Home » 2019 » August » 08

Daily Archives: August 8, 2019

پاکستان کا بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے  بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے جب کہ پاکستان نے اپنے ہائی کمشنر کو نئی دلی نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کے نئے ہائی کمشنر امین الحق کو 16 اگست کو بھارت جانا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ بھارتی ہائی کمشنر کو نکالنے سے متعلق بھارت کو آگاہ کردیا ہے، پاکستانی ہائی کمشنر بھی بھارت نہیں جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہائی کمشنر کی واپسی سے ہائی کمیشن کے اختیارات کومحدود کردیاجائے گا ، البتہ و اہگہ بارڈر کو مکمل طور پر بند نہیں کیاجائے گا، واہگہ بارڈر پر پیدل کراس کرنے والے دونوں ممالک کے شہریوں کو اجازت ہوگی جب کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان دوستی بس بدستور چلتی رہے گی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ تمام جاری منصوبوں اور معاہدوں کو معطل کردیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود کے استعمال سے متعلق حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیاجائے گا۔

واضح رہے کہ  مقبوضہ کشمیر سے متعلق متنازع اقدام پر پاکستان نے بھارت سے دو طرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمارے سفیر اب نئی دلی میں نہیں ہوں گے اور بھارت کے سفیر کو ملک واپس جانا ہوگا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف پارلیمنٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد: پارلیمنٹ نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے قرارداد متفقہ منظور کرلی۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں دوسرے روز بھی جاری رہا جس میں حکومت و اپوزیشن ارکان کی جانب سے بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں غیر آئینی اقدام پر شدید مذمت کی گئی۔

پارلیمنٹ کا کشمیریوں کی مکمل حمایت کا اعادہ

قرارداد میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے جب کہ  بھارت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور سویلین آبادی پر کلسٹر بم استعمال کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ  کشمیر عالمی سطح پر متنازعہ علاقہ ہے، مسئلہ کشمیر کا کوئی یک طرفہ حل قبول نہیں ہے، عالمی برادری بھارت کو مقبوضہ کشمیر بارے کوئی بھی یک طرفہ فیصلہ لینے سے روکے۔

قرارداد پیش کئے جانے سے قبل ارکان پارلیمنٹ نے موجودہ صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی سفارشات پیش کیں، وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور مشاہد حسین سید نے بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔

شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں پانچ بڑے فیصلے کیے ہیں، جن میں سے ایک پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کے اختیارات اور سفارتی سرگرمیاں محدود کردی جائیں گی اور اب ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا۔بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کشمیر کے مسئلے پر ڈرایا جائے اور مسئلہ کشمیر دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے، بھارت نے 5 اگست کو جو حرکت کی اس سے خود عالمی ممالک کو سب کچھ پتا چل گیا، بھارت نے اپنے اقدام سے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کردیا۔

شیریں مزاری

اجلاس شروع ہوا تو وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے یو این سیکرٹری جنرل کو خط لکھا ہے، مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کو بھی استعمال کریں گے، کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر مسلمان ممالک کیوں خاموش ہیں اور آواز کیوں نہیں اٹھارہے، ہم مسلم امہ کی بات کرتے ہیں، کدھر ہے وہ مسلم امہ جب مسلمانوں پر ظلم و تشدد ہورہا ہے، او آئی سی کو فعال کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

راجہ ظفرالحق

رہنما (ن) لیگ راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی خواہش ہے کہ اسے سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بنا لیا جائے، پاکستان کو بھی اپنے فرائض پورے کرنے چاہیے تھے، یہ بدقسمتی ہے کہ داخلی مسائل میں اتنے الجھے ہوئے ہیں، اپوزیشن کو نیچا دکھانے کے لیے تمام توانائیاں صرف کی جا رہی ہیں جب کہ ہمارے دوست ممالک نے بھی اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا، ترکی اور ملیشیا نے مؤثر جواب دینے کے بجائے کہا کہ گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم قدم بڑھائیں اپوزیشن اور قوم ان کے ساتھ ہیں، اچھا ہوتا اگر حکومت تیاری کے ساتھ اجلاس بلاتی، مسئلہ کشمیر اور وہاں قیام امن سے پوری دنیا کا امن وابستہ ہے، قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، کچھ عرصہ میں ایک لاکھ کشمیری شہید ہوگئے جب کہ کشمیری اس وقت پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں، کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے، کشمیر ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

