Home » 2019 » August » 07

Daily Archives: August 7, 2019

بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تو پھر جنگ ہوگی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کررہا ہے اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ 

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے، پارلیمانی اجلاس کو پوری دنیا اور کشمیری دیکھ رہے ہیں، یہاں سے بھارت نے جو غلط فیصلہ کیا اس پر بڑا مثبت پیغام جانا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جنگ و جدل کا سب سے بڑا اثر معیشت پر پڑتا ہے، ہماری حکومت کی پہلی ترجیح پاکستان سے غربت کا خاتمہ تھا، اس لیے ہم چاہتے تھے کہ پڑوسیوں سے بہتر تعلقات ہوں، پلواما واقعے کے بعد بھارت کو سمجھایا کہ پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، بھارت کا پائلٹ پکڑا ، فوری واپس کردیا کیونکہ ہمارا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بھارت ہماری امن کی کوشش کو ہماری کمزوری سمجھ رہا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ مودی نے الیکشن مہم کے لیے ایسے حالات پیدا کیے۔ اپنے ملک میں جنگی جنون پیدا کیا تاکہ اینٹی پاکستان مہم چلاکر الیکشن جیت سکیں، ہم نے سوچا کےبھارت میں الیکشن کے بعداس سےبات کریں گے، بھارت نے پہلے سے ہی مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، بھارت نے کل جو اقدام اٹھایا وہ ان کا انتخابی منشور کا حصہ تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قائد اعظم محمدعلی جناح ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے، وہ انگریز سے آزادی چاہتے تھے لیکن بعد میں اسے ہندو راج کا علم ہوا، قائد اعظم پہلے آدمی تھے جنہوں نے بھارت کا نظریہ دیکھ لیاتھا، آج ہم قائداعظم کو سلام پیش کرتے ہیں، بھارت میں مسلمانوں کے لیے ایک تعصب ہے، آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی یہ تھی کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہوگا۔ ماضی میں پاکستان کی آزادی کو غلط کہنے والے کشمیری لیڈر آج قائد کے دو قومی نظریے کو درست سمجھ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہا پلوامہ واقعے کے بعد بھارت نے اپنے طیارے بھیجے تو ہم نے صورت حال کو دیکھا، ہمیں پتہ چلا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تو فیصلہ کیا گیا کہ وہی کیا جائے گا جو انہوں نے کیا، اگر بھارت کے حملے میں کوئی جانی نقصان ہوا ہوتا تو پاک فضائیہ نے بھی ایسے اہداف نشانے پر رکھے تھے جس سے انہیں بھی اتنا ہی نقصان ہوتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تو پھر جنگ ہوگی، یہ ہو نہیں سکتا کہ بھارت حملہ کرے اور اہم ان کا جواب نہ دیں، اگر ایسا ہوا تو جنگ ہوگی، اس جنگ کا نتیجہ ہمارے حق میں ہوگا یا خلاف جائے گا۔ اگر ہمارے خلاف فیصلہ آیا تو ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں ، ایک بہادر شاہ ظفر کا اور دوسرا ٹیپو سلطان کا۔ ہم بہادرشاہ ظفر کی طرح ہار مان لیں گے یا ٹیپوسلطان کی طرح آخری دم تک لڑیں گے۔

پلواما واقعے کے بعد بھارت کو باربارکہا دو ایٹمی قوتیں جنگ کی طرف نہیں جاسکتیں، کشمیر میں یہ جدوجہد اب اور شدت اختیار کرے گی، دوبارہ پلواما جیسا واقعہ ہوا تو بھارت پھر ہم پر الزام لگائے گا، سب جانتےہیں کہ پلواما واقعے میں پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے آزاد کشمیر میں کچھ کیا تو ردعمل آئے گا، اہل ایمان موت سے نہیں ڈرتا، مسلمان رب کو خوش کرنے کیلیے انسانیت کا سوچتا ہے، ہم اس لیے امن کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا دین انسانیت کا سبق دیتا ہے، اگر اب دنیا کچھ نہیں کرے گی تو اس کے سنگین  نتائج ہوں گے،میں نیوکلیئر بلیک میل نہیں  کررہا لیکن دنیا نے اس معاملے پر کچھ نہ کیا تو حالات مزید خراب ہوں گے اور سب کا نقصان ہوگا۔ ہم بھارت کے خلاف جرائم کی عالمی عدالت جانے کی تیاری کررہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس

