Home » 2019 » July » 06

Daily Archives: July 6, 2019

وزیراعظم کا بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کرنے والوں کو 10 فیصد رقم دینے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے بے نامی پراپرٹی کی نشاندہی کرنے پر انعامی رقم 3 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں ’احساس پروگرام‘ کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے اقتدار میں رہتے ہوئے دبئی اور لندن کے 40،40 دورے کیے، یہ سب دورے قوم کے پیسوں سے کیے گئے، ان لوگوں نے قوم کو مقروض کردیا اور پھر  قوم کی دولت کو لٹاتے رہے۔

عمران خان نے کہا کہ  ہر جگہ ناانصافی ہے، نچلے طبقے پر ظلم ہو رہا ہے، آج پتہ چلا کہ 5 فیصد پاکستانیوں کو ہیپاٹائٹس سی ہے، نئے پاکستان میں غربت کا خاتمہ ہوگا، غربت کم کرنے کے لیے ایک پروگرام لا رہے ہیں جس میں ہر وزارت کا کردار ہوگا، حکمرانوں کا کام تھا کہ  قوم کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتا مگر یہاں تو مقتدر طبقہ قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے  بیرون ملک  علاج  کراتا رہا جب کہ  یہ لوگ جیل میں بھی جاتے ہیں تو انہیں  لندن سے علاج کرانا ہوتا ہے، 30 سال اقتدار میں رہنے کے باوجود انہوں نے کوئی اسپتال نہیں بنایا۔

عمران خان نے کہا کہ شہبازشریف مجھے کہتے ہیں کہ اتنا کرو جتنا برداشت کرسکو، میرا شہباز شریف کو پیغام ہے کہ میں موت بھی برداشت کرسکتا ہوں مگر آپ موت برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کا پیسہ باہر پڑا ہے جسے آپ انجوائے کرنا چاہتے ہیں اس لیے آپ کو فکر ہے کہ کہیں مر نہ جائیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جو شخص بھی ملک میں یا بیرون ملک کسی پاکستانی کی بے نامی پراپرٹی کی نشاندہی کرے گا اسے 3 فیصد کے بجائے 10 فیصد حصہ دیا جائے گا ،اور بے نامی پراپرٹی سے  جو بھی پیسہ آئے گا وہ سب احساس پروگرام میں ڈالیں  گے۔

