Home » 2019 » August

Monthly Archives: August 2019

کشمیر آور؛ پاکستانی قوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے سڑکوں پر نکل آئی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے اعلان پر مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستانی قوم گھروں سے باہر نکل آئی اور دن 12 سے ساڑھے 12 بجے تک  ’’کشمیر آور ‘‘ منایا۔

’’کشمیر آور‘‘ کی مرکزی تقریب شاہراہ دستور پر ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان نے ارکان پارلیمنٹ کیساتھ شرکت کی۔ وزیراعظم نے پارلیمنٹ ہاؤس کے لان میں طلبا اور نوجوانوں سے خطاب بھی کیا۔

ملک بھر میں دوپہر کے 12 بجتے ہی پوری پاکستانی قوم سڑکوں پر نکل آئی۔ سائرن بجائے گئے اور تمام بڑی شاہراہوں پر ٹریفک سگنل سرخ ہوگئے، گاڑیاں جہاں تھیں وہیں رک گئیں، قومی ترانے کے ساتھ کشمیر کا ترانہ پڑھا گیا۔ لوگوں نے ریلیاں نکالیں، جلسے جلوس و احتجاجی مظاہرے ہوئے اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔

ٹیچرز اور طلبہ بھی اسکولوں سے باہر نکل آئے اور کشمیری عوام کے لیے ہر قربانی دینے کا عزم کیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے جلائے گئے، کشمیر کی آزادی کے لیے دعائیں کی گئیں اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

ملک بھر کے تمام ایئرپورٹس پر آپریشنل معاملات آدھے گھنٹے کیلیے جزوی طور پر معطل کیے گئے۔

 

ایئر پورٹس پر قائم دفاتر، ایوی ایشن ڈویژن ، پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مرکزی اور ریجنل دفاتر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جبکہ آدھے گھنٹے کے لیے ٹرینیں بھی روکی گئیں۔

سرکاری پروگرام کے مطابق ملک بھر کے تمام اضلاع میں مخصوص مقامات پر احتجاج کیا گیا۔ وفاقی وزرا اور تحریک انصاف کے قائدین بھی ڈی چوک میں جمع ہوئے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر عوامی نمائندے اپنے حلقوں میں احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں جس میں سول سوسائٹی اور طلبا نے بھی شرکت کی۔

پنجاب حکومت نے بھی وزیراعظم عمران خان کے کشمیریوں سے مکمل اظہار یکجہتی کرنے کے اعلان کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اس بابت ’’کشمیر موبلائیزیشن کمپین‘‘ چلائی۔

وزیر اعلیٰ سردارعثمان بزدار بھی وزراء، اراکین اسمبلی اور افسران سمیت سی ایم سیکریٹریٹ سے باہر نکلے۔ کمشنر، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، پولیس افسران اپنے دفاتر کے باہر اسی ٹائم پر باہر سڑکوں پر جمع ہوئے۔

ان تمام ایونٹس کی ہیلی کاپٹرز اور ڈرون کیمروں سے کوریج کی گئی۔ سوشل میڈیا پر کشمیر سے متعلق ہیش ٹیگز نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔

آصف علی زرداری کو اسپتال سے جیل منتقل کردیا گیا

راولپنڈی: جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔

آصف زرداری کو اسپتال سے ڈسچارج کرکے دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ ان کی جیل منتقلی کے موقع پر سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ آصف زرداری کو دو دن قبل مختلف ٹیسٹس کے لئے جیل سے پمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے آصف زرداری سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ شیری رحمن اور فرحت اللہ بابر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آصفہ بھٹو کو ان کے والد سے ملنے نہیں دیا گیا، آصف زرداری کو ڈاکٹر کی تجویز کے برعکس جیل بھیج دیا گیا، یہ حکومت انتقام پر اتر آئی ہے۔

پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے، صدر مملکت

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

ایوان صدر میں کشمیر آور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سمیت پورے بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے، تاریخ گواہ ہے پاکستان نے ہمیشہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم رکوانے کیلئے دنیا پر دباؤ بڑھاتے رہیں گے، پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

