Home » 2019 » July » 11

Daily Archives: July 11, 2019

وائٹ ہاؤس نے وزیراعظم عمران خان کےدورہ امریکا کی تصدیق کردی

واشنگٹن / اسلام آباد: وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان 22 جولائی کو امریکا پہنچیں گے اور ان کا استقبال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

امریکی ایوان صدر ’وائٹ ہاؤس‘ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کی تصدیق کردی ہے، اس حوالے سے وائٹ ہاؤس ترجمان  نے کہا ہے کہ  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 جولائی کو وزیراعظم عمران خان کا استقبال کریں گے۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کاکہنا ہے کہ عمران خان کے دورہ امریکا کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے، دورے سے دونوں کو ممالک امن، اقتصادی ترقی اور خطے کے استحکام کے  لیے مل کرکام کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کی امریکی صدر سے مجوزہ ملاقات میں دونوں رہنما انسداد دہشت گردی، دفاع، توانائی اور تجارت پرتبادلہ خیال کریں گے جب کہ خطے میں امن واستحکام اور اقتصادی تعاون پر بھی غور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 4 جولائی کو ترجمان دفتر خارجہ نے وزیر اعظم کے دورہ امریکا کا اعلان کیا تھا تاہم ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مورگن اورٹیگس نے نیوز کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے دورے سے متعلق کہا تھا کہ ہمیں عمران خان کے دورے کی کوئی اطلاع نہیں، ہم اس بارے میں وائٹ ہاؤس سے رابطہ کرکے دورے کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

ملزمان کے بیانات اور انٹرویوز………وفاقی کابینہ کے تحفظات

وزیراعظم عمران خان نے پروڈکشن آرڈر زکے بعد ملزمان کے بیانات کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، بات تو بالکل درست ہے دنیا بھر میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں پر ملزمان اورمجرمان باقاعدہ انٹرویوز دیتے ہیں ، اپنا نکتہ نظر بیان کرتے ہیں ، ان بیانات کے ذریعے ملک میں انارکی پھیلاتے ہیں ، مخالف پر کیچڑ اچھالتے ہیں اور اس کے بعد سکون سے جیل میں چلے جاتے ہیں ، پھر نئی تاریخ پر آنے کے بعد ایک نیا جھگڑا کھڑا کردیتے ہیں اور ملک میں ایک نئی بحث چل نکلتی ہے ۔ وفاقی کابینہ نے بھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ہونا بھی چاہیے کسی ملزم یا مجرم کے بیان دینے پر قطعی طورپر پابندی ہونی چاہیے ۔ نیز انٹرویوز کرنے والے کے حوالے سے بھی ایوان میں باقاعدہ قانون سازی ہو تاکہ انٹرویو دینے اور لینے والا دونوں ہی سزا کے مستحق ہوں تب ہی یہ سلسلہ رک سکتا ہے ۔ گزشتہ روزوفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ وفاقی کابینہ نے سزا یافتہ افراد کے ٹی وی انٹرویوز پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ان انٹرویوز کو نشر کرنے کے خلاف پیمرا سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کابینہ نے اس بات کا نوٹس لیا کہ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں سزایافتہ مجرمان یا زیر تفتیش ملزمان کو اپنے ذاتی مقاصد کی تشہیر یا قومی اداروں کو دباءو میں لانے کے مقصد کےلئے میڈیا کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاتی ،میڈیامجرموں کے بیان روکے، کابینہ نے سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کی اقامہ کمپنی کی تفتیش ایف آئی اے سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے، کابینہ نے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں اداروں کی اصلاحات کےلئے کام کرنے والی کمیٹی کی تجاویز اور سفارشات پر غور اور ان پر عمل درآمد کےلئے کمیٹی بھی تشکیل دی جبکہ وزیراعظم عمران خان نے مخصوص افراد کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے اشتہارات پر ناراضی کا اظہارکرتے ہوئے مستحق افراد اور خواتین کو سرکاری ملازمتوں میں سہولت دینے کی ہدایت کی، عمران خان نے مشیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آٹا، گھی اور دال جیسی ضروری اشیائے استعمال کی قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھا جائے تاکہ کم آمدنی والے اور غریب افراد پر اس ضمن میں کوئی اضافی بوجھ نہ پڑے ،کابینہ کو بتایا گیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے سال 2008-2013کے دوران کل 134 دورے کئے جن کا دورانیہ 257 دن بنتا ہے ۔ ان دوروں میں وفود کی کل تعداد 3227 افراد بنتی ہے جبکہ ان دوروں پر کل 142 کروڑ 15 لاکھ روپے خرچ ہوئے جبکہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے دور حکومت 2013-17 میں کل 92 بیرون ملک دورے کئے جن کا دورانیہ 262 دن بنتا ہے، ان میں وفود کی تعداد 2352 افراد جبکہ ان پر 183 کروڑ 55 لاکھ روپے خرچ ہوئے ،شاہد خاقان عباسی نے اپنے دور حکومت میں 19 بیرون ملک دورے کئے جن کا دورانیہ 50 دن، وفد کی تعداد 214 افراد جبکہ دوروں پرتقریبا 26کروڑروپے کے اخراجات ہوئے ، کابینہ نے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضاگیلانی کے دوروں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں جبکہ وزیر اعظم عمران خان کا کہناتھاکہ سابق حکمران قومی خزانے سے پرتعیش دورے کرتے رہے ملک اور قوم کو ان غیر ملکی دوروں سے کیا حاصل ہوا،دوروں پر خرچ کئے گئے ایک ایک پیسے کا حساب لیں گے ،اجلاس میں قطر کے شہریوں کو ایئرپورٹ آمد پر ویزا دینے کی سہولت دینے، لوک ورثہ اور پی این سی اے کو کلچر اینڈ ہیریٹیج ڈویژن میں شامل کرنے، مختلف وزارتوں میں بورڈ آف گورنرز مقرر کرنے، یونیورسل سروس فنڈ کے بورڈ آف گورنرز میں مختلف لوگوں کو شامل کرنے، وزیراعظم ہاوس کو یونیورسٹی بنانے کےلئے ملحقہ 50 ایکڑ زمین کی حیثیت تبدیل کرنے، پورٹ قاسم کے نئے چیئرمین کی تعیناتی اور ای سی سی کے فیصلوں کی منظوری دیتے ہوئے ملک میں گندم کے ذخائر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات ;224224;اعلامیہ جاری

