Home » 2019 » August (page 4)

Monthly Archives: August 2019

دنیا کا پہلا 64 میگا پکسل فون جس کو اب آپ خرید سکتے ہیں

شیاﺅمی ریڈمی نوٹ 8 پرو سے ملیں جو دنیا کے سامنے متعارف کرائے جانے والا 64 میگا پکسل کیمرے سے لیس پہلا اسمارٹ فون ہے۔

جی ہاں اب 64 میگا پکسل فونز کے عہد کا آغاز کیا ہوگیا ہے۔

شیاﺅمی نے ایک ایونٹ کے دوران اپنی مقبول ریڈمی نوٹ سیریز کے 2 نئے فونز ریڈمی نوٹ 8 اور ریڈمی نوٹ 8 پرو متعارف کرائے۔

ریڈمی نوٹ 8 میں اس کمپنی نے 6.55 انچ فل ایچ ڈی اسکرین دی ہے جس میں واٹر ڈراپ نوچ میں سیلفی کیمرا چھپا ہوا ہے۔

اس فون میں میڈیا ٹیک ہیلیو جی 90 ٹی پراسیسر، 4500 ایم اے ایچ بیٹری، 6 سے 8 جی بی ریم اور 64 سے 128 جی بی اسٹوریج کے آپشنز دیئے گئے ہیں۔

مگر اس کی سب سے خاص بات اس کے بیک میں موجود 4 کیمروں کا سیٹ اپ ہے جس میں مین کیمرا سنسر 64 میگا پکسل کا ہے۔

اس کے علاوہ 8 میگا پکسل الٹرا وائیڈ سنسر اور 2 کیمرے دو، دو میگا پکسل سنسرز سے لیس ہیں جبکہ فرنٹ پر 20 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے۔

اس فون کا 64 میگا پکسل کیمرا سام سنگ کا تیار کردہ ہے جو کہ ہواوے اور شیاﺅمی کے 48 میگا پکسل کیمرا فونز کی طرح ہی کام کرتا ہے، یعنی اچھی روشنی میں 64 میگا پکسل کی تصویر لیتا ہے مگر اس وقت زیادہ بہتر کام کرتا ہے جب پکسلز کو اکھٹا کیا جائے اور زیادہ بہتر 16 میگا پکسل تصاویر لیتا ہے۔

شیاﺅمی کے مطابق اس فون سے 16 میگا پکسل فوٹوز لی جاسکتی ہیں جو کہ 12 میگا پکسل فوٹوز سے زیادہ بہتر ہیں جو اکثر فونز میں لی جاتی ہیں۔

اور ہاں کیمرے سے ہٹ کر اس کی قیمت بھی کافی مناسب ہے۔

ریڈمی نوٹ 8 پرو — فوٹو بشکریہ شیاؤمی
ریڈمی نوٹ 8 پرو — فوٹو بشکریہ شیاؤمی

64 میگا پکسل کیمرے والے پہلے فون کا 6 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا ورژن 195 ڈالرز (30 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) ہے، 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا فون 224 ڈالرز (35 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والا فون 252 ڈالرز (39 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت ہوگا۔

اس کے مقابلے میں ریڈمی نوٹ 8 میں 6.3 انچ کا فل ایچ ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ اسنیپ ڈراگون 665 پراسیسر موجود ہے اور پرو ماڈل کے مقابلے میں کچھ چھوٹی 4000 ایم اے ایچ بیٹری ہے۔

ریڈمی نوٹ 8 — فوٹو بشکریہ شیاؤمی
ریڈمی نوٹ 8 — فوٹو بشکریہ شیاؤمی

اس میں بھی بیک پر 4 کیمرے ہی دیئے گئے ہیں مگر مین کیمرا 48 میگا پکسل کا ہے جبکہ باقی کیمرے پرو ماڈل جیسے ہی ہیں۔

اور ہاں ریڈمی نوٹ پرو میں فنگرپرنٹ سنسر اسکرین کے اندر دیا گیا ہے جبکہ ریڈمی نوٹ میں وہ بیک پر موجود ہے۔

ریڈمی نوٹ کی قیمت بھی بہت زیادہ کم ہے جو 140 ڈالرز (لگ بھگ 22 ہزار پاکستانی روپے) ہے۔

