Home » 2019 » August (page 30)

Monthly Archives: August 2019

مسئلہ کشمیر پر بھرپور سفارتی جنگ کی ضرورت

بھارت نے کشمیر کے مسئلہ کو مزید الجھاتے ہوئے اپنے ہی آئین کو توڑتے ہوئے لوک سبھا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی قرار داد اور مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور کرلیا ۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے اور مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کی قرار داد پیش کی جو ہاوَس نے 351 ووٹوں سے منظور کرلی ۔ اس قرار داد کی مخالفت میں صرف 72 ووٹ آئے ۔ قرار داد کی منظوری کے بعد امیت شاہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی 2 حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ ) میں تقسیم کا بل پیش کیا جو لوک سبھا نے 370 ووٹوں سے منظور کرلیا ۔ بل کی مخالفت میں 70 ووٹ آئے ۔ اس قرار داد اور بل کی منظوری راجیہ سبھا پہلے ہی دے چکی ہے ۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف پاکستان نے اقوام عالم اور اقوام متحدہ کو خط لکھے اور سفارتی محاذ پر تگ و دو شروع کر دی ۔ اس سلسلے میں پاکستان کو سفارتی کامیابیاں ملنی شروع ہوگئیں ۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )کے کشمیر ونگ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے ۔ ہنگامی اجلاس سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہوگا جس میں پاکستان ،سعودی عرب، آذربائیجان ، ترکی سمیت دیگر ممبر ممالک شرکت کریں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کی جانب سے بھی لائن آف کنٹرول پر بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ چین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی پر پاکستان اوربھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات حل کریں ۔ چین کا کہنا ہے کہ اسے جموں و کشمیر کی صورتحال پر سخت تشویش ہے ۔ کشمیر کے مسئلے پر چین کی پوزیشن واضح اور دوٹوک ہے ۔ اس پر عالمی اتفاق رائے بھی موجود ہے کہ کشمیر پاکستان اور چین کے مابین متنازعہ علاقہ ہے ۔ دونوں ملکوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی بھی کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے ۔ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ اب بھارت کشمیر میں کشمیریوں کی تعداد کم کر کے دیگر لوگوں کو بسائے گا تاکہ کشمیری اقلیت میں آ جائیں اور غلامی میں دب جائیں ۔ مجھے ان میں تکبر نظر آتا ہے جو ہر نسل پرست میں ہوتا ہے ۔ اگر پلوامہ جیسا کچھ ہوا تو یہ ردعمل دیں گے اور پھر ہم جواب دیں گے کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ پاکستان کے اندر حملہ کریں اور ہم جواب نہ دیں ۔ اگر ایسا ہوا تو پھر بات رواءتی جنگ کی جانب چلی جائے گی اور اگر جنگ ہوئی تویہ بات تو طے ہے کہ ایمان والا انسان موت سے نہیں ڈرتا ۔ اس کو صرف اپنے رب العالمین کو خوش کرنے کا لالچ ہوتا ہے اور وہ خوف میں فیصلے نہیں کرتا ۔ ہ میں انسانوں کی فکر ہے کیونکہ ہمارا دین انسانیت کا درس دیتا ہے ۔ ہم دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ معاملے کو دیکھیں گے کیونکہ اب اگر دنیا نے کچھ نہیں کیا تو پھر معاملہ آگے بڑھ جائے گا ۔ پلوامہ کے واقعہ پر بھی بھارت کو ہرطرح سمجھانے کی کوشش کی کہ اس میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن ہ میں تب بھی احساس ہو گیا کہ ان کے ہاں الیکشن ہیں اس لئے وہ پاکستان کو سکیٹ بورڈ بنا کر ناصرف کشمیری عوام پر کئے جانے والے ظلم و ستم سے دنیا کی نظریں ہٹانا چاہتا ہے بلکہ الیکشن جیتنے کیلئے وار ہسٹیریا بھی پیدا کر رہا ہے ۔ بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد ڈوزئیر بعد میں بھیجا اور جہاز پہلے بھیج دئیے لیکن الحمد اللہ پاکستان نے زبردست جواب دیا ۔ ہم نے سوچا کہ ہندوستان میں الیکشن ہو جائیں پھر بات چیت شروع کریں گے ۔ الیکشن ہو گئے پھر کوشش کی مگر انہوں نے ہماری امن کی کوشش کو کمزوری سمجھا ۔ اب بھارت نے کشمیر کیساتھ جو کچھ کیا ہے یہ ایک دن کی منصوبہ بندی نہیں بلکہ یہ ایک نظریہ ہے جو آر ایس ایس نے پیش کیا تھا ۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالیں گے اور ہندوستان صرف ہندووَں کا ہو گا ۔ کشمیر پر جو حملہ کیا وہ بھارت نے ناصرف ملکی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے ۔ بھارت کا یہ اقدام جموں و کشمیر کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردوں کے خلاف ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کیخلاف ہے ۔ شملہ معاہدے کے خلاف ہے اور جنیوا کنونشن کے خلاف ہے ۔ یہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو اب مزید دبانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ انہیں اپنے برابر کا انسان نہیں سمجھتے ۔ یہ طاقت کا استعمال کر رہے ہیں ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح الفاظ میں اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان آرمی کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کا آخری حد تک ساتھ دیں گے ۔ پاکستان مقبوضہ کشمیرپربھارتی تسلط کبھی تسلیم نہیں کرےگا ۔ پاکستان نے کبھی بھی مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 یا 35 اے کو قبول نہیں کیا ۔ اب بھارت نے خوداس کھوکھلے بہانے کوختم کردیا ۔ پاک افواج کشمیری عوام کےساتھ ہیں ۔ ہرطرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے تیارہیں ۔ دونوں ممالک کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس کے باعث حالات میں مزید کشیدگی پیدا ہو ۔ ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور خطے میں امن و امان کو یقینی بنائیں ۔

