Home » 2019 » August (page 20)

Monthly Archives: August 2019

جمہوریت کاعنوان !

ملک کی معیشت آخری دموں پر ہے اور ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان اس وقت جس نازک دور سے گزر رہا ہے وہ ہر پاکستانی کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ ، لوگ مر رہے ہیں تو مرتے رہیں ، دشمن کے ہاتھ ہماری شہ رگ تک پہنچ جاتے ہیں تو پہنچتے رہیں ۔ سیا ست کے اس کھیل کو جمہوریت کا عنوان دیا گیا ہے ۔ ذاتی مفاد حاصل کرنا ، لوگوں کے جذبات سے کھیلنا ، اچھے دنوں کی آس دلا کر خود ، مشکل آنے پر منظر سے غائب ہو جانا ، عوام کو اپنی انگلیوں پر نچانا یا پھر وعدے کر کے مکر جانا ہے یہ ہماری سیاستکا طرہ امتیازز ہے ۔ ستربرس گزرنے کے باوجود عوام کو آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آخر ہمارا ملکی مفاد ہے کیا ہے;238; گزشتہ پی پی پی دور اور نون لیگ کے ادوار میں مفاہمت اور ملکی مفاد کے نام پہ اس ملک کا جو حشر کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے ۔ جھوٹ اور سچ میں تمیز اور کھوٹے اور کھرے کی پہچان مشکل ہے ۔ بس عوام کو قومی مفاد کا جھانسہ دے کر ذاتی مفادات کی سیاست میں الجھایا جا رہا ہے ۔ عوام سے ، جھوٹے وعدے کر کے انہیں لارے لگا کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں ۔ ملک کی معیشت آخری دموں پر ہے اور ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان اس وقت جس نازک دور سے گزر رہا ہے وہ ہر پاکستانی کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ ، لوگ مر رہے ہیں تو مرتے رہیں ، دشمن کے ہاتھ ہماری شہ رگ تک پہنچ جاتے ہیں تو پہنچتے رہیں ۔ سیاست کے اس کھیل کو جمہوریت کا عنوان دیا گیا ہے ۔ ذاتی مفاد حاصل کرنا ، لوگوں کے جذبات سے کھیلنا ، اچھے دنوں کی آس دلا کر خود ، مشکل آنے پر منظر سے غائب ہو جانا ، عوام کو اپنی انگلیوں پر نچانا یا پھر وعدے کر کے مکر جانا ہے یہ ہماری سیاست کا طرہ امتیازہے ۔ ستربرس گزرنے کے باوجود عوام کو آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آخر ہمارا ملکی مفاد ہے کیا ہے;238; گزشتہ پی پی پی دور اور نون لیگ کے ادوار میں مفاہمت اور ملکی مفاد کے نام پہ اس ملک کا جو حشر کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے ۔ جھوٹ اور سچ میں تمیز اور کھوٹے اور کھرے کی پہچان مشکل ہے ۔ بس عوام کو قومی مفاد کا جھانسہ دے کر ذاتی مفادات کی سیاست میں الجھایا جا رہا ہے ۔ عوام سے ، جھوٹے وعدے کر کے انہیں لارے لگا کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں ۔ ہمارا ملک نظریاتی کشمکش سے دوچار ہے ایک طرف اس نظام کی بقا کی بات کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ نظام کو خطرہ ہے اور کبھی کبھی کہا جاتا ہے کہ کہ یہ نظام کرپٹ ہے ملک کے نظام کو چلانے والوں کے متعدد چہرے ہیں ہر چہرے کی جداگانہ شناخت ہے ۔ اور اس نظام کے سارے ڈانڈے کیپٹل ازم سے ملتے ہیں جسے میکاءولی، ایڈم اسمیتھ اور لارڈ میکالے نے تشکیل کیا ہے ۔ اقتدار اور حکومت کو چند افراد تک محدود رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ، کمزورکی آواز دبائی جارہی ہے ، اور غریب کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی ہوتی ہے ، کرسی اقتدار پر بیٹھے لوگوں کو یہ منظور نہیں ہے کہ ان کے طریقہ کار پر کوئی سوال اٹھاسکے ، ان سے کوئی سوال کرنے کی جراَت کرسکے ان کے نظام کے خلاف آواز بلند کرسکے ، یہی صورت حال فرعون کی تھی ، نظام چلانے والوں کو یہ ہر گز منظور نہیں ہے کہ عوام کی حالت بہتر ہو اور ملک ترقی کرسکے ۔ غریبوں اور امیروں کے درمیان خط امیتاز قائم ہے، علاقائی اور نسلی عصبیت کو قابل فخر بنایا گیا ہے ۔ دنیا کی تاریخ انسانی میں فرعونی نظام سب سے بدترین نظام حکمرانی کہلاتا ہے، فرعونی نظام میں چند افراد پوری دنیائے انسانیت کو غلام بنائے ہوئے تھے ، اس دور کے انسانوں اور جانورں میں کوئی فرق نہیں تھا، اربا ب اقتدار اور عوام کے درمیان کوئی تعلق نہیں تھا ، حکمراں طبقہ کا اپنے بارے میں تصور تھاکہ دنیا کی تمام نعمتیں صرف اسی کی آسائش کیلئے ہے ، کائنات اللہ تعالی نے صر ف اسی کیلئے بنائی ہے ، آسمان سے لیکر زمین تک کی تمام چیزیں صرف انہیں کے قبضہ قدرت میں ہے دوسری طرف اپنے ماسوا کے بارے میں ان کا نظریہ تھاکہ یہ سب ان کی غلامی اور خدمت کرنے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں ، عزت اور شرافت کی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ، انہیں ان کے قریب بیٹھنے ، دولت حاصل کرنے ، کمانے اور حصول اقتدار کی کوشش کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ فرعونی نظام کے تناظر میں دیکھا جائے تویہ نظام شرمناک بھی ہے اور انسانیت سوزبھی ، یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں غریبوں کیلئے کوئی مقام نہیں ہوتا ہے، اس نظام میں حکومت اور اقتدار میں عوام کی شراکت نہیں ہوتی البتہ پروپگنڈہ بہت ہوتا ہے ، دولت پر چند افراد کا قبضہ ہوتا ہے، مورثی سیاست کی وجہ سے شرافت اور عزت کا کاپی راءٹ مخصوص افراد کو دیا جاتا ہے ، چند مخصوص افراد کے سوا کسی اور انسان کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ شرافت اور عزت دار کہلا سکے یا اس طرح کی کسی بھی خصوصیت سے وہ قریب ہوسکے، اسی بنا پر چند افراد کو پروٹوکول دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ انسانیت ، شرافت ، دولت ، اقتدار اور حکومت کسی کی جاگیر نہیں ہے ،یہ چیزیں صرف چند انسان کیلئے مخصوص نہیں ہے ، پوری انسانیت لائق احترام ہے ،تمام بنی آدم کو عزت واحترام سے جینے کا حق ہے ۔

