Home » 2019 » August » 02

Daily Archives: August 2, 2019

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحاریک عدم اعتماد ناکام

 اسلام آباد: سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف حکومت کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئیں۔

پریذائیڈنگ افسر بیرسٹر محمد علی سیف کی زیر صدارت ایوان بالا کا اجلاس ہوا۔ قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق نے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک پیش کی۔ 64 ارکان نے نشستوں سے کھڑے ہوکر قرارداد پیش کرنے کی حمایت کی جس پر بیرسٹر محمد علی سیف نے تحریک پر رائے شماری کی منظوری دے دی۔

سینیٹر حافظ عبدالکریم نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا اور 104 سینیٹرز میں سے 100 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے۔ جماعت اسلامی کے دو اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، (ن) لیگ کے چوہدری تنویر نے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور اسحاق ڈار نے تاحال سینیٹ کا حلف ہی نہیں اٹھایا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی اور حکومت کی جانب سے نعمان وزیر کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا گیا، رائے شماری خفیہ طریقے سے کرائی گئی اور 100 اراکین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جن میں سے 5 ووٹ مسترد ہوگئے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلیے اپوزیشن کو 53 ارکان کی ضرورت تھی لیکن اسے 50 ووٹ ملے۔ دوسری جانب صادق سنجرانی کے حق میں 45 ووٹ ڈالے گئے۔

اس طرح چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی اور اپوزیشن اتحاد سینیٹ میں عددی اکثریت ہونے کے باوجود چیئرمین کو ہٹانے میں ناکام ہوگیا۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔

اپوزیشن کے 9 ووٹ صادق سنجرانی کو ملے

سینیٹ میں حکومتی اور اتحادی ارکان کی تعداد 36 ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے 9 ارکان نے صادق سنجرانی کو ووٹ دیا۔

ووٹنگ کے دوران جماعت اسلامی کے سراج الحق اور سینیٹر مشتاق احمد جبکہ ن لیگ کے چوہدری تنویر ایوان سے غیر حاضر رہے۔ جماعت اسلامی نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا تھا۔

ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کیخلاف تحریک عدم اعتماد 

چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف ووٹنگ کے بعد قائد ایوان شبلی فراز نے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کو ہٹانے کےلیے تحریک عدم اعتماد پیش کی۔

اپوزیشن نے ڈپٹی چیئرمین کیخلاف ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے رائے شماری میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اور ووٹ نہیں ڈالے، لیکن اس فیصلے کے خلاف 5 اپوزیشن اراکین نے ووٹ کاسٹ کیا جن میں پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا، روبینہ خالد، محمد علی جاموٹ اور قراۃ العین مری جبکہ ن لیگ کے ساجد میر شامل تھے۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلیے حکومت کو بھی 53 ارکان کی ضرورت تھی لیکن اسے 32 ووٹ ملے۔ اس طرح ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ دونوں اپنے عہدے پر برقرار رہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس ہوا ہے ۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر  نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کے دورہ امریکا میں طے پائے گئے امور کا جائزہ لیا گیا جب کہ وزیراعظم کے دورہ امریکا کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جب کہ وزیراعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کے خطے میں امن کیلئے وژن کی تعریف  کی۔

سینیٹ نے قیدی کی کرپشن کا بیانیہ مسترد کردیا، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد: معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ سینیٹ نے قیدی کی کرپشن کے بیانیے کو مسترد کردیا ہے۔

معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ سینیٹ نے قیدی کی کرپشن کے بیانیے کو مسترد کردیا ہے، اپوزیشن کے اپنے ہی ارکان نے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کردیا، جیل میں بیٹھے کرپٹ ٹولے نے کبھی پاکستان کو قبول نہیں کیا، آج پھر پاکستان اور قومی بیانیہ جیتا ہے، اپوزیشن کا بہانہ کوئی اور تھا، نشانہ کوئی اور تھا۔

معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ سینیٹ عوام کی طاقت کا سرچشمہ ہے جس کو ذاتی مفاد کے لیے یرغمال بنانے کی کوشش کی جارہی تھی، اپوزیشن پے درپے شکست کھاکر بھی سمجھ نہیں رہی ہے جب کہ ادارے مضبوط ہوں گے توسینیٹ مضبوط ہوگی۔

معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اپوزیشن کے اپنے ہی ارکان نے انتشار کی سیاست کو مسترد کردیا، سینیٹ ارکان نے ثابت کردیا کہ وہ جیل سے ڈوریاں ہلانے والوں کے اشاروں پر نہیں چلیں گے، سینیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان عمران خان کی قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے اور بڑھتا رہے گا، وزیراعظم عمران خان عوام کا درد اور احساس رکھتے ہیں جب کہ تحریک انصاف کی حکومت 18 اگست کو تعمیر پاکستان کا ایجنڈا دے گی۔

پاکستان نے بھارت کو کلبھوشن یادیو تک باقاعدہ قونصلر رسائی کی پیشکش کر دی

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کو کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کی باضابطہ طور پر پیشکش کر دی ہے۔

دفتر خارجہ اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ محمد فیصل نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کو قونصلررسائی دینے پر کام ہو رہا ہے ،اس سلسلے میں عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ بھارت کو قونصلررسائی سے متعلق جمعہ کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ سہولت کار کا کردار ادا کر رہاہے، پاکستان کے افغانستان مفاہمتی عمل میں مثبت کردار کی بین الاقومی برادری نے تعریف کی، طالبان کے ساتھ وزیراعظم کے مذاکرات پر کام ہو رہا ہے۔

امریکی صدر کے ممکنہ دورہ پاکستان سے متعلق ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ پاکستان پر کام ہو رہا ہے تاہم حتمی تاریخ کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اکشے کمار کا معاوضہ 6 اداکاراؤں سے بھی زیادہ

بولی وڈ میں گزشتہ چند سال سے فلمیں 100 کروڑ سے زائد کی کمائی کرنے لگی ہیں اور اسی وجہ سے اداکاروں نے بھی اپنی فیس دگنی کردی ہیں۔

بولی وڈ میں جہاں ہیروز 20 سے 50 کروڑ روپے تک ایک فلم کا معاوضہ لیتے ہیں، وہیں کچھ اداکار فلم کی کمائی میں بھی حصے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بولی وڈ خانز یعنی عامر، سلمان اور شاہ رخ خان جہاں اداکاری کی فیس لیتے ہیں، وہیں وہ فلموں کی کمائی سے بھی اپنا ایک مخصوص حصہ لیتے ہیں اور اب ان کے نقش قدم پر دیگر ہیروز بھی چل پڑے ہیں۔

جہاں کچھ دن قبل خبر سامنے آئی تھی کہ شاہد کپور نے اپنی فلم ’کبیر سنگھ‘ کی کامیابی کے بعد اپنی فیس بڑھا کر 34 کروڑ روپے کردی ہے۔

وہیں اب بولی وڈ کھلاڑی اکشے کمار کی فیس کے حوالے سے حیران کن خبر سامنے آئی ہے۔

رپورٹس ہیں کہ اکشے کمار نے ایک فلم میں کام کرنے کا معاوضہ بڑھا کر 54 کروڑ روپے کردیا ہے اور ان کی یہ فیس مجموعی طور پر بولی وڈ کی 6 بڑی اداکاراؤں سے بھی زیادہ ہے۔

انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں ایک اور بھارتی اخبار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اکشے کمار نے فلم میں کام کرنے کی فیس بڑھاتےہوئے 54 کروڑ روپے کردی۔

اگرچہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اکشے کمار اپنی آنے والی کن کن فلموں میں اتنی فیس لے رہے ہیں، تاہم دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے فلموں کی کامیابی کے بعد اپنی فیس میں اضافہ کردیا۔

گزشتہ 2 سے 3 سال کے دوران اکشے کمار کی فلمیں کامیاب جا رہی ہیں اور وہ اب ایکشن فلموں میں کام کرنے کے بجائے ’ٹوائلٹ: ایک پریم کتھا‘ اور ’پیڈ مین‘ جیسی سماجی مسائل پر بنی فلموں میں دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایک کے بعد ایک کامیاب فلم دینے کے بعد اکشے کمار نے اپنی فیس بڑھا کر 54 کروڑ روپے کردی۔

رپورٹس کے مطابق 2012 تک اکشے کمار کی فیس 12 کروڑ روپے ہوتی تھی، تاہم گزشتہ چند سال میں ان کی فلمیں مسلسل کامیاب گئی ہیں، جس وجہ سے انہوں نے اپنی فیس بڑھادی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکشے کمار کی جانب سے فیس بڑھائی جانے کی وجہ سے ہی وہ امریکی اقتصادی جریدے فوربز کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی 100 عالمی شخصیات میں شامل ہوئے۔

اکشے کمار سب سے زیادہ کمائی کرنے والی دنیا کی 100 شخصیات میں فوربز کی فہرست میں 33 ویں نمبر پر تھے اور ان کی سالانہ کمائی 7 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ تھی۔

اکشے کمار سب سے زیادہ کمائی کرنے والی 100 شخصیات میں واحد بھارتی شخص تھے۔

اگر یہ رپورٹس درست ہیں کہ اکشے کمار ایک فلم کا معاوضہ 54 کروڑ روپے لے رہے ہیں تو ان کی فیس مجموعی طور پر بولی وڈ کی ٹاپ اداکاراؤں سے زیادہ ہے۔

رپورٹس ہیں کہ اس وقت پریانکا چوپڑا، دپیکا پڈوکون، کرینہ کپور، کترینہ کیف، سونم کپور، انوشکا شرما جیسی اداکارائیں بھی 9 سے 14 کروڑ روپے کا معاوضہ لے رہی ہیں۔

سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارائیں دپیکا پڈوکون، پریانکا چوپڑا اور کرینہ کپور ہیں جو 12 سے 14 کروڑ روپے کے درمیان معاوضہ لیتی ہیں۔

بولی وڈ کی ان سپر اسٹار اداکاراؤں کا زیادہ سے زیادہ مجموعی معاوضہ 70 کروڑ بنتا ہے، تاہم عام طور پر ان اداکارائوں کا معاوضہ 45 سے 50 کروڑ روپے بنتا ہے جو اکشے کمار کی ایک فلم کے معاوضے سے بھی کم ہے۔