کشمیریوں کےساتھ اظہار یکجہتی، پوری قوم سڑکوں پر نکل آئی

ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا، اس موقع پر پوری قوم وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق12 سے ساڑھے 12بجے تک باہر نکل آئی اور مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے فاشسٹ قبضے اور کرفیو کیخلاف کشمیریوں کا بھرپور ساتھ دیا، مودی ہٹلر اور نازی ازم کے نظریے کے پیروکار کیخلاف پاکستان کی قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثابت کیا کہ پاکستان کشمیر کی شہ رگ ہے، ہمارے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ، پاکستان سمیت دنیا بھر میں قائم پاکستان کے سفارتخانوں جن میں ایران ، سعودی عرب، کینیڈا و دیگر ممالک شامل ہیں ، وہاں پر بھی یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا گیا ، ٹھیک 12بجے سائرن بجائے گئے، قومی ترانہ اور کشمیر کا ترانہ پڑھا گیا، سگنل آدھے گھنٹے تک ریڈ رہے اور تمام ٹریفک رکی رہی جبکہ ٹرینیں بھی ایک منٹ کیلئے کھڑی رہیں ۔ ڈی چوک میں ساڑھے 12 بجے شاہراہ دستور پر دفاتر کے ملازم اکٹھے ہوئے وہاں پر وفاقی وزراء اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی جمع ہوئے ، جدوجہدکشمیر کا عزم کا اعادہ کیا گیا، نماز جمعہ کے بعد کشمیری عوام کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ، ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں جس میں تمام طبقہ ہائے فکر زندگی کے افراد نے شرکت کی ۔ پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول گلگت و آزاد کشمیر میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیاگیا، کیونکہ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان کی آزادی کا ایجنڈا نامکمل ہے اور جب تک مودی کے چنگل سے کشمیر آزاد نہیں ہو جاتا اس وقت تک پاکستان جدوجہد آزادی کشمیر کی سیاسی و سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھے گا ۔ نیز پاکستان فیصلہ کرچکا ہے کہ وہ کشمیریوں کیلئے آخری حد تک جائے گا ۔ آج ملک بھر میں یوم یکجہتی آزادی کشمیر منانے کا مقصد یہ تھا کہ بین الاقوامی برادری کو بتایا جائے کہ مسئلہ کشمیر صرف اس خطے کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے کتنی اہمیت کا حامل ہے ۔ بین الاقوامی برادری بھی جان چکی ہے کہ کشمیر اس وقت ایک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے بین الاقوامی برادری عملی طورپر اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے لیکن مودی اور اس کی دہشت گرد فوج اپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مذموم کوششیں کررہی ہے ، وادی میں کرفیو کو25 واں روز ہوگیا ہے وہاں پر مودی فاشسٹ نے نسل کشی کی تیاریاں کرلی ہیں ، سری نگر میں بنکرز قائم اور شوٹرزتعینات کردئیے گئے ہیں ، مسلمان پولیس اہلکاروں سے اسلحہ واپس لے لیا گیا ہے، وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ قطعی طورپر منقطع ہے، کاروبار زندگی معطل ہے، محصور کشمیریوں کے پاس کھانے پینے کی اشیاء، دودھ ، ادویات ختم ہوچکی ہیں ، سیاسی رہنماءوں سمیت 10ہزار سے زائد شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ظلم کی انتہا یہ ہے کہ جو کشمیری شہید ہوجاتا ہے اس کے جنازے کو دفنانے تک کی اجازت نہیں ، جنازے پر گولیاں برسائی جاتی ہیں اور مزید معصوم کشمیریوں کو شہید کردیا جاتا ہے، بھارتی دہشت گرد فوج پیلٹ گنوں سمیت مسلح ہتھیاروں سے لیس ہے اور اب وادی میں کیمیکل ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ سری نگر میں جو بنکرز قائم کیے گئے ہیں وہاں پر شوٹرز کو کیمیکل ہتھیار فراہم کردئیے گئے ہیں ، امریکہ سمیت دنیا کی طاقتوں کو چاہیے کہ فی الفور اس حوالے سے ایکشن لے ، قبل اس سے کہ وہاں پر بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے لے، بین الاقوامی میڈیا بھی آواز اٹھا رہا ہے ،برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں نے کشمیریوں کی زندگی تباہ کردی ہے ۔ جبکہ امریکی میڈیا کے مطابق پردے کے پیچھے کشمیریوں کیخلاف پیلٹ گن کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ وادی میں موجود بھارتی پولیس بھی بغاوت کرگئی ہے ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی اہمیت سے بھارتی فوجیوں کے مدد گار کی سی رہ گئی ہے ۔ پولیس اور بھارتی فوج آمنے سامنے آچکے ہیں اور دونوں کے مابین جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں ، وادی کی صورتحال آتش فشاں بن چکی ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتی ہے ۔ جیلوں کے باہر بچوں سے ملنے والے والدین کی لمبی قطاریں ہیں ، بھارتی فوج چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کررہی ہے جو والدین بچوں سے جیلوں میں ملنے کیلئے جاتے ہیں انہیں بھی گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا جاتا ہے ۔ تمام تر پابندیوں کے باوجود بھی مقبوضہ کشمیر میں وسیع پیمانے پر احتجاج جاری ہے ۔ مودی نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا کررکھی ہے، پابندیوں کی وجہ سے اصل خبر باہر نہیں آہ پارہی دنیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس وقت دو ایٹمی قوتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیٹھی ہوئی ہیں اگر اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا تو پوری دنیا اس جنگ کی لپیٹ میں آجائے گی ۔