حکومت کی کامیاب ترین ایمنسٹی اسکیم

ایمنسٹی اسکیم میں تحریک انصاف کی حکومت کو خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی، عوام نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے 3ہزار ارب کے اثاثے ظاہر کیے اور 70ارب روپے جمع ہوئے جبکہ ایک لاکھ37ہزار لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ عوام کو عمران خان پر یہ بھی اعتماد ہے کہ وہ ٹیکس جو ادا کرینگے وہ پھر ان پر خرچ ہوگا اس اعتبار سے پاکستان نے اب معیشت میں پرواز شروع کردی ہے، ڈالر بھی آئے دن قابو میں آتا جارہا ہے ۔ پاکستان اس وقت سخت معاشی مسائل سے دوچار ہے اور قرضہ پاکستان کے دیرپا پالیسی مسائل سے نمٹنے میں مدد دے گا، فوری طور پر معاشی پالیسی میں بہتری کے بغیر پاکستان کے معاشی و مالیاتی استحکام کو خطرہ ہے اور ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنا ممکن نہیں رہے گا ۔ پاکستان کے معاشی حالات بہتر بنانے کی غرض سے اہم ترین مقاصد میں سب سے پہلے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا اور حکومتی قرضوں کو کم کرنا ہوگا، کمزور ترین طبقے کو ان بدلتی ہوئی معاشی پالیسی کے اثرات سے بچانا سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے ۔ کرپشن کے خلاف کوششوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں تک مالیاتی رسائی کی روک تھام کےلئے فریم ورک مرتب کیا جائے ۔ پاکستان کی معیشت ایک نازک موڑ پر ہے ،ما ضی کی ناقص معاشی پالیسیوں جیسا کہ کمزور مانیٹری پالیسی، بڑھتا ہوا بجٹ خسارہ ، روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر روکنا، حالیہ برسوں میں شارٹ ٹرم گروتھ اور حکومتی قرضے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تنزلی ، مالیاتی خسارے کی وجہ سے ملک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے ۔ بنیادی نقاءص کو دور نہیں کیا گیا جس میں دیرینہ کمزور ٹیکس انتظامیہ، مشکل کاروباری ماحول، غیر موثر اور خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں اور غیر دستاویزی معیشت شامل ہے ۔ پاکستان سالانہ جی ڈی پی کے چار سے پانچ فیصد ریونیو میں اضافہ کیلئے جامع کوششیں کرنا ہونگی ، پاکستان میں کرنسی کی شرح تبادلہ مارکیٹ طے کرے گی اور اسٹیٹ بینک کرنسی کی شرح تبادلہ میں مداخلت نہیں کرے گا مانیٹری پالیسی کے ذریعے مہنگائی کو قابو کیا جائے گا، اداروں کو مضبوط کر کے ان میں شفافیت لائی جائی ، آئی ایم ایف پروگرام سے پاکستان میں معاشی عدم توازن میں کمی لانے میں مدد ملے گی اور پائیدار اور متوازن معاشی ترقی ہوگی ، مالیاتی استحکام کے اقدامات سے سرکاری قرضوں میں کمی اور سماجی شعبے کے لئے اخراجات میں اضافہ ممکن ہوگا ۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کیلئے 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری کے بعد شرائط جاری کردی گئیں جس میں کہا گیا ہے کہ ڈالر آزاد ہوگا ، بجلی، گیس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت نہیں ہوگی، ٹیکس آمدنی میں اضافہ، گردشی قرضوں کا خاتمہ، واجبات کی وصولیابی یقینی بنائی جائے گی تاہم ملک میں مہنگائی بڑھے گی ، ماضی میں ڈالر کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا گیا، ناقص پالیسیوں سے معیشت کمزور ہوئی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات ضروری ہیں ، ملک کا ٹیکس نظام بھی ٹھیک نہیں ۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے پاکستان کے لیے عالمی شراکت داروں کی جانب سے رکے ہوئے 38 ار ب ڈالر کی بحالی شروع ہوجائے گی جو آئندہ برسوں میں پاکستان کو ملیں گے ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کے مشیر امور خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے ایک لاکھ 37 ہزار افراد نے استفادہ کیا ، 30 ہزار ارب روپے کے غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات ڈکلیئر ہوئے اور کالے دھن کو سفید کیا گیا اور 70 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوا، ایک لاکھ 37 ہزار میں سے ایک لاکھ سے زائد وہ افراد ہیں جو پہلے ٹیکس نظام میں نہیں تھے اور نان فائلرز تھے ، 3 فیصد سے کم شرح سود پر 10سال کی آسان شرائط پر قرضہ ملا، نجکاری کی کوئی شرائط نہیں ، آئی ایم ایف سے جو طے ہوا ہے وہ سامنے آجائے گا، امیروں سے ٹیکس لیں گے اور غریبوں کا تحفظ ہوگا ۔

بے نامی اثاثوں کیخلاف کارروائی، وزیراعظم کا عزم

وزیراعظم عمران خان نے کہہ دیا ہے کہ بے نامی اثاثوں کیخلاف بلا تفریق کارروائی ہوگی ۔ مزید فہرستیں تیار ہیں ، حکومت اس حوالے سے اور بھی کارروائی کرے گی ، یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ حکومت نے بلا تفریق کارروائی کا عندیہ دیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان سے وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ملاقات کی ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نامساعد معاشی حالات میں حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا ہے جس میں صنعتی شعبے کا فروغ اور کمزور طبقے کے تحفظ پرپوری توجہ دی گئی ہے، معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے مشکل فیصلے کیے جن کا مقصد معیشت کی سمت درست کرنا اور ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنا ہے، کاروباری برادری کے تحفظات کا مکمل ادراک ہے، ٹیکس کے نظام پر کاروباری طبقے کا اعتماد بحال کرنے کےلئے ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل جاری ہے تاکہ کاروباری برادری سمیت تمام طبقے از خود معاشی ترقی کے عمل میں حصہ دار بنیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ملک کومعاشی مشکلات سے نکالنا ہے ۔ کاروباری برادری کے تحفظات کامکمل ادراک ہے ۔ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل جاری ہے ۔ وزیرِ اعظم نے چیئرمین ایف بی آرسمیت معاشی ٹیم کو مختلف کاروباری تنظیموں سے ملاقات کرنے کی ہدایت کی ۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی ترجمانوں اور رہنماءوں کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی صورت حال اور اپوزیشن رہنماءوں کی گرفتاریوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر مشاورت کی گئی ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انتقام کی سیاست تحریک انصاف کا نظریہ نہیں ہے اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کی گرفتاری سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے،پاکستان میں اب ادارے اور عدالتیں ;200;زاد ہیں ، جن لوگوں پر مقدمات ہیں عدالتوں میں صفائی دیں ،حکومت پر الزام لگا کر اپوزیشن اپنے جرائم سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے ۔

