Home » 2019 » July » 10

Daily Archives: July 10, 2019

کسی سزا یافتہ کو انٹرویو کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کے ٹی وی انٹرویوز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سزا یافتہ شخص کے انٹرویو کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، اجلاس میں سابق وزیراعظم نوازشریف اور سابق صدر آصف زرداری کے دور میں اخراجات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا کہ نوازشریف کے دور میں غیر ملکی دوروں پر 1421.5 ملین جب کہ آصف زرداری کے دور میں 183.5 ملین روپے خرچ ہوئے۔

وفاقی کابینہ نے سزا یافتہ افراد کے ٹی وی انٹریوز پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ان  انٹرویوز کو نشر کرنے کے خلاف پیمرا سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان  نے کہا کہ کسی سزا یافتہ شخص کے انٹرویو کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، سابق حکمران قومی خزانے سے پرتعیش دورے کرتے رہے، ملک اور قوم کو ان غیر ملکی دوروں سے کیا حاصل ہوا، سابق ادوار میں اڑائی گئی دولت کے ایک ایک پیسے کا حساب لیا جائے گا۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر مریم نواز احتساب عدالت طلب

اسلام آباد: احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر مریم نواز کو طلب کرلیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر مریم نواز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 19 جولائی کو طلب کرلیا۔ نیب نے مریم نواز کے خلاف جعلی دستاویزات پر ٹرائل کے لیے درخواست دی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی پیش کردہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ثابت ہوئی۔

واضح رہے کہ 5 جولائی 2018 کو  احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 برس قید بامشقت، مریم نواز کو 7 برس قید جب کہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔ 19 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف،  مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

ججز دباؤ میں فیصلے کرنے کی بجائے مقدمات سے علیحدہ ہوجائیں، بلاول بھٹو

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ کنٹینر والے پارلیمان کے اندرسے پارلیمان پرحملے کررہے ہیں جبکہ ججز دباؤ میں فیصلے نہ کریں اور مقدمات سے علیحدہ ہوجائیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کے بغیرپارلیمان نامکمل ہے، کفایت شعاری کے بہانے کام کرنے سے روکا جارہا ہے، اگرقومی اسمبلی کی کمیٹیوں کوختم کرتے ہیں توخرچہ زیادہ ہوگا کم نہیں، قائمہ کمیٹیوں کا اجلاس ایوان کے اجلاس سے مشروط کرنا پارلیمان پرحملہ ہے، یہ بہانہ کیسے بنتا ہے جس سے آپ ہمیں کام سے روک رہے ہیں، جو لوگ موت سے نہ ڈرنے کے دعوے کرتے تھے وہ ایک پروڈکشن آرڈر سے ڈر گئے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ کنٹینروالے پارلیمان کے اندر سے پارلیمان پرحملے کررہے ہیں، ہمارے جمہوری راستے بند کیے جارہے ہیں، قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس منسوخ کرنا پارلیمان پرحملہ ہے، آج جب کمیٹیوں کے اجلاس سے متعلق نوٹی فکیشن جاری ہوا تواسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں ہی بیرون ملک ہیں۔

بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ ہماری رائے مختلف ہوسکتی ہے لیکن پارلیمان کو استعمال کرکے ملک کے مفاد میں ایک رائے پرپہنچا جاسکتا ہے، ارکان کو کمیٹیوں میں اس بل کی تیاری کرنا ہوتی ہے جو ایوان میں پیش کئے جاتے ہیں، قواعد کے مطابق اسپیکر قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس پر پابندی نہیں لگاسکتے، حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ ملک اور پارلیمان کو چلانا کوئی کرکٹ میچ نہیں۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے، مریم نواز نے عدلیہ کے خلاف نہیں بلکہ صرف ایک جج کے متعلق بات کی ہے، اعلیٰ عدلیہ ایسے کیسز کو دیکھے اور معاملات کو حل کرے، دباؤ میں کئے جانے والے فیصلوں کا حل دیا جانا چاہیے، جن ججوں پر دباؤ ہے وہ اپنے آپ کو مقدمات سے علیحدہ کریں اور دباؤ میں فیصلے مت دیں، کیونکہ اس سے ادارے کمزور ہوتے ہیں، عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے اس کے بغیر نظام نہیں چل سکتا۔

