Home » 2019 » July » 12

Daily Archives: July 12, 2019

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنائیں گے، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ہم سب مل کر ناکام بنائیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ملاقات کی جس میں وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور قائد ایوان شبلی فراز بھی موجود تھے، اس موقع پر اعظم سواتی اور قائد ایوان شبلی فراز نے وزیر اعظم کو نمبر گیم سے متعلق بریفنگ دی جس پر وزیراعظم نے تحریک انصاف کے سینیٹرز کو مختلف جماعتوں سے رابطوں کی ہدایت کی۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں بھرپور حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آپ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ہم سب مل کر ناکام بنائیں گے۔

واضح رہے کہ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف قرارداد جمع کرادی ہے اور نئے چیئرمین کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی کے میرحاصل بزنجو کو امیدوار نامزد کردیا ہے۔

رحیم یار خان میں اکبر ایکسپریس اورمال گاڑی میں تصادم، 19 افراد جاں بحق

رحیم یار خان: ولہار ریلوے اسٹیشن پر اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی میں تصادم کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 19 ہوگئی جب کہ 60 سے زائد زخمی ہیں۔

کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ولہار ریلوے اسٹیشن پر کھڑی  مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی اے ایس پی ڈاکٹر حفیظ الرحمان بگٹی اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

ترجمان پولیس کے مطابق  تصادم کے نتیجے میں اکبر ایکسپریس کی متعدد بوگیاں الٹ گئیں جب کہ حادثے میں اکبر ایکسپریس کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے لیے  امدادی کارروائیاں جاری ہیں، اب تک 58 زخمی مسافروں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ قیمتی جانوں کے تحفظ کے لئے تمام انسانی وسائل بروئے کارلا رہی ہے، ضلع بھر سے 50 سے زائد سرکاری و نجی ایمبولینسز ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ شیخ زید اسپتال میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ جب کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال اور شیخ زید اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ڈی پی او عمر سلامت کی جانب سے زخمیوں کی جانیں بچانے کے لیے عوام الناس سے خون عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

ڈی پی او رحیم یار خان عمر سلامت کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ٹرینوں کے درمیان افسوسناک حادثہ سگنل بروقت تبدیل نہ کرنے کے باعث پیش آیا، مسافر ٹرین کے لوپ لائن پر آنے کی وجہ بظاہر نظر نہیں آرہی، ضلعی پولیس محکمہ ریلوے کے ساتھ مل کر حادثہ کے محرکات جاننے کے لئے تفتیش کر رہی ہے، اس کے علاوہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے، جلد حادثے کے محرکات بارے حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے  ٹرین حادثے اور قیمتی جانوں کی ہلاکتوں پراظہار افسوس کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ  حادثہ بظاہر انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے۔ وزیر ریلوے نے حادثے کے متعلق  اعلیٰ ترین سطحی تحقیقات کا حکم دے دیاہے۔

خریدوفروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط لازم قرار

ٹیکس ادا کرنا ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور اس بات کو حکومت متعدد بار ازبر کراچکی ہے، اب کاروباری طبقے کی جانب سے جو تحفظات سامنے آرہے ہیں اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے شہر قائد کے مختلف تاجر وفود سے ملاقاتیں کیں ، ان کے تحفظات سنے پھر اور بھی دیگر ملاقاتیں ہوئیں اس کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح بتا دیا کہ اب پرانی طرز سے کاروبار نہیں چلے گا ۔ ہم بھی وزیراعظم کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہم کس صدی میں رہ رہے ہیں اور کاروبار پرانے انداز سے کیوں ;238;، نئے انداز اپنانے ہوں گے ، نئے زمانے میں آنا ہوگا، ترقی کرنا ہوگی، معیشت مضبوط کرنا ہوگی، ملکی استحکام پیدا کرنا ہوگا ، بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ پیدا کرنا ہوگی اس کیلئے ہ میں نئے مروجہ قواعد و ضوابط کو بھی اپنانا ہوگا ۔ اسی لئے وزیراعظم نے کہاکہ اب ہ میں کاروباری دنیا میں جدید خطوط پر استوار طریقے اپنانے ہوں گے ۔ انہوں نے 50ہزارسے بڑی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے انکار کردیا،کراچی میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہاہے کہ حکومت کاروبار کیلئے آسانیاں پیداکرنا چاہتی ہے معیشت پرانے طریقے سے نہیں چلائی جاسکتی تمام لوگوں کو ٹیکس دینا ہوگا،معیشت کی بحالی اور استحکام کےلئے تمام فریقین ہماراساتھ دیں ،مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں گے، تاجر صنعت کار شناختی کارڈ دینے سے کیوں گریز کررہے ہیں ٹیکس سب کو دینا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ عمران خا ن نے کہا کہ کرپٹ افراد کو این آر او دینا ملک سے غداری کے مترادف ہے ،پرویز مشرف کی طرح اگر میں نے نوازشریف اور آصف زرداری کو این آر او دے دیا تو قوم مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی پہلے دن سے یہ لوگ مجھے بلیک میل کررہے ہیں ، سابق حکمراں ملک سے غداری کرتے رہے ہیں یہ مجھ سے تین لفظ این آر او سنناچاہتے ہیں جو میں نہیں دوں گا اس لئے انہیں حکومت گرانے کی جلدی ہے ،کرپشن اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو سزادینا ضروری ہے ،کرپٹ عناصر کو کٹہرے میں نہیں لائیں گے تو کرپشن ختم نہیں ہوگی اور جس سطح کی ملک میں کرپشن ہے اس سے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا،بزنس کمیونٹی سے مل کر ملک کو اوپر لے کر جائیں گے ،ایک سال میں جتنا ٹیکس اکٹھا ہوا، اس کا آدھا قرضوں کے سود پر ادا کیا، ملک میں 10سے 12ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہورہی ہے، ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی غیر ضروری درآمدات کم کر رہے ہیں ،برآمدات 30فیصد بڑھ گئی ہیں ماضی کی حکومتوں نے مارکیٹ کو اپنے ذاتی فائدے کیلئے استعمال کیا لیکن اب معیشت اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا ۔ حکومتی اقدامات پر عوام عمل کرلیتی ہے تو یقینی طورپر اچھے دن آئیں گے، جب کاروبار اور صنعت مضبوط ہوگی تو خوشحالی کا دور دورہ ہوگا، روزگار کے مواقع میسر ہوں گے اور انہی پیرائے پر حکومت اس وقت گامزن ہے ۔ ساتھ ہی حکومت نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے ایڈوائزری جاری کی ہے جس کے تحت بیرون ملک دس ہزار ڈالر سے زائد کرنسی لے جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ نیز3ہزار روپے سے زائد پاکستانی کرنسی بھی ساتھ نہیں لے جائی جاسکے گی ۔ ایڈوائزری کے مطابق زر مبادلہ لے جانے کی حد اور ممنوعہ اشیاء کی دیگر معلومات بھی شامل ہیں جس میں بھاری مقدار میں سونا، چاندی، ہیرے جوہرات، پلاٹینیم، نودارات، آثار قدیمہ سے متعلق اشیاء بھی ممنوع قرار دیدی گئی ہیں چونکہ ماضی میں یہ بات دیکھی گئی ہے کہ یہاں سے کروڑوں ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیے گئے اور ملکی خزانے کو خالی کیا گیا ۔ حکومت کا یہ والا اقدام انتہائی قابل تحسین ہے ۔ کیونکہ جتنا نقصان بیرون ملک پیسہ جانے سے ہوا اس سے زیادہ کسی بھی اقدام سے نہیں ہوا ۔ منی لانڈرنگ ایک ایسا ناسور ہے جو ملکی معیشت کو تباہی و برباد کی جانب لے جارہا ہے اس کو روکنا انتہائی ضروری ہے ۔

