Home » 2019 » August (page 3)

Monthly Archives: August 2019

ارمیلا کشمیریوں سے غیر انسانی سلوک کیخلاف مودی سرکار پر برس پڑیں

نئی دلی:نامور بالی ووڈ اداکارہ اوربھارتی سیاسی جماعت کانگریس کی رکن ارمیلا ماٹونڈکرمقبوضہ کشمیر کو مکمل لاک ڈاؤن کرنے اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے پر مودی سرکار پر پھٹ پڑیں۔

اداکارہ ارمیلا ماٹونڈکر نے بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ 22 روز سے مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال اورکشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر مودی سرکار پر برستے ہوئے کہا ہے کہ میرے ساس سُسر کشمیر میں رہتے ہیں اور میرے شوہر مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ 22 روزسے اپنے والدین سے بات نہیں کرسکے ہیں۔

ارمیلا نے کہا بات صرف آرٹیکل 370 کو منسوخ کیے جانے کی نہیں ہے  بلکہ وہاں کشمیریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ میرے ساس سُسر شوگر کے مریض ہیں جب کہ انہیں ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ بھی لاحق ہے۔

اداکارہ نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا آج مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے 22 روز ہوگئے ہیں، نہ میں اور نہ ہی میرے شوہر اپنے والدین سے رابطہ کرسکے ہیں۔ ہمیں کوئی خبر نہیں کہ ان کے گھر میں دوا بھی موجود ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وادی میں لاک ڈاؤن کردیاتھا جو اب بھی جاری ہے، لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی وہاں نقل وحرکت محدود اور موبائل فون و انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

شیخ رشید کو جلسے سے خطاب کے دوران کرنٹ لگ گیا

راولپنڈی: وزیر ریلوے شیخ رشید کو جلسے سے خطاب کے دوران کرنٹ لگ گیا۔

وزیراعظم کے اعلان کے بعد آج ملک بھر میں 12 سے 12:30 کے دوران کشمیر آور منایا گیا، اس دوران ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں اور کشمیری عوام سے بھرپور اظہار یکجہتی کیا گیا، اسلام آباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی مرکزی تقریب ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان، صدر عارف علوی، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور ارکان اسمبلی سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

کشمیر آور کے دوران کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی لال حویلی کے باہر جلسے کا انعقاد کیا، جلسے میں خطاب کے دوران مائک پکڑنے پر شیخ رشید کو کرنٹ لگ گیا تاہم انہوں نے کپڑے سے مائک پکڑ کرخطاب جاری رکھا۔

سوشل میڈیا سائٹس کا زیادہ استعمال کس حد تک نقصان دہ؟

سوشل میڈیا سائٹس جیسے انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بک کا استعمال معمول بنالینا صارف پر تناﺅ بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں ان کی لت کا خطرہ بڑھتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برطانیہ کی لنکا شائر یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال لوگوں پر ذہنی بوجھ بڑھاتا ہے جس کی وجہ بار بار چیٹ، نیوز فیڈ اسکرول اور میسجنگ پر سوئچ ہونا ہوتا ہے۔

وقت کے ساتھ یہ معمول لوگوں کے اندر منشیات کے عادی افراد جیسی لت بڑھاتا ہے۔

تحقیق کے دوران 444 فیس بک صارفین کی عادات کا جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ اس سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ فیس بک کے اندر صارفین مختلف سرگرمیوں کو بار بار سوئچ کرتے ہیں، جس سے ان میں تناﺅ یا دباﺅ بڑھتا ہے اور اسی تناﺅ کو کم کرنے کے لیے بھی لوگ ان سائٹس کا زیادہ استعمال کرنے لگتے ہیں، جس سے ان میں اضطراب اور شدت پسندانہ رویہ پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے نتیجے میں لوگوں کے اندر ایک لت پیدا ہونے لگتی ہے جو انہیں ان سائٹس پر زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے پر مجبور کرتی ہے۔

تحقیق کے مطابق صارفین کو اس سے بچنے کے لیے اپنے استعمال کے طریقہ کار کو بدلنا چاہیے بلکہ اس کا دورانیہ کم کرنا چاہیے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے انفارمیشن سسٹمز جرنل میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل رواں سال کے شروع میں مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹٰ کی تحقیق میں جائزہ لیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا کی لت کس حد تک انسانی رویوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال ایسے رویوں کو فروغ دیتا ہے جو کہ ہیروئین یا دیگر منشیات کے عادی افراد میں دیکھنے میں آتا ہے۔