سرزمین پاکستان ۔ سکھ مت کےلئے مقدس ترین سرزمین

اگست کا مہینہ ہم پاکستانیوں کےلئے تاریخ سازخوشیوں ،مسرتوں اور بے پناہ آرزوءوں کے تکمیل کا دل چاہا مہینہ ہے ایک برس قبل اسی ماہ اگست کی18تاریخ کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین پاکستان میں اور بیرون دنیا آباد کروڑوں پاکستانیوں میں مقبولیت کی انتہاوں اور عروج پر پہنچے ہوئے ہردلعزیزسیاسی قائد محترم عمران خان نے پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم کا جب منصب سنبھالا تو اْنہوں نے وزیراعظم کا حلف اْٹھانے کےلئے منعقدہ اہم تاریخی تقریب میں شرکت کرنے کےلئے اپنے ماضی کے انڈین کرکٹر دوستوں میں سے سنیل گواسکر،کیپل دیو اور نجوت سنگھ سدھوکو خصوصی طور پراسلام آباد آنے کی دعوت دی سنیل گواسکر اور کیپل دیو اپنی نجی مصروفیات کی باعث اس تقریب میں گو شرکت نہ کرسکے اْنہوں نے اپنا تہنیتی پیغام عمران خان کو پہنچا دیا جبکہ بھارتی پنجاب کے رکن اسمبلی اور ثقافتی امور کے ریاستی وزیرنجوت سنگھ سدھو لاہور کے واہگہ بارڈر کے راستہ عمران خان کی دعوت پر دو روز کےلئے پاکستان تشریف لائے لاہور واگہ بارڈر پر اعلیٰ سرکاری افسروں نے نجوت سنگھ جی کا پْرتپاک استقبال کیا یقینا نجوت سنگھ جی کی زندگی کا یہ دورہ پاکستان اپنی زندگی میں وہ خود کبھی نہ بھلا سکیں گے اسلام ا;63;باد میں وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کی روداد کوہم کیا دہرائیں کیونکہ سبھی باخبر اورخوب آگاہ ہیں کہ ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اس اہم رنگارنگ تقریب میں پل پھر میں یکایک ایک موقع بھارت اور دنیا بھر میں آباد کروڑوں سکھوں کےلئے ایک ایسے تازہ خوشگوار ہوا کے جھونکے کی مانند آیا جسے سکھ دنیا اپنی زندگیوں کے لمحات میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتی اس سنہری اور یادگار موقع کو ہم کیا نام دیں جن لمحوں میں پاکستان کی عسکری قیادت سمیت نئی منتخب ہونے والی جمہوری قیادت نے سکھ دنیا کے ہر ایک فرد کے انسانی جذبات کوبیش بہا قیمتی موتیوں میں یوں سمجھیں لادھ دیا اور ہم نے بغور دیکھا کہ اس موقع پر جب پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے عالمی شہرت یافتہ انڈین سابق کرکٹراورسیاست دان نجوت سنگھ سدھو بغگیر ہورہا تھا تو جوکچھ بھی جنرل باجوہ نے سدھو جی کے کان میں سرگوشی کی تو خوشی سے اْس کی آنکھیں نم ہوگئیں اور اْس کے کانوں میں یکایک سریلی گھنٹیوں کی آوازیں گونجنے لگی ہونگی گھنٹیوں کی اْن اوازوں میں بابا گورونانک صاحب کے یہ بول اْسے صاف سنائی دے رہے ہونگے سکھ مت کے بانی باباگورونانک صاحب نے اپنے پیرو کاروں کو انسانیت کی بقا اور تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کےلئے تبلیغ کرتے ہوئے کبھی یہ کہا تھا کہ ‘‘ جس طرح تیراک دریا میں سرکنڈے نصب کرتے ہیں تاکہ راستے سے ناواقف لوگ بھی اسے عبور کرسکیں ، اسی طرح میں بھائی گرداس کی وار کو بنیاد بناؤں گا اور اسی کے مطابق اور جو واقعات میں نے دسویں مالک کی بارگاہ میں رہتے ہوئے سنے انھیں پیش نظر رکھتے ہوئے جو کچھ میرے عاجز دماغ سے بن پڑا، اسے آپ تک بیان کروں گا’’سکھ مت کے بانی باباگورونانک صاحب کے انسانیت پرور اس قول میں اْن کے پیروکاروں سمیت دنیا بھر کی امن پسند اقوام کے ہر فرد کےلئے یہ بڑا اہم سبق پوشیدہ ہے کہ یہ دنیا فانی ہے دنیا میں اْس کا نام اوراْس کا کام باقی رہے گا جس نے دنیا کے انسانوں کے لئے بلا کسی امتیازی سلوک اوربلا رنگ ونسل اور ذات پات سے ماورا اور بالاتر ہوکر اْن کےلئے آسانیاں فراہم کیں اور اْن کی دنیا میں رہنمائی کا انسانی فریضہ ادا کیا وہ ہی باقی رہے گا اور گمراہی خود بخود ہر صورت تاریکی اور اندھیرے کی کھائیوں میں کہیں گم ہوجائے گی، بابا گورو نانک صاحب کی پیدائش کے ابتدائی ایام میں سکھ روایات کے مطابق ایسے معجزنما واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوا کہ باباگورو نانک صاحب کو خدا کے فضل و رحمت سے نوازا گیا ہے بابا صاحب کے سوانح نگاروں کے مطابق، کم عمری ہی سے بابا صاحب اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوچکے تھے پانچ برس کی عمر میں گورونانک کو مقدس پیغامات پر مشتمل آوازیں سنائی دینے لگیں تھیں ایک روایت کے مطابق کم سنی میں ہی گورونانک صاحب جب کہیں کھلے آسمان تلے سوئے ہوئے ہوتے تو اْنہیں تیز دھوپ سے بچانے کےلئے ایک درخت یا دوسری روایت کے مطابق ایک زہریلا ناگ اْن کے سرپر سایہ کیئے رہتا تھا بابا گورو نانک کو زمانے کا عظیم ترین موجد قرار دیا جاتا ہے بابا گورونانک کی پیدائش ننکانہ صاحب موجودہ پاکستان کے شہر میں 15 اپریل 1469 میں ہوئی اور اْن کی وفات22 ستمبر1539 میں پنجاب کے شہرنارووال کے نزدیکی گاوں کرتارپورہ میں ہوئی بابا گورونانک صاحب سکھ مت کے بانی اور دس سکھ گوروں میں سے پہلے گروتھے ان کا یوم پیدائش گرونانک گرپورب کے طور پر دنیا بھر میں ماہ کاتک یعنی اکتوبر ۔ نومبر میں پورے چاند کے دن یعنی کارتک پورن ماشی کو منایا جاتا ہے بابا گورونانک صاحب نے سکھ مت کے روحانی سماجی اور سیاسی نظام کر ترتیب دیا جس کی بنیاد مساوات، بھائی چارے، نیکی اور حسن سیرت پر استوار ہے بابا گورونانک صاحب سکھوں اور مسلمانوں میں یکساں بڑی عزت واحترام کی حامل مذہبی شخصیت کے طور پر مانے جاتے ہیں بابا گوروناک صاحب کی الہامی تعلیمات میں انسانیت کے احترام کو اولین مقام دیا گیا ہے آفاقی مذاہب کے علم پر دسترس رکھنے والے ماہرین مانتے ہیں کہ سکھ مت توحیدی مذہب ہے اور وہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں ہندوازم میں جسے اب عرف عام میں ہندوتوا کہا جاتا ہے اس دھرم میں خداءوں اور اوتاروں کی کوئی تعداد ہی نہیں ہے لہذا یہی وجوہ ہے کہ سکھ مت کو ہندوازم سے ملایا نہیں جاسکتا ابتدا میں جیسے کہ عرض کیا گیا ہے کہ ہم پاکستانیوں کے لئے ماہ اگست غیرت مند خوشیوں اور پْرجوش والہانہ ایمانی مسرتوں کا اہم مہینہ ہے اب سے بہتربرس قبل 14 اگست 1947 کو برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی ایماندارانہ قیادت میں ایک آ زاد وخود مختار ریاست پاکستان حاصل کیا تھا چارجون کے مشہور لندن پلان کے تحت تقسیم ہند جب عمل میں لائی گئی تو پنجاب کی تحصیل شکرگڑھ کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے جغرافیہ میں آگیا تحصیل شکر گڑھ میں ہی کرتارپورہ میں سکھوں کے روحانی پیشوا باباصاحب گورونانک کا سفید چاند کی مانند چمکتا ہوا مزار ہے، جیسے گرودوارہ کرتارپور کے نام سے دنیا جاننے لگی ہے، کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے ۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کےلئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں گردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی میں آنے والی سیلاب میں تباہ ہوگئی تھی ۔ موجودہ عمارت سنہ 1920 سے 1929 کے درمیان 1;44#44;600 روپے کی لاگت سے پٹیالہ کے مہاراجہ سردار پھوبندر سنگھ نے دوبارہ تعمیر کروائی تھی سنہ 1995 میں حکومت پاکستان نے بھی اس کے دوبارہ مرمت کی تھی گرودوارے کی عمارت کے باہر ایک کنواں ہے جسے گرو نانک دیو سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ یہ گرو نانک کے زیر استعمال رہا ۔ اسی مناسبت سے اسے ;39;سری کْھو صاحب;39; کہا جاتا ہے کنویں کے ساتھ ہی ایک بم ٹکڑا بھی شیشے کے شو کیش میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے اس پر درج تحریر کے مطابق یہ گولہ انڈین ایئر فورس نے سنہ 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ کے دوران پھینکا تھا جسے کنویں نے ’اپنی گود میں لے لیا اور دربار تباہ ہونے سے محفوظ رہا اب جبکہ پاکستان نے باباصاحب گورونانک کی پانچ سو پچاسویں یوم پیدائش کے موقع پر کرتارپور کوریڈور کھولنے کا باضاطبہ اعلان کردیا ہے اور کرتارپور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ پر بہت تیز رفتاری سے تعمیراتی امور کو ہر صورت میں پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے انتظامات کرلیئے گئے ہیں قارئین کو ہم یہ بتادیں کہ کرتارپور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا تعمیراتی کام اختتامی مرحلے میں داخل ہوگیا اور مقررہ مدت تک منصوبے کی تکمیل کے لئے چھوٹ بڑے کنٹریکڑوں کو ملاکرستر سے زائد کمپنیاں ایف ڈبلیواو کے ساتھ مل کر مصرف عمل ہیں کرتارپورزیروپوائنٹ سے لے کر شکرگڑھ روڈ تک سڑک مکمل کردی گئی ہے سڑک پر کارپٹ بچھانے کا کام باقی رہ گیا ہے جو اگلے چندروز میں مکمل ہوجائے گا دربار صاحب میں داخلہ کے لئے دواطراف گیٹ اور تالاب مکمل کردئیے گئے ہیں لنگرخانہ،مہمان ہال،درشن استھان،ایڈمن بلاک،رہائش گاہوں اور ٹوائلٹس سمیت دیگر عمارتوں کا نوے فی صد بلڈنگ ورک مکمل ہوچکا ہے ماربل گرناءٹ لگانے کے ساتھ ساتھ دروازے،کھڑکیاں ،الیکٹرک ورک، سیوریج، واٹر پلائی اور پلمبنگ کاکام کیا جارہا ہے احاطہ دربار صاحب کے سولہ میں سے بارہ پینلز میں آرسی سی کنکریٹ ڈال دیا گیا ہے تمام تعمیراتی کام کے ساتھ ساتھ کمپلیکس دربار،پارکنگ، سڑک اور بارڈرٹرمینل کے اردگردلینڈاسیکپنگ اور خوبصورت پودے لگانے پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے دوسری جانب بے حد بے رخی کی افسوس ناک صورتحال سے کون واقف نہیں دنیا کل تک شاکی تھی کہ پاکستان میں وہ وقت نجانے کب آئے گا جب اعلیٰ سطحی سیاسی اور عسکری قیادت ایک سوچ کے تابع ہوگی مطلب یہ کہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں ہی اس خطے میں امن کےلئے بھارت سے امن بات چیت کے خواہشمند ہونگے اب جبکہ وہ وقت آگیا لیکن بھارت کی جانب سے حکومت کو اس سلسلے میں مثبت جوابی اشارے تاحال نہیں ملے مودی سرکار نے تو خطہ میں امن کی جڑبیخ ہی اکھاڑ پھینکی ہے جس کی چرچا آجکل بھارت کی لوک سبھا میں ہرکوئی سن سکتا ہے ۔

