Home » 2019 » August » 05 (page 2)

Daily Archives: August 5, 2019

کلسٹر بم حملہ؛ وزیرخارجہ کا سیکریٹری جنرل او آئی سی سے رابطہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد العثمین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد العثمین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ان سے مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر سفاکانہ طاقت کا استعمال انتہائی قابل مذمت ہے، ہندو یاتریوں اور غیر ملکی سیاحوں کو کشمیر سے نکلنے کے احکامات تشویش میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں، ان حالات میں او آئی سی فوری طور اس گھمبیر صورت حال کا نوٹس لے۔

سیکریٹری جنرل او آئی سی نے وزیر خارجہ کو صورتحال کا نوٹس لینے اور اس سلسلے میں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

پنجاب میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 808 روپے مقرر کرنے پر اتفاق

لاہور:  ایوان وزیراعظم اسلام آباد میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں پنجاب میں سرکاری گندم کی قیمت فروخت 1375 روپے فی من اور 20 کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ پرچون قیمت 808 روپے مقرر کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا۔

پنجاب کابینہ آئندہ ہفتے اس کی منظوری دے گی جبکہ عید تعطیلات کے فوری بعد فلور ملز کو سرکاری گندم کی فروخت کا آغاز کردیا جائے گا۔ گزشتہ روز ہونے والی میٹنگ میں سیکریٹری انڈسٹریز پنجاب گندم کی قیمت 1300 روپے مقرر کرنے کے معاملے پر چیف سیکریٹری اور دیگر حکام کو غلط اعدادوشمار فراہم کرتے رہے اور روٹی، نان کی قیمت میں ایک روپے اضافے کے متعلق اپنے دعوے کو اعدادوشمار کے ساتھ ثابت نہیں کر سکے جس پر انہیں واضح کیا گیا کہ وہ 1300 روپے قیمت مقرر کرنے کا معاملہ بھول جائیں، حکومت کا کام عوام اور مارکیٹ دونوں کے مفاد میں تمام حقائق مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔

چیف سیکرٹری نے بتایا کہ1300 روپے قیمت مقرر کرنے سے حکومت کو اس پر عملدرآمد کرانے کیلئے غیر معمولی اقدامات کرنا اور وسیع آپریشنل اخراجات برداشت کرنا ہوں گے کیونکہ یہ غیرحقیقی قیمت ہے جس وجہ سے گندم اور آٹا پنجاب سے باہر سمگل کیا جائے گا۔ ایوان وزیراعظم میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں جہانگیر ترین، وزیر خوراک سمیع اللہ، وزیر زراعت نعمان لنگڑیال، چیف سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر، زراعت، خوراک، صنعت کے سیکرٹریز، ڈائریکٹر فوڈ اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس موقع پر صوبے میں گندم اور آٹے کی دستیابی اور قیمتوں پر غور کیا گیا۔ 2 گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں شرکا کو بتایا گیا کہ اس وقت اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 1390 سے 1430 روپے فی من جبکہ آٹا کی قیمت 780 سے 820 روپے تک ہے اور اوسط قیمت 790 روپے تصور کی جارہی ہے۔ عوام کو آٹے کی دستیابی میںکوئی دشواری نہیں اور وافر مقدار میں آٹا موجود ہے۔ اجلاس میں سرکاری گندم کی قیمت فروخت پر بھی مشاورت کی گئی۔ جہانگیر ترین، صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری متفق تھے کہ عوام 810 روپے میں بخوشی آٹا خرید رہے ہیں اور مارکیٹ بھی مستحکم ہے، ایسے میں قیمت1300 روپے قیمت مقرر کرنا مارکیٹ کو مصنوعی طریقہ سے کنٹرول کرنا ہوگا۔