اس تحقیق میں 71 رضاکاروں میں فیس بک کے استعمال کے اثرات دیکھے گئے اور ایک ٹیسٹ کا حصہ بنایا گیا جس سے پتا چلتا ہے کہ ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کس حد تک متاثر ہوچکی ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ جن رضاکاروں نے تسلیم کیا کہ وہ فیس بک پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں، انہوں نے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں ٹیسٹ میں انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

اس طرح کے آئی جی ٹی ٹیسٹ کو دماغی انجری کے شکار افراد سے لے کر ہیروئین کے عادی لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ اس سوشل میڈیا لت کو جانچنے کے لیے آزمایا گیا۔

ے 2017 میں امریکا کی ڈی پال یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا کہ سوشل میڈیا سائٹس جیسے فیس بک کا زیادہ استعمال دماغ کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دماغ کے دو مختلف میکنزم اس عادت کے نتیجے میں متاثر ہوتے ہیں جن میں سے ایک خودکار اور ردعمل کا اظہار کرتا ہے جبکہ دوسرا رویوں کو کنٹرول اور دماغی افعال کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

یہ دوسرا نظام لوگوں کو بہتر رویے کو اپنانے اور اضطراب پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔

اسی طرح امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ جو لوگ کسی المناک واقعے سے متعلق جاننے کے لیے سوشل میڈیا سائٹس کو بہت زیادہ چیک کرتے ہیں، انہیں نفسیاتی مسائل کا سامنا دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان ویب سائٹ پر غلط معلومات کا پھیلنا بہت آسان ہوتا ہے جس سے بھی کسی فرد کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔

دوسری جانب کوپن ہیگن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ فیس بک اور ٹوئٹر پر بہت زیادہ وقت گزارنا ڈپریشن کا باعث بنتا ہے اور جذباتی کیفیات متاثر ہوسکتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 1100 افراد کی آن لائن عادات اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔

عالمی مارکیٹ سمیت ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی

کراچی: مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 300 روپے کی کمی ہوئی۔

عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 11 ڈالر کی کمی ہوئی جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 1526 ڈالر پر پہنچ گئی جب کہ مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 300 روپے اور 258 روپے کی کمی ہوگئی۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی کے بعد کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت کمی کے بعد 89 ہزار 500 روپے اور دس گرام سونے کی  قیمت گھٹ کر 76  ہزار 732 روپے  پر پہنچ گئی۔

 

نئے آئی فونز کی تاریخ رونمائی سامنے آگئی

اگر آپ نئے آئی فونز کے منتظر ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے ان کی رونمائی کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے۔

آئی فون 11، آئی فون 11 پرو اور آئی فون 11 پرو میکس (یہ ممکنہ نام ہیں) یعنی 3 نئے آئی فونز توقعات کے مطابق 10 ستمبر کو ایپل پارک کے اسٹیو جابز تھیٹر میں متعارف کرائے جائیں گے۔

اس حوالے سے ایپل کی جانب سے دعوت نامے میڈیا اداروں کو بھیجے گئے ہیں جن پر لکھا ہے ‘ بائی اننویشن اونلی (By innovation only)’۔

دعوت نامے میں ایپل کا لوگو مختلف رنگوں جیسے سبز، نیلا، پیلا، سرخ اور جامنی ہے جو کہ گزشتہ سال کے آئی فون ایکس آر کے اپ ڈیٹ ماڈل آئی فون 11 میں ممکنہ طور پر متعارف کرائے جانے والے نئے رنگ ہوسکتے ہیں۔

ایپل کی جانب سے عام طور پر آئی فونز منگل یا بدھ کے دن متعارف کرائے جاتے ہیں اور 10 ستمبر کو بھی منگل ہے، یعنی اس روایت کو برقرار رکھا گیا ہے، مگر اس کے پیچھے کیا وجہ چھپی ہے، وہ کسی کو معلوم نہیں۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ نئے آئی فونز کے نام آئی فون 11، آئی فون 11 پرو اور آئی فون 11 پرو میکس ہوسکتے ہیں۔

ان میں سے آئی فون 11 گزشتہ سال کے آئی فون ایکس آر کی جگہ لے گا اور اس میں 6.1 انچ ایل سی ڈی اسکرین دی جائے گی اور سب سے بڑی تبدیلی بیک پر ایک کی بجائے 2 کیمروں کی موجودگی ہوگی، جن میں سے ایک ٹیلی فوٹو لینس ہوگا جبکہ چند نئے رنگ بھی پیش کیے جائیں گے۔

