Home » 2019 » August (page 10)

Monthly Archives: August 2019

مقبوضہ وادی : بھارتی فوج میں پھوٹ

مئی 2018 سے اپریل 2019 تک کشمیر کے دونوں حصوں کا جائزہ لینے کے بعد اقوام متحدہ کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورت حال پر جاری نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فوج غیر قانونی حراست، تشدد، جبری ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں 2018 میں 160 افراد کو قتل اور 1253 افراد کو بیلٹ گن کے ذریعے بینائی سے محروم کر دیا گیا ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 1990 کی پرتشدد پالیسی کو دوبارہ متعارف کرایا ۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ پیش کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں ایک بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری قائم کرے تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کی جا سکے ۔ کشمیر رپورٹ نے بھارت کے جھوٹ سے پردہ اٹھا دیا ہے ۔ رپورٹ میں بھارت کے انسانیت سوز مظالم کا تفصیلی ذکر ہے ۔ اب عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ بھارتی افواج کے مظالم رکوانے کے لیے بھارت پر زور ڈالے ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ عالمی انکوائری کمیشن قائم کرے ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت نے مزید اضافی فوج وادی میں بھیجی ہے تاکہ کشمیریوں کے احتجاج کو روکا جا سکے ۔ وادی میں مسلسل کرفیو لگا ہوا ہے جس پر عمل کرنے کےلئے سخت احکامات دیئے گئے ہیں مگر کچھ بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں پر مظالم اور تشدد کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ان میں سرفہرست سکھ فوجی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم کیخلاف بھارتی فوج کے اندر ہی کئی اعلیٰ بھارتی سکھ افسروں نے اس کا حصہ نہ بننے کا اعلان کر دیا اور پھر حکومت کو اپنے استعفے بھی بھیج دیئے ۔ کئی سکھ فوجی افسران نے تو مقبوضہ کشمیر جانے سے حتمی طور پر انکار کر دیا ۔ یوں بھارتی فوج کے اندر بغاوت کی فضا پیدا ہو گئی ۔ اس کے علاوہ بہت سے بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر میں قائم فوجی چوکیوں میں اسرائیلی ایجنٹوں کے لیکچرز سننے اور ان کا حکم ماننے سے بھی انکار کر دیا ۔ بھارتی فوج کے اندر بغاوت کی فضا پیدا ہونے سے ہندو فوج کے افسران اور نریندر مودی سخت پریشان ہوگئے ۔ ان کی پریشانی یہ بھی ہے کہ سکھوں اور اقلیتی فوجیوں کے استعفے اور مقبوضہ کشمیر میں تعیناتی سے انکار کی وجہ سے کہیں سکھوں کی خالصتان تحریک اور کشمیریوں کی تحریک آزادی آپس میں گٹھ جوڑ کر کے بھارت کےلئے پریشانی نہ کھڑی کر دیں ۔ ان تحاریک سے علیحدہ علیحدہ کیسے نمٹا جائے کہ دونوں تحریکیں اکٹھی نہ ہوں اور دم بھی توڑ جائیں ۔ اگر ان تحریکوں کو فوج کے اندر سے مدد مل گئی تو بھارت کو ٹوٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔ اس کےلئے کچھ سکھ فوجی افسران نے مودی کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور ان کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ استعفیٰ دینے والے اور کشمیریوں کے لئے ہمدردی رکھنے والے سکھ افسران کو فرنٹ لائن پر لا کر ان کے ہاتھوں سے کشمیریوں کا قتل عام کرائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ سکھ فوجیوں کو خود ہی قتل کر کے کشمیریوں کی کسی بھی جعلی تنظیم کا نام لگا دیا جائے اور آ زادی کشمیر کے رہنماؤں کے ناموں سے چلایا جائے جس میں وہ ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کریں تاکہ سکھوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا ہو اور جو سکھ افسر استعفے دے رہے ہیں ، وہ سلسلہ بھی رک جائے ۔ یوں دونوں سکھ اور مسلمان کشمیریوں کو آپس میں لڑا دیا جائے ۔ اس کے علاوہ خالصتان تحریک کے بھی کچھ رہنماؤں کو قتل کرا کر اس کی ذمہ داری بھی کشمیری مسلمانوں پر ڈالی جائے ۔ مودی کے بلائے گئے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ کچھ جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنا کر پھر ایک مرتبہ پاکستان کے خلاف اجمل قصاب جیسا ڈرامہ کرایا جائے ۔ بھارت یا کشمیر کے اندر کوئی ایسا بڑا خوفناک حملہ کرایا جائے گا جس میں غیر ملکی سفیر ، لیڈر، اعلیٰ شخصیت یا کسی ٹاپ عمارت کو نشانہ بنایا جائے گا ۔ پھر اس حملہ میں حملہ آ وروں کو یہ خود ہی ماریں گے ۔ پھر ان سے ان کے اپنے بنائے ہوئے جعلی شناختی کارڈز اور جعلی تصاویر نکالی جائیں گی اور یہ تاثر دیا جائے کہ یہ پاکستان سے آ ئے اور یہ سب کچھ پاکستان نے کرایا ۔ وہ تو شکر ہے کہ بھارت کی اس گھناوَنی سازش کا پاکستان کے قومی اداروں کو پتہ چل چکا ہے ۔ اسی لئے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دنیا کو خبردار کر رہے ہیں کہ مودی کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ یہ بھی اہم شواہد ملے ہیں کہ بھارت کشمیر کے اندر 13 جگہوں پر ایسے اڈے بنا چکا ہے جس میں بھارتی فوج کے ساتھ ساتھ اسرائیلی موساد اور فوج کے 3 ہزار سے زائد اہلکار وہاں موجود ہیں اور کشمیر کے اندر باقاعدہ ہندوَوں کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو آ باد کرنے کی منصوبہ بندی ہو چکی ہے ۔ دنیا بھر کے ماہرین نفسیات ماضی میں کئی مرتبہ اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ دوران ملازمت جس طرح سے نہتے و بے گناہ مظلوم کشمیریوں کو بہیمانہ تشدد کا ذریعہ بنانے کے لیے بھارت کی قابض افواج کے اہلکاروں کو استعمال کیا جاتا ہے اور جس طرح دوران حراست بزرگوں و جوانوں سمیت بچوں کو قتل کیا جاتا ہے اس کے براہ راست اثرات فوجی اہلکاروں کے اذہان پر مرتب ہورہے ہیں جس کی وجہ سے وہ سخت ذہنی دباوَ کا شکار ہو کر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر لیتے ہیں ۔ رواں سال جون میں مقبوضہ وادی چنار میں قابض بھارتی افواج سے تعلق رکھنے والے تین فوجیوں نے خودکشی کرلی تھی ۔ بھارت کے فوجی اہلکاروں میں دوران ڈیوٹی خود کشی کا رحجان 2007 سے پروان چڑھ رہا ہے ۔ بھارت کے مقبوضہ وادی کشمیر میں تعینات رہنے والے 400 سے زائد فوجیوں نے گزشتہ 12 سال کے دوران خود کشیاں کی ہیں ۔