آصف علی زرداری

سابق صدر اور شریک چئیرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری نے کہا کہ مشرقی پاکستان کے بعد کشمیر کا واقعہ اتنا ہی بڑا ہے، اندرا گاندھی نے بھٹو سے کہا فوجی لے لیں یا زمین، بھٹو نے کہا زمین دیدیں، بھارتی قیادت سے ہمیں زمین واپس مل گئی، ہم مشرقی پاکستان کی جنگ ہارے، وجوہات میں نہیں جاناچاہتا۔ کیا بھارت کو نہیں معلوم پاکستان میں ٹیلر میڈ جمہوریت چل رہی ہے، معیشت ٹھیک نہیں وہ سب جانتےہیں تاہم حکومتی ٹیم کو کیا پتا بین الاقوامی تعلقات کیا ہوتے ہیں، جو آپ کر رہے ہیں اسی لیے تو آج آپ تنہا ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر لڑنے والے کشمیریوں پر بھی فخر ہے، کشمیری دن دہاڑے پاکستان کا پرچم سر پر باندھ کر نکلتے ہیں، واجپائی کی پارٹی اور مودی میں اختلافات پیدا ہوں گے جب کہ نہرو اور واجپائی کو سوچ کو دفن کر دیا گیا ہے۔

شیخ رشید

وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ مودی نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو کشمیریوں کے لیے جوالہ بنے گا، اب کشمیری گھر میں نہیں بیٹھیں گے، اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، بی جے پی نے 300 امیدواروں کو ٹکٹ دیے جن میں ایک بھی مسلمان نہیں تھا، آج بھارت کا 24 کروڑ مسلمان پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے، آرٹیکل 370 ناگالینڈ اور آسام میں لگا ہے،عنقریب حالات بدلنے جا رہے ہیں، آرمی چیف جلد چین جائیں گے جب کہ لداخ پر چین کو بھی تحفظات ہیں، تاریخ فیصلہ کرنے جا رہی ہے، کشمیر میں گلی گلی میں برہان وانی ہے۔

فواد چوہدری؛

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ اگر ہمیں لڑنا پڑا تو لڑیں گے اور مرنا پڑا تو مریں گے لیکن بے عزتی کے ساتھ زندہ نہیں رہیں گے، کشمیریوں کے لیے کٹ مریں گے لیکن کشمیر کو فلسطین نہیں بننے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھارت نے بات ہی نہیں کرنی تو ان کا سفیر یہاں کیا کررہا ہے، ہمیں بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے چاہئیں، لڑائی ہوئی تو قوم کا بچہ بچہ فوج کے شانہ بشانہ لڑے گا، یہ تاثر نہ جائے کہ ہم لڑنے سے بھاگ رہے ہیں۔

مشاہد حسین

مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین سے ہمارے گہرے تعلقات ہیں، چین اور ترکی کے علاوہ کسی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، کل وزیراعظم نے کہا میں یہ مسئلہ حل کر لوں گا، اکیلا شخص یا پارٹی کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے، اتفاق رائے سے ہی تمام مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 100 روز کے لیے ڈپلومیسی ایمرجنسی نافذ کی جائے، ہمیں اپنا سفیر واپس بلا کر بھارت کا سفیر نکال دینا چاہیے، وزارت خارجہ کو اگلے 100دنوں میں جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، اسلام آباد میں اکھنڈ بھارت کے بینر لگ گئے، اس کا مطلب ہے اسلام آباد میں را کے ایجنٹ موجود ہیں۔

پاکستان کا بھارت سے دوطرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ

 اسلام آباد: بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے پر پاکستان نے بھارت سے دو طرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیرخارجہ، وزیردفاع، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ایئرچیف،  نیول چیف سمیت ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال پر غور کیا گیا جب کہ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ  بھارت سے ہر قسم کی تجارت فوری طور پر معطل اور سفارتی تعلقات محدود کیے جائیں گے۔

اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملا اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے گا، اس کے علاوہ  14 اگست کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانےاور 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے وزیر اعظم کی بنائی گئی کمیٹی کو اہم امور سونپ دئیے  ہیں، وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی تمام قانونی امور کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کری گی،  فی الحال بھارت کے ساتھ تعلقات نچلی سطح پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیرمیں تازہ پابندیاں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید ابترکریں گی، اقوام متحدہ

نیویار: اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی نے کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں تازہ پابندیاں خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید ابتر کریں گی۔

ترجمان اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی نے کہا ہے کہ 8 جولائی کی پورٹ میں کشمیرمیں بھارتی مظالم کا ذکرکیا تھا، جس میں بتایا تھا کہ ترجمان کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقبوضہ کشمیرکی انتظامیہ سیاسی مخالفین کو سزا دینے کے لیے عقوبت خانوں کا استعمال کرتی ہے، مقبوضہ وادی میں مظاہرین سے نمٹنے کے لیے ماورائےعدالت قتل کیا جارہا ہے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ بھارت کشمیر میں اختلاف رائے دبانے کے لیے ذرائع مواصلات بند کرتا ہے، اورذرائع مواصلات پرموجودہ پابندی کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس وقت مقبوضہ کشمیرکےسیاسی قائدین زیر حراست ہیں، مقبوضہ کشمیرکی ریاستی اسمبلی پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں،  پابندیوں سے مقبوضہ کشمیر کےعوام ، نمائندےجمہوری بحث میں حصہ لینے سے محروم ہو رہے ہیں۔

ترجمان اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں تازہ پابندیاں خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید ابترکریں گی، انسانی حقوق کمیٹی تنبیہ کرتی ہے کشمیر سے معلومات کا باہر نہ آنا باعث تشویش ہے۔

ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے اور بھارتی سفیر کو بھی جانا ہوگا،وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا۔

پارلیمنٹ میں خطاب سے قبل ایک انٹرویو میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں پانچ بڑے فیصلے کیے ہیں، جن میں سے ایک پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کے اختیارات اور سفارتی سرگرمیاں محدود کردی جائیں گی اور اب ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کشمیر کے مسئلے پر ڈرایا جائے اور مسئلہ کشمیر دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے، بھارت نے 5 اگست کو جو حرکت کی اس سے خود عالمی ممالک کو سب کچھ پتا چل گیا، بھارت نے اپنے اقدام سے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کردیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کی 5 اگست کی حرکت بڑی حماقت تھی، تاریخ بتائے گی اس فعل سے بھارت کے وفاق پر کاری ضرب لگی ہے، وقت بتائے گا یہ بھارتی اقدام کا نقصان خود اسے ہی ہوگا، راجیہ سبھا میں بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے قراردادیں دھوکے سے پیش کیں لیکن بھارتی اپوزیشن نے امیت شاہ کی بات سننے سے انکار کردیا، سب لوگ سمجھتے ہیں مودی سرکار نے مسئلہ کشمیر کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ کردیا ہے، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کی تمام قیادت نے بھی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ مودی سرکار کے ایک فیصلے نے تمام کشمیریوں کو یکجا کر دیا، مودی آج کرفیو اٹھائے اور کشمیریوں سے پوچھے کہ 5 اگست کے اقدام پر آپ پر آپ کی کیا رائے ہے ہے تو اسے پتا چل جائے گا، جو غیرقانونی فعل بھارت نے کیا اس پر بھارت میں بھی تنقید کی جا رہی ہے، محبوبہ مفتی نے اعتراف کیا کہ  ہمارے بڑوں سے تاریخی غلطی ہوئی تھی، چدمبرم نے کہا تاریخ بتائے گی 5 اگست بھارت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، بھارت کےاندرایک قانون بحث چھڑگئی ہے اور بھارتی سپریم کورٹ میں بھی اس غلط فیصلے کے خلاف پٹیشن دائر ہو گئی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ہماری اس بھارتی اقدامات کی تیاری نہیں کی، ہمیں اندازہ ہو رہا تھا بھارت کچھ نہ کچھ کرنے جا رہا ہے، 31جولائی کو کشمیر کمیٹی کو دعوت دی جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی تھی، پاکستان نے یکم اگست کومسئلہ کشمیر پر پاکستان کے تحفظات اقوام متحدہ کو بھجوائے اور اقوام متحدہ کو کنٹرول لائن اور کشمیر پر مداخلت کا کہا، پاکستان کا لکھا مراسلہ سلامتی کونسل کے ہر ممبر میں تقسیم کیا گیا، ہم نے او آئی سی سے بھی رابطہ کیا انہوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا، 5اگست کو بھارت نے کچھ اقدامات کیے جن کی فی الفور مذمت کی گئی۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ آج ہر کشمیری بچہ یونین کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے اور کشمیری  پاکستانی پارلیمان کا فیصلہ سننے چاہتے ہیں، تمام ارکین اسمبلی بشمول اپوزیشن نے ثابت کیا کہ کشمیر کاز پر ہم سب متفق ہیں، آج ہماری قرارداد بھارت کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام ہو گا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6 نوجوان شہید اور 100 زخمی