کشمیر سلگتی چنگاری 

Naghma habib
انگریز برصغیر کو آزاد کر کے چلا گیا لیکن ایک ایسا تنازعہ چھوڑ گیا جس نے آزاد ہونے والے دونوں ممالک یعنی پاکستان اور بھارت کو ایسا اُ لجھا دیا کہ آج بہتّر سال گزرنے کے بعد بھی یہاں امن قائم نہ ہو سکا اور وہ ہے کشمیر کا ہر وقت سلگتا ہوا انگارہ جو کسی بھی وقت شعلہ بن جا تا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ یہ شعلہ سب کچھ جلا کر راکھ کر دے ۔ ایسا انہیں ہے کہ ہندو پہلے مسلمان کا دوست تھا اور اس مسئلے کے بعد دشمن بنا لیکن اس مسئلے نے کبھی دونوں ملکوں کی فوجوں کو سرحدوں سے ہٹنے نہیں دیا اور اس صورتحال کی واحد وجہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہے اُس نے پاکستان کو کبھی دل سے قبول کیا ہی نہیں اور یہ اُس کی انگریز کے ساتھ مل کر سازش ہی تھی کہ اچانک تقسیم ہند کے منصوبہ میں رد و بدل کیا گیا اور گورداسپور بھارت کے حوالے کر دیا گیا ۔ سازشوں کا یہ سلسلہ تقسیم کے بعد مزید تیز ہو گیا اور پھر مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کے ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ نے 26اکتوبر1947کو بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی 27اکتوبرکو بھارت کی پہلی سکھ بٹالین کے چھاتہ برداروں کو سری نگر میں اُتار دیا گیا اور یوں بھارت نے کشمیر پر اپنی طرف سے اپنا قبضہ مکمل کر دیا لیکن اُنہیں کشمیر میں کشمیری عوام اور پاکستان کے محب وطن غیور قبائل کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور اُس کا پوری ریاست پر قبضہ کرنے کا خواب کبھی پورا نہ ہو سکا اور کشمیر کے کچھ حصے کو آزاد کر لیا گیالیکن بھارت کشمیریوں کی خواہش اور کوشش کے برعکس ہمیشہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا رہا اُس نے کشمیر کو بزورِ شمشیر اپنا حصہ بنانے کی کوشش کی ۔ 1948 میں اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے وہ اقوام متحدہ جا دوڑا جس نے استصوابِ رائے کو مسئلے کا حل بتا یا کہ کشمیر کے مسئلے کو کشمیریوں کی خواہش اور رائے کے مطابق حل کیا جائے ۔ صرف یہی نہیں کئی قراردادیں پیش اور منظور ہوئی لیکن عمل کسی پر بھی نہیں ہوا اور اقوام متحدہ جو خود کو پوری دنیا کے امن کا ذمہ دار اور ٹھیکےدار سمجھتا ہے اس مسئلے کو حل نہ کر اسکا ۔ اس کی تاریخ کا یہ سب سے قدیم مسئلہ اُس سے حل نہ ہو سکا اور نہ وہ یہاں سے بھارت کی آٹھ دس لاکھ فوج نکلوا سکا بلکہ فوج کی اِس تعداد میں وہ آئے دن اضافہ ہی کر رہا ہے اور اِس اضافے کے ساتھ کشمیر کی جد و جہد آزادی بھی زور پکڑتی جا رہی ہے حالانکہ بھارت اسے کچلنے کےلئے ہر حربہ آزما چکا ہے لیکن جو اُس نے اب آزادی کے بہتّر سال بعد کیا تو اُس نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اُڑا دیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی جوتے کی نوک پر رکھ دیا ۔ کشمیر ایک تسلیم شدہ متنازعہ ریاست ہے اور اسی تنازعے کے پیش نظر ہی 1954 میں بھارت نے اپنے آئین کے حصہ اکیس میں آرٹیکل 370 شامل کیا جس کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی اِس حیثیت میں کشمیرکو ایک الگ ریاست تسلیم کیا گیا جو اپنا آئین ، داخلہ پالیسی اور اپنا جھنڈا رکھ سکتا ہے لیکن بھارت کے مسلمان دشمن اور دہشت گرد وزیراعظم مودی نے ہٹ دھرمی اور مسلمان دشمنی کی انتہاکرتے ہوئے اپنے ہی آئین کے آرٹیکل 370کو ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ۔ اس آٹیکل کے تحت کوئی غیر کشمیری کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا تھا تو اس طرح غیر کشمیریوں کو اب یہاں جائیداد بنانے کی اجازت مل گئی ہے جس کا اصل مقصد ہندءوں کو کشمیر تک پہنچا کر وہاں اُن کی تعداد اور تنا سب کو بڑھانا ہے ۔ اسی آرٹیکل کے تحت اگر کسی کشمیری لڑکی کی کسی غیر کشمیری مرد سے شادی ہو جاتی تو اُس کی کشمیری شہریت اور حقوق ختم ہو جاتے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا اور بقول ثمرین مشتاق جو دلی میں مقیم ایک کشمیری پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں لکھتی ہیں کہ اس قانون کے ختم ہوتے ہی ان چند دنوں میں سب سے زیادہ گوگل سرچ کشمیری لڑکی کے رشتے کےلئے ہوئی یعنی ایک بارپھر کشمیری کی بیٹی کی عزت گو گل کی زینت بنی جبکہ یہ کشمیری خواتین آئے روز ہندو فوجیوں کی بد سلوکی کا نشانہ بنتی ہی رہتی ہیں ۔ 1991 میں کو نان پوش پورہ میں ایک پوری بٹالین نے اِن کی عصمت دری کی تھی معمول کے دنوں میں بھی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ پچھلی سات دہائیوں میں مسلسل اُٹھتا رہتا ہے اور اس کی وجہ وہاں ہونے والے مظالم اور نتیجتاً شہادتیں ہوتیں ہیں لیکن اِس بار تو لگتا ہے کہ کشمیریوں کا گلہ گھونٹ دیا گیا ہے اُن سے اُن کی شناخت ہی چین لی گئی ہے ۔ وہ کشمیری رہنما جو بھارت کے حمایتی تھے اور اِس پر فخر کرتے تھے وہ بھی بلبلا اُٹھے ہیں ۔ محبوبہ مفتی جو اپنے والد مفتی سعید اور فاروق عبد اللہ اور عمر عبداللہ جو اپنے اپنے باپ دادا کی موروثی بھارت نوازی کی سیاست کرتے رہے ہیں بھی چیخ اُٹھے اور فاروق عبداللہ تو رو بھی پڑے تو سو چیئے کہ محب ِ وطن اور کشمیر کی آزادی کی حمایتی یعنی کشمیر کی اکثریت کا کیا حال ہوا ہو گا ۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اپنی شہ رگ کی حفاظت ایک فطری عمل ہے لہٰذا پاکستان کا اِس کشمیر دشمن اقدام پر احتجاج اور اعتراض بالکل بجا اور قدرتی امر ہے اور اِس وقت ہر پاکستانی کشمیریوں کے دکھ میں شریک ہے بلکہ غم و غصے میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے اِس بار یوم آزادی کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کیا تاکہ کشمیریوں کو تنہائی کا احساس نہ ہو ۔ یہ نقصان اور حقوق پر دہشت گردانہ حملہ صرف کشمیریوں پر نہیں بلکہ پاکستان پر بھی ہے اور جس ڈاکو نے یہ ڈاکہ ڈالا ہے وہ ملک خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے لیکن وہ اِن کشمیریوں کو اپنے حقوق نہیں دے رہا ،وہاں کرفیو ہے، میڈیا بلیک آوٹ ہے، ظلم ہے، شہادتیں ہیں لیکن پھر بھی جمہوریت کا ڈھول پیٹا جاتا ہے ۔ اس وقت بھارت کے بیس کروڑ مسلمان کرب اورتشویش میں مبتلا ء ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کےلئے یہ اقدامات درست ضرور ہیں لیکن کافی نہیں ، پاکستان کو اس محاذ پر سفارتی سطح پربہت زیادہ کام کرنا ہوگا، اقوام متحدہ کو جگانا ان میں سب سے بڑا کام ہے اور ساتھ ہی بڑی طاقتوں اور مغربی دنیا کو بھی حقیقت حال سے آگاہ کرنا ضرورہے ۔ ایک انتہائی بڑا مسئلہ اور کام مسلم اُمہ کو جگانے کا ہے جو بھارت کے ساتھ تعلقات میں بڑا فخر محسوس کرتے ہیں ۔ ہ میں کام کرنا ہے اور ہر سطح پر کرنا ہے تب جاکر ہم کشمیر کو حاصل کر سکیں گے کشمیر جو مسلم اکثریتی خطہ ہے لہٰذا اُسے ہر حال میں پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے یہی ہر پاکستانی کا مطالبہ ہے کیونکہ یہ ہر کشمیری کا مطالبہ ہے ۔