ٹرینوں کے آئے دن حادثات

ریلوے ٹرینوں کے حادثات روز مرہ کے معمول بن چکے ہیں ، بیرونی دنیا میں تو اس طرح ہوتا ہے کہ اگر کسی وزیر کی وزارت میں کوئی ایسا ناقابل برداشت وقوعہ یا سانحہ پیش آجائے تو وہ وزارت سے ہی مستعفی ہو جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں وزیر صر ف اتنا کہنے پر توقف کرتا ہے کہ تحقیقات ہوں گی اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔ لیکن حادثات اسی طرح جاری رہتے ہیں ۔ کوءٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ولہار ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی ۔ حادثے کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے، تصادم کے نتیجے میں اکبر ایکسپریس کی متعدد بوگیاں الٹ گئیں جبکہ حادثے میں اکبر ایکسپریس کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے،ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ قیمتی جانوں کے تحفظ کے لئے تمام انسانی وسائل بروئے کارلا رہی ہے، ڈی پی او رحیم یار خان عمر سلامت کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ٹرینوں کے درمیان افسوسناک حادثہ سگنل بروقت تبدیل نہ کرنے کے باعث پیش ;200;یا، مسافر ٹرین کے لوپ لائن پر ;200;نے کی وجہ بظاہر نظر نہیں ;200;رہی، ضلعی پولیس محکمہ ریلوے کے ساتھ مل کر حادثہ کے محرکات جاننے کے لئے تفتیش کر رہی ہے، اس کے علاوہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے، جلد حادثے کے محرکات بارے حقائق سے ;200;گاہ کیا جائے گا ۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ٹرین حادثے اور قیمتی جانوں کی ہلاکتوں پراظہار افسوس کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حادثہ بظاہر انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے ۔ وزیر ریلوے نے حادثے کے متعلق اعلی ترین سطحی تحقیقات کا حکم دے دیاہے ۔

بلاول بھٹو نے خود کہا سنجرانی اچھے انسان ہیں

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ صادق سنجرانی کا فیصلہ کیوں کیا یہ بہت بڑا سوال ہے،بلاول بھٹو نے خود بھی کہاتھاصادق سنجرانی بہت اچھے انسان ہیں ، اگرہاتھ کھڑا کرنا ہوتو پھر تو کوئی بھی پارٹی کے خلاف نہیں جائے گا، ہارس ٹریڈنگ بالکل ہوسکتی ہے،لوگ صادق سنجرانی کو پسند کرتے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ ان کے خلاف تحریک کامیاب ہو،اپوزیشن حکومت پر پریشر لانے کی کوشش کررہی ہے، وزیراعظم عمران خان خود ایمنسٹی میں دلچسپی لے رہے ہیں ، ایمنسٹی کے ثمرات ہ میں ایک سال بعد میں ملنا شروع ہونگے،ٹورازم بہت بڑی انڈسٹری ہے ،ہمارا اپنا ملک ہے ہ میں ٹیکس دینے میں کیا حرج ہے،ہر آدمی کو ٹیکس دینا چاہیے ، شناختی کارڈ دینے میں کیا حرج ہے،کراچی میں تو ویسے ہی حکومت کو زیادہ توجہ دینی چاہیے، کراچی کا برا حال گندگی کے ڈھیر ہیں ،18ترمیم نے سندھ کا بیڑا غرق کردیا ہے،کوئی تاجر کرپٹ نہیں ہوتا اسے محکمے کرپٹ بناتے ہیں ،ٹیکس ریٹس اتنے ہونے چاہیں جو لوگ برداشت کر سکیں ، کچھ نہ کچھ تاجروں کی بات ماننی ہوگی،ٹیکس اور بے نامی جائید اد میں عمران خان کوئی یوٹرن نہیں لیں گے ۔

