Home » 2019 » August (page 2)

Monthly Archives: August 2019

امریکا نے 2 ایرانی کمپنیوں پر پابندی عائد کردی

واشنگٹن: امریکا نے تہران حکومت کی مدد کرنے کا الزام عائد کر کے 2 ایرانی کمپنیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی تھنک ٹینک پر پابندی کے بعد امریکا نے جواباً دو ایرانی کمپنیوں اور ان سے منسلک افراد پر پابندی عائد کردی ہے، امریکا نے ان کمپنیوں پر امریکیوں اقتصادی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایرانی فوج کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کا تعلق ایرانی حکومت سے ہے جو پس پردہ ایرانی فوج کو فائدہ پہنچا رہی تھیں۔ ان میں سے ایک ایرانی شہری حامد دہقان کی ملکیت ہے ۔

امریکی محکمہ خزانہ نے مزید کہا  کہ دوسری کمپنی ایک ایرانی شہری سید حسین شریعت کے زیر نگرانی چلائی جارہی تھی جو جوہری سپلائر گروپس سے المونیم ملا مواد خریدتا تھا اور ان دونوں کمپنی کا ہدف امریکی ٹیکنالوجی تھا۔

واضح رہے کہ پانچ روز قبل ہی ایران نے ملک میں قائم امریکا کے ایک تھنک ٹینک ’فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز‘ اور اس کے سربراہ مارک ڈوبووِٹس کو ایران کے خلاف عائد امریکی پابندیوں کے اثرات کو وسیع تر بنانے کا الزام عائد کر کے بلیک لسٹ کر دیا تھا۔

بل گیٹس کو زندگی میں کس چیز سے سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے؟

مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس برسوں دنیا کے امیر ترین شخص رہے (اب یہ اعزاز ایمیزون کے بانی جیف بیزوز کے پاس چلا گیا ہے) اور اب بھی طاقتور ترین افراد میں سے ایک ہیں، مگر انہیں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ ڈر کس بات سے لگتا ہے؟

اس کا جواب بہت جلد اسٹریمنگ سروس نیٹ فلیکس پر نشر ہونے والی دستاویزی فلم میں مل سکے گا جس میں بل گیٹس کی شخصیت کو موضوع بنایا گیا ہے۔

3 حصوں پر مشتمل یہ ڈاکو مینٹری 20 ستمبر کو جاری کی جائے گی جس کی ہدایات آسکر ایوارڈ یافتہ ڈیوڈ Guggenheim نے دی ہے اور اسے انسائیڈ بلز برین: ڈی کوڈنگ بل گیٹس کا نام دیا گیا ہے۔

اس میں لوگوں کو معلوم ہوسکے گا کہ بل گیٹس کس طرح دنیا کو درپیش چند پیچیدہ ترین مسائل کے منفرد حل کی تلاش کرتے ہیں اور اب بھی وہ ذہنی طور پر اتنے ہی پرامید، پرتجسس ہیں جتنا وہ مائیکرو سافٹ کو چلانے کے دوران تھے۔

اس کا ٹریلر جاری کیا گیا جس میں ایک موقع پر بل گیٹس سے پوچھا جاتا ہے ‘آپ کی زندگہ کا سب سے بڑا خوف کیا ہے؟’۔

اس پر بل گیٹس نے جواب دیا ‘میں نہیں چاہتا کہ میرا دماغ کام کرنا بند کردے’۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی ایک انٹرویو میں بل گیٹس سے پوچھا گیا تھا کہ وہ زندگی میں سب سے زیادہ کس چیز سے خوفزدہ ہیں؟

تو انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ ان کے والد الزائمر کے شکار ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ وہ بھی اس بیماری میں مبتلا نہ ہوجائیں، واضح رہے کہ الزائمر میں دماغی صلاحیت بہت کم ہوجاتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس نے کام کرنا بند کردیا ہے۔

امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا ‘ زیادہ سے زیادہ افراد الزائمر کا شکار ہورہے ہیں اور یہ ایک المناک مرض ہے، مگر میرا ماننا ہے کہ اگر وسائل کا درست استعمال کریں تو اس سے نمٹا جاسکتا ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود اس بیماری کا شکار ہونے کے خیال سے خوفزدہ ہیں اور کہتے ہیں کہ ‘میں اپنے دماغ کو جس حد تک ممکن ہوسکا، سرگرم رکھنا چاہتا ہوں’۔

اس ٹریلر کو بل گیٹس نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا ‘مجھے توقع ہے کہ آپ اس سے لطف اندوز ہوسکیں گے’۔

اس سے قبل ایک انٹرویو میں بل گیٹس نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا ‘ڈیوڈ کے پاس آئیڈیا ہے کہ ایسی ڈاکومینٹری بنائی جائے جس میں دیکھا جائے کہ میں نے جو بڑے پراجیکٹ کیے وہ کتنے مشکل تھے اور ہوسکتا ہے کہ ان پر عمل نہ ہوتا، یہ خیال میرے لیے دلچسپ تھا، مجھے توقع ہے کہ اس ڈاکومینٹری سے لوگوں میں بڑے مسائل پر قابو پانے کے لیے امید پیدا ہوگی’۔

نیٹ فلیکس کی جانب سے اس ڈاکومینٹری کے بارے میں جو بتایا گیا ہے کہ اس کے مطابق اس میں بل اور ملینڈا گیٹس کے انٹرویوز لیے گئے، ان کے دوستوں، گھروالوں اور والدین کو دیکھا گیا، یہ جانا گیا کہ کس طرح ایک شخص دنیا میں تنوع پیدا کرکے اسے بدل سکتا ہے’۔