جس کی وجہ سے گندم اور آٹا پنجاب سے باہر جانے سے روکنے کیلئے انتظامی سطح پر بہت محنت کرنا ہوگی جبکہ عوام کو اس قیمت کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا، مناسب یہی ہے سرکاری گندم کی قیمت فروخت 1375 روپے فی من مقرر کردی جائے جس سے آٹے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 808 روپے ہو گی تاہم کاروباری مسابقت کی وجہ سے اسکا ریٹ 795 سے 800 روپے کے درمیان ہوگا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ محکمہ خوراک کے پاس 48 لاکھ ٹن گندم ہے۔

کسانوں سے1300 روپے فی من قیمت پر خریداری کی گئی جبکہ دیکھ بھال پر اخراجات487 روپے فی من ہیں، یوں حقیقی قیمت 1787 روپے فی من ہے، حکومت 1300 روپے میں گندم فروخت کرتی ہے تو اسے 35 لاکھ ٹن گندم کی فروخت پر 42 ارب 61 کروڑ روپے کی سبسڈی کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔1375 روپے قیمت فروخت مقرر کئے جانے کی صورت میں آٹا تھیلا کی پرچون قیمت 808 روپے ہوجائے گی جبکہ حکومت کو 36 ارب روپے کی سبسڈی دینا ہو گی۔ ذرائع کے مطابق سیکرٹری انڈسٹریز پنجاب طاہر خورشید قیمت 1300 روپے مقرر کرنے پر اصرار کرتے رہے۔

ان کا موقف تھا کہ 1375 روپے قیمت مقرر کرنے سے روٹی ایک جبکہ نان 2 روپے مہنگا ہو جائے گا تاہم دیگر شرکاء نے انکا موقف تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ 1375 روپے قیمت مقرر کرنے سے روٹی کی قیمت میں 10 سے 12 پیسے کا فرق آرہا ہے جبکہ حکومت تندوروں پر سوئی گیس سبسڈی دیکر فی روٹی 40 پیسے کا ریلیف دے چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے گندم مصنوعات کی ایکسپورٹ پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جس پر انہیں کہا گیا کہ حکومت دسمبر میں اس پر غور کرے گی۔

عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے، اوآئی سی

ریاض: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں اور کلسٹر بم کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا ہے۔

سیکرٹری جنرل اوآئی سی کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے شہری آبادی پرکلسٹربم کےاستعمال پرشدید تشویش ہے جب کہ مقبوضہ کشمیرمیں بگڑتی ہوئی صورت حال اور مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی اضافی نفری پربھی تشویش ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے اور  مقبوضہ کشمیرکے پرامن حل کےلیے عالمی برادری اپنی ذمے داری پوری کرے جب کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو آزادانہ حق خودارادیت دیا جائے۔

واضح رہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد العثمین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا اور ان سے مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

وینا ملک کشمیریوں کی آواز بن کر میدان میں آگئیں

کراچی: معروف اداکارہ وینا ملک بھارت کی جانب سے معصوم کشمیریوں پر کئے جانے والے ظلم کے خلاف آواز بن کر میدان میں آگئیں۔

وینا ملک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کشمیر کے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کی ٹوئٹ شیئر کی اور ساتھ ہی اداکارہ نے بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو ایک ساتھ ملکر چلنا ہوگا۔

اداکارہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ  تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد  جو انسانیت  پر یقین رکھتے ہیں انہیں ساتھ ملنا ہوگا۔ ہم مل کر جانیں بچاسکتے ہیں۔ ہر آواز کی اہمیت ہے خواہ آپ کوئی بھی ہو اور کہیں سے بھی تعلق رکھتے ہوں

وینا ملک نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ بھارتی فوج ظلم و جبر سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے نہیں روک سکتی کیوں کہ آزادی کشمیری عوام  کا بنیادی حق ہے۔ فورسز کا استعمال کرکے کوئی بھی کشمیریوں کو بنیادی حقوق حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔

واضح رہے کہ سید علی گیلانی نے حال ہی میں ایک ٹوئٹ کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی تاریخ کا بڑا قتل عام کرنے والا ہے، دنیا بھر کے مسلمان ہمیں بچانے کے لیے آگے آئیں، ہم سب مرگئے اور آپ خاموش رہے تو اللہ کو جواب دینا ہوگا۔

ازاد کشمیر کے لیڈروں کی برطانیہ اور یورپ میں موج مستیا

دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ اور یورپ کا انفراسٹرکچر مکمل تباہ ہوگیا تھا ان ممالک کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے مزدوروں اور فیکٹری ورکروں کی ضرورت پڑی تو ہنوستان، پاکستان اور افریقی ممالک سے بڑی تعداد میں مزدور یورپین ملکوں بالخصوص برطانیہ میں لائے گئے جنھوں نے سڑکیں ، پل اور عمارتیں تعمیر کیں برطانیہ میں ;200;باد پاکستانی زیادہ تر ;200;زاد کشمیر کے دو اضلاع میرپور اور کوٹلی یا پھر راولپنڈی ڈویژن سے ;200;ئے جن کی اب چوتھی نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے انگریز ;200;ج بھی پاکستانی کشمیری یا دیگر ممالک سے یہاں ;200;نے والی پہلی نسل کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنھوں نے اس ملک کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا برطانیہ نے سب سے پہلے ان مزدوروں کو شہریت دی انکی فیملیز کو برطانیہ ;200;نے کی اجازت دی انکو وہ سارے حقوق دیئے جو مقامی شہریوں کو حاصل ہیں اب یہاں ان تارکین وطن کی چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے جبکہ دوسری اور تیسری نسل ہر شعبہ زندگی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے ان پاکستانی کشمیری مزدوروں کی وجہ سے میرپور کوٹلی اور جہلم پوٹھوہار ریجن میں بڑے بڑے بنگلے کوٹھیاں نظر ;200;تی ہیں یہ ;200;ج بھی زرمبادلہ کی صورت میں پاکستان کی معیشت میں سب سے زیادہ کردار ادا کررہے ہیں جبکہ اپنے اپنے خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داریاں بھی پوری کررہے ہیں ایک ریسرچ کے مطابق سپین کے انقلاب کے بعد برطانیہ اور یورپ میں اسلام کا دوبارہ ان ہی کشمیری اور پاکستانی مزدوروں کی وجہ سے پھیلا جنھوں نے یہاں مسجدیں تعمیر کیں ۔ یورپین ممالک نے تاریخ کی تلخیوں کو بالکل بھولا دیا ہے اور معاشی انقلاب کی خاطر باہم ;200;پس میں جڑ گئے اور ترقی کی جانب بڑھنے لگے پاکستان کی اج کی موجودہ سول اور عسکری قیادت بھی شاید انہی ارادوں کی تکمیل کےلئے کوشاں ہے ۔ لندن سے کسی بھی یورپین ممالک کا ہوائی جہاز کا سفر تقریبا دو گھنٹے کا ہے جبکہ فرانس، بلجیئم، ہالینڈ اور دوسرے کئی ملکوں میں لندن سے سڑک کے راستے ;200;پ تقریبا چار گھنٹوں میں یکطرفہ سفر کرسکتے ہیں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان ممالک نے 1945 میں ایک دوسرے پر بم گرائے تھے لیکن گزشتہ ستر سالوں میں ان یورپین چھوٹے چھوٹے ممالک نے بہت ترقی کی سفری سہولیات کو ;200;سان بنایا ایک دوسرے کی مدد کی ہیومین راءٹس اور ہیومین ڈویلپمنٹ پر توجہ دی ۔ ہمارے پاکستان اور ;200;زاد کشمیر کے لوگ صرف برطانیہ میں کوئی بیس لاکھ ہیں جن میں تقریبا 13 یا 14 لاکھ کشمیری نژاد ہیں جن کے ماشا اللہ اپنے اپنے کاروبار ہیں ہزاروں کی تعداد میں مقامی حکومتوں میں پاکستانی کشمیری کونسلرز اور مئیرز ہیں کھیل کے میدانوں سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک پاکستانیوں اور کشمیریوں کی نسل نمایاں طور پر نظر ;200;تی ہیں لیکن افسوس کہ یہاں پاکستان اور ;200;زادکشمیر سے ;200;نے والے مذہبی اور سیاسی قافلے ہ میں تقسیم کررہے ہیں سب سے زیادہ ;200;زاد کشمیر سے مختلف جماعتوں کے سربراہ برطانیہ اور یورپ کے چکر کاٹتے رہتے ہیں نام نہاد پونڈز اور یورو اکھٹے کرنے والے پیر اور مسلکوں کی بنیاد پر مذہبی پیشوا یہاں ہمارے لوگوں کی تقسیم کا بڑا سبب ہیں سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے پیش نظر سیر سپاٹے اور چندوں کا حصول ایک طرف ہے تو دوسری طرف اپنی اپنی جماعتوں کی برانچز قائم کرکے زاتی تشہیر اور چندے اکھٹے کرنا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہاں تقسیم در تقسیم کے عمل کو فروغ دیا گیا ہے کسی جگہہ برادریوں کنبوں کی بنیاد پر تو کسی جگہہ سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر بھائی کو بھائی سے جدا کرنے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے یہ تکلیف دہ عمل ہے اس کو روکنا ہوگا ۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ ;200;زادکشمیر کی سیاست سے ماورا ہوکر برطانیہ اور یورپ میں زیادہ سے زیادہ افراد اپنے سیاسی تشخص کو قائم کریں اس سے کمیونٹی کے اندر اتحاد اور فکر و عمل کو تقویت ملے گی بلکہ مختلف مسائل حل ہونگے اور مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب ہماری بھی کوششیں رنگ لائیں گئیں جبکہ بھارت اور بنگلہ دیشی کی کسی سیاسی جماعت کا یہاں وجود نہیں ، میں ان ;200;زاد کشمیر کے لیڈروں کےلئے اتنا عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو یہاں اکثر ;200;تے رہتے ہیں میرے لئے سب قابل احترام ہیں لیکن سب کا کردار ;200;زادکشمیر کے خطے اور عوام کے لئے ایک ہی جیسا ہے وہ اپنی سیاست کا محور اور مرکز ;200;زادکشمیر کی دھرتی کو بنائیں وہاں ہر طرح کی بہتری لانے کے لئے اپنا رول اور وسائل استعمال کریں ;200;زادکشمیر کا نظام تعلیم، ٹوٹی نلکا، صحت کا نظام ،سڑکیں ،تھانہ کلچر اور پٹوار خانہ ان اقتداری لیڈروں کی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ، ایک سرکاری ہسپتال ایک سکول بتادیں جو برطانیہ اور یورپ کے معیار کے مطابق ;200;پ نے قائم کیا ہو ایک محکمہ بتادیں جہاں رشوت نہیں لی جاتی ہو ایک سیاحت کا وہ مقام بتا دیں جہاں ہم برطانیہ اور یورپ میں مقیم کشمیری بچوں کو لے جاکر سیر کرواسکیں جن کے چندوں پر ;200;پ الیکشن لڑتے ہیں ;200;پ کامیاب ہوتے ہیں جس کو ;200;پ کا یا ;200;پکی حکومت کا کارنامہ بتایا جاسکے ’’تن ہمداغ داغ شد ;34;پنبہ کجا کجا نعم ;34; (فارسی کے اس قول کا مطلب ہے کہ میرا پورا جسم زخموں سے چور ہے کس کس جگہہ پر مرہم رکھوں )وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے 11 جولائی سے 27 جولائی کے دوران پورے یورپ کا دورہ کیا 11 جولائی کو وہ سپین کے شہر بارسلونا پہنچے پتہ چلا کہ وہ 13 جولائی کو یوم شہدا کے سلسلے میں نکلنے والی ایک ریلی میں شرکت کریں گے پھر وہ 14 جولائی کو اٹلی روانہ ہوئے پھر بلجیم پھر فرانس اور پھر برطانیہ تشریف لائے اور 27 جولائی کے بعد اسلام ;200;باد واپس پہنچے یہاں مقیم ازاد کشمیر کے لوگ ٹوٹی نلکے والے اور سڑکوں کو پختہ کرنے والے اور پلاٹوں پر قبضے کی شکایتیں کرنے والے ہم سے پوچھتے رہے کہ وزیراعظم سے ملاقات کروائیں لیکن ہ میں نہیں معلوم کہ وزیراعظم صاحب کی یہاں کیا کیا مصروفیات رہیں اسی دوران لیبہ ویلی مظفر;200;باد میں سیلابی ریلے سے 24 افراد جان بحق ہوگئے لائن ;200;ف کنٹرول پر مرنے والوں کی داد رسی بھی تو چیف ایگزیکٹو کی ہی ہوتی ہے مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ ;200;زاد کشمیر کے وزیراعظم کے اس دورے پر ;200;زادکشمیر کے قومی خزانے سے کتنا پیسہ خرچ ہوا چونکہ اب جب سے مسلم لیگ ن کی حکومت ;200;زادکشمیر میں برسراقتدار ;200;ئی ہے اب یہ نوٹیفکیشن ہی نہیں جاری ہوتا کہ کون کب اور کیوں بیرون ملک دورے پر جارہا ہے اور اس کو کتنے پیسے اس دورے کےلئے دئیے گئے ہیں پیپلزپارٹی کے دور تک باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہوتا تھا لیکن بعد میں نوٹیفکیشن جاری ہونا بند ہوگیا ہے ۔ کشمیر سیل بھی مکمل وزیراعظم ;200;زادکشمیر کے کنٹرول میں ہے جہاں کشمیر کو ;200;زاد کروانے کے لئے صوابدیدی فنڈز کی ترسیل ہوتی ہے جہاں سے برطانیہ اور یورپ لوگوں کو مسئلہ کشمیر کو ;200;جاگر کرنے کےلئے وہاں سے بیجھا جاتا ہے اور وہ یہاں ;200;کر اپنے ہی لوگوں کے خرچے پر دعوتیں اور استقبالیے منعقد کروا کر انہیں ہی تقریریں سنا کر چلے جاتے ہیں کشمیر سیل سے ہی پھر برطانیہ سے ;200;زادکشمیر اور پاکستان کی سیر کروانے کےلئے فنڈز یہاں سے ہی سنا ہے جاری ہوتے ہیں ۔ واللہ عالم ۔ ;200;زادکشمیر کی حکومت کے وزیروں کی ایک بڑی تعداد ادہر برطانیہ میں دعوتیں ;200;ڑا رہی ہے برطانیہ اور یورپ میں ;200;نے میں کوئی قباعت نہیں لیکن ;200;نے کے مقاصد تو واضح ہوں جو مسئلہ کشمیر ;200;جاگر کرنے کی غرض سے استقبالئے اور پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں جس سے ان لیڈروں کی ذاتی اور جماعت کی تشہیر ہوتی ہے چونکہ تقریر کرنے والے، سننے والے اور میڈیا والے سارے اپنے ہی لوگ ہوتے ہیں جو سو فیصد کشمیر کے مسئلے کے ساتھ وابسطہ ہیں ابھی ;200;زادکشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق بھی برطانیہ کا دورہ کرکے واپس چلے گئے ہیں جن کی قابلیت اور اہلیت کو تو چیلنج نہیں کیا جاسکتا انکے مخالفین انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہمیشہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں جبکہ ہمارے دوست عبدالرشید ترابی بھی برطانیہ کا دورہ کرکے واپس گے ہیں جو کبھی ترکی میں کبھی سعودی عرب اور کبھی یورپ میں ہوتے ہیں انہیں بھی اسٹبلشمنٹ کی بی ٹیم کا طعنہ ملتا رہتا ہے ۔ بیرسٹر سلطان محمود پی ٹی ;200;ئی کے دوبارہ صدر بن گئے ہیں انکے استقبال کی یہاں تیاریاں ہو رہی ہیں یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے سنا ہے ان پر بھی اسبشلشمٹ کی چھاپ ہے ان کی دوبارہ صدارت بھی شاید اسی کا شاخسانہ ہے سیف اللہ نیازی نے حلف لیا تو سابق وزیراعظم کسی کونے میں نظر ;200;ئے کچھ دوستوں کو ناگوار گزرا ۔ موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکومتیں ;200;زادکشمیر کے لوگوں کو کوئی خاطر خواہ ریلیف دینے میں سب ناکام ہیں دارلحکومت مظفر;200;باد ہے لیکن وزیراعظم صدر وزرا کی اکثریت اسلام ;200;باد میں ہی رہتی ہے اور کشمیر ہاءوس ہی ان کا مسکن ہے ;200;زاد کشمیر کے لوگ اکثر سڑکوں کی تعمیر اور اپنے حق کے لئے احتجاج کرتے رہتے ہیں 29 جولائی کو کوہالہ پل پر ٹریفک کی ;200;مد و رفت کےلئے بند کردیا گیا یہ لوگ احتجاج بھی سڑک کےلئے کررہے تھے میرے ایک دوست ;200;ٹلی سے شریف عباسی مجھے جولائی کا پورا مہینہ راجہ فاروق حیدر سے اسی سڑک کی تعمیر کےلئے ملاقات کروانے کا کہتے رہے لیکن میری رسائی بھی راجہ فاروق حیدر سے نہیں ہوسکی ۔ بشارت عباسی شہید روڈ جو 36 کلو میٹر بنتی ہے کشمیر میں سب سے پرانی سڑک ہے ہر دور حکومت میں اس سڑک کو پختہ کرنے کا وعدہ کیا گیا سابقہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا80 ہزار سے زائد عوام اس سڑک پر سفر کرتے ہیں سڑک پر کھڈے پڑے ہوئے ہیں علاقہ عوام کو سخت تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے میں نے گزشتہ سال خود اکتوبر کے مہینے میں اس سڑک پر سفر کیا تھا ۔