امریکہ اور طالبان امن معاہدے کے قریب

امریکہ اور طالبان کے مابین معاہدہ حتمی شکل پانے کی صورت میں آن پہنچا ہے، قطر میں ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں ، معاہدے کو آخری شکل دینے کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کابل آئیں گے اس کے ساتھ ہی وہ پاکستان کا بھی دورہ کریں گے ۔ امریکہ افغانستان میں 8600 فوجی رکھے گا جبکہ باقی ہزاروں فوجیوں کا انخلاء ہو جائے گا، امریکی صدر ٹرمپ نے انتباہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر افغانستان سے دوبارہ امریکہ پر کوئی حملہ ہوا تو ایسی فوج کے س اتھ افغانستان میں واپسی ہوگی جو اس سے پہلے کبھی دیکھی نہیں ہوگی ۔ امریکہ کا بھرپور انٹیلی جنس سسٹم افغانستان میں رہے گا ۔ ادھر دوسری جانب امریکی دفاع اور خارجہ میں اختلافات سامنے آگئے ہیں ، امریکی وزارت خارجہ کا موقف رہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلاء چاہتا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہاکہ ٹرمپ اس یقین کے ساتھ کہ امریکہ محفوظ ہیں ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر افغانستان سے کبھی حملہ نہیں ہوگا ۔ ہم افغان جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں جبکہ چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈینفورڈ نے کہا کہ میں نے انخلاء کا لفظ استعمال نہیں کیا ہم اس یقین کے ساتھ افغانستان سے جانا چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی آماجگاہ نہ بنے ۔ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کا نام اسلامی امارات افغانستان رکھنا چاہتے تھے اس بات کو امریکہ مان گیا ہے ۔ اب یہ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں اس کا باقاعدہ آج اعلان متوقع ہے ۔ اس اعلان کے بعد افغان انٹراڈائیلاگ شروع ہوں گے،افغان فورسز اور سیاسی تنظیموں سے مذاکرات میں ناکامی پر افغان طالبان دوبارہ جنگ کرنے میں حق بجانب ہونگے ۔ دنیا کا کوئی بھی مسئلہ ہو وہ مذاکرات سے ہی حل ہوتا ہے ۔ پاکستان افغانستان سمیت دنیا بھر میں امن کا داعی ہے اور اس نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ افغانستان میں امن و امان قائم ہو ۔ اس کی کاوشیں سب کے سامنے ہیں ۔ اب بھی اس سلسلے میں پاکستان کا کردار انتہائی سنہرا اور ناقابل فراموش ہے ۔ امریکہ نے بھی اس سلسلے میں پاکستان سے رجوع کیا اور پاکستان نے بھرپور تعاون کیا ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر و تشدد پر عالمی میڈیا بھی اشک بار

عالمی میڈیا نے مودی سرکار کی تمام تر چالاکیوں اور عیاریوں کے باوجود مقبوضہ وادی میں بھارتی قابض فوج کے مظالم کا پردہ چاک کر دیا۔  

