Home » 2019 » August (page 5)

Monthly Archives: August 2019

قوم کل کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے باہر نکلے، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم کل باہر نکلے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قوم کل دن 12 سے 12:30 تک کشمیریوں کے لیے نکلیں، قوم کل کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرے، کشمیر میں بھارتی اقدام جنیوا کنونشن کے تحت جنگی جرم ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور معصوم کشمیری عوام کا قتل پاکستان کو قابل قبول نہیں ہے، بچوں اور خواتین کا بھی بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل عام مودی حکومت کی نسل کشی کا ایجنڈہ ہے، کل پوری عوام 12 سے 12:30 تک سڑکوں پر نکل کر کشمیری عوام کو پیغام دیں کہ وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام باہر نکل کر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کریں اور مقبوضہ کشمیر میں واضح پیغام بھیجیں، کشمیریوں کو پیغام دیاجائے کہ پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، قوم مقبوضہ کشمیر میں 24 دن سے جاری غیر انسانی کرفیو اور فاشسٹ ظلم پراحتجاج کرے۔

اب بھارت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، پاکستان

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ دوطرفہ مذاکرات کی حمایت کی لیکن اب بھارت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

دفتر خارجہ اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھاوَنی بنادیا ہے، میڈیا اورانٹرنیٹ پر بھی پابندی لگارکھی ہے، مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے وہاں خوراک اور ادویات کی قلت ہے،کشمیری بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کررہےہیں، مقبوضہ کشمیر میں اتنے لوگ گرفتار ہیں کہ جیلوں میں جگہ نہیں رہی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کی مذمت کرتا ہے، مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کو رہا کیا جائے، بھارت دنیا کو گمراہ کرنا بند کرے، بھارت جومرضی کہتا رہے اس سےحقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ مسئلہ ریاست کشمیر کا ہے جس پر فیصلہ ہونا ہے۔ کشمیریوں کے جذبات جب تک نہیں دیکھے جائیں گے آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ ایل او سی پر بھارتی فائرنگ سے معصوم شہری شہید ہوئے، ایل او سی کی خلاف ورزی پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا، وزیرخارجہ نے بھارتی اقدامات سے متعلق مختلف ممالک کو خط لکھے، انہوں نے دنیا کو آگاہ کیا کہ کشمیریوں کی حمایت میں کسی بھی حدتک جائیں گے، پاکستان کبھی دوطرفہ مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا، ہمیشہ دوطرفہ مذاکرات کی حمایت کی لیکن اب بھارت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، مسئلہ کشمیر پرعالمی عدالت جانے سے متعلق مشاورت کررہے ہیں۔ وزیر خارجہ کے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اجلاس میں جانے کے امکانات ہیں۔ بھارت کےلیے فضائی حدود بند کرنے کافیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

کرتارپورراہداری

کرتارپور راہداری سے متعلق ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کرتار پور راہداری وزیراعظم کی اعلان کردہ تاریخ کے مطابق کھولی جائے گی، اس منصوبے کے حوالے سے 30 اگست کو زیرو پوائنٹ پر اجلاس ہوگا۔

افغان امن عمل

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے، امریکا اور طالبان کےمابین مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں، پاکستان افغان سرحد سے دہشت گردوں کی فائرنگ کا صرف جواب دیتا ہے، افغان حکومت کو دہشت گرد کیمپوں کے حوالے سے معلومات دی ہیں۔

اسرائیل سے تعلقات

ڈاکٹر فیصل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

پاکستان کا بیلسٹک میزائل غزنوی کا کامیاب تجربہ

راولپنڈی: پاکستان نے بیلسٹک میزائل غزنوی کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کے مطابق پاکستان نے بیلسٹک میزائل غزنوی کا کامیاب تجربہ کیا ہے، زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل غزنوی کا تجربہ رات کو کیا گیا، میزائل ہر قسم کے روایتی اور غیر روایتی وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 290 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو آسانی سے نشانہ بناسکتا ہے۔

صدر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے بیلسٹک میزائل غزنوی کے کامیاب تجربے پر قوم اور اس منصوبے سے منسلک سائنسدانوں کو مبارک باد دی ہے۔

 

جہاد کشمیر کے اعلان کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر

اسلام آباد: کشمیر میں جہاد کے اعلان کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