رانا ثناء اللہ کیس،قانونی تقاضے پورے کیے جائیں

وزیر مملکت انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ کیخلاف حکومت کے پاس آڈیو اور ویڈیو ثبوت موجود ہیں وہ انہیں عدالت میں پیش کرینگے ۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر راناثناء اللہ حقیقت میں منشیات کے گھناءونے کاروبار میں ملوث ہیں تو قرار واقعی سزا دی جائے بلکہ اس کو سچ ثابت کرنے کیلئے ان کا ڈوپ ٹیسٹ کرایا جائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی علیحدہ ہوجائے گا کیونکہ جو منشیات کا کاروبار کرتا ہے وہ خود بھی منشیات استعمال کرتا ہے ۔ ہم تو یہ بھی حکومت مشورہ دیں گے جو بھی الیکشن میں حصہ لے اس کیلئے لازمی ہے کہ وہ الیکشن کمیشن میں اپنے کاغذات کے ہمراہ اپنے ڈوپ ٹیسٹ کی رپورٹ بھی جمع کرائے کیونکہ یہ دنیا بھر میں پورے ملک کی بدنامی ہے کہ اس کے ممبران اسمبلی ایسے گھناءونے دھندے میں ملوث ہیں اس کی بیخ کنی کرنا انتہائی ضروری ہے اور آئندہ وقت کیلئے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کیلئے لاءحہ عمل طے کرنا بھی ضروری ہے ۔

اپوزیشن رہبرکمیٹی کا 9 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کیخلاف قرارداد جمع کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد: اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے 9 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کیخلاف قرارداد لانے اور 11 جولائی کو نئے چیئرمین کے مشترکہ امیدوار کے نام کے اعلان کا فیصلہ کیا ہے۔ 

حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کے حوالے سے اپوزیشن کی 9 سیاسی جماعتوں کے 11 اراکین پر مشتمل رہبر کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔ رہبر کمیٹی کے تمام ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں (ن) لیگ سے شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، پیپلز پارٹی سے فرحت اللہ بابر، نیئر بخاری، جمعیت علماء اسلام (ف) سے اکرم خان درانی، نیشنل پارٹی سے میر حاصل بزنجو،  اے این پی سے میاں افتخار، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے عثمان کاکڑ، قومی وطن پارٹی سے ہاشم بابر، جمعیت علماء پاکستان سے اویس نورانی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث سے شفیق پسروری نے شرکت کی۔

رہبر کمیٹی اجلاس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے میڈیا سے بات کی، جے یو آئی (ف) کے رہنما اکرم درانی نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے ہر دو ماہ کے لیے الگ کنوینئر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پہلے دو ماہ کے لیے مجھے کنوینئر مقرر کیا گیا ہے جب کہ رہبر کمیٹی کا اگلا اجلاس 11 جولائی کو ہوگا اور 25 جولائی کو یوم سیاہ منایا جائے گا۔

اکرم درانی نے کہا کہ 9 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کے خلاف قرارداد جمع کرائی جائے گی، 11 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کے لیے مشترکہ امیدوار کے نام کا اعلان کیا جائے گا، 25 جولائی کو صوبائی سطح پر جلسے کیے جائیں گے۔

اکرم درانی کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک نیا سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینے پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا، جمہوری لوگوں کو سیاست سے دور رکھنے کی مذمت کرتے ہیں، سابق فاٹا میں پولنگ اسٹیشن کے اندرفوجی کھڑا کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، قبائلی علاقوں میں فوج کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن منسوخ کیا جائے، سابق فاٹا کے دوارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کئے جائیں جب کہ  تمام سیاسی جماعتیں گھوٹکی کے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کی حمایت کا اعلان کرتی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ رہبرکمیٹی اے پی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کر رہی ہے،سینیٹ، قومی اسمبلی نہیں چلے گی تو حق ہے عوام کو تبدیلی دکھائیں اور حق نمایندہ سے عمران خان یا کوئی اسپیکرمحروم نہیں کرسکتا، چیرمین سینیٹ کی تبدیلی احتجاج کا ایک طریقہ ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے فاٹا میں 20 جولائی کو ہونے والے انتخابات آرمی کے زیر نگرانی کروانے کے خلاف چیف الیکشن کمیشن کے نام خط لکھ دیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن پولنگ اسٹیشنز کے اندر فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن واپس لے۔