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم، 25 روز سے جاری کرفیو، نظام زندگی کی معطلی اور مواصلاتی نظام کی بندش پر عالمی میڈیا بھی بول پڑا۔ بی بی سی،  سی این این، واشنگٹن ٹائم، وائس آف امریکا اور نیویارک ٹائمز سمیت دیگر کئی عالمی خبر رساں ادارے بھارتی فوج کے مظالم  پر اشک بار نظر آئے اور اپنی رپورٹس میں مودی سرکار کے سب اچھا ہے کے راگ الاپنے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا۔

اندھا دھند گرفتاریاں، داڑھی پکڑ کر مارا گیا اور زندہ جلانے کی کوشش، بی بی سی 

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے قابض بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم سے پردہ اٹھا دیا، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متاثرین نے بتایا کہ خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز نےانہیں گھروں میں گھس کر گرفتار کیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ بجلی کے جھٹکے دیئے گئے اور الٹا لٹکایا گیا جب کہ ایک نوجوان نے بتایا کہ قابض بھارتی فوج نے اسے داڑھی سے پکڑ کر مارا اور زندہ جلانے کی کوشش کی۔

نوجوانوں کے ساتھ کم سن بچوں کی گرفتاری اور تشدد، واشنگٹن پوسٹ

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تازہ اشاعت میں آبدیدہ باپ کی کہانی شائع کی ہے، جس کے معصوم بچے کو قابض بھارتی فورسزنے  حراست میں لے لیا۔ مقبوضہ کشمیر کےننھے منے بچوں کی پکڑ دھکڑ کے دل ہلادینے والے مناظر کی جھلکیاں بھی امریکی اخبار کی رپورٹ میں دیکھی جاسکتی ہیں، اسی طرح ماں سے چھینے جانے والے 13 سالہ نوجوان کی دلخراش کہانی شائع کی ہے۔

پاکستان سے الحاق کے حامی علاقوں میں پابندیاں سخت، نیویارک ٹائمز

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں مودی سرکار کے ظلم و بربریت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے ہمالیائی خطے میں مواصلات پر پابندیوں میں سب زیادہ سختی کی ہے کیوں اس خطے کی اکثریت پاکستان کے ساتھ انضمام چاہتے ہیں۔  پوری وادی کوچھاؤنی میں تبدیل کردیا،کشمیریوں اور قابض فورسز کےدرمیان کئی جھڑپیں بھی ہوئیں،قابض فورسز رات کوگھروں میں گھس کرکشمیریوں کوتشددکانشانہ بناتی ہیں۔

کاروباری سرگرمیاں معطل، شہری گھروں میں محصور، وائس آف امریکا

وائس آف امریکا نے اپنی رپورٹ میں مودی سرکار کے جھوٹے پروپیگنڈے کا کچاچٹھا کھول کر رکھ دیا، رپورٹ میں بتایا گیا کہ سری نگر کےکئی علاقوں میں صورتحال مخدوش ہے،آرٹیکل 370 کی منسوخی کے فیصلے کے خلاف لوگوں میں شدیدغصہ پایا جاتا ہے، وادی میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں، لوگ محصور ہیں اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے۔

کشمیری پیلٹ گنز اور سخت پابندیوں سے نہتے لڑ رہے ہیں، الجزیرہ

قطری چینل الجزیرہ نےمودی سرکار کی مقبوضہ وادی میں خفیہ کارروائیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ مقبوضہ وادی میں جھوٹ کےپردے کے پیچھے کشمیری عوام پیلٹ گنز اور سخت پابندیوں سے لڑ رہے ہیں۔ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ کم سن بچوں کو بھی حراست میں لیا جا رہا ہے،  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد سے اب تک تین ہزار بےگناہ افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے ،جن میں ایک بڑی تعداد بچوں اور کم عمر لڑکوں کی ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور سخت پابندیاں چوتھے ہفتےمیں داخل ہوگئی ہیں۔ کشمیری مسلسل چھبیس روز سے اپنے گھروں میں قید ہیں اور مقبوضہ وادی کا بیرون دنیا سے  رابطہ منقطع ہے جب کہ قابض فوج نے بارہ مولہ میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا ہے۔

 

