Home » 2019 » August » 06

Daily Archives: August 6, 2019

بھارت کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم اور 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان

نئی دہلی: بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کردیا۔

مودی سرکار نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کوختم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں بھی تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لداخ کو وفاق کا زیر انتظام علاقہ بنادیا گیا جس کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی۔

 بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ راجیہ سبھا میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنے کا بل بھی پیش کردیا۔ اجلاس کے دوران بھارتی اپوزیشن نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید احتجاج کیا۔

بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل جیسے ہتھکنڈے اختیار کررہی ہے۔ آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے وطن ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم آبادکار کشمیر میں آباد ہوجائیں گے، جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے۔

کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہونے کا خطرہ

بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں کشمیر کو وفاق میں ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے کی اجازت ہے اور متعدد معاملات میں بھارتی وفاقی آئین کا نفاذ جموں کشمیر میں منع ہے۔

آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ سرکاری نوکریوں، ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف کشمیری باشندوں کو حاصل تھا۔

دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا۔

بھارت کشمیرمیں مزید کارروائی سے اجتناب کرے ورنہ سنگین نتائج سامنے آئیں گے، پاکستان

 اسلام آباد: بھارتی ہائی کمشنر کو دفترخارجہ طلب کرکے کشمیر سے متعلق قانون سازی پر شدید احتجاج کیا گیا۔

دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود  نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ طلب کیا اور کشمیر سے متعلق قانون سازی پر شدید احتجاج کیا۔

سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے بھارتی ہائی کمشنر سے کہا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کی، بھارت کشمیر میں مزید کسی کارروائی سے اجتناب کرے ورنہ ایسے اقدامات کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی سیاسی سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

سہیل محمود نے مزید کہا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ  80 ہزار مزید بھارتی فوج کی تعیناتی اور وادی میں مکمل لاک ڈاون کی مذمت کرتا ہے، کشمیری رہنماؤں کی گرفتاری اور کرفیو کا نفاذ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ، مزید 70 ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 144 نافذ کرکے غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جب کہ وادی میں مزید 70 ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بھارتی حکومت کے ظالمانہ اقدامات نے مقبوضہ کشمیر میں حالات کو انتہائی کشیدہ کردیا ہے، مقبوضہ وادی میں دفعہ 144 نافذ کرکے غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، وادی میں تمام تعلیمی اداروں کو بھی تاحکم ثانی بند کرکے کشمیر کی تمام  جامعات میں امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں جب کہ  موبائل فون اور لینڈ لائن سمیت انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

کٹھ پتلی انتظامیہ نے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے حریت رہنماؤں، سابق وزرائے اعلیٰ مقبوضہ کشمیر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت سجاد لون کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا ہے۔

بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرکے ہزاروں اضافی فوجیوں کی تعینات کردیا ہے، خبرایجنسی کے مطابق بھارت مقبوضہ کشمیر میں مزید 70 ہزار فوجی لا رہا ہے جب کہ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مزید 8 ہزار فوجیوں کو تعینات کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب مودی سرکار نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کوختم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی گرفتار

سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کسی ممکنہ ردعمل سے خوف زدہ بھارت نے پہلے سے نظر بند وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو باضابطہ طور پر حراست میں لے لیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں باضابطہ طور پر سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمرعبداللہ کو گرفتار کرلیا ہے قبل ازیں ان رہنماؤں کو گھروں پر نظر بند کیا گیا تھا۔

بھارت نے اپنے آئین میں سے 35-اے اور آرٹیکل 370 کو ختم کرکے کشمیریوں کو حاصل نیم خود مختاری اور خصوصی اختیارات کو ختم کر دیا ہے جب کہ کشمیر کو جغرافیائی طور پر بھی دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔

گزشتہ شب سوشل میڈیا پرعمر عبداللہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج نصف شب انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔کشمیر کے دیگر رہنماؤں کو بھی نظر بند کیا جا رہا ہے۔ ٹویٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ اب کشمیر میں جو کچھ ہو گا اس کے بعد ہی کشمیریوں سے ملاقات ہو گی۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