حکومت عوام کو چھت فراہم کرنے کیلئے پرعزم

چھت کا میسر آنا ملک میں ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے، یہ ایک ایسی ضرورت ہے اگر میسر آجائے تو دیگر ضروریات کسی نہ کسی صورت میں پوری ہوجاتی ہیں ۔ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے تندہی سے گامزن ہے اور وزیراعظم کا وژن ہے کہ بے گھر افراد کو چھت فراہم کی جائے ۔ اس کیلئے دن رات تگ و دو سے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کام کیا جارہا ہے ۔ اسی سلسلے میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ لوگوں کو گھروں کیلئے آسان اقساط پر کم شرح سود پر قرضے دیں گے تاکہ وہ اپنی چھت بنا سکیں اور حکومت اس میں تعاون کرے گی ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 50 لاکھ گھر بنانا ;200;سان کام نہیں تاہم معیشت کو چلانے کے لیے یہ اہم منصوبہ ہے،گزشتہ حکومتوں نے بہت لوٹ مار کی،50 لاکھ گھروں کا منصوبہ گوادر کے مچھیروں سے شروع کریں گے، لوگوں کی اکثریت پیسے نہ وجہ سے اپنے گھر نہیں بنا سکتے، چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ گھروں سے متعلق فوری کیس لگوائیں اور جو کیس 8،9 ماہ سے لٹکا ہے اسے سنیں ۔ اسلام آباد میں نیا پاکستان ہاءوسنگ پروگرام سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومتوں نے بہت لوٹ مار کی، ماضی کی لوٹ مار کی وجہ ملکی خزانے میں پیسے نہیں ، لوگوں کی اکثریت پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اپنے گھر نہیں بنا سکتی، چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ گھروں سے متعلق فوری کیس لگوائیں اور جو کیس 8،9 ماہ سے لٹکا ہے اسے سنیں ۔ ملک میں اس وقت سوا کروڑ گھروں کی قلت ہے، نیا پاکستان ہاسنگ اسکیم کا مقصد ون ونڈو ;200;پریشن ہے، ہاءوسنگ اسکیم کے لیے مقامی وسائل استعمال ہوں گے، دنیا کی نسبت پاکستان میں بینک سب سے کم گھروں کے لیے پیسہ دیتے ہیں ، ان لوگوں کو گھر بنانے کا موقع دیں گے جن کے پاس وسائل نہیں ۔ گھروں کے لئے لوگوں کو ;200;سان قسطوں پر پیسے دیں گے اور سود کم رکھیں گے، عدالت کی طرف سے اجازت کے بعد بینک قرضے دینا شروع کریں گے، کم تنخواہ دار طبقے کے لیے گھر بنانا ;200;سان ہوجائے گا، معیشت کو چلانے کے لیے بھی یہ اہم منصوبہ ہے ،نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبہ موجودہ حکومت کا اہم ترین منصوبہ ہے جس سے نہ صرف ملک میں بے گھر افراد کو ذاتی چھت میسر ;200;ئے گی اور مکانوں کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس منصوبے سے تعمیرات سے وابستہ صنعتوں کو فروغ ملے گا، نوجوانوں اور ہنر مند کو نوکریوں کے مواقع میسر ;200;ئیں گے اور معیشت کا پہیہ چلے گا ۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس بھی ہوا ۔ وزیرِ اعظم کو نیا پاکستان ہاءوسنگ پراجیکٹ پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبہ موجودہ حکومت کا اہم ترین منصوبہ ہے جس سے نہ صرف ملک میں بے گھر افراد کو ذاتی چھت میسر ;200;ئے گی اور مکانوں کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس منصوبے سے تعمیرات سے وابستہ صنعتوں کو فروغ ملے گا، نوجوانوں اور ہنر مند کو نوکریوں کے مواقع میسر ;200;ئیں گے اور معیشت کا پہیہ چلے گا، حکومت کی کوشش ہے کہ کم ;200;مدنی والے افراد اور تنخواہ دار طبقے کو ;200;سان شرائط پر گھر کی سہولت میسر ;200;ئے ۔

عید سے قبل مہنگائی ;224224224;!

عید کی آمد سے قبل ہی حکومت کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام کو مزید پریشانیوں کی اتہاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے پہلے ہی اتنی مہنگائی تھی کہ زندگی اجیرن ہوچکی تھی اب رہی سہی کسر اس وقت پوری ہوگئی جب پٹرول 5روپے 15 پیسے اور ڈیزل 5 روپے 65 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں بھی دو روپے کلو اضافہ کردیا گیا ہے ۔ اب عوام سفر کرنے سے بھی معزور اور ایل پی جی کے استعمال سے بھی مزید پریشانی کا شکار ہو گی ۔ پٹرول لگ بھگ 118 روپے فی لیٹر ہوچکا ہے مسئلہ گاڑی والے کا نہیں اس غریب کا ہے جو بے چارہ موٹرسائیکل پر سفر کرتا ہے اگر وہ ایک لیٹر 118 روپے میں ڈلوائے گا تو وہ کس طرح سفر کرسکے گا جو پیسے پٹرول میں پھونکے گا اس سے تو اس نے اپنے بچوں کا پیٹ بھرنا تھا اب کیونکر ممکن ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور نان نفقہ پورا کرسکے ۔ حکومت کو چاہیے کہ جو اس نے حکمرانی میں آنے سے پہلے وعدے وعید کیے تھے انہیں پورا کرے نہ کہ عوام کو مہنگائی کی چکی میں جھونکتی رہے ۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا، اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھیجی گئی تھی، نئی قیمتوں کا اطلاق فوی ہوگیا ۔ حکومت نے عوام پر پیٹرول بم گراتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر اضافہ کردیا ۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 117;46;83 پیسے ہوگئی ہے ۔ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 65 پیسے اضافے کی منظوری دی گئی ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 13247 روپے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے ۔ لاءٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 8 روپے 90 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، لاءٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 90;46;52 ہوگئی ہے جبکہ مٹی کے ٹیل کی قیمت میں 5 روپے 38 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا ۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جون میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اوگرا نے 28 جون کو پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے حوالے سے سمری پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کی تھی، جس میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 77 پیسے کم کرنے کی تجویز دی گئی تھی ۔