کوچز کا تقرر، ’’فکسڈ میچ‘‘ کے خدشات بڑھنے لگے

لاہور: کوچز کے تقرر میں ’’فکسڈ میچ‘‘ کے خدشات بڑھنے لگے جب کہ 5 رکنی پینل نے فیورٹ مصباح الحق کے ساتھ محسن خان اور ڈین جونز کا بھی انٹرویو کرلیا۔

پی سی بی نے ہیڈ کوچ اور معاون اسٹاف کا انتخاب کرنے کیلیے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان،ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان، رکن گورننگ بورڈ اسد علی خان، سابق کپتان انتخاب عالم اور سابق کرکٹرو کمنٹیٹر بازید خان پر مشتمل 5 رکنی پینل تشکیل دیا تھا،پہلے مرحلے میں ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کیلیے انٹرویوز مکمل کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں بیٹنگ و اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچز کے معاملے کو دیکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ہیڈ کوچ کیلیے مضبوط امیدوار مصباح الحق کا گذشتہ روز انٹرویو ہوگیا، سابق ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر محسن خان نے بھی اس عہدے کیلیے اپنی اہلیت ثابت کرنا چاہی، قذافی اسٹیڈیم آمد پر میڈیا کے نمائندوں کو دیکھ کرانھوں نے صرف اتنا کہا کہ دعا کریں اللہ عزت دے، ڈین جونز سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے ان کی سوچ کے زاویے جاننے کی کوشش ہوئی۔

ذرائع کے مطابق گذشتہ روز صرف ایک غیر ملکی ڈین جونز کا انٹرویو ہوا ہے، مزید 2 کے جمعے کو ہوں گے، بولنگ کوچ کے امیدوار وقار یونس نے بھی پینل کو اپنے پلان سے آگاہ کیا،انٹرویو کے بعد انھوں نے میڈیا سے بات کرنے سے اجتناب برتااور تیزی سے گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے، محمد اکرم اور جلال الدین بھی اس عہدے کی آس لگائے بیٹھے تھے۔

یاسر عرفات نے بھی بولنگ کوچ کیلیے امیدوار کے طور پر اپنا نام درج کرایا تھا، آل راؤنڈر نے لیول تھری کوچنگ کورس کررکھا ہے، محمد اکرم نے وقار یونس کو فیورٹ دیکھتے ہوئے درخواست واپس لے لی اور اس دوڑ سے باہر ہوگئے، جلال الدین کا نام شارٹ لسٹ ہی نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ بیٹنگ کوچ کیلیے محمد وسیم اور فیصل اقبال نے بھی درخواست جمع کرائی ہے، اس کا فیصلہ دوسرے مرحلے کے انٹرویوز میں ہونا ہے، ذرائع سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اگر مصباح الحق کو ہیڈکوچ بنایا گیا تو کسی بیٹنگ کوچ کا تقرر نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ذمہ داری بھی سابق کپتان خود ہی نبھا سکتے ہیں، یوں اس پوسٹ کیلیے درخواست دینے والے فیصل اقبال اور محمد وسیم کے ارمان ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔

واضح رہے کہ ورلڈکپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد پی سی بی نے ہیڈکوچ مکی آرتھر سمیت سپورٹنگ اسٹاف کے معاہدوں میں توسیع نہیں کی تھی، نئی تقرریوں کیلیے اشتہار جاری کیا گیا مگر غیرملکی کوچز میں کوئی بڑا نام سامنے نہ آنے پر مصباح الحق پر اعتماد کا فیصلہ ہوا، البتہ ان سے مالی معاملات اور پی ایس ایل میں کوچنگ سمیت بعض امور پر بات چیت اب بھی جاری ہے۔c

سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کےلئے آبی ذخائر کی ضرورت

بھارت آبی منصوبوں پر سالانہ 38 ارب ڈالر خرچ کر کے پاکستان کو صحراء و ریگستان میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کرچکا ہے ۔ امریکہ اسرائیل سمیت کئی ممالک پاکستان کی تباہی کے منصوبے میں اس کی مکمل پشت پناہی کر رہے ہیں ۔ بھارت درجنوں نئے ڈیم بھی شروع کر چکا ہے ۔ بھارت پاکستان آنے والے دریاءوں کا پانی روکنے کے منصوبوں پر انتہائی تیزی سے عمل پیرا ہے اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ہماری حکمران اور پاکستان کے چند پردہ نشین بھارت کو یہ ملک دشمن منصوبے مکمل کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں ۔