اسٹوکس کی ایشز میں شاندار کارکردگی، آسٹریلیا کو دوسرے میچ میں شکست

انگلینڈ نے بین اسٹوکس کی شان دار کارکردگی کے باعث ایشز کے دوسرے میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے کامیابی حاصل کرکے سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

لیڈز میں کھیلے گئے دوسرے ایشز ٹیسٹ میں پہلی اننگز میں میزبان انگلینڈ اور آسٹریلیا دونوں ٹیموں مختصر اسکور پر آوٹ ہوئی تاہم دوسری اننگز میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

پہلی اننگز میں آسٹریلیا نے آرچر کی بہترین باؤلنگ کے سامنے 179 رنز بنائے تھے جبکہ آسٹریلیا کے ہیزل ووڈ نے تباہ کن باؤلنگ کی تھی جس کے نتیجے میں انگلینڈ کی پوری ٹیم صرف 67 رنز پر ڈھیر ہوئی تھی۔

آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 67 رنز پر آوٹ کرنے کے بعد اپنی دوسری اننگز میں 246 رنز بنا کر انگلینڈ کو میچ میں کامیابی کے لیے 359 رنز کا ایک مشکل ہدف ضرور دیا تھا لیکن بین اسٹوکس نے مرد بحران کا کردار نبھاتے ہوئے ٹیم کو شکست سے نکال کر سیریز بھی برابر کردی۔

لیڈز میں چوتھے روز کا کھیل شروع ہوا تو انگلینڈ نے 3 وکٹوں پر 156 رنز بنائے تھے جہاں کپتان جو روٹ 75 اور اسٹوکس 2 رنز بنا کر وکٹ پر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا کی تباہ کن باؤلنگ، انگلینڈ 67رنز پر ڈھیر

جوروٹ صرف 2 رنز کا اضافہ کرکے پویلین لوٹ گئے تاہم جونی بیئراسٹو نے 36 رنز بنا کر انگلینڈ کو 200 کا مجموعہ عبور کرنے میں اسٹوکس کا ساتھ دیا لیکن دیگر بلے باز یکے بعد دیگر آوٹ ہوتے رہے۔

آرچر نے مشکل وقت میں 33 گیندوں کا سامنا کرکے 15 رنز بنائے جبکہ جوز بٹلر، کرس ووکس ایک،ایک اور اسٹورٹ براڈ 286 کے مجموعی اسکور پر صفر پر آوٹ ہوگئے تھے۔

انگلینڈ کی 9 وکٹیں جب گریں تھی تو انہیں جیت کے لیے مزید 73 رنز درکار تھے جو اس وقت مشکل دکھائی دے رہا تھا تاہم اسٹوکس نے آسٹریلیا کے باؤلرز کا سامنا کیا اور لیچ کو صرف 17 گیندیں کھیلنے کا موقع دیا۔

اسٹوکس اور لیچ کے درمیان آخری وکٹ میں ناقابل شکست 76 رنز کی شراکت ہوئی جس میں لیچ کا حصہ صرف ایک رن کا تھا جبکہ اسٹوکس نے انتہائی ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو ناقابل یقین فتح دلائی۔

انگلینڈ نے 9 وکٹوں کے نقصان پر 362 رنز بنا کر ایشز کے دوسرے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو ایک وکٹ سے شکست دے کر اہم کامیابی حاصل کی۔

بین اسٹوکس 135 رنز اور لیچ صرف ایک رن بنا کر ناقابل شکست رہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے جوش ہیزل ووڈ نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں حاصل کیں، ناتھن لائیون نے 2، کمنز اور پٹیسن نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

بین اسٹوکس کا شان دار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا نے پہلے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرکے سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کی تھی۔

بولنگ کوچ کے امیدوار وقار یونس کو چیف کوچ بننے میں بھی دلچسپی

وقار یونس نے بولنگ کوچ کیلیے درخواست دینے کی تصدیق کر دی جبکہ ان کے مطابق وہ ہیڈکوچ کے امیدوار بھی بن سکتے ہیں البتہ اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے پروگرام ’’کرکٹ کارنر‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ میں نے بولنگ کوچ کیلیے درخواست جمع کرا دی ہے، ابھی آخری تاریخ میں1،2 دن باقی ہیں شاید میں ہیڈ کوچ کیلیے بھی اپلائی کر دوں، البتہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ابھی ذہنی طور پر اس کیلیے تیار نہیں ہوں، کوشش کروں گا کہ بولنگ کے شعبے میں پاکستان کی مدد کر سکوں۔

انھوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میں کسی کے تحت کام نہیں کر سکتا، میں نے بہت سے کوچز کے ساتھ رہ کر ہی کوچنگ سیکھی تھی،آج کل یہ کوئی بات نہیں کہ کون کتنا بڑا پلیئر ہے،آپ نے اسٹیو وا کو پلیئرز کی رہنمائی کرتے دیکھا ہوگا، اسی طرح رکی پونٹنگ نے بھی جسٹن لینگر کے تحت کام کیا، یہ کوئی بات نہیں کہ ہیڈ کوچ کون ہے، اصل چیز یہ ہے کہ آپ کیسے کام کرتے ہیں، مجھے کوچنگ کا تجربہ اور میں اپنے دائرہ کار سے واقف ہوں، کون کوچ آئے گا یا میرے رتبے پر اس سے کیا فرق پڑے گا میں اس حوالے سے نہیں سوچ رہا، ہم سب یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ آگے جائے اور ٹیم کو نمبر ون بنا سکیں، میں نے اسی لیے درخواست دی، میں ٹیم کی بہت مددکر سکتا ہوں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ مصباح الحق کے ساتھ کام کے بارے میں وقت سے پہلے بات کرنا درست نہیں مگر وہ بہترین شخصیت کے مالک ہیں، انھوں نے پاکستان کو نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بنایا، ہم دونوں نے بطور کوچ اور کپتان ساتھ کام بھی کیا ہے، میں نہیں جانتا کہ انھیں یہ جاب ملے گی یا نہیں، یا وہ کوچنگ کرنا چاہتے ہیں،البتہ مصباح اچھے لیڈر رہے، مجھے نہیں پتا کہ وہ بطور ہیڈکوچ کیسے کام کرتے ہیں مگرلیڈر سیکھ لیتے ہیں، اگر انھیں ہیڈکوچ بنایا گیا تو تھوڑا سا وقت لگے گا اور وہ سیکھ جائیں گے۔

ماضی میں 2 بار ہیڈ کوچ کی پوسٹ چھوڑنے والے وقار یونس نے اس تاثر سے اتفاق نہیں کیا کہ اس بار ہچکچاہٹ کی وجہ ماضی کے تجربات ہیں،انھوں نے کہا کہ اب مختلف کرکٹ بورڈ اورنئے لوگ ہیں،اچھی ٹیم نظر آ رہی ہے، ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے میں نے اب ہیڈ کوچ کیلیے درخواست نہیں دی، جب میں نے پہلی بار کوچنگ چھوڑی تو فیملی وجوہات تھیں،میں پاکستان اور اہل خانہ آسٹریلیا میں مقیم تھے، اسی وجہ سے مجھے مسائل ہوئے اور کام چھوڑنا پڑا۔

وقار یونس نے کہا کہ سب یہ جانتے ہیں کہ جب بھی ورلڈکپ میں ٹیم کی کارکردگی اچھی نہ ہو تو اسکروٹنی ہوتی ہے، اب بھی ایسا ہوا، میں نے بھی دوسری بار اسی وجہ سے کوچنگ چھوڑی،ماضی کی تلخ باتیں اب ذہن میں نہیں آتیں،لوگ بدلتے رہتے ہیں،اگر لوگوں نے مجھ سے سیکھا تو میں نے بھی ان سے کچھ سیکھا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم آگے چلنے اور بہتر انسان و پروفیشنل بننے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ بہتری کی جانب سفر جاری رہے، جو کچھ ماضی میں ہوا اس کا نیک نیتی سے میں نے اپنی رپورٹ میں ذکر کر دیا تھا، اب وہ بہت پرانی بات ہو گئی اور میں اس کا دوبارہ تذکرہ نہیں کرنا چاہتا، میری بہت سی تجاویز پر عمل کیا گیا جس کا پاکستان کرکٹ کو خاصا فائدہ بھی ہوا۔

سرفرازاوپر کے نمبرز پر بیٹنگ کریں، بطور کپتان عمدگی سے فرائض انجام دیے

وقار یونس نے کہا ہے کہ سرفراز احمد نے گذشتہ 2،3 سال میں پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اور چند بڑے میچز بھی جتوائے لیکن یقیناً جب آپ ہاریں تو اسکروٹنی ہوتی ہے اور سوال پوچھے جاتے ہیں، سرفراز کو اوپر کے نمبرز پر بیٹنگ کرنا چاہیے، بطور کپتان انھوں نے عمدگی سے فرائض انجام دیے ہیں۔

بولنگ کوچ کوبائیومکینک کی بھی سمجھ ہونی چاہیے، وقار

وقار یونس کا کہنا ہے کہ بولنگ کوچ کو بائیومکینک کی بھی سمجھ ہونی چاہیے تاکہ بولرز کے ایکشن پر بھی کام کر سکے، انھوں نے کہا کہ نوجوان کرکٹرز کی کوچنگ بہت ضروری ہے، ایک اچھا کوچ ہونا چاہیے جسے کرکٹ، بولنگ اور بائیومکینک کی سمجھ ہو، کسی کے ایکشن میں خرابی ہو تو وہ اسے درست کر سکے،نوجوان بولرز کو انسپائر کرنا چاہیے تاکہ وہ ٹیم کو آگے لے جا سکیں مجھے اگر موقع ملا تویہی کروں گا۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس وائٹ اور ریڈ بال دونوں کے باصلاحیت بولرز موجود ہیں، شاہین شاہد آفریدی کے آنے سے مثبت فرق پڑا، مجھے فہیم اشرف کی ورلڈکپ اسکواڈ میں عدم شمولیت کا بڑا دکھ ہوا تھا،امید ہے وہ واپس آئیں گے، فہیم بہت اچھا آل راؤنڈ اور بیٹنگ بھی اچھی کرتا ہے، اسی طرح شاداب خان اچھا بولر ہے، ٹیسٹ کرکٹ میں محمد عباس موجود ہیں، مجھے نہیں پتا کہ راحت علی کی ان دنوں کیسی کارکردگی ہے، دیکھنا پڑے گا کہ کون کتنی اچھی بولنگ کررہا ہے،اسی کے ساتھ تجربے کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا،ہمیں نوجوان بولرزکو بھی دیکھنا ہوگا، انڈر19کا ٹیلنٹ دیکھیں گے، مجھے نہیں پتا کہ وہاں کون سے پلیئرز آ رہے ہیں لیکن ہمارے پاس ٹیلنٹ یقیناً بہت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں پاکستانی بولرز نے اچھی بولنگ کی، عماد وسیم اور شاداب کا کھیل بہتر رہا، مگر بطورگروپ بولرزکچھ اہم میچز میں پرفارم نہیں کر سکے، فارم تھوڑی تاخیر سے آئی،آسٹریلیا کیخلاف میچ جیتنا چاہیے تھا مگر ہماری بولنگ خراب رہی، پریشر ختم ہوا تو کارکردگی بہتر ہونا شروع ہو گئی، میگا ایونٹ سے پہلے انگلینڈ میں کھیلنے سے اچھی تیاری کا موقع ملا تھا لیکن بدقسمتی سے سلیکشن سمیت کچھ مسائل ہوئے۔