سری نگر: قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 6 کشمیری شہید اور 100 زخمی ہوگئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری پر کاری وار کرکے مودی سرکار نے پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے، خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف سری نگر، پلوامہ، بارہ مولا اور شوپیاں میں کشمیری احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے اور شدید نعرے بازی کی۔

قابض بھارتی فوج نے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نہتے اور معصوم مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر 6 نوجوان شہید ہوگئے جب کہ 100 کشمیری زخمی ہوئے۔ زیادہ تر مظاہرین پیلٹ گولیاں لگنے کے باعث زخمی ہوئے جب کہ آنسو گیس کی شیلنگ سے شہری بے حال ہوگئے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل مودی سرکار نے آرٹیکل 35-اے اور 370 کو منسوخ کرکے کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا اور کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا تھا جس کے بعد سے تمام کشمیری رہنما گرفتار، کرفیو نافذ، نیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل ہیں۔

سیاسی و عسکری قیادت کا مقبوضہ کشمیر کیلئے ہر حد تک جانے کا عزم

سیاسی و عسکری قیادت نے بغیر کسی تمہید کے بھارت کو واضح پیغام دیدیا ہے کہ کشمیر کیلئے ہر حد تک جائیں گے، کچھ ہوا تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ، مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کیخلاف اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی ۔ ہم عالمی عدالت انصاف میں بھی جانے کا سوچ رہے ہیں ۔ بھارت نے حملہ کیا تو بھرپور جواب دیں گے، خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے، بہادر شاہ ظفر نہیں ٹیپو سلطان کا راستہ اختیار کیا جائے گا ۔ بھارت کشمیریوں کو کچلے گا تو پلوامہ جیسا ردعمل آئے گا اور الزام پاکستان پر عائد کردیا جائے گا ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ میں کوئی نیو کلیئر بلیک میلنگ نہیں کررہا یہ ایکشن لینے کا وقت ہے، دنیا سے اپیل ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین پر عملدرآمد کرائے ۔ اگر کچھ ہوا تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے ماضی میں ایکشن نہ لینے کی وجہ سے بھارت کو شہ ملی ۔ وزیراعظم کی یہ بات بالکل درست ہے پاکستان 7 دہائیوں سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہر فورم پر آواز اٹھا رہا ہے لیکن بین الاقوامی برادری نے اس جانب توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں اور بھارت کو اتنی شہ ملی کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو ختم کرنے کیلئے آئین میں تبدیلی کرڈالی ۔ بھارت کی جانب سے بھارتی دستور کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کی تنسیخ کے ذریعے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی غیر قانونی اور جابرانہ کوشش لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کلسٹر بموں کا استعمال اور مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر آواز بلند کریں گے ہم عالمی عدالت انصاف میں جانے کا بھی سوچ رہے ہیں بھارت نے حملہ کیا تو جواب دینگے ،خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے پاکستان بہادرشاہ ظفر کا نہیں ٹیپو سلطان کا راستہ اختیار کرے گا انڈیاکشمیریوں کو کچلے گاتوپلوامہ جیسا رد عمل آئیگا اور الزام پاکستان پرلگے گا نیو کلیئر بلیک میلنگ نہیں کررہا یہ ایکشن لینے کا وقت ہے دنیا سے اپیل ہے وہ اپنے بنائے قوانین پر عملدرآمد کرائے کچھ ہواتوہم ذمہ دارنہیں ہوں گے ماضی میں ایکشن نہ لینے پر بھارت کو شہ ملی اگر اب دنیا نے کچھ نہ کیا تو اس کے سنگین نتاءج نکلیں گے اورپوری عالمی برادری متاثر ہوگی اگر جنگ ہوئی تو کسی کی فتح نہیں ہوگی سب ہارجائیں گے ہم نے خلوص نیت کے ساتھ بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں کیں تاہم بشکیک سربراہ اجلاس کے موقع پر ہ میں اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارت بات چیت میں سنجیدہ نہیں اور وہ اس پیشکش کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے بھارتی سوچ ساری دنیا کو نقصان پہنچا سکتی ہے عالمی برادری سے اس لئے خاموش ہے کہ بھارت میں زیادہ نقصا ن مسلمانوں کا ہو رہا ہے مگر اس کا ساری دنیا کو نقصان پہنچے گا ۔ یہ سیشن صرف کشمیر یا پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے آج یہاں سے یہ پیغام جانا چاہیے کہ پوری قوم اس معاملے پر اکٹھی ہے ۔ دوسری جانب کور کمانڈرز کانفرنس نے کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کو مسترد کرنے کے حکومتی فیصلہ کی مکمل تائید کی ہے جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج کشمیری عوام کی جدوجہد کی کامیابی تک ان کے ساتھ کھڑی ہے اورکشمیر کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے پاکستان آرمی اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے کیلئے مکمل تیار ہے ۔ کئی عشرے قبل آرٹیکل 370 اور 35 اے کے ذریعے جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو جائز قرار دینے کی نام نہاد بھارتی کوششوں کو پاکستان نے کبھی تسلیم نہیں کیا اور اب بھارت نے خود ہی ان کو منسوخ کر دیا ہے ۔

چین کی طرف سے بھی بھارت کو تنبیہ

چین نے کہا ہے کہ بھارتی اقدام ہماری خودمختاری کیلئے خطرہ ہے، قانون سازی کے باوجود مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہی رہے گا، لداخ چین پاکستان اور بھارت کے درمیان اسٹرٹیجک ایریا ہے اسے بھارت میں ضم کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں یکطرفہ طورپر قوانین میں تبدیلی ہماری سالمیت کیخلاف ہے جو کہ کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔ آرٹیکل 370 کا خاتمہ اور بھارتی اقدام غیر آئینی اورغیر قانونی ہے، نئی دہلی نے چین کی سرحدی خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جاری بیان میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے فیصلے پر بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ چین نے کہا بھارت کے ساتھ سرحد پر مغربی سرحد میں چینی حدود میں مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ۔ کشمیر کی صورتحال پر چین کو سخت تشویش لاحق ہے، ہم پاکستان اور بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے مذاکرات کے ذریعے تنازع کو حل کریں ۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہماری پوزیشن بہت کلیئر ہے ، یہ مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان عرصہ دراز سے چل آرہا ہے، عالمی برادری بھی اس پر متفق ہے کہ دونوں ممالک بیٹھ کر تحمل سے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کریں ۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں خرابی پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے، چین نے اپنے بیان میں زیادہ سے زیادہ بھارتی جموں وکشمیر کے لداخ کے تزویراتی اہمیت کے علاقے کے حوالے سے کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ چین نے مزید کہا بیجنگ پہلے ہی اپنے مغربی علاقے کی بھارت میں شمولیت کا مخالف ہے ۔ مسئلہ کشمیر میں چین بھی اہم فریق کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پاکستان اور تبت کے درمیان بدھ مت اکثریت کا حامل لداخ کا علاقہ اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے ۔ چین کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی برادری کو سمجھ جانا چاہیے کہ بھارت کتنا خطرناک خون اور آگ کا کا کھیل کھیل رہا ہے ۔ اگر اس کو نہ روکا گیا تو پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی کیونکہ پاکستان ،بھارت اور چین ایٹمی طاقت کی حامل قوتیں ہیں ۔

