Home » 2019 » August » 01

Daily Archives: August 1, 2019

50 لاکھ گھر بنانا آسان کام نہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 50 لاکھ گھر بنانا آسان کام نہیں تاہم معیشت کو چلانے کے لیے یہ اہم منصوبہ ہے۔

اسلام آباد میں نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام سےمتعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومتوں نے بہت لوٹ مار کی، ماضی کی لوٹ مار کی وجہ ملکی خزانے میں پیسے نہیں تاہم 50 لاکھ گھروں کا منصوبہ گوادر کے مچھیروں سے شروع کریں گے، لوگوں کی اکثریت پیسے نہ وجہ سے اپنے گھر نہیں بنا سکتے، چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ گھروں سے متعلق فوری کیس لگوائیں اور جو کیس 8،9 ماہ سے لٹکا ہے اسے سنیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں اس وقت سوا کروڑ گھروں کی قلت ہے، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا مقصد ون ونڈو آپریشن ہے، ہاؤسنگ اسکیم کے لیے مقامی وسائل استعمال ہوں گے، دنیا کی نسبت پاکستان میں بینک سب سے کم گھروں کے لیے پیسہ دیتے ہیں، ان لوگوں کو گھر بنانے کا موقع دیں گے جن کے پاس وسائل نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ گھروں کے لئے لوگوں کو آسان قسطوں پر پیسے دیں گے اور سود کم رکھیں گے، عدالت کی طرف سے اجازت کے بعد بینک قرضے دینا شروع کریں گے، کم تنخواہ دار طبقے کے لیے گھر بنانا آسان ہوجائے گا، معیشت کو چلانے کے لیے بھی یہ اہم منصوبہ ہے جب کہ کوئی بھی بڑا کام آسان نہیں ہوتا اور 50 لاکھ گھر بنانا بھی آسان کام نہیں۔

چیئرمین سینیٹ آج مستعفی ہوجائیں تو اچھا ہے، بلاول بھٹو زرداری

 اسلام آباد: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین سینیٹ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صادق سنجرانی آج استعفیٰ دے دیں تو اچھا ہے ورنہ کل تو ہمیں انہیں ہٹانا ہی ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ آج اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں ،اپوزیشن کے پاس چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے نمبرز زیادہ ہیں ۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ صادق سنجرانی کو پہلے مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں ، اچھا ہوگا کہ آج ہی چیئرمین سینیٹ استعفیٰ دے دیں ورنہ کل تو ہمیں انہیں ہٹانا ہی ہے۔

واضح رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پر کل بروز جمعرات خفیہ رائے شماری کی جائے گی۔

حکومت نے صادق سنجرانی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کررکھا ہے جب کہ اپوزیشن نے تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور تیاری کررکھی ہے

بھولے کے کردار سے شہرت پانے والے عمران اشرف کا مذاق کیوں اڑایا جاتا رہا ؟

کراچی: معرو ف ڈرامہ اداکار عمران اشرف کا کہنا ہے کہ آٹھ سالہ جدوجہد میں لوگ میرا مذاق اڑاتے تھے مجھے پاگل کہتے تھے۔

عمران اشرف نے بی بی سی ایشیا کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی جدو جہد سے متعلق بتایا کہ میرے نزدیک یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ ظاہری طور پر آپ کیسے دکھتے ہیں بلکہ کردار اہمیت رکھتا ہے اور میرے خیال میں ہر فنکار کو ایسی ہی سوچ رکھنی چاہئے۔

ایک سوال کے جواب پر عمران اشرف نے کہا کہ اداکاری ایک فن ہے اور اس فن میں کسی سکس پیک ،جھیل جیسی آنکھیں یا حسین بالوں کی ضرورت نہیں ہوتی اس لئے میں صرف ایک حقیقی فن کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور اس دوران میرے راستے جو آرہا ہے اگر اسے نقصان ہو رہا ہے تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔

عمران اشرف نے یہ بھی کہا کہ لوگ مجھ پر آٹھ سال تک ہنستے رہے اورکئی سال تک تو میں نے لوگوں کے مذاق ہی برداشت کئے کہ کیا ’’ تم پاگل ہو ‘‘ ، ’’چھوٹے معاون اداکار‘‘ ہو ۔ اس طرح کی باتیں سنی لیکن میرا خود پر یقین تھا کہ مجھے یہ کرنا ہے اور اس دوران میں اللہ سے مدد مانگتا رہا ،محنت کرتا رہا اور آج کامیاب ہوں۔

رنجھا رنجھا کے اداکار نے یہ بھی کہا کہ آج میں جس مقام پر ہوں اسے میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا ۔ یہاں تک کہ شائد میں ابھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بھی رو جاؤں لیکن میرے لئے ڈرامہ ’الف اللہ اور انسان‘  سنگ میل ثابت ہوا۔

میزبان کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ کیا  آپ کو ڈر تھا کہ خواجہ سرا کا کردار ادا کرنے کے بعد لوگ ہیرو کے طور پرنہیں دیکھیں گے جس پر اداکار نے جواب دیا کہ مجھے اللہ پر بہت یقین ہے اور دوسری بات یہ کہ اگر کسی گھر میں بچیں ہوں اور ان کے والد کسی بھی طرح کے دکھتے ہیں، بچوں کے لئے ان کا والد ہیرو ہی ہے۔ اسی طرح ہر گھر میں اور ہر کہانی میں ایک ہیرو ہوتا ہے تو ایک عام آدمی بھی ہیرو ہو سکتا ہے۔

اداکار نے یہ بھی کہا کہ ڈرامے کے دوران جب میں نے پہلی بار خواجہ سرا کے روپ میں خود کو دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ میں کیا کر رہا ہوں پھر میں نے سوچا کہ جو مجھے کرنا ہے وہ مشکلات کے بعد ہی ہوگا پھر میں نے سب کچھ بھول گیا اور کردار پر توجہ مرکوز کرلی جس کے بعد سے مجھے ڈراموں میں کاسٹ کیا جارہا ہے۔

روٹی اور نان کی بڑھتی قیمتیں ،پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کیا جائے