اسلام آباد: بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد لائحہ عمل کی تیاری کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا جس میں ارکان اسمبلی سمیت وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی شریک ہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر نے اجلاس میں بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزی اور کلسٹر بموں کے استعمال پر بحث کے لیے تحریک پیش کی تاہم تحریک میں آرٹیکل 370 کے بنیادی معاملے کو شامل نہ کرنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج جس کے بعد اعظم سواتی نے آرٹیکل 370 کو بحث میں شامل کرنے کی ترمیمی تحریک پیش کی۔

اپوزیشن احتجاج؛

اپوزیشن کے مطالبے پر آرٹیکل 370 کے نفاذ سے پیدا شدہ صورتحال پر بحث کی تحریک منظور کرلی گئی اور اسپیکر نے بحث کے آغاز کے لئے شیریں مزاری کو مائیک دیا تاہم بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے نہ کروانے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا جب کہ اپوزیشن نے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت کا بھی مطالبہ کیا۔

اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کیا تاہم ہنگامہ آرائی کے باعث مشترکہ اجلاس کو مزید کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

اپوزیشن حکومت مذاکرات؛

مشترکہ اجلاس کا ماحول بہتر بنانے کے لیے اپوزیشن اور حکومت کے اسپیکرکی موجودگی میں مذاکرات ہوئے جس میں اپوزیشن کی جانب سے خورشید شاہ، نوید قمر، شازیہ مری اور ایاز صادق نے شرکت کی جب کہ حکومت کی جانب سے شفقت محمود، شیریں مزاری اور عامر ڈوگر شامل ہوئے تاہم حکومتی وفد اپوزیشن کو راضی نہ کرسکا۔

دوسری جانب اپوزیشن ارکان اسمبلی نے اسپیکر اسد قیصر کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم سمیت غیر حاضر ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیےجائیں، ایم این اے اور وزیراعظم عمران خان کو جوائنٹ سیشن میں طلب کریں، ایوان کے تمام ارکان کو جوائنٹ سیشن میں آناچاہیے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے، پارلیمانی اجلاس کو پوری دنیا اور کشمیری دیکھ رہے ہیں، یہاں سے بھارت نے جو غلط فیصلہ کیا اس پر بڑا مثبت پیغام جانا ہے۔

وزیراعظم پالیسی بیان؛

اپوزیشن اور حکومت کے درمیان معاملات طے پانے کے بعد اجلاس 4 بجے دوبارہ شروع ہوا تو وزیراعظم عمران خان نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ جنگ و جدل کا سب سے بڑا اثر معیشت پر پڑتا ہے، ہماری حکومت کی پہلی ترجیح پاکستان سے غربت کا خاتمہ تھا، اس لیے ہم چاہتے تھے کہ پڑوسیوں سے بہتر تعلقات ہوں، پلواما واقعے کے بعد بھارت کو سمجھایا کہ پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، بھارت کا پائلٹ پکڑا اور فوری واپس کردیا کیونکہ ہمارا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا تاہم بھارت ہماری امن کی کوشش کو ہماری کمزوری سمجھ رہا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مودی نے الیکشن مہم کے لیے ایسے حالات پیدا کیے، اپنے ملک میں جنگی جنون پیدا کیا تاکہ اینٹی پاکستان مہم چلاکر الیکشن جیت سکیں، ہم نے سوچا کے بھارت میں الیکشن کے بعد اس سے بات کریں گے، بھارت نے پہلے سے ہی مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، بھارت نے کل جو اقدام اٹھایا وہ ان کا انتخابی منشور کا حصہ تھا۔

شہباز شریف کا مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال؛

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ 71 سال میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرے لیکن مودی نے یہ کردیا، مودی سرکار نے صرف کشمیر میں نہ صرف حقوق نہیں چھینے بلکہ پاکستان کی غیرت اور عزت کو للکارا ہے، اور اقوام متحدہ کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے اور پوری مہذب دنیا کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ ہے،مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیاہے، کشمیر کی صورتحال پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے،کشمیر میں جو کچھ ہوچکا ہے اس پر روایتی مذمت اور متفقہ اور قرارداد سے کام نہیں چلے گا، ہمیں ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو پتہ چل سکے کہ ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں، ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب ہمیں کشمیر پر ڈٹ جانا چاہیے، بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے ہمیں اس کے ہاتھ کاٹ دینے چاہیئں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم؛

