Home » 2019 » August (page 22)

Monthly Archives: August 2019

صرف کراچی کے ٹیکس گزاروں کو نچوڑنے کی پالیسیوں پر تحفظات

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے صرف کراچی کے ٹیکس دہندگان کو نچوڑ کر محصولات میں اضافے کی پالیسیوں پر شک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے وزیراعظم عمران خان کے محصولات کی وصولی کو بہتر بنانے کے عزائم کو سراہا ہے تاہم ایف بی آر جوکہ ملک بھر سے محصولات میں اضافے کے لیے پالیسیوں پر عمل درآمد کی کاپابند ہے کی جانب سے صرف کراچی کے ٹیکس دہندگان کو نچوڑ کر محصولات میں اضافے کی پالیسیوں پر شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورے پاکستان کو ان پالیسیوں سے استثنیٰ حاصل ہے۔

ایف بی آر کراچی کے موجودہ ٹیکس دہندگان کو مزید نچوڑ کر اپنے محصولات کے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے جو پہلے ہی قومی خزانے میں 70فیصد سے زائد ریونیو جمع کرواتے ہیں جبکہ اس قسم کی سرگرمیاں کسی دوسرے شہر یا صوبے میں نظر نہیں آتیں۔ہم کراچی میں ٹیکس چوروں سے سختی سے نمٹنے کے لیے کارروائی کے خلاف نہیں جنھیں لازمی طور پر ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے مگر ملک کے دیگر علاقوں کے ٹیکس چوروں کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے اقدام کیے جائیں تاہم ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی بھاری ٹیکسوں کا بوجھ لادنا چاہیے۔

انھوں نے ملک کے ہر حصے اور کونے میں پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیا۔انھوں نے کہاکہ ٹیکس کی شرح میں اضافہ محصولات میں اضافے کا درست حل نہیں کیونکہ اس سے صنعتوں کی توسیع اور فروغ کی حوصلہ شکنی ہوگی البتہ اصل حل ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں ہے جس کے نتیجے میں ٹیکس کا بوجھ تقسیم ہو گا اور ٹیکس کی شرح میں کمی واقع ہو گی۔اس سے یقینی طور پر تاجروصنعتکار برادری کی اپنی سرگرمیوں کو توسیع دینے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

جنید ماکڈا نے کہاکہ ان اقدام کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ پیداوار،شاندار فروخت،محصولات کی وصولی میں اضافہ، عوام کو وسیع پیمانے پر روزگار کی فراہمی، غربت کا خاتمہ اور ملک بھر میں طویل مدتی خوشحالی آئے گی۔

انھوں نے کہاکہ درآمدی، ریگولیٹری ڈیوٹی، ڈالر کی قدر میں اضافے اور ٹیکسوں کی بھرمار وغیرہ کی وجہ سے کاروباری لاگت پہلے ہی بہت زیادہ ہوچکی ہے جبکہ کئی صنعتوں کے لیے اپنی پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنا دشوار ہو گیاہے جبکہ ایسی صنعتیں جو اپنی بقا کسی طریقے سے قائم رکھے ہوئے ہیں ان  کا پاس کوئی اور راستہ نہیں ماسوا اس کے کہ وہ ٹیکسوں کا بوجھ صارفین پرمنتقل کردیں جس کی وجہ سے ہر جگہ ہی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

جنید ماکڈا نے زور دیتے ہوئے کہاکہ حکومت کو معیشت کی سپلائی سائیڈ پر عمل کرنا پڑے گا جہاں نمو کے ذریعے زیادہ محصولات حاصل ہوتی ہیں اور صارفین کے لیے قیمتوں میں کم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں میں بھی کمی کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں نمو میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور محصولات پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ٹیکسوں میں اضافے سے ترقی واپس نیچے آنا شروع ہوجاتی ہے اور بلآخر پہلے حاصل کیا گیا ریونیو بھی گھٹ کر رہ جائے گاجبکہ زائد ٹیکسز چوری کی ترغیب دیتے ہیں۔

کے سی سی آئی کے صدر نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی کہ وہ ٹیکس کے دائرہ کار میں اضافے اور متعلقہ پالیسیوں کے ملک بھر میں نفاذ کو یقینی بنانے کے سلسلے میں احکام جاری کریں جس سے یقینی طور پر مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

جنیدماکڈا نے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کو اضافی محصولات کی اشد ضرورت ہے لیکن اس بات کا تدارک ہونا چاہیے کہ محصولات صرف نئے وسائل سے حاصل کیے جانے چاہیے اور اگر پرانے وسائل سے  لیے بھی جائیں تو اسے درست اورکم ترین شرح پر رکھنا چاہیے تاکہ ہزاروں افراد کو اس جانب راغب کیا جاسکے ۔انھوں نے کہاکہ ہر شعبے میں ہی بھاری ٹیکس عائد کر دیے گئے ہیں اور اس اضافی بوجھ نے کاوربار اور نمو کو بری طرح متاثر کیا ہے جو کہ پہلے ہی زوال پذیر ہیں ۔

بجٹ خسارہ قابو سے باہر، وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا گیا

بجٹ خسارہ قابو سے باہر، وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا گیا

حکومت کے پاس خسارہ پورا کرنے کے لیے دو ہی آپشن،ترقیاتی بجٹ پرکٹ یا مزید ٹیکس۔ فوٹو: فائل

حکومت کے پاس خسارہ پورا کرنے کے لیے دو ہی آپشن،ترقیاتی بجٹ پرکٹ یا مزید ٹیکس۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: وزیراعظم کی معاشی ٹیم نے انہیں حکومت کے پہلے سال کے دوران درپیش معاشی مشکلات سے آگاہ کردیا ہے۔

وزیراعظم کو بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کا بجٹ خسارہ 700 ارب روپے یا جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے اور یہ صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے ۔آئی ایم ایف پروگرام کیلئے رواں مالی سال کے دوران بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.6 فیصد یا 255 ارب روپے تک لانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اپنی معاشی ٹیم کو بجٹ خسارے پر قابو پانے کیلیے چھوٹے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر بجٹ خسارہ 3.43 ٹریلین روپے یا جی ڈی پی کا 8.9 فیصد رہا ہے جو وزارت خزانہ کی طرف سے پہلے بتائے گئے خسارے سے ساڑھے 6ارب روپے زیادہ ہے ۔اس خسارے پرقابو پانے کیلئے حکومت کے پاس ایک ہی آپشن ہے کہ وہ یا تو ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگائے یا ٹیکسوں میں مزید اضافہ کرے۔