وطن عزیز میں قوم کا سب سے بڑا مسئلہ دو وقت کی روٹی ہے اور وہی روٹی اتنی مہنگی کردی گئی ہے کہ غریب کھانے سے پہلے سوچتا ہے کہ اگر ایک روٹی بھی زیادہ کھا لی تو اس کا بوجھ شاید اس کی جیب برداشت نہ کرسکے ۔ گزشتہ دنوں سے ملک بھر میں روٹی اور نان کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوگیا اور نان بائیوں نے اپنے اپنے ریٹ مقرر کردئیے ، صرف روٹی ہی مہنگی نہیں ہوئی اس کے ساتھ ہی چائے اور سالن کی قیمتیں بھی آسمان کو جا لگیں ۔ اسی پر شوروغوغا مچ رہا تھا کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے روٹی کی پرانی قیمت بحال کرنے کا حکم دیدیا، قوم نے یہ حکم سر آنکھو ں پر رکھ تو لیا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نان بائی بھی بڑی تیز ترار چیز ہیں اگر روٹی پرانی قیمت پر واپس آجاتی ہے تو وہ روٹی کا وزن کم کردیں گے جیسا کہ سب کے علم میں ہے کہ روٹی پکنے کے بعد 100 سے 115 گرام تک وزن میں ہوتی ہے ، نان بائی اس کا وزن کم کردیتے ہیں اور آٹے کا پیڑا چھوٹا کردیتے ہیں ۔ اب اس کو چیک کرنے کیلئے بھی حکومت کے پاس ایک میکنزم ہے مگر اس میں انتظامیہ کو متحرک ہونا پڑے گا، ڈیوٹی مجسٹریٹس ہیں ان کی ڈیوٹی لگانی چاہیے کہ وہ گاہے بگاہے تندوروں اور ہوٹلوں پر چھاپے ماریں ، ان کی روٹی کے وزن چیک کریں اور جس کا وزن کم نکلے اس کو جرمانہ عائد کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ وہ گندم کی قیمت پر بھی کنٹرول رکھے اور آٹا ارزاں نرخوں پر مارکیٹ میں دستیاب ہونا چاہیے اس کے ساتھ ساتھ سوئی گیس کے بلوں کی قیمتیں اور بجلی کے بلوں کو بھی کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے ،چیزیں سستی ہونا تو درکنار ابھی تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں میں اضافے کیلئے سمری گئی ہوئی ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9روپے اضافہ ہونے جارہا ہے اگر یہ اضافہ ہوگیا تو پھر آپ سوچ لیں کہ مہنگائی کہاں پہنچے گی لہذا ڈالر کو کنٹرول کرنا بھی وقت کی انتہائی ڈیمانڈ ہے ۔ وفاقی کابینہ نے قیدیوں کی حالت زار سے متعلق خصوصی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ،مستحق اور نادار قیدیوں کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائیگی ،کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اگست میں حکومت کو مستعفی ہونے کی دھمکی پر واضح کیا ہے کہ مدرسے کے بچوں کو سیاست کا ایندھن بنانے والوں کو عوام مسترد کر چکے ہیں ،مولانا فضل الرحمان کو منسٹر انکلیو میں گزارے گئے 15 سال کی بہاریں یاد آ رہی ہیں ، کرپشن میں سزا یافتہ اور منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار سیاسی قیدی نہیں قوم کے مجرم ہیں ، شہباز شریف کا رانا ثناء اللہ کےلئے فائیو اسٹار سہولتوں کا مطالبہ دیگر قیدیوں سے مذاق ہے،بلا تفریق قانون کا یکساں اطلاق عمل میں لایا جا رہا ہے، اب ادارے ظلِ سبحانی کی خواہشات کے نہیں آئین اور قانون کے تابع ہیں ، وزیراعظم عمران خان نے روٹی اور نان کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے پرانی قیمتیں بحال کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اجلاس میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات اور علی الصبح راولپنڈی میں طیارہ حادثے کے شہداء کیلئے فاتحہ کی گئی ۔ معاون خصوصی نے کہاکہ نیشنل سیفٹی روڈ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے،نیشنل سیفٹی کا مقصد ہائی وے پر ہونیوالے حادثات میں کمی لانا ہے ۔ کابینہ نے کراچی میں حالیہ بارشوں سے ہونیوالی تباہی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، بارشوں سے شہریوں کے جانی اور مالی نقصان کے ازالے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ راولپنڈی ،اسلام آباد کی سوساءٹیوں کو تمام سہولیات کی فراہمی کے بعد این او سی جاری کیا جائیگا، کرپشن میں سزا یافتہ اور منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار سیاسی قیدی نہیں قوم کے مجرم ہیں ، بلا تفریق قانون کا یکساں اطلاق عمل میں لایا جا رہا ہے، اب ادارے ظلِ سبحانی کی خواہشات کے نہیں آئین اور قانون کے تابع ہیں ۔

نیشنل ایکشن پروگرام پر تیزی عملدرآمد کی ضرورت

ملک میں دہشت گرد پھر سر اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں کوءٹہ بم دھماکہ اس کی واضح نشاندہی ہے ، یقینی طورپر اس دہشت گردی میں سرحد پار قوتیں شامل ہوں گی لیکن ہمارے قانون نافذ کرنے والوں کو الرٹ ہونا پڑے گا اور نیشنل ایکشن پلان پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی بیخ کنی کی جائے ۔ نیز ان کے سہولت کاروں کو بھی کیفرکردار تک پہنچانے کی ضرورت ہے ۔ گزشتہ روز راولپنڈی کے علاقے موہڑہ کالو کے قریب پاکستان ;200;رمی ایوی ایشن کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 2 پائلٹ اور عملے کے 3 ارکان سمیت 18 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوگئے،پاک ;200;رمی کی نگرانی میں ریسکیو ;200;پریشن مکمل کیا،صدر مملکت عارف علوی ، وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر سیاسی رہنماوں نے طیارہ حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کےلئے دعا کی ہے ۔ طیارہ حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہے، پوری قوم صدمے میں ہے ۔ طیارے میں شہید پائلٹس اوردیگر عملے کی نماز جنازہ چکلالہ گیرژن راولپنڈی میں ادا کی گئی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی ۔ اُدھرکوءٹہ کے علاقے لیاقت بازار میں میزان چوک پر سٹی تھانے کے قریب ایڈیشنل ایس ایچ او سٹی تھانہ شفاعت مرزا پولیس موبائل میں گشت کر رہے تھے کہ ان کی گاڑی کے قریب موٹرسائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتےجے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد شہید جبکہ بچوں اور خاتون سمیت 32افراد زخمی ہوگئے ، دھماکے کی شد ت سے قرےبی عمارتوں ،دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ متعدد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا ،سیکورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے شواہد اکٹھے کرلئے جبکہ کوءٹہ شہر کی سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ۔