دبنگ ہیرو ایک بار پھر ’رادھے‘ بننے کو تیار

بولی وڈ ہیرو سلمان خان یوں تو ان دنوں اپنی آنے والی ایکشن کامیڈی فلم ’دبنگ تھری‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں، تاہم ان کے مداحوں کے لیے ایک اور اچھی خبر ہے۔

اطلاعات ہیں کہ سلمان خان تقریبا ڈیڑھ دہائی بعد دبنگ ہیرو بننے کے بعد ایک بار پھر رومانوی ہیرو ’رادھے‘ بنیں گے۔

جی ہاں، خبریں ہیں کہ 2003 میں ریلیز ہونے والی سلمان خان کی رومانٹک بلاک بسٹر فلم ’تیرے نام‘ کا سیکوئل بنایا جائے گا۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق ’تیرے نام‘ کےہدایت کار ستیش کشک نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ بلاک بسٹر فلم کا سیکوئل بنایا جائے۔

رپورٹ کے مطابق ستیش کشک اور سلمان خان آنے والی فلم ’کاغذ‘ کو مل کر بنا رہے ہیں جس میں منال ٹھاکر اور پنکج ترپاتھی مرکزی کردار ادا کرتے دکھائی دیں گے۔

فلم نے ریکارڈ کمائی کی تھی—اسکرین شاٹ
فلم نے ریکارڈ کمائی کی تھی—اسکرین شاٹ

’کاغذ‘ کی ہدایات ستیش کشک دے رہے ہیں، تاہم اسے پروڈیوس سلمان خان کر رہے ہیں۔

اسی فلم کے حوالے سے بات کرنے کے دوران ستیش کشک نے اشارہ دیا کہ مستقبل میں وہ اپنی کامیاب فلم ’تیرے نام‘ کا سیکوئل بنا سکتےہیں۔

ستیش کشک کا کہنا تھا کہ انہیں علم ہے کہ مداح بھی چاہتے ہیں کہ سلمان خان ایک بار پھر ’رادھے‘ کے روپ میں دکھائیں دیں اور ممکنہ طور پر آنے والے وقت میں اس پر سوچا جا سکتا ہے۔

اگرچہ ستیش کشک نے واضح طور پر نہیں بتایا کہ وہ ’تیرے نام‘ کا سیکوئل بنائیں گے یا نہیں، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی جانب سے فلم کے حوالے سے بات کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا سیکوئل بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

دوسری جانب سلمان خان نے بھی واضح طور پر ’تیرے نام‘ کے سیکوئل بنانے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔

فلم میں بھمیکا چاولہ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا—اسکرین شاٹ
فلم میں بھمیکا چاولہ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا—اسکرین شاٹ

خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر ’تیرے نام‘ کا سیکوئل بنایا گیا تو نئی فلم کی کہانی وہیں سے شروع کی جائے گی، جہاں پہلی فلم کی کہانی ختم ہوئی تھی۔

پہلی فلم کی کہانی ’تیرے نام‘ کی ہیروئن نرجرا (بھمیکا چاولہ) کی جانب سے خودکشی کیے جانے اور سلمان خان کے دماغی مرض میں مبتلا ہوکر آشرم گھر میں پناہ لینے پر ختم ہوئی تھی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ نئی فلم کی کہانی وہیں سے شروع ہوگی اور سیکوئل میں بھمیکا چاولہ کی جگہ نئی اداکارہ کو کاسٹ کیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے تصدیقی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

’تیرے نام‘ کو 2003 میں ریلیز کیا گیا تھا اور یہ فلم فیشن اور ہیئر اسٹائل کے حوالے سے ٹرینڈ سیٹر بن گئی تھی اور ہندوستان سمیت پاکستان میں بھی سلمان خان کے مداح ان جیسے ہیئر اسٹائل کو اپنانے لگے تھے۔

