت جذبہ بھی قرار دیا، تاہم اس بات پر اصرار کیا کہ شادی سے متعلق ان کی رائے مختلف ہے اور ان کے حساب سے خاندان اور بچوں کے لیے شادی کرنا لازمی نہیں۔

ماہی گل کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں شادی کے بغیر ہی بچوں کی پیدائش میں کوئی خرابی نہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ماہی گل نے شادی اور بچوں کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے، اس سے قبل وہ صرف اپنی پیشہ ورانہ زندگی پر بات کرتی رہتی تھیں۔

صاحب بیوی اور گینگسٹر کی تینوں فلموں میں ماہی گل نے کام کیا—اسکرین شاٹ
صاحب بیوی اور گینگسٹر کی تینوں فلموں میں ماہی گل نے کام کیا—اسکرین شاٹ

سوشل میڈیا نیٹ ورکس کی 2 روزہ ہڑتال کا حصہ بنیں گے؟

کیا آپ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جانا پسند کرتے ہیں اور اس کے بغیر دن گزارنا مشکل لگتا ہے؟ اگر ہاں تو اگر کوئی آپ سے 48 گھنٹے کے لیے ان سے دور رہنے کا مطالبہ کرے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟

درحقیقت انٹرنیٹ کے معروف ترین انسائیکلوپیڈیا وکی پیڈیا کے شریک بانی ڈاکٹر لیری سانگیر نے سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ رواں ہفتے 48 گھنٹے کے لیے ان نیٹ ورکس سے دوری اختیار کرلیں تاکہ ان کمپنیوں پر صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے کنٹرول واپس دینے کے لیے دباﺅ ڈالا جاسکے۔

وکی پیڈیا کے شریک بانی نے 4 اور 5 جولائی کو سوشل میڈیا نیٹ ورکس سے دور رہنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تبدیلی کے لیے لوگوں کا دباﺅ ان کمپنیوں پر بڑھایا جاسکے۔

انہوں نے ایک بلاگ میں لکھا ‘ہم اس حوالے سے کافی کچھ کرنے والے ہیں اور ہم سب مل کر ان بڑی کمپنیوں سے اپنے ڈیٹا کے کنٹرول کی واپسی کا مطالبہ کریں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں جتنے لوگ شامل ہوں گے، اس سے اندازہ ہوگا کہ کتنے زیادہ لوگ موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس سے بڑے سوشل نیٹ ورکس میں تبدیلیوں کے عمل کا آغاز ہوگا اور لوگوں کو اپنے ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول مل سکے گا۔

جو لوگ اس ہڑتال کا حصہ بنیں گے انہیں ڈیکلریشن آف ڈیجیٹل انڈیپینڈنس پر سائن کا بھی کہا گیا ہے جو کہ وکی پیڈیا کے شریک بانی نے تیار کیا ہے۔

اس دستاویز میں سوشل میڈیا نیٹ ورکس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آزاد رائے، پرائیویسی اور سیکیورٹی کے حقوق کا احترام کریں اور ڈی سینٹرلائز پالیسی اختیار کریں۔

اس ہڑتال کا چرچا ریڈیٹ، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر ہورہا ہے اور کچھ حلقوں کی جانب سے دلچسپی کا اظہار بھی کیا ہے جبکہ کچھ نے اس پر سوالات کیے ہیں۔

جیسے ایک صارف نے لکھا کہ چاہے ہر ایک اس ہڑتال کا حصہ بن جائے مگر روزانہ کے صارفین کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں آئے گا۔

ٹیم نے غلطیوں سے سبق سیکھ لیا، سرفراز احمد

لندن: قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ٹیم نے غلطیوں سے سبق سیکھ لیا اب بنگلا دیش کیخلاف بھرپور تیاری کیساتھ میدان میں اتریں گے۔

لندن میں ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کیخلاف میچ کے بعد تمام کھلاڑیوں کو اکٹھاکرکےبات کی کہ کھلاڑیوں اور منیجمنٹ کی بھرپور محنت کے باوجود کہاں غلطیاں کررہے ہیں؟ کہ بطور ٹیم اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ نہیں کرپارہے،اپنے مسائل کا جائزہ لینے کے بعد سینئرز اور جونیئرز سب نے کہا کہ گزشتہ میچز میں جو ہوا، اس کو بھلا کر آئندہ میچز کیلیے نئے عزم کیساتھ میدان میں اتریں گے،اس کے بعد پاکستان نے بطور ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتوحات حاصل کیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوسری ٹیموں کے میچز کا نتیجہ ہمارے کنٹرول میں نہیں،ہماری توجہ اپنی پرفارمنس پر ہے،بنگلا دیش کیخلاف میچ سے قبل وقفہ ہونے کی وجہ سے تیاری کا اچھا موقع مل گیا، آخری میچ میں بھی جیت کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ انگلینڈ میں پرستاروں اور پاکستانی عوام کی سپورٹ سے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہیں، امید ہے کہ بنگلا دیش کیخلاف میچ میں بھی ان کی حوصلہ افزائی برقرار رہے گی۔

ایک سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ حارث سہیل نمبر 5پر بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کیلیے زیادہ بہتر پرفارم کرسکتے تھے،اس لئے خود بعد میں بیٹنگ کا فیصلہ کیا،مجھ سمیت کسی کے بھی بیٹنگ نمبر سے زیادہ ٹیم کے مفاد میں فیصلوں کی اہمیت ہے۔

Google Analytics Alternative