پاکستان کی سفارتی محاذ پر فتح، بھارت کو دردِ قولنج

پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر جس طرح سفارتی محاذ پر کامیابی حاصل کی ہے اس کا بھارت کو انتہائی درد قولنج ہے اور وہ آب بے ماہی کی طرح تڑپ رہا ہے اس کو برداشت نہیں ہورہا کہ پاکستان کس طرح بین الاقوامی سطح پر ایک ترقی یافتہ اور باعزت ملک کی حیثیت سے ابھرتا جارہا ہے اور خطے میں امن کا داعی بھی ہے اسی وجہ سے بھارت آئے دن خطے کا امن و امان تہہ و بالا کرنے کے درپے رہتا ہے ۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے اور کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی فوج شہری آبادیو ں کو نشانہ بنانے سے باز نہیں آرہی، گزشتہ روز ایل او سی سیکٹرز پر سیز فائر کی ایک بار پھر خلاف ورزی کی ہے اور اشتعال انگیزی کرتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید اور خواتین و بچوں سمیت9افراد کو شدید زخمی کردیا ۔ بھارتی فوج نے لائن ;200;ف کنٹرول اور شہری آبادی پر جان بوجھ کر فائرنگ کی، بھارتی فوج کی جانب سے دنا، جوڑا، لیپا، شاردا، دھدنیال کی شہری آبادی پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی ۔ اس کے علاوہ بھارتی فوج نے مارٹر گولوں اور آرٹلری کا بھاری استعمال کیا، پاک فوج کی جانب سے بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا ۔ بھرپور جوابی کارروائی میں بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا، اور3بھارتی فوجی ہلاک اور کئی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔

ایل او سی پر بھارتی جارحیت مقبوضہ کشمیر میں ناکامی کا ثبوت ہے، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ناکامی پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے جس کا اظہار وہ کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے کررہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے سیز فائر کی بڑھتی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر میں اس کی ناکامی پر بوکھلاہٹ کا اظہار ہے، بھارت عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج بھارت کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا مؤثر جواب دے رہی ہے اور کنٹرول لائن کے ساتھ مقیم شہری آبادی کے تحفظ کیلئے ہر قدم اٹھائے گی۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ رواں ماہ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے خواتین اور بچوں سمیت متعدد عام شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