شریف شبیر نامی شہری نے میاں گوہر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ جس میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت حکومت کو جموں و کشمیر میں جہاد شروع کرنے کا حکم دے، آزاد کشمیر میں جہادی کیمپس قائم کرنے کی ہدایت کی جائے۔

ترکی کو امریکی ایف 35 یا روسی ایس 400 میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، امریکا

واشنگٹن: امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے گزشتہ روز پنٹاگون میں منعقدہ ایک غیرمعمولی پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کو روسی ساختہ فضائی دفاعی نظام ’’ایس 400‘‘ یا امریکی لڑاکا طیارے ’’ایف 35‘‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

اس پریس کانفرنس کا جواب دیتے ہوئے ترکی کے وزیرِ خارجہ میولوت کاووسوگلو نے کہا کہ ترکی کی پہلی ترجیح یہی ہوگی کہ اسے ایف 35 لڑاکا طیارے مل جائیں لیکن اگر ایسا نہ ہوسکا تو اس کے متبادل لڑاکا طیاروں کا جائزہ لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایس 400 روسی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم (فضائی دفاعی نظام) ہے جو سابق سوویت یونین کی اہم عسکری باقیات میں شامل ہے۔ پرانی ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود، یہ نظام اتنا طاقتور ہے کہ 300 کلومیٹر کی بلندی تک پرواز کرتے ہوئے کسی بھی طیارے کو بہ آسانی تباہ کرسکتا ہے۔ دوسری جانب ’’جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر‘‘ کہلانے والا جدید امریکی لڑاکا طیارہ ایف 35 ہے جو کثیرالمقاصد ہونے کے ساتھ ساتھ بہت مہنگا بھی ہے۔

ابتداء میں ترکی نے امریکا سے پیٹریاٹ اینٹی میزائل سسٹم خریدنے کےلیے بات چیت کی تھی لیکن اوباما ایڈمنسٹریشن سے مذاکرات ناکام ہوجانے کے بعد 2017 میں روس سے ایس 400 کی خریداری کا معاہدہ کرلیا، جن کی سپلائی کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ اب ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ ترکی اور روس کے مابین یہ معاہدہ نہ صرف منسوخ ہوجائے بلکہ اب تک ایس 400 کی خریدی گئی تمام بیٹریز (یونٹس) بھی روس کو واپس کردیئے جائیں، اس کے بعد ہی ترکی کو ایف 35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے بارے میں سوچا جائے گا۔