علاوہ ازیں فلم کے گانوں نے بھی کافی مقبولیت حاصل کی تھی اور فلم نے ریکارڈ کمائی کی تھی۔

فلم میں محبوبا کی خودکشی کے بعد سلمان خان پاگل بن جاتے ہیں—اسکرین شاٹ
فلم میں محبوبا کی خودکشی کے بعد سلمان خان پاگل بن جاتے ہیں—اسکرین شاٹ

مسئلہ کشمیر عالمی برادری کے سامنے اجاگر ہوا

13جولائی 1931ء کادن کشمیریوں کی تاریخ کا ایک ایساخون آشام دن ہے جب سری نگر میں 22بے گناہ مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے تحریکِ آزادی کشمیر کی بنیاد رکھی ۔ آج سے چھیاسی سال قبل برطانوی اور ڈوگرا سامراج کی باہمی مسلم دشمن نفرت انگیز ملی بھگت سے جموں و کشمیر میں ابھرنے والی ‘اولین تحریکِ آزادی’ کو دبایا اور کشمیر کے جانثاروں پراندھا دھند فائرنگ کرکے22 کشمیری نوجوانوں کو موقع پر ہی شہید کردیا گیا ۔ اس انقلاب کا پس منظر یہ تھا کہ کسی بدبخت ہندونے قرآن پاک کی توہین کرڈالی جس سے کشمیری مسلمانوں میں غم وغصے کی لہردوڑ گئی ۔ وہ اپنی جانوں پرظلم و جبرتوسہار سکتے تھے لیکن ان کے لئے مذہبی شعائرکی بے حرمتی برداشت کرناناممکن تھا ۔ یہیں سے کشمیریوں کو اپنی حالت و کیفیت کا احساس کرنے اور انہیں اپنے حق کے حصول کیلئے جاگنے اور جدوجہدکرنے کا خیال آیا ۔ سانحہ توہینِ قرآن پاک کیخلاف سری نگر میں ایک بہت بڑاجلسہ منعقد ہواجس میں کم وبیش پچاس ہزار مسلمان شریک ہوئے ۔ ان کا مطالبہ تھاکہ حکومت ملزم کو نہ صرف سزادے بلکہ ایساقانون تشکیل دے جس کی روسے آئندہ کسی کو مقدس کتابوں کی بے حرمتی کرنے کی جرآت نہ ہوسکے ۔ اس جلسہ میں بعض کشمیری لیڈران کے بغاوت کا مقدمہ درج کرکے معاملہ عدالت کے سپرد کردیا ۔ مقدمہ کے دوران سینکڑوں کشمیری روزانہ عدالت کے باہر جمع ہو جاتے ایک دن ظہرکی نماز کاوقت ہوگیا ۔ ایک شخص نے اذان دی ۔ بعد میں جب صفوں کی ترتیب کے لئے ہجوم ہچکولے کھانے لگا‘ تو پولیس مجسٹریٹ سمجھا جیل پر حملہ کرنے کے لئے صف بندی کی جارہی ہے، اس نے فائرنگ کا حکم دیا اور چشمِ زدن میں بائیس مسلمان خون میں نہاکر حیاتِ ابدی پاگئے ۔ پہلے صرف ایک واقعہ پر مسلمان مشتعل تھے، اب جو یہ سانحہ رونماہوا‘ تو وہ بپھرگئے ۔ 13جولائی 1931ء کے دن کشمیریوں نے 22قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر ایک عظیم انقلاب کی بنیاد رکھ دی ۔ اس سفاکانہ واقعہ نے کشمیریوں کے دلوں میں حریت پسندی کے جذبے کو جنم دے دیا ۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھارت نے کشمیر کے ایک بڑے حصے پر جبرا ًقبضہ کرکے معاہدوں اور دستاویزات کی دھجیاں اڑا دیں اور کشمیر کی عوام کو ظلم و ستم کے شعلوں میں دھکیل دیا ۔ اہل کشمیر ہر سال 13 جولائی کو اسی واقعہ کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اسے یوم شہدا کے طور پر مناتے ہیں ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین اور رابطہ عالم اسلامی کے رکن سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے آزادی کےلئے جو بے مثال اور عظیم قربانیاں پیش کی ہیں ان کے نتیجے میں کشمیر بھارتی تسلط سے ضرور آزاد ہوگا ۔ ریاست کے اطراف و کناف میں حراستی ہلاکتیں ، گرفتاری کے بعد نوجوانوں کو لا پتہ کرنے کی کاروائیاں اور بستیوں میں گھس کر خواتین کے ساتھ ناشائستہ سلوک کرنے کی کاروائیاں جاری ہیں ۔ بے مثال قربانیوں کے طفیل مسئلہ کشمیر عالمی برادری کے سامنے اجاگر ہو رہا ہے ۔ کشمیری عوام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ کسی کو بھی کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ہیومن راءٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ’’بھارتی فوج غیر قانونی حراست، تشدد اور دوران تفتیش ہلاک میں ملوث ہے‘‘ جبکہ عدالتی مقدمے کے بغیر ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ مزید افسوسناک رپورٹ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو ہراساں کرنے کےلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خواتین کی عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں ۔ قابض بھارتی فوج کشمیریوں کے ہنستے بستے گھروں کو دھماکہ خیز بارود سے اڑا کر قبرستان میں تبدیل کر رہی ہے ۔ یوں پورا کشمیر لہو لہان ہو چکا ہے ۔ کشمیریوں پر ان مظالم کے ساتھ ساتھ ان کے مال واسباب کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ یہ صرف اس لئے کہ شائد وہ ڈر کر اپنے حق خودارادی کے مطالبہ سے دستبردار ہو جائیں لیکن جان و مال کی تباہی بھی ابھی تک کشمیریوں کے پائے استقلال میں لغزش تک پیدا نہیں کر سکی ۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں اب مقبوضہ کشمیر میں امن و امان عزت و آبرو سمیت کچھ نہیں بچا ۔ جہاں ہر وقت جنگ جاری ہو، ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہوں وہاں امن و امان کیسے رہ سکتا ہے ۔ جو امن و امان کے دشمن ہوتے ہیں ۔ وہ عزت و آبرو کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا بدترین دہشت گردی ہے ۔ مگربھارت کے خلاف کارروائی کرنے والا کوئی نہیں ۔ وہاں صرف جنگ کا قانون نافذ ہے ۔ یہ بات تو تمام دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں زندگی کی تمام رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں ۔ پہلے ڈوگرہ حکومت اور اب بھارتی جبریت کشمیریوں کو محکوم رکھنے اور ان کی آواز کو دبانے کی حتی الوسع کوشش کررہی ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ آواز پہلے سے کہیں زیادہ بلند تر ہوجاتی ہے ۔ بھارت بوکھلاکر اب کشمیریوں کی نسل کشی کے ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے کی مذموم حرکتوں کا مرتکب ہورہاہے لیکن ان سب کے باجود جموں سے لداخ تک ہر زبان پر آزادی کا نعرہ موجزن ہے ۔ ہرسال 13جولائی کو دنیابھر میں کشمیری ان 22شہداء کی یادمناتے ہیں اور اپنے اس عہدکو مزید مستحکم کرتے ہیں کہ کشمیر میں آخری مسلمان تک اور آخری مسلمان کے آخری قطرہ خون تک آزادی کی جنگ جاری رہے گی!!