بھارت کی بربادی اور کشمیریوں کی آزادی کا سال

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی فطرت کے عین مطابق گجرات کے بعد ایک اور ناپاک کوشش کی ہے ۔ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کی نام نہاد خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی ۔ کشمیریوں سے ان کا پرچم اور خصوصی شناخت چھین لی ۔ اور مقبوضہ وادی کو عملاً بھارت کا حصہ بنا دیا ۔ میں نے اپنے گزشتہ متعدد کالموں میں اس خدشہ کا اظہار کیا تھا ۔ جو کہ صحیح ثابت ہوا ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کی یہ کوشش بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ایک ایسا خود کش حملہ ہے کہ جس کے نتیجے میں کشمیریوں کا تو جو نقصان ہوگا وہ ہوگا لیکن بھارت خود اس حملے کا بری طرح شکار ہو جائے گا ۔ ابھی نریندر مودی اور امیت شاہ تو اس کو اپنی کامیابی سے اس طرح تعبیر کر رہے ہیں کہ جیسے انہوں نے مظلوم اور نہتے کشمیریوں سے ان کی سرزمین چھین کر فتح حاصل کر لی ہو ۔ نریندر مودی نے جس طرح گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا ۔ اب اسی طرح کی تیاری کے شواہد کشمیر میں بھی نظر آرہے ہیں ۔ کانگریس سمیت آٹھ جماعتوں نے مودی کے اقدامات کی شدید مذمت کی ہے ۔ اور کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کے اقدام کی بھرپور مخالفت کی ہے ۔ نریندر مودی کے دست راست بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آرٹیکل 370کے خاتمہ کے بعد جو خاکہ پیش کیا ہے ۔ اس کو دیکھتے ہوئے یہ واضح نظر آرہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں ایک نام نہاد اور بے اختیار قانون ساز اسمبلی ہوگی ۔ جبکہ گورنر کی جگہ لیفٹیننٹ گورنر ہوگا اور کشمیر کے تمام معاملات کے اختیارات اسی کے پاس ہوں گے ۔ اب کوئی بھی غیر کشمیری وہاں جائیداد خرید سکے گا ۔ سرکاری ملازمت حاصل کر سکے گا ۔ جبکہ لداخ جو کہ کشمیر کا ہی ایک حصہ ہے ۔ اس کو کشمیر سے مکمل الگ کر کے دہلی کے براہ راست ماتحت کر دیا گیا ۔ بھارت سرکار نے اپنی اس ناپاک اور مذموم حرکت سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں غیر معینہ مدت تک کے لئے کرفیو نافذ کر دیا ۔ جو کہ جاری ہے ۔ 35 ہزار مزید فوج وہاں تعینات کر دی ہے ۔ اور اطلاعات ہیں کہ بھارت وہاں مزید آٹھ ہزار فوجی بھیج رہا ہے ۔ چالیس کے لگ بھگ کشمیری رہنما پہلے سے ہی تہاڑ جیل میں مقید ہیں ۔ گزشتہ روز سابق وزیر اعلیٰ کشمیر محبوبہ مفتی،سجاد لون اور عمر عبدللہ کو بھی باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ جبکہ بزرگ حریت رہنماء سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو گھروں میں نظر بند کیا گیا ہے ۔ اور مزید گرفتاریاں جاری ہیں ۔ تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک کی طبیعت انتہائی تشویشناک ہے ۔ شبیر شاہ بھی اسی جیل میں قید ہیں ۔ تہاڑ جیل میں کشمیری رہنماءوں کے ساتھ تشدد اور انتہائی ناروا سلوک کی اطلاعات ہیں ۔ بھارت نے ہمیشہ اپنی عوام سے بھی جھوٹ بولا ہے اور بھارتی عوام کو دھوکے میں رکھا ہے ۔ گزشتہ روز جو لوگ آرٹیکل 370 کے خاتمہ کی خوشی میں ڈھول پیٹتے اور اچھل کود کرتے رہے اور اپنے آپ کو کشمیری ہندو پنڈت ظاہر کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے کہ وہ کشمیری حریت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں اپنے گھر اور کاروبار چھوڑ کر جانیں بچا کر واپس بھارت آئے تھے یہ سراسر جھوٹ ہے ۔ شواہد موجود ہیں کہ اس وقت بھی کم از کم چھ ہزار پنڈت کشمیر میں مقیم ہیں اور ان پر آج تک کوئی حملہ نہیں ہوا ہے ۔ بھارت کا اصل منصوبہ یہ ہے کہ اب کشمیریوں کی طرف سے مزاحمت تو ہوگی اور اس مزاحمت کو کچلنے کی آڑ میں کشمیریوں کا قتل عام ہو جائے گا ۔ اس کے بعد کشمیر میں ہندوءوں کو آباد کیا جائے گا ۔ کشمیریوں کی جائیدادوں ، مکانات اور دکانوں پر ہندو بزور بازو قبضہ کر کے ان کو بے دخل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ یہ بات عیاں ہے کہ کشمیر میں بہت بڑے پیمانے پر خون خرابے کے امکانات ہیں ۔ لیکن بھارت کو معلوم ہی نہیں کہ ان بہیمانہ کارروائیوں کے نتاءج کتنے بھیانک ہوں گے ۔ نریندر مودی نے نہ صرف بھارت کو بند گلی میں داخل کر دیا ہے بلکہ بھارت کے مستقبل کو بھی داءو پر لگادیا ۔ بھارت کے ان اقدامات سے یقیناً بھارت کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے ۔ اگر سکھ برادری متفق ہوئی تو وہ اس موقع سے فائدہ ضرور اٹھا سکتے ہیں ۔ اسی طرح تامل ناڈو اور دیگر علاقوں کی صورتحال ہے ۔ نریندر مودی کشمیر کو ہتھیانے کی کوشش میں بھارت کے ٹکڑے کرنے جا رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی اور امیت شاہ کا بہت خوفناک منصوبہ ہے ۔ کشمیری رہنماءوں کو تو پابند سلاسل کر دیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھارت اب آسانی کے ساتھ کشمیر کو ہڑپ کر لے گا ۔ ایک لاکھ کشمیریوں کا خون کشمیر کی زمین پر ابھی تک جما ہوا نظر آرہا ہے اور مزید لاکھوں کشمیری اپنی آزادی کےلئے خون کی قربانی دینے کےلئے تیار بیٹھے ہیں ۔ شاید چند دن انتظار کرنا پڑے لیکن کشمیری نکلیں گے اور اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر بھارت فوج کو تاریخی اور آخری سبق سکھائیں گے ۔ گزشتہ روز کور کمانڈر کانفرنس میں متفقہ طور پر کشمیری بھائیوں کے جائز مطالبات کے حصول تک ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر بھی کہا ہے کہ پاک فوج پاکستان کی سلامتی کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ اور مظلوم کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا ۔ بھارت کے لیئے یہ دونوں پیغامات نہایت اہم ہیں ۔ فوج ہی ایسے پیغامات کا مطلب سمجھتی ہے ۔ یقینی طور پر ان پیغامات سے بھارت کی نیندیں اڑ جائیں گی ۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے ۔ جس کا مقصد بھی بھارتی اقدامات کی مذمت اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ہنگامی طور پر مختلف ممالک کے سربراہان سے رابطے شروع کر دیئے ہیں اور ان کو بھارت کے جارحانہ اور خطرناک اقدامات اور عزائم سے آگاہ کیا ہے ۔ اور گزشتہ روز بھارت نے کشمیریوں سے ان کی شناخت چھیننے کی ناپاک اور ظالمانہ کوشش پر بھی گفتگو کی ہے ۔ لیکن اس تمام تر خطرناک صورت حال پر او آئی سی،اقوام متحدہ،امریکہ اور برطانیہ کا کوئی ٹھوس بیان سامنے آیا نہ ہی بھارت کو اپنے ظالمانہ اور مذموم عزائم سے باز آنے کے لیئے کوئی دباءو ڈالا گیا ۔ نہ ہی بھارت کو کوئی تنبیہہ کی گئی ہے ۔ چین، روس، ایران اور عرب ممالک کے طرف سے بھی کوئی خاص ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے ۔ ممکن ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک ان ممالک اور اقوام متحدہ کا کوئی ٹھوس رد عمل سامنے آجائے ۔ لیکن پاکستان کو امریکہ سے زیادہ توقعات نہیں رکھنی چاہیئے ۔ پاکستان میں امریکی دلچسپی طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی اور امریکی فوج کا محفوظ راستے سے انخلاء تک ہے ۔ اگر ایسا ہوا یا نہ بھی ہوا ۔ دونوں صورتوں میں امریکہ کا وزن بھارت کے پلڑے میں جائےگا اور ہم حسب سابق امریکہ کو دیکھتے ہی رہ جائیں گے ۔ یقین ہے کہ کشمیر اسی سال آزاد ہو جائے گا ۔ شاید اس بار کشمیریوں کو بہت بڑی اور آخری قربانی سے گزرنا پڑے گا اور پاکستان کو کسی کی اس بارے میں مدد کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ بھارت کو جہنم میں پہنچانے کےلئے پاک فوج ہی کافی ہے ۔