سابق کوچ نے کہا کہ کون ٹیم میں ہو گا کون نہیں آخری وقت تک پلیئرز کو کچھ پتا نہ تھا، اس سے اعتماد کم ہوا، اسی لیے ابتدائی چند میچز میں کارکردگی اچھی نہ رہی، اعتماد آیا تو بہتر بولنگ شروع کی، بیٹنگ بھی اچھی رہی، بابر اعظم ورلڈکلاس بیٹسمین اور حارث سہیل بہت اچھے کرکٹر ہیں،امام الحق کی کارکردگی بھی اچھی رہی،ٹیلنٹ تو پاکستان کے پاس ہمیشہ ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس ورلڈکپ میں اس کا استعمال نہیں کر سکے۔

محمد عامر کی ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ پر ابھی تبصرہ نہیں کر سکتا، وقار

وقار یوانس  نے  فاسٹ بولرز کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کے ٹرینڈ پر اظہار خیال سے گریز کیا، محمد عامر کی ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میں ابھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتا، میں نے ابھی جاب کیلیے صرف درخواست دی جو کہ میرا حق ہے،جب ذمہ داری ملے گی توریٹائرمنٹ جیسے موضوع پر بات کروں گا۔

نئے ڈومیسٹک کرکٹ سسٹم سے بہت متاثر ہوں،پاکستان کو فائدہ ہو گا

وقار یونس نے کہا کہ نیا ڈومیسٹک سسٹم اچھا اور میں اس سے بہت متاثر ہوں، میں نے تین سال پہلے اپنی رپورٹ میں بھی لکھا تھا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ٹیمیں اور میچز کم کرنا چاہئیں، زیادہ ٹیموں سے کوالٹی کم ہو رہی تھی،اب 6ٹیمیں ریجنل بنیادوں پر کھیلیں گی، امید ہے کراؤڈ بھی آئے گا،کم میچز ہوں گے تو ٹیلی کاسٹ بھی ہوں گے، پاکستان کو اس کا فائدہ ہو گا، ٹیم بہتر اور اچھے کرکٹرز تیار ہو سکیں گے جن پر نظر رکھی جا سکے گی۔

انھوں نے کہا کہ اچھے کوچز، ٹرینرز اور نیوٹریشنسٹ بہت ضروری ہیں، پاکستان ٹیم کے ساتھ چھوٹے لیول پر بھی اچھے کوچز ہونے چاہیے، پاکستان کو بڑی ٹیموں سے جیتنے کیلیے ان کے جیسی فٹنس پانا ہوگی، ٹیلنٹ میں ہم تمام ٹیموں سے بہت بہتر ہیں۔

وقار یونس نے محمد حسنین کے روشن مستقبل کی نوید سنا دی

وقار یونس نے محمد حسنین کے روشن مستقبل کی نوید سنا دی، انھوں نے کہا کہ وہ باصلاحیت نوجوان ہیں، ورلڈکپ بہت بڑا ایونٹ اور 9میچز تھے، میں توقع کر رہا تھا کہ حسنین کو1،2مواقع تو ملیں گے مگر پاکستانی ٹیم نے یہ غلطی کر دی اور اسے نہیں آزمایا، پیسرکو کسی نہ کسی میچ میں توکھلا کر دیکھنا چاہیے تھا، وہ اچھا اور فٹ بولر ہے، تجربے سے کھیل مزید بہتر ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ حسنین کے ساتھ رن اپ کا مسئلہ اوراس پر کام کیا جا سکتا ہے،18،19 سال میں مجھے بھی مسائل تھے، عمران بھائی نے میرا رن اپ ٹھیک کرایا تھا، چھوٹی چھوٹی چیزیں درست کر لیں تو حسنین بھی کوالٹی فاسٹ بولر بن جائے گا۔

وقار یونس کو وقاریونس وسیم اکرم نے ہی بنایا،رقابت غلطی تھی

وقار یونس نے وسیم اکرم سے رقابت کے سوال پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا، انھوں نے کہا کہ وقاریونس کو وقار یونس وسیم اکرم نے ہی بنایا، وقت بدل جاتا ہے، آپ آگے بڑھتے اور سیکھتے ہیں،کم عمری میں نادانی کی وجہ سے غلطیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں،اب یہ ہمارا کام ہے کہ نوجوانوں کو بتائیں کہ ہم نے یہ غلطیاں کیں تم نہ کرنا، جو ہم نے اچھا کیا وہ دیکھو۔

انھوں نے کہا کہ وسیم بھائی کے ساتھ ہمیشہ سے پیار تھا، ان کی وجہ سے ہی وقار یونس بنا کیونکہ جب وہ دوسرے اینڈ سے بولنگ کرتے تھے تو ایک مقابلے کی فضا ہوتی تھی،پاکستان کو اس کے بعد ایسی جوڑی نہیں ملی، کوشش ہوگی کہ اب ایسے بولرز ملیں جو پاکستان کرکٹ کو آگے لے کر جائیں۔

آئندہ برس پاکستان منتقل ہوجاؤں گا

وقار یونس نے کہا ہے کہ میں پاکستان میں ہی پلا بڑھا اور طویل عرصے ملک کی نمائندگی کا اعزاز پایا، یہ تعلق کبھی ختم نہیں ہو سکتا، میں ابھی آسٹریلیا میں رہتا ہوں مگر آئندہ برس مستقل پاکستان منتقل ہوجاؤں گا۔

اوپو کے نئے فلیگ شپ فونز کی تفصیلات لیک

اوپو کی جانب سے آئندہ ہفتے رینو 2 سیریز کے 3 نئے فلیگ شپ فونز متعارف کرائے جارہے ہیں، جن کی تفصیلات لیک ہوگئی ہیں۔

اس بار رینو 2، رینو 2 ایف اور رینو 2 زی کے نام سے یہ چینی کمپنی اپنے فلیگ شپ فونز متعارف کرارہی ہے۔

رینو 2 میں 6.43 انچ کا امولیڈ ڈسپلے دیا جائے گا جبکہ اسنیپ ڈراگون 730 پراسیسر، 128 جی بی اسٹوریج اور 8 جی بی ریم دی جائے گی۔

اس کے بیک پر 4 کیمرے ہوں گے جن میں مین سنسر 48 میگا پکسل، ٹیلی فوٹو کیمرا، 8 میگا پکسل الٹرا وائیڈ کیمرا اور 2 میگا پکسل میکرو کیمرا دیا جائے گا، جبکہ فرنٹ پر 16 میگا پکسل کیمرا موجود ہوگا۔

اس کے مقابلے میں رینو 2 ایف میں 6.53 انچ کاف امولیڈ ڈسپلے ہوگا جبکہ ہیلیو پی 70 ایس او سی پراسیسر، 128 جی بی اسٹوریج اور 8 جی بی ریم موجود ہوگی۔

اس کے بیک پر بھی 4 کیمرے ہوں گے جن میں مین سنسر 48 میگا پکسل کا ہوگا، دوسرا 8 میگا پکسل الٹرا وائیڈ اینگل کیمرا اور 2 کیمرے 2 میگا پکسل سنسر سے لیس ہوں گے۔

اس میں 10 ایکس ڈیجیٹل زوم دیا جائے گا جبکہ الٹرا ڈارک موڈ بھی دیا جائے گا، اس میں فرنٹ پر شارک فن جیسا پوپ اپ 16 میگا پکسل سیلفی کیمرا ہوگا۔

