Home » 2019 » August (page 54)

Monthly Archives: August 2019

شعیب اور حفیظ سمیت 5 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ نہ ملنے کا امکان

لاہور: شعیب ملک اور محمد حفیظ سمیت  4 سے 5 معروف کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست سے ڈراپ کیے جانے کا امکان ہے۔

قومی کرکٹرز کو سال  2019-20کے لیے سالانہ سینٹرل کنٹریکٹ دینے کے حوالے سے پی سی بی کے بڑے جمعرات کو سر جوڑ کر بیٹھیں گے ،ذرائع کے مطابق شعیب ملک اور محمد حفیظ سمیت  4 سے 5معروف کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست سے ڈراپ کیاجاسکتا ہے تاہم حتمی فیصلہ شرکا اجلاس میں کریں گے۔

ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور میچ فیس میں 20 فیصد اضافہ کرنے پر اتفاق  ہوچکا ہے، صرف  ٹیسٹ ٹیم میں ملک کی نمائندگی کرنے والوں کی میچ فیس میں زیادہ اضافے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔

ایم ڈی وسیم خان کی سرابرہی میں مدثر نذر، ہارون رشید اور ذاکر خان کے ساتھ ہیڈ کوچ مکی آرتھر بھی مجوزہ کھلاڑیوں کی فہرست پر مشاورت کریں گے۔ آرتھر کا پی سی بی سے معاہدہ 15 اگست تک ہے جس میں اب مزید توسیع  کیےجانے کا قوی امکان ہے۔ سال 2018 اور 19 کے لیے 33 کھلاڑی اے، بی، سی، ڈی اور ای کیٹگری میں ماہانہ تنخواہ لیتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس تنخواہ پانے والے بہت ایسے کھلاڑی بھی تھے جو ٹیم کی بہت کم نمائندگی کر پائے یا بالکل ہی نہیں کھیلے۔

پی سی بی  نے اب اس تعداد کو کم کرکے 15 سے 20 کے درمیان محدود کرنے کا فیصلہ کیاہے، اجلاس میں اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کتنے اور کن کھلاڑیوں کو اس لسٹ میں شامل کیاجائے۔

ذرائع کے مطابق تینوں یا پھر 3 فارمیٹ میں قومی ٹیم کا مستقل حصہ بننے والوں کو ترجیح دی جائے گی، جو لڑکے فہرست میں جگہ نہیں پاسکیں گے وہ مجوزہ ڈومیسٹک کرکٹ میں صوبائی ٹیموں کی جانب سے کنٹریکٹ پانے کے اہل ہوں گے۔ نئی سلیکشن کمیٹی تشکیل دیے جانے پر سلیکٹرز کی سفارش پر اس فہرست میں 2 سے 3 مزید کھلاڑیوں کو جگہ دی جاسکے گی۔

اجلاس میں مشاورت کے لیے جس فہرست کو تیار کیا گیا ہے اس میں بابر اعظم، سرفراز احمد، اظہرعلی، محمد حفیظ، فہیم اشرف، اسد شفیق، حسن علی، محمد عامر، فخر زمان، شاداب خان، محمد عباس، حارث سہیل، وہاب ریاض، جنید خان، امام الحق، عثمان خان شنواری، شان مسعود، عماد وسیم، آصف علی، محمد رضوان، عابد علی اور شاہین شاہ آفریدی ہیں۔ مشاورت کے بعد اس فہرست کو مزید کم کرکے انہیں مختلف کیٹگریز میں تقسیم کرکے فہرست کو فائنل کیےجانے کا امکان ہے۔

افغان شہریوں کی بڑی تعداد طالبان کے بجائے مقامی اور نیٹو افواج کے ہاتھوں ہلاک ہوئی، اقوام متحدہ