کشمیر ہماری شہ رگ ہے اسے کاٹنے نہیں دینگے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تو کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتے ہیں ، ہم شہ رگ کوکاٹنے نہیں دیں گے،کشمیری ہمارے مسلمان بھائی ہیں ،پارلیمنٹ اجلاس میں بین الاقوامی سطح پر اچھا پیغام نہیں گیا،اب وقت کاتقاضا ہے کہ ہ میں یکجہتی دکھانی چاہیے،پارلیمنٹ کی کارروائی اس سے بھی بہتر ہوسکتی تھی، آج سے 4پانچ سال بعد سپرپاور چین ہوگا،افغانستان کے مسئلے پر پاکستان پوری محنت کررہا تھا کہ مسائل حل ہوں ،پاک بھارت کشیدگی سے پورا خطہ اس لپیٹ میں آئے گا،امریکہ پاکستان کی جغرافیائی حالت کو نظر انداز نہیں کر سکتا،کشمیر کے حالات جہاں تھے وہاں لے کر آنا چاہئیں ،مودی نے تو آرٹیکل 370کا خاتمہ اپنے منشور میں رکھا ہوا تھا، بھارت میں پاکستان سے زیادہ غربت ہے،پاکستان کو بھارت کے اقدام کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا،فیصلہ تو سیاسی قیادت نے کرنا ہے فوج تو تیار ہے،ہ میں انٹرنیشنل کورٹس میں بھی جانا چاہیے، وزیراعظم کام پر لگے ہوئے ہیں ،انہیں قوم کو تازہ صورتحال بتانی چاہیے،اس مسئلے پر پیش رفت بہت جلدی ہونی چاہیے دیرنہیں ہونی چاہیے، تمام مسلم ممالک کو اکٹھا ہونا چاہیے،مسلم امہ اکٹھی نہیں ہوگی تو نتاءج اچھے نہیں ہونگے ۔ تمام مسلمان ممالک اکٹھے ہوجائیں اوردنیا کو پیغام دیں کہ ہم متحد ہیں ۔

