- الإعلانات -

ازاد کشمیر کے لیڈروں کی برطانیہ اور یورپ میں موج مستیا

دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ اور یورپ کا انفراسٹرکچر مکمل تباہ ہوگیا تھا ان ممالک کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے مزدوروں اور فیکٹری ورکروں کی ضرورت پڑی تو ہنوستان، پاکستان اور افریقی ممالک سے بڑی تعداد میں مزدور یورپین ملکوں بالخصوص برطانیہ میں لائے گئے جنھوں نے سڑکیں ، پل اور عمارتیں تعمیر کیں برطانیہ میں ;200;باد پاکستانی زیادہ تر ;200;زاد کشمیر کے دو اضلاع میرپور اور کوٹلی یا پھر راولپنڈی ڈویژن سے ;200;ئے جن کی اب چوتھی نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے انگریز ;200;ج بھی پاکستانی کشمیری یا دیگر ممالک سے یہاں ;200;نے والی پہلی نسل کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنھوں نے اس ملک کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا برطانیہ نے سب سے پہلے ان مزدوروں کو شہریت دی انکی فیملیز کو برطانیہ ;200;نے کی اجازت دی انکو وہ سارے حقوق دیئے جو مقامی شہریوں کو حاصل ہیں اب یہاں ان تارکین وطن کی چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے جبکہ دوسری اور تیسری نسل ہر شعبہ زندگی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے ان پاکستانی کشمیری مزدوروں کی وجہ سے میرپور کوٹلی اور جہلم پوٹھوہار ریجن میں بڑے بڑے بنگلے کوٹھیاں نظر ;200;تی ہیں یہ ;200;ج بھی زرمبادلہ کی صورت میں پاکستان کی معیشت میں سب سے زیادہ کردار ادا کررہے ہیں جبکہ اپنے اپنے خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داریاں بھی پوری کررہے ہیں ایک ریسرچ کے مطابق سپین کے انقلاب کے بعد برطانیہ اور یورپ میں اسلام کا دوبارہ ان ہی کشمیری اور پاکستانی مزدوروں کی وجہ سے پھیلا جنھوں نے یہاں مسجدیں تعمیر کیں ۔ یورپین ممالک نے تاریخ کی تلخیوں کو بالکل بھولا دیا ہے اور معاشی انقلاب کی خاطر باہم ;200;پس میں جڑ گئے اور ترقی کی جانب بڑھنے لگے پاکستان کی اج کی موجودہ سول اور عسکری قیادت بھی شاید انہی ارادوں کی تکمیل کےلئے کوشاں ہے ۔ لندن سے کسی بھی یورپین ممالک کا ہوائی جہاز کا سفر تقریبا دو گھنٹے کا ہے جبکہ فرانس، بلجیئم، ہالینڈ اور دوسرے کئی ملکوں میں لندن سے سڑک کے راستے ;200;پ تقریبا چار گھنٹوں میں یکطرفہ سفر کرسکتے ہیں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان ممالک نے 1945 میں ایک دوسرے پر بم گرائے تھے لیکن گزشتہ ستر سالوں میں ان یورپین چھوٹے چھوٹے ممالک نے بہت ترقی کی سفری سہولیات کو ;200;سان بنایا ایک دوسرے کی مدد کی ہیومین راءٹس اور ہیومین ڈویلپمنٹ پر توجہ دی ۔ ہمارے پاکستان اور ;200;زاد کشمیر کے لوگ صرف برطانیہ میں کوئی بیس لاکھ ہیں جن میں تقریبا 13 یا 14 لاکھ کشمیری نژاد ہیں جن کے ماشا اللہ اپنے اپنے کاروبار ہیں ہزاروں کی تعداد میں مقامی حکومتوں میں پاکستانی کشمیری کونسلرز اور مئیرز ہیں کھیل کے میدانوں سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک پاکستانیوں اور کشمیریوں کی نسل نمایاں طور پر نظر ;200;تی ہیں لیکن افسوس کہ یہاں پاکستان اور ;200;زادکشمیر سے ;200;نے والے مذہبی اور سیاسی قافلے ہ میں تقسیم کررہے ہیں سب سے زیادہ ;200;زاد کشمیر سے مختلف جماعتوں کے سربراہ برطانیہ اور یورپ کے چکر کاٹتے رہتے ہیں نام نہاد پونڈز اور یورو اکھٹے کرنے والے پیر اور مسلکوں کی بنیاد پر مذہبی پیشوا یہاں ہمارے لوگوں کی تقسیم کا بڑا سبب