طالبان کے ساتھ مذاکرات میں بہت سارے مذاکرات طے پا گئے ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ آگے تک کتنے عمل پیرا ہوتے ہیں اس سے قبل بھی مذاکرات ہوئے اور اس کے بعد نئی احتراعات نکلتی رہیں اور مذاکرات تہہ وبالا ہوتے رہے اس مرتبہ امید کی جارہی ہے کہ جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس پر عمل کیا جائے گا کیونکہ اگر اس پر عمل نہ کیا گیا تو امریکہ کا افغانستان سے نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا ۔ طالبان اور افغان وفد کے درمیان افغانستان میں امن کیلئے روڈ میپ پر اتفاق ہوگیا ۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطری حکومت اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں مسئلہ افغانستان کے حل کےلئے مذاکرات ہوئے جن میں طالبان اور افغان وفود نے شرکت کی ۔ بات چیت میں افغان حکومت نے شرکت نہیں کی تاہم اس کے تین نمائندے انفرادی حیثیت میں شریک ہوئے ۔ مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ افغانستان میں اسلامی اصولوں اور انسانی حقوق کے احترام، ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات نہ دینے، سرکاری اداروں پر حملے نہ کرنے، پرتشدد واقعات میں کمی اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ فریقین نے عالمی برادری اور علاقائی و مقامی عناصر پر افغان اقدار کا احترام کرنے کے لئے زور دیا ۔ بوڑھے، بیمار اور معذور قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے گا، سرکاری اداروں اور عوامی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، تعلیمی اداروں اور رہائشی علاقوں کا احترام کیا جائے گا اور عام شہریوں کے جانی نقصان کو ختم کیا جائے گا، اسلامی اقدار کے مطابق خواتین کو ان کے حقوق دیے جائیں گے ۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا کہ امریکا اور طالبان کے درمیان جاری علیحدہ مذاکرات میں 4 میں سے تین نکات پر اتفاق ہوگیا جن میں جنگ بندی، بین الافغان مذاکرات، افغانستان سے امریکی اتحادی افواج کا انخلا اور افغان سرزمین کی امریکا اور اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی شامل ہیں ۔ زلمے نے حساس موضوع قرار دے کر چوتھے نکات کی تفصیلات بتانے سے انکار کردیا جس پر اتفاق نہیں ہوسکا ۔

چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد۔۔۔ جمہوریت کا حسن

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہاہے کہ جمہوریت کا حسن ہے کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد پیش کر رہی ہے،ارکان کی تعداد سے لگتا ہے صادق سنجرانی گھر چلے جائیں گے،چیئرمین سینیٹ پی پی یا ن لیگ کا ہو تو دباوَ بڑھایا جا سکے گا،ایوان بالا میں بلوچستان سے چیئرمین ہونا اچھی بات تھی، پوری قوم کو افواج پاکستان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے،عمران خان کو دورہ امریکہ میں پی آئی اے ہوٹل یا سفارتخانے میں ہی رہنا چاہیے،مریم نواز کیخلاف پہلے سے کیس چل رہا تھا ،ان پر مزید کیس بھی بنیں گے،مریم نواز اور شہباز شریف بھی جیل جائیں تو پارٹی سنبھالنے والے نئے آ جائیں گے،کسی کا کیس کا ٹرائل ہو رہا ہے تو وہ بات کر سکتا ہے، سزا یافتہ کا انٹر ویو لینا زیادتی ہے،جرم ثابت ہو جائے تو سزا یافتہ شخص کبھی اچھی بات نہیں کر سکتا،میڈیا کو اپنے حدود میں رہتے ہوئے رائے کی آزادی حاصل ہے،موجودہ حکومت کی ایمنسٹی سکیم بہت کامیاب رہی ۔