ایران میں امامِ مسجد کے قاتل کو سرعام پھانسی

تہران: ایران میں عالم دین اور خطیب محمد خورسند کو قتل کرنے والے حامد رضا کو سر عام پھانسی دے دی گئی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالم دین اور نماز جمعہ کے خطیب محمد خورسند کو  محمد رضا درخشندہ نے رواں برس 29 مئی کو ماہ رمضان میں تیز دھار آلے سے وار  کرکے قتل کردیا تھا۔ خطیب محمد خورسند نماز جمعہ کا خطبہ دیتے تھے۔

ملزم نے سپریم کورٹ میں بھی اعتراف جرم کیا تھا۔ آلہ قتل برآمد ہونے، شواہد اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں عدالت نے مجرم کو پھانسی کی سنائی تھی۔ ملزم نے ندامت کا اظہار کرتے ہوئے خون بہا دینے کی رضامندی بھی ظاہر کی۔

مقتول خطیب کے اہل خانہ نے خون بہا لینے سے انکار کے بعد مجرم کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے عوامی مقام پر سرعام پھانسی دے دی گئی۔ ایران میں جمعہ کے خطیبوں کو روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی تجویز پر بھرتی کیا جاتا ہے۔

کیا 10 ستمبر کو آئی فون 11 لانچ کیا جائے گا؟

کیلیفورنیا: ہر سال کی طرح اس سال بھی آئی فون کے اگلے ماڈل یعنی آئی فون 11 کا بڑی شدت سے انتظار کیا جارہا ہے۔ اس کے تین ورژن پیش کیے جائیں گے جو بالترتیب آئی فون 11، آئی فون 11 آر اور آئی فون 11 میکس ہوں گے۔ متوقع طور پر ان ڈیزائنز کی قیمتیں بھی 1000 ڈالر سے 1300 ڈالر کے درمیان ہوں گی۔

ویسے تو آئی فون 11 کی بیشتر تفصیلات منظرِ عام پر آچکی ہیں لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ اسے کس تاریخ کو لانچ کیا جائے گا۔ ’’سی نیٹ نیوز‘‘ میں موبائل سیکشن کی سینئر ایڈیٹر ’’لائن لاء‘‘ نے اس بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے اپنے تازہ بلاگ میں لکھا ہے کہ نئے آئی فونز کی تقریبِ رونمائی متوقع طور پر 10 ستمبر کو ہوگی جبکہ 20 ستمبر سے ان کی سپلائی شروع کی جائے گی۔

اس اندازے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ امریکا میں ’’لیبر ڈے‘‘ ہر سال ستمبر کے پہلے پیر کو منایا جاتا ہے۔ گزشتہ سات سال کے دوران آئی فون کی تقریبِ رونمائی لیبر ڈے والے ہفتے میں یا پھر اس سے اگلے ہفتے کے دوران، منگل یا بدھ کے روز منعقد کی جاتی رہی ہے۔ جس سال میں لیبر ڈے 3 ستمبر یا اس سے پہلے کی کسی تاریخ کو پڑا، تو آئی فون کے نئے ماڈل کی تقریبِ رونمائی اس سے اگلے ہفتے میں منعقد کی گئی۔ تاہم جس سال لیبر ڈے 5 ستمبر یا اس کے بعد والی تاریخ میں آیا، تو اس سال ایپل کارپوریشن نے آئی فون کا نیا ماڈل اسی ہفتے کے دوران (منگل یا بدھ کے روز) عوام کے سامنے پیش کیا۔

امریکا میں اس سال لیبر ڈے 2 ستمبر کو پڑ رہا ہے اس لیے نیا آئی فون لانچ ہونے کی متوقع تاریخ اس سے اگلے ہفتے میں آنے والے منگل یا بدھ کا دن ہوسکتا ہے۔ منگل کو 10 ستمبر جبکہ بدھ کو 11 ستمبر ہوگی۔ البتہ 11 ستمبر 2019 کو نائن الیون کے اٹھارہ سال بھی مکمل ہورہے ہیں اس لیے گیارہ ستمبر کو آئی فون کا نیا ورژن لانچ کرنے کا امکان، نہ ہونے کے برابر ہے۔

ان تمام باتوں کی بنیاد پر لائن لاء کا کہنا ہے کہ آئی فون 11 کی لانچ ڈیٹ، کم و بیش یقینی طور پر، 10 ستمبر 2019 ہی ہوگی۔

پاک امریکہ تعلقات، یہ بدلتے رنگ !