کشمےر جل رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

لوگ کہتے ہیں کہ انسان نے ترقی کی ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ انسان تنزلی کا شکار ہے ۔ اگر آپ جھوٹ، فرےب ،دھوکے اور فراڈ کو ترقی سمجھتے ہیں تو میں نہیں سمجھتا ۔ آج بھی انسان انسان کے خون کا پیا سا ہے ۔ مذہب،زبان اور جغرافےائی خطے کی وجہ سے انسان انسان کا قتل کررہا ہے ۔ عصر حاضر میں انسان کو سب سے زےادہ خطرہ انسان سے ہے ۔ انسان نے سائنس اور ٹےکنالوجی کی فیلڈ میں ترقی ضرور کی ہے لیکن انسان اخلاقےات کی دنےا کے دلدل میں ہے ۔ کسی مذہب، علاقے ےا ملک کے سبھی افراد ظالم اور فاسق نہیں ہوتے ہیں ۔ لیکن اگر وہ ظلم وبربرےت پر خاموش ہےں تو ان کا شمار بھی انہی میں سے ہوتا ہے ۔ بھارت کے سبھی افراد ظالم اور فاسق نہیں ۔ ان میں اچھے لوگ بھی بہت ہیں ۔ بھارت کی اکثرےت آبادی ہندووں کی ہے ۔ سب ہندو برے نہیں ہیں ۔ برصغےر پاک وہند میں سےنکڑوں سال ہندو اور مسلمان ساتھ رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شرےک رہے ہیں ۔ بھارت اور پاکستان کے متعدد افراد کے اےک دوسرے کے ملک میں رشتے دار ہیں ۔ ان کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ مسلمانوں کے بھارت میں متعدد اولیاء کرام کے مزارات ہیں ۔ اسی طرح ہندوءوں کے مقامات پاکستان میں ہیں جبکہ سکھو ں کے بھی متعدد مقدس مقامات پاکستان میں ہیں ۔ دونوں ممالک کے شہرےوں کی آمدورفت معمول ہے اور شہرےوں کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں ۔ بھارت کے شہرےوں سے اکثر غلطےاں سرزد ہوئےں ۔ وہ اپنے سےاسی انتخابات میں سنگےن خطا کرجاتے ہیں ۔ اسی لئے دنےا میں سب سے زےادہ غرےب، ان پڑھ اور بے روز گار افراد بھارت میں ہیں ۔ بھارت میں دو کروڑ افراد چوہے کھانے پر مجبور ہیں ۔ دنےا میں میں سب سے زےادہ جسمانی اعضاء بھارتی فروخت کرتے ہیں ۔ بھارت کی ستر فیصد آبادی کےلئے بےت الخلا موجود نہیں ہے ۔ دنےا میں سب سے زےادہ خود کشےاں بھارت میں ہوتی ہیں ۔ بھارت کے لوگ ہی سب سے زےادہ فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں ۔ بھارت پر پانچ سو ارب ڈالر سے زائد بےرونی قرضے ہیں ۔ بھارت کے بائےس صوبوں میں آزادی کی تحرےک چل رہی ہے ۔ بھارت کی ستر فیصد آبادی خط غربت سے نےچے زےست بسر کررہے ہیں ۔ بھارتی عوام کی بنےادی غلطی ےہ ہے کہ وہ انتخابات میں غلط لوگوں کا چناءو کرتے ہیں جس کی وجہ سے بھارت کے لوگ غربت کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ حالیہ انتخابات میں بھارتی عوام نے اےک فاسق اور دہشت گرد ٹاءپ شخص مودی کو منتخب کیا ۔ مودی سرکار نے کشمےرکی مخصوص حےثےت کو ختم کرنے کےلئے صدراتی حکمنامے کا سہارا لیا ۔ کیا اس سے مسئلہ کشمیر ختم ہوجائے گا;238; اس سے مسئلہ کشمےر قطعی تمام نہیں ہوگا بلکہ اس میں اضافہ ہوگا ۔ آپ جانتے ہیں کہ پاک بھارت کے کشےد ہ تعلقات کی بنےادی وجہ مسئلہ کشمےر ہے ۔ پاکستان کا موقف واضح اور دوٹوک ہے کہ کشمیر کشمےرےوں کا ہے ۔ کشمےرےوں سے غےر جانبدارانہ طورپر رائے لی جائے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ;238; وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ےاپاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن بھارت نے ;34; میں نہ مانوں ;34; کی رٹ لگائی ہوئی ہے ۔ بھارت نے کشمےر میں ظلم وستم کا بازار گرم کیا ہوا ۔ بھارت دو لاکھ کشمےرےوں کو قتل کرچکا ہے ۔ ہزاروں افراد کو مضروب کیا ہے ۔ ہزاروں بچوں کو ےتےم اور خواتےن کو بےوہ کیا ہے ۔ ہزاروں کشمےری نوجوان بھارت کے عقوبت خانوں میں گل سڑ رہے ہیں ۔ پاکستان محض مظلوم کشمےرےوں کی اخلاقی اور سفارتی حماےت کر رہاہے ۔ اقوام متحدہ سمےت دےگر اداروں نے کشمےرےوں کے حق میں قراردادےں پاس کی ہیں لیکن بھارت پر ان قراردادوں کا کوئی اثر نہیں ہواہے ۔ جب بھارت ےہ سب کچھ نہیں مان رہا ہے تو اقوام متحدہ کو عملی طور پر کچھ کرناچاہیے تھا لیکن اقوام متحدہ نے اےسا نہیں کیا ۔ اگر کسی اور مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ اےسا ہوتا تو اقوام متحدہ راتوں رات مےدان میں کود جاتا اور مسئلہ حل بھی کرالیتا لیکن مسئلہ کشمےر کےلئے اب تک اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں نے خاموش کھلاڑی کا کردار ادا کیا ہے ۔ کشمےر کے معاملے میں مسلمان ممالک کا کردار حوصلہ افزا نہیں ہے ۔ مسلمان ممالک صرف چھوٹا سا کام کرتے کہ بھارت سے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرتے اور اپنے ممالک سے بھارتی باشندوں کو نکال دےتے تو آج کشمےر آزاد ہوتا ۔ اب بھی مسلمان ممالک کے پاس قےمتی موقع موجود ہے کہ وہ فی الفور بھارت کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرےں اور بھارتی باشندوں کو اپنے ممالک سے نکال لیں ۔ قارئےن کرام !کشمےر کشمیرےوں کا ہی رہے گا کےونکہ کشمےر جنت ہے، جنت کافروں کی ہوہی نہیں سکتی ۔ مظلوم کشمےرےوں کےلئے امت مسلمہ اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اپنا بنےادی کردار ادا کرنا ہوگا ۔

بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تو پھر جنگ ہوگی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کررہا ہے اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ 

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے، پارلیمانی اجلاس کو پوری دنیا اور کشمیری دیکھ رہے ہیں، یہاں سے بھارت نے جو غلط فیصلہ کیا اس پر بڑا مثبت پیغام جانا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جنگ و جدل کا سب سے بڑا اثر معیشت پر پڑتا ہے، ہماری حکومت کی پہلی ترجیح پاکستان سے غربت کا خاتمہ تھا، اس لیے ہم چاہتے تھے کہ پڑوسیوں سے بہتر تعلقات ہوں، پلواما واقعے کے بعد بھارت کو سمجھایا کہ پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، بھارت کا پائلٹ پکڑا ، فوری واپس کردیا کیونکہ ہمارا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بھارت ہماری امن کی کوشش کو ہماری کمزوری سمجھ رہا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ مودی نے الیکشن مہم کے لیے ایسے حالات پیدا کیے۔ اپنے ملک میں جنگی جنون پیدا کیا تاکہ اینٹی پاکستان مہم چلاکر الیکشن جیت سکیں، ہم نے سوچا کےبھارت میں الیکشن کے بعداس سےبات کریں گے، بھارت نے پہلے سے ہی مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، بھارت نے کل جو اقدام اٹھایا وہ ان کا انتخابی منشور کا حصہ تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قائد اعظم محمدعلی جناح ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے، وہ انگریز سے آزادی چاہتے تھے لیکن بعد میں اسے ہندو راج کا علم ہوا، قائد اعظم پہلے آدمی تھے جنہوں نے بھارت کا نظریہ دیکھ لیاتھا، آج ہم قائداعظم کو سلام پیش کرتے ہیں، بھارت میں مسلمانوں کے لیے ایک تعصب ہے، آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی یہ تھی کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہوگا۔ ماضی میں پاکستان کی آزادی کو غلط کہنے والے کشمیری لیڈر آج قائد کے دو قومی نظریے کو درست سمجھ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہا پلوامہ واقعے کے بعد بھارت نے اپنے طیارے بھیجے تو ہم نے صورت حال کو دیکھا، ہمیں پتہ چلا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تو فیصلہ کیا گیا کہ وہی کیا جائے گا جو انہوں نے کیا، اگر بھارت کے حملے میں کوئی جانی نقصان ہوا ہوتا تو پاک فضائیہ نے بھی ایسے اہداف نشانے پر رکھے تھے جس سے انہیں بھی اتنا ہی نقصان ہوتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تو پھر جنگ ہوگی، یہ ہو نہیں سکتا کہ بھارت حملہ کرے اور اہم ان کا جواب نہ دیں، اگر ایسا ہوا تو جنگ ہوگی، اس جنگ کا نتیجہ ہمارے حق میں ہوگا یا خلاف جائے گا۔ اگر ہمارے خلاف فیصلہ آیا تو ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں ، ایک بہادر شاہ ظفر کا اور دوسرا ٹیپو سلطان کا۔ ہم بہادرشاہ ظفر کی طرح ہار مان لیں گے یا ٹیپوسلطان کی طرح آخری دم تک لڑیں گے۔

پلواما واقعے کے بعد بھارت کو باربارکہا دو ایٹمی قوتیں جنگ کی طرف نہیں جاسکتیں، کشمیر میں یہ جدوجہد اب اور شدت اختیار کرے گی، دوبارہ پلواما جیسا واقعہ ہوا تو بھارت پھر ہم پر الزام لگائے گا، سب جانتےہیں کہ پلواما واقعے میں پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے آزاد کشمیر میں کچھ کیا تو ردعمل آئے گا، اہل ایمان موت سے نہیں ڈرتا، مسلمان رب کو خوش کرنے کیلیے انسانیت کا سوچتا ہے، ہم اس لیے امن کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا دین انسانیت کا سبق دیتا ہے، اگر اب دنیا کچھ نہیں کرے گی تو اس کے سنگین  نتائج ہوں گے،میں نیوکلیئر بلیک میل نہیں  کررہا لیکن دنیا نے اس معاملے پر کچھ نہ کیا تو حالات مزید خراب ہوں گے اور سب کا نقصان ہوگا۔ ہم بھارت کے خلاف جرائم کی عالمی عدالت جانے کی تیاری کررہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس

اسلام آباد: بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد لائحہ عمل کی تیاری کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا جس میں ارکان اسمبلی سمیت وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی شریک ہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر نے اجلاس میں بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزی اور کلسٹر بموں کے استعمال پر بحث کے لیے تحریک پیش کی تاہم تحریک میں آرٹیکل 370 کے بنیادی معاملے کو شامل نہ کرنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج جس کے بعد اعظم سواتی نے آرٹیکل 370 کو بحث میں شامل کرنے کی ترمیمی تحریک پیش کی۔

اپوزیشن احتجاج؛

اپوزیشن کے مطالبے پر آرٹیکل 370 کے نفاذ سے پیدا شدہ صورتحال پر بحث کی تحریک منظور کرلی گئی اور اسپیکر نے بحث کے آغاز کے لئے شیریں مزاری کو مائیک دیا تاہم بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے نہ کروانے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا جب کہ اپوزیشن نے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت کا بھی مطالبہ کیا۔

اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کیا تاہم ہنگامہ آرائی کے باعث مشترکہ اجلاس کو مزید کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