بھارتی حکومت کانئی مسلح تنظیم قائم کرنے کا منصوبہ

مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے میں ناکامی کے بعد بھارتی حکومت نے وادی میں کشمیری پنڈتوں پر مشتمل ایک نئی مسلح تنظیم قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو علاقے میں ہندووَں کے 30 مقدس مقامات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ کرے گی ۔ یہ فورس پلگام، بارہ مولہ، تاوَمل، اننت ناگ، ویری ناگ کے علاوہ دیگر علاقوں میں کام کرے گی ۔ اس فورس کو مقبوضہ کشمیر میں قائم بھارتی چھاوَنیوں میں مسلح تربیت دی جائے گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں معصوم ، نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے کےلئے بھارتی فوج کیا کم تھی جو ایک نئی مسلح پنڈت فورس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے ۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کےلئے پہلے سے موجود آٹھ لاکھ فوج میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ سال کے وسط سے اب تک وادی میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 70 سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔ بھارتی فوج کی طرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو کوریج دینے کےلئے میڈیا پر مکمل پابندی ہے ۔ کشمیریوں کو نماز جمعہ اور دیگر نمازوں کےلئے مسجد جانے سے روکا جاتا ہے حتیٰ کہ سال میں دو عیدین بھی سنگینوں کے سائے میں پڑھی جاتی ہیں ۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی نے جو نیا رخ اختیار کیا ہے وہ پوری دنیا میں توجہ کا مستحق ہے ۔ بھارت جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اسی لئے وہ کشمیری عوام پر اپنا جابرانہ تسلط برقرار رکھنے کےلئے ہر قسم کے غیر قانونی و غیر انسانی حربے استعمال کر رہا ہے ۔ بھارتی قیادت کا یہ طرزعمل نیا نہیں ۔ جب بھارتی لیڈر اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں تو پھر کشمیر سمیت تمام مسائل پر جامع مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ اگر جموں و کشمیر واقعی بھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو اب تک وہاں کی عوام نے اس کو قبول کیوں نہیں کیا ۔ کشمیر جیسی صورتحال بھارت کی کسی اور صوبے میں کیوں نہیں ;238; یہ حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہ تھا اور نہ بن سکتا ہے ۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ہی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا اور جب اس عالمی ادارے نے کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار کشمیریوں کو دے دیا تو انہوں نے اسے تسلیم کیا لیکن کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ مستحکم کرنے کی کارروائی بھی جاری رکھی ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں نصف صدی گذر جانے کے بعد بھی برقرار ہیں ۔ بھارت نے ابتداء میں تو ان قراردادوں پر عمل کرنے کا وعدہ کیا مگر بعد میں مکر گیا اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے لگا ۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ آج بھی پاکستان اور بھارت اپنے وسائل کا زیادہ تر حصہ دفاع پر خرچ کر رہے ہیں ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے مسئلہ کشمیر کو حکومت ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے کروڑوں عوام کی معاشی بدحالی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں ممالک کوسالانہ اربوں روپے اپنے دفاعی اخراجات پر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں ۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 19لاکھ کروڑروپے کے قریب ہے اور تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ بھارت میں 45 فیصدبچے خوراک کی کمی کے شکار ہیں ۔ بھارت کی سول سوساءٹی ، پالیسی ساز اداروں اور دانشوروں کو حقائق سے چشم پوشی کے بجائے یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہے کہ مسئلہ کشمیر کے ہوتے ہندوستان کے عوام معاشی بدحالی کے دلدل سے نہیں نکل سکتے ۔ طاقت کے بل پر کسی قوم کے جذبات کو زیادہ دیر نہیں دبایا جا سکتا اور بھارت کو چاہئے کہ دور اندیشی اور عقل سے کام لیتے ہوئے پاکستان اور کشمیری آزادی پسند قیادت کے ساتھ بامعنی مذاکرت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششوں کا آغاز کریں ۔ گوکہ پاکستان اس وقت اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہے مگر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے وعدے اوراپنی ذمہ داریوں کو پس پشت نہیں ڈال سکتا ۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کے پیچھے پاکستانی ہاتھ کا واویلا کر کے بھارت سمجھتا ہے کہ دنیا کو اس بارے یقین دلادے گا مگر دنیا کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں ۔ اسی تناظر میں بھارتی فوج کے سربراہ نے سرحد پار دراندازی کو متواتر چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار عسکریت پسندی کا ڈھانچہ بدستور منظم اور متحرک ہے اور تقریباً 42تربیتی کیمپوں میں مجاہدین کو ہتھیاروں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے ۔ پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں موجود تربیتی کیمپوں میں جنگجوءوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت فراہم کی جارہی ہے اور سرحدوں پر برف پگھلنے کے ساتھ ہی تربیت ہافتہ جنگجوءوں کو بھارتی حدود بالخصوص جموں و کشمیر میں دھکیلنے کی ایک بار پھر کوششیں کی جاسکتی ہیں ۔ ہماری حکومت کئی بار بھارت کو یقین دلانے کی کوشش کرچکی ہے کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کوئی مداخلت نہیں کی جا رہی اگر بھارت کو شبہ ہے تو کنٹرول لائن پر غیر جانبدار مبصرین تعینات کئے جا سکتے ہیں لیکن بھارتی حکومت یہ تجویز قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ دنیا کا ہر باشعور فرد اس سے بخوبی اندازہ کر سکتاہے کہ بھارتی لیڈر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کےلئے مخلص نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کشمیر کو آزادی دینا چاہتے ہیں ۔