یہ فونز چین میں فروخت کے لیے پیش کیے گئے ہیں اور آئندہ چند ہفتوں میں دیگر ممالک میں متعارف کرائے جائیں گے۔

بھارتی اداکارہ تریشا کا کشمیری بچوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار

 ممبئی: مودی سرکاری کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم وبربریت پر جہاں دنیا بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جارہا ہے وہیں بھارت کے اندر سے بھی اب آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔

بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور انسانی حقوق کے لئے یونیسیف میں کام کرنے والی تریشا کرشنن نے قابض بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر  ڈھائے جانے والے ظلم و جبر پر خاموشی توڑتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں  کشمیر میں بچوں کی حالت زار پرسخت تشویش ہے۔

اداکارہ نے مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن اور تعلیمی ادارے بند کرنے کے عمل کو بچوں کے خلاف تشدد کی ایک مثال قراردیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی بچے کا حق سلب کیا جاتا ہے تو وہ اس بچے کے خلاف تشدد ہی سمجھا جائے گا، مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر آپ بچوں کو بہتر تعلیم دیں تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔

کشمیر بھارت کا ’تھا‘ نہ’ ہوگا‘

کشمیر نہ کل بھارت کا تھا نہ ہے اور نہ کبھی ہوسکتا ہے ۔ مگر پھر بھی جنگی جنون میں مبتلا پاگل بھارتی حکمران ہٹ دھرمی سے مقبوضہ جموں کشمیر کو حاصل کرناچاہتے ہیں ۔ بھارت 370 اور 35;65; میں اپنی مرضی کی ترامیم کرکے بھی کشمیریوں سے کشمیر اور پاکستان سے کشمیر بھائیوں کو کسی بھی صورت حاصل نہیں کرسکتا ہے ۔ آج بھارت کے امن پسند شہریوں کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ قانون میں ترامیم کرکے بھارت نے اپنی کمر پر خود ہی چھراگھونپا ہے ۔ اور اپنے پیروں پر کلہاڑی ماردی ہے ۔ اِس سے بھی اِنکار نہیں کہ اَب بھارت کو کشمیر سے لنگڑا اور اپنے ہی ہاتھوں اپنی کمر پر لگنے والے چھرے کے زخم سے مرکر ہی نکلنا ہوگا ۔ اِس لئے کہ کشمیر میں بھارتیوں کی موت کا سامان ضدی دہشت گردِ اعظم صدی کے نیو ہٹلر مودی نے خودہی پیدا کردیاہے ۔ یہ سمجھے بغیر کہ امریکا نے کشمیر میں قبضے کے معاملے پرایسے ہی بھارت کو پھنسا دیاہے ۔ جیسے کہ کل افغانستان میں قبضے کی نیت سے امریکا گھسا تھا ۔ مگر آج اپنی ہی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے امریکا افغانستان سے نکلنا بھی چاہ رہاہے تو اُلٹاقدم قدم پر پھنستا ہی چلاجارہاہے ۔ بیشک ، آج امریکی یہ بات خود نہ کہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ آج امریکا کی افغانستان سے واپسی کے سارے راستے بند ہوچکے ہیں ۔ ہاں البتہ، سِوائے پاکستان کے تعاون اور مدد کے بغیر امریکا کی جان افغانستان سے نہیں چھوٹ سکتی ہے ۔ امریکی سمجھ چکے ہیں کہ نائن الیون کے بعد افغانستان میں قبضے کے لئے گھسنا امریکیوں کی ناقابلِ تلافی اور ایک بڑی غلطی تھی ۔ آج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی معیشت کا زیادہ تر حصہ خرچ ہورہاہے ،جس کی وجہ سے معیشت ڈنواں ڈول ہے ۔ جس طرح افغانستان پر قبضے کا خواب امریکا کی ناکام تعبیر کی شکل میں سا منے آرہاہے ۔ آج اِسی طرح افغانستان سے جاتے جاتے امریکی صدر ٹرمپ کشمیر پر ثالث کی پیشکش کرکے بھارت کو کشمیر پر قبضے کےلئے اُکسا کرپھنسا چکاہے ۔ اَب کوئی یہ مانے یا نہ مانے مگر آج اِس حقیقت کا دنیا کو ادراک ضرور کرنا پڑے گا کہ بھارت نے کشمیر پر قبضے کے لئے اپنے آئین میں ترامیم امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کو اعتماد میں لے کرہی کی ہے ۔ یعنی کہ کشمیر پر بھارت کے قبضے اور حکمرانی کےلئے کی جانے والی قانونی ترامیم کے درپردہ امریکا پوری طرح سے ملوث ہے ۔ جس کی پوری مرضی شامل ہے ۔ ورنہ مودی لاکھ چاہتے ہوئے بھی خود سے اتنا بڑا فیصلہ کبھی نہ کرسکتاتھا اور نہ اِس میں مرتے دم تک اتنی ہمت ہوتی ۔ کشمیری مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کا پروگرام امریکا ہی سے آیاہے جس طرح امریکا نے فلسطین پر قبضے کے لئے پہلے طاقت کے زور پر وہاں کی اکثریتی آبادی کو اقلیت میں بدلا پھر کثیر تعداد میں اسرائیلیوں کو وہاں آباد کرکے فلسطین کی اصلیت بدل ڈالی ہے ۔ اِسی کلیے اور نظریئے تحت امریکا نے بھارت کو کشمیر میں ہندووں کو آباد کرنے کےلئے کہاہے ۔ بہر حال، بھارتی دہشت گرد حکمران اور آر ایس ایس کے جنونی ہندوسیاست دانوں نے بھارتی آئین میں ہٹ دھرمی کی بنیاد پر ترامیم کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 22دن سے کرفیولگا کر جنت نظیر کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں بدل کررکھ دیاہے ۔ اِنسا نی حقوق کے علمبرداروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ٹرمپ کا یار مودی پانچ اگست سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا کر اِنسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کرر ہا ہے ۔ کشمیریوں کو نو لاکھ بھارتی افواج اور فوج کی وردی میں تیس، چالیس ہزار آر ایس ایس کے دہشت گرد تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ مگر ابھی تک دنیا لا علم ہے ۔