اجلاس میں وزیراعظم پر زور دیا گیا کہ نیب قوانین کاروباری سرگرمیوں کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،انہیں تبدیل کیا جائے۔نیب کے بارے میں باتوں کا وزیرخزانہ حفیظ شیخ نے اپنی پریس بریفنگ میں ذکر نہیں کیا۔

مودی کاچہرہ بے نقاب۔۔۔عالمی برادری کی طرف سے پاکستانی موقف کی حمایت کا اعلان

adaria

مودی نے مقبوضہ کشمیر میں 370 اور35 ا ے تو ختم کردیا لیکن اب یہ مسئلہ اس کے گلے پڑ چکا ہے، پوری دنیا اس کی مخالف ہورہی ہے حتیٰ کہ فرانس کے دورے کے موقع پر بھی کشمیری اور سکھ برادری نے اُس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ، پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو مزیداجاگر کرنے کے لئے اپنی مہم تیز کرنے کافیصلہ کرلیا ہے ،سرینگر،مقبوضہ کشمیرسمیت بین الاقوامی سطح پر مودی کے اقدام کے خلاف احتجاج کیاجارہاہے ۔ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی بھارت کی مخالف ہوچکی ہیں ۔ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے مظاہروں کو روکنے کیلئے نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد رکھی، بھارتی فوج اور پولیس نے لوگوں کو نماز جمعہ کے بعد سرینگر کے علاقے سونہ وار میں اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ سے روکنے کیلئے کرفیو اور دیگر پابندیاں مزید سخت کردی تھیں ،مساجد جانے والے راستے بند کردیے، قابض انتظامیہ نے جن علاقوں میں کرفیو میں عارضی نرمی کی تھی وہاں بھی دوبارہ پابندیاں عائد کردیں ، سری نگر کو جیل میں تبدیل کردیا گیا،جگہ جگہ خار دار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کردیں ، سرینگر میں ایمبولینسز اور بیمار افراد کو اسپتال جانے کی اجازت بھی نہ دی گئی ،مقبوضہ وادی میں کرفیو کے 19ویں روز بھارتی فورسز کی بھاری نفری اور پابندیوں کے باوجود صورہ میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے ، مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں ، پیلٹ گن اور آنسو گیس کا شدید استعمال ہوا، جھڑپیں دو گھنٹے تک جاری رہیں جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے،صورہ میں مقامی افراد نے مرکزی بازار میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کا داخلہ روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں ، اس دوران مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جس پر درج تھا اقوام متحدہ جاگو ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم بھارتی تسلط کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھیں گے ۔ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط اور ظلم وستم کیخلاف اسلام آباد سمیت ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری ر ہا ، اسلام آباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی جس میں پاکستان کی ہندو، سکھ اور عیسائی برادری سمیت سول سوساءٹی کے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ اُدھرامریکا اورفرانس نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا کہناہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر پاکستان سے مذاکرات کے ذریعے حل کرے ،اس معاملے پر وزیراعظم عمران خان سے بھی بات کروں گا ۔ جی سیون اجلاس میں شرکت کیلئے فرانس پہنچنے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا مردہ بادکے نعروں سے استقبال کیاگیا ،دارالحکومت پیرس میں مودی کی آمد پر یونیسکو ہیڈ کوارٹر کے سامنے کشمیری پاکستانی کمیونٹی اور یورپ بھر کے سکھ کمیونٹی کے لوگوں نے مودی کے خلاف مظاہرے کئے جبکہ واءٹ ہاءوس حکام نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہیں ، جی سیون سمٹ میں وزیراعظم نریندر مودی سے مسئلہ کشمیر پر بات کریں گے مودی جہاں بھی جائیں گئے مقبوضہ کشمیر پر جواب دہ ہونا ہی پڑے گا ۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری کو خبر دار کیا ہے کہ بھارتی قیادت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں اور دہشت گردی کی عمل داری سے توجہ ہٹانے کیلئے جھو ٹا آپریشن کرسکتی ہے ،ہم بھارتی میڈیا کے یہ جھوٹے دعوے سن رہے ہیں کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو گئے ہیں اور بعض دہشت گر انڈیا کے جنوبی علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دعوے مقبو ضہ کشمیر میں کشمیر یوں کی نسل کشی اور قتل عام کے بھارتی ایجنڈے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ،و زیر اعظم نے جرمن چانسلر سے فون پر رابطہ بھی کیا اور کشمیر کی نازک صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اس موقع پرانجیلا مرکل نے کہا کہ جرمنی صورتحال کا بغور مشاہدہ کر رہا ہے ۔ وزارت خزانہ نے ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفیک گروپ کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ کئے جانے کی خبروں کو بے بنیاد اور غلط قراردیدیا اور بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا جبکہ وزارت خزانہ کے بعد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے بھی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے سے متعلق بھارتی میڈیا میں زیرگردش خبروں کی تردید کر دی،بھارتی صحافیوں اور خبررساں اداروں نے اپنی خواہشات کو خبریں بنا کر دعویٰ کیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش کیا ہے، انہوں نے بھارت سے وادی میں مواصلات کی بندش ختم کرنے اور پرامن مظاہروں کے خلاف کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ۔ عالمی برادری نے بھی پاکستان کے موقف کی مکمل طورپر حمایت کرد ی ہے ۔ بھارت دہشت گردی کا جھوٹاناٹک رچانا اور خون کی ہولی کھیلنا چاہتاہے ۔ کون سا ایسا عمل ہے جو بھارت نے وہاں نہیں کیا ۔ جمہوریت کا دعویدار بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بنیادی ضروری سہولیات کی فراہمی تک کو بند کر کے ثابت کر دیا کہ وہ خطے میں سب سے زیادہ شرپسند ملک ہے ۔ پاکستان شروع سے ہی مسئلہ کشمیر کا پرُامن حل چاہتا ہے مگر بھارت نے کبھی اس حوالے سے مثبت مذاکرات کا عمل شروع نہیں کیا اور مختلف حیلے بہانے بناکر وہ مذاکرات سے بھاگ جاتا ہے ۔