اگر ناشتہ نہیں کرتے تو ان امراض کے لیے تیار ہوجائیں

کہا جاتا ہے کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم غذا ہے جسے کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہیے۔

درحقیقت بیشتر طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ ناشتہ ممکنہ طور پر دن کا اہم ترین کھانا ہوتا ہے مگر اس صورت میں جب آپ کچھ اصولوں پر عمل کریں۔

تو کیا آپ اکثر ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ صحت کے لیے تباہ کن عادت ہے جو متعدد طبی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ناشتہ عام طور پر 10 سے 12 گھنٹے کے فاقے کے بعد ہوتا ہے اور اگر آپ اسے چھوڑ دیتے ہیں تو مختلف مسائل کا سامنا مختصر یا طویل المدت میں ہوسکتا ہے۔

تاہم یہ جان لینا بہتر ہے کہ اگر آپ اکثر ناشتہ نہیں کرتے تو جسم پر یہ عادت کیا اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

موٹاپے کا امکان

اگر آپ بڑھتے وزن سے پریشان اور اس وجہ سے صبح کی پہلی غذا چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ موٹاپے سے بچ سکیں، تو یہ ایک غلطی فہمی سے زیادہ نہیں۔ ایسی متعدد طبی تحقیقی رپورٹس سامنے آچکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ناشتہ کرنے کی عادت صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ دیگر اوقات میں لاشعوری طور پر حد سے زیادہ کھالیتے ہیں۔

آدھے سر کا درد

ناشتہ چھوڑنا جسم میں شوگر لیول کو بہت زیادہ کم کردیتا ہے جس کے باعث گلوکوز کی سطح بھی گر جاتی ہے۔ یہ نہ صرف بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے بلکہ اس سے آدھے سر کے درد کی تکلیف بھی لاحق ہوجاتی ہے۔

ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے

ایک تحقیق میں دریافت کیا تھا کہ جو مرد ناشتہ نہیں کرتے، ان میں ناشتہ کرنے والوں کے مقابلے میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 27 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، درحقیقت جو لوگ روزانہ ناشتہ کرتے ہیں ان میں امراض قلب کا باعث بننے والے عناصر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ناشتہ چھوڑنا فشار خون یا بلڈ پریشر میں اضافے، بلڈ شوگر بڑھانے اور انسولین کی مزاحمت کا باعث بنتا ہے۔

جسمانی توانائی میں کمی

ناشتہ چھوڑنا روزانہ کا معمول بن جائے تو صبح کے وقت جسم زیادہ سستی محسوس کرنے لگتا ہے کیونکہ اسے اعضا کے افعال کے لیے ایندھن میسر نہیں ہوتا، یعنی صبح کی پہلی غذا جسمانی سرگرمیوں کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔

ذیابیطس

ناشتہ نہ کرنے کی عادت ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے خطرناک مرض کا خطرہ ایک تہائی حد تک بڑھادیتی ہے۔ جرمن ڈائیبیٹس سینٹر کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ صبح کی پہلی غذا کو جزو بدن نہ بنانا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار بننے کا امکان 33 فیصد بڑھا دیتا ہے۔ اور یہ صرف ان افراد کے لیے ہے جو کبھی کبھار ایسا کرتے ہیں۔ ایسے افراد جو ہفتے میں کم از کم 4 دن ناشتہ نہیں کرتے، ان میں یہ خطرہ ناشتے کرنے والوں کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ محققین کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے، وہ دن میں ناقص غذا کا زیادہ استعمال کرسکتے ہیں۔