آئی فون 11 پرو 5.8 انچ جبکہ آئی فون 11 پرو میکس 6.5 انچ کے او ایل ای ڈی ڈسپلے سے لیس ہوگا اور ان میں پہلی بار یہ کمپنی بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ دے گی۔

ان فونز میں پہلے سے زیادہ طاقتور اے 13 پراسیسر دیا جائے گا جبکہ تیز فیس آئی ڈی، ریورس وائرلیس چارجنگ اور زیادہ بہتر واٹر ریزیزٹنس خصوصیات دی جائیں گی۔

ان فونز کے ساتھ نئی ایپل واچ بھی متعارف کرائی جائے گی جسے ممکنہ طور پر ایپل واچ 5 کا نام دیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح ایک نیا 10.2 انچ کا آئی پیڈ اور 16 انچ میک بک پرو بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

یمنی صدر ہادی کی اماراتی طیاروں کی بمباری رکوانے کیلئے سعودیہ سے مداخلت کی اپیل

ریاض: یمن میں متحدہ عرب امارات کے جنگی طیاروں نے بمباری کی جس پر یمنی صدر منصور ہادی نے سعودی عرب سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر منصور ہادی نے متحدہ عرب امارات پر یمن کے موجودہ دارالحکومت عدن پر فضائی بمباری کا الزام عائد کرتے ہوئے سعودی عرب سے یو اے ای کو علیحدگی پسندوں کی مدد کرنے اور جارحیت سے باز رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یمن کے صدر منصور ہادی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات جنوبی علاقوں میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کر رہا ہے جن کا مقصد عدن پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اماراتی طیاروں نے عدن میں حکومتی فورسز اور عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی کی جانب سے جاری بیان میں انکشاف کیا گیا کہ اماراتی طیاروں نے عدن اور زنجبار میں حکومتی فورسز پر فضائی بمباری کی جس کے نتیجے میں 40 اہلکار جاں بحق اور 70 شہری زخمی ہوئے تھے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عدن ایئرپورٹ پر دہشت گردوں نے اتحادی افواج پر حملہ کیا جس کے جواب میں فضائی حملے کیے جن کا مقصد اتحادی افواج کو محفوظ بنانا تھا۔

ادھر جنگ زدہ یمن میں متحارب گروپ کی کارروائیاں بھی عروج پر ہیں، میڈیا کو جنگ زدہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں جس کے باعث یمنی صدر منصور ہادی کے متحدہ عرب امارات کے فضائی حملوں میں 40 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد عالمی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا دارالحکومت عدن کو بنایا گیا ہے جہاں علیحدگی پسند جماعت غلبے کے لیے جنگ لڑ رہی ہےجب کہ صدر منصور ہادی سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

 