خاص طور پر فرانس بے خبر ہے کیوں ;238; ۔ جبکہ یہاں یہ امر یقینا قابل توجہ ہے کہ آج جب پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ عالمی عدالت میں لے جانے کا اُصولی فیصلہ کرلیا ہے ۔ توکشمیر کی صُورتِ حال کو بھارت کا اندرونی معاملہ اور اثرات سرحدوں کے باہرکا کہہ کر امریکا کا کھلے لفظوں میں پاکستان پر دباوَ ڈالتے ہوئے یہ کہنا ہے کہ ’’ پاکستان عالمی فورمز جانے کی بجائے، بھارت سے براہ راست مذاکرات کرے‘‘یہ صریحاََ اِس بات کا غماز ہے کہ بھارت کی ساری ہٹ دھرمی کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے ۔ تاہم اِس سے یہ تو واضح ہوگیاہے کہ امریکاکبھی نہیں چاہتا ہے کہ عالمی عدالت سے کشمیریوں کو اِنصاف ملے اور کشمیر پر کشمیری مسلمانوں کا قبضہ قائم رہے ۔ اَب اِس تناظر میں خطے کے امن پسند ممالک کو راقم الحروف کے اِس لکھے کو بھی ضرور تسلیم کرنا ہوگا کہ یقینا خطے میں امریکا بھارت کی بدمعاشی قائم کرنے کےلئے اِس کی کمر پر کھڑاہے ۔ جس کی اولین تمنا ہے کہ بھارت خطے میں اِس کا نائب بن کر اِس کے اشارے پر ہر وہ کام کرے جو خطے میں امریکی مفادات کے حامل ہوں اور جو امریکا چاہتاہے;234; بھارت بدمعاش بن کر وہ سارے غلط کام کرے جس میں امریکا کی بھلائی ہو ۔ جس کے لئے امریکا نے بھارت سے مل کر پہلے سے کشمیر پر بھارتی قبضے سے متعلق منصوبہ بندی کی ہے ۔ ورنہ بھارت میں 27فروری 2019کے بعد اتنی ہمت کہاں تھی کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر پر اکیلے قبضے کے لئے اتنا بڑا قدم اُٹھاتا،ہرگزنہیں ، کیوں کہ نازی ہٹلر مودی سمجھ چکاہے کہ پاکستان سے جنگی جنون تو برقراررہے مگر باقاعدہ طورپرکبھی بھی جنگ ہوئی تو پاکستان بھارت کو صفحہ ہستی سے تُرنت مٹادے گا اگر اپنی حکومت کے اگلے سالوں تک آرایس ایس کے جنونی ہندووں کو اپنے ساتھ لے کرچلنا ہے اور اِن میں اپنی ساکھ برقرار رکھنی ہے ۔ تو بس جنگی جنون کا ہی سہارالیاجائے مگر اکیلے پاکستان سے جنگ کبھی نہ کی جائے ۔ اِس پر چاپلوس امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور امریکی محکمہ خارجہ کا بار بارتنازع کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے یہ کہنا کہ’’اسلام آباد اور نئی دہلی کو چاہئے کہ وہ صبروتحمل کا مظاہرہ کریں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے مذاکرات شروع کریں ۔ جس کے جواب میں وزیراعظم پاکستان عمران خان دوٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ بھارت کے ساتھ ہر قسم کے مذاکرات کے دروازے پاکستان نے بند کردیئے ہیں ۔ اَب جب تک بھارت مقبوضہ جموں کشمیر سے نام نہاد مرضی کی ترامیم واپس لے کرکشمیریوں کے پہلے والے حقوق نہیں دے دیتا اُس وقت تک پاکستان بھارت سے مذاکرات نہیں کرے گا ۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثے کا شکار، 10 مسافر زخمی