تیسرا فون یعنی رینو 2 زی میں بھی شارک فن جیسا سیلفی کیمرا ہوگا، 6.53 انچ امولیڈ ڈسپلے، میڈیا ٹیک پی 90 پراسیسر، 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج دی جائے گی۔

اس کے بیک پر بھی رینو 2 ایف جیسے 4 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا جبکہ 4000 ایم اے ایچ بیٹری وی او او سی 3.0 فاسٹ چارجنگ سپورٹ دی جائے گی۔

یہ تینوں فون 28 اگست کو متعارف کرائے جائیں گے۔

چینی کمپنی اوپو نے رواں سال اپریل میں اپنا فلیگ شپ فون رینو 10 زوم متعارف کرایا تھا جس میں نئے انداز کا سیلفی کیمرا دیا گیا تھا اور اب چند ماہ بعد ہی اس کا اپ ڈیٹ ماڈل بھی سامنے آرہا ہے۔

پلاسٹک کا استعمال ہمارے لیے زہرقاتل کیوں؟

کچھ عرصہ قبل ہی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)سمیت کچھ ممالک کی تنظیموں کی جانب کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سالانہ دنیا کا ہر بالغ شخص 50 ہزار پلاسٹک ذرات نگل رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ زمین کی ایسی کوئی جگہ نہیں ہیں جہاں پلاسٹک ذرات موجود نہ ہوں، سمندر کی گہرائی سے لے کر ساحل سمندر کی ریت، پانی کی بوتل سے لے کر ڈسپوزایبل کھانے کے پیکٹوں اور راستوں پر پلاسٹک یا اس کے ذرات موجود ہوتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی مائکروپلاسٹک پر حال ہی میں ایک مفصل رپورٹ جاری کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ ہوا، پینے کے پانی اور غذائی اشیاء میں پلاسٹک کے ذرات کی موجودگی سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال کی روک تھام کے لئے بہت سے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اسلام آباد میں پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ سندھ اور دیگر مقامات پر بھی اس طرح کی پابندی کا نفاذ جلد ہوگا۔

لیکن اب دیکھنا یہ ہے حکومتی اقدامات سے ہٹ کرعوام، جو تقریبا 70 سال سے اپنی روز مرّہ ضروریات سے لے کر باقی چیزوں میں پلاسٹک کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں، اس حکومتی فیصلے پر کس حد تک عمل درآمد کرتے ہیں. مگر اس سب سے پہلے یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنے پر زور کیوں دیا جا رہا ہے.

پلاسٹک ایک پولیمر ہے. سائنسی اصطلاح میں پولیمرایک جیسے ایٹموں کی زنجیر کو کہتے ہیں. یہ پولیمیرز زیادہ تر کاربن اور ہائیڈروجن کے ایٹموں سے بنے ہوتے ہیں. جبکہ چند پولیمرز آکسیجن، نائٹروجن، سلفر، کلورین، فلورین، فاسفورس اور سلیکون سے بنتے ہیں.

پولیمر میں موجود یہ ایٹم آپس میں بہت زیادہ مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک 500 سے ایک ہزار سال تک ختم نہیں ہوتا. پلاسٹک کی اسی مضبوطی اور عرصہ دراز نہ ختم ہونے کی صلاحیت نے ہمیں اس کے استعمال کی طرف راغب کیا.

ہماری روز مرہ کی زندگی میں پلاسٹک کا استعمال اس قدر زیادہ ہوچکا ہے کہ اس کے استعمال کی بغیر زندگی مشکل محسوس ہوتی ہے. اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو پلاسٹک کی بہت سی مصنوعات ملیں گی. کسی تفریحی مقام پر مسرور ہونے کے لئے جائیں تو پلاسٹک کی بوتلیں، گلاس اور شاپروں کی موجودگی گندگی پھیلاتی نظر آئے گی.

اسی طرح اگر کسی دریا کے کنارے بیٹھے ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہونا چاہیں تو ہوا کو گرد آلود کرتے اڑتے ہوئے شاپر اس حسین نظارے پر داغ دار کردیتے ہیں.

گھروں میں استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والا پلاسٹک نالیوں اور گٹروں میں پھس کر پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور وہی گندا پانی گلیوں اور سڑکوں پر نکل آتا ہے جس سے طرح طرح کی بیماریاں پھیلتی ہیں. گزشتہ دنوں کراچی میں شدید بارشوں کی وجہ سے گلیوں اور سڑکوں پر نظر آنے والی گندگی اسی پلاسٹک کی مرہون منت تھی اور اس کی رہی سہی کسر قربانی کے جانوروں کی آلائشوں نے نکال دی.

کھلونوں، کھانے کے برتنوں اور ڈبوں، فرنیچر اور برقی آلات میں پلاسٹک کے استعمال نے جہاں لکڑی کے استعمال کو کم کرکے جنگلات کو بچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے وہیں زمین میں دبے پلاسٹک نے زیرزمین پانی کے ذخائر کو بری طرح متاثر کیا ہے. یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں پینے کے صاف پانی کی کمی ہوتی جارہی ہے.

پلاسٹک کا استعمال صرف ماحول کے لئے ہی برا نہیں بلکہ تمام جانداروں کے لئے بھی وبال جان ہے. پلاسٹک کے شاپر میں یا ڈبے میں لی گی لذیذ غذا کسی زہر سے کم نہیں ہے. اسکول اور دفاتر جانے والے پلاسٹک کے ڈبے میں کھانا لے جاتے ہیں جو کہ مائکروویو اون میں گرم کرکے کھانے پر زہر میں تبدیل ہوجاتا ہے کیونکہ گرم ہونے پر پلاسٹک کے اجزا کھانے میں شامل ہوجاتے ہیں جوکے انسانی جسم میں داخل ہوکر کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں.

ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ بائیس فینول اے (BPA) پلاسٹک کا ایک ایسا کیمیائی جز ہے جو کینسر کا سبب بنتا ہے. اکثر پلاسٹک بنانے والے کارخانے اپنا فاضل مادے کا اخراج نہروں اور نالوں میں کرتے ہیں جس سے آبی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ان کی بہت سی انواع ناپید ہونے کا خطرہ بڑھنے لگا ہے.

اب بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال منڈلا رہا ہوگا کہ اب تو پلاسٹک ہماری روز مرہ استعمال کی ہر چیز میں پایا جاتا ہے اور اگر حکومت کے کہنے پر اس کا استعمال ترک کر بھی دیں تو ان کی زندگی میں بہت سی مشکلات پیدا ہوجائیں گی لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے.

آج پلاسٹک کے متبادل متعدد چیزیں موجود ہیں جن میں کاغذی لفافے ،کپڑے کے ٹھیلے اورماحول دوست شاپر شامل ہیں.