واضح رہے کہ مودی سرکار نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کوختم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

لوک سبھا میں مقبوضہ کشمیر کیخلاف متنازع قانون سازی پر ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ

نئی دلی: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق بل لوک سبھا میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن ارکان نے سخت مخالفت کی اور مودی سرکار کی جارحیت کیخلاف شدید احتجاج کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راجیہ سبھا سے منظوری کے بعد وزیر داخلہ امیت شاہ نے آئین کے آرٹیکل 35-اے اور 370 کی منسوخی کا بل آج لوک سبھا میں پیش کیا تو اپوزیشن ارکان نے پہلے سے پیش کردہ تحریک التوا پر اسپیکر سے اجلاس کا ایجنڈا ملتوی کرنے کی درخواست کر دی۔

اسپیکر لوک سبھا نے اپوزیشن ارکان کی درخواست کو بلڈوز کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو بل پیش کرنے کی ہدایت کی جس اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور بی جے پی کی عددی اکثریت رکھنے کے باعث اسمبلی میں غنڈہ گردی کیخلاف شدید احتجاج کیا۔

لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما نے ادھیر رانجن چوہدری نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں مودی حکومت نے امریکی ثالثی کے معاملے پر کہا تھا کہ یہ پاکستان اور بھارت کا اندرونی معاملہ ہے تو کیا اب یہ ایک اندرونی معاملہ نہیں رہا۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنر جی نے بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بل کو تسلیم نہیں کرتے اور ہر سطح پر متنازع بل کیخلاف آواز اُٹھائیں گے۔ اتنی اہم اور بڑی قانون سازی یک طرفہ طور پر محض عددی اکثریت کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہیئے تھا۔

دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی مودی سرکار کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاہ قانون کو عددی طاقت کی بنیاد پر منظور کروا کر آئین کی توہین کی گئی ہے جس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ وقتی کامیابی پر خوشی سے نہال بی جے پی کو مستقبل میں شرمندگی اور پچھتاوے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران بڑھکیں مارتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جان لے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور کشمیر کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔ حکومتی ارکان کی بڑھکوں اور اپوزیشن کے شور شرانے کے دوران بل منظور کرلیا گیا۔

 