کابل: اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں معصوم شہریوں کی بڑی تعداد طالبان اور دہشت گردوں کی بجائے مقامی فوج، امریکی اور نیٹو اتحادی کے ہاتھوں لقمہ اجل بن رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ سال 2019ء کے پہلے وسط میں 717 شہری افغان اور نیٹو افواج کے ہاتھ مارے گئے جبکہ تخریبی کارروائیوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں 531 باشندے لقمہ اجل بنے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ نئے اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور طالبان کی جانب سے امن مذاکرات کے شروع ہونے کا امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے معاون مشن (یواین اے ایم اے ) نے اپنے اعداد و شمار میں کہا ہے کہ زیادہ تر امریکی طیاروں کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں 363 افراد لقمہ اجل بنے ہیں جن میں 89 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اموات 2019ء کے پہلے 6 ماہ میں ہوئی ہیں۔

دوسری جانب امریکی افواج نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اپنے اعداد و شمار قدرے درست ہیں کیونکہ امریکی افواج ہمیشہ ہی شہریوں اور غیرمسلح افراد کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتی ہیں تاہم انہوں نے اپنے اعدادوشمار پیش نہیں کیے۔

اس سے قبل اپریل کے مہینے میں بھی اقوامِ متحدہ نے عین یہی رپورٹ پیش کی تھی جس میں افواج کے ہاتھوں مرنے والے شہریوں کی بلند تعداد بتائی گئی تھی اور یہ رجحان اب بھی جاری ہے جس میں امریکی، افغانی، اتحادی اور نیٹو افواج کی جانب سے مسلسل شہریوں کی اموات ہورہی ہیں۔

تاہم اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی ہوئی ہے اور کل 3,812 عام افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں تاہم رپورٹ میں اسے بھی ’صدماتی اور ناقابلِ برداشت ‘ قرار دیا گیا ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یکم جنوری سے اب تک افغانستان میں ملکی اور غیر ملکی افواج کے ہاتھوں 985 شہری مارے گئے یا زخمی ہوئے ہیں۔ یو این اے ایم اے کے سربراہ رچرڈ بینٹ نے کہا ہے کہ (شہریوں کی اموات پر) ہر فریق اپنی حرکات کی مختلف وضاحتیں پیش کررہا ہے۔

چوہدری شوگرملز کیس؛ مریم نواز کا غیرملکی شخصیات سے مالیاتی تعلق کا انکشاف

لاہور: شریف خاندان کی ملکیت چوہدری شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ اور مریم نواز کے غیرملکی شخصیات سے مالیاتی تعلقات کا انکشاف ہوا ہے۔

نیب نے چوہدری شوگرمل کیس میں نواز شریف کے تینوں بچوں مریم، حسن اور حسین نواز کے ساتھ ساتھ بھتیجے عبدالعزیز عباس کو آج طلب کیا تھا، چاروں افراد کو چوہدری شوگر ملز میں شیئر ہولڈرز ہونے کی بنا پر بلایا گیا۔ مریم نواز نیب لاہور میں 3 رکنی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئیں۔

مریم نواز سے متحدہ عرب امارات کے سعید سیف بن جابر السعودی کے ساتھ مالیاتی تعلق کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ نیب نے برطانیہ کے شیخ ذکاالدین ہانی ، سعودی عرب کے احمد جمجون اور متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوٹھ سے کاروباری تفصیلات کے بارے میں پوچھا، نیب نے مریم نواز سے قرضوں اور سر۔ایہ کاری کی تفصیلات بھی مانگی ہے۔ نیب نے مریم نوازسے اس بارے میں بھی جواب مانگا ہے کہ ٹی ٹی کے ذریعے منتقل ہونے والی رقوم اور کہاں سے آئیں، اس کے علاوہ مریم نواز سے زمین کی خریداری کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

ادھر نیب کی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ جنوری 2018 مسلم لیگ حکومت کے دوران فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ کے مطابق چوہدری شوگر ملز نے اربوں روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کی۔ نیب تحقیقات 2018 میں شروع کی گئی جس میں نواز شریف مریم نواز، شہباز شریف شریف سمیت خاندان کے دیگر ارکان شیئر ہولڈر ملوث پائے گئے۔