نجانے سندھ کو کالا باغ ڈیم بننے پر کیوں اعتراض ہے ۔ کچھ سندھی لیڈر اس مخالفت میں پیش پیش ہیں جن کے پاس اس کی مخالفت کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ۔ جب منگلا اور تربیلا ڈیم بن رہے تھے تو یہی لوگ اس وقت بھی واویلا مچا رہے تھے مگر دونوں ڈیم بن جانے کے بعد سندھ کو ملنے والا پانی دگنا ہو چکا ہے اور کالا باغ ڈیم بننے کے بعد سندھ کو ملنے والے پانی میں مزید اضافہ ہی ہوگا اور دریائے سندھ کا بہاوَ بھی جاری رہےگا ۔ کالاباغ ڈیم نہ بنا تو یہ سندھ اورپاکستان کےلئے خودکشی کے مترادف ہوگا ۔ ڈیم کی تعمیر سے سندھ کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوگی ۔ اگر ڈیم نہ بنے تو ہماری زراعت تباہ ہو جائے گی ۔ یہ پاکستان کا نقصان ہے کیونکہ اگر سندھ کی زراعت ختم ہوگئی تو لوگ بھوکے مریں گے ۔

بدقسمتی سے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو کالا باغ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا کوئی ادراک نہیں ۔ کوئی ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ کے ڈوبنے کے خطرے کو جواز بنائے بیٹھا ہے تو کوئی لسانی و علاقائی مسائل میں گھرا بیٹھا ہے ۔ حالانکہ ماہرین کہہ چکے ہیں کہ نوشہرہ ڈیم سے 150 فٹ بلند ہے لہذا اس کو کوئی خطرہ نہیں ۔ ڈیم سے صرف پنجاب کو نہیں خیبر پختونخواہ کو بھی فائدہ ہوگا ۔ وہاں آٹھ لاکھ ایکڑ فٹ زمین زیر کاشت آئے گی جس سے صوبے میں غربت کم ہوگی ۔ کالاباغ ڈیم کے ذریعے بجلی صرف 1;46;02 روپے فی یونٹ قیمت پر دستیاب ہوگی ۔

دنیا بھر میں آبی ذخائر کے ماہرین اور پاکستان میں ڈیمز کے ماہرین نے حکمرانوں کو انتباہ کیا ہے کہ اگر ڈیم تعمیر کئے گئے ہوتے تو پاکستان بارشوں اور سیلاب کے اس پانی نہ صرف آئندہ کئی برسوں تک زرعی مقاصد کے لئے ذخیرہ کر سکتا تھا بلکہ یہ تباہی و بربادی بھی نہ آتی ۔ اس پانی سے عوام کو سستی بجلی بھی میسر ہوتی ۔

واپڈا کے حکام کا کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے بے گھر ہونے والے افراد کی آبادکاری میں اپنے تجربہ کو بھی بروئے کار لائیں گے ۔ آبادکاری کے اس منصوبے پر 5 ارب 73 کروڑ (573 کروڑ) روپے صرف ہوں گے ۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سے بعض ایسے افراد بھی ساڑھے بارہ ایکڑ زرعی اراضی کے مالک بن جائیں گے جن کے پاس اس وقت ایک یا نصف ایکڑ کے لگ بھگ اراضی ہے ۔ ان لوگوں کو جو اراضی ملے گی وہ نہری نظام سے منسلک ہوگی ۔ متاثرین کالاباغ ڈیم کو ان کو موجودہ رہائش کے قریب ہی جدید طرز کے دیہات میں آباد کیا جائے گا ۔ مجموعی طور پر 47 گاؤں آباد کئے جائیں گے جہاں بے گھر ہونے والے افراد کو رہائشی پلاٹ فراہم کئے جائیں گے ۔ گاؤں کی آبادی کےلئے ضروری سہولتیں اور ذراءع روزگار بھی حکومت فراہم کرے گی ۔ لوگوں کو فنی تربیت کی سہولتیں بچوں کےلئے تعلیم اور علاج معالجہ کا بھی انتظام ہوگا اور صاف پینے کا پانی اور گندے پانی کے نکاس کا بھی بندوبست ہوگا ۔