پروگرام سچی بات نے بھارت میں تہلکہ مچادیا

روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات‘‘ ایس کے نیازی کے ساتھ سابق آرمی چیف کی سچی ، کھری باتوں نے بھارت پر سکتہ طاری کر دیا ، سابق آرمی چیف کے دبنگ بیان سے بھارتی سورمائیوں کی نیندیں حرام ہو گئیں اور بھارتیوں کو اسلم بیگ کا ایس کے نیازی کے ساتھ انٹرویو ایک آنکھ نہ بھایا ، بھارتی میڈیا نے اصل انٹرویو کو متن سے ہٹ کر توڑ موڑ کر پیش کیا اور اپنی مرضی اور مطلب کی باتیں نکالیں ، دشمن نے اپنی قوم کو وہ اصل آئینہ ہی نہیں دکھایا جو روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں انٹرویو کے دوران جنرل (ر)اسلم بیگ نے دشمن کو دکھایا تھا ، اسلم بیگ نے کہا تھا کہ کفر نے اسلام کو للکارا ہے ، کشمیر ایشو پر مسلم امہ پاکستان کا ساتھ دے گی ، اس انٹرویو نے بھارت میں آگ لگا دی اور بھارتی منافق میڈیا کو منہ کے بل زمین پر گرا دیا اور اس کے سارے دانت ٹوٹ کر باہر نکل آئے ، ’’ سچی بات ‘‘ میں اسلم بیگ کے انٹرویو کی دنیا بھر میں پذیرائی کی گئی لیکن بھارت کو تو جیسے سانپ ہی سونگھ گیا ،ایرانی سپریم لیڈر نے بھی کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرے ، جبکہ او آئی سی نے بھی کہا مسلم امہ نہتے کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے ، واءٹ ہاءوس نے بھی واضح کیا کہ ٹرمپ اس مسئلے پر ثالثی کیلئے تیار ہیں ، دنیا کی بڑی طاقتوں نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے ۔

مودی کے غیر آئینی اقدامات اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال

ہماری حکومت اور اپوزیشن دونوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدام پر سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے اسے حقیقت سے متصادم قرار دیا ہے ۔ تازہ ترین بھارتی اقدام کشمیر پر طویل عرصے سے جاری اس کے قبضے میں ایک نیا اور تباہ کن موڑ ہے ۔ بھارت شاید بھول گیا ہے کہ جب ہندوستانیوں کی آزادی کی خواہش کے سامنے برطانوی راج نہیں ٹھہر سکا تو کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کے سامنے بھارتی حکومت کہاں تک ٹھہر سکے گی ۔ بھارت کے ناجائز قبضے کے سامنے کشمیری گذشتہ سات عشروں سے سینہ سپر ہیں اور ان کے حوصلوں کو توڑا نہیں جا سکا بلکہ وہ مزید مضبوط ہوئے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے پر پاکستان کی درخواست پرگزشتہ ہفتے سلامتی کونسل کا 50 سال میں پہلی مرتبہ صرف مسئلہ کشمیر پر اجلاس ہوا جس میں سلامتی کونسل نے بھارت کے دعوءوں کی نفی کر دی ۔ کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر یو این چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہو گا ۔ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے ۔ کشمیر عالمی امن اور سیکورٹی کا مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار کے اندر 1965 کے بعد پہلی بار زیر بحث آیا ۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ماضی میں کبھی عمل کیا نہ اس کی طرف سے آئندہ عمل کرنے کی امید ہے ۔ بھارت کو قراردادوں پر عمل کیلئے ایک ڈیڈ لائن دی جائے ۔ بھارت اس دوران کشمیر میں استصواب کرانے پر تیار نہیں ہوتا تو اس پر عالمی پابندیاں عائد کر دی جائیں ۔ اس کے سوا مسئلہ کشمیر کا کوئی پرامن حل نہیں ہے ۔ 5 اگست کو کشمیر کے خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اقدام کے خلاف بلاتاخیر غم و غصے سے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کرنے لگے ۔ اس پر بھارت نے کرفیو نافذ کر دیا ۔ اس کی طرف سے مقبوضہ وادی میں گزشتہ دنوں فوج میں بھی اضافہ کیا گیا ۔ سفاکیت میں اپنی مثال آپ بھارتی فوج کی 70 لاکھ کی آبادی کے خطے میں تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے گویا ہر گھر کے دروازے پر مہلک ہتھیاروں سے مسلح ایک فوجی کھڑا ہے ۔ کشمیری ایسی پابندیوں کو خاطر میں نہیں لا رہے جن کو توڑنا ممکن ہے کرفیو کے نفاذ کے باوجود حریت پسند گھروں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں سے کئی کو فورسز موقع پر فائرنگ کر کے شہید کر دیتی ہیں کئی کو گرفتار کر کے عقوبت خانوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ حقیقت میں مقبوضہ جموں و کشمیر کرہ ارض کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ وادی کشمیر کی مجموعی آبادی ستر لاکھ سے زائد ہے جن میں 97 فیصد مسلمان ہیں لیکن فی الوقت ان ستر لاکھ مسلمانوں کا بھارت کی سات لاکھ سے زائد مسلح افواج نے محاصرہ کررکھا ہے لیکن گزشتہ تین دہائیوں سے جاری کشیدگی میں پچاس ہزار سے زائد کشمیری لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تعداد میں اضافہ اور دوسری طرف کشمیریوں کی شہادت اتنی زیادہ ہے کہ شہریوں اور فورسز کے درمیان تناسب ایک فوجی بمقابلہ چھ شہری سے تبدیل ہوکر ایک فوجی بمقابلہ ایک شہری ہو جائے گا ۔ بھارتی فورسز تلاشیوں کے بہانے مسلمانوں کے گھروں میں گھس جاتی ہیں اور پھر کوئی بہانہ بناکر گھروں کو بارودی مواد سے تباہ کردیتی ہیں ۔ یہ ایسی زیادتیاں ہیں جو عالمی دنیا کو نظر نہیں آتیں یا وہ قصداً ان کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ ماضی میں بھی بھارت نے مقبوضہ وادی میں ہندو پنڈتوں کی بستیاں بسانے کی کوشش کی تھی تاکہ کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو کم کیا جائے ۔ مردم شماری میں بھی کئی دفعہ غلط اعدادو شمار کے ذریعے ہندووَں کی اکثریت دکھانے کی کوشش کی مگرریاستی انتظامیہ کے فیصلے پر مقبوضہ کشمیر میں زور دار احتجاج شروع ہو گیا ۔ لوگ کرفیو کی پابندیاں توڑ کر سڑکوں پرنکل آئے لوگوں نے ایک بڑا جلوس نکالا جو آزادی کے حق میں نعرے لگا رہاتھا ۔ وہاں موجود ظالم پولیس نے جلوس پر لاٹھی چارج شروع کر دیا ۔ بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ۔ لوگوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ کشمیر میں ہندووَں کی بستیاں اور اور ان کی بڑھتی آبادی قبول نہیں ۔ وادی کشمیر جو اپنے قدرتی حسن، پرشکوہ پہاڑوں اور آمن وآشتی کے لئے مشہور تھی وہ گزشتہ 30 برس سے ایمرجنسی کی حالت میں ہے ۔ اب اس خطے میں ظلم و تشدد کی حکمرانی ہے جہاں انسانی اقدار اپنے معنی کھو چکے ہیں ۔ ریاست کو بھارتی فوجی اپنے بوٹوں تلے کچل رہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سات لاکھ فوج بے گناہ کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے اور اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے ۔ یوں پورا کشمیر لہو لہان ہو چکا ہے ۔ کشمیریوں پر ان مظالم کے ساتھ ساتھ ان کے مال واسباب کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ یہ صرف اس لئے کہ شائد وہ ڈر کر اپنے حق خودارادی کے مطالبہ سے دستبردار ہو جائیں لیکن جان و مال کی تباہی بھی ابھی تک کشمیریوں کے پائے استقلال میں لغزش تک پیدا نہیں کر سکی ۔ بھارتی حکومت کے نئے ڈرامے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں ختم ، اقلیتیں بھی خطرے میں اور ٹرمپ کی ثالثی بھی ختم ہوگئی ۔ اسرائیل نے جو کچھ فلسطین میں کیا وہی اب بھارت کشمیر میں ہونے جارہا ہے ۔ مودی کو ایک اور باری مل گئی تو نوٹوں پر گاندھی کی بجائے گائے کی تصویر ہوگی ۔ بھارت کا کشمیر کا خصوصی سٹیٹس ختم کرنے کا اقدام شرمنا ک ہے ۔ مودی کو آدھا بھارت قاتل مانتاہے ۔ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ ڈیڑھ ارب انسانو ں پر پاگلوں کا ایک جتھا حکومت کر رہا ہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ساتھ کیا ہونیوالا ہے لیکن میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ اللہ قادر مطلق کی طرف سے جو بھی منصوبہ بندی کی جاتی ہے وہ ہمیشہ بہتر ہوتی ہے ۔ ہم شائد اللہ کی حکمتوں کودیکھ نہ پائیں لیکن ہم کو ان میں شک نہیں کرنا چاہئے ۔ اللہ کرے کہ آپ سب کیلئے بہتری ہو ۔ آپ محفوظ اور پرسکون رہیں ۔