نواز اور زرداری کو این آر او دیا تو قوم مجھے معاف نہیں کرے گی، وزیر اعظم

کراچی: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی طرح اگر میں نے نوازشریف اور آصف زرداری کو این آر او دے دیا تو قوم مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور بینکاروں کے وفود سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھےکہا جا رہا ہے کہ ملک لوٹنے والوں کو چھوڑ کر آگے بڑھوں،  یہ لوگ پہلے دن سے بلیک میل کر رہے ہیں، کرپٹ افراد میرے منہ سے 3 الفاظ سننا چاہتے ہیں این۔ آر۔ او، لیکن اگر میں نے پرویز مشرف کی طرح نوازشریف اور آصف زرداری کو این آر او دیا تو قوم مجھے کبھی بھی معاف نہیں کرے گی، لوگ جانتے ہیں میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے اس لئے لوگ میرے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کرپٹ افراد کو این آر او دینا ملک سے غداری کے مترادف ہے، کرپٹ عناصر کو کٹہرے میں نہیں لائیں گے تو کرپشن ختم نہیں ہوگی  اور جس سطح کی ملک میں کرپشن ہے اس سے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، ایک اندازے کے مطابق 10 سے 12 ارب کی منی لانڈرنگ  کی جاتی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ چاہتے ہیں جتنی جلدی ہوحکومت گر جائے، پہلے دن سے یہ حکومت گرانے کا راگ الاپ رہے ہیں، انہوں نے پہلے دن مجھے تقریر نہیں کرنے دی اور ان لوگوں نے ایک دن بھی مجھےحکومت نہیں چلانے دی، یہ لوگ جمہوریت نہیں لوٹا ہوا مال بچانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، اب بھی اس لئے سب اکٹھے ہیں کیوں کہ یہ سب ڈرے ہوئے انہیں پتہ ہے ہمیں بیرون ملک سے انفارمیشن آ رہی ہے، ہم نے ابھی تک ان کے خلاف ایک کیس نہیں بنایا، یہ ایک دوسرے کے بنائے گئے مقدمات بھگت رہے ہیں، نیب کے اندر جو کیسز دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بنائےہوئے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی، ہم غیرضروری درآمدات کم کر رہے ہیں، حکومت کی 30 فیصد ایکسپورٹ بڑھ گئی ہیں، ماضی کی حکومتوں نے مارکیٹ کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا لیکن اب معیشت اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔

ملکی حالات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ کا مزید کہنا تھا کہ پورے سارے سال میں جو ٹیکس اکٹھا ہوا اس میں آدھا پاکستان کا ٹیکس قرضوں کا سود دینے میں چلا گیا، قرضوں کی وجہ سے ملک مشکل حالات میں ہے، ہماری کوشش ہے کہ اخراجات کم اور آمدن میں اضافہ ہو، پاک فوج نے پہلی بار اپنے اخراجات کم کی، تاجروں کی مدد کے بغیر ہم قرضوں سے جان نہیں چھڑوا سکتے، بزنس کمیونٹی سے مل کرمشکل حالات سے باہرنکلنا ہے۔