اسلام: پر امن اور سلامتی والا دین ۔ ۲

ہم گزشتہ مضمون میں غیر مسلموں کی طرف سے بے قصور انسانوں کی جان لینے کی اور اسلام کی طرف انسانی جان کی حرمت کی تفصیل بیان کر چکے ہیں ۔ اب اس مضمون میں کسی شخص کو بے قصور قتل کرنے والے سے بدلے میں جان لینے کے لیے اسلام میں بیان کیے گئے حکم کی بات کریں گے ۔ دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کی تفصیل بھی بیان کریں گے ۔ قتل بلحق اور قتل بغیر حق کا فرق اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضع کر دیا ہے ۔ قتل بلحق کی اگر اجازت نہ ہو تو دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ نہ شر وفساد کی جڑ کٹ سکتی ہے ۔ نہ یہ نیکوں کو بدوں کی شرارت سے نجات مل سکتی ہے ۔ نہ حق دار کو حق مل سکتا ہے ۔ نہ ایمان داروں کو کو ایمان اور ضمیر کی ٓزادی حاصل ہو سکتی ہے ۔ نہ سرکشوں کو ان کے جائز حدود میں محدود رکھا جا سکتا ہے ۔ نہ اللہ کی مخلوق کومادی و وروحانی چین میسر آ سکتا ہے ۔ اللہ نے قرآن میں قصاص کا قانون مقرر کیا ہے ۔ اگر کسی فرد نے سرکشی کرتے ہوئے کسی انسان کی بے قصور جان لی ہے تو اسے اس کے بدلے میں اس کوقتل کیا جائے گایا اس کے وارثوں کی رضا مندی سے دیت پر فیصلہ ہو گا ۔ یہ قصاص کا قانون جس طرح افراد کےلئے ہے ۔ اسی طرح جماعتوں کے لیے بھی ہے ۔ افراد کی طرح جماعتیں اور قو میں بھی سرکش ہوجاتی ہیں ۔ انکے خلاف جنگ کی اجازت اس لیے ہے کہ دنیا میں فساد کو مٹایا جا سکے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے’’ اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا تو صومعے اور گرجے اورمعبد اور مسجدیں ، جن میں اللہ کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے، مسمار کر دیے جاتے‘‘(الحج ۔ ۴)اس میں صرف مسلمانوں کی مسجدکا ذکر نہیں بلکہ عیسایوں کے صوامع، مجوسیوں کے معاہد، اور صابیوں کے عبادت خانوں کا بھی ذکر ہے ۔ بتاناکا مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ عادل انسانوں کے ذریعہ سے ظالم انسانوں کو دفع نہ کرتا رہتا تو دنیا ظلم سے بھر جاتی ۔ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ’’اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا تو زمین فساد سے بھر جاتی، مگر دنیا والوں پر اللہ کا بڑا فصل ہے(البقرہ ۔ ۱۵۱)ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ’’ یہ لوگ جب کبھی جنگ و خونریزی کی آگ بھڑکاتے ہیں تواللہ اس کو بجھا دیتا ہے ۔ یہ لوگ زمین میں فساد بر پاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مگر اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا (المائدہ ۔ ۴۶) ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ’’ جن لوگوں سے جنگ کی جاری ہے انھیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم ہوا ہے، اور اللہ ان کی مدد پر یقیناً قدرت رکھتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے بے قصور نکالے گئے ہیں ۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے‘‘ (الحج ۔ ۹۳ ۔ ۰۴) یہ قرآن کی پہلے آیت ہے جو قتال کے بارے میں اُتری ۔ اللہ نے ظلم کرنے والوں سے مظلوں کو جنگ کرنے کی اجازت دی ہے ۔ ایک اور جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ’’ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کمزور مردوں ، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے اللہ ہ میں اس بستی سے نکال جہاں کے لوگ برے ظالم اور جفا کار ہیں ، اور ہمارے لیے خاص اپنی طرف ایک محافظ و مددگار مقرر فرما‘‘( النسا ۔ ۵۷) جس جنگ کا اس آیت میں ذکر آیا ہے یہ کمزروں کی طرف سے ظا لموں اور مفسدوں کے خلاف اللہ کی طرف سے جنگ کہا گیا ہے ۔ اس جنگ میں ذاتی فاہدے نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی کے لیے ہے ۔ اس جنگ کو اس وقت تک جاری رکھنے کا حکم دیا گیا جب تک بے گناہ بندوں پر ذاتی فاہدے کے لیے ظالوں نے مسلط کی گئی اپنے انجام کو نہ پہنچ جائے ۔ جہاد فی سبیل اللہ کی فضلیت قرآن میں جگہ جگہ بیان کی گئی ہے ۔ ’’ اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھے ہوئے جم کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ‘‘( الصف ۔ ۴)پھر یہ وہ حق پرستی کی جنگ ہے جس میں ایک رات کا جاگناہ ہزار روتیں جاگ کر عبادت کرنے سے بڑھ کر ہے ۔ جس کے میدان میں جم کر گھڑے ہونا گھر بیٹھ ک ۰۶ برس تک نمازیں پڑھتے رہنے سے افضل گیا ہے ۔ جس میں جاگنے والی آنکھ پر دوزخ کی آگ حرام کر دی گئی ہے ۔ جس میں غبار آلود ہونے والے قدموں کو کبھی بھی دوزخ کی طرف نہیں گھسیٹے جائیں گے ۔ جہاد فی سبیل اللہ کا اعلان ہونے پر گھر بیٹھ جانے والوں کو عذاب کی نوید سنائی گئی ہے ۔ جہاد فی سبیل اللہ کرنے سے دشمن کے علاقے، سلطنت، زمین، مال دولت اوردیگر فاہدوں کے لیے نہیں لڑنی جاتی بلکہ اللہ کا کلمہ بلند کرنے اور اللہ کی زمین میں اللہ کے کمزور بندوں کو ظالموں اور فسادیوں سے چھڑانے کے لیے لڑی جاتی ہے ۔ اگر اس وقت دوسری قوموں کے چھوڑ کر اپنی پڑوسی ازل دشمن ہنددءوں کے مذہب میں جنگ کے بارے تعلیمات پر اگر بات کی جائے کہ وہ کس طرح ذاتی منعفت کے لیے جنگ کرتے ہیں ۔ گیتا ۲ ۔ ۷۳ میں لکھا ہے کہ کرشن جی نے اُرجن سے کہا تھا کہ اگر تو اس جنگ(مہا بھارت) میں کامیاب ہوا تو’’ دنیا کے راج کو بھوگے گا‘‘ جبکہ قرآن میں کہیں بھی نہیں لکھا ہوا کہ قتال فی سبیل اللہ کرنے سے تمھیں دولت اور حکومت ملے گی ۔ بلکہ ہر جگہ اللہ کی خوشنودی، اللہ کے ہاں درجات اور عذاب سے نجات کا کہا گیا ہے ۔ جب کہ جنگ میں جیت کے بعد تو یہ ساری باتیں خودبخود مجائدین کو مل جاتیں ہیں ۔ صاحبو!اسلام نے کبھی بھی کسی پر ظلم کرنے یا مال دولت کے حصول کے لیے جنگ کی اجازت نہیں دی ۔ رسول ;248; اللہ پرجنگ بدر، جنگ اُحد، جنگ خندق اور دوسری جنگیں کافروں کی طرف سے مسلط کی گئی ۔ فتح مکہ پر بھی اللہ کے رسول;248; اللہ نے اپنے جانی دشمنوں کو معاف کر دیا ۔ کافروں نے رسول;248; اللہ کو اپنے گھر مکہ سے نکالا اور ہجرت پر مجبور کیا مگر اللہ کے رسول;248; نے مکہ میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد جانی دشمنوں کو بھی معاف کر دیا ۔ بلکہ معاف کرنے کے بہانے ڈھونڈے گئے تاکہ خون خرابہ نہ ہو ۔ فتح مکہ کے موقعہ پررسول;248; اللہ کی طرف سے کہا گیا کہ جو خانہ کعبہ میں داخل ہو گیا اُسے معافی، جو اپنے گھروں سے باہر نہ نکلے اُس کو معافی ۔ جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو گیا اُس کو معافی ۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی برکات تھیں ۔ اللہ مسلمانوں کے جہاد فی سبیل اللہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اس سے دنیا میں امن و امان قائم ہو گا ۔ اسلام دشمن قوتوں کی طرف سے دنیا میں پھیلائی گئی قتل غارت ختم ہو گی ۔ دنیا کے لوگ سکھ کا سانس لےں گے ۔ انسانیت عروج پر ہو گی ۔ افراد اور قو میں ایک ددسرے کے جائز حقوق کا خیال رکھیں گے اور یہ دنیا بھی جنت کا نظارہ بن جائے گی ۔ یہ کام دینِ اسلام ہی کر سکتا ہے، کیونکہ اسلام ایک پر امن اور سلامتی والا دین ہے ۔