دوسری جانب محبوبہ مفتی نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ہم جیسے منتخب نمائندوں کو بھی گھروں میں نظر بند کیا جا رہا ہے،کشمیری عوام کی آواز بند کی جا رہی ہے،دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے مودی سرکار کو خبردار کیا تھا کہ وادی کی خصوصی حیثیت کو نہ چھیڑا جائے۔

 

پاکستان کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا، کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ

بھارت کی کنٹرول لائن پر آئے دن بلا اشتعال خلاف ورزیاں بڑھتی جارہی ہیں صرف بات کنٹرول لائن تک ہی محدود نہیں ، مقبوضہ کشمیر میں بھی انتہا کررکھی ہے ۔ وادی میں کرفیو کا سما ہے تمام بڑے بڑے لیڈران کو نظربند کردیا گیا ہے، تمام قسم کی سہولیات بند ہیں ، پوری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ وہاں پر بھارت کس طرح نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھارہا ہے ۔ پاکستان نے بھی اس سلسلے میں ہمیشہ بھرپور کردارادا کیا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اب بھی پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی اس مسئلے کو اٹھانے کافیصلہ کیا ہے ۔ بھارتی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزیوں کے پیش نظر وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک ہوئے ۔ اجلاس کے دوران پاکستان نے واضح اور دوٹوک انداز میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو اس کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ نیز پاکستان کشمیریوں کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑے گا، ایسے وقت میں بھارتی حکمت عملی قابل مذمت ہے جب پاکستان اور عالمی برادری افغان تنازع کے حل پر توجہ دے رہی ہے ۔ نیز مقبوضہ کشمیر میں کلسٹر بموں کا استعمال قابل مذمت ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سول و فوجی قیادت نے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی آواز کو دبانے اور افغان مذاکرات خراب کرنیکی کوشش میں بھارت کے جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت اور اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جعلی فوجی آپریشن کر سکتا ہے، کسی پر خطر کارروائی سے دونوں ایٹمی ممالک میں آگ بھڑک سکتی ہے،پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہادر عوام کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودرادیت اور انصاف کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ، جموں و کشمیر دیرینہ، غیر تصفیہ شدہ بین الاقوامی تنازع ہے جو پرامن حل کا متقاضی ہے، قومی سلامتی کمیٹی نے کہا کہ قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ بھارت کی کسی بھی جارحیت اور مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہیں ۔ کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی تیزی سے بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اوربھارت کو موثرجواب دینے کی حکمت عملی تیارکی گئی ۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ پاکستان ہر حالت میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا ، جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کا واحد راستہ صرف پرامن کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے،یہ وقت ہے کشمیر اور ایل او سی پر بھارتی جارحیت روکنے کیلئے کچھ کیا جائے ورنہ پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے ۔ اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے ان اقدامات کا جائزہ لیا گیا جنکی وجہ سے مقبوضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے ۔ اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور،وزیر داخلہ اعجاز شاہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ایئرچیف، نیول چیف، ڈی جی آئی ایس آئی،ڈی جی آئی ایس پی آر، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان اور سیکرٹری قومی سلامتی ڈویژن نے شرکت کی ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے لائن ;200;ف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلسٹر بم کا استعمال بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ سماجی رابطے کی ویب ساءٹ پر ایک ٹوئیٹ میں عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے کلسٹر بم کو استعمال کر کے ;200;بادی کو نشانی بنایا جو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ بھارت کلسٹر بم استعمال کر کے 1983 کے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے ۔ لہٰذا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھارتی جارحیت کا فوری نوٹس لے ۔

مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی منشاء کے مطابق حل کیا جائے،او آئی سی