بلا سود قرض اور باعزت روزگار

پچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی پاکستان کا بڑا مسئلہ رہی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ سٹریٹ کرائم یعنی موبائل، پرس یا موٹر سائیکل وغیرہ چھین لینا خاص طور پر کراچی میں عام رہا ہے ۔ دہشتگردی اور سٹریٹ کرائم کی وجوہات میں بے روزگار ی کو اہم وجہ سمجھا جاتا ہے ۔ پڑھا لکھا بے روزگار طبقہ ان جرائم میں ملوث رہا ہے ۔ اب پنجاب حکومت نے بے روزگار نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کیلئے بلا سود قرضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں 12 ارب روپے کے قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کیلئے بلا سود قرضہ دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کی وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے منظوری بھی دیدی گئی ہے ۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کوئی سیاسی عمل نہیں ہو گا ۔ ایک جماعت والا لے سکے اور دوسری جماعت والا نہیں ۔ اس ملک کا ہر پڑھا لکھا نوجوان مایوس ہو کر گھر بیٹھا ہے جنہیں گھروں سے نکالنا ہے ۔ پنجاب کے بجٹ میں یہ خوشخبری اپنے نوجوانوں کو دی ہے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں حصہ ڈال سکیں اور اپنے خاندان کیلئے عزت کی روٹی کما سکیں ۔ بے روزگاروں کو روزگار فراہم کر نا بنیادی جز ہے جس پر تمام تر توجہ مرکوز ہے ۔ ایسے نوجون جو تعلیم یافتہ ہیں اور ایسے جو تعلیم حاصل نہیں کر سکے، انہیں کس طرح سے ایک ہی چھتری کے نیچے لایا جائے گا ۔ اس حوالے سے جو تجاویز پیش کی تھیں اسکی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے منظوری دے دی ہے ۔ اداروں کے قوانین میں ترامیم کرنے جارہے ہیں ۔ موجودہ پڑھائے جانے والے کورسز اب پوری دنیا میں ختم ہو چکے ہیں اس لیے نصاب میں بھی تبدیلی ضروری ہے ۔ جدید ٹیکنالوجی سے معیشت میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے ۔ نوجوان سرمایہ کار ہماری امید اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہیں ۔ بلا سود قرضوں کی فراہمی پروگرام میں خواتین کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ نوجوانوں کو اپنا روزگار شروع کرنے کےلئے بلا سود قرضوں کا اجرا ء مستحسن عمل ہے ۔ اس سے پڑھے لکھے نوجوان اپنے ہی علاقے میں ایک باعزت روز گار شروع کر سکتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ دو یا تین افراد مل کر بھی کوئی کام شروع کر سکتے ہیں ۔ محنت اور لگن سے کام کرنے سے نہ صرف وہ اپنا قرضہ بخوبی اتار سکیں گے بلکہ اپنا اور اپنے گھروں والوں کا پیٹ بھی پال سکیں گے ۔ اس طرح ملک بھی ترقی کرے گا اور نوجوان خوشحال ہوں گے ۔ نوجوانوں کے باعزت روزگار کے حصول کے بعد سٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم میں واضح کمی ہوگی جب آہستہ آہستہ سب ہی لوگ باروزگار ہو جائیں گے تو ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا ۔ پاکستان میں توانائی یعنی بجلی اور گیس کی کمی کے باعث کچھ عرصہ پہلے تک مختلف انڈسٹریز کے بند ہونے کی خبریں آتی رہی ہیں ۔ نئی انڈسٹری تو ظاہر ہے توانائی کے بغیر ناممکن ہے ۔ موجودہ حکومت نے اس مسئلے پرخاطر خواہ توجہ دی ہے اور بجلی بنانے کے نئے کارخانے لگ رہے ہیں اور کچھ نے کام بھی شروع کردیا ہے ۔ سی پیک کا منصوبہ یقینا اس سلسلے میں صورت حال میں ایک بڑی تبدیلی لے کرآئے گا ۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ہر سال نئے روزگار کے مواقع کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر آبادی تیزی سے بڑھے تو زیادہ مواقع کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ اچھی سے اچھی معیشت رکھنے والا ملک بھی پیدا نہیں کرسکتا ۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں آبادی بڑھنے کی شرح کو کنٹرو ل میں رکھاجاتا ہے ۔ پاکستان میں اس سلسلے میں نیم دلانہ اقدامات ضرور کئے گئے ہیں لیکن مصمم ارادے کے ساتھ کسی بھی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی ہے ۔ اگر امن عامہ کی صورت حال اچھی نہ ہو تو کوئی بھی اپنا سرمایہ نئے کاروبار میں نہیں لگاتا ۔ نئے روزگار زیادہ تر چھوٹے پرائیویٹ کاربار میں پیدا ہوتے ہیں جہاں مالک کے ساتھ ساتھ کچھ اور افراد کو بھی روزگار مہیاہوجاتا ہے ۔ بڑی سرمایہ کاری جیسے کہ کوئی فیکٹری لگانا ہواسکے لئے بھی سرمایہ دارسازگار ماحول تلاش کرتا ہے ۔ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں صنعتی شعبے کی کلیدی اہمیت ہے ۔ روزگار کے نئے مواقع صنعتی ترقی سے ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ پنجاب حکومت نے صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کی سہولت کےلئے جامع صنعتی پالیسی کا اعلان کیا ہے ۔ صنعت کار آگے آئیں ، سرمایہ کاری کریں اور معاشی ترقی میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں ۔ پنجاب حکومت صنعتکاروں کو ہر ممکن سہولتیں دے گی ۔ بزنس رجسٹریشن پورٹل کے تحت کاروبار کی آن لائن رجسٹریشن کی جا رہی ہے اور اب تک 14ہزار نئے کاروبار رجسٹرڈ کئے جاچکے ہیں ۔ بزنس رجسٹریشن پورٹل سے صنعتکاروں اور تاجروں کو کاروبار شروع کرنے کیلئے دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑتے بلکہ انہیں یہ سہولت آن لائن مل جاتی ہے ۔ اسی طرح ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے بھی آن لائن سسٹم کا آغاز کر دیاگیا ہے ۔

بھارتی ٹیلی ویژن کے کامیاب اداکار نے اتنا وزن کیسے کم کرلیا؟

بھارتی ٹیلی ویژن کے نامور اداکار رام کپور نے کئی ڈراموں میں مرکزی کردار نبھایا اور ایک دور میں انڈسٹری پر چھائے رہے، جس کے بعد انہوں نے فلموں میں بھی اپنا کیریئر آزمایا لیکن آہستہ آہستہ ناکامی کی طرف جانے لگے اور پھر اسکرین سے غائب ہوگئے۔