ٹوبہ ٹیک سنگھ: پشاور سے کراچی آنے والی رحمان بابا ایکسپریس حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں 10 مسافر زخمی ہوگئے۔

پشاور سے کراچی آنے والی رحمان بابا ایکسپریس کی 4 بوگیاں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب پٹری سے اتر گئی جس کے نتیجے میں ٹرین میں سوار 10 سے زائد مسافر شدید زخمی ہوگئے، واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد ریسکیو 1122 نے موقع پر پہنچ کر مسافروں کو ٹرین سے نکالا اور اسپتال منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

عینی شاہد کے مطابق ٹرین ڈرائیور نے اچانک بریک لگائی جس کے باعث کئی مسافر زخمی ہوئے ہیں جب کہ حادثے کے بعد مسافر ٹرین میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، شدید حبس اور گرمی کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

دوسری جانب ریلوے ترجمان کا کہنا ہے کہ فیصل آباد سے متبادل انجن منگوایا جا رہا ہے جس کے بعد مسافر ٹرین کو جلد روانہ کردیا جائے گا جب کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ریلوے ٹریک بحال کرکے ٹرینوں کی آمدورفت شروع کردی گئی ہے۔

طالبان سے معاہدے کے باوجود امریکی فوج افغانستان میں رہے گی، امریکی صدر

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ معاہدے کے باوجود امریکی فوج کی کچھ تعداد افغانستان میں رہے گی۔

امریکی فاکس نیوز ریڈیو کو انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا طالبان کے ساتھ 18 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کر لیتا ہے تو بھی امریکی افواج وہاں موجود رہیں گی کیونکہ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی سطح کو کم کرکے 8,600 کیا جا رہا ہے، اس وقت افغانستان میں تقریباً 14 ہزار امریکی سروس ممبرز موجود ہیں، جن میں سے 5 ہزار شر اور سورش کی  روک تھام کے لئے کارروائیوں میں مصروف رہتی ہیں۔

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز اضافہ

کراچی: گزشتہ ہفتے کے دوران ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 23 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے پرزرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 15 ارب 62 کروڑ 9 لاکھ ڈالرز کی سطح پر رہے۔

اس دوران مرکزی بینک کے ذخائر 3 کروڑ 24 لاکھ ڈالرز اضافے سے 8 ارب 27 کروڑ 11 لاکھ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 74 لاکھ ڈالرکمی سے 7 ارب 35 کروڑ 86 لاکھ ڈالر کی سطح پر ریکارڈ کیے گئے۔