سعودی حکومت کا حج اور عمرہ زائرین کیلیے مکہ میں ایئرپورٹ کی تعمیر کا فیصلہ

مکہ: سعودی عرب میں حج اور عمرہ زائرین کی سہولت کے لیے ایئرپورٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جسے جدہ ہوائی اڈے سے منسلک کیا جائے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امیر مکہ خالد الفیصل نے نئے ایئر پورٹ کے قیام کے لیے معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں، ایئرپورٹ کا قیام الفیصلیہ پروجیکٹ کے تحت سول ایوی ایشن کی مشاورت سےعمل میں لایا جائے گا۔ ایئرپورٹ کے قیام میں حائل سیکیورٹی خدشات کو دور کرلیا گیا ہے۔

قبل ازیں زائرین کو جدہ ایئرپورٹ سے بس یا پرائیوٹ ٹیکسی کے ذریعے مکہ جانا پڑتا تھا جس سے وقت کا ضیاع بھی ہوتا تھا اور اخراجات میں بھی اضافہ ہو جاتا تھا جب کہ زائرین کو پریشانیوں کا بھی سامنا رہتا تھا۔

سعودی میڈیا کے مطابق مکہ ایئرپورٹ الفیصلیہ سٹی پروجیکٹ کے تحت تعمیر کیا جائے گا، یہ شہر مکہ کے مغربی علاقے میں 2 ہزار 450 اسکوائر کلومیٹر کے احاطے میں بنایا جائے گا جو حرم کی سرحد سے الشعیبہ کے ساحل تک محیط ہوگا۔

اس موقع پر امیرِ مکہ خالد الفیصل کا پروجیکٹ کی منظوری پر خادمین حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایئرپورٹ کی سہولت سے زائرین فائدہ اُٹھاسکیں گے جو کہ شاہ سلمان کی پہلی ترجیح ہے۔

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع

اسلام آباد: اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف  تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔

اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد سیکرٹری سینیٹ کے پاس جمع کرادی، تحریک عدم اعتماد راجا ظفر الحق، جاوید عباسی، شیری رحمان  اور غفور حیدری نے جمع کرائی۔ تحریک کے ساتھ اپوزیشن کی جانب سے سینیٹ کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی جمع کرائی گئی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ایوان کے کسٹوڈین کے طور پر اعتماد نہیں رکھتے۔ ایوان اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ موجودہ چیئرمین سینیٹ ایوان کے ممبران کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر راجا  ظفرالحق کی صدارت میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹر مشاہد اللہ خاں، شیری رحمان، مولاناعطاالرحمان، عثمان کاکڑ، آصف کرمانی، میر کبیر محمد شاہی، پرویزرشید، ستارہ ایاز، رحمان ملک، سسی پلیجو اور بہرمند خان تنگی نے شرکت کی تاہم جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد اور سینیٹر سراج الحق اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف قرارداد شیری رحمان اور (ن) لیگی سینیٹر جاوید عباسی نے تیار کی جس پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے مختلف سینیٹرز نے دستخط کئے۔

سیکریٹری سینیٹ نے اس حوالے سے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی ہے، قانون کی رو سے جس دن یہ عدم اعتماد کی قرارداد پیش ہوگی چیئرمین سینیٹ صرف اس دن اجلاس کی صدارت نہیں کرسکیں گے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر اجلاس بلانے کا اختیار چیئرمین سینیٹ کے پاس ہے۔

واضح رہے کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ کا منصب مسلم لیگ (ن) کو دینے پر اتفاق کیا ہے جب کہ ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ پیپلز پارٹی ہی کے پاس رہے گا۔ رہبر کمیٹی کا اگلا اجلاس 11 جولائی کو ہوگا اور اسی روز نئے چیئرمین سینیٹ کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔

لیجنڈ اداکارہ ذہین طاہرہ انتقال کر گئیں

کراچی: فلم اور ٹی وی کی نامور اداکارہ ذہین طاہرہ طویل علالت کے بعد 79 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔

پاکستان شوبز انڈسٹری کی لیجنڈ اداکارہ ذہین طاہرہ طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں۔ ذہین طاہرہ نے پی ٹی وی سمیت نجی چینلز کے مختلف ڈراموں میں لازوال کردار نبھائے۔

اداکارہ ذہین طاہرہ نے اپنے کیریئر کا آغاز 60 کی دہائی میں کیا اور ڈراما سیریل’’خدا کی بستی‘‘، ’’عروسہ‘‘ ، ’’دستک‘‘،’’ماسی اور ملکہ‘‘،’’شمع‘‘،’’دل دیا دہلیز‘‘ اور’’کہانیاں‘‘ سمیت 700 سے زائد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اداکارہ ذہین طاہرہ نے ڈراموں کے علاوہ کئی فلموں میں کردار نگاری بھی کی، وہ متعدد ڈراموں کی پروڈیوسر اور ڈائریکٹر بھی رہیں۔ انہوں نے ڈراموں کے ساتھ گلوکاری میں بھی اپنے فن سے شائقین کو محظوظ کیا۔

2013 میں ذہین طاہرہ کو پاکستان ٹیلی ویژن میں گراں قدر خدمات انجام دینے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

واضح رہے کہ اداکارہ ذہین طاہرہ گزشتہ کافی عرصے سے شدید علیل تھیں جب کہ گزشتہ ماہ انہیں عارضہ قلب کے باعث وینٹی لیٹر پر منتقل کیاگیا تھا۔ ملک کی لیجنڈ اداکارہ کی طبعیت خرابی کی خبر سن کر شوبز سے وابستہ دیگر شخصیات اور ان کے مداحوں کی جانب سے ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کی گئیں تھیں۔

مبینہ ویڈیو کے معاملے میں حکومت کو فریق نہیں بننا چاہیے

حکومت نے اس وقت بالکل صحیح لائن دی ہے کہ ویڈیو سکینڈل سے حکومت کا کوئی کام نہیں ، عدلیہ آزاد اور خودمختار ہے اس کو نوٹس لینا چاہیے ۔ نیز وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ ن لیگ کی جو حکومت مخالف سرگرمیاں ہیں ان کا منہ توڑ جواب دینا چاہیے کیونکہ مسلم لیگ ن نے احتساب عدالت کے جج کے حوالے سے ویڈیو پیش کرکے ایک نیا ملاکھڑا شروع کردیا ہے، سونے پر سہاگہ یہ کہ مریم نواز نے کہا کہ ان کے پاس مزید دو ویڈیوز اور تین آڈیو ٹیپس موجود ہیں اب وہ ان کو کس وقت اور کہاں پیش کریں گی یہ تو وقت ہی بتائے گا یا اس بارے میں مریم نواز ہی آگاہی کراسکتی ہیں تاہم ایک بات اہم ہے کہ یہ ویڈیو لیکس کا معاملہ انتہائی اہم ہے اور حکومت کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے ۔ جلدازجلد جو پہلے ویڈیو پیش کی گئی ہے اس کا فرانزک کراکے عوام کے سامنے نتیجہ پیش کرنا چاہیے تاکہ اس میں جو بھی ملوث ہو قانون کے تحت اس کیخلاف کارروائی کی جائے، یہ عدلیہ پر ایک سوالیہ نشان ہے اور اس کو جلد ازجلد ہونا بہت ہی ضروری ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن کا کوئی حربہ کارگر ثابت نہیں ہو گا احتساب کا عمل جاری رہے گا ۔ حکومت کو ویڈیو معاملے پر پارٹی نہیں بننا چاہیے عدلیہ آزاد اور خود مختار ہے اسے مبینہ ویڈیو کا نوٹس لیکر خود کارروائی کرنی چاہئے ۔ اسلام آباد میں عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس میں عمران خان نے ترجمانوں کو اہم ٹاسک سونپتے ہوئے کہا کہ اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ن لیگ کی جانب سے اداروں پر حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے ماضی میں عدلیہ پر دباو ڈالا گیا لیکن اب نئے پاکستان میں ایسا نہیں چلے گا ۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیا پاکستان ہے اور اس میں عدلیہ اور ججز آزاد ہیں حکومت کو جواب دہ نہیں ہیں ،عدالتیں مبینہ ویڈیو کے مکمل فرانزک آڈٹ کا حکم دیں ملکی وقار اور قومی اداروں پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے ،اداروں کو متنازع بنانے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے عدلیہ ویڈیو لیک کا نوٹس لے، جو فیصلہ کرے حکومت ہر سہولت دے گی ۔ وزیراعظم نے معاشی اقدامات پر حکومتی موقف واضح انداز میں پہنچانے کی ہدایت جاری کی ۔ سیاست کے میدان میں اس وقت ایک ہیجانی سے کیفیت ہے، ویڈیو کا مسئلہ ، چیئرمین سینیٹ کا مسئلہ، مہنگائی کا مسئلہ ، قومی اسمبلی میں ہنگاموں کا مسئلہ،غرض کہ ہر قدم پر مسائل ہی مسائل ہیں ، حکومت ان کو متانت سے حل کرنے کیلئے پیش قدمی کرے کیونکہ اس سے آنے والا وقت جو کہ ملک کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے وہ ضائع ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، پہلے بجٹ کا مسئلہ تھا اسے حکومت نے پاس کرایا، اب چیئرمین سینیٹ کا مسئلہ چل پڑا ہے جس پر اپوزیشن نے رہبر کمیٹی بنائی مگر وہ رہبر کمیٹی بھی سانجھے کی ہانڈی کی طرح چوراہے میں ٹوٹ گئی ہے، اپوزیشن بھی گو مگو کی پوزیشن کا شکار ہے اگر حکومت اس وقت صحیح طرح سیاسی پوائنٹ سکورننگ کرتی ہے تو حالات قابو میں آسکتے ہیں ، آصف علی زرداری کے تحفظات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ حکومت کو چاہیے کہ جتنے بھی ملزم یا مجرم ہیں ان کے بیانات پر قطعی طور پرپابندی عائد کردی جائے ، پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں کہ زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر روک دئیے گئے ہیں اسی طرح ان کی بیان بازیوں پر بھی پابندی عائد کردی جائے تو حکومت کو بہت زیادہ سکون میسر آسکتا ہے ۔ سیاسی حالات کو کنٹرول کرنا حکومت کا ہے ،اپوزیشن کا کام تو شوروغوغا ہی کرنا ہے ۔

سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم نہیں کی جائے گی

ایف بی آرکے چیئرمین شبرزیدی نے کہا ہے کہ ہم نے ملکی تاریخ کا پہلا ٹیکس فری بجٹ دیا ،بجٹ میں چینی کے سوا کسی چیز پرکوئی ٹیکس لگایا نہ سیلز ٹیکس بڑھایا اور اگر کوئی شخص بتا دے کہ نیا ٹیکس لگایاہے ابھی واپس لے لوں گا،کسی تاجر کا درآمدی مال کا کنٹینر کھلے گا نہ وضاحت لئے بغیر اکاونٹس منجمد کریں گے ،مویشی منڈی میں قربانی کے جانوروں پرٹیکس لگانے کی باتیں افواہ ہیں ، کسی جج، جنرل یاممبرایف بی آرکا ڈیٹا نہیں چھوڑا، شناختی کارڈ پر مزاحمت کیوں یہ کوئی نئی بات نہیں مہنگائی کی وجہ ڈالر کی قدر میں اضافہ اورمڈل مین کا کردارہے ،اسمگلنگ ، انڈر انوائسنگ اور افغان ٹریڈ کا غلط استعمال بہتر کیے بغیر سسٹم ٹھیک نہیں ہوسکتا، صنعتکاروں تاجروں کی مشاورت سے بہتر حل نکالیں گے ۔ میڈیا سے گفتگو میں اُن کا کہناتھا ٹیکس جمع کرنے کےلئے حکومت خاموشی سے 18 یا 19 فیصد سیلز ٹیکس عائدکرسکتی تھی لیکن ہمارا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنانہیں ہے سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم نہیں کی جائے گی ، وزیراعظم نے جو نیا ایف بی آر بنانے کی بات کی تھی وہ دراصل سارے ٹیکس نظام کی آٹومیشن ہے شناختی کارڈ لازمی قرار دینے کی مخالفت کرنے والے دراصل خود کو رجسٹرڈ نہیں کروانا چاہتے، مڈل مین ٹیکس نیٹ میں نہیں ہے اسے اب ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا،کہیں پر کوئی ہڑتال نہیں ہے،اگر ہے تو وہ عارضی ہے3 لاکھ 41 ہزار صنعتی صارفین میں سے صرف16 ہزار سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں شبر زیدی نے حالیہ بجٹ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خدشات کو دور کرنے کیلئے تمام شعبوں کے نمائندہ افراد پرمشتمل کمیٹی قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ چیئرمین ایف بی آر نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں صنعتکاروں اور تاجروں کے ڈھائی گھنٹے تک تحفظات سنے ۔ فیکٹری مالکان اپنی صنعتیں چلائیں شناختی کارڈ والے مسئلے کو وقتی طور پر موخر کیا جا سکتا ہے ۔ حکومت ان کیلئے فکس ٹیکس کا نظام لا رہی ہے،20جون سے ری فنڈ کیلئے 38ارب کے پر میسری نوٹ جاری کر دئیے گئے ہیں ، آئندہ سے برآمدی تاجروں کے ری فنڈ کلیم موخر نہیں کئے جائیں گے ۔