بھارت کے فاقہ زدہ عوام

مودی حکومت کے دوبارہ برسراقتدار آنے پر بھارت میں انتہا پسند ہندووَں کی طرف سے اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں اور بھارتی حکومت ان کو روکنے میں بالکل ناکام ہو چکی ہے ۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں عبادت گاہوں کو جلانا اور حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کرنا بھی شامل ہیں ۔ ایک رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ مسلمانوں کو تشدد اور دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے مگر اس کے باوجود بھارتی پولیس و فوج مسلمانوں کو ہی گرفتار کر تی ہے اور ان پر تشدد کرتی ہے ۔ 2008 کے ممبئی حملوں کو اسلامی دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے مگر 2002 میں گجرات میں ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں ہزاروں مسلمانوں کے قتل کو دہشت گردی نہیں کہا جاتا ۔ بھارتی صوبہ گجرات کے مسلم کش فسادات کے حوالے سے بھارتی ٹی وی نے اعتراف کیا ہے کہ ان فسادات میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی براہ راست ملوث تھے جنہوں نے ہندووَں کو تین دن کی کھلی چھٹی دی اور زیادہ مسلمانوں کو شہید کرنے والے ہندووَں کو پھولوں کے ہار پہنائے ۔ وشواہند پریشد کے رہنما دھوال پٹیل نے اعتراف کیا ہے کہ 2002 ء کے فسادات کے دوران اس نے اپنے ہاتھوں سے بم بنائے ۔ ایک متعصب ہندوپروین تو گاڈیہ نے کہا کہ مسلمان کو غدار کے طور پر پیش کرو ۔ اس کا خون طلب کرو ۔ مسلمانوں کو خوفزدہ کرو ۔ ان کو تشدد پر اکساؤ اور مناسب موقع پر نسل کشی کا آغاز کر دو ۔ بھارت کی سرزمین اور سیاست پراب ہمارا قبضہ ہے ۔ یہ خالص گنگا اور جمنا کی سر زمین ہے ۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ گودھرا میں ٹرین پر حملہ پہلے سے تیار شدہ منصوبہ تھا ۔ منصوبے پر عمل ہوتے ہی حکومت نے ذمہ داروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان کیا ۔ ساتھ ہی ہندوؤں کو بدلہ لینے پر ابھارا گیا ۔ یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ٹرین پر حملہ ہونے کے محض چند گھنٹوں کے اندر گجرات بھر سے مسلح انتہا پسند ہندو وہاں پہنچنا شروع ہو گئے ۔ ان کے ہاتھوں میں مسلمانوں کے گھروں اور املاک کے بارے میں تفصیلی فہرستیں تھی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی سو مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا انہیں زندہ جلادیا گیا ۔ خواتین کی عصمت دری کی گئی ان کے گھروں اور ان کی دکانوں کو لوٹ کر نذر آتش کر دیا گیا ۔ یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف پرتشدد واقعات سب سے زیادہ گجرات ہی میں پیش آتے ہیں ۔ یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے ۔ ہندو آج سے نہیں بلکہ سالہا سال سے غیر مذاہب سے متعصب چلا آرہا ہے خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ تو اس کا تعصب عروج پرہے ۔ ہندوستان کے سیاستدانوں نے وہاں کے مسلمانوں کو ہمیشہ اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا اور مسلمانوں کو ہمیشہ نقصان پہنچایا ۔ چنانچہ پہلے کانگریس نے سیکولر ازم کا نعرہ لگایا اور مسلمانوں کی ترقی کی قس میں کھائیں ۔ کبھی پنڈت نہرو پروہاں کے مسلمانوں کوفدا کیا گیا اور کبھی اندرا گاندھی کے ہاتوں پر وہاں کے مسلمانوں کو بیعت کرنے پر مجبور کیا گیا ۔ نام نہاد بی جے پی کی اینٹی مسلم‘ اینٹی کرسچین تحریک نے بھارت میں عدم برداشت اور تشدد پسندی کی فضا قائم کررکھی ہے جس سے فرقہ واریت میں اضافہ ہورہا ہے لیکن جہاں تک عیسائیوں کا معاملہ ہے تو انتہا پسند ہندوءوں کا مقصد مقامی ہندوءوں کو عیسائیت کا مذہب اختیار کرنے سے روکنا ہے جس کا نتیجہ چرچوں پر حملوں کی صورت میں سامنے ;200;یا ہے ۔ بھارت میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ رونما ہوجائے ۔ سب سے پہلے اس کا الزام بھارت میں بسنے والے مسلمانوں ، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں پر آتا ہے ۔ بھارتی سفارت خانے پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے لگتے ہیں ۔ اقوام عالم کویہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بس دنیا میں اگر کوئی دہشت گرد ملک ہے تو وہ پاکستان ہے ۔ حالانکہ بھارتی ریشہ دوانیوں کی کہانیاں عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے تو بڑے ممالک کو بھی احساس ہوگا کہ بدامنی، دہشت گردی اور فساد کی اصل جڑ بھارت ہے ۔ بھارت بنیادی طورپر ایک غریب ملک ہے ۔ اس کے کروڑوں لوگوں کو چھت بھی میسر نہیں ۔ لاکھوں افراد روزانہ رات کو فٹ پاتھ پر سوتے ہیں ۔ دن بھر کی محنت مزدوری کے بعد اتنا پیسہ بھی نہیں ملتا کہ پیٹ بھر کر دو وقت کی روٹی کھا سکیں ۔ بھارت کی 55 فیصد آبادی غربت کی زندگی گزار رہی ہے ۔ بھارت کے 13 صوبوں میں آزادی کی تحاریک زوروں پر ہیں جن پر قابو پانے کےلئے بھارت اربوں روپے اسلحہ پر خرچ کر رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے پاکستان کے ساتھ بھی ٹانگ اڑائی ہوئی ہے ۔ بھارت اپنے سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ اسلحہ کی خرید پر صرف کرتا ہے یوں اس کی کروڑوں آبادی بنیادی حقوق سے محروم رہ جاتی ہے ۔ بھارت علاقے کا بڑا تھانیدار بننا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ پاکستان کی معمولی سی ترقی کو بھی برداشت نہیں کرتا ۔ اب تک بھارت کے ہر فعل سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ہے اور ہمیشہ خلاف ہی رہے گا ۔ بھارت پاکستان کی ترقی پر کڑھتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ دنیا بھر کے تمام خطرناک ہتھیار خرید لے چاہے ان جنگی اخراجات کی وجہ سے اس کی عوام بھوکوں مر جائے ۔ بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کےلئے نہ صرف دھڑا دھڑ جدید ترین ہتھیاروں کے انبار لگا رہا ہے بلکہ اپنی فوجوں کی تعداد بھی بڑھا رہا ہے ۔ ظاہر نئے فوجیوں کی تنخواہوں اور مراعات پر پیسہ خرچ ہوگا اور یہ پیسہ کہاں سے آئے گا ۔ غریب عوام پر نئے نئے ٹیکس لگیں گے ۔ حکمران عیاشی کریں گے اور عوام مزید ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب کر غریب سے غریب تر ہوتی چلی جائے گی ۔ اس کے برعکس بھارتی میڈیا بھارت کی مصنوعی تصویر دنیا کو دکھانے میں مصروف ہے ۔ جہاں ہر طرف امن و شانتی ہے ۔ کوئی غریب نہیں ۔ گویا یہ اپنے آپ کو بے وقوف بنانے والی بات ہے ۔ بھارت کا صرف خوبصورت چہرہ دنیا کے سامنے لایا جاتا ہے وہ نحوست زدہ چہرہ دنیا سے چھپایا جاتا ہے جس کے بارے میں خود بھارتی مصنفوں اور غیر جانبدار صحافیوں نے کتابیں لکھ چھوڑی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک بھارتی حکمران بھارت کے اصل چہرہ پر پردہ ڈالے رکھیں گے ۔ ان کے اقدامات سے آخر ایک دن پورے بھارت کا ہی یہ حال ہونے والا ہے کہ پور ا بھارت ایک مفلس ، غریب اور بھیگ منگا ہو کر رہ جائے گا ۔