اپوزیشن حکومت مذاکرات؛

مشترکہ اجلاس کا ماحول بہتر بنانے کے لیے اپوزیشن اور حکومت کے اسپیکرکی موجودگی میں مذاکرات ہوئے جس میں اپوزیشن کی جانب سے خورشید شاہ، نوید قمر، شازیہ مری اور ایاز صادق نے شرکت کی جب کہ حکومت کی جانب سے شفقت محمود، شیریں مزاری اور عامر ڈوگر شامل ہوئے تاہم حکومتی وفد اپوزیشن کو راضی نہ کرسکا۔

دوسری جانب اپوزیشن ارکان اسمبلی نے اسپیکر اسد قیصر کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم سمیت غیر حاضر ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیےجائیں، ایم این اے اور وزیراعظم عمران خان کو جوائنٹ سیشن میں طلب کریں، ایوان کے تمام ارکان کو جوائنٹ سیشن میں آناچاہیے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے، پارلیمانی اجلاس کو پوری دنیا اور کشمیری دیکھ رہے ہیں، یہاں سے بھارت نے جو غلط فیصلہ کیا اس پر بڑا مثبت پیغام جانا ہے۔

وزیراعظم پالیسی بیان؛

اپوزیشن اور حکومت کے درمیان معاملات طے پانے کے بعد اجلاس 4 بجے دوبارہ شروع ہوا تو وزیراعظم عمران خان نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ جنگ و جدل کا سب سے بڑا اثر معیشت پر پڑتا ہے، ہماری حکومت کی پہلی ترجیح پاکستان سے غربت کا خاتمہ تھا، اس لیے ہم چاہتے تھے کہ پڑوسیوں سے بہتر تعلقات ہوں، پلواما واقعے کے بعد بھارت کو سمجھایا کہ پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، بھارت کا پائلٹ پکڑا اور فوری واپس کردیا کیونکہ ہمارا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا تاہم بھارت ہماری امن کی کوشش کو ہماری کمزوری سمجھ رہا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مودی نے الیکشن مہم کے لیے ایسے حالات پیدا کیے، اپنے ملک میں جنگی جنون پیدا کیا تاکہ اینٹی پاکستان مہم چلاکر الیکشن جیت سکیں، ہم نے سوچا کے بھارت میں الیکشن کے بعد اس سے بات کریں گے، بھارت نے پہلے سے ہی مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، بھارت نے کل جو اقدام اٹھایا وہ ان کا انتخابی منشور کا حصہ تھا۔

شہباز شریف کا مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال؛

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ 71 سال میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرے لیکن مودی نے یہ کردیا، مودی سرکار نے صرف کشمیر میں نہ صرف حقوق نہیں چھینے بلکہ پاکستان کی غیرت اور عزت کو للکارا ہے، اور اقوام متحدہ کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے اور پوری مہذب دنیا کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ ہے،مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیاہے، کشمیر کی صورتحال پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے،کشمیر میں جو کچھ ہوچکا ہے اس پر روایتی مذمت اور متفقہ اور قرارداد سے کام نہیں چلے گا، ہمیں ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو پتہ چل سکے کہ ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں، ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب ہمیں کشمیر پر ڈٹ جانا چاہیے، بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے ہمیں اس کے ہاتھ کاٹ دینے چاہیئں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم؛

واضح رہے کہ مودی سرکار نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کوختم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

لوک سبھا میں مقبوضہ کشمیر کیخلاف متنازع قانون سازی پر ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ

نئی دلی: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق بل لوک سبھا میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن ارکان نے سخت مخالفت کی اور مودی سرکار کی جارحیت کیخلاف شدید احتجاج کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راجیہ سبھا سے منظوری کے بعد وزیر داخلہ امیت شاہ نے آئین کے آرٹیکل 35-اے اور 370 کی منسوخی کا بل آج لوک سبھا میں پیش کیا تو اپوزیشن ارکان نے پہلے سے پیش کردہ تحریک التوا پر اسپیکر سے اجلاس کا ایجنڈا ملتوی کرنے کی درخواست کر دی۔

اسپیکر لوک سبھا نے اپوزیشن ارکان کی درخواست کو بلڈوز کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو بل پیش کرنے کی ہدایت کی جس اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور بی جے پی کی عددی اکثریت رکھنے کے باعث اسمبلی میں غنڈہ گردی کیخلاف شدید احتجاج کیا۔

لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما نے ادھیر رانجن چوہدری نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں مودی حکومت نے امریکی ثالثی کے معاملے پر کہا تھا کہ یہ پاکستان اور بھارت کا اندرونی معاملہ ہے تو کیا اب یہ ایک اندرونی معاملہ نہیں رہا۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنر جی نے بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بل کو تسلیم نہیں کرتے اور ہر سطح پر متنازع بل کیخلاف آواز اُٹھائیں گے۔ اتنی اہم اور بڑی قانون سازی یک طرفہ طور پر محض عددی اکثریت کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہیئے تھا۔

دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی مودی سرکار کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاہ قانون کو عددی طاقت کی بنیاد پر منظور کروا کر آئین کی توہین کی گئی ہے جس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ وقتی کامیابی پر خوشی سے نہال بی جے پی کو مستقبل میں شرمندگی اور پچھتاوے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران بڑھکیں مارتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جان لے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور کشمیر کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔ حکومتی ارکان کی بڑھکوں اور اپوزیشن کے شور شرانے کے دوران بل منظور کرلیا گیا۔

 