فاسد نظام

پاکستانی عوام سچے ہیں ، وہ محب وطن بھی ہیں ان ہمدردی بھی ہے اور وہ قربانی اور ایثار کے جذبہ سے سرشار ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہم پر مسلط نظام جھوٹا ہے جس نے ہم سب کو جھوٹا بنادیا ہے دیکھا جائے تو پورا معاشرہ شیطان کے جال میں پھنس چکا ہے کہاجاتا ہے کہ ہم نے بڑی ترقی کر لی ہے لیکن دیکھا جائے تو ترقی جھوٹ کی ہوئی ہے فاسد نظام کی وجہ سے فحاشی کو فروغ دیا جارہاہے ، ہر طرف گروہ بندی اور فرقہ واریت عام ہے چور بازاری ہے اور دو نمبر اشیائے صرف کی تیاری اور خرید وفروخت ہورہی ہے اور پرسان حال کوئی نہیں ہے غلط نظام نے حقیقی دین پر پردے ڈال دیئے ہیں اور صرف رسم سامنے نظر آرہی ہے آج ہ میں دین کی روح سے واقفیت نہیں ہے جو شخص اعلانیہ دو نمبر کی اشیاء فروخت کرتا ہو اور بے ایمانی اور دھوکہ اس کا شیوہ ہو ا اس کی نیکی کی کیا حیثیت ہوگی;238; ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستا ن کے ننانوے فیصد عوام کا بنیادی مسئلہ روٹی کا ہے،روٹی کے حصول کیلئے پاکستان کے غریب عوام مارے مارے پھر رہے ہیں اور نوالے کی تلاش میں ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور نوالہ ہے کہ ان کے ہاتھ نہیں آتا ہے ۔ پاکستانی نظام کے سیاسی مسخروں نے عوام کو مہنگائی خوف اور بھوک کے تحفے کے اور کچھ نہیں دیا ہے جب بھی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے پاس عوام کے بنیادی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انفرادی طور پر قوم کا ہر فرد ملک کیلئے قربانی دیتا ہے اور ملک کی ترقی کیلئے نیک خواہشات کی تمنا رکھتا ہے لیکن کیا کیا جائے نظام کا اور نظام کو چلانے والوں کا کہ ہمیشہ وہ آڑے آجاتے ہیں اور عوام کی خواہشات کو دباجیا اتا ہے اور ان کے ارمانوں کا خون کیاجاتا ہے اور ان کی تمناءوں کو مٹایاجاتا ہے فاسد نظام نے ہر فرد کوآلودہ کردیا ہے بددیانتی اس کی خمیر میں شامل ہوگئی ہے بھوک سے قوم کا تعلق جڑ گیا ہے اور بد دیانتی ہمارا تعارف بن گیاہے حالانکہ یہ ملک سچائی پھیلانے اور عدل اور انصاف پر مبنی نظام اور اعلیٰ اخلاق کو بلند کرنے کیلئے بنا تھا لیکن یہاں فرقہ واریت، کرپشن اور مہنگائی نافذ کی گئی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ باطل فرقوں کی نرسری ہے اور ہرفرقہ اصل اسلام کا ٹھیکہ دار ہے ۔ چونکہ مسلط نظام سرمایہ پرستی، نفس پرستی، سلفیت پرستی اور جاہ پرستی کے جراثیموں سے آلودہ ہے اور عوام کے ذہنوں کو تالے لگ گئے ہیں اس لیئے ہمارا معاشرہ حیوانی گروہیت کا منظرپیش کر رہاہے ہماری سیاست، معیشت اور تجارت مفلوج ہیں مادہ پرستی ہر شخص کی خمیر میں شامل ہوگئی ہے دوسروں کو دھوکہ دیناہر شخص کا نصب العین بن گیا ہے اور جھوٹ بولنے کی رواےت عام ہوگئی ہے ہر طرف دھونس اور دھاندلی ہے اور اخلاقی بگاڑ کا عالم ہے اور جھوٹ کو فروغ مل رہاہے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جھوٹ بولا جارہاہے بڑے لوگ جھوٹ بھی بڑے پیمانے پر بولتے ہیں ِاور جوجھوٹے حیثیت کے حامل ہیں ان کے جھوٹ کا پیمانہ بھی ذرا چھوٹا ہوتا ہے ہمارے سیاست دان جن میں خواتین اور حضرات سبھی شامل ہیں جھوٹ بولتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ وہ اس جھوٹ کو ضرورت اور وقت کا تقاضا قرار دیتے ہیں ۔ یہ امر لائق غور ہے کہ مذہبی کارڈ استعمال کرنے والے عناصر سرمایہ دارانہ نظام کو مذہب کا محافظ سمجھتے ہیں اور مقدس روایات اور مذہبی اقدار کو اپنے مذموم عزائم کیلئے استعمال کرتے ہیں اور فاسد نظام کا ایک ناکارہ پرزہ بن کر وہ جادووہ جو سر چڑھ کر بولے کے مصداق بنے ہوئے ہیں اور بڑی چابکدستی کے ساتھ عوام کو دھوکہ دینے پینترے بدلتے ہیں اور مکر اور فریب کا مظاہرہ کرتے ہیں البتہ بیانات باقاعدگی سے داغتے ہیں ان کی وجہ سے اور اس قبیل کے دیگر سیاست دانوں کی وجہ سے ملک فرقہ واریت اور ہیروئن کلچر کے لپیٹ میں ہے دینی فلسفے کا پھلاءو رک گیا ہے مغربی تہذیب وتمدن کوفروغ مل رہا ہے اور خود غرض سیاست دانوں کی گمراہانہ ذہنیت نے پوری قوم کو جہنم کے گڑھے میں ڈالدیا ہے ۔ گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان پر مسلط نظام نے داءو وپیچ تو بہت کھائے ہیں اور روپ بدلنے میں کافی شہرت حاصل کی ہے اگرچہ اس کا حقیقی چہرہ چھپا ہوا ہے اور طاقت کی ڈوری جس کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ کبھی سامنے نہیں آتا ہے ہم نے اس نظام کو عسکری وردی ہی میں دیکھا ہے اس کے علاوہ یہ نظام کبھی واسکٹ اور شیروانی کی نمائش کرتا ہے اور کبھی کوٹ پینٹ کی صورت میں سامنے آتا ہے جب بھی یہ نظام اپنا رنگ بدلتا ہے تو غریب آدمی اگرچہ خوشی سے شادیانے بجاتا ہے اور تالیاں پیٹ کر اپنے سرخ کرتا ہے مگر اسکے چہرے کی سرخی زائل ہوتی جاتی ہے اور اسکے چہرے کی زردی میں اور اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں مذہب اور مسلک کے نام پر ایک دوسرے کو بم کا نشانہ بنانے والے ہو ا،افسر شاہی قبضہ گروپ ہو ےا کسان اور مزدور کا خون چوسنے والے جاگیر دار اور سرمایہ دار ہواور ےا قوم پرستی کے نام پر ایک دوسرے کو تہہ و تیغ کرنے والے ہوان سب کے مفادات عوام پر ظلم کرنے سے وابستہ ہیں اور یہ قومی مفادات سے عاری ہیں اوریہ سب الا ماشاء اللہ سامراجیت کے آلہ کار ہیں یہ تو نہ دور کے تقاضوں سے آگاہ ہیں اور نہ ان کو اپنے شاندار ماضی کا ادراک ہے اور ان سے بہتر مستقبل کی توقع رکھنا بھی حماقت ہے کیونکہ نہ ان کا کوئی نصب العین ہے اور نہ ان ہی ان کے پاس کوئی حکمت عملی ہے بلکہ یہ سامراج کی چھتری کے نیچے عوام کا استحصال کرنے میں مصروف ہیں اور مال جمع کرنا اور قومی خزانہ پر ہاتھ صاف کرنا ان کی سیاست کا وطیرہ ہے اور یہی ان کا مشن ہے جس پر سب گامزن ہیں ، اب عام آدمی بھی سمجھنے لگ گیا ہے کہ یہی فرعونی سیاست کی جھلک ہے جو اکیسویں صدی میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ وطن عزیز میں قدرت نے کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی ہے یہاں بہتے ہوئے دریا، سرسبز جنگات، زرخیز اراضی، اور زمین میں چھپے معدنیات اور جواہرات کی کمی نہیں ہے لیکن ذاتی مفادات اورر ناقص حکمت عملیوں اور کمیشن کے عوض کئے ہوئے معاہدوں نے پوری قوم کو بھکاری بنایا ہوا ہے ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کے قرضہ جات نے ملک کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور مسائل پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا قبضہ ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اس دور کے بت یہ ملٹی نیشنل کمپنیا ں ہیں عام آدمی سڑک پر اس لیئے نہیں نکلتاہے کہ اس کے مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے اور انہیں اپنے آنے والے نسلوں کا مستقبل بھی تاریک نظر آرہا ہے ۔ دیس کے عوام مشینی دور میں مشین کی گراری کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ مہنگائی کاعفریت، ٹیکسوں کا ظالمانہ نفاذ ،غیرملکی سرمایہ کاری کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا عمل دخل ،نجکاری کے نام پر قومی دولت کو ہڑپ کرنے کے منصوبے، برآمدات کو بڑھانے کے نام پر ملکی کرنسی کی قیمت کم کرنے کے اعلانات ،اور عالمی اداروں سے قرض لے کر ملک چلانے

ٹوکیو اولمپکس2020 ہاکی میں پاک بھارت ٹاکرے کا امکان روشن

لاہور: آئندہ سال ٹوکیو میں ہونے والے اولمپکس میں پاکستان اور بھارت کی ہاکی ٹیموں کا میچ ہونے کا قوی امکان ہے۔

میگا ایونٹ میں عالمی رینکنگ میں نمبر ایک، دو اور تین کی ٹیموں کو 12ویں سے 14ویں پوزیشن کے حامل سائیڈز کے مقابل ہونا ہے، بھارتی ٹیم اس وقت پانچویں اور پاکستان 12ویں نمبر پر ہے،بلو شرٹس کے ستمبر میں جن ٹیموں کیساتھ اوشیانا کپ کے میچز شیڈول ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے رینکنگ میں تیسری پوزیشن تک پہنچنے کا امکان ہے،اس صورت میں پاکستان کیساتھ ٹاکرا بھی ممکن ہوجائے گا۔

ایف آئی ایچ کے مطابق اولمپکس کیلیے ڈراز 9ستمبر کو ہوں گے جن میں اس وقت کی رینکنگ کو دیکھتے ہوئے شیڈول طے ہوجائے گا۔

Google Analytics Alternative