پاکستان میں حکومت کے علاوہ بہت سےتعلیمی اور صنعتی ادارے پلاسٹک کےاستعمال کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جن میں تعلیمی ادارہ کومسٹس یونیورسٹی اسلام آباد، “گائیہ (GAIA) بیگز” اور”ذی بیگز” اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں. گائیہ (GAIA) بیگز پولی پروپائیلین (Polypropylene) پولیمیرز سے بنے ہوئے ہیں جو کہ مضبوط اور ماحول دوست کیمیائی مرکب ہے اور سب سے اہم بات کے انہیں بنانے میں زہریلی گوند استعمال نہیں کی گئی .اسی طرح زی بیگز کاغذ کے بننے لفافے ہیں جو کہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ سستے بھی ہیں.

آخر میں یہی کہوں گی کہ ہمارے ماحول اور تمام جانداروں کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ پلاسٹک کے استعمال کو ترک کریں.

گھروں میں پلاسٹک کی مصنوعات کی بجائے چینی یا شیشے کے برتنوں کو ترجیح دیں. پلاسٹک کے شاپروں کی بجانے متبادل چیزوں کا استعمال شروع کریں. ہمیں ملک پاکستان باقی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ مشہور مقولہ ہے کہ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے لہذا ماحول اور ملک دونوں کی بہتری کے لئے ہر فرد کا کردار اہم ہے.

عمر کے خاص عرصے کا بلڈ پریشر مستقبل کی دماغی کیفیت پر اثرانداز ہوتا ہے

ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسانی عمر کے 30 برس اور 40 برس کے پورے عشرے میں بلڈ پریشر میں جو بھی اتار چڑھاؤ واقع ہوتا ہے وہ مستقبل کی دماغی صحت پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے لگ بھگ 40 برس تک لوگوں کا بغور مطالعہ کیا ہے۔

اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر عمر کے اس حصے میں فشارِ خون میں کمی بیشی ہوتی ہے تو شاید مرتے دم تک اس کے دماغ پر ہونے والے اثرات جاری رہتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عمر کے کس حصے میں بلڈ پریشر کا خیال رکھنا چاہیے اور کیوں؟

واضح رہے کہ بلڈ پریشر کے مرض کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔ اگر فشارِ خون قابو میں نہ رہے تو اس سے دل کے امراض، فالج اور دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں گردوں کے امراض بھی عام ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جسم کی سب سے ذیادہ آکسیجن اور خون بھی دماغ کو درکار ہوتی ہے۔

دماغ میں خون کی 15 سے 20 فیصد مقدار موجود رہتی ہے اور اگر خون کی فراہمی معمولی بھی متاثر ہوجائے تو دماغ جیسا حساس ترین عضو بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔ دماغ کو خون کی فراہمی معطل ہوجائے تو فالج کا دورہ پڑسکتا ہے۔

اس سے قبل ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کی وسطی عمر یا مڈل ایج میں فشارِ خون کی سسٹولک ریڈنگ کو 120 سے کم رکھا جائے تو آگے کی عمر میں دماغ میں سفید مادے (وائٹ میٹر) کا بڑھاؤ سست رفتار ہوتا ہے۔ دماغ میں سفید مادے کے ابھار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ انسان تیزی سے بوڑھا ہورہا ہے اور اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر تمام دماغی اور ذہنی صلاحیتیں زوال کی جانب آمادہ ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں 40 سال کی عمر کے بعد بلڈ پریشر کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور لوگ ازخود اپنے بلڈ پریشر پرنظررکھتےہیں۔

اب برطانیہ کے پروفیسر جوناتھن شوٹ 46 ڈیٹا سیٹ میں سے 502 افراد کا ڈیٹا حاصل کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر عمر کے درمیانے حصے میں بلڈ پریشربڑھا ہوا ہو تو اس سے آگے چل کر ڈیمنشیا اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ تحقیقات سائنسی جریدے لینسٹ نیورولوجی میں شائع ہوئی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اگر وسطی عمر میں  بلڈ پریشر میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ کا مرض لاحق ہوجاتا ہے تو اس سے 60 سال میں دماغی کمزوری اور کئی امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔ سروے شروع کرتے وقت خواتین و مرد کی عمریں، 36، 43، 60 سے 65 برس اور 69 سال تھی اور جب وہ 70 برس تک پہنچے تب تک ان کے پی ای ٹی ایم آر آئی کئے جاتے رہے۔

تحقیق نے بتایا کہ اگر 36 سے 43 اور 43 سے 53 سال کی عمر میں بلڈ پریشر بڑھے کا مسلسل مرض لاحق ہوجائے تو اگلی ایک دو دہائیوں میں دماغ کا حجم سکڑسکتا ہے۔ اسی طرح دماغ میں یادداشت کے اہم مرکز ہیپوکیمپس بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس طرح ایک تعلق قائم ہوا جو بتاتا ہے کہ اگر 53 سال کی عمر میں بڑھا ہوا بلڈ پریشر معمول بن جائے تو اس سے دماغ میں سفید مادے کی افزائش میں سات فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔  لیکن 43 برس سے 53 سال کی اوسط عمر سے بگڑنے والا فشارِ خون اس شرح کو بڑھا کر15 فیصد تک بڑھاسکتا ہے۔

اس طویل تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بلڈ پریشر دماغ کو بہت حد تک نقصان پہنچاتا ہے جس کے واضح اثرات عمر کے آخری حصے میں سامنے آتے ہیں۔

سید علی گیلانی کا 5 نکاتی لائحہ عمل کا اعلان، پاکستان سے مدد کی اپیل

بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے کشمیریوں کو متحدہ رہنے کی اپیل کرتے ہوئے 5 نکاتی لائحہ عمل کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان سے مدد کی درخواست بھی کردی۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے سربراہ سید علی گیلانی نے کشمیری عوام لکھے گئے خط میں کہا کہ آج کمشیر کی تالا بندی ہے جسے ایک جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کرفیو کی وجہ سے مواصلاتی نظام بندہے جبکہ احتجاج کرنے والے ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

حریت رہنما نے کہا کہ بھارت وحشیانہ ظلم و ستم کی اطلاعات بیرونی دنیا تک پہنچنے سے روک رہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیریوں پر یکطرفہ فیصلہ مسلط کر دیا گیا ہے اور یہاں قابض فوج کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ کشمیری اپنے گھروں میں قید ہو کر رہے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی، ہر خالی صفحہ چیخ چیخ کر تاریخی حقائق بتائے گا۔

’بھارتی سرتوڑ کوشش کے باوجود سلامتی کونسل میں یہ مسئلہ اٹھا‘

سید علی گیلانی نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر ہونے سے متعلق کہا کہ ’بھارت کی سرتوڑ کاوشوں کے باوجود جس طرح مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھا پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘

حریت رہنما کا کہنا تھا کہ عالمی میڈیا جس انداز میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کر رہا ہے وہ بھی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