بھارت کامقبوضہ وادی کے حوالے سے فیصلہ!،خطے میں کشیدگی بڑھنے کاخطرہ

بھارت نے مقبوضہ کشمیرکے حوالے سے تاریخی غلط فیصلہ کرکے خطے میں وہ آگ لگائی ہے جس میں وہ خود جل کربھسم ہوجائے گا،مودی کی تاریخ دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی جانب سے کسی بھی قسم کے اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے ،پہلے اس نے گجرات میں بے گناہ مسلمانوں کے خون سے زمین کو رنگین کیا اوراس مرتبہ الیکشن مہم کے دوران اس نے کہہ دیاتھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اس قسم کا ناقابل یقین اورگھناءونا اقدام اٹھائے گا،اس بل کے پاس ہونے سے قبل مقبوضہ وادی کومکمل طورپر فوجی چھاءونی میں تبدیل کرکے کرفیوکاسماں پیدا کردیاگیا،تمام حریت قیادت کوپابندسلاسل کردیاگیا،نہتے کشمیریوں کی شہادت میں اضافہ ہوگیا،مقبوضہ کشمیرکادنیابھرسے رابطہ منقطع کردیاگیا،یہ تمام ترتماشہ بین الاقوامی برادری دیکھتی رہی، بھارت وادی کو اسرائیل ماڈل میں تبدیل کرنے کے لئے اوراپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے نہایت سُرت سے مصروف رہا اورآخرکاراس نے مقبوضہ وادی کی علیحدہ حیثیت کو ختم کرکے خطے میں ایک لحاظ سے اعلان جنگ کردیا،جس کی وجہ سے اس وقت حالات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں ۔ گزشتہ روز بھارت نے بین الاقوامی قوانین اورجموں وکشمیرکے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کرتے ہوئے بھارتی آئین کی دفعات 370اور35;65; کومنسوخ کردیا اور آئین کے تحت مقبوضہ علاقے کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کردی،بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دوحصوں میں تقسیم کرکے وادی کشمیر اور جموں خطے کو یونین ٹیریٹوری قراردیا جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی جبکہ لداخ قانون ساز اسمبلی کے بغیر مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہوگا، حکم نامے کے نفاذ سے بھارت مقبوضہ علاقے میں بھارتی شہریوں کو بساکرآبادی کا تناسب اور مقامی کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرسکتاہے،اس طرح بھارت نے جموں وکشمیر کے 92سالہ پرانے اسٹیٹ سبجیکٹ قوانین تبدیل کردیئے، بھارتی حکومت کی طرف سے دفعہ 370کو منسوخ کرنے کے یکطرفہ فیصلے سے مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی غیریقینی صورتحال کے دوران قابض انتظامیہ نے وادی کشمیر اورجموں میں کرفیو نافذ کرکے لوگوں کی نقل وحرکت اورعوامی جلسوں اور ریلیوں کے انعقادپر مکمل طورپرپابندی عائد کردی ہے، تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیاگیا ہے جبکہ پورے جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ سروسز معطل اور تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں ،وادی کشمیر اور جموں خطے میں اضافی فورسز تعینات کردی گئی ہیں ،سول سیکرٹریٹ، پولیس ہیڈکوارٹرز، ہوائی اڈوں اور دیگر سرکاری اداروں سمیت اہم تنصیبات کی سکیورٹی کیلئے بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد تعینات کردی گئی ہے، سرینگر اور دیگر شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر رکاٹیں کھڑی کردی گئی ہیں ، سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق سمیت تمام حریت قیادت کو گھروں اورجیلوں میں نظربند کردیا گیا ہے،بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے راجیہ سبھا میں پیش بل کے حق میں 125جبکہ مخالفت میں 61ووٹ آئے، بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے مذکورہ بل پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہوگیا ،ہندو انتہا پسند بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے راجیہ سبھا میں خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی گئی،امیت شاہ نے کہا کہ مناسب وقت آنے پر جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کردیا جائے گا تاہم اس میں وقت لگ سکتا ہے، کشمیر جنت تھا ، ہے ا ور رہے گا ۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بھارت کی جانب سے وادی کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے برصغیر پر تباہ کن نتاءج برآمد ہوں گے،مودی سرکار کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کا 1947 کے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصاد م ہے، بھارتی حکومت کا یک طرفہ فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، بھارت کشمیر میں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گیا ہے، انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کا دو قومی نظریہ ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا، بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو غزہ کی پٹی کی طرح بنانا چاہتی اور کشمیر کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہتی ہے جو اسرائیل فلسطین کے ساتھ کر رہا ہے،اس یکطرفہ فیصلے کے برصغیر پر دور رس اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کی تبدیلی کا بھارتی اعلان سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی قرار دے دیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ملائشین ہم منصب مہاتیر محمد اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو ٹیلی فون کرکے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ تبدیلیوں سے ;200;گاہ کیا ۔ ترک صدر نے یقین دہانی کرائی کہ ترکی کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا ۔ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیلی کا بھارتی اعلان سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، بھارت کا یہ غیر قانونی اقدام خطے کے امن و سلامتی کو تباہ کردے گا ۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا ۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر اور کنٹرول لائن کی تشویش ناک صورت حال پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھ دیا ۔ شاہ محمود قریشی نے خط میں لکھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کالے قانون کے تحت نہتے کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، لائن ;200;ف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے فائرنگ اور گولہ باری میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ;200;گاہ کیا کہ یہ رائے عام ہو رہی ہے کہ بھارت، ;200;رٹیکل 35 اے اور 370، جن کے تحت مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو خصوصی اسٹیٹس، حقِ ملکیت اور حقِ شہریت حاصل ہے، اسے ختم کرنے کے درپے ہے ۔ ;200;ئینی ترامیم سے بھارت عوامی رائے عامہ کو تبدیل نہیں کر سکتا،پاکستان مسئلے کو پر امن طور پر حل کرنے کا خواہشمند ہے ۔ آج بھارت خود ہی کشمیر ایشو کو عالمی دنیا کے سامنے لے آیا ہے،کشمیری رہنماءوں کی گرفتاری پر پاکستان مذمت کرتا ہے ۔