قومی ہم آہنگی پہلا اور بنیادی تقاضا

تخلیقی رویہ ہمیشہ اک نیا جہاں آباد کرنے کا سبب بنتا ہے ۔ وہ معاشرے جہاں علمی و تحقیقی کام ہورہا ہے ۔ وہاں ارتقاء اور نشوونما کا ماحول ہے ۔ قدیم اور جدید نسلوں کے مابین تفاوت نہیں رہتا ۔ عموما مباحث اور نظریات دلائل سے رد یا قبول کے عمل سے گزرتے ہیں ۔ اس مثبت رویے سے محقق ہو یاسائنسدان اپنی تحقیق میں ایک مجذوب کی طرح دلچسپی لیتا ہے ۔ اس علمی وتحقیقی رویے سے ایک ایسا ماحول بیدار ہوتا ہے جس سے مجموعی قومی ترقی اور خوشحالی کا دروازہ کھلتا ہے ۔ یورپ اور امریکہ نے علم اور تحقیق کو اہمیت دے رکھی ہے ۔ جاپان ایک وقت میں ٹیکنالوجی کے میدان میں ناقابل یقین حد تک آگے بڑھ گیا تھا ۔ جس طرح آج کل چین تحقیق ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں اپنی حیثیت منوایا ہے ۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے فروغ اور نئے امکانات کی کھوج کے لیے امریکہ نے جاپان سے ہزاروں تکنیکی ماہرین کو مراعات کی دعوت دی ۔ ۔ ۔ ۔ جس کو ;66;rain ;68;ran بھی کہا جاتا ہے ۔ مگر اپنی قومی ضرورتوں کے ساتھ معاشی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی نے آج امریکہ کو ٹیکنالوجی کے مد میں سبقت دی اور ہر میدان میں ناقابل تسخیر بنایا دیا ۔ اس طرح ملائیشیا نے سیاسی انتشار کے ماحول کو جب مستحکم بنیادوں پر کھڑا کیا تو مہاتیر محمد نے ہرشعبے کے ماہرین کو جو یورپ اور امریکہ سے میں خدمات دے رہے تھے ملک دعو ت دی اور یوں ملائشیا کومعاشی طور مستحکم بنایا کا سبب بنایا ۔ آج ملائشیا جنوبی ایشاء میں ابھرتی ہوئی معاشی قوت بن رہا ۔ ویسے تو بالعموم مسلمان مملکتوں میں علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی طرف رجحان یا دلچسپی قابل افسوس ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دیگر ممالک سے علم کے ذراءع اور ٹیکنالوجی بھار ی معاوضہ دے کر برآمد کرنا پڑتاہے ۔ وہ معیشت جو پہلے ہی سے ابتذال کا شکار ہے ۔ انکی دلچسپی ان کاموں میں رہتی ہے جو غیر ضروری اور مستقبل کے لیے بھی نقصان دہ ہیں ۔ پاکستان کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو 1963 تک سائنسی میدان میں جنوب ایشیاء میں سب سے آگے تھا ۔ اس سے اندازہ لگائے کہ سپارکو ادارے نے کوریا کی خلائی ادار ے کو مشکل کیا ۔ اور چین کے ساتھ بھی مدد کی علم اور سائنس کا رویہ پاکستان میں نشوونما پا رہا تھا ۔ لیکن جب علم، تحقیق اور سائنس سے دلچسپی مٹ گئی اورسیاسی عدم استحکام ہو تو آج علم، سائنس کے میدان میں پاکسان کی کوئی جگہ نہیں ۔ آج ایک پروفیسر اور ریسرچر کی اہمیت سرکاری کا رُوک سی رہ گئی ہے جو اپنی پینشن پراور دیگر سرکاری مراعات یہ تکیہ کئے بیٹھا ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ آج کسی بھی شعبے میں تحقیقی رویہ فعال نہیں ہے ۔ مراعات اور سہولتوں نے انکی تخلیقی صلاحیتوں کو آچک لیا ہے ۔ ان کا مقصد ذاتی مفاد ہوتا ہے ۔ قومی مفاد یا تحقیق نہیں !مذہبی رویے بہت خطرناک رویہ اپنایا ہے ۔ جتنے بھی فرقے ہیں اپنے اپنے افکار اور عقائد کے مطابق سائنسی تعلیم کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ چونکہ عام انسان کی فکر اس قسم کے مجموعی رویے سے ابہامی صورتحال سے دوچار ہے ۔ لہذا وہ ہزار ہاسال کی تقلیدی روش میں جکڑتے ہوئے ہیں ۔ فکری آذادی نہ ہو تو غلام ذہنیت پروان چڑھی ۔ ان مذہبی پیشواؤں کو جہاں عالم کہا جاتا ہے ۔ انکی یہ صورت حال یہ ہے کہ 1980 میں مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر نے ایک بار یہ فتویٰ دیا کہ جو یہ یقین کرتے ہیں کہ انسان چاند پر پہنچ گیا ۔ تو وہ کافر ، زندیق اور جہنم واصل ہیں ۔ آپ اندازہ لگائیے کہ مذہبی تعلیم نے کس قدر منفی سوچ کو روا رکھا ہوا ہے ۔ چونکہ تحقیق اور علمی ۔ محنت طلب کام ہے ۔ اور یہ امت ہزاربرس ہڈحرامی ۔ نجات کا سبب سمجھ رہی ہے جبکہ قرآن نے ’’عالم‘‘ سائنسدان کو پکارا ہے ۔ یعنی وہ جو کائنات میں ہمہ وقت سور ج وپچار کرتا ہے ۔ قرآن میں 750 قرآنی آیات براہ راست علم ، تحقیق اور سائنسی انکشافات کے متعلق ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنا تحقیقی کام جن پر ان کو نوبل انعام ملا جو قرآن کی انہی آیات میں غور کرکے ممکن ہوا ۔ ڈاکٹر مورلیس بوکائے ۔ فرانسیسی سرجن نے ’’بائبل‘‘ قرآن اور سائنس لکھ کر یہ ثابت کیا اور دنیا کے سائنسدان کو قرآن میں غور کی دعوت دی ۔ کب سے ہم چاند کو مشاہدے اور اس سے پیدا ہونے والے تنازعات کو بھگت رہے ہیں یہاں ہر شعبے کے سربراہاں سیاسی ومذہبی وابستگیوں پر تعینات ہیں لہٰذا ان سے ادارے کے ارکان بھی تحقیق میں دلچسپی نہیں لیتے ۔ چاند کے ایک بار مشاہدے پر تیس سے چالیس لاکھ کا تخمینہ ہے ۔ اورپھر بھی کئی تک ان کا مشاہد ہ درست نہیں ہوتا ۔ ایک کمپیوٹرکیلنڈر کی مدد سے چاند کا مشاہد ہ بہتر اور درست نتاءج پیش کرسکتا ہے ۔ اس ملک کی ترقی کی راہ میں مذہبی ذہنیت نے روڑے اٹکائے ہوئے ہیں ۔ اور ہمارے ہاں سیاستدان اس تناوَ سے فائدہ لینے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔ کیونکہ انووٹ بنک انہی مذہبی پیشواؤں کے مرہون منت ہے ورنہ پارلیمنٹ میں بل پاس ہونا کو نسا مشکل کام ہے ۔ جب تک پاکستان کے ریاستی ادارے ہنگامی بنیادوں پر ;82;evamp نہیں ہوتے وہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے کیونکہ قابل اور باصلاحیت افراد موجودہ ریاستی اداروں میں بے کار پرزوں کی طرح ۔ بس اپنی ہی خدمت پر براجمان رہتے ہیں ۔ ریاست کی قوت اداروں کا استحکام سے وابستہ ہے اور اسی سے کوئی بھی سیاسی نظام ہو عوام کی فلاح کےلئے متحرک ہوتے ہیں ۔ یورپ یا امریکہ یا برطانیہ کا جمہوری نظام ان کے مستحکم اداروں کی وجہ سے ہے ۔ ان کا صدر یا وزیراعظم یا کوئی سیاستدان ان اداروں کے تابع اور اپنی معمولی سی معمولی خطا کےلئے جواب دہ ہیں ۔ اگرچہ یہ تصور مدینہ کی ریاست میں پہلی بار نبی پاک ﷺ نے متعارف کرایا تھا ۔ مگر بدقسمتی یہ ہوئی کہ پچھلے چالیس سال سے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے اداروں کو اپنی بدعنوانیوں کےلئے استعمال کرکے وہاں سے میرٹ کا جنازہ نکالا ۔ اس وقت جو حکومت کی پہلی ترجیح سمجھ آرہی ہے ۔ وہ اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور ان کو آزاد کرنا تاکہ مستقبل میں کوئی کرپٹ اور میرٹ سے بالا حکمران نظام اور ریاست کی تخریب کا باعث نہ بن سکیں ۔ وزیراعظم عمران خان ویسے تو ہر معاملے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ہر وزارت سے ماہانہ رپورٹ طلب کرتے ہیں اور کئی ایسی وزارتیں ہیں جن کی کل سیدھی ہورہی ہے ۔ مگر اس کی کامیابی مستقبل رویہ بننے میں ہے ۔ اگر موجودہ حکومت کی دلچسپی برقرار رہی تو تحقیق، علم اور سائنس کے میدان میں ہم یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ آج کی تیز رفتار معاشی علمی ٹیکنالوجی کے دور میں ہم اپنا مقام بنا سکتے ہے ۔ تعلیم ، معیشت، سیاست اور مذہبی رویے میں قومی ہم آہنگی پہلا اور بنیادی تقاضا ہے ۔ پاکستان کی 60فیصد آبادی 30 سال کی عمر سے کم نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ ا ور یہی ’’مستقبل کا پاکستان‘‘ ہے ۔