کلبھوشن یادیو کیس اچھی تیاری کے ساتھ لڑا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی عدالت میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے خلاف کیس اچھی تیاری کے ساتھ لڑا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی وحشیانہ بربریت جاری ہے، قابض افواج کے ہاتھوں گزشتہ روز مزید ایک کشمیری کو شہید کردیا گیا، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی دوسری رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہیں، یہ رپورٹ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مفصل ثبوت ہے۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرائے اور بھارت کو نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھانے سے روکے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان 21 سے 23 جولائی کو واشنگٹن جائیں گے، وہاں رکنے کے حوالے سے وزیراعظم خود بیان دے چکے ہیں، امریکی دورہ کے حوالے سے تمام تفصیل دی جاچکی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کرتار پور راہداری پر 14 جولائی کو مذاکرات ہونگے، اس حوالے سے مزید تفصیل وہاں پر دیں گے، پاکستان نے 80 فیصد کام مکمل کرلیا، بھارت نے کتنا کیا ابھی نہیں معلوم، اس حوالے سے ہونے والے معاہدے کی تفصیل ابھی سامنے نہیں لائی جاسکتی۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ سزائے موت یافتہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ 17 جولائی کو آئے گا، ہم نے تیاری اچھی کی اور اچھا کیس لڑا، ہمارا گمان اور کوشش اچھی ہے، 17 جولائی کو ہی اس کیس پر تبصرہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوحہ میں افغان امن کے لیے مذاکرات جاری ہیں، پاکستان اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، پاکستان شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کے حوالے سے مکمل عمل درآمد کررہا ہے، کسی شمالی کوریا کے شہری کو پاکستانی ویزہ جاری نہیں کیا گیا۔

محمد عامر ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ لیگ میں شرکت کیلیے تیار

ورلڈکپ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے پاکستانی پیسر محمد عامر انگلش ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ لیگ میں شرکت کی تیاری کرنے لگے ہیں۔

میگا ایونٹ کے سیمی فائنل سے باہر ہونے کے بعد دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ پاکستان واپس آنے کے بجائے انگلینڈ میں ہی قیام کرنے والے قومی ٹیم کے بولر ایسیکس کی نمائندگی کریں گے، انہوں نے گزشتہ روز اپنی کاؤنٹی ٹیم کیلیے فوٹو شوٹ بھی کروایا۔

واضح رہے ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ لیگ کا آغاز 18 جولائی کو ہو رہا ہے، ایونٹ کا فائنل 21 ستمبر کو برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، وورسٹرشائر ریپیڈز دفاعی چیمپئن ہے۔

جوہری ایجنسی کے اجلاس میں روس اور ایران کی امریکا پر کڑی تنقید

ویانا: روس اور ایران نے جوہری توانائی ایجنسی کے اجلاس میں امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی درخواست پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں خصوصی اجلاس ہوا جس میں مسئلہ ایران پر غور کیا گیا۔

ایرانی سفیر کاظم غریب آبادی نے اجلاس میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کو معاشی دہشتگردی کا سامنا ہے، امریکا غیر قانونی اور یکطرفہ پابندیوں کو خود مختار ریاستوں کیخلاف دباؤ کیلیے آلہ بنارہا ہے، لیکن یہ سلسلہ اب ختم ہوجانا چاہیے، جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی اقدامات امریکی غیر قانونی رویے کا نتیجہ ہیں۔

روسی سفیر میخائل اولیانوف نے بھی واشنگٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جوہری معاہدے کے معاملے پر عملاً تنہا ہوگیا ہے، اس کی جانب سے جوہری ادارے کا اجلاس بلانا عجیب ہے، کیونکہ ٹرمپ نے جوہری معاہدے کو بدترین قرار دیا تھا، اجلاس بلانے کی درخواست سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی اہمیت سے آگاہ ہے۔

امریکی سفیر جوکی وال کوٹ نے کہا کہ ایران نیوکلیئر بھتہ خوری میں مصروف ہے اور جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی دھمکی دے کر بین الاقوامی برادری سے پیسہ بٹورنے کی کوشش کررہا ہے۔ ادھر برطانیہ، فرانس، جرمنی نے جوہری ڈیل بچانے کیلیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا مشترکہ بیان دیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ہی ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افزودہ یورینیم کی مقدار بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

Google Analytics Alternative