اداکار نے حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنی تصاویر شیئر کی، جس میں انہوں نے لکھا کہ ‘کیا حال ہیں سب کے؟ بہت دن ہوگئے دیکھے ہوئے’۔

ان تصاویر میں رام کپور کو پہچاننا انتہائی مشکل تھا، کیوں کہ وہ پہلے سے بےحد مختلف نظر آرہے ہیں۔

جس کے بعد مداحوں نے اداکار کے اس نئے انداز کو سراہاتے ہوئے لکھا کہ وہ پہلے سے کافی زیادہ فٹ اور اسمارٹ نظر آرہے ہیں۔

جبکہ کئی مداحوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ اس وقت بھی اچھے نظر آتے تھے جب ان کا وزن بڑھا ہوا تھا۔

رام کپور نے انسٹاگرام پر شیئر کردہ ایک اور پوسٹ میں اپنے ان دونوں کی تصویر کو آج کی تصویر کے ساتھ بھی جوڑا جس میں ان کا وزن بڑھا ہوا تھا۔

اداکار نے ان تصاویر کے ساتھ یہ تو شیئر نہیں کیا کہ انہوں نے اپنا وزن اس حد تک کم کیسے کیا، تاہم وہ اپنی اس تبدیلی سے بےحد خوش نظر آرہے ہیں۔

یاد رہے کہ رام کپور 1997 میں ‘نیائے’ نامی ڈرامے کے ساتھ ٹیلی ویژن انڈسٹری میں ڈیبیو کیا۔

وہ ‘گھر ایک مندر’، ‘کیوں کہ سانس بھی کبھی بہو تھی’ اور ‘بڑے اچھے لگتے ہیں’ جیسے ڈراموں میں کام کرچکے ہیں۔

انہوں نے ‘اسٹوڈنٹ آف دی ایئر’، ‘شادی کے سائڈ افیکٹ’، ‘بار بار دیکھو’ اور ‘لو یاتری’ جیسی فلموں میں بھی کام کیا۔

رام کپور نے ٹیلی ویژن کی کامیاب اداکار گوتمی کپور سے 2003 میں شادی کی تھی۔

بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار بیج

آپ نے تخ ملنگا (یا تخم بالنگا) کو دیکھا یا اس کے بارے میں سنا تو ہوگا، مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اسے استعمال کیوں کرنا چاہیے؟

درحقیقت یہ بیج کیلوریز سے پاک ہوتے ہیں جبکہ پروٹین، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، کیلشیئم، کاربوہائیڈریٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس بھی مختلف فوائد پہنچاتے ہیں۔

یہ مسلز کو سکون پہنچانے کے ساتھ ساتھ ہاضمہ تیز کرتے ہیں اور قابل ہضم کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ورم کش بھی ہوتے ہیں جو پیٹ پھولنے کے مسئلے سے بچاتے ہیں۔

اس کے متعدد فوائد ہیں مگر یہ ان افراد کے لیے بہت زیادہ مفید ہیں جو ذیابیطس کے شکار ہوں یا ہائی بلڈ شوگر کی شکایت کا سامنا ہو۔

یہ بیج ذیابیطس کے مریضوں کے لیےفائدہ مند ہیں، جو کہ انسولین کی مزاحمت کی روک تھام میں مدد کرتے ہیں جبکہ بلڈ گلوکوز کی سطح بہتر کرنے کے ساتھ بلڈ پریشر کو بھی معمول پر لاتے ہیں۔

ان بیجوں کا درج ذیل استعمال بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تخ ملنگا اور لیموں

ایک کھانے کا چمچ تخ ملنگا ایک بوتل پانی میں بھگو دیں اور پھر اس بوتل میں لیموں کے پتلے کٹے ٹکڑوں کا اضافہ کرکے کم از کم ایک گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں اور پھر پی لیں، یہ مشروب اینٹی آکسائیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے ساتھ جسمانی وزن کنٹرول کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

دلیے میں شامل کرنا

جو کا دلیہ ناشتے کے لیے صھت بخش آپشن ہوتا ہے، اگر اس میں تخ ملنگا کا اضافہ کردیا جائے تو ذائقہ بہتر ہونے کے ساتھ ہائی بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

دودھ کے ساتھ

تخ ملنگا جسمانی میٹابولزم کی رفتار کو سست کرتا ہے جبکہ کاربوہائیڈریٹس کو گلوکوز میں بدلنے کے عمل کو بھی کنٹرول کرتا ہے، جس سے بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے، اس مقصد کے لیے ناشتے میں دودھ کے ایک گلاس میں ان بیجوں کو ملائیں اور پی لیں۔

دہی کے ساتھ

ذیابیطس کے مریضوں کو میٹھے سے تو دور رہنا چاہیے مگر دہی کا استعمال کرسکتے ہیں اور اس میں تخ ملنگا کا استعمال اسے صحت کے لیے مفید بناتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