امریکا آج سے پہلے اتنا طاقتور کبھی نہ تھا، ٹرمپ

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا جتنا طاقتور آج ہے اتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے قومی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے امریکا کو استحکام کی اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ آج امریکا پہلے کے مقابلے میں سب سے زیادہ طاقت ور قوم بن گئی ہے اور یہ تبدیلی ’سب سے پہلے امریکا‘ کے نعرے نے بخشی ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ امریکا کے یوم آزادی کے موقع پر لنکن میموریل کی سیڑھیوں پر بُلٹ پروف شیشے کے پیچھے کھڑے ہو کر اپنے خطاب میں کیا، اس تقریب میں ایف-35 طیاروں سے سمیت جدید امریکی طیاروں نے بھی فلائنگ مارچ پاسٹ میں حصہ لیا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ملکی معاشی میں انقلابی تبدیلیاں لائے ہیں، پہلے سب امریکا سے فائدہ اُٹھاتے تھے اب امریکا سب سے پہلے اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا اور جرائم پیشہ افراد کی امریکا میں داخل ہونے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے اپنی نفرت آمیز پالیسی کے تحت پہلے چین کے ساتھ معاشی جنگ چھیڑی اس کے بعد میکسیکو کے پناہ گزینوں پر زمین تنگ کردی اور سرحدی دیوار کے قیام کے لیے فنڈز نہ ملنے پر ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔

ایران نے اپنا آئل ٹینکرز نہ چھوڑنے پر برطانوی ٹینکر کو روکنے کی دھمکی دیدی

تہران: ایران نے برطانیہ کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکر کو تحویل میں لینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کے منافی عمل اور بحری قزاقی قرار دے دیا اور ساتھ ہی برطانوی آئل ٹینکر روکنے کی دھمکی دے دی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز برطانیہ کے رائل میرینز نے ایرانی سپر ٹینکر گریس 1 کو جبرالٹر کی بحری سرحد پر تحویل میں لے لیا تھا، برطانیہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایرانی ٹینکر کو خام تیل شام کو سپلائی کرنے کے خدشے کے پیش نظر تحویل میں لیا گیا ہے کیوںکہ شام کو تیل کی سپلائی بشار الاسد حکومت پر یورپی یونین کی جانب سے عائد پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

برطانیہ کے اس اقدام پر ایران کی شوریٰ کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دھمکی دی کہ اگر برطانیہ ایران کے سپر ٹینکر کو نہیں چھوڑتا تو ہمیں بھی برطانوی آئل ٹینکر کو پکڑنے کا پورا حق حاصل ہوگا اور ایران اپنے اس حق کے استعمال میں ذرا بھی نہیں ہچکچائے گا۔

دریں اثنا محسن رضائی نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ کسی بھی تنازع کی ابتدا ایران نے نہیں کی لیکن ذہن نشین رہے کہ ایران کو دھونس جمانے والوں کو بغیر کسی جھجھک کے جواب دینا آتا ہے۔

اس سے قبل ایران نے آئل ٹینکر کو تحویل میں لیے جانے پر تہران میں تعینات برطانوی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا تھا جب کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے برطانوی اقدام کو بحری قزاقی کی ایک قسم قرار دیتے ہوئے آئل ٹینکر کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب اسپین کے قائم مقام وزیر خارجہ کے مطابق ’گریس ون‘ جہاز کو امریکا کی درخواست پر تحویل میں لیا گیا تھا اور ایرانی حکام کا بھی یہی خیال ہے تاہم  برطانوی رائل میرینز کا کہنا ہے کہ جبرالٹر میں ایرانی جہاز کی ضبطی شام کو تیل سپلائی کرنے کے شواہد پر کی گئی۔

آہ حکمران، سیاستدان، جمہوریت کرپشن اور ایمنسٹی اسکیم!