کامیابی کیلئے شارٹ کٹ تلاش نہ کیا جائے

وہ قو میں کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتیں جو شارٹ کٹ کو پسند کرتی ہیں ، شارٹ کٹ راستہ تلاش کرنے سے منزل کا حصول قریب نہیں بلکہ دور ہو جاتا ہے اور اگر کوئی منزل پر پہنچ بھی جائے تو اس کی مثبت نتاءج برآمد نہیں ہوتے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ پاکستان کے نوجوان باصلاحیت ہیں اور ملک کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے انٹرن شپ پروگرام میں شریک نوجوانوں سے ملاقات کی ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوجوانوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو متحرک اور ذہین نوجوانوں سے نوازا ہے، وہ با صلاحیت بھی ہیں اور ملک کا مستقبل ان سے وابستہ ہے ۔ امید ہے نوجوان اپنا کردارادا کرتے ہوئے ملک کو خوشحالی اور ترقی کی راہ پر ڈھالیں گے ۔ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ، پاکستانی قوم اور مسلح افواج نے چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کیا اس سلسلے میں نوجوان نسل نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ۔ نوجوان خود پر اعتماد کریں ، میرٹ پر قائم رہیں ، قانون کی حکمرانی کی پیروی کریں اور کامیابی کیلئے زندگی میں شارٹ کٹ تلاش نہ کریں ۔