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں بھارت اور سابقہ سوویت یونین کے درمیان بہت قربت تھی ۔ سرخ آندھی اپنے آس پاس کے تمام ممالک کو نگلتے ہوئے جب افغانستان پہنچی تو طالبان نے اس کے دانت کھٹے کردیئے ۔ وہیں سے اس کے بکھرنے کی ابتداء ہوئی یہاں تک کہ دنیا کے نقشے سے اس کا نام و نشان مٹ گیا اورپورے روس میں لینن اور اسٹالن کے ہزاروں مجسمے مسمار کردیئے گئے ۔ اس کے بعد یونی پولر دنیا میں بھارتی وزیراعظم نرسمھا راو نے واحد سپر پاور امریکہ کے خیمے میں داخل ہونے کا آغاز کر دیا ۔ افغانستان کے اندر امریکہ نے بغضِ سوویت یونین میں دلچسپی لی تھی ۔ آگے چل کر اس کی نیت بدل گئی اور وہ افغانستان پر حکومت کرنے کا خواب دیکھنے لگا ۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کو چھپانے کے لیے جارج ڈبلیو بش کو قربانی کے ایک بکرے کی ضرورت تھی اس لیے اس نے افغانستان پر پنجہ مارا لیکن طالبان نے دلیری سے اس کامقابلہ کیا ۔ جونیئر بش نے بہت جلد اندازہ لگا لیا کہ یہاں اپنی دال نہیں گلے گی اس لیے عراق میں صدام حسین کا تختہ پلٹ کر امریکی قوم کو بیوقوف بنایا اور دوبارہ الیکشن جیت لیا ۔ یعنی جو کام اس کا سمجھدار باپ نہیں کرسکا وہ احمق بیٹے نے کردکھایا ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے بالا کوٹ کی ہوا بنا کر انتخاب جیتنا مودی سرکار کیلئے کس قدر آزمودہ اور آسان نسخہ تھا ۔ واجپائی نے بھی 19سال قبل کارگل کا اسی طرح استعمال کیا تھا اور اس وقت امریکی صدر بل کلنٹن نے پاکستان کے خلاف ہندوستان کی پشت پناہی کی تھی ۔ اس طرح ہند امریکی تعلقات اس وقت مضبوط ہوئے اور 20 سال بعد کسی امریکی صدر نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا ۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل پڑا ۔ ریپبلکن بش کے زمانے میں سرد مہری رہی لیکن ڈیموکریٹ اوبامہ کے آتے ہی پہلے والی گرمجوشی لوٹ آئی ۔ اوبامہ نے پہلے تو عراق سے انخلاء کیا اور اس کے بعد افغانستان سے جان چھڑانے کی خاطر منموہن سنگھ کو وہاں دلچسپی لینے پر اکسیا ۔ چین کی گھیرابندی کے لیے اوبامہ نے ہندوستان کو اہمیت دے کر افغانستان کے بکھیڑے میں شریک کیا گویا اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کردیا ۔ اوبامہ شاید یہ محسوس کرتے تھے کہ ہندوستان کی مدد سے اگر افغانستان کے معاملے کو طول دیا جائے تو کبھی نہ کبھی طالبان تھک کر بیٹھ جائیں گے ۔ اس حکمتِ عملی پر کام جاری تھا کہ مودی کے ہاتھوں میں باگ ڈور آگئی ۔ براک اوبامہ نے نریندر مودی کو غیر معمولی اہمیت دی اور کئی مرتبہ انہیں امریکہ آنے کی دعوت دی نیز خود بھی ایک سے زیادہ مرتبہ ہندوستان کا دورہ کیا ۔ یہی وہ زمانہ تھا جب پاکستان عالمی سطح پر کسی حد تک الگ تھلگ پڑ گیا تھا ۔ اس دوران یمن میں فوج کشی سے انکار کرکے نواز شریف نے سعودی عرب اور متحدہ امارات کو ناراض کردیا ۔ مودی نے اس کا بھرپور سفارتی فائدہ اٹھایا اور یہ حالت ہوگئی کہ بالا کوٹ حملے کے بعد جب ہندوستان کی او آئی سی میں شرکت کےخلاف پاکستان نے بائیکاٹ کی دھمکی دی تو اس کو نظر انداز کرکے آنجہانی سشما سوراج کو اجلاس میں شریک کیا گیا ۔ شاید بین الاقوامی سطح پر یہ پاکستانی اثرو رسوخ کے زوال کا انتہائی نکتہ تھا ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں مسلمانوں کی مخالفت نے ہندو انتہا پرستوں کو باغ باغ کردیا ۔ ان لوگوں نے نہ صرف اس کی حمایت زور شور سے کی بلکہ جیت کا جشن مناتے ٹرمپ کی آرتی تک اتاری ۔ یہ کم ظرف لوگ بھول گئے تھے کہ ٹرمپ مسلمانوں کی مخالفت کیوں کررہا ہے;238; ٹرمپ کا نعرہ‘سب سے پہلے امریکہ’تھا ۔ اس نعرے کے ذریعہ وہ سفید فام لوگوں کے دلوں میں تارکین وطن کے خلاف نفرت پیدا کرکے ان کی خوشنودی حاصل کررہا تھا ۔ مسلمانوں کی مانند ہندو تارکین وطن بھی اس کی مہم کے زد میں آتے تھے ۔ الیکشن جیتنے کے بعد سعودی عرب کو اسلحہ بیچنے کی خاطر ٹرمپ نے مسلمانوں کی مخالفت کم کردی لیکن ہندوستانی تارکین وطن کے خلاف اس کے اقدامات جاری رہے ۔