مسئلہ کشمیر،مودی کوبدستور ہزیمت کا سامنا،عمران خان کے عالمی رہنماءوں سے رابطے

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو جہاں مقبوضہ کشمیر میں غیر آئینی اور غیر قانونی مداخلت کرنے پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا وہاں پر اس کی اپنے ملک کی بھارتی سپریم کورٹ نے بھی مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر نوٹس جاری کردیا ہے ۔ بھارتی حکومت اپنی سپریم کورٹ کے سامنے یہ روتی دھوتی رہی کہ ایسا نہ کریں اس سے پاکستان فائدہ اٹھائے گا لیکن حکومتی درخواست کو یکسر بیک جنبش قلم مسترد کردیا گیا اور ساتھ ہی ایک سیاستدان اور طالبعلم کو مقبوضہ وادی جانے کی اجازت بھی دیدی گئی ہے ۔ بھارتی چیف جسٹس کی زیر صدارت تین رکنی بنچ نے آرٹیکل 370 کی منسوخی ، وادی کے لاک ڈاءون سمیت متفرق درخواستیں سماعت کیلئے منظوری کرلی وفاق اور ریاستی انتظامیہ سے جواب طلب کرلیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہ میں معلوم ہے کیا کرنا ہے اپنی ذمہ داری نبھانا آتا ہے ۔ یہ بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو دوٹوک جواب دیا ۔ نیز میڈیا پر عائد پابندیوں کیخلاف جواب طلبی کی ہے ۔ بھارتی عدالت نے کہاکہ ہم احکامات جاری کرچکے ہیں اور یہ کسی صورت واپس نہیں لیں گے ہ میں اپنا کام کرنا آتا ہے یہ کیسے کرنا ہے ،کس طرح اپنی ذمہ داری نبھانا ہے سب ہ میں علم ہے ۔ عدالت نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سیتا رام کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی بھی اجازت دیدی جو وادی میں اپنے دوست محمد یوسف رگامی کی خیریت دریافت کرنا چاہتے تھے ۔ نیز جامع ملیہ یونیورسٹی میں قانون کے طالب علم محمد علیم سید کی درخواست بھی منظور ہوگئی اور انہیں انند ناگ جانے کی اجازت دیتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ وہ انہیں بحفاظت پہنچائے ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سابق بھارتی بیورو کریٹ اور نیشنل کانفرنس کے رہنماءوں شاہ فیصل ، انسانی حقوق کی رکن شہلہ راشد، ایڈووکیٹ ایم اے شرما اور ایک کشمیری وکیل سمیت متعدد افراد نے 370 کے خاتمے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔ کیس کی سماعت پانچ رکنی بنچ اکتوبر کے پہلے ہفتے کرے گا ۔ کشمیر ٹائمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انو رادھا بھاسن کی درخواست پر میڈیا پرپابندیوں کے حوالے سے بھی نوٹس جاری کیا ہے ان تمام ہزیمتوں کے باوجود شکست خوردہ مودی اپنی ہٹ دھرمی اسی طرح قائم ہے ۔ مقبوضہ وادی میں لگاتار کرفیو جاری ہے ، کھانے پینے کی اشیاء ختم ہوچکی ہیں ، مریض مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔ نوجوان لڑکوں اور نوجوان خواتین کی گرفتاریاں لگاتار جاری ہیں اس کے باوجود وادی میں نہتے کشمیری سخت مزاحمت پیش کررہے ہیں ۔ ادھر وزیراعظم پاکستان نے بھی مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں عالمی رہنماءوں سے رابطے تیز کردئیے ہیں ۔ عمران خان نے اردن کے شاہ عبداللہ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ٹیلیفونک گفتگو کی اور انہیں مقبوضہ وادی کی صورتحال کے بارے میں آگاہی کرائی جس پر تینوں رہنماءوں کے درمیان امن و امان کے سلسلے میں مل کر کام کرنے پر اتفاق اور مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا ۔ جبکہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سلامتی کونسل کی صدر کو اس حوالے سے ایک اور خط لکھ بھیجا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو بھارتی سائیڈ پر پٹرولیم کی اجازت دی جائے ۔ جبکہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجیدنے کہاکہ ہے کشمیر کی صورتحال پر دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہے جبکہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کہا گیا ہے کہ صورتحال کو کنٹرول کیا جائے دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے دہانے پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے بھی پاکستان اور بھارت پر بڑھاوے سے گریز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ مسئلے کو بات چیت سے حل کیا جائے ۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی بین الاقوامی تحقیقات کروائی جائیں ۔ پوری دنیا اب یہ جان چکی ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک ایسی چنگاری ہے اگر اس حوالے سے جنگ شروع ہوئی تو وہ صرف پاکستان بھارت نے بلکہ پوری دنیا کو بھسم کرسکتی ہے ۔ وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے بھی اکتوبر ، نومبر میں پاک بھارت جنگ کی پیشن گوئی کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر کی آخری جدوجہد کا وقت آگیا ہے اب جنگ ہوگی تو آخری جنگ ہوگی ۔ نہ معلوم دنیا کس حوالے سے آنکھیں موندے بیٹھی ہے ۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ محض بیان بازی پر اکتفا نہ کرے اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ وقت گزرنے کے بعد کوشش کی جائے تو سب کچھ ہاتھ سے نکل چکا ہوگا ۔ کیونکہ بھارت ایک غیر ذمہ دارانہ ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے اور مودی ہٹلر و نازی نظریے کا پیروکار ہے اس سے کسی بھی وقت کسی بھی قسم کے اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ مودی کے ناہنجار اقدامات نے پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے جیسا کہ وزیراعظم پاکستان نے کہا تھا کہ دنیا اس وقت اپنی مارکیٹ کو دیکھ رہی اس کو علم ہوجانا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اگر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل نہ کیا گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ان اداروں پر عائد ہوگی جو دنیا بھر میں امن کے ٹھیکیدار ہیں ۔ بھارت کے نام نہاد جمہوریت نواز ہونے کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے اس کی اپنے ہی صحافی برکھادت نے بھارتی حکومت کے پول کھولتے ہوئے لکھا کہ کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے گرفتار افراد کا علم نہیں کہ کتنے گرفتار ہوئے ہیں اور انہیں کہاں پر رکھا گیا ہے ۔ بھارت بھر کی جیلوں میں کشمیری نوجوانوں کو منتقل کردیا گیا ہے وہاں پر خواتین کی عزت و ناموس قطعی طورپر محفوظ نہیں آئے دن بھارت وادی میں انسانی المیے کی جانب بڑھتا جارہا ہے ۔ یہی صورتحال رہی تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے ۔