منیب بٹ اور ایمن خان کے گھر بیٹی کی پیدائش

اداکار منیب بٹ اور ان کی اہلیہ ایمن خان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے جس کا نام امل رکھا گیا ہے۔

منیب بٹ نے انسٹاگرام پوسٹ میں بیٹی کی پیدائش کا اعلان کیا۔

انہوں نے لکھا ‘میرے پاس اپنے جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں، الحمداللہ، اللہ نے مجھے سب سے قیمتی تحفے سے نوازا ہے، رحمت خدا، میری بیٹی امل منیب، اب میری بانہوں میں ہے’۔

ایمن خان کی بہن منال خان نے بھی انسٹاگرام اسٹوری میں اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

انہوں نے امل منیب کی تاریخ پیدائش 30 اگست تحریر کرتے ہوئے لکھا ‘منیب اور ایمن بیٹی کی پیدائش کی خبر کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کررہے ہیں’۔

دیگر فنکاروں جیسے عائزہ خان، اریبہ ہب اور اعجاز اسلم نے جوڑے کو مبارکباد دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ ایمن خان اور منیب بٹ کی شادی گزشتہ سال نومبر میں ہوئی تھی، جس کی تقریبات ایک ماہ تک جاری رہنے پر سوشل میڈیا پر کافی چرچہ ہوا۔