نیب کے ذرائع نے بھی دعوی کیا کہ شریف فیملی سمیت متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں بھی بھی چند شیئر ہولڈرز ہیں۔ 2001 سے 2017 کے درمیان بیرون ملک رہنے والے افراد کو اربوں روپے کا شیئر ہولڈر بنایا گیا۔ مریم نواز، حسن اور حسین نواز نے شیئر واپس وصول کیے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منی لانڈرنگ کی گئی۔ یوسف عباس اور مریم نواز انکوائری میں شامل ہوئے لیکن منی لانڈرنگ کا جواب نہ دے سکے۔

واضح رہے کہ چوہدری شوگر مل میں مریم صفدر کے بھی کروڑوں روپے مالیت کے شئیرز ہیں، شریف فیملی پر چوہدری شوگر ملز کے ذریعے بذریعہ ٹی ٹی بیرون ملک رقم منتقل کرنے کا الزام ہے۔

امریکی پابندیاں بھی ہواوے کو آگے بڑھنے سے روکنے میں ناکام

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کے باعث بلیک لسٹ میں شامل ہوکر مختلف پابندیوں کا سامنا کرنے والی چینی کمپنی ہواوے کے منافع میں کوئی کمی نہیں آسکی اور اپریل سے جون کی سہ ماہی کے دوران اس کی آمدنی میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 23 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ہواوے کو بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے باعث امریکی پابندیوں سے کاروبار پر پابندی کا سامنا ہے مگر 2019 کے پہلے 6 ماہ کے دوران اس کا منافع 8.7 فیصد اضافے کے ساتھ 58.3 ارب ڈالرز رہا۔

رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران ہواوے نے 11 کروڑ 80 لاکھ اسمارٹ فونز استعمال کیے، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ تھے، اگرچہ پہلی سہ ماہی کے دوران کمپنی نے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر مجموعی طور پر 6 ماہ کے دوران اس کی مجموعی فروخت کی شرح میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ہواوے کے چیئرمین لیانگ ہوا کی جانب سے بیان کے مطابق آمدنی میں مئی تک بہت تیزی سے اضافہ ہوا، جس سے ہمیں پہلی ششماہی کے لیے بہتر نشوونما کی بنیاد رکھنے میں مدد ملی، یہی وجہ ہے کہ بلیک لسٹ کیے جانے بعد بھی کمپنی کی آمدنی میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں، ایسا نہیں کہ ہمیں ااگے مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا، یقیناً ہوگا اور اس سے مختصر مدت کے لیے نشوونما کی رفتار پر اثر پڑسکتا ہے، مگر ہم درست سمت کی جانب گامزن ہیں۔

ہواوے نے پہلی بار اپریل سے جون تک کی سہ ماہی کے نتائج جاری کیے ہیں، ایسا پہلے کبھی نہیں کیا گیا، جس کی ممکنہ وجہ امریکی پابندیوں پر پریشان صارفین کے تحفظات کو دور کرنا ہوسکتی ہے۔

ہواوے کی مصنوعات کی سب سے زیادہ فروخت چین میں ہوئی، جہاں اپریل سے جون کے درمیان 3 کروڑ 73 لاکھ سے زائد اسمارٹ فونز فروخت ہوئے اور مجموعی طور پر مارکیٹ شیئر 38 فیصد تک پہنچ گیا، یہ اس وقت ہوا ہے جب چینی مارکیٹ میں 6 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

ہواوے کے مقابلے میں شیاﺅمی، اوپو، ویوو اور ایپل کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہواوے کو رواں سال مئی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بلیک لسٹ کیا تھا جس کے لیے کمپنی کے چینی حکومت سے مبینہ روابط کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