کشمیر بنے گا پاکستان ،یوم دفاع کی تقریبات کا حصہ ہوگا

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہے ۔ اسی سلسلے میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ یوم دفاع پر اس سال بھی ہر شہید کے گھر جانے کا پروگرام جاری رکھاگیا ہے، عوام سے درخواست کی کہ شہیدوں کے لواحقین سے ملیں گے، عظیم قو میں اپنے شہیدوں کو یاد رکھتی ہیں ،یوم دفاع وشہداء کی مرکزی تقریب جی ایچ کیو میں منعقد ہوگی،;200;رمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ جی ایچ کیو میں یادگارشہداء پرحاضری دیں گے،کشمیر بنے گا پاکستان تقریبات کاحصہ ہوگا،حکومتی اعلان کے مطابق12 بجے ملک بھر میں سائرن بجائے جائیں گے ۔ ڈی جی آئی ایس پی ;200;ر کا کہنا تھا کہ یوم دفاع کی مناسبت سے چھاءونیوں میں ہتھیاروں کی نمائش ہوگی ۔

پاکستان کا مضبوط دفاع کی جانب اہم قدم

پاکستان نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل غزنوی کا کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ;200;ئی ایس پی ;200;ر نے سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹوءٹر پر بیان دیتے ہوئے یہ اعلان کیا اور بتایا کہ میزائل 290 کلومیٹر تک ہرقسم کے وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ غزنوی بیلسٹک میزائل حتف -3 کا دوسرا نام ہے ۔ اس میزائل سے پاکستان کی نہ صرف دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ حریف ایٹمی ملک بھارت کے کئی قریبی شہر بشمول امرتسر، لدھیانا اور چندری گڑھ نشانے پر ہیں ۔ شاہین 2 میزائل روایتی اور جوہری دونوں اقسام کے ہتھیاروں کو 15سو کلومیٹر سے زائد کی رینج تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا فارمیشن اسٹرائیک کور کا دورہ

راولپنڈی: پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فارمیشن اسٹرائیک کور کا دورہ کیا اور اسٹرائیک کور کی پیشہ وارانہ تیاریوں کو سراہا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فارمیشن اسٹرائیک کور کا دورہ کیا، آرمی چیف کو اسٹرائیک کور کی آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی اور سربراہ پاک فوج نے اسٹرائیک کور کی پیشہ وارانہ تیاریوں کوسراہا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ جنگ میں اسٹرائیک کور کا اہم اور فیصلہ کن کردار ہوتا ہے، اسٹرائیک کور کی تیاریوں اور تربیت کا معیار بلند، حوصلہ افزا اور قابل تحسین ہے، اس سے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔

 

ہواوے کے نئے فلیگ شپ فونز اینڈرائیڈ سسٹم سے محروم ہوں گے؟

ہواوے نے اپنا نیا فلیگ شپ فون گوگل کے آفیشل اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم اور اس کی ایپس جیسے گوگل میپس وغیرہ کے بغیر متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں ہواوے عہدیداران کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔

چینی کمپنی کی جانب سے نئے فلیگ شپ میٹ 30 سیریز کے فونز آئندہ ماہ جرمنی میں متعارف کرائے جارہے ہیں، تاہم یہ فروخت کے لیے کب دستیاب ہوں گے، یہ واضح نہیں۔

رواں سال مئی میں امریکا کی جانب سے ہواوے کو بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد میٹ 30 سیریز کے فونز اس کمپنی پہلے فلیگ شپ فونز ہوں گے۔

گوگل کے ایک ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ میٹ 30 سیریز کے فونز لائسنس گوگل ایپس اور سروسز کے ساتھ فروخت نہیں ہوں گے جس کی وجہ ہواوے سے کاروبار پر عائد امریکی پابندی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہواوے کو گزشتہ ہفتے امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے عارضی لائسنس کا اطلاق نئی مصنوعات جیسے میٹ 30 پر نہیں ہوتا۔