مسئلہ کشمیر پر بھرپور سفارتی جنگ کی ضرورت

بھارت نے کشمیر کے مسئلہ کو مزید الجھاتے ہوئے اپنے ہی آئین کو توڑتے ہوئے لوک سبھا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی قرار داد اور مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور کرلیا ۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے اور مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کی قرار داد پیش کی جو ہاوَس نے 351 ووٹوں سے منظور کرلی ۔ اس قرار داد کی مخالفت میں صرف 72 ووٹ آئے ۔ قرار داد کی منظوری کے بعد امیت شاہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی 2 حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ ) میں تقسیم کا بل پیش کیا جو لوک سبھا نے 370 ووٹوں سے منظور کرلیا ۔ بل کی مخالفت میں 70 ووٹ آئے ۔ اس قرار داد اور بل کی منظوری راجیہ سبھا پہلے ہی دے چکی ہے ۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف پاکستان نے اقوام عالم اور اقوام متحدہ کو خط لکھے اور سفارتی محاذ پر تگ و دو شروع کر دی ۔ اس سلسلے میں پاکستان کو سفارتی کامیابیاں ملنی شروع ہوگئیں ۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )کے کشمیر ونگ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے ۔ ہنگامی اجلاس سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہوگا جس میں پاکستان ،سعودی عرب، آذربائیجان ، ترکی سمیت دیگر ممبر ممالک شرکت کریں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کی جانب سے بھی لائن آف کنٹرول پر بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ چین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی پر پاکستان اوربھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات حل کریں ۔ چین کا کہنا ہے کہ اسے جموں و کشمیر کی صورتحال پر سخت تشویش ہے ۔ کشمیر کے مسئلے پر چین کی پوزیشن واضح اور دوٹوک ہے ۔ اس پر عالمی اتفاق رائے بھی موجود ہے کہ کشمیر پاکستان اور چین کے مابین متنازعہ علاقہ ہے ۔ دونوں ملکوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی بھی کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے ۔ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ اب بھارت کشمیر میں کشمیریوں کی تعداد کم کر کے دیگر لوگوں کو بسائے گا تاکہ کشمیری اقلیت میں آ جائیں اور غلامی میں دب جائیں ۔ مجھے ان میں تکبر نظر آتا ہے جو ہر نسل پرست میں ہوتا ہے ۔ اگر پلوامہ جیسا کچھ ہوا تو یہ ردعمل دیں گے اور پھر ہم جواب دیں گے کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ پاکستان کے اندر حملہ کریں اور ہم جواب نہ دیں ۔ اگر ایسا ہوا تو پھر بات رواءتی جنگ کی جانب چلی جائے گی اور اگر جنگ ہوئی تویہ بات تو طے ہے کہ ایمان والا انسان موت سے نہیں ڈرتا ۔ اس کو صرف اپنے رب العالمین کو خوش کرنے کا لالچ ہوتا ہے اور وہ خوف میں فیصلے نہیں کرتا ۔ ہ میں انسانوں کی فکر ہے کیونکہ ہمارا دین انسانیت کا درس دیتا ہے ۔ ہم دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ معاملے کو دیکھیں گے کیونکہ اب اگر دنیا نے کچھ نہیں کیا تو پھر معاملہ آگے بڑھ جائے گا ۔ پلوامہ کے واقعہ پر بھی بھارت کو ہرطرح سمجھانے کی کوشش کی کہ اس میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن ہ میں تب بھی احساس ہو گیا کہ ان کے ہاں الیکشن ہیں اس لئے وہ پاکستان کو سکیٹ بورڈ بنا کر ناصرف کشمیری عوام پر کئے جانے والے ظلم و ستم سے دنیا کی نظریں ہٹانا چاہتا ہے بلکہ الیکشن جیتنے کیلئے وار ہسٹیریا بھی پیدا کر رہا ہے ۔ بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد ڈوزئیر بعد میں بھیجا اور جہاز پہلے بھیج دئیے لیکن الحمد اللہ پاکستان نے زبردست جواب دیا ۔ ہم نے سوچا کہ ہندوستان میں الیکشن ہو جائیں پھر بات چیت شروع کریں گے ۔ الیکشن ہو گئے پھر کوشش کی مگر انہوں نے ہماری امن کی کوشش کو کمزوری سمجھا ۔ اب بھارت نے کشمیر کیساتھ جو کچھ کیا ہے یہ ایک دن کی منصوبہ بندی نہیں بلکہ یہ ایک نظریہ ہے جو آر ایس ایس نے پیش کیا تھا ۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالیں گے اور ہندوستان صرف ہندووَں کا ہو گا ۔ کشمیر پر جو حملہ کیا وہ بھارت نے ناصرف ملکی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے ۔ بھارت کا یہ اقدام جموں و کشمیر کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردوں کے خلاف ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کیخلاف ہے ۔ شملہ معاہدے کے خلاف ہے اور جنیوا کنونشن کے خلاف ہے ۔ یہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو اب مزید دبانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ انہیں اپنے برابر کا انسان نہیں سمجھتے ۔ یہ طاقت کا استعمال کر رہے ہیں ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح الفاظ میں اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان آرمی کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کا آخری حد تک ساتھ دیں گے ۔ پاکستان مقبوضہ کشمیرپربھارتی تسلط کبھی تسلیم نہیں کرےگا ۔ پاکستان نے کبھی بھی مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 یا 35 اے کو قبول نہیں کیا ۔ اب بھارت نے خوداس کھوکھلے بہانے کوختم کردیا ۔ پاک افواج کشمیری عوام کےساتھ ہیں ۔ ہرطرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے تیارہیں ۔ دونوں ممالک کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس کے باعث حالات میں مزید کشیدگی پیدا ہو ۔ ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور خطے میں امن و امان کو یقینی بنائیں ۔

Google Analytics Alternative