انسٹاگرام میں صارفین کو بدزبانی سے بچانے کے لیے 2 فیچرز متعارف

انسٹاگرام نے اپنے صارفین کو آن لائن نفرت انگیز جملوں سے بچانے کے لیے 2 نئے فیچرز متعارف کرادیئے ہیں۔

ان میں سے ایک فیچر ری تھنک کوئی منفی کمنٹ پوسٹ کرنے پر انتباہ دیتا ہے جبکہ دوسرے فیچر رسٹرکٹ (restrict)میں آپ اپنی پوسٹ میں مخصوص افراد کو کمنٹ کرنے سے روک سکتے ہیں بلکہ یوں کہہ لیں انہیں آگاہ کیے بغیر بلاک کرسکتے ہیں۔

رواں سال اپریل میں ایف ایٹ کانفرنس کے دوران کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ نئے وارننگ لیبز پر کام کررہی ہے، پہلا فیچر لوگوں کو منفی کمنٹ کرنے سے روکتا نہیں مگر کمنٹ پوسٹ ہونے سے قبل دوبارہ سوچنے کا کہتا ہے۔

منفی کمنٹ پر صارف کے سامنے یہ جملے آتے ہیں ‘کیا آپ اسے پوسٹ کرنا چاہتے ہیں؟ ہم لوگوں سے کمنٹ پر دوبارہ سوچنے کا کہہ رہے ہیں کیونکہ اس طرح کے کمنٹس رپورٹ ہوتے رہتے ہیں’۔

انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے ایک بلاگ میں بتایا کہ اس فیچر کے ابتدائی ٹیسٹ میں مثبت نتائج سامنے آئے ہیں ‘یہ کچھ لوگوں کو اپنے کمنٹ بدلنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتا ہے اور وہ کم تکلیف دہ جملے پوسٹ کرتے ہیں’۔

فوٹو بشکریہ انسٹاگرام
فوٹو بشکریہ انسٹاگرام

دوسرا فیچر ایسے افراد کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے جن کو اکثر آن لائن بدزبانی یا ہراساں ہونے کا تجربہ ہوتا ہے اور یہ بنیادی طور پر بلاکنگ اور کچھ نہ کرنے کے درمیان کا سمجھا جاسکتا ہے۔

اس فیچر کی آزمائش چند ممالک میں کی جارہی ہے اور رواں سال کسی وقت دنیا بھر میں صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔

اس فیچر کے تحت جب کسی کو رسٹرکٹ کیا جاتا ہے تو اس کا کمنٹ بس صرف آپ اور وہ ہی دیکھ پاتا ہے (اگر آپ اسے پبلک نہ کردیں تو)، مگر بلاک کرنے کے برعکس جب کسی کو رسٹرکٹ کیا جاتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوپاتا کہ اس کے کمنٹس کی آپ اسکریننگ کررہے ہیں۔

ایڈم موسیری کے مطابق یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ کئی بار کسی کو بلاک کرنا صورتحال کو زیادہ خراب کردیتا ہے اور حالات بدتر ہوسکتے ہیں۔

انسٹاگرام میں آن لائن نفرت انگیز رویے کا اظہار کافی بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور نوجوانوں کو اس کا بہت زیادہ سامنا ہوتا ہے۔