تاہم اب امریکی حکومت نے پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دیتے ہوئے امریکی کمپنیوں کو ہواوے سے کاروبار کے لیے لائسنس کے اجرا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس حوالے سے جولائی میں ایک انٹرویو کے دوران یاہو فنانس سے انٹرویو میں ہواوے کے بانی رین زینگ فائی نے امریکی حکومت کی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے کمپنی کے منصوبوں کے ساتھ دیگر چیزوں پر بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے جب بلیک لسٹ کیا گیا تو ہواوے اس کے لیے مکمل تیار نہیں تھی اور پابندی کے بعد پہلے 2 ہفتوں میں اسمارٹ فونز کی فروخت میں 40 فیصد کمی آئی، جس کی وجہ آپریٹنگ سسٹم کے حوالے سے خدشات تھے۔

تاہم ان کہنا تھا ‘اب کمپنی اپنی اہم پراڈکٹس کے لیے امریکی انحصار ختم کرنے کے قابل ہوچکی ہے’۔

ان کے بقول ہواوے کو بلیک لسٹ کرنا امریکا کی جانب سے کمپنی کو جدید ٹیکنالوجی سے دور رکھنے کی کوشش تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی امریکا کے لیے سیکیورٹی خطرہ نہیں ‘ہمارا امریکا میں کوئی نیٹ ور نہیں اور نہ ہی ہم اپنی 5 جی مصنوعات وہاں فروخت کرنے کی خواہ رکھتے ہیں، ٹرمپ کے پاس ہمارے خلاف کچھ نہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ہواوے پر پابندی سے امریکا کو زیادہ نقصان ہوگا خصوصاً فائیو جی کنکشنز کے حوالے سے ‘اگر ان کے پاس سپر کمپیوٹر اور سپر لارچ کیپیسٹی کنکشنز ہیں، تو بھی امریکا کو سپر فاسٹ کنکشنز نہ ہونے پر نقصان ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا ‘ہواوے کو بند کرنا امریکا کے پیچھے رہنے کا آغاز ہے’۔