انہوں نے انتباہ دیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کا جغرافیہ، اس کی ہیت اور آبادی کا مذہبی تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے جبکہ اس کے یہ اقدامات عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم، جمہوریت کیساتھ مذاق ہے، ان لوگوں پر نفسیاتی جنگ مسلط کردی گئی ہے۔

’بھارت نواز رہنما بھی آج نئی دہلی کی حقیقت جان گئے‘

سید علی گیلانی نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کی نظر بندی سے متعلق کہا کہ بھارت نواز کشمیریوں کے سوداگروں کو بھی نظر بند کردیا گیا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھارت نواز رہنما بھی یہ حقیقت جان گئے کہ نئی دہلی کے نزدیک کشمیریوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

انہوں نے باور کروایا کہ آج وقت آ گیا ہے کہ بھارت نواز قیادت بھی بھارتی قبضے کے خلاف اور مقبوضہ وادی کی مکمل آزادی کے لیے کشمیریوں کا ساتھ دے۔

حریت رہنما نے مزید کہا کہ آج کشمیریوں، حریت قیادت اور مقبوضہ وادی میں جاری حق خودارادیت کی جدوجہد کا موقف سچ ثابت ہوگیا۔

انہوں نے بھارتی عزائم کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے خط میں واضح کیا کہ بھارت کشمیری عوام نہیں بلکہ کشمیر کی سرزمین چاہتا ہے۔

سید علی گیلانی نے کشمیری عوام کو پیغام دیا کہ بہادری، صبر اور تنظیم جیسے ہتھیار کی مدد سے بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دی جا سکتی ہے۔

سید علی گیلانی نے 5 نکاتی لائحہ عمل کا اعلان کردیا

بھارتی غاصبانہ اقدامات کے خلاف سید علی شاہ گیلانی نے 5 نکاتی لائحہ عمل دیتے پوئے کہا کہ کشمیری عوام بہادری سے بھارتی مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

حریف رہنما نے مظلوم کشمیروں سے مطالبہ کیا کہ تمام لوگ اپنے اپنے علاقوں میں بڑے پیمانے پر بھارت کے خلاف پرامن مظاہرے اور احتجاج کریں۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’بھارتی فورسز مارنے کے لیے تیار ہیں، لیکن پھر بھی آپ پر امن رہیں۔‘

’سرکاری حکام بھی احتجاج میں شامل ہوں، ورنہ غیرضروری ہوجائیں گے‘

سید علی گیلانی نے کشمیری حکام، بیوروکریٹس اور پولیس کے حکام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں میں موجود لوگ جان لیں کہ نئی دہلی کو ان پر بھی کوئی اعتماد نہیں ہے۔

انہوں نے باور کروایا کہ پولیس کو غیر مسلح کرکے سیکیورٹی کے تمام اختیارات فوج اور نیم فوجی دستوں کو دے دیے گئے ہیں۔

سید علی گیلانی نے سرکاری حکام سے بھی احتجاج میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر وہ احتجاج میں شامل نہیں ہوئے تو بھارت نواز سیاستدانوں کی طرح غیر ضروری ہوجائیں گے۔

’کشمیر سے باہر بیٹھے لوگ وادی کے سفیر بنیں‘

سید علی گیلانی نے مقبوضہ کشمیر سے باہر بیٹھے کشمیریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ کشمیر کے سفیر بنیں، وادی کے تمام معاملات سے واقف رہیں اور اپنے احتجاج ریکارڈ کروائیں۔

اپنے خط میں انہوں نے تمام کشمیریوں کو مشورہ دیا کہ بھارتی غاصبانہ قبضے، ظلم و ستم کو اجاگر کرنے کے لیے وہ کشمیر کی تاریخ اور حالات سے واقفیت رکھیں۔

’پاکستان ہماری مدد کو آئے‘

سید علی گیلانی نے اپنے خط میں پاکستان کو پکارتے ہوئے کہا کہ پاکستان، پاکستانی عوام اور مسلم امہ کشمیریوں کی فوری مدد کے لیے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، اس کے عوام اور پوری مسلم امہ مسئلہ کشمیر کے اہم فریق ہیں۔

’یہ اتحاد کا وقت ہے‘

انہوں نے کشمیری عوام پر زور دیا کہ یہ اتحاد اور عمل کا وقت ہے، اگر آج حقیقی عمل نہ ہوا تو نہ صرف تاریخ بلکہ آئندہ نسلیں بھی آپ کو معاف نہیں کریں گی۔

سید علی گیلانی نے کشمیری قیادت پر زور دیا کہ سیاسی و سفارتی رابطے تیز کیے جائیں اور بھارت کی اس دھوکہ دہی کو پوری دنیا کے سامنے اجاگر کیا جائے۔

انہوں نے پوری کشمیری عوام سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے اس زہر آلود منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دینا جو نہ صرف کشمیریوں بلکہ لداخ کے بدھ مت، کارگل کے مسلمانوں اور پیربنجال کے خلاف ہیں۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت ہماری زمین ہی نہیں بلکہ مشترکہ شناخت اور بھائی چارے کی تباہی چاہتا ہے تاہم ہمیں اپنی زندگیاں، املاک اور شناخت بچانے کے لیے متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔

انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جان لے کہ 10 لاکھ نہیں بلکہ پوری فوج بھی لے آئے تب بھی کشمیری اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

خیال رہے کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

بھارتی آئین کی دفعہ 35 ‘اے کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

آئین میں مذکورہ تبدیلی سے قبل دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی نفری کو بڑھاتے ہوئے 9 لاکھ تک پہنچا دیا تھا۔

بعد ازاں مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور کسی بھی طرح کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی جو عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی برقرار رہی، تاہم اس میں چند مقامات پر جزوی نرمی بھی دیکھنے میں آئی۔

بھارتی حکومت کے اس غیر قانون اقدام کے بعد کشمیریوں کی جانب سے مسلسل احتجاج بھی کیا جارہا ہے، جبکہ بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں متعدد کشمیری شہید و زخمی ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے بعد وادی میں ہونے والے انسانی حقوق کے استحصال پر امریکی میڈیا بھی بول پڑا اور اقوام متحدہ کے کردار پر سوالات اٹھا دیئے۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ ’کیا کشمیر جیسے اس اہم ترین مسئلے پر سلامتی کونسل مزید 50 سال گزرنے کے بعد اپنا کردار ادا کرے گا؟‘

خیال رہے کہ بھارتی کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سفارتی سطح پر پاکستان بھی بہت زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔

سفارتی محاذ پر پاکستان متحرک

اس ضمن میں نہ صرف پاکستانی وزیر خارجہ دیگر ممالک سے روابط میں ہیں بلکہ اسلام آباد کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس بھی منعقد ہوا۔

یاد رہے کہ 22 اگست کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ پاکستان، بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کر سکتا،بھارت سے مذاکرات کا فائدہ نہیں ہے۔

انہوں نے اپنے انٹرویو میں نئی دہلی کی موجودہ حکومت کو نازی جرمنی کی حکومت سے تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

Google Analytics Alternative