او آئی سی نے بھی دنیا بھر سے کہا ہے کہ وہ بھارت کو ظلم و بربریت سے روکے اور مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی منشاء کے مطابق حل کیا جائے ۔ نامعلوم ایسی کیا وجوہات ہیں کہ دنیا بھر نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آنکھیں بند کررکھی ہیں ۔ مودی وادی میں خون کی ہولی کھیلنے کی تیاریاں کررہا ہے ۔ اگر اس کو نہ روکا گیا تو انسانی تاریخ کا ایک ایسا المیہ جنم لے گا جس کی شاید ماضی اور آنے والی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملے گی ۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ قدم بڑھائے اور مودی کو اپنے اس انسان کش اقدامات سے روکے ۔ اسلامی تعاون تنظیم (او ;200;ئی سی)نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیاہے ۔ اور کہا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے بھارت پر دباءو ڈالے او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں فوج کی تعداد بڑھانے اور کلسٹر بم کے استعمال پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے ۔ سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹوءٹر پر جاری بیان میں اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے کہا گیاہے کہ بھارتی فوج نے پابندی کے باوجود شہریوں پر کلسٹر بم کا استعمال کیا،ایل او سی پر بھارتی خلاف ورزیوں سے ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس ہے ۔ او ;200;ئی سی نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیاہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے کردار ادا کرے ۔ اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیئے ۔ اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد العثمین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انکے ساتھ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارت کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر سفاکانہ طاقت کا استعمال انتہائی قابل مذمت ہے ۔ بھارت، نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ ہندو یاتریوں اور غیر ملکی سیاحوں کو کشمیر سے نکلنے کے احکامات تشویش میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں ۔ ان حالات میں او ;200;ئی سی فوری طور اس گھمبیر صورت حال کا نوٹس لے ۔ ہندو یاتریوں اور غیر ملکی سیاحوں کو کشمیر سے نکلنے کے احکامات تشویش میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں ، ان حالات میں او ;200;ئی سی فوری طور اس گھمبیر صورت حال کا نوٹس لے ۔ سیکرٹری جنرل او ;200;ئی سی نے وزیر خارجہ کو صورتحال کا نوٹس لینے اور اس سلسلے میں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر پاکستانی شوبز شخصیات کا احتجاج

بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کے خلاف جہاں پاکستانی سیاستدانوں نے شدید احتجاج کیا۔

وہیں پاکستانی شوبز شخصیات نے بھی بھارتی فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کردیا گیا، جس کے بعد اب انڈین حکومت وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرے گی اور وہاں پر کئی بھارتی قوانین بھی نافذ کیے جا سکیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 370 بھی بھارتی حکومت نے 1956 میں نافذ کیا تھا اور اس آرٹیکل کے تحت وادی میں بھارتی ترنگے سمیت قومی علامتوں کی بے حرمتی جرم نہیں ہوتا تھا۔

تاہم اب اس خصوصی آرٹیکل کو ختم کرکے وہاں کانسٹی ٹیوشن (ایپلی کیشن ٹو جموں و کشمیر) آرڈر 2019 کا خصوصی آرٹیکل نافذ کردیا گیا، جس کے تحت اب بھارتی حکومت وادی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے سمیت وہاں پر انڈین قوانین کا نفاذ بھی کرسکے گی۔

اس فیصلے کے خلاف جہاں جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت سراپا احتجاج ہے، وہیں پاکستان کی سیاسی قیادت و حکومت نے بھی اس فیصلے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سیاسی قیادت کے بعد اب پاکستان کی شوبز شخصیات نے بھی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے اور اس عمل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

پاکستانی شوبز شخصیات نے سوشل میڈیا پر اداکار حمزہ علی عباسی کی درخواست کے بعد ’اسٹینڈ ود کشمیر‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے بھارتی فیصلے کی شدید مذمت کی۔

حمزہ علی عباسی نے اپنی سلسلہ وار ٹوئیٹس کے ذریعے شوبز شخصیات کو بھارتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سوشل میڈیا پر کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

حمزہ علی عباسی کی درخواست کے بعد ماہرہ خان، شان شاہد، حریم فاروق، ماورہ حسین، مہوش حیات، ارمینا خان اور فیروز خان سمیت کئی شوبز شخصیات نے اپنے ٹوئیٹس کے ذریعے بھارتی فیصلے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

حمزہ علی عباسی کے بعد اداکار شان شاہد نے اپنے ٹوئیٹ میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی گنگا میں اشنان کرنے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’گنگا میں اشنان کرنے سے کشمیری شہیدوں کے خون نہیں دھلے گا‘۔