کیا کروں کہ کہتاہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے ، کوئی کچھ بھی کہے ،میرے سچ سے کوئی متفق ہو کہ نہ ہو ،اِس سے مجھے کیا;238; مگرسچ تو یہ ہے کہ اصل میں مملکیت خداداد پاکستان میں سیاسی پارٹیوں اور جماعتوں میں شخصیت پرستی اور سیاست دانوں کی اداروں اور اشخاص کے خلاف بدزبانی کا بڑھتارجحان ہی مُلک کی تباہی و بربادی کا بڑا سبب بن رہاہے، ضروری نہیں ہے کہ جس پارٹی کا بانی کسی بھی راستے ،ذراءع یا اندر باہر کی کسی خفیہ طاقت کے اشارے سے کبھی حکمران بنے وہ لالچ اور کرپشن سے بھی پاک ہو، ہماری نصف صدی سے زائد عرصے کے دوران باکثرت یہ مشاہدہ شک میں بدل کر یقین میں تبدیل ہوچکا ہے کہ ہمارے حکمرانوں ،سیاستدانوں اور اِن کے اِدھر اُدھر کے چیلے چانٹوں میں کرپشن اور قومی خزانے سے لوٹ مار کا پایا جانے والا عنصر ہی قرضوں کی وجہ بن کر مُلکی معیشت ،اقتصادیات اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے کا سبب بنا ہے ۔ میرے اِس نقطہ نظر سے بھی کچھ متفق ہوں گے اورلوگوں کی اکثریت یہ ماننے کوکبھی تیار نہیں ہوگی کہ ستر سال سے وطن عزیز پاکستان میں جمہوریت کے نعرے لگا کر وہ لوگ مُلک میں جمہوراور جمہوریت کی پاسداری کی باتیں کرتے ہیں ۔ آج تک جنہیں جمہور اورجمہوریت کے سمجھ تو کیا;238; جمہوریت کے معنی تک نہیں آتے ہیں ،کیوں کہ اِنہیں اِن کے سات سمندر پاربیٹھے آقاؤں نے سکھادیاہے کہ پاکستان میں سِول حکمران جمہوریت کا نعرہ لگائے بغیر اقتدار میں نہیں آسکتے ہیں ۔ تاہم ہمارے یہاں برسوں سے یہ پریکٹس بن چکی ہے کہ اقتدار میں جو بھی سِول آئے گا وہ جمہوراورجمہوریت کا پرچار تو خوب لہک لہک کرے گا باقی کام وہ (اِس کے سات سمندر پار بیٹھے بیرونِ آقا) دیکھ لیں گے ۔ اِس لئے سِول حکمرانوں کے نزدیک بس جمہوریت یہی ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد جمہوراور جمہوریت کے تمام راستے اور سوراخ عوام کےلئے بند کردیئے جائیں ۔ اگر کوئی ایک در، یا سوراخ چھوڑابھی جائے، تواُسے حکمران اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کےلئے ہی کھلا رکھیں ۔ جیسا کہ ماضی میں ہوتارہاہے ۔ مگرپھر اِسے بھی عوام کی رسائی سے دور رکھاجائے ۔ یقینا موجودہ حکومت میں جمہوری ثمرات عوام الناس تک ضرور منتقل کئے جائیں گے ۔ البتہ، اِس میں ضرور کچھ وقت یعنی کہ دوتین سال تولگ سکتے ہیں ۔ مگر قوم اُمید رکھے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں برسوں سے غضب شدہ عوامی حقوق جمہوری ثمرات کی شکل میں اِن کی دہلیز تک لازمی پہنچ پا ئیں گے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے یہاں بیس سال کے عرصے میں جتنی بھی حکومتیں گزری ہیں ۔ آج کوئی بھی صاحبِ عقل ودانش یہ بتادے کہ اِس دوران حکمرانوں ، سیاستدانوں نے مُلک میں حقیقی جمہوریت کےلئے کبھی کوئی بھی درست قدم اُٹھایاہو،جو بھی آیا سب نے ہی جمہوریت کے نعرے لگا کرعوامی حقوق پر ڈاکہ تو ضرور ڈالا ہے;234;مگر عوام کےلئے کسی نے کچھ نہیں کیا ہے ۔ سب نے عوام کو مہنگائی، بھوک و افلاس وتنگدستی کی دلدل میں دھکیلا اوربنیادی سہولیات زندگی سے محروم رکھ کر توانائی گیس اور تیل کے بحرانوں میں جکڑے رکھا ،اِسی راستے قرضوں کے بوجھ تلے عوام کو زندہ درگور کیا اور اپنے لئے کرپشن کے دروازے کھولے ۔ ہر زمانے کے ہر معاشرے اور ہر تہذیب کے اہلِ علم و دانش کا کہنا ہے کہ کرپشن کی دلدل میں دھنسی قوم کا کوئی مستقبل نہیں ۔ اِن دِنوں پاکستانی قوم بھی حکمرانوں اور سیاستدانوں کی لوٹ مار اور کرپشن کی دلدل میں دھنس کر اُوپر سے قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہوئی ۔ حتی کہ آج ماضی کے کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے قوم ماتھے کے پر نیک نامی کا تمغہ ہونے کے بجائے کرپشن کی کلک کا ٹیکہ لگادکھائی دیتا ہے ۔ یقینا آج ہ میں ایک بھی کوئی ایسا نہیں ملے گا جو کھلے دل و دماغ سے اِس کی نشاندہی کردے کہ قومی خزانے کو لوٹ کھانے والے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی حکومتیں جمہوری ثمرات عوام الناس تک پہنچانے میں کبھی مخلص رہی ہیں ،اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیشہ سچ و حق کی عمرلمبی ہوتی ہے ۔ مگر منافقین اور جھوٹوں کا ٹولہ اِسے کم کرنے کے لئے ہٹ دھرمی کی تمام حدیں پار کرجاتا ہے;234; تب ہی یہ منہ کی کھا کر رہ جاتاہے ۔ آج بدقسمتی سے سرزمینِ پاکستان میں بھی حق وسچ اور سیاسی کرپشن زدہ ٹولوں کے درمیان گھمسان کا رن جاری ہے ۔ دیکھ لینا جن کا چہر ہ کرپشن سے کالا ہوچکاہے ہار اِن ہی کی ہوگی ۔ موجودہ حکومت ماضی کے کرپٹ حکمرانوں ، سیاستدانوں اور چیلے چانٹوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کےلئے تیاریاں کرکے میدانِ عمل میں اُتر چکی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت عوام سے کئے ہوئے وعدوں اور دعووں پر تیزی سے عملی جامہ پہنا رہی ہے ۔ حکومت کرپشن ، لوٹ مار اور بے نامی جائیدادوں کی صاف و شفاف طریقے کے تحت تحقیقات کے بعداصل مالکان تک رسائی کے بعد قانون کے مطابق کارروائیاں شروع کرچکی ہیں ۔ مملکت پاکستان میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور کرپٹ عناصر کو لگام دینے اور آئین و قانون کے مطابق قومی خزانہ لوٹ کھانے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کرنے کا یہی اچھا وقت ہے ;46;اگر یہ وقت کرپٹ عناصر اقامہ ,پانامہ اور جعلی بینک کھاتوں اور بے نام جائیدادیں بنانے والوں کے چیخنے چلانے اور مُلک میں انارکی پھیلا والوں کی وجہ سے گزر گیا;46;تو پھر کبھی اِس سے اچھا وقت پلٹ کر نہیں آئے گا ۔ اِس لئے ضروری ہے کہ جب پلٹ پلٹ کر باریاں لگانے والے کرپٹ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے گرد احتساب کا شکنجہ سخت ہورہاہے;234; اور کرپٹ عناصر کامُلک سے بھاگنے کا موقع ختم ہوتاجارہاہے ۔ تو پھر ایک لوہار کی طرح ایسا ضرب لگایاجائے کہ چوروں کی چیخیں نکلے بغیراِدھر اِن کی جان نکلے اور اُدھراِن کی گرفت سے لوٹی ہوئی ساری قومی دولت نکل کر مُلک میں آجائے ۔ اَب پاکستانی قوم حوصلہ رکھے ۔ اِس کا یقین کرلے کہ مُلک سے مہنگائی اُسی وقت ختم ہوسکتی ہے جب سرزمینِ پاکستان سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کا خاتمہ کردیاجائے;234; تو اِس کےلئے پوری پاکستانی قوم کو متحد ہوکر حکومت کے شانہ بشانہ کھڑاہوناہوگا ۔ تب تو حکومت مُلک سے مہنگائی اور کرپشن کے ناسُورکو جڑ سے ختم کرسکتی ہے;234; ورنہ ;238;اگر ابھی پاکستانی قوم اپنی آنکھوں اور عقل پر سیاسی جماعتوں اور پارٹیوں کے بانیوں اور سربراہاں کی شخصیت پرستی کی پٹی چڑھائے;234; قومی لٹیروں اور پانامہ و اقامہ اور جعلی بینک اکاءونٹس اور بے نامی جائیدادوں کا گھناوَنا چکر رچانے والوں کی چکنی چپڑی باتوں اور قومی لٹیروں کے جادوئی اثر میں ہی پڑی رہے گی ۔ تو اِس کا مقدر اِس کا حق مار کر قومی لٹیروں اور قومی خزانہ لوٹ کھانے والوں کے ہاتھوں ہی میں قیامت تک کھلونا بنارہے گا ۔ اور یہ ہمیشہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہے گی اور پاکستانی قوم کی نسلیں بھی صدیوں تک ایڑیاں رگڑ رگڑ، بلک بلک کر اور سسک سسک کر مرتی رہیں گیں ،اپنے پرکھوں کو کوستی رہے گی کہ جنہوں نے اپنی زندگیاں توشخصیت پرستی میں گزاری اوراِسے بھی بربادکیا ۔

نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں نیب کی ایک گھنٹہ تفتیش

لاہور: توشہ خانہ کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام آباد کی تین رکنی ٹیم  نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ایک گھنٹے تک تفتیش کی اور ایک سوال نامہ بھی دیا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد نیب کو سوال نامہ کے جواب بھجوائیں گے۔ ان کے خلاف اس کیس میں سرکاری گاڑیوں اور مختلف ممالک سے ملنے والے قیمتی تحائف کے غیر قانونی اور ذاتی استعمال کے الزامات ہیں۔

نیب اسلام آباد کی تین رکنی ٹیم  کوٹ لکھپت جیل  لاہور پہنچی تو  نواز شریف کو سیکورٹی سیل سے جیل سپرٹنڈنٹ کے کمرے میں سخت سیکورٹی میں لایا گیا۔ نیب کے تین  افسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم  نے نواز شریف سے ایک گھنٹے تک تفتیش کی۔

نیب کی جانب سے نواز شریف کو سوالنامہ دیا گیا جس میں سے کچھ سوالات کے جوابات نواز شریف نےدیے اور کچھ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں اور بطور وزیراعظم ان کی یہ ڈیوٹی نہیں کہ کیا کیا تحائف ملے، انہیں جو بھی ملے وہ سرکاری خزانے میں جمع کرادیے، رہی بات گاڑیوں کے استعمال کی تو بطور وزیر اعظم پاکستان مجھے ان گاڑیوں کے استعمال کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہے، جس کا ریکارڈ بھی چیک کیا جاسکتا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ کچھ سوالات کے جوابات ان کے پاس نہیں اور قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے۔

نیب ٹیم نواز شریف سے ایک گھنٹے تک تفتیش مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد روانہ ہوگئی۔ نواز شریف سے دوران تفتیش جیل افسران کو کمرے میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی ۔ سپرنٹینڈنٹ جیل سمیت دیگر افسران و اہلکار کمرے کے باہر ہی موجود رہے۔ نیب کی ٹیم کے واپس جاتے ہی نواز شریف کو ان کے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔

Google Analytics Alternative