بعد ازاں رواں سال اپریل میں ایک انٹرویو کے دوران ایمن خان نے انکشاف کیا تھا کہ ان کا اور منیب کا اتنی طویل شادی کی تقریبات رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، یہ سب اچانک ہوا۔

اداکارہ نے بتایا کہ منگنی کے بعد ان کی شادی کی 10 تقریبات منعقد ہوئیں، یہ ان کے گھر کی پہلی شادی تھی، جبکہ منیب کے گھر کی آخری شادی تھی اور یہی وجہ ہے کہ دونوں اسے بہت خاص بنانا چاہتے تھے۔

ایمن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنی منگنی کی تقریب اتنی بڑی نہیں رکھنی تھی، لیکن منیب اور میرے سارے دوست اداکار ہی ہیں تو وہ سب منگنی میں آئے اور یہ ایونٹ خود ہی بڑا ہوگیا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے لوگوں کی تنقید پر توجہ نہیں دی، لوگوں کا کام ہے بولنا، صرف ایک بار اپنے ہنی مون کے دوران میں نے سوشل میڈیا پر کمنٹس پڑھنا شروع کیے اور پھر میں نے یہی سوچا کہ لوگ ا?خر ایسا کیوں سوچتے ہیں، لیکن پھر میں نے سوچا کہ میں خود کو کیوں تکلیف دے رہی ہوں‘۔

انڈا ایسی غذا جو بانجھ پن کا خطرہ کم کردے

شادی کے بعد ہر جوڑے کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے ہاں جلد سے جلد اولاد کی پیدائش ہو لیکن ایسا نہ ہونے پر ان کے تعلق میں دوری بھی آسکتی ہے۔

گزرتے سالوں کے ساتھ بانجھ پن کا مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی وجہ عام طور پر آلودگی، نیند کی کمی اور طرز زندگی کی چند دیگر عادات ہوتی ہیں۔

آج کل خواتین میں ‘PCOS’ نامی بیماری بھی تیزی سے پھیل رہی ہے، اس بیماری کے باعث خواتین کے ہاں بچے کی پیدائش میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ضروری نہیں کہ کوئی مرد یا خاتون بانجھ ہو درحقیقت ہارمونز کا نظام درست نہ ہونا بھی بچوں کی پیدائش میں تاخیر کا باعث بن جاتا ہے۔

ہارمونز کو متاثر کرنے والے کیمیکلز اور ذہنی تناﺅ ہمارے جسم پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

تاہم طبی سائنس کا کہنا تھا کہ غذائی عادات بھی اس خطرے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں اور انڈا ان میں سب سے اہم مانا جاتا ہے۔

انڈوں میں کولائن نامی جز موجود ہوتا ہے جو بانجھ پن کے خطرے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ بھی یہ مختلف وٹامنز اور منرلز کا مجموعہ ہوتے ہیں جو مختلف طبی فوائد کا باعث بنتے ہیں۔

انڈے کے علاوہ مچھلی، انار اور اخروٹ بھی ایسی غذاؤں میں شامل ہیں جو بانجھ پن کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔

کشمیر کی صورتحال پر وزیراعظم عمران خان کا عرب امارات کے ولی عہد سے رابطہ

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاہد النیہان کو فون کرکے کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاہدالنیہان کو فون کیا اور مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جب کہ وزیراعظم نے عرب امارات کے ولی عہد کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیرمیں لاک ڈاؤن اورکرفیو چوتھے ہفتےمیں داخل ہوگیا ہے، اور بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بھی سیز فائر کی خلاف ورزیاں بڑھ گئی ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں اپنےجرائم سےتوجہ ہٹانےکیلیےجھوٹےحملےکاڈراماکرسکتاہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے عوام اسلامی ریاستوں کی مضبوط حمایت کے منتظر ہیں، جب کہ پاکستان کےعوام کی بھی عرب امارات سمیت او آئی سی ممالک سمیت تمام مسلم ممالک سے امیدیں وابستہ ہیں، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر سے کرفیو، اور دوسری پابندیاں ہٹانے کیلیے ہنگامی اقدامات کرے، اگر دنیا نے بھارت کو نہ روکا تودو ایٹمی طاقتیں ٹکراجائیں گی۔