بالوں سے محرومی

ناشتہ دن کی اہم ترین غذا ہے جو بالوں کی جڑوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کم پروٹین والی غذا کا استعمال بالوں کی نشوونما کے لیے ضروری عناصر پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے جس سے بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں اور گنج پن کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

سانس کی بو

ناشتہ نہ کرنا صرف صحت کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ سماجی زندگی پر بھی اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ اس عادت کے نتیجے میں سانس میں بو جیسے مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناشتہ نہ کرنے سے لعاب دہن بننے کا عمل متحرک نہیں ہوپاتا، جس سے زبان پر بیکٹریا کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جو اس مسئلے کا باعث بنتا ہے۔

ذہنی تناﺅ اور چڑچڑا پن

ناشتہ نہ کرنے یا طویل وقت تک بھوکے رہنے سے مزاج بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا مزاج دن کی پہلی غذا سے دوری اختیار کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار ہوتا ہے۔ ناشتہ نہ کرنے سے بلڈشوگر لیول بھی گرتا ہے جو کہ چڑچڑے پن کا باعث بنتا ہے۔دوسری جانب ایک تحقیق کے مطابق ناشتہ نہ کرنے پر جسم میں تناﺅ بڑھانے والے ہارمون کورٹیسول کا اخراج بڑھتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ناشتہ نہ کرنا جسم کے لیے پرتناﺅ ایونٹ ہوتا ہے۔ جسم میں کورٹیسول کی مقدار میں اضافے سے متعدد منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جیسے جسمانی وزن بڑھنا، جسمانی دفاعی نظام کمزور ہونا، مختلف امراض کا خطرہ بڑھنا اور بلڈ شوگر لیول میں عدم توازن وغیرہ۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

پاکستان میں سام سنگ گلیکسی اے سیریز کے فونزکی قیمتوں میں کمی

سام سنگ نے پاکستان میں گلیکسی اے سیریز کے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی کردی ہے۔

واٹ موبائل کی ایک رپورٹ کے مطابق سام سنگ کی جانب سے گلیکسی اے سیریز کے 6 فونز کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سام سنگ دنیا میں سب سے زیادہ اسمارٹ فونز فروخت کرنے والی کمپنی ہے اور پاکستان میں بھی اس کی ڈیوائسز کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

سام سنگ کی جانب سے گلیکسی اے 10، اے 20، اے 30، اے 50، اے 70 اور اے 80 کی قیمتوں میں ڈیڑھ ہزار سے 5 ہزار روپے تک کی کمی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گلیکسی اے 10، اے 30 اور اے 50 کو رواں سال مارچ میں پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا، گلیکسی اے 20 اور اے 70 اپریل میں متعارف ہوئے تھے جبکہ اے 80 رواں ماہ ہی صارفین کو دستیاب ہوا۔

سام سنگ گلیکسی اے 10 اس سیریز کا سب سے کم قیمت فون ہے جس کی قیمت اب ڈیڑھ ہزار روپے کمی سے 23 ہزار 500 روپے کی بجائے 21 ہزار 999 روپے کردی گئی ہے۔

اسی طرح گلیکسی اے 20 کی قیمت بھی 1500 روپے کمی سے 31 ہزار 500 روپے سے کم ہوکر 29 ہزار 999 روپے ہوگئی ہے۔

گلیکسی اے 30 کی قیمت میں 3 ہزار روپے کی کمی کی گئی ہے جو اب 40 ہزار 999 روپے کی بجائے 37 ہزار 999 روپے میں فروخت کیا جائے گا۔

گلیکسی اے 50 کی قیمت 54 ہزار 999 روپے سے کم کرکے 51 ہزار 999 روپے جبکہ گلیکسی اے 70 کی قیمت 67 ہزار 999 روپے کی جگہ 64 ہزار 999 روپے کردی گئی ہے۔

سب سے زیادہ کمی گلیکسی اے 80 کی قیمت میں کی گئی ہے جو ایک لاکھ 19 ہزار 999 روپے میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا، مگر اب 5 ہزار روپے کمی سے ایک لاکھ 14 ہزار 999 روپے میں فروخت کیا جائے گا۔

Google Analytics Alternative