پرا نے دہلی کے علاقے ۔ ہندومسلم فسادات کے دہانے پر

اپریل مئی رواں برس 2019 میں بھارت میں ہونے والے لوک سبھا چناءو میں نریندرامودی ایک بار پھر پانچ برس کےلئے دیش کے وزیر اعظم منتخب ہوگئے دنیا کو یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اْنہوں یعنی مسٹر مودی;39;بی جے پی اورآرایس ایس سمیت بھارت کی تمام ہندوفرقہ ورانہ علبردار شدت پسند تنطیموں نے ;39;بھارت کو ایک ہندو دیش;39; بنانے کے کیسے کیسے جنونی نعرے نہیں لگائے مسلمانوں کے خلاف انتخابی ریلیوں میں بھارتی نڑاد مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان دشمنی میں کیا کیا بڑکیں نہیں ماری گئیں جس کی ابتدا مودی اور اْن کے حواریوں نے عین انتخابات کے آغاز پر بھارتی خفیہ ادارے ;39;را;39; کو استعمال کرکے پلوامہ خود کش حملے کا الزام میں پاکستان کو کیسے ملوث کیا گیا;238; پلوامہ خود کش حملہ کی اب تک شفاف اورغیر جانبدار تحقیقات صرف اس وجہ سے نہیں کرائی جارہی ہیں کہ کہیں نہ کہیں اس حملہ کی مشکوک کڑیاں بھارتی انتظامیہ کے اندر کے یقینا جاملتی ہیں آج یہاں ہمارا مدعا یہ ہے کہ اگلے پانچ برس کے لئے دوبارہ منتخب ہونے والے وزیراعظم مودی نے اب تک ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں آج بھی دنیا کے غیر متعصب اور غیر جانبدار میڈیا کے ذراءع یہی کہہ رہے ہیں کہ آر ایس ایس ایک کثیر المذاہب;39;کثیر الثقافتی;39;کثیر النسلی اور ذات پات کے غیر انسانی ماحول کے شکجنے میں دبے ہوئے ملک کو;39;ایک ہندو راشٹریہ دیش;39;بنانے کے اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کی دوبارہ سے کیل کانٹوں سے لیس ہوکر کوششیں شروع کردی گئی ہیں ہم پاکستانی اور دنیا کے پْرامن طبقات آج تک نہیں بھولے کہ آرایس ایس کے ایک جنونی قاتل ;39;گوڈسے;39; نے دیش کے سب سے پہلے عدم تشدد کی علامات سمجھنے والے گاندھی جی کو کس بیدردی سے گولی مار کر شہید کردیا گیا تھا حس ہوگئی جناب، گزرے ان انتخابات میں بی جے پی نے بھارت میں بدنام ترین جنونی اور عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہونے والی ایک ساگھویہ پرگیہ دیوی کو کو بھی لوک سبھا کا ٹکٹ دیدیا اور جو چناو جیت چکی ہیں جن کا نعرہ یہی ہے کہ بھارت صرف ہندووں کا دیش ہے غیر ہندووں کو بھارت کی سرزمین فورا چھوری دینی چاہیئے یوں تو اس منافرانہ زہریلی سوچ رکھنے والے سبھی جنونی کارسیوک برصغیر کی آزادی سے پہلے ہی اس دیش کو ;39;ہندوراشٹریہ دیش;39;بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے لیکن اْن کا یہ خواب آج تک خواب ہی رہا یہ بڑا المیہ ہے کہ دنیا میں مذاہب کی تفریق کے نام پر ابھرنے والے ہر جنونی تشدد کو غیر انسانی رویہ کہہ کر اس کی کھلی مذمت کی جارہی ہے دنیا کے پْرامن طبقات جو عالمی سطح کی سیاسی وسفارتی چوکیداری کرنے میں ہمہ وقت اپنے آپ کو نمایاں رکھتے ہیں وہ نریندرامودی جیسے انتہا پسند جنونی مذہبی منافرت رکھنے والی سوچ کے حامل شخص کے بھارت میں دوبارہ انتخاب جیتنے پر جہاں اْس کی ہلہ شیری کررہے ہیں یا اْسے ;39;مبارک باد;39; دے رہے ہیں اْس سے یہ سوال نہیں کریں گے کہ وہ پاکستان کے مشرقی بارڈر پار اپنے ملک میں مذہبی عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو مزید بڑھاوادے گا یہ ایسے غیر انسانی سانحات اور المیوں سے بھارت کو آئندہ کےلئے محفوظ بنانے کی کوئی اپنی انسانی ذمہ داری نبھائے گا یا نہیں ;238; دنیا کوشش کرلے مگر ہم پاکستانیوں کو اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا بھارت میں صدیوں سے رہنے والے کروڑوں مسلمان اگلے پانچ برس کے لئے ہونے والے لوک سبھا کے چناو کے بعد مودی کو دوبارہ وزیراعظم بننے پر شدید خوف وہراس کی کیفیت میں مبتلا ہیں اْس کی کچھ بنیادی وجوہات ہم پاکستانیوں سے زیادہ بھارت میں آباد مسلمان برابر محسوس کررہے ہیں اگلے پانچ برس مودی صاحب کیا اقدامات کریں گے یہ تو وقت بتائے گا کیونکہ اْنہوں نے اپنے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بھارتی مسلمان جو ایک واضح اکثریتی ;39;اقلیت;39; ہے اْن کے ساتھ امتیازی برتاو کتنا برتا جارہا ہے ایک اندازے کے مطابق مودی کی حکومت نے اپنے گزشتہ پانچ برس سب سے پہلے آر ایس ایس سے ہمدردی رکھنے والوں کو اہم عہدوں پر فائز کیا مودی کابینہ میں سادھو اور سادھوی شامل ہوئے;39; بی جے پی نے انڈین کونسل آف ہسٹو ریکل ریسرچ، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا، فلم اینڈٹیلی ویڑن انسٹیٹیوٹ آف انڈیا، جیسے اہم اداروں کے