آگے چل کر اس نے حکومت ہند کو حاصل خصوصی تجارتی درجہ سے بھی محروم کردیا اور اس کی درآمدات پر ٹیکس عائد کردیا ۔ گویا اب ہوا کا رخ بدل رہا تھا اور امریکہ کی نظرکرم ہندوستان سے ہٹ کر پاکستان کی جانب مبذول ہورہی تھی ۔ اس تبدیلی کی مندرجہ ذیل دو وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ اول تو‘امریکہ سب سے پہلے’کے نعرے کے تحت افغانستان سے پوری طرح نکل جانا چاہتا ہے ۔ اپنی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ‘‘امریکہ رفتہ رفتہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلوا رہا ہے کیونکہ گذشتہ 19 برسوں کے دوران امریکہ افغانستان میں لڑائی نہیں لڑا بلکہ ایک پولیس مین کا کردار ادا کیا ہے’’ ۔

اس کی دوسری وجہ یہ اعتراف ہے کہ طالبان ناقابلِ تسخیر ہیں ان کی فتح کو ٹال مٹول سے شکست میں نہیں بدلا جاسکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان سے مذاکرات کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا اسے قدرے سنجیدگی سے آگے بڑھایا گیا اور اب تک اس کے سات روانڈ ہوچکے ہیں ۔ طالبان سے سمجھوتے کے بارے میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ’’پاکستان کی کوششوں سے طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر خاصی پیش رفت ہوئی ہے‘‘ ۔ عمران خان نے اس کی تائید میں کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 1500 کلومیٹر طویل سرحد ہے، اور ہمسایہ ملک میں بدامنی کا براہ راست پاکستان پر اثر پڑتا ہے;234; یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے امن اور استحکام میں پاکستان کو سب سے زیادہ دلچسپی ہے’’ ۔ ظاہر سی بات ہے کہ افغانستان کے معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے امریکہ کے نزدیک ہندوستان کے بجائے پاکستان زیادہ اہم ہے ۔ اس طرح ٹرمپ اورپاکستان کا مفاد ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوگئے اور عمران خان کو امریکہ کے دورے کی دعوت مل گئی ۔ عمران کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ‘‘پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک سال پہلے کے مقابلے میں بہت اچھے ہیں اور عمران خان کی وجہ سے مزید بہتر ہوں گے’’ ۔ افغانستان کے حوالے سے امریکی صدر کا سب سے اہم اعلان یہ تھا کہ ‘‘پاکستان افغان امن کے لیے بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے اوروہ افغانستان میں لاکھوں جانیں بچانے کا باعث بن سکتا ہے ۔ اس ضمن میں انھیں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں بہتر نتاءج کے حصول کیلئے پراعتماد ہیں ’’ ۔ عمران خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ‘‘نیویارک میں میرے پاکستانی دوست بہت سمارٹ اور مضبوط ہیں ، جیسا کہ عمران خان ایک مضبوط لیڈر ہے‘‘ ۔ ماہرین کے مطابق عالمی سیاست پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا حتمی اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا ۔ آج سے بیس سال قبل 1999 ;247; میں 20 سال کے طویل عرصے بعد امریکی صدر بل کلنٹن نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا اور پاکستان کو پس پشت ڈال کر ہند امریکی تعلقات کے دور کا آغاز کیا تھا ۔ اس وقت بھارت میں زمامِ کار واجپائی کے ہاتھوں میں تھی ۔ اب بیس سال بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے تاکہ ہندوستان کو نظر انداز کرکے پاکستان کے ساتھ پرانے رشتے استوار کرسکیں ۔ اِس بار بھی بھارت میں حکومت بی جے پی کی ہے ۔ یہ وقت وقت کی بات ہے کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا وقت اپنی زنبیل سے کیا نکالے گا لیکن یہ ضرور ہے کہ امریکہ کی حکمت عملی میں تبدیلی کا سہرہ طالبان کو جاتا ہے ۔