زمانہ ایک ، حیات ایک، کائنات بھی ایک

دلیل کم نظری ، قصہ جدید و قدیم

شیطانی دہشت گردی، الٹی گنتی شروع

س بات میں بھلا کیا شبہ ہے کہ مودی کی قیادت میں دہلی کے حکمران ٹولے نے گزشتہ کئی روز سے مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام کےخلاف شیطانی دہشتگردی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس کےلئے سفاکی جیسے الفاظ بے معنی ہو کر رہ گئے ہےں ۔ آر ایس ایس کی شہ پر جس طور لداخ اور مقبوضہ جموں کشمیر کو ہڑپنے کا جو مکر وہ عمل جاری ہے اس کی مذمت کےلئے الفاظ ڈھونڈ پانا مشکل ہی نہےں بلکہ نا ممکن ہے ۔ جس طور مقبوضہ ریاست کے کم و بیش ایک کروڑ افراد کو کھانے پینے اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم کیا گیا اس کا منطقی نتیجہ آنے والے دنوں میں کیا نکلے گا اس کا اندازہ کرنے کےلئے نجومی یا جوتشی ہونا ضروری نہےں ۔ ہندوستانی حکمرانوں نے توسیع پسندی پر مبنی جو پالیسی عرصہ دراز سے اپنا رکھی ہے وہ ایسا کھلا راز ہے جس کی بابت غالباً ہر ذی شعور بخوبی آگاہ ہے ۔ اسی تناظر میں ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ اسے جنوبی ایشیاء کی بدقسمتی قرار دیا جائے یا حالات کی ستم ظریفی کہ تمام جنوبی ایشیائی ممالک کی زمینی یا سمندری حدود بھارت سے متصل ہیں جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہلی سرکار کی ہمیشہ سے یہ شعوری کوشش اور خواہش رہی ہے کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہ ہو سکے اور تمام ہمسایے کسی نہ کسی طور بھارت کے دستِ نگر رہیں ۔ اپنی اسی توسیع پسندانہ حکمت عملی کے تحت ایک طویل عرصے تک سری لنکا بھارتی سازشوں کا مرکز رہا اور سری لنکا کے علاقے ’’جافنا‘‘ کو لے کر بھارت نے دہشتگردی کے سلسلے کو بے پناہ طوالت دی ۔ بعد ازاں سری لنکا میں ’’انڈین پیس کیپنگ فورس‘‘ کے نام پر بھارت نے باقاعدہ اپنی فوج داخل کر دی اور اس کے بعد ہونے والے واقعات و حوادث تاریخ کا ایک اہم باب ہیں ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اپنی ہی بھڑکائی ہوئی اس آگ کے نتیجے میں غالباً مکافات عمل کا شکار ہو کر سابق بھارتی وزیراعظم ’’راجیو گاندھی‘‘ بھی دہشتگردی کی نذر ہو گئے ۔ اس کے بعد بھی ایل ٹی ٹی ای اور تامل ٹائیگرز کے ذریعے یہ خطہ کسی نہ کسی طور متاثر ہوتا چلا آیا ہے ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ تو اتنا دراز ہے کہ اس کا مکمل طور پر احاطہ کر پانا ممکن نہیں ۔ کشمیر سنگھ، فقیر چند، کرنل پروہت ، سادھوی پرگیہ ٹھاکر، سوامی اسیم آنند، میجر اپادھیا اور راجیو ورما جیسے کئی دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں عرضہ دراز سے جاری ہیں ۔ دوسری طرف اپنے چھوٹے ہمسایے مالدیپ کے خلاف بھارت نے جس طرح فوج کشی کی ، وہ بھی بھارتی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ پھر سابقہ مشرقی پاکستان میں تو دہلی سرکار نے اپنی فوج کشی کر کے پاکستان کو دولخت کر دیا اور اس کا اعتراف اندرا گاندھی سے لے کر مودی، واجپائی ، حسینہ واجد اور ہر چھوٹے بڑے بھارتی حکمرانوں نے فخریہ طور پر کیا اور اس کی تفصیلات ساری دنیا پر عیاں ہےں ۔ جون 2015 کے پہلے ہفتے میں مودی نے دورِ ڈھاکہ کے دوران پاکستان کی بابت جو زہر اگلا تھا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ علاوہ ازیں 1987-88 میں نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی ۔ اس کے علاوہ نیپال میں نئے آئین کے نفاذ کے حوالے سے بھارت نے کچھ عرصہ قبل کھلی اشتعال انگیزی پر مبنی جو رویہ اختیار کیا اس کی مذمت کے لئے الفاظ ڈھونڈ پانا بھی شاید ممکن نہیں ۔ بھوٹان میں بھی اکثر و بیشتر بھارت اپنی شرائط منواتا چلا آیا ہے ۔ دوسری طرف اس معاملے کی تفصیلات کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ 2016 کے سارک سربراہ اجلاس کو بھی بھارت نے پاکستان پر بے بنیاد الزمات لگا کر ان کی آڑ میں سبوتاژ کر دیا تھا ۔ اپنی خفیہ ایجنسی را، آئی بی اور کابل میں بھارتی مہرے این ڈی ایس کے ذریعے بلوچستان ، کے پی کے اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشتگردی کو ہر ممکن ڈھنگ سے پروان چڑھانے کی سعی کی جا رہی ہے اور ان معاملات کے دستاویزی ثبوت پاکستان کی جانب سے ایک سے زائد بار دنیا کے سامنے لائے گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں بھارتی دہشتگرد کلبھوشن یادو کے ذریعے جس طرح خود بھارتی ایجنسیاں پاکستان میں دہشتگردی کو پروان چڑھا رہی تھیں ، وہ بھی سب کے سامنے آ چکا ہے ۔ مبصر ین نے اس بھارتی غیر انسانی روش کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ آر ایس ایس اور ہٹلر کے پیرو کار شائد اس ابدی سچائی کو بھول بیٹھے ہےں کہ دنیا میں کفر کی حکومت تو شائد کچھ عرصہ قائم رہ جائے مگر ظلم کی سیاہ ر ات کو جلد یا بدیر ڈھلنا ہوتا ہے ۔