اہم عہدوں کے علاوہ مختلف ریاستوں کے گورنروں کے عہدوں پر سو یم سیوکوں کو فائز کیا گزشتہ پانچ برس کے دوران وزیراعظم کے علاوہ ان کی کابینہ کے سات ارکان ایسے تھے جن کی پوری جوانی آر ایس ایس کے سرگرم سیوک کی حیثیت سے گزری ہے مودی حکومت کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ آر ایس ایس کو خوش کرنے کےلئے دریائے سرسوتی کی محکمہ آثار قدیمہ کی مدد سے تلاش کروا رہی ہے جس کا اب تو نام و نشان تک مٹ گیا ہے اس دریا کا ذکرصرف ہندووَں کی کتابوں میں موجود ہے مودی حکومت اپنے گزرے اقتدار کے برسوں میں سب سے پہلے ملک کی 31اسمبلیوں کے منجملہ کم سے کم 20پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں رہی اْس وقت 11پر اسکا قبضہ تھا اس کام کو پوراکرنے کیلئے آر ایس ایس کی تمام ذیلی تنظیموں نے اپنے کیڈر کو ضرورت سے زیادہ متحرک کر دیا تھا گزشتہ70برسوں کے دوران پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ملک میں مسلم ووٹوں کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے کوئی جماعت اگر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کو اسطرح ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اقلیتوں کو خوش کر رہی ہے نتیجہ میں اس پارٹی کو اکثریتی ووٹوں سے محروم ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں آر ایس ایس اور بی جے پی نے دو مرحلوں کی حکمت عملی بھی تیار کی ایک تو قومی سطح پر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا(جو حاصل کی جاچکی ہے) اور دوسرے یہ کہ ریاستوں کی اسمبلیوں پر قبضہ کر کے ایوانِ بالا یعنی راجیہ سبھا میں بھی اکثر یت حاصل کرنا ضروری ہوگا ملک میں سیاسی، سماجی، تہذیبی تبدیلی لانے کے لئے صرف مرکز پر اقتدار کافی نہیں ہے اس کے لئے ریاستوں میں بھی اقتدار پر ہونا ضروری ہے آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری نے راءٹر کو بتایا کہ 2014کی فتح صرف ایک شروعات ہے اور ہمارے طویل مدتی مشن کا نقطہ آغاز بھی ہے جیسے اْوپر بیان ہوا کہ چاہے بھارت کی مرکزی حکومت ہو یا ریاستیں حکومتیں یہ جگہ یہ پوائنٹ بہت سختی سے نوٹ کیا جاتا ہے کہ پولیس کے محکمہ میں کسی مسلمان تو درکنار کسی بھی غیر ہندو اور جو آرایس ایس کی سفارش لائے صرف اْسی کو پولیس اور نیم پیرا ملٹری فورسنز میں بھرتی کیا جائے یہ ہے آرایس ایس کا نیابھارت جہاں اب نئی دہلی سے لیکر واہگہ تک اور واہگہ سے لیکر;39;سیون سسٹر ریاستوں اور بنگال تک اور لداخ سے ممبئی کے ساحلوں تک ایک فرقہ ورانہ ہندو دیش کے قیام کو ممکن بنانے کی مذموم کوشش;238;جس کی ایک تازہ جھلکیاں بطور نمونہ اب آہستہ آہستہ سامنے آنا شروع ہوچکی ہیں نئی دہلی سے منسلک پرانی دہلی کے علاقے لال کنواں محلہ،جامع مسجد محلہ، چاندنی چوک اور ان سے جڑے ہوئے دیگر علاقوں میں گزشتہ ہفتہ سے تادم تحریر ایک بہت ہی معمولی سے اختلاف کو بہانہ بناکر ;39;ہندومسلم کشیدگی;39; پیدا کی گئی جہاں ایک مسلم نوجوان نے 30 جون کی رات اپنی موٹر سائیکل غلط پارک کی جسے وجہ بناکر بجرنگ دل کے غنڈے جو رات گئے تک گلیوں اور چوراہوں پر بیٹھے رہتے ہیں ہر آنے جانے والے مسلمانوں پر جملے کستے ہیں آج ایک ہفتہ ہونے کو آیا ہے مقامی پولیس نے اب تک کئی شکایات اْن تک پہنچائی جانے کے باوجود بجرنگ دل کے ہندو غنڈوں کی غنڈہ گردی اور مسلمان نوجوانوں کو تشدد کرنے کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی ہے پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اورلال کنواں سمیت پرانی دہلی کے ان علاقوں کے مسلمان عوام خوف وہراس کے عدم تحفظ کا شکار ہیں اگر دہلی حکام نے یونہی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی اور علاقہ میں کشیدگی اور خوفزدگی کا یہی مہیب ماحول برقرار رہا چونکہ یہاں کا کاروبار ایک ہفتے سے بند ہے اور تنازعہ بڑھا تو علاقہ میں فسادات کی آگ بھڑک سکتی ہے چونکہ اب دوسرے علاقوں سے بھی مسلمان اس علاقہ میں آنا شروع ہوگئے ہیں دونوں اطراف سے پْرجوش مذہبی نعرے بازیاں ہورہی ہیں اور دہلی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی جسے وہ بھنگ پئے ہوئے ہو اور;39;مودی زندہ باد ۔ ہندوایکتا زندہ باد;39; کے نعروں کی تپش کے جواب میں کبھی بھی مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑے گا لہٰذا نئی دہلی کی حکومت فوراً ہوش کے ناخن لے کیونکہ پرا نے دہلی میں ایک ;39;فرقہ ورانہ فسادات کے شروع ہونے کےلئے ماحول پوری طرح پک چکا ہے ۔

Google Analytics Alternative