اعلامیے کے مطابق شیخ محمد بن زاہد نے صورتحال سے آگاہ کرنے پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال کی روشنی میں لیے جانے والے اقدامات پر رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

 اسلام آباد: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے پاکستان کا دوسرا سال ملک  کے لئے نئی خوشخبریاں لے کر آئے گا، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کافائدہ عوام کو منتقل کریں گے۔

فردوس عاشق کا کہنا تھا کہ عوام دوست حکومت کا ریلیف دینے کے لئےعملی اقدام یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے، اور پیٹرول کی قیمت میں4 روپے59 پیسےکمی کی گئی ہے جس کے بعد اب پیٹرول 117 روپے 83 پیسے سے کم ہوکر 113 روپے 24 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 7 روپے 67 پیسے کی کمی کی گئی ہے اور  ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 132 روپے 47 پیسے سے کم ہوکر 124 روپے 80 پیسے، لائٹ ڈیزل فی لیٹر 5 روپے 63 پیسے کم ہوکر اب  97 روپے 52 پیسے سے 91 روپے 89 پیسے کا ہوگا جب کہ مٹی کا تیل 4 روپے 27 پیسے کم ہو کر اب 103 روپے 94 پیسے کے بجائے نئی قیمت 99 روپے 57 پیسے میں فروخت ہوگا، اور نئی قیمتوں پر عملدرآمد یکم ستمبر سے ہوگا۔

اس سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سمری پٹرولیم ڈویژن کو موصول ہوئی جس میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 67 پیسے فی لٹر کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 63 پیسے فی لٹر کمی، مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 27پیسے لیٹر کمی اور پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 59 پیسے فی لٹر کمی کی سفارش کی گئی ہے۔

 

فنکاروں کا بھی کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی

کراچی: مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان کےاعلان کے بعد آج 12 بجے پورے ملک میں ’کشمیر آور‘ منایاگیا۔ شوبز فنکاروں نے بھی اس موقع پر کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔

نامور پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے  ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان اورمظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اس وقت ہم ایک ساتھ امن کی دعا کرتے ہیں اور پُر امید ہیں۔

اداکار فیصل قریشی اور اعجاز اسلم بھی کشمیریوں کے لیے نکلے اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

اداکار عدنان صدیقی اوربلال اشرف نے بھی تصاویر شیئر کیں اوربتایا کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔

گلوکارہ رابی پیرزادہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لبرٹی چوک جارہی ہیں۔ انہوں نے تمام لوگوں سے درخواست کی کہ وہ سب ان کا ساتھ دینے کے لیے لبرٹی چوک آئیں۔

واضح رہے کہ شوبز کے تمام فنکار گزشتہ روز سے ہی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پیغامات جاری کررہے ہیں۔

اداکار ہمایوں سعید نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ بد قسمتی سے میں اس وقت ملک میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر آور میں حصہ نہیں لے سکوں گا لیکن میں کہیں بھی ہوں میری حمایت ہمیشہ سے کشمیر کے ساتھ ہے۔

ادکار شان نے بھی وزیراعظم کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئےکہا تھا کہ ان کی بھرپور حمایت کشمیر کے ساتھ ہے اور وہ بھی مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکلیں گے۔

گلوکار شہزاد رائے نے گزشتہ روز ہی ٹوئٹر پر تمام لوگوں کو آگاہ کردیاتھا کہ وہ آج  کراچی میں ایس ایم بی فاطمہ جناح اسکول کی 2500 طالبات کے ساتھ باہر نکلیں گے اور کشمیر آور منائیں گے۔

گلوکار فخرعالم نے کہا تھا دنیا کو یاد دلائیں کہ ہمیں انسانی تکالیف کے دوران خاموش نہیں رہنا چاہئے۔

Google Analytics Alternative