بھارت کامقبوضہ وادی کے حوالے سے فیصلہ!،خطے میں کشیدگی بڑھنے کاخطرہ

بھارت نے مقبوضہ کشمیرکے حوالے سے تاریخی غلط فیصلہ کرکے خطے میں وہ آگ لگائی ہے جس میں وہ خود جل کربھسم ہوجائے گا،مودی کی تاریخ دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی جانب سے کسی بھی قسم کے اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے ،پہلے اس نے گجرات میں بے گناہ مسلمانوں کے خون سے زمین کو رنگین کیا اوراس مرتبہ الیکشن مہم کے دوران اس نے کہہ دیاتھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اس قسم کا ناقابل یقین اورگھناءونا اقدام اٹھائے گا،اس بل کے پاس ہونے سے قبل مقبوضہ وادی کومکمل طورپر فوجی چھاءونی میں تبدیل کرکے کرفیوکاسماں پیدا کردیاگیا،تمام حریت قیادت کوپابندسلاسل کردیاگیا،نہتے کشمیریوں کی شہادت میں اضافہ ہوگیا،مقبوضہ کشمیرکادنیابھرسے رابطہ منقطع کردیاگیا،یہ تمام ترتماشہ بین الاقوامی برادری دیکھتی رہی، بھارت وادی کو اسرائیل ماڈل میں تبدیل کرنے کے لئے اوراپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے نہایت سُرت سے مصروف رہا اورآخرکاراس نے مقبوضہ وادی کی علیحدہ حیثیت کو ختم کرکے خطے میں ایک لحاظ سے اعلان جنگ کردیا،جس کی وجہ سے اس وقت حالات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں ۔ گزشتہ روز بھارت نے بین الاقوامی قوانین اورجموں وکشمیرکے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کرتے ہوئے بھارتی آئین کی دفعات 370اور35;65; کومنسوخ کردیا اور آئین کے تحت مقبوضہ علاقے کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کردی،بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دوحصوں میں تقسیم کرکے وادی کشمیر اور جموں خطے کو یونین ٹیریٹوری قراردیا جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی جبکہ لداخ قانون ساز اسمبلی کے بغیر مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہوگا، حکم نامے کے نفاذ سے بھارت مقبوضہ علاقے میں بھارتی شہریوں کو بساکرآبادی کا تناسب اور مقامی کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرسکتاہے،اس طرح بھارت نے جموں وکشمیر کے 92سالہ پرانے اسٹیٹ سبجیکٹ قوانین تبدیل کردیئے، بھارتی حکومت کی طرف سے دفعہ 370کو منسوخ کرنے کے یکطرفہ فیصلے سے مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی غیریقینی صورتحال کے دوران قابض انتظامیہ نے وادی کشمیر اورجموں میں کرفیو نافذ کرکے لوگوں کی نقل وحرکت اورعوامی جلسوں اور ریلیوں کے انعقادپر مکمل طورپرپابندی عائد کردی ہے، تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیاگیا ہے جبکہ پورے جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ سروسز معطل اور تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں ،وادی کشمیر اور جموں خطے میں اضافی فورسز تعینات کردی گئی ہیں ،سول سیکرٹریٹ، پولیس ہیڈکوارٹرز، ہوائی اڈوں اور دیگر سرکاری اداروں سمیت اہم تنصیبات کی سکیورٹی کیلئے بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد تعینات کردی گئی ہے، سرینگر اور دیگر شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر رکاٹیں کھڑی کردی گئی ہیں ، سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق سمیت تمام حریت قیادت کو گھروں اورجیلوں میں نظربند کردیا گیا ہے،بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے راجیہ سبھا میں پیش بل کے حق میں 125جبکہ مخالفت میں 61ووٹ آئے، بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے مذکورہ بل پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہوگیا ،ہندو انتہا پسند بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے راجیہ سبھا میں خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی گئی،امیت شاہ نے کہا کہ مناسب وقت آنے پر جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کردیا جائے گا تاہم اس میں وقت لگ سکتا ہے، کشمیر جنت تھا ، ہے ا ور رہے گا ۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بھارت کی جانب سے وادی کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے برصغیر پر تباہ کن نتاءج برآمد ہوں گے،مودی سرکار کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کا 1947 کے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصاد م ہے، بھارتی حکومت کا یک طرفہ فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، بھارت کشمیر میں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گیا ہے، انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کا دو قومی نظریہ ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا، بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو غزہ کی پٹی کی طرح بنانا چاہتی اور کشمیر کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہتی ہے جو اسرائیل فلسطین کے ساتھ کر رہا ہے،اس یکطرفہ فیصلے کے برصغیر پر دور رس اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کی تبدیلی کا بھارتی اعلان سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی قرار دے دیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ملائشین ہم منصب مہاتیر محمد اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو ٹیلی فون کرکے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ تبدیلیوں سے ;200;گاہ کیا ۔ ترک صدر نے یقین دہانی کرائی کہ ترکی کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا ۔ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیلی کا بھارتی اعلان سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، بھارت کا یہ غیر قانونی اقدام خطے کے امن و سلامتی کو تباہ کردے گا ۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا ۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر اور کنٹرول لائن کی تشویش ناک صورت حال پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھ دیا ۔ شاہ محمود قریشی نے خط میں لکھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کالے قانون کے تحت نہتے کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، لائن ;200;ف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے فائرنگ اور گولہ باری میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ;200;گاہ کیا کہ یہ رائے عام ہو رہی ہے کہ بھارت، ;200;رٹیکل 35 اے اور 370، جن کے تحت مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو خصوصی اسٹیٹس، حقِ ملکیت اور حقِ شہریت حاصل ہے، اسے ختم کرنے کے درپے ہے ۔ ;200;ئینی ترامیم سے بھارت عوامی رائے عامہ کو تبدیل نہیں کر سکتا،پاکستان مسئلے کو پر امن طور پر حل کرنے کا خواہشمند ہے ۔ آج بھارت خود ہی کشمیر ایشو کو عالمی دنیا کے سامنے لے آیا ہے،کشمیری رہنماءوں کی گرفتاری پر پاکستان مذمت کرتا ہے ۔

پاکستان عالمی برادری کومتحرک کرے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری فوج اورفضائیہ تیار ہے،معاشی مشکلات ضرورہیں ، یہ مشکل وقت ہے ،قوم کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، پاکستان کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھائے ، بھارت نے جو حد پارکرنی تھی وہ تو کردی ہے،بھارت کہاں سے جمہوری ملک ہے، لاپتہ افراد پر2005 میں میری خبر پر ایکشن ہوا تھا،آمنہ جنجوعہ کی خبر کوئی نہیں لگاتا تھا میں نے خبر لگائی ،لاپتہ افراد پر میں باقاعدہ طورپر عدالت میں پیش ہوتا رہا ہوں ،سینئر تجزیہ کار محمد مالک نے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ٹرمپ کارڈ ڈنلڈ ٹرمپ ہی ہیں ،پاکستان دنیا کو باور کرائے کہ بھارت خطے کو جنگ کی طرف لے جارہاہے، مشیر صدر ٹرمپ ساجد تارڑنے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا الیکشن میں 370کو ختم کرنا منشور میں تھا،جس طرح بھارت نے کشمیر میں مزید فوج بھیجی افسوسناک ہے،یہ ساری چیزیں دنیا دیکھ رہی ہے صدر ٹرمپ واحد امریکی صدر ہیں جنہوں نے مسئلہ کشمیر کوسنجید گی سے اجاگر کیا،امریکہ میں بھارتی لابی بہت زیادہ مضبوط ہے، ائیر مارشل (ر)مسعود اختر نے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مودی نے اپنے پاؤں پرخود کلہاڑی ماری ہے،پاکستان کو پوری دنیا کو بتانا چاہیے کہ کشمیر میں کتناظلم ہورہاہے ۔

Google Analytics Alternative