ہیں سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے پیش نظر سیر سپاٹے اور چندوں کا حصول ایک طرف ہے تو دوسری طرف اپنی اپنی جماعتوں کی برانچز قائم کرکے زاتی تشہیر اور چندے اکھٹے کرنا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہاں تقسیم در تقسیم کے عمل کو فروغ دیا گیا ہے کسی جگہہ برادریوں کنبوں کی بنیاد پر تو کسی جگہہ سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر بھائی کو بھائی سے جدا کرنے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے یہ تکلیف دہ عمل ہے اس کو روکنا ہوگا ۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ ;200;زادکشمیر کی سیاست سے ماورا ہوکر برطانیہ اور یورپ میں زیادہ سے زیادہ افراد اپنے سیاسی تشخص کو قائم کریں اس سے کمیونٹی کے اندر اتحاد اور فکر و عمل کو تقویت ملے گی بلکہ مختلف مسائل حل ہونگے اور مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب ہماری بھی کوششیں رنگ لائیں گئیں جبکہ بھارت اور بنگلہ دیشی کی کسی سیاسی جماعت کا یہاں وجود نہیں ، میں ان ;200;زاد کشمیر کے لیڈروں کےلئے اتنا عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو یہاں اکثر ;200;تے رہتے ہیں میرے لئے سب قابل احترام ہیں لیکن سب کا کردار ;200;زادکشمیر کے خطے اور عوام کے لئے ایک ہی جیسا ہے وہ اپنی سیاست کا محور اور مرکز ;200;زادکشمیر کی دھرتی کو بنائیں وہاں ہر طرح کی بہتری لانے کے لئے اپنا رول اور وسائل استعمال کریں ;200;زادکشمیر کا نظام تعلیم، ٹوٹی نلکا، صحت کا نظام ،سڑکیں ،تھانہ کلچر اور پٹوار خانہ ان اقتداری لیڈروں کی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ، ایک سرکاری ہسپتال ایک سکول بتادیں جو برطانیہ اور یورپ کے معیار کے مطابق ;200;پ نے قائم کیا ہو ایک محکمہ بتادیں جہاں رشوت نہیں لی جاتی ہو ایک سیاحت کا وہ مقام بتا دیں جہاں ہم برطانیہ اور یورپ میں مقیم کشمیری بچوں کو لے جاکر سیر کرواسکیں جن کے چندوں پر ;200;پ الیکشن لڑتے ہیں ;200;پ کامیاب ہوتے ہیں جس کو ;200;پ کا یا ;200;پکی حکومت کا کارنامہ بتایا جاسکے ’’تن ہمداغ داغ شد ;34;پنبہ کجا کجا نعم ;34; (فارسی کے اس قول کا مطلب ہے کہ میرا پورا جسم زخموں سے چور ہے کس کس جگہہ پر مرہم رکھوں )وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے 11 جولائی سے 27 جولائی کے دوران پورے یورپ کا دورہ کیا 11 جولائی کو وہ سپین کے شہر بارسلونا پہنچے پتہ چلا کہ وہ 13 جولائی کو یوم شہدا کے سلسلے میں نکلنے والی ایک ریلی میں شرکت کریں گے پھر وہ 14 جولائی کو اٹلی روانہ ہوئے پھر بلجیم پھر فرانس اور پھر برطانیہ تشریف لائے اور 27 جولائی کے بعد اسلام ;200;باد واپس پہنچے یہاں مقیم ازاد کشمیر کے لوگ ٹوٹی نلکے والے اور سڑکوں کو پختہ کرنے والے اور پلاٹوں پر قبضے کی شکایتیں کرنے والے ہم سے پوچھتے رہے کہ وزیراعظم سے ملاقات کروائیں لیکن ہ میں نہیں معلوم کہ وزیراعظم صاحب کی یہاں کیا کیا مصروفیات رہیں اسی دوران لیبہ ویلی مظفر;200;باد میں سیلابی ریلے سے 24 افراد جان بحق ہوگئے لائن ;200;ف کنٹرول پر مرنے والوں کی داد رسی بھی تو چیف ایگزیکٹو کی ہی ہوتی ہے مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ ;200;زاد کشمیر کے وزیراعظم کے اس دورے پر ;200;زادکشمیر کے قومی خزانے سے کتنا پیسہ خرچ ہوا چونکہ اب جب سے مسلم لیگ ن کی حکومت ;200;زادکشمیر میں برسراقتدار ;200;ئی ہے اب یہ نوٹیفکیشن ہی نہیں جاری ہوتا کہ کون کب اور کیوں بیرون ملک دورے پر جارہا ہے اور اس کو کتنے پیسے اس دورے کےلئے دئیے گئے ہیں پیپلزپارٹی کے دور تک باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہوتا تھا لیکن بعد میں نوٹیفکیشن جاری ہونا بند ہوگیا ہے ۔ کشمیر سیل بھی مکمل وزیراعظم ;200;زادکشمیر کے کنٹرول میں ہے جہاں کشمیر کو ;200;زاد کروانے کے لئے صوابدیدی فنڈز کی ترسیل ہوتی ہے جہاں سے برطانیہ اور یورپ لوگوں کو مسئلہ کشمیر کو ;200;جاگر کرنے کےلئے وہاں سے بیجھا جاتا ہے اور وہ یہاں ;200;کر اپنے ہی لوگوں کے خرچے پر دعوتیں اور استقبالیے منعقد کروا کر انہیں ہی تقریریں سنا کر چلے جاتے ہیں کشمیر سیل سے ہی پھر برطانیہ سے ;200;زادکشمیر اور پاکستان کی سیر کروانے کےلئے فنڈز یہاں سے ہی سنا ہے جاری ہوتے ہیں ۔ واللہ عالم ۔ ;200;زادکشمیر کی حکومت کے وزیروں کی ایک بڑی تعداد ادہر برطانیہ میں دعوتیں ;200;ڑا رہی ہے برطانیہ اور یورپ میں ;200;نے میں کوئی قباعت نہیں لیکن ;200;نے کے مقاصد تو واضح ہوں جو مسئلہ کشمیر ;200;جاگر کرنے کی غرض سے استقبالئے اور پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں جس سے ان لیڈروں کی ذاتی اور جماعت کی تشہیر ہوتی ہے چونکہ تقریر کرنے والے، سننے والے اور میڈیا والے سارے اپنے ہی لوگ ہوتے ہیں جو سو فیصد کشمیر کے مسئلے کے ساتھ وابسطہ ہیں ابھی ;200;زادکشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق بھی برطانیہ کا دورہ کرکے واپس چلے گئے ہیں جن کی قابلیت اور اہلیت کو تو چیلنج نہیں کیا جاسکتا انکے مخالفین انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہمیشہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں جبکہ ہمارے دوست عبدالرشید ترابی بھی برطانیہ کا دورہ کرکے واپس گے ہیں جو کبھی ترکی میں کبھی سعودی عرب اور کبھی یورپ میں ہوتے ہیں انہیں بھی اسٹبلشمنٹ کی بی ٹیم کا طعنہ ملتا رہتا ہے ۔ بیرسٹر سلطان محمود پی ٹی ;200;ئی کے دوبارہ صدر بن گئے ہیں انکے استقبال کی یہاں تیاریاں ہو رہی ہیں یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے سنا ہے ان پر بھی اسبشلشمٹ کی چھاپ ہے ان کی دوبارہ صدارت بھی شاید اسی کا شاخسانہ ہے سیف اللہ نیازی نے حلف لیا تو سابق وزیراعظم کسی کونے میں نظر ;200;ئے کچھ دوستوں کو ناگوار گزرا ۔ موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکومتیں ;200;زادکشمیر کے لوگوں کو کوئی خاطر خواہ ریلیف دینے میں سب ناکام ہیں دارلحکومت مظفر;200;باد ہے لیکن وزیراعظم صدر وزرا کی اکثریت اسلام ;200;باد میں ہی رہتی ہے اور کشمیر ہاءوس ہی ان کا مسکن ہے ;200;زاد کشمیر کے لوگ اکثر سڑکوں کی تعمیر اور اپنے حق کے لئے احتجاج کرتے رہتے ہیں 29 جولائی کو کوہالہ پل پر ٹریفک کی ;200;مد و رفت کےلئے بند کردیا گیا یہ لوگ احتجاج بھی سڑک کےلئے کررہے تھے میرے ایک دوست ;200;ٹلی سے شریف عباسی مجھے جولائی کا پورا مہینہ راجہ فاروق حیدر سے اسی سڑک کی تعمیر کےلئے ملاقات کروانے کا کہتے رہے لیکن میری رسائی بھی راجہ فاروق حیدر سے نہیں ہوسکی ۔ بشارت عباسی شہید روڈ جو 36 کلو میٹر بنتی ہے کشمیر میں سب سے پرانی سڑک ہے ہر دور حکومت میں اس سڑک کو پختہ کرنے کا وعدہ کیا گیا سابقہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا80 ہزار سے زائد عوام اس سڑک پر سفر کرتے ہیں سڑک پر کھڈے پڑے ہوئے ہیں علاقہ عوام کو سخت تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے میں نے گزشتہ سال خود اکتوبر کے مہینے میں اس سڑک پر سفر کیا تھا ۔