پاکستان،کشمیر اور خطے کی صورتحال،سینٹ میں تحریک

ملک میں معاشی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ قرضے ختم کرنے اور کسی سے قرضہ نہ لینے کے دعویداروں نے اپنے دعوءوں ،وعدوں اور بیانات سے کھلم کھلا انحراف کیا ۔ اور قرضے تو کیا ختم کرنے تھے قرضوں میں مزید اضافہ کیا ۔ عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے،مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنے کے بیانات اور دعوے بھی سراب ثابت ہوئے ۔ بلکہ کرے کوئی بھرے کوئی کے مصداق سارا قصور عوام کا نکلا اور ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی کی صورت میں سزا وار عوام ٹھرے ۔ جن سیاسی رہنماءوں کو گرفتار اس بنیاد پر کیا گیا کہ انھوں نے ملک کو لوٹا ہے اور اس لوٹ مار کے ثبوت موجود ہیں ان پر ابھی تک کچھ ثابت نہیں ہوا نہ ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش کیا جا سکا ۔ اس لیئے یہ تاثر عام ہے کہ یہ تو احتساب نہیں بلکہ انتقام ہے ۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن اصل خرابی کی طرف نہ کوئی توجہ دیتا ہے نہ اس بیماری کا کوئی علاج سوچتا ہے اور وہ ہے نظام کی خرابی ۔ خرابی نظام کی بیماری نے پورے ملک کو معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔ جب تک نظام درست نہیں ہوگا ہمارے معاشی مسائل ختم نہیں ہو سکتے بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جائے گا ۔ جس کے نتاءج بڑے خوفناک ہو سکتے ہیں ۔ سیاسی رہنما اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل نظر آتے ہیں ۔ اپوزیشن کے لیڈرز اپنے آپ کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ ان کی جدوجہد کا مقصد ملک اور عوام نہیں بلکہ اپنی چمڑی بچانا ہے ۔ دوسری طرف حکومت اپنے مخالفین کو پچھاڑنے میں لگی ہوئی ہے ۔ اخباراٹھا کر دیکھیں یا ٹی وی لگا کر دیکھیں ۔ سب ایک دوسرے کو کوستے ہی نظر آئیں گے ۔ سیاست بس اب یہ رہ گئی ہے کہ ایک دوسرے کے کپڑے اتارے جائیں ۔ حزب اقتدار ہے یا حزب اختلاف سب نے ملکی سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ معاشرتی اقدار،روایات اور بردباری کو سیاست سے یکسر خارج کر دیا گیا ۔ دونوں طرف والوں کو نہ ملک کی فکر ہے نہ عوام کی ۔ بداخلاقی،بدتمیزی،ذاتی مفادات اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا دنگل ہے ۔ یہ ہیں ہمارے رہنما ۔ عوام کو سوچنا پڑے گا ۔ پاکستان اس وقت نہ صرف معاشی بحران کا شکار ہے بلکہ ملکی سلامتی کا تحفظ کرنے والوں کی نظریں پڑوسی سرحدوں ،خطے کی صورتحال اور خصوصاً مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر ہیں ۔ مشرقی سرحد پر صورت حال تسلی بخش نہیں ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ چند دنوں میں مزید دس ہزار تازہ دم فوجی بھیجے اور گذشتہ ہفتے مزید 35 ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا گیا ۔ اور اطلاعات یہ ہیں کہ اس اعلان کے مطابق 35 ہزار فوجی مقبوضہ وادی میں پہنچ چکے ہیں ۔ جو جدید اسلحے اور ساز و سامان سے لیس ہیں ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی میں کوئی بڑی کاروائی کرنے والا ہے ۔ اس کی تصدیق متعدد کشمیری رہنماءوں نے اپنے بیانات میں بھی کی ہے ۔ دوسری طرف بھارت کی طرف سے پاک بھارت سرحد پر بھارت کی شرارتیں اور چھیڑچھاڑ جاری ہے ۔ بھارتی فوج سرحدسے ملحقہ سول آبادیوں کو بھاری ہتھیاروں سے روزانہ نشانہ بنا رہی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ پاک فوج کے بہادر جوان ان کی ہر شرارت کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں ۔ یہ بات نہایت قابل توجہ ہے کہ بھارت نے امریکی صدر کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کو دوسری بار بھی مسترد کر دیا ہے ۔ اس کے علاوہ بھارتی آئین میں مقبوضی کشمیر کو جو خصوصی حیثیت حاصل ہے اس کو بھی ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی کو بھارت کا حصہ بنایا چاہتا ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے کشمیری مسلمانوں کو مکمل طور پر یرغمال بنا لیا ہے ۔ وہاں کے کالجوں میں پڑھنے اور ہاسٹلوں میں رہنے والے طلبہء کو واپس گھروں کو جانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔ تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے ۔ تمام کاروباری مراکز اور دکانیں بند کرا دی گئی ہیں اور سیاحوں اور زائرین کو فوری طور پر مقبوضہ وادی سے نکل جانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ان تمام اقدامات کے دو واضح مقاصد ہیں ایک یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر عمل درآمد ہو نے والا ہے دوسرا یہ کہ بھارت مظلوم کشمیریوں کا قتل عام کرنے،نقص امن کے الزامات میں گرفتار کرنے اور ان کے گھروں اور دکانوں کو تباہ کرنے جیسے اقدامات کرنے جا رہا ہے ۔ یہ تما م صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے ۔ پاکستان نے اس سے اقوام متحدہ کو آگاہ کرنے کے لیئے خط بھی ارسال کر دیا ہے ۔ بھارت بلوچستان میں حالات کو خراب کرنے کی بھی کوششیں کر رہا ہے ۔ پاک افغان سرحد پر بھی بھارتی ایماء پر حملوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ یوں خطے میں صورتحال انہتائی تشویشناک ہے ۔ لیکن بہت دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سیاسی رہنماء ملک کے اندرونی اور بیرونی خطرناک صورتحال سے مکمل طور پر لا تعلق ہیں ۔ سینٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے لے کر اپوزیشن کے بعض ضمیر فروشوں تک کے معاملات سے عام آدمی کا کوئی تعلق ہے نہ کوئی فائدہ ہے ۔ ہارنے والے امیدوار نے تو حد کر دی ہے کہ اپنی شکست کی زمہ داری ایک اہم ادارے کے سربراہ پر ڈال دی ہے ۔ ان کے خیال میں اہم ادارے کے سربراہ اتنے فارغ ہیں اور یا ان کویا اس ادارے کو کوئی فائدہ ہوا ۔ کچھ تو خیال کرناچاہیئے ۔