پاکستان کا تارےخی پس منظر

برصغےر کا علاقہ جو آج پاکستان اور ہندوستان پر مشتمل ہے 70برس پہلے تک اےک ہی ملک تھا ۔ 600سال قبل مسےح اس علاقے مےں اےک قوم دراوڑ کہلاتی تھی وسط اےشےاء سے آرئن نامی قوم اس علاقے مےں وارد ہوئی اور مقامی لوگوں پر برتری حاصل کر لی 557قبل مسےح سدھارتھ نامی شخص نےپال مےں پےدا ہوا جس نے بدھ مت کی بنےاد رکھی سکندر اعظم شمال مغربی سمت سے 326قبل مسےح کو برصغےر مےں وارد ہوا اور راجہ پورس کو شکست دے کر مشرق کی طرف سے پنجاب مےں داخل ہوا ۔ فوج کی کمی کے سبب مزےد پےش قدمی جاری نہ رکھ سکا اور فوج کو ازسر نو منظم کرنے کی غرض سے واپس پلٹ گےا اور ہندوستان پر حکومت کی آرزوئے ناتمام کے ساتھ اس جہان فانی سے کوچ کر گےا پانچوےں اور چھٹی صدی عےسوی مےں بےرونی حملہ آوروں کے ساتھ راجپوت بر صغےر مےں آئے اور 750ء تک برصغےر پر چھائے رہے ۔ 610ء مےں عرب کے صحراءوں مےں اسلام کی روشنی کا ظہور ہوا ۔ 711ء کے آخر مےں راجہ داہر کے غنڈوں نے مسلمانوں کے اےک قافلے کو لوٹ لےا اورخواتےن کی بے حرمتی کی حجاج بن ےوسف نے مسلمانوں کو انصاف دلانے اور بحری قذاقوں کی سر کوبی کےلئے محمد بن قاسم کو دےبل بھےجا ۔ محمد بن قاسم نے ملتان تک کا علاقہ فتح کر لےا اور اس خطے مےں اسلامی مملکت کی بنےا د ڈالی سلطان محمود غزنوی افغانستان سے برصغےر مےں داخل ہوا محمود غزنوی نے افغانستان سے برصغےر پر سترہ حملے کئے اور سومنات کا شہرت ےافتہ قصہ پےش آےا ۔ 1191مےں افغانستان سے سلطان محمود غزنوی نے بر صغےر پر فوج کشی کی اور دہلی کے تحت پر براجمان ہوا اس کا غلام قطب الدےن اس کی وفات کے بعد برصغےر کا حکمران بنا اور1206مےں برصغےر مےں پہلی باقاعدہ حکومت تشکےل دی برصغےر کی ہندوستان کی تارےخ مےں مسلمانوں پر بڑے مشکل دور آئے مسلمانوں کے زوال کا دور اورنگ زےب کے انتقال سے شروع ہوتا ہے بہادر شاہ ظفر تک مسلمانوں نے برصغےر پر تقرےباً سات سو برس تک حکومت کی اور ان کے تقرےباً کل 76بادشاہ ہوئے مسلمان فرمانرواءوں کی مضبوط حکومتوں کے باعث مسلمان اقلےت کو عدم تحفظ کا احساس نہےں ہوا لےکن 1707ء مےں اورنگزےب کے انتقال کے بعد اٹھاروےں اور انےسوےں صدی کا دور مسلمانوں کےلئے بڑا کٹھن اور کڑی آزمائش کا دور تھا اورنگ زےب کے انتقال کے بعد اےک طرف مرہٹے اور جاٹ مسلمانوں کے وجود کے درپے تھے تو دوسری طرف انگرےز سازشوں اور جوڑ توڑ کا جال بچھا کر برصغےر پر اپنی اجارہ داری کےلئے کوشاں تھا ۔ 1715ء تک انگرےز ولےم فورٹ نامی قلعہ کلکتہ مےں قائم کر چکے تھے اور ان کی گورا پلٹن ان کی عسکری قوت کا مظہر بن چکی تھی 1757ء کی جنگ پلاسی مےں مےر جعفر کی غداری کے سبب سراج الدولہ کو شکست ہوئی اور انگرےز ہندوستان مےں اےک سےاسی اور عسکری قوت بن کر ابھرے سراج الدولہ کی شکست کے بعد مسلمانوں کے حوصلے پست ہوئے ۔ مسلمانوں کےلئے سب سے بڑا صدمہ 1764ء مےں بکسر کی جنگ مےں مغل بادشاہ عالم اور مےر قاسم کی مشترکہ فوج کی انگرےزوں کے ہاتھوں شکست تھی اس سے دہلی ان کے آگے سر نگوں ہو چکی تھی اور مغل حکومت صرف لال قلعہ تک محدود تھی مےسور کی رےاست مےں سلطان فتح علی ٹےپو اب مسلمانوں کےلئے امےد کی کرن تھا لےکن ان کی غداری اور سازشوں سے مےسور کی چوتھی جنگ مےں جو1799ء مےں لڑی گئی ٹےپو سلطان کو شکست ہوئی اور وہ ان تارےخی کلمات کے ساتھ کہ شےر کی اےک دن کی زندگی گےدڑ کی صد سالہ زندگی سے بہتر ہے شہادت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوا ۔ بےسوےں صدی مےں مرہٹے اور دوسری قوتےں جب مسلمانوں کےلئے خطرہ بنےں تو مسلمانوں کی سےاسی و سماجی قےادت علماء نے سنبھالی شاہ ولی ا;203; کے جانشےن شاہ عبدالعزےز نے ہندوستان کو دارلحرب قرار دےا ان سے متاثر ہو کر سےد احمد شہےد نے 1783ء تا1786ء جہاد کی تحرےک شروع کی ۔ جس کا مقصد پنجاب کے مسلمانوں کو سکھوں کے پنجہ استبداد سے نجات دلانا تھا ےہاں بھی مسلمانوں مےں دےرےنہ عناصر نے کام دکھاےا اور رنجےت سنگھ نے رشوت کے ذرےعہ کئی افغان سرداروں کو رشوت دے کر اپنے ساتھ ملا لےا چنانچہ1831ء مےں بالا کوٹ کے مقام پر مجاہدےن کو شکست ہوئی اور سےد احمد برےلوی اور شاہ اسماعےل شہادت پا گئے ۔ اس طرح ےہ تحرےک بھی دم توڑ گئی ۔ 1843ء مےں انگرےزوں نے سندھ پر قبضہ کر لےا اور مارچ1849ء کے بعد پنجاب مےں بھی بلاشرکت غےرے حکمران بن گئے 1856ء مےں انگرےزوں نے اودھ کے حکمران مےر واجد علی سے اےک معاہدہ پر دستخط کرواکر اودھ پر قبضہ کر لےا اور مےر واجد علی کو کلکتہ مےں نظر بند کر دےا انےسوےں صدی کے نصف تک انگرےز ہندوستان کے کافی حصہ پر قابض ہو چکے تھے ۔ مسلمانوں کی عسکری قوت پارہ پارہ ہو چکی تھی ۔ مسلمان رےاستوں کے انگرےزوں کے سامنے سرنگوں ہونے کے باوجود ان مےں جذبہ حرےت کی تڑپ اور آزادی کی آرزو ہنوز زندہ تھی اسی مقصد کے تحت انےسوےں صدی کے آغاز سے لےکر وسط تک انگرےزی تسلط کے خلاف 24ناکام بغاوتےں ہوئےں ہندوستانےوں کی جانب سے انگرےزوں کے طوق غلامی سے نجات کےلئے آخری غےر منظم کوشش 1857ء کی جنگ آزادی تھی جسے انگرےزوں نے بغاوت سے تعبےر کےا ےہ آزادی کی جنگ جہاں ہندوستان پر انگرےزوں کے مکمل تسلط کا باعث بنی وہاں مسلمانوں کےلئے تارےخ مےں ظلم و ستم کی اےک طوےل داستان رقم کرنے کا سبب بھی بنی مسلمانوں کو لاکھوں کی تعداد مےں پھانسےاں دی گئےں توپوں اور بندوقوں کے دہانے مسلمانوں کی طرف بے درےغ کھول دیے گئے کوئی اےسا ظلم نہ تھا جو مسلمانوں سے روا نہےں رکھا گےا مسلمانوں کےلئے اس تارےک اور مشکل دور مےں اےک اےسی شخصےت جو مسلمانوں کےلئے اےک مسےحا کے روپ مےں سامنے آئی ،جس نے تدبرو فراست سے اپنی سرکاری ملازمت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی ڈوبتی ناءو کو سہارا دےا ،عزم و ہمت کے اس پہاڑ کا نام سرسےد احمد خان تھا وہی ہندوستان مےں مسلمانوں کی نشاۃ ثانےہ کا نقےب تھا کون نہےں جانتا کہ حصول پاکستان اور اس کے بعد پاکستان کے اولےن دور مےں پاکستان کے استحکام کےلئے ان سر فروشوں کی مساعی کا کتنا ہاتھ ہے جو علی گڑھ سے فارغ التحصےل ہوئے تھے ےہی وجہ ہے کہ چونکہ ہندوستان سے انگرےزوں کو بزور طاقت نکالنا ممکن نہےں تھا اسلیے تقاضائے وقت کے تحت مسلمانوں کی قےادت ان کی رواےتی لےڈر شپ کے ہاتھوں سے نکل کر مغربی تعلےم ےافتہ نوجوانوں کی طرف منتقل ہو گئی سرسےد احمد خان کی مساعی جمےلہ کا تسلسل ہمےں علامہ اقبال کے ہاں ملتا ہے جو ان کی زبان سے آل انڈےا مسلم لےگ کے سالانہ اجلاس 1930ء الہٰ آباد مےں مسلمانوں کی منزل کی نشاندہی کے طور پر ےوں ادا ہوا کہ’’ مےری خواہش ہے کہ پنجاب، سرحد ،سندھ اور بلوچستان کو ملا کر اےک رےاست واحدہ قائم کی جائے ‘‘ ۔ ےہ اےک آزاد خود مختار رےاست کا اولےن خاکہ تھا جب مسلمانوں کی سےاسی جدوجہد نے اےک متعےن رخ اختےار کر لےا تو حضرت علامہ اقبال نے ہی اس ملی جنگ کےلئے قائد اعظم محمد علی جناح ;231;جےسے دےدہ ور کا انتخاب کےا ۔ قائد اعظم;231; نے اپنے سےاسی کےرئےر کا آغاز آل انڈےا کانگرےس کے پلےٹ فارم سے کےا اور ہندو مسلم اتحاد کےلئے کوشاں رہے لےکن طوےل عرصہ تک ہندوءوں کی رفاقت مےں رہنے سے ان کو معلوم ہو گےا کہ کانگرےس فقط ہندوءوں کی ہی نمائندہ جماعت ہے اور مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ اس کے مقاصد مےں نہےں ۔ 1935ء کا ا نڈےن نےشنل اےکٹ ہندوءوں اور انگرےزوں کی مشترکہ چال ثابت ہوا اسی اےکٹ کے تحت 1936ء مےں الےکشن ہوئے 1937ء مےں کانگرےسی وزارتےں بنےں جس مےں ہندوءوں کی مسلمان دشمنی زےادہ واضع شکل مےں سامنے آئی مسلمان دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقامات مقدسہ کی توہےن ،تعلےمی اداروں مےں ہندی ترانہ بندے ماترم کا اجراء اور مسلمانوں پر ملازمتوں کی پابندےاں جےسے مسلمان دشمن کام کیے گئے اس دور مےں دوسری جنگ عظےم کا بگل بج چکا اٹھا1939ء مےں ےوم نجات مناےا گےا مارچ 1940ء بروز جمعۃ البارک قائد اعظم نے لاہور مےں اےک تارےخ ساز جلسے سے خطاب کےا اور دو قومی نظریے کو واضع الفاظ مےں پےش کےا اور اعلان کےا کہ ہند اور مسلمان دو الگ الگ قومےں ہےں ہم مذہب،ثقافت ،تعلےم ،طرز زندگی اور زبان کے حوالے سے ہندوءوں کے ساتھ نہےں رہ سکتے لہذا بر صغےر پاک و ہند کو دو آزاد مملکتوں مےں تقسےم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اگلے ہی روز 23مارچ 1940بروز ہفتہ قرارداد پاکستان منظور ہوئی شےر بنگال مولوی فضل الحق نے ےہ قرار داد پےش کی اور چوہدری خلےق الزماں نے اس کی تائےد کی مسلمانوں کو اےک نشان منزل مل گےا ۔ حضرت قائد اعظم;231; کی قےادت مےں حصول وطن کےلئے تارےخ ساز تحرےک کا آغاز ہوا جس کے نتےجہ مےں برٹش پارلےمنٹ نے تےن جون 1947ء کو تسےم ہند کا اعلان کر دےا اور بلآخر 14اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود مےں آگےا حضرت علامہ اقبال;231; کا خواب اےک حقےقت بننے مےں قائد اعظم کی سےاسی بصےرت اور حکمت عملی کا بڑا حصہ تھا 14اگست 1947ء کی صبح ہمےں حےات ملی کہ وہ درخشدہ روشن صبح ہے جس نے اےک نئی آزاد مملکت کو دنےا کے نقشے پر ابھرتے ہوئے دےکھا قےام پاکستان کا اعلان ہوتے ہی ہندوءوں نے مسلمانوں پر ظلم وبربرےت کا بازار گرم کر دےا معصوم عصمتوں کی پامالےاں کی گئےں مکانوں کو آگ لگا دی گئی مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹا گےا اور دس لاکھ مسلمانوں کی قربانی کے بعد ےہ مملکت خداداد ہمارے حصہ مےں آئی ۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں جھوٹے آپریشن کرے گا، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹے آپریشن کرے گا۔  

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا دعوے کررہا ہے کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ وادی میں داخل ہوئے ہیں، بھارتی دعویٰ ہے کہ دہشت گرد جنوبی علاقوں میں بھی داخل ہوئے ہیں تاہم یہ دعوے مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کے ایجنڈے سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ بھارت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹے آپریشن کرے گا۔

Google Analytics Alternative