الیکٹرانک میڈیا پر بے ہو دہ فل میں اوراشتہارات

میرے ایک دوست کاکہنا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر بھارت کی بے ہو دہ فل میں ، اشتہارات دکھاتے ہیں وہ تو ایک علیحدہ بات ہے مگر بد قسمتی سے آج کل ہماری پاکستانی الیکٹرانک میڈیا جو کچھ دکھاتے ہیں وہ تو بھارت اور غیر مذہب ریاست سے بھی زیادہ بد تر اور انتہائی شرم ناک ہے ۔ بے ہو دہ ڈرامے، فل میں ، بے شرم فیشن شو ہمارے پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کی ایک روٹین ہے مگر آج کل زیادہ تر پاکستانی چینلز سے خاندانی منصوبہ بندی کےلئے ساتھی کا جو اشتہار دکھاتے ہیں میرے خیال کوئی بھی بہن بھائی، باپ بیٹا اور کوئی بھی سنجیدہ ، ذی شعور اور مشرقی اور اسلامی سے تھوڑے سے مانوس والدین خاندانی منصوبہ بندی کے اس اشتہار کو نہیں دیکھ سکتے ۔ اگر ہم ٹی چینلز پر اُردو اور با لخصوص پشتو اور پنجابی فلموں کی بات کریں تو اس قسم کی فل میں دکھا کر عُریانیت اور فحا شی کو مزید پروان چڑھایا جا رہا ہے ۔ اگر الیکٹرانک میڈیا والوں نے پیسے کمانے تھے تو اس کے اور بھی بُہت سارے طریقے تھے مگر کم از کم اس قسم کے اشتہار اور فلموں کو تو الیکٹرانک میڈیا پر نہ دکھائیں ، تاکہ کرنٹ افیئروالے چینلز پر فیملی ممبر آپس میں بیٹھ کر کم از کم حالات حا ضرہ کے پرو گرام تو اکٹھے دیکھ سکیں ۔ خدارا الیکٹرانک میڈیا کو تو کچھ اللہ کا خوف کرنا چاہئے اور ایسے اشتہارات ڈرامے اور پرو گرام نہیں دکھا نا چاہئے جس سے عام لوگ اور با لخصوص جوان بے راہ روی کا شکار ہو ۔ گزشتہ دن میں پنڈی سے اسلام آباد جا رہا تھا ۔ میرے ساتھ 15یا 16 سال کا ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا ۔ بچے نے موبائل کو ہا تھ میں پکڑا ہوا تھا ۔ نیو کٹا ریاں سے ایچ نائن تک بچے نے مو بائل فون سے سر اوپر نہیں اُٹھایا اورسارے سفر میں موبائل کے ساتھ مسلسل مشغول و مصروف رہا ۔ فی زمانہ یہ مسئلہ صرف اس ایک بچے کے ساتھ نہیں بلکہ مسئلہ خواہ جوان ہے یا در میانہ عمر کا سب کے ساتھ ہے ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ٹین ایجرز نے موبائل، انٹر نیٹ اور کیبل کو اتنا سر پہ سوار کیا ، کہ اُنکو ان چیزوں کے علاوہ اور چیزوں کی فُر صت نہیں ۔ اگر ہم اپنی معا شرتی اور سماجی نظام اقدار کو دیکھیں تو مشرقی روایات اور اخلاقی اقدار کے مطابق عام طور پر دو الفاظ استعمال ہو تے ہیں تعلیم اور تربیت ۔ آج کل کے بچے کسی نہ کسی صورت رٹھا اور نقل کر کے ٹوٹی پوٹی تعلیم تو حا صل کر لیتے ہیں مگر بد قسمتی سے تربیت کا سلسلہ ایسا کے ویسا رہ جاتا ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل انسانیت اور بشر یت سے دور ہو تی جا رہی ہے ۔ بچے کے پاس انٹر نیٹ، کیبل، موبائل اور کر کٹ سے فُرصت ہو تو وہ اچھی اور مُثبت باتیں سُننے کےلئے تیار ہو گا ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ بچوں کے پاس اس لغویات کی وجہ سے دوسری اچھی باتیں سُننے کےلئے وقت نہیں اور بد قسمتی سے نہ تو والدین اور نہ اساتذہ کرام اور بزر گوں میں وہ صلا حیت رہی کہ وہ اپنے بچوں کی مناسب طریقے سے تربیت کر لیں ، نتیجتاً ہمارے نسل کے مشاہیر اور ہیرو ہمارے صحابہ کرام ، بُزرگان دین اوراولیائے کرام کے بجائے شا ہ رُخ خان سلمان خان ، رینا رائے، مائیکل جیکسن اور ایشوریا رائے ہیں ۔ مُجھے اچھی طر ح یادر ہے کہ ماضی میں اسا تذہ کرام تعلیمی اور تربیت کے لحا ظ سے اتنے مکمل ہوتے کہ وہ اپنے شا گر دوں کی نہ اچھے طریقے سے تعلیم پایہ تکمیل تک پہنچاتے بلکہ اُنکی تربیت بھی احسن طریقے سے کر تے، مگر بدقسمتی سے آج کل کے اساتذہ کرام تو اکیڈمک اور نہ تربیت کے لحا ظ سے اتنے کمپیٹنٹ ہے کہ وہ اپنے شا گر دوں کی منا سب طریقے سے تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری پو ری کر سکیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل فون، کیبل اور انٹر نیٹ اکیسویں صدی کی سب سے اچھی اور فائدہ مند ایجادات ہیں اور اس سے اچھے طریقے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہر قسم کی ا نفار میشن تک رسائی ہر بچے اور جوان کا حق نہیں ہو تا ۔ ہا ں عمر کی اُس حدپر جہاں اُسکی ضرورت محسوس ہو تو اسکو ضروراُس انفا رمیشن اور اطلا عات تک رسائی ہونی چایئے، مگر ;80;remature یعنی وقت سے پہلے کچھ انفار میشن اور اطلاعات انتہائی خطر ناک اور مہلک ثابت ہو سکتی ہیں ۔ مُجھے ڈر ہے اگر بچے اور جوان مو بائل ، انٹر نیٹ اور کیبل میں اس طر ح دلچسپی لیتے رہیں گے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب ہم صرف نام کے مسلمان رہیں گے ۔ نہ تو ہ میں اپنے مذہب کے بارے میں پتہ ہو گا اور نہ اپنے مشاہیر کے بارے میں ، جسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اخلاقی اور اسلامی قدریں جو ہ میں دوسری قوموں سے ممتاز کر تی ہیں ہم میں ختم ہو جائیں گی اور ہمارا معا شرہ بھی اہل مغرب کی طر ح شُتر بے مہار کی صورت اختیار کر لے گا ۔ جہاں پر گھروں میں والدین کی مو جو دگی میں بچوں کے ساتھ گرل اور بوائے فرینڈز آتے ہیں اور والدین اپنے جذبات اور احساسات کو دبا کر کھونگے کی طرح یہ ڈرامے دیکھتے رہتے ہیں ۔ امریکہ کے ایک سکالر کہتے ہیں کہ امریکہ کی نوجوان نسل کو تین چیزوں نے خراب کیا موبائل فون ، میڈیا اور سگریٹ ۔ روس کے ایک مشہور سکالر نیارن جس نے روس کی ٹوٹنے کی اور اب امریکہ کے ٹوٹنے کی پیشن گوئی دی تھی کہتے ہیں کہ امریکہ کے زوال کے دو بڑے اسباب ہونگے نمبر اول امریکہ میں اخلاقی قدروں کا جنازہ اُٹھنا اور دوئم امریکہ کی معاشی بد حالی ۔ بر طا نیہ کے ایک یہودی پر و فیسر ناتھن ابراہم اپنی کتاب jewish ;83;uperemism میں کہتے ہیں یہودی فحا شی اور عریانی کی صنعت کو مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر تے ہیں ۔ اور اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں بھی مغربی ممالک ٹیلی کام انڈسٹر ی اور میڈیا کے شعبوں میں سر مایہ کاری تو کرتے ہیں مگر اُن ُ شعبوں مثلاً زراعت، توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی طر ف نہیں آتے جس سے وطن عزیز میں حقیقی ترقی آسکے ۔ میں والدین سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کی مناسب طریقے سے نگرانی کریں اور حکومت سے بھی یہ استد عا کر تا ہوں کہ وہ وطن عزیز میڈیا چینلز ، انٹر نیٹ اور کیبل کی طر ف اتنی تو جہ نہ دیں بلکہ اُن شعبوں کی طر ف توجہ دیں جس سے واقعی حقیقی ترقی اور خو شحالی آسکتی ہو ۔ اگر دیکھا جائے تو موبائل فون کے مالی نُقصانات کے علاوہ طبی نُقطہ نظر سے بُہت زیادہ نُقصانات بھی ہیں ۔ کنگ سعو د یو نیو ر سٹی کے کالج آف فزیالوجی اور میڈیسن ریاض کے ایک تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ جو لوگ موبائل فون استعمال کر تے ہیں ان میں 22 فیصد کو سر درد6 فیصد کو گرنے اور ڈگمگانے کی ، 5فیصد لوگوں کو تھکا وٹ اور5 فیصد لوگوں کو ٹینشن اور ڈپریشن کی بیماری ہوگی ۔ یو نیور سٹی آف واشنگٹن کے پرو فیسر ہنری لائی اور این پی سنگھ نے دس سالہ تحقیق کی اور اسی تحقیق کی رو سے پتہ چلا کہ موبائل کی تابکا ری سے ڈی این اے انتہائی خراب ہوتی ہے جو لا علاج بھی ہے ۔ بلیک ویل کے ایک اور ریسر چ میں کہتے ہیں کہ جو لوگ 30منٹ تک موبائل فون استعمال کر تے ہیں تو بر قی مقناطیسی لہریں دماغی کا ر کر دگی میں انتہائی تبدیلی لاتی ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو مو جودہ دور میں حکمران وقت ، والدین اور اسا تذہ کرام پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں اور خا ص طو ر پر نئی نسل کو اس مہلک چیزوں سے بچائیں ۔ سورۃ التحریم میں ارشاد خداوندی ہے اے ایمان والو تم اپنے آپکو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاءو ۔ شرم اور حیا کسی بھی انسان کا زیور ہے اور جس قوم میں شرم حیا ختم ہو جاتی ہے وہ قوم تباہ اور برباد ہو جاتی ہے ۔ حضرت عثمان بن مظمون فرما تے کہ میں پہلے رسولﷺ کی شرم و حیا سے اسلام لایا تھا ۔ با قی موت بر حق ہے ہ میں فضول مشاغل کو چھوڑ کر انکی تیاری کرنی چاہئے ۔ حضور ﷺ سے کسی صحابی نے دریافت کیا کہ سب سے زیادہ عقل مند اور سب سے زیادہ مختاط کون ہے;238;فرمایا سب سے زیادہ مختاط وہ ہے جو موت کےلئے تیاری کرے کیونکہ اس کےلئے دنیا اور آخرت دونوں شراکت ہے ۔ بقول اقبال