تاپسی پنوں نئی کوئین قرار دیئے جانے پر کنگنا رناوت سے ڈر گئیں؟

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنوں کا شماران اداکاراؤں میں ہوتا ہے جوہر موضوع پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہیں تاہم ان کے حال ہی میں کنگنا رناوت سے متعلق دئیے گئے بیان نے ان کے مداحوں کو چونکادیا۔

اداکارہ تاپسی پنوں نے پچھلے کچھ عرصے میں اپنے کام سے خود کو منوایا ہے ان کے کام کی بدولت ان کے مداحوں نے ان کا موازنہ بالی ووڈ میں کوئین کے نام سے مشہور اداکارہ کنگنارناوت سے کرتے ہوئے انہیں بالی ووڈ کی نئی کوئین قرار دے دیا۔

تاہم اداکارہ تاپسی پنوں نے فوراً ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ارے ایسا مت بولیں، کوئین ان کو(کنگنارناوت کو) ہی رہنے دیں، نہیں تو پھر کاپی کہلاؤں گی، میں ایک اداکارہ ہی ٹھیک ہوں بس آپ لوگ ایسے ہی میراساتھ دیتے رہیں۔ شکریہ۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل کنگنا رناوت کی بہن رنگولی چینڈل نے تاپسی پنوں کو کنگنا رناوت کی سستی کاپی قراردیاتھا جس پر تاپسی نے کوئی بھی ردعمل ظاہر کیے بغیر کہا تھا کہ ان کے پاس ان چیزوں پر بات کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔

ایل او سی پر کلسٹر بموں کا استعمال، بھارت کے خلاف ناقابل تردید ثبوت سامنے آگئے

مظفر آباد: بھارت کی جانب سے ایل او سی پر کلسٹر بموں کے استعمال کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آگئے ہیں۔

بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر کلسٹر بموں کے استعمال کے ناقابل تردید ثبوت سامنے لے آیا ہے، آزاد کشمیر کے علاقے نوسیری کی آبادی میں کلسٹر بم بکھرے پڑے ہیں جب کہ اسی علاقے میں گزشتہ روز کلسٹر بموں سے 4 شہادتیں ہوئیں تھیں اور 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر شہری آبادی کو کلسٹر بموں سے نشانہ بنارہی ہے، بھارتی فوج نے 30 اور 31 جولائی کو آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں توپخانے کے ذریعے کلسٹر ایمونیشن کا استعمال کیا جس کے باعث 4 سالہ بچے سمیت 2 افراد شہید اور 11 شدید زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوج کی ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ اور ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

Google Analytics Alternative