پاکستان عالمی برادری کومتحرک کرے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری فوج اورفضائیہ تیار ہے،معاشی مشکلات ضرورہیں ، یہ مشکل وقت ہے ،قوم کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، پاکستان کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھائے ، بھارت نے جو حد پارکرنی تھی وہ تو کردی ہے،بھارت کہاں سے جمہوری ملک ہے، لاپتہ افراد پر2005 میں میری خبر پر ایکشن ہوا تھا،آمنہ جنجوعہ کی خبر کوئی نہیں لگاتا تھا میں نے خبر لگائی ،لاپتہ افراد پر میں باقاعدہ طورپر عدالت میں پیش ہوتا رہا ہوں ،سینئر تجزیہ کار محمد مالک نے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ٹرمپ کارڈ ڈنلڈ ٹرمپ ہی ہیں ،پاکستان دنیا کو باور کرائے کہ بھارت خطے کو جنگ کی طرف لے جارہاہے، مشیر صدر ٹرمپ ساجد تارڑنے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا الیکشن میں 370کو ختم کرنا منشور میں تھا،جس طرح بھارت نے کشمیر میں مزید فوج بھیجی افسوسناک ہے،یہ ساری چیزیں دنیا دیکھ رہی ہے صدر ٹرمپ واحد امریکی صدر ہیں جنہوں نے مسئلہ کشمیر کوسنجید گی سے اجاگر کیا،امریکہ میں بھارتی لابی بہت زیادہ مضبوط ہے، ائیر مارشل (ر)مسعود اختر نے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مودی نے اپنے پاؤں پرخود کلہاڑی ماری ہے،پاکستان کو پوری دنیا کو بتانا چاہیے کہ کشمیر میں کتناظلم ہورہاہے ۔

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے، آرمی چیف

 راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا ساتھ دیتی رہے گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کشمیر کی صورتحال پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کورکمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں بھارت کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق غیر آئینی اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں حکومت کی جانب سے بھارتی اقدام مسترد کرنے کے فیصلے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان نے کبھی بھی جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو قانونی بنانے والے آرٹیکل 370 یا 35 A کو تسلیم نہیں کیا تاہم اب بھارت نے خود ہی اس کھوکھلے بہانے کو ختم کر دیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا ساتھ دیتی رہے گی، ہم ہر طرح کے حالات کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور پاک فوج اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