ایشیائی ترقیاتی بینک ،پاکستان کیلئے10ارب ڈالر کا قرض

آئی ایم ایف کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی پاکستان کو اربوں ڈالر قرض دینے کا اعلان کر تے ہوئے کہاہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو5سال میں 10ارب ڈالرز قرض دےگا، رقم مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے فراہم کی جائیگی،رواں مالی سال2;46;1 ارب ڈالرزپاکستان کودیئے جائینگے ۔ اے ڈی بی اعلامیے کے مطابق پاکستان کے ساتھ نئی شراکت پر حکمت عملی طے کی جارہی ہے جبکہ یہ پروگرام 2024 تک جاری رہے گا ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قرض کی مد میں رقم مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے فراہم کی جائے گی، قرض کے پاکستان اورایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں کنٹری پارٹنرشپ کے تحت حکمت عملی سے متعلق مشاورت کی گئی ۔ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو 2;46;1 ارب ڈالرز فراہم کیے جائیں گے جبکہ 10 ارب ڈالرز کی رقم مختلف منصوبوں کے لیے جاری کی جائے گی ۔

خطے میں بالادستی کا بھارتی خواب

پاک فو ج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ہاتھ باندھ کر بھارت کو کھلا نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ دونوں ممالک کو یکساں طور پر دیکھنا چاہیئے ۔ ایٹمی صلاحیت روایتی جنگ کے امکان کو روکنے کا کام کرتی ہے ۔ کوئی ذمہ دار ملک جوہری ہتھیار کے استعمال کی بات نہیں کرسکتا ۔ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار خطے میں دفاعی توازن کے لیے ہیں ۔ بھارت نے دفاعی بجٹ میں آٹھ فیصد اضافہ کیا ہے ۔ یہ رقم گذشتہ بجٹ کے مقابلے تقریبآ آٹھ فیصد زیادہ ہے ۔ اس کے علاوہ دفاعی سروسز سے منسلک افراد کی پنشن کے لیے 112079 کروڑ روپے علیحدہ رکھے گئے ہیں ۔ دوبارہ انتخاب جیتنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہے ۔ بھارت جرائم پر پردہ ڈالنے کےلئے ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ خطے میں بھارتی بالا دستی قبول نہیں ۔ بھارت کو پاکستان میں تخریب کاری کی پشت پناہی بند کرنا ہوگی ۔ ہم بھارت کے ساتھ تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہیں ۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کی کسی بھی مہم جوئی یا کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرئن کا بھرپور جواب دیا جائے گا ۔ اگر بھارت نے ایل او سی کو پار کرنے کی کوشش کی یا پاکستان کے خلاف ;39;محدود جنگ;39; کی پالیسی پر عملدرآمد کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا ۔ بھارت نے رواں سال ایل او سی پر جنگ بندی کی 600 سے زائد خلاف ورزیاں کیں ابھی چند روز قبل ایل او سی پر بھارتی جارحیت سے پانچ فوجی جوان شہید ہوئے ۔ بدقسمتی سے پاکستان کو اپنے قیام سے ہی مشرقی پڑوسی کی جانب سے مشکلات کا سامنا رہا ہے ۔ پاکستان نے ایٹمی ہتھیار تب ہی بنائے جب اس کے ہمسائے ملک نے انہیں حاصل کیا ۔ پاکستان اپنے ہمسائے بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن مذاکرات کے لیے بھارت کو پاکستان میں بشمول پاکستان کی مغربی سرحد سے شدت پسند کارروائیوں کی معاونت ترک کرنا ہو گی ۔ پاکستان واحد ملک ہے جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں پاکستان نے فوجی جوانوں سمیت 70 ہزار پاکستانی جانوں کا نقصان اٹھایا ہے ۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھایا ۔ پاکستان میں دہشت گردی کیخلاف سب سے بڑی اور خطرناک جنگ لڑی گئی اور پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف یہ جنگ اپنے وسائل سے لڑی ہے اور لڑ رہا ہے ۔ پاک فوج نے افغان سرحد کے قریب سے شدت پسندوں کے تمام محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر دیا ہے ۔ ہم نے علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔ اب وہاں کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں ،کوئی بھی نہیں ۔ بھارت کی فوجی تیاریاں اس کے پڑوسیوں کے لئے باعث تشویش ہیں ۔ وہ مسلسل اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے ۔ اس وقت بھارت کے پاس دنیا کی چوتھی بڑی فوج ہے ۔ تیسری دنیا میں وہ سب سے بڑی بحری، بری اور فضائی قوت رکھتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ اپنی افواج کی حربی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے ۔ وہ امریکہ سے جدید ترین ایف 18 جنگی طیاروں ، میزائلوں ، گولہ بارود، برطانیہ سے ہیلی کاپٹر، روس سے طیارہ بردار بحری جہازوں سمیت دیگر اسلحہ ، فرانس سے آبدوزوں اور اسرائیل سے فالکن ریڈاروں ، بغیر پائلٹ کے جاسوس اور پیشگی اطلاع دینے والے ایواکس طیاروں کی خریداری کےلئے اربوں ڈالر کے منصوبوں کے معاہدے کر رہا ہے ۔ اندرون ملک اس کے چار درجن سے بھی زائد کارخانے دن رات مختلف قسم کا اسلحہ تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ بھارت اس وقت 150 کلومیٹروالے پرتھوی سے لے کر 4000 کلومیٹر تک مار کرنے والے اگنی 111 میزائلوں پر کام کر رہا ہے ۔ ہر سال ان تباہ کن میزائلوں کے تجربات کئے جاتے ہیں ۔ ان میزائلوں کے ذریعے روایتی، کیمیائی اور ایٹمی ہر طرح کے ہتھیار لے جائے جا سکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ بھارت مقامی طور پر طیاروں ، ٹینکوں اور دیگر ہر طرح کا اسلحہ تیار کرنے والے کارخانوں کو مسلسل وسعت دے رہا ہے ۔ وہ اپنی بحری افواج کو بحرہ ہند سے بھی آگے لے جا کر بلیو واٹر نیوی بنانا چاہتا ہے تاکہ اس کی مار انڈونیشیا اور آسٹریلیا تک ہو ۔ انہی مقاصد کے حصول کیلئے وہ ہر چیر کو پس پشت ڈال کر عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کی ہوئی رقم کو ان کی بہتری اور ترقی کی بجائے اسلحہ کی دوڑ پر صرف کر رہا ہے ۔ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ امن معاہدہ چاہتا ہے تو پھر بھارت کو پاکستان کے اسلحہ خریدنے پر کیوں اعتراض ہے اور پاکستان بجا طور پر یہ سمجھتا ہے کہ اب جنگ نہیں ہوگی ۔ بھارت اسلحہ کی خریداری پر کیوں رقم خرچ کر رہا ہے;238; دونوں ملکوں کے درمیان اسلحہ کی خریداری کی دوڑ دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ نام امن کا لیا جارہا ہے لیکن دونوں جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ بھارت نے امریکہ کو دھمکی دی ہے کہ امریکہ پاکستان کےلئے اسلحہ کی فراہمی سے باز رہے ورنہ امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں ۔

Google Analytics Alternative