کیا کافی پینے کا یہ بڑا فائدہ جانتے ہیں؟

دل کا دورہ دنیا بھر میں اموات کی بڑی طبی وجوہات میں سے ایک ہے تاہم اس جان لیوا مرض سے بچاﺅ کا نسخہ بہت آسان اور آپ کے ہاتھوں میں ہے اور وہ ہے گرما گرم کافی کا استعمال۔

دن بھر میں تین سے پانچ کپ کافی کا استعمال شریانوں میں خون کے جمنے کا خطرہ کم کردیتا ہے جو کہ دل کے دورے کا باعث بنتا ہے۔

معتدل مقدار میں کافی کا استعمال شریانوں کے اندر نقصان دہ کیلشیئم کا امکان کردیتا ہے جو کہ امراض قلب کا عندیہ ہوتا ہے۔

اس کیلشیم کی مقدار بڑھنے سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ ہوجاتی ہیں اور لوتھڑے بننے لگتے ہیں جس سے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پچیس ہزار مرد و خواتین پر ہونے والی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ روزانہ دو کپ کافی کے استعمال سے اس کیلشیم کی مقدار بڑھنے کا خطرہ اوسطاً 13.4 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ تین اور پانچ کپوں میں یہ اوسط مزید بڑھ جاتی ہے۔

کافی کا استعمال امراض قلب کے اثرات کو کم کردیتا ہے تاہم اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ دل کی شریانوں کے امراض پر اس کے بائیولوجیکل اثرات کا تعین کیا جاسکے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

نیمل خاور نے اداکاری چھوڑنے کی خبروں پر خاموشی توڑ دی

اداکارہ نیمل خاور نے شادی کے بعد اداکاری چھوڑنے کے حوالے سے خاموشی توڑتےہوئے کہا ہے کہ یہ میرا فیصلہ ہے اوراداکاری چھوڑنے کیلئے مجھ پر کسی نے دباؤ نہیں ڈالا۔

پچھلے دنوں اداکار حمزہ علی عباسی اور نیمل خاور اپنی شادی کے باعث میڈیا کی شہ سرخیوں کا حصہ رہے۔ جہاں دونوں کی شادی کی خبریں وائرل ہوئیں، وہیں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ نیمل خاور نے شادی کے بعد اداکاری چھوڑنے کا فیصلہ کیاہے اور اداکار حمزہ علی عباسی نے انہیں یہ فیصلہ لینے کے لیے مجبور کیا ہے۔

نیمل خاور نے اداکاری چھوڑنے اورحمزہ علی عباسی کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر ردعمل  دیتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے پہلے تو آپ سب کا بے حد شکریہ کہ آپ لوگوں نے مجھے اور حمزہ کو نئی زندگی کی ڈھیروں مبارکباد دی۔ اب شادی ہوچکی ہے اورمیں کچھ چیزوں کی وضاحت کرنا چاہتی ہوں۔

نیمل خاور نے ٹوئٹر پر وضاحت کرتے ہوئے کہا میں ایک بالغ عورت ہوں جو اپنے فیصلے خود کرنے کی اہلیت رکھتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے مشہور لوگ ہمیشہ ہی تنقید کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ مہربانی کرکے حقائق کو مسخ نہ کریں۔

نیمل نے تنقید نگاروں کو جواب دیتے ہوئے کہا میں 9 ماہ قبل ہی اداکاری چھوڑ چکی ہوں اور یہ مکمل طور پر میرا فیصلہ تھا۔ براہ کرم کسی کے خاص دن کو سنسنی خیز بنانے کے لیے غلط افواہیں پھیلانا بند کریں۔