کبھی اے نو جوان تدبر کیا تونے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں

کچل ڈالاتھا جس نے پاءوں میں تاج سر دارا

عرض کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشین کیا تھے

جہاں گیر و جہاں دارد جہانباں و جہاں آرا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے ز میں پر آسماں نے ہم کو مارا

مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں انکو یو رپ میں تو دل ہوتا ہے پارا

‘کیا سلمان اور اکشےکی فلمز کو بھی مردوں پر مبنی فلمیں کہا جاتا ہے؟’

بولی وڈ اداکارہ سوناکشی سنہا اپنے 9 سالہ کیریئر میں کبھی بھی کسی کردار کو نبھانے سے خوفزدہ نہیں ہوئی پھر چاہے وہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سوناکشی سنہا کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ‘میں ایک ایسی اداکارہ بننا چاہتی ہوں جسے فلم ساز کسی بھی قسم کی فلم میں کاسٹ کرسکیں اور یہی میں کرتی آرہی ہوں، اس ہی لئے مجھے اپنا کام دلچسپ لگتا ہے اور میں اس سے محبت کرتی ہوں’۔

سوناکشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت بولی وڈ میں ایک اداکارہ ہونا کسی بڑے مواقع سے کم نہیں کیوں کہ اداکاراؤں کے لیے کافی شاندار اسکرپٹ تحریر کیے جارہے ہیں۔

البتہ سوناکشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بولی وڈ میں جو افراد عورتوں سے نفرت کرتے ہیں اب ان کی سوچ تبدیل ہونی چاہیے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ‘مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اگر کسی فلم میں سب سے اہم کردار ایک عورت کا ہو تو پھر اسے خواتین پر مبنی فلم کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ کیا جب اکشے کمار اور سلمان خان کوئی فلم کرتے ہیں تو اسے بھی مردوں پر مبنی فلم قرار دیا جاتا ہے؟ فلم صرف فلم ہوتی ہے، ہمیں ان کو دوسرا نام دینا بند کردینا چاہیے؟ برابری بہت ضروری ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘مرد اداکاروں کو بھی ایسی فلموں میں معاون کردار نبھانے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے جن میں سب سے اہم کردار کسی اداکارہ کا ہو، ہندی سینما میں ایسی مثبت سوچ کی بےحد ضرورت ہے’۔

سوناکشی اس وقت اپنی فلم ‘خاندانی شفاخانے’ کی تشہیر میں مصروف ہیں، فلم 2 اگست کو سینما گھروں میں ریلیز ہورہی ہے۔

Google Analytics Alternative