بھارتی جنرل کا کارگل میں اعتراف شکست

کارگل جنگ کنٹرول لائن پر ہونےوالی ایک محدود جنگ تھی جو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 1999ء میں لڑی گئی ۔ اس جنگ میں واضح کامیابی توکسی کے بھی حصہ میں نہ آسکی لیکن پاکستانی فوج نے بھارت کے تین لڑاکا جہاز مار گرے اس کے علاوہ بھارتی فوج کارگل سیکٹر میں توازن کھو بیٹھی اور 700 سے زائد فوجی ہلاک کر دیے اس جنگ میں بھارت کو برا جھٹکا لگا ۔ کارگل جنگ میں فارمیشن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ کشن پال نے اعتراف کیا کہ 1999 میں کارگل جنگ میں 527 فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئیں گو کہ بھارت نے علاقہ واپس حاصل کر لیا تھا لیکن میرے خیال میں جنگ میں اتنی جانیں ضائع ہونے کو کامیابی نہیں کہا جاسکتا ۔ جنگ میں بھارت نہ صرف میدان جنگ میں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی ناکام رہا ۔ جنرل پال نے یہ بھی کہا کہ جب کارگل میں دراندازی کا پتہ چلا تو فوج پر انہیں پسپا کرنے کےلئے زبردست سیاسی دباوَ تھا ۔ جنرل پال کے بیانات پر فوج کی جانب سے ابھی کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ۔ بہرحال کارگل کے ایشو پر جس قدر ڈیفنس اور سٹریٹجک موضوعات پر ریسرچ کرنے والے پی ایچ ڈی سکالرز نے تحقیقاتی کام کیا ہے ۔ ان میں بیشتر تھیسز (مقالات) کے مطابق یہ ایک بے مثال کامیاب فوج آپریشن تھا ۔ اس جنگ کا مقصد یہ تھا کہ ریاست جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس پار کارگل کی پہاڑیوں کی برفیلی چوٹیوں پر بھارتی فوج ہر سال سازگار موسم میں قبضہ کر لیتی تھی اور سرما کی شدت کے آغاز میں انہیں چھوڑ کر میدانی علاقوں کی طرف چلی جاتی تھی ۔ فروری 1999ء کے اوائل میں جب ابھی بھارتی فوج اس علاقے میں واپس نہیں آئی تھی تو ناردرن لاءٹ انفنٹری (نیم فوجی یونٹ) کے مجاہدین نے ایک دلیرانہ اور ماہرانہ مہم کے نتیجے میں ان پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا ۔ بڑی دیر تک بھارتی افواج اور انکی خفیہ ایجنسیاں اس صورتحال سے بے خبر ہیں ۔ ایک روایت ہے کہ آخر وقت تک بھارتی انٹیلی جنس کارگل میں کشمیری مجاہدین کی موجودگی سے بے خبر رہی اور یہ امریکی تھے جنہوں نے بھارت کو مجاہدین کی موجودگی سے آگاہ کیا ۔ یہ ہندوستانی انٹیلی جنس کی مکمل ناکامی تھی کہ انہیں گلگت کے ایریا میں اس قدر وسیع پیمانے پر مجاہدین کی نقل و حرکت کا پتہ نہ چل سکا ۔ اسکے فوراً بعد بھارتی نے ایک طرف ان چوٹیوں کو مجاہدین سے خالی کرانے کے اور خود ان پر قبضہ کرنے کی سرتوڑ کوششیں شروع کر دیں تو دوسری اس نے عالمی رائے عامہ کے سامنے اپنے آپ کو جارحیت کا شکار فریق ثابت کرنے اور اسکی ہمدردیاں حاصل کرنے کی وسیع کوششیں شروع کیں ۔ بھارت نے یہ شور بھی برپا کیا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو معمول پر لانے اور تنازع کشمیر کا حل تلاش کرنے کیلئے جو عمل مسٹر اٹل بہاری واجپائی کے دورہ پاکستان سے شروع ہوا تھا اور جسے بس ڈپلومیسی کا نام دیا گیا تھا وہ بھی سخت خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ بھارت نے پوری دنیا میں پاکستان کی مبینہ جارحیت اور مہم جوئی کا زوردار پروپیگنڈا شروع کیا تو عالمی حلقوں نے بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ شروع کر دیا کہ کارگل کی چوٹیوں کو مجاہدین اور بقول بھارتی حکومت پاکستانی فوجیوں سے خالی کرائے ۔ بیرونی دنیا نے یہ تسلیم کر لیا کہ کارگل پر قبضہ کرنیوالے مجاہدین نہیں بلکہ پاکستانی فوج کے ریگولر دستے ہیں ۔ بھارت اپنی فضائیہ اور مزید بری افواج کو اس سیکٹر پر جھونک دینے کے باوجود کارگل کی چوٹیوں کو واپس لینے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔ اگرچہ پاکستان کے مجاہدین کی بڑی تعداد بھی شہادتوں کے رتبے پر فائز ہوئی مگر کیپٹن کرنل شیر شہید (نشان حیدر) اور حوالدار لالک جان جیسے سینکڑوں بے باک، نڈر اور بہادر فوجی جوانوں نے بہادری اور دلیری کی ایسی داستانیں رقم کیں ۔ کارگل کے میدان جنگ میں پاکستانی فوج کے شیر دل جوانوں اور افسروں نے بہادری اور جرات کی ایسی داستانیں رقم کردی تھیں کہ اگر سیز فائر نہ کیا جاتا تو مٹھی بھر یہ بہادرسپوت بھارت کو عبرتناک شکست کے بعد مقبوضہ کشمیر بھی واپس لے لیتے ۔ اس جنگ میں تاریخ کے ناقابل یقین واقعات بھی رونما ہوئے جس سے ایک پاکستانی فوجی افسر کی بہادری کے ساتھ اسکی اخلاقی جرات بھی سامنے آتی ہے ۔ اس جنگ میں پاک فوج نے عسکری تاریخ کے کئی نمایاں کارنامے انجام دئیے تھے ۔ کارگل کی جنگ کے دوران کیپٹن کاشف بھی اپنے چودہ جوانوں کے ساتھ ایسی پوسٹ پر موجود تھے جب اکیس مئی کے دن دشمن کے اڑھائی سو فوجیوں نے بھاری اسلحہ سے لیس ہوکر ان سے پوسٹ چھیننے کی کوشش کی تو انہوں نے کسی جانی نقصان کے بغیر دشمن کو ایسا سبق سکھایا کہ وہ اڑتالیس لاشیں چھوڑ کر بھاگ گیا تھا ۔ جب دشمن کے سپاہی بھاگ رہے تھے تو ان کے افسر اپنے جوانوں کو پکڑ کر روکنے کی کوششیں کرتے لیکن وہ اسلحہ پھینک کر بھاگ اٹھے جس پر بھارتی افسر اپنے سپاہیوں کو گالیاں دیتے ہوئے خود بھی بھاگ اٹھے ۔ اب صورتحال یہ تھی کہ بھارتی فوجیوں کی لاشیں گلنے سڑنے لگیں ،ان سے بدبو آنے لگ پڑی ۔ دشمن سے رابطہ کر کے کہا کہ ہم بھارتی فوجیوں کی لاشیں واپس کرنا چاہتے ہیں تو وہ پریشان ہوگئے ۔ انکا افسر بولا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم تمہارے علاقے سے لاشیں اٹھانے آئیں اور تم پر فائر نہیں کھولو گے ۔ وہ سمجھ رہاتھا شاید ہم ان کے ساتھ کوئی چال چل رہے ہیں ۔ پیغام بھیجنے کے بعد چوتھی رات چار سپاہی اندھیرے میں ٹارچ کی روشنی کرتے ہوئے آئے،وہ سب ڈرے سہمے تھے ۔ ہم نے ان سے کہا’’ ڈرو نہیں ،لاشیں اٹھالو ‘‘وہ ایک ایک لاش اٹھا کر واپس لے گئے ۔ کارگل جنگ میں بھی ہمیشہ کی طرح اسرائیل کی مدد بھارت کو حاصل رہی ۔ 10فروری 2008 کو نئی دہلی میں اسرائیل کے سفیر مارک سوفر نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک نے 1999ء میں پاکستان کے ساتھ کارگل کی جنگ کا رخ بدلنے میں بھارت کی مدد کی تھی ۔ اسرائیلی سفیر نے بتایا کہ کس طرح کارگل کے بعد دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات کو فروغ حاصل ہوا جب اسرائیل نے ایک نازک مرحلے پر زمینی صورت حال بدلنے میں بھارت کو بچایا ۔ سفیر نے کہا:’’میرا خیال ہے ہم نے بھارت کو ثابت کیا کہ وہ ہم پر بھروسہ کر سکتا ہے اور ہمارے پاس اس کیلئے وسائل موجود ہیں ۔ ضرورت کے وقت ایک دوست ہی حقیقی دوست ہوتا ہے ۔ ‘‘ ’’ہمارے بھارت کے ساتھ دفاعی تعلقات خفیہ نہیں ، تاہم جو بات خفیہ ہے وہ یہ ہے کہ دفاعی تعلقات کی نوعیت کیا ہے اور تمام احترام کے ساتھ خفیہ حصہ ایک راز رہے گا‘‘ ۔

امریکا کا اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ کی ہلاکت کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹیلی جنس آپریشن کے دوران حمزہ بن لادن کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے جانشین حمزہ بن لادن کو ایک انٹیلی جنس آپریشن میں قتل کردیا گیا۔ امریکی حکام نے اس آپریشن کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ انہیں کب، کہاں اور کیسے ہلاک کیا گیا۔

حمزہ بن لادن کی موت سے متعلق سوال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بارے میں کوئی بات کرنے سے انکار کردیا۔ حمزہ کی عمر 30 سال تھی اور وہ القاعدہ کے اہم لیڈر تھے۔ امریکا نے انہیں عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کی معلومات فراہم کرنے پر 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔

اس سال مارچ میں سعودی عرب نے بھی حمزہ بن لادن کی شہریت منسوخ کر دی تھی۔

Google Analytics Alternative