اداکارہ ماورہ حسین نے بھارتی حکومت کے فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سوال کیا کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کہاں ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو کتابوں میں انسانی حقوق کے معیارات مقرر یا لکھ رکھے ہیں، وہ حقیقت میں کہاں ہیں؟ اداکارہ ماہرا خان نے بھی بھارتی حکومت کے فیصلے پر شدید احتجاج کیا اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اداکارہ مہوش حیات کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر دنیا کو جاگنا ہوگا اور انہوں نے بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔

ان کے علاوہ بھی دیگر شوبز شخصیات نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر شدید احتجاج کیا۔

بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی

بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصیت حیثیت میں تبدیلی کے بعد سے بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی جو 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی روپے کی قدر بھی مئی کے مہینے کے بعد کم ترین سطح پر آگئی جو ڈالر کے مقابلے میں 70.49 روپے میں فروخت ہونے لگا۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش کے بعد وادی کی خصوصی حیثیت واپس لے لی تھی۔

بھارتی ادارے سینکٹم ویلتھ منیجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر سنیل شرما کا کہنا تھا کہ ‘مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے اور مارکیٹ کو در پیش مسائل میں سیاسی غیر یقینی اس میں مزید اضافہ کرتی ہے’۔

بھارت کی این ایس ای انڈیکس 1.11 فیصد کمی کے بعد 10 ہزار 868 پوائنٹس پر آگئی جبکہ بینچ مارک بی ایس ای انڈیکس بھی 1.11 فیصد کمی کے بعد 36 ہزار 670 پر آگئی۔

تاسمک گلوبل سلوشنز کی ایسوسی ایٹ ڈیٹ ڈین مدھومیتا گھوش کا کہنا ہے کہ ‘معیشت کی حالت اس وقت ٹھیک نہیں ہے اور کیے گئے اقدامات سے یہ کم مدت میں پروان نہیں چڑھ سکتی، عالمی معیشت مقامی معیشت سے بہت زیادہ بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘زیادہ تر شعبوں میں تجارت اچھی نہیں تھی اور ہمیں مارکیٹ کو فوری اوپر لے جانے والے کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے’۔

پبلک سیکٹر کے بینک کا انڈیکس 5.12 فیصد تک نیچے آیا جبکہ میٹل کا انڈیکس 3.9 فیصد کم ہوا تاہم آئی ٹی کا شعبہ واحد رہا جو انڈیکس میں تجارت میں آگے رہا۔

مجموعی طور پر بینکوں نے اسٹاک میں سب سے خراب کارکردگی دکھائی جو 6.7 فیصد تک کم ہوا جبکہ ٹاٹا موٹرز4.7 فیصد تک کم ہوا۔

اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ پانے والے چند میں سے ٹاٹا کنسلٹینسی سروسز اور انفوسِس لمیٹڈ شامل ہیں جس کے حصص کی قیمت میں بالترتیب 1.4 فیصد اور 0.5 فیصد اضافہ ہوا۔

مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں رہا، وزیراعظم آزاد کشمیر

 اسلام آباد: وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 370 ختم کرنے سے مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں رہا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیریوں کے حقوق سلب کر رہا ہے، بھارت نے کنٹرول لائن پر کلسٹر ایمونیشن کا استعمال کیا، کلسٹر ایمونیشن سے چھوٹے بچے متاثر ہوئے تاہم حکومت نے کل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پاک فوج پر مکمل اعتماد ہے، بھارت کے ساتھ 70 سال کے حساب کتاب چکانے ہیں جب کہ آزاد کشمیر کا بچہ بچہ افواج پاکستان کے ساتھ ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہم بھارتی آئین کو ہی تسلیم نہیں کرتے جب کہ آرٹیکل 370 ختم کرنے سے مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج ریاست کی تقسیم پر ہے،35 اے ریاست کے مہاراجہ نے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے بنایا تھا۔

وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ ہندوستان آزاد کشمیر میں موجود ڈیموں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے، ہندوستان کشمیر میں ظلم کو دبانے کے لئے ایل او سی پر فائرنگ کرتا ہے، ہندوستان ایل او سی پر فائرنگ کرکے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرتا ہے، ہندوستان کشمیر کی خالص تحریک کو بیرونی تحریک قرار دینے کی کوشش کررہا ہے۔

Google Analytics Alternative