- الإعلانات -

پاکستان،کشمیر اور خطے کی صورتحال،سینٹ میں تحریک

ملک میں معاشی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ قرضے ختم کرنے اور کسی سے قرضہ نہ لینے کے دعویداروں نے اپنے دعوءوں ،وعدوں اور بیانات سے کھلم کھلا انحراف کیا ۔ اور قرضے تو کیا ختم کرنے تھے قرضوں میں مزید اضافہ کیا ۔ عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے،مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنے کے بیانات اور دعوے بھی سراب ثابت ہوئے ۔ بلکہ کرے کوئی بھرے کوئی کے مصداق سارا قصور عوام کا نکلا اور ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی کی صورت میں سزا وار عوام ٹھرے ۔ جن سیاسی رہنماءوں کو گرفتار اس بنیاد پر کیا گیا کہ انھوں نے ملک کو لوٹا ہے اور اس لوٹ مار کے ثبوت موجود ہیں ان پر ابھی تک کچھ ثابت نہیں ہوا نہ ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش کیا جا سکا ۔ اس لیئے یہ تاثر عام ہے کہ یہ تو احتساب نہیں بلکہ انتقام ہے ۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن اصل خرابی کی طرف نہ کوئی توجہ دیتا ہے نہ اس بیماری کا کوئی علاج سوچتا ہے اور وہ ہے نظام کی خرابی ۔ خرابی نظام کی بیماری نے پورے ملک کو معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔ جب تک نظام درست نہیں ہوگا ہمارے معاشی مسائل ختم نہیں ہو سکتے بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جائے گا ۔ جس کے نتاءج بڑے خوفناک ہو سکتے ہیں ۔ سیاسی رہنما اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل نظر آتے ہیں ۔ اپوزیشن کے لیڈرز اپنے آپ کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ ان کی جدوجہد کا مقصد ملک اور عوام نہیں بلکہ اپنی چمڑی بچانا ہے ۔ دوسری طرف حکومت اپنے مخالفین کو پچھاڑنے میں لگی ہوئی ہے ۔ اخباراٹھا کر دیکھیں یا ٹی وی لگا کر دیکھیں ۔ سب ایک دوسرے کو کوستے ہی نظر آئیں گے ۔ سیاست بس اب یہ رہ گئی ہے کہ ایک دوسرے کے کپڑے اتارے جائیں ۔ حزب اقتدار ہے یا حزب اختلاف سب نے ملکی سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ معاشرتی اقدار،روایات اور بردباری کو سیاست سے یکسر خارج کر دیا گیا ۔ دونوں طرف والوں کو نہ ملک کی فکر ہے نہ عوام کی ۔ بداخلاقی،بدتمیزی،ذاتی مفادات اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا دنگل ہے ۔ یہ ہیں ہمارے رہنما ۔ عوام کو سوچنا پڑے گا ۔ پاکستان اس وقت نہ صرف معاشی بحران کا شکار ہے بلکہ ملکی سلامتی کا تحفظ کرنے والوں کی نظریں پڑوسی سرحدوں ،خطے کی صورتحال اور خصوصاً مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر ہیں ۔ مشرقی سرحد پر صورت حال تسلی بخش نہیں ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ چند دنوں میں مزید دس ہزار تازہ دم فوجی بھیجے اور گذشتہ ہفتے مزید 35 ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا گیا ۔ اور اطلاعات یہ ہیں کہ اس اعلان کے مطابق 35 ہزار فوجی مقبوضہ وادی میں پہنچ چکے ہیں ۔ جو جدید اسلحے اور ساز و سامان سے لیس ہیں ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی میں کوئی بڑی کاروائی کرنے والا ہے ۔ اس کی تصدیق متعدد کشمیری رہنماءوں نے اپنے بیانات میں بھی کی ہے ۔ دوسری طرف بھارت کی طرف سے پاک بھارت سرحد پر بھارت کی شرارتیں اور چھیڑچھاڑ جاری ہے ۔ بھارتی فوج سرحدسے ملحقہ سول آبادیوں کو بھاری ہتھیاروں سے روزانہ نشانہ بنا رہی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ پاک فوج کے بہادر جوان ان کی ہر شرارت کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں ۔ یہ بات نہایت قابل توجہ ہے کہ بھارت نے امریکی صدر کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کو دوسری بار بھی مسترد کر دیا ہے ۔ اس کے علاوہ بھارتی آئین میں مقبوضی کشمیر کو جو خصوصی حیثیت حاصل ہے اس کو بھی ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی کو بھارت کا حصہ بنایا چاہتا ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے کشمیری مسلمانوں کو مکمل طور پر یرغمال بنا لیا ہے ۔ وہاں کے کالجوں میں پڑھنے اور ہاسٹلوں میں رہنے والے طلبہء کو واپس گھروں کو جانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔ تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے ۔ تمام کاروباری مراکز اور دکانیں بند کرا دی گئی ہیں اور سیاحوں اور زائرین کو فوری طور پر مقبوضہ وادی سے نکل جانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ان تمام اقدامات کے دو واضح مقاصد ہیں ایک یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر عمل درآمد ہو نے والا ہے دوسرا یہ کہ بھارت مظلوم کشمیریوں کا قتل عام کرنے،نقص امن کے الزامات میں گرفتار کرنے اور ان کے گھروں اور دکانوں کو تباہ کرنے جیسے اقدامات کرنے جا رہا ہے ۔ یہ تما م صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے ۔ پاکستان نے اس سے اقوام متحدہ کو آگاہ کرنے کے لیئے خط بھی ارسال کر دیا ہے ۔ بھارت بلوچستان میں حالات کو خراب کرنے کی بھی کوششیں کر رہا ہے ۔ پاک افغان سرحد پر بھی بھارتی ایماء پر حملوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ یوں خطے میں صورتحال انہتائی تشویشناک ہے ۔ لیکن بہت دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سیاسی رہنماء ملک کے اندرونی اور بیرونی خطرناک صورتحال سے مکمل طور پر لا تعلق ہیں ۔ سینٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے لے کر اپوزیشن کے بعض ضمیر فروشوں تک کے معاملات سے عام آدمی کا کوئی تعلق ہے نہ کوئی فائدہ ہے ۔ ہارنے والے امیدوار نے تو حد کر دی ہے کہ اپنی شکست کی زمہ داری ایک اہم ادارے کے سربراہ پر ڈال دی ہے ۔ ان کے خیال میں اہم ادارے کے سربراہ اتنے فارغ ہیں اور یا ان کویا اس ادارے کو کوئی فائدہ ہوا ۔ کچھ تو خیال کرناچاہیئے ۔