واضح رہے کہ نیمل خاور اداکارہ ماہرہ خان کے ساتھ شعیب منصور کی فلم ’’ورنہ‘‘ میں اداکاری کے جوہر دکھاچکی ہیں، جب کہ  آج کل ان کا نجی ٹی وی چینل سے نشر ہونے والا ڈراما ’’انا‘‘ بہت مقبول ہورہاہے۔

امریکی نیوز اینکر نے اپنے سیاہ فام کولیگ کو گوریلا کہنے پر معافی مانگ لی

اوکلاہاما: امریکی ٹیلی وژن کی سفید فام خاتون نیوز اینکر نے اپنے سیاہ فام اینکر کو گوریلا سے تشبیہ دینے پر براہ راست نشریات کے دوران معذرت کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست اوکلاہاما کے مقامی ٹیلی وژن کی نیوز اینکر ایلکس ہوسڈین نے لائیو پروگرام کے دوران ڈاکومینٹری میں اسکرین پر ایک گوریلا کی تصویر آنے پر اپنے سیاہ فام ساتھی اینکر کو مخاطب کرتے ہوئے بے ساختہ کہا کہ یہ بالکل آپ کی طرح دکھائی دے رہا ہے۔

سفید فام نیوز اینکرز کے تضحیک آمیز ریمارکس پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا رہا جس پر نیوز اینکر ایلکس ہوسڈین نے براہ راست نشر کیے جانے والے پروگرام کے دوران ہی اپنے سیاہ فام اینکر سے متنازع ریمارکس پر معافی مانگ لی۔

سیاہ فام نیوز اینکر ہیکیٹ نے اپنی سفید فام ساتھی نیوز اینکر کی معذرت قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس جملے نے مجھے اندر سے کاٹ دیا تھا تاہم ساتھی اینکر کی معذرت پر میں انہیں معاف کرتا ہوں۔

اکتوبرنومبرمیں پاک بھارت جنگ دیکھ رہا ہوں، شیخ رشید

راولپنڈی: وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے تو وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا اور اکتوبرنومبرمیں پاک بھارت جنگ دیکھ رہا ہوں۔

وفاقی وزیرشیخ رشید نے یکجہتی کشمیر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے زیادہ امید نہیں رکھنی چاہیے، اکتوبرنومبرمیں پاک بھارت جنگ دیکھ رہا ہوں، فیصلہ کشمیریوں کی جدوجہد نے کرنا ہے، عمران خان کی 27 ستمبرکی تقریر اہم ہوگی۔

وفاقی وزیر نے کہا کشمیریوں کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے تو وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا، ہمارے معاشی، سیاسی، دفاعی مسائل ہیں مگر پاکستانی نوجوان کشمیر کے لئے جیتا مرتا ہے، پہلی بار کہہ رہا ہوں یہ گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلے گا، فوج نے جو 23 سال سے تیاری کی اب اس کے استعمال کا وقت آگیا ہے۔

شیخ رشید نے کہا چاہ بہار جانے کے لئے مودی گوادر کو رکاوٹ سمجھتا ہے، اس وقت چین ہمارے ساتھ کھڑا ہے، وہ لوگ جو گھروں میں بیٹھے ہیں وہ ہمارے ساتھ نہیں، جو مسلمان سڑکوں پر بیٹھے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہیں، آج ہمارا میڈیا دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط ہے، نہرو اور گاندھی کا بھارت مر چکا ہے، آج مذاکرات کاوقت نہیں، پاکستان اور بھارت میں دس جنگیں ہوچکیں یا ہوتے رہ گئیں اب یہ آخری جنگ ہوگی، ہم تھکے ہوئے سیاست دان ہیں جو آخری 5 اوور کا سیاسی میچ کھیل رہے ہیں۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ جہاد کے وقت جو منہ موڑتا ہے، وہ دوزخ میں جائے گا، کیا ایٹمی ٹیکنالو

Google Analytics Alternative