امریکی کمپنیوں کو اب ہواوے کے ساتھ کاروبار کے لیے حکومتی لائسنس درکار ہوتا ہے، تاہم گوگل نے اس طرح کے کسی لائسنس کے لیے درخواست دی ہے یا نہیں، اس بارے میں اب تک کوئی بیان نہیں دیا گیا۔

تاہم الفابیٹ انکارپوریشن سے منسلک گوگل ماضی میں کہہ چکا ہے کہ وہ ہواوے کو اینڈرائیڈ اور دیگر سروسز کی فراہمی جاری رکھنا چاہتا ہے۔

اب تک امریکی محکمہ تجارت کو ہواوے کے ساتھ کاروبار کی خواہشمند کمپنیوں کی جانب سے لائسنس کے لیے 130 سے زائد درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، مگر کسی ایک کی بھی فی الحال منظوری نہیں دی گئی۔

میٹ 30 سیریز کے فونز کے حوالے سے غیریقینی صورتحال پر ہواوے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپنی اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا استعمال اس صورت میں جاری رکھے گی جب امریکی حکومت کی جانب سے اس کی اجازت دی جائے گی، دوسری صورت میں ہم اپنے آپریٹنگ سسٹم اور ایپس کی تیاری کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

اس نئی رپورٹ پر امریکی محکمہ تجارت نے کوئی بیان جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔

اینڈرائیڈ نہیں تو میٹ 30 میں کونسا آپریٹنگ سسٹم ہوگا؟

ہواوے کی جانب سے اگست میں اپنا آپریٹنگ سسٹم ہارمونی او ایس متعارف کرایا جاچکا ہے مگر کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال اسمارٹ فونز کے لیے نہیں بلکہ دیگر ڈیوائسز جیسے اسمارٹ ٹی وی وغیرہ کے لیے استعمال ہوگا۔

تو فلیگ شپ میٹ 30 سیریز میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم سے محرومی پر یہ کمپنی کیا کرے گی؟ اس کا جواب واضح تو نہیں مگر ممکنہ طور پر اینڈرائیڈ کے اوپن سورس ورژن کو استعمال کرے گی جس پر امریکی پابندی کا اطلاق نہیں ہوتا، تاہم گوگل ایپس کو یورپ میں گوگل کے جاری کردہ پیڈ لائسنس کے تحت ہی استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم یورپ سے باہر اس کے لائسنس کی کوئی فیس نہیں۔

اس وقت گوگل سروس اینڈرائیڈ فونز میں پہلے ہی سے لوڈ ہوتی ہیں اور ان کے بغیر فونز کو فروخت کرنے میں ہواوے کتنی کامیاب ہوگی، اس کا فیصلہ تو آنے والے مہینوں میں ہی ہوگا۔

گزشتہ ہفتے ہواوے کے سنیئر نائب صدر ونسینٹ پانگ نے نیویارک میں ایک تقریب کے دوران کہا تھا ہمارے نئے فونز اینڈرائیڈ پر ہی کام کریں گے، ہم ایک معیار، ایک ایکو سسٹم، ایک ٹٰکنالوجی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

پراسیسر کونسا ہوگا؟

ہواوے کو اعتماد ہے کہ نئے فون کے ہارڈوئیر کے حوالے سے وہ امریکی قوانین کی پابندی کرے گی۔

میٹ 30 سیریز کے فونز میں کیرین 990 پراسیسر دیا جائے گا جو کہ 6 ستمبر کو برلن میں شیڈول آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران باضابطہ طور پر متعارف کرایا جائے گا۔

یہ پراسیسر ہائی سیلیکون نے تیار کیا ہے جو کہ ہواوے کی اپنی کمپنی ہے جو کہ برطانوی چپ ڈیزائن اے آر ایم ہولڈنگز کے بلیوپرنٹ پر مبنی ہے۔

اے آر ایم نے ہواوے پر امریکی پابندی کے بعد کاروباری تعلقات منقطع کردیئے تھے مگر ذرائع کے مطابق اے آر ایم لائسنس بلیک لسٹ کیے جانے سے پہلے کا ہے۔

Google Analytics Alternative