دہشت گرد تنظیموں کو قربانی کی کھالیں ہرگز نہ دیں

پاکستان میں ہر سال عید الضحیٰ کے موقع پر اربوں روپے مالیت کے جانور قربان کیے جاتے ہیں ۔ امسال بھی پاکستان میں 1 کروڑ 5 لاکھ جانور قربان کئے جانے کی توقع ہے ۔ ان جانوروں کی کھالیں بھی ثواب کی نیت سے لوگ مختلف امدادی تنظیموں ، دینی مدارس اور یتیم خانوں کو دیتے ہیں ۔ تاہم گزشتہ چند سالوں میں مختلف جہادی اور شدت پسند تنظیموں بھی کھالیں اکٹھی کرنے کے کام میں پیش پیش ہیں ۔ ذوالحج کی آمد کے ساتھ ہی فلاحی تنظیموں اور دینی مدارس نے چرم قربانی اکٹھے کرنے کیلئے بینر، پوسٹر اور تنظیمی پتے اور فون نمبرز والے شاپنگ بیگز تقسیم کرنا شروع کر دیئے ۔ حکومتی ہدایت کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تنظیموں کی ایسی سرگرمیوں کی نگرانی کا بھی پلان تیار کر لیا ہے تاکہ چرم ہائے قربانی کسی دہشت گردی کے مقصد کے لئے استعمال نہ کئے جاسکیں ۔ عید کے موقع پر بکرے یا دنبے وغیرہ کی ایک کھال پندرہ سو سے تین ہزار روپے جبکہ گائے یا بیل وغیر کی فی کھال پانچ سے لے کر دس ہزار روپے تک فروخت کی جاتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق قربانی کی کھالوں سے حاصل ہونے والی رقم کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کے لئے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہیں ۔ اسی لیے انتظامیہ نے عید الاضحی کے موقع پر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کالعدم اور نام بدل کر کھالیں جمع کرنے والی جماعتوں پر نظر رکھیں اور انہیں ہرگز کھالیں نہ دیں ۔ شہری ملک دوست تنظیموں اور جماعتوں کو کھالیں دیں اور انتہا پسند ، کالعدم اور فرقہ پرست جماعتوں کو کھالیں دینے سے گریز کیا جائے ۔ کھالیں جمع کرنے کی شکایات پر کالعدم جماعتوں کے خلاف رینجرز کارروائی کریگی ۔ عیدالضحیٰ کے موقع پر پاکستانی طالبان سمیت دوسری دہشت گرد تنظی میں قربانی کی کھالوں کو اکٹھا کر کے، ان سے حاصل کردہ رقم کو ،اپنی جہادی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کیلئے کوشاں ہیں ۔ قربانی کی یہ کھالیں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کیلئے فنڈز کی فراہمی و دستیابی کا بہت بڑا ذریعہ ہونگی ۔ قربانی کی کھالیں جمع کرنے والوں میں پاکستانی طالبان ، جماعت الدعوۃ ، تحریک غلبہ اسلام، حرکت المجاہدین، انصار الامہ ،جیش محمد اور اہل سنت والجماعت جیسی کالعدم تنظیموں شامل ہیں جو کھالیں جمع کرنے کے بعد ٹینریز کو فروخت کر دیتی ہیں ۔ مگر قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے اپنے الحاقی یا ذیلی گروہوں کے ذریعے یہ عمل سرانجام دیتی ہیں ۔ دہشت گرد تنظیموں کے ارکان مختلف علاقوں میں گھوم پھر کر اپنے ہم خیال لوگوں کو اس بات پر تیار کرتے ہیں کہ وہ جہاد کے فلسفے کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کی کھالیں انہیں عطیہ کریں ۔ یہ تنظی میں پمفلٹ اور بینرز کے ساتھ ساتھ جمعہ کے اجتماعات میں بھی اپنی مہم چلاتے ہیں اور اکٹھا ہونے والا روپیہ پیسہ اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کےلئے اور اپنی طاقت بڑہانے استعمال کرتی ہیں ۔ اس پیسے کے بل بوتے پر دہشتگرد اسلحہ خریدتے ہیں اور پھر خودکش حملوں اور بم دہماکے کرتے ہوئے پاکستان کے معصوم و بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔ وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کر نے والے اداروں نے قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکٹھی کرنے والی تنظیموں کے کواءف کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے ۔ کسی بھی کالعدم تنظیم کو چرمہائے قربانی اکٹھی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ چرمہائے قربانی اور دیگر عطیات اور صدقات اکٹے کرنے والی تنظیمواں نے جا بجا بینرز اور پوسٹرز چسپاں کرنا شروع کر دیئے ہیں ۔ شہر میں اس ضمن میں کام کرنے والی تنظیموں کے کواءف اور ان کے مقاصد کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے تاکہ یہ عطیات دہشت گردی یا انتہا پسندی کے مقاصد کے لئے استعمال نہ ہوسکیں ۔ وزارتِ داخلہ نے پاکستان بھر میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائد کر دی اور اس سلسلے میں 65 کالعدم تنظیموں کی فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے ۔ صرف وہ تنظی میں کھالیں جمع کر سکیں گی جنہیں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے این او سی جاری ہوگا ۔ عید الضحیٰ کے تینوں ایام میں اجازت نامہ حاصل کرنے والی تنظیموں پر یہ لازم ہوگا کہ ان کے رضا کار کھالیں جمع کرنے کے موقع پر اپنا اصل قومی شناختی کارڈ متعلقہ ادارے یا تنظیم کا کارڈ اور محکمہ داخلہ یا ڈپٹی کمشنر کاجاری کردہ اجازت نامہ اپنے ہمراہ رکھیں ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ عید الضحیٰ کے موقع پر کھالیں جمع کرنے والوں کی مکمل مانیٹرنگ ہوگی اور زبردستی کھالیں جمع کرنے والوں کےخلاف ’دہشت گردی ایکٹ‘ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے ۔ ہ میں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم دہشتگردوں کے ہاتھوں اپنے ملک کومکمل تباہ وبرباد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر اس کوبچانا چاہتے ہیں ;238; یقیناً تمام پاکستانی، اپنے وطن پاکستان سے محبت رکھتے ہیں ۔ لہذا ہم سب کو چاہیے کہ وہ اپنے قربانی کے جانوروں کی کھالیں دہشتگرد تنظیموں کو ہر گز ہر گز نہ دیں بلکہ یتیم خانوں اور دوسرے مستحق اداروں اور خیراتی اداروں کو دیں اور وطن پاکستان کو دہشتگردوں سے بچانے کےلئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں ۔