کالا باغ ڈیم بلاشبہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کا ضامن منصوبہ تھا لیکن اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے سپیشل ڈیسک قائم کر کے اربوں روپے کے فنڈز مختص کر دیے ۔ اِس فنڈ کی مدد سے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے سیاستدانوں اور خلاف لکھنے اور بولنے والے نام نہاد دانشوروں کی ’’ضروریات‘‘ پوری کی جاتیں تھیں ۔ یہ ماننے میں کوئی ہرج نہیں کہ ہمارے سیاستدانوں اور دانشوروں کی کم عقلی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے دشمن 30 سال سے اپنے مقصد میں کامیاب چلا آ رہا ہے اور کالا باغ ڈیم منصوبے کی پہلی اینٹ نہیں رکھی جا سکی بلکہ اس منصوبے کو ہی متنازعہ بنا دیا گیا کہ بھارتی خفیہ ادارے کے ٹکڑوں پر پلنے والوں نے اِسے پاکستان توڑنے سے ہی تعبیر کر دیا اور یوں یہ منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی متنازع ہوکر ایسا اچھوت بن گیا جسے چْھونے سے اس کے حمایتی بھی خوف کھانے لگے ۔ کالا باغ ڈیم کی جھیل میں اتنا زیادہ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا کہ اس میں سے زرعی مقاصد کے لئے سندھ کو 4 ملین ایکڑ فٹ، خیبر پی کے کو 2;46;2 ملین ایکڑ فٹ، پنجاب کو 2 ملین ایکڑ فٹ اور بلوچستان کو 1;46;5 ملین ایکڑ فٹ پانی مل سکے گا ۔ کالا باغ ڈیم کی جھیل کے پانی سے چاروں صوبے خوراک میں بھی خود کفیل ہو سکتے ہیں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھی بچ سکتے ہیں ۔

سیاست دان کالا باغ ڈیم کی مخالفت چھوڑ دیں ۔ یہ تیکنیکی معاملہ ہے اسے سیاسی نہ بنائیں ۔ اسے ماہرین پر چھوڑ دیا جائے ۔ ملک بھر کے انجینئر اور ڈیموں کے ماہرین اس سلسلہ میں جو بھی فیصلہ کریں گے اس کے قبول کر لیا جائے ۔ ڈیمز کی تعمیر بہت ضروری ہے کیونکہ ہر سال سیلاب کا جو تجربہ قوم کو ہوتا ہے اب دوبارہ ایسا تجربہ برادشت کرنے کی سکت نہیں ۔ خدارا قومی ترقی کے ضامن کالا باغ ڈیم کو متنازعہ بنا کر سیاست کی نذر نہ کریں

افغانستان میں عالمی قوتوں کے قبضے کے خاتمے تک امن ممکن نہیں، طالبان

دوحہ: دوحہ میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکی صدر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے عالمی افواج کا قبضہ ختم ہونے تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے خصوصی بات کرتے ہوئے امریکی فوج کے افغانستان میں ہمیشہ موجودہ رہنے کے تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے ہم قربانی اس لیے دیتے آئے ہیں کہ افغانستان سے امریکی اور بین الاقوامی افواج کا قبضہ ختم ہو۔

طالبان ترجمان سہیل شاہین نے مزید کہا کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں بھی امریکی وفد کے ارکان اسی لیے بیٹھے ہیں تاکہ افغانستان سے بین الاقوامی افواج کا قبضہ ختم ہو اور ہمارے درمیان اسی تناظر میں مذاکرات بھی جاری ہیں جس میں اکثر ہی نکات پر اتفاق ہوگیا ہے اور اب انشااللہ ہفتوں کی نہیں بلکہ دنوں کی بات ہے۔

دو روز قبل ترجمان طالبان سہیل شاہین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدہ تکمیل کے قریب پہنچ گیا ہے اور بہت جلد عالمی افواج سے آزادی کے خواہش مندعوام کو خوشخبری دیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا تھا کہ افغانستان میں تعینات امریکی افواج کی سطح کو کم کر کے 8 ہزار تک کیا جا رہا ہے تاہم ہم وہاں اپنی موجودگی کو ہمیشہ برقرار رکھیں گے۔

Google Analytics Alternative