وٹامن ڈی کی کمی کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

آپ کا جسم صحت کے بارے میں کافی معلومات فراہم کرتا رہتا ہے تاہم آپ کو درست وقت پر اسے سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے۔

جس سے آپ جان سکتے ہیں کہ جسم کے اندر کیا چل رہا ہے اور اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے۔

اور وٹامن ڈی وہ اہم جز ہے جس کی کمی لوگوں کو کافی بھاری پڑسکتی ہے، کیونکہ یہ صرف ہڈیوں کو ہی کمزور نہیں کرتی بلکہ آپ کو ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا بھی شکار کرسکتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو اور ہائی بلڈ پریشر پاکستان میں بہت زیادہ عام ہوچکے ہیں اور ہر گھر میں ہی کوئی نہ کوئی ان کا شکار ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے 84.2 فیصد جبکہ ہائی بلڈ پریشر کے 82.6 فیصد مریض وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور اس وٹامن کی کمی ان امراض کا خطرہ 83 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔

تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی جسم کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس کا ذیابیطس اور ہائی بلڈپریشر سے تعلق ہے۔

محققین کے مطابق ہم یہ نہیں کہتے کہ اس کی کمی ان امراض کا باعث ہے مگر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ جن افراد میں ان امراض کی تشخیص ہوتی ہے، وہ وٹامن ڈی کی کمی کا بھی شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم دیکھیں گے کہ ان مریضوں میں وٹامن ڈی کی سطح میں بہتری سے ان کے امراض میں کس حد تک مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ویسے ان امراض کا شکار ہونے کے بعد وٹامن ڈی کی کمی پر قابو پانے کی بجائے ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات کا استعمال زیادہ ضروری ہے۔

مگر یہ ضروری ہے کہ جسم کو وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہونے سے بچایا جائے کیونکہ اس کی کمی جسمانی مدافعتی نظام کو کمزور کرکے عام انفیکشن اور وائرسز کے حملے کے بعد ٹھیک ہونے کے دورانیے کو بڑھا دیتی ہے۔

چڑچڑا پن، ڈپریشن، ہر وقت تھکاوٹ، کمر درد، جوڑوں کے مسائل، مسلز کی کمزوری، بال گرنے یا گنج پن، زخم بھرنے میں تاخیر، مردانہ کمزوری اور ایسے ہی متعدد مسائل وٹامن ڈی کی کمی کے باعث سامنے آسکتے ہیں۔

بھارت کو سبق سکھانے کا وقت آگیاہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت کو سبق سکھانے کا وقت آگیاہے۔

اسلام آباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج سارا پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، کشمیر کے آزاد ہونے تک ہر فورم پر کشمیر کی جنگ لڑوں گا، جس طرح نازی پارٹی نے جرمنی پر قبضہ کیا اس طرح آر ایس ایس نے بھارت پر قبضہ کیا ہوا ہے، بی جے پی اور آرایس ایس ہندوستان کے قوانین کو نہیں مانتے تاہم بھارت کو سبق سکھانے کا وقت آگیاہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مسلمانوں پر ظلم ہونے پر بین الاقوامی انصاف دینے والے ادارے خاموش رہتے ہیں، کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو آج ساری دنیا نے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوجانا تھا، دنیا اگر مودی کی فاشٹ حکومت کے سامنے کھڑی نہیں ہوگی تو اس کا اثر پوری سب پر ہوگا، اگر اب تمام ممالک کے سربراہان خاموش رہیں گے تو اس کا اثر دنیا بھر پر آئے گا، نیو یارک ٹائمز میں میرا مضموں چھپا جس پر کشمیر کو زیربحث لایا ہوں جب کہ جنرل اسمبلی میں بھی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کروں گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کو بتارہے ہیں کہ یہ مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد کشمیر میں کچھ نہ کچھ کریں گے، مودی کو بتا رہا ہوں ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، مودی اپنے تکبر میں اپنا آخری پتہ کھیل چکا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آخری دم تک ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے، دنیا میں کشمیر سے کرفیو ہٹاؤ مہم شروع کرنے جا رہے ہیں، میرا وعدہ ہے جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوجاتا ہر فورم پر کشمیر کی جنگ لڑوں گا۔

Google Analytics Alternative