ہماری شہہ رگ پر ہاتھ ڈالنے والے مودی کے ہاتھ کاٹ دینے چاہیئں، شہباز شریف

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے ہمیں اس کے ہاتھ کاٹ دینے چاہیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے کہا کہ 71 سال میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ  کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرے لیکن مودی نے یہ کردیا، مودی سرکار نے صرف  کشمیر میں نہ صرف حقوق نہیں چھینے بلکہ پاکستان کی غیرت اور عزت کو للکارا ہے، اور اقوام متحدہ کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے اور پوری مہذب دنیا کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں  نسل کشی کا خطرہ ہے،مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیاہے، کشمیر کی صورتحال پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے،کشمیر میں جو کچھ ہوچکا ہے اس پر روایتی مذمت اور متفقہ اور قرارداد سے کام نہیں چلے گا، ہمیں  ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو پتہ چل سکے کہ ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں، ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب ہمیں کشمیر پر ڈٹ جانا چاہیے، بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے ہمیں اس کے ہاتھ کاٹ دینے چاہیں۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ کشمیر کے وجود کے ساتھ پاکستان کا تعلق ہے، پاکستان کشمیریوں کا ہے اور کشمیری پاکستان کے ہیں، وزیراعظم نے تاریخی حوالے سے بات کی لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود بھارتی اقدام پر حکومت کی پالیسی اور اس کا جواب کہاں ہے؟ اپوزیشن صبح 11 بجے سے ایوان میں ہے لیکن وزیراعظم عمران خان تاخیر سے آئے، یہ بتائیں کہ اپوزیشن سنجیدہ نہیں یا عمران خان ؟

شہباز شریف نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں ہمسایہ ممالک کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ تعلقات قائم کرنے ہیں ، ہماری ہندوستان سے 3 جنگیں ہوئیں،  وزیراعظم کی جب ٹرمپ سے ملاقات ہوئی جس میں امریکی صدر نے کہا کہ مودی نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا کہا ہے، بھارت نے خاموشی سے نہ صرف ثالثی کی نفی کی بلکہ جو اس نے کشمیر میں کرنا تھا وہ انجام دے دیا۔

’کارگل سے فوج کو نہ بلایا ہوتا، تو کشمیر آزاد ہوتا‘

بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے تعزیرات ہند کے آرٹیکل 370 کو ختم کیے جانے پر جہاں پاکستانی حکومت اور سیاستدانوں نے احتجاج کیا، وہیں شوبز شخصیات بھی کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی دکھائی دیں۔

بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیے جانے کی بولی وڈ شخصیات نے بھی مذمت کی اور اس عمل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کیے جانے پر مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت اور عوام بھی سراپا احتجاج ہے جبکہ پاکستانی عوام بھی وادی کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

جہاں پاکستان کے عوام کشمیریوں کے حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں، وہیں کئی شخصیات سوشل میڈیا پر وادی کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہی ہیں۔

کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والی شخصیات میں اداکارہ وینا ملک بھی شامل ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف متعدد ٹوئٹس کیے۔

اداکارہ نے مسئلہ کشمیر پر متعدد ٹوئٹ کیے — فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
اداکارہ نے مسئلہ کشمیر پر متعدد ٹوئٹ کیے — فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

وینا ملک نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال سمیت مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر بھی بات کی اور ساتھ ہی انہوں نے اپنے ٹوئٹس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم شریف کو بھی آڑے ہاتھوں لی

وینا ملک کے ٹوئٹس پر کئی افراد نے کمنٹس کیے، جن میں سے کچھ افراد نے ان سے اتفاق بھی کیا۔

وینا ملک نے کسی شخس کی نشاندہی کیے بغیر ایک ٹوئٹ کیا کہ ‘اگر 1999 میں ایک ضمیر فروش انسان نے اپنی فوج کو کارگل سے واپس نہ بلایا ہوتا تو آج کشمیر آزاد ہوتا‘۔

وینا ملک نے اس ٹوئٹ کے ساتھ ’کشمیر بلیڈس، انڈین آرمی ان کشمیر اور سیو کشمیر‘ جیسے ہیش ٹیگ بھی استعمال کیے۔

وینا ملک کے اس ٹوئٹ پر متعدد افراد نے مختلف قسم کے رد عمل کا اظہار کیا اور کئی افراد نے انہیں یاد دلایا کہ کارگل سے فوج کی واپسی کے حوالے سے قوم سب کچھ جانتی ہے۔

Google Analytics Alternative