Home » 2019 » September

Monthly Archives: September 2019

کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا جہاد ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا جہاد ہے، دنیا کشمیریوں کےساتھ کھڑی ہو نہ ہوہم ان کے ساتھ ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر استقبالی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نےکہا کہ کشمیریوں کا کیس یو این میں پیش کرنےکیلیےآپ کی دعاؤ ں کا شکریہ، خاص طور پر بشریٰ بیگم کا شکریہ ادا کرتا ہوں انہوں نے بہت دعائیں کیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں پر ظلم ہورہا ہے، کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا جہاد ہے، ہم کشمیریوں کے ساتھ اس لیے کھڑے ہیں کہ ہم سے اللہ راضی ہوجائے، جب تک آپ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں وہ جدوجہد جاری رکھیں گے، جدوجہد میں اچھے برے وقت آتے ہیں ہم نے مایوس نہیں ہونا، کشمیر کے لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، کشمیر کے عوام پاکستانی عوام کی طرف دیکھ رہے ہیں اب برے وقت میں آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ بھارت کی فاشسٹ اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والی مودی سرکار کو دنیا کے ہر فورم پر  بے نقاب کروں گا۔

بھارتی فوج کی ایل او سی پر فائرنگ سے معمر خاتون اور نوجوان شہید

راولپنڈی: بھارتی فوج کی ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ سے معمر خاتون اور ایک نوجوان شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارتی فوج نے ایل او سی نکیال اور رکھ چکری سیکٹرز پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس میں انہوں ںے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ سے 60 سالہ خاتون سلامت بی بی اور 13 سالہ ذیشان شہید ہوگئے جب کہ دو خواتین سمیت تین شہری زخمی ہوئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں میں مزید سختی کردی گئی وزیراعظم عمران خان کاکامیاب امریکی دورہ

وزیر اعظم عمران خان دورہَ امریکہ اور یواین او کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس تشریف لے آئے ہیں ۔ وطن واپسی پر ان کا شاندار اوروالہانہ استقبال کیا گیا ۔ وزیراعظم کا یہ سات روزہ دورہ نہایت ہی کامیاب رہا ہے ۔ انہوں نے اس دورے کے دوران جہاں بین الاقوامی رہنماؤں ،اداروں اور تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقتیں کیں وہیں انہوں نے یواین او کے74ویں سالانہ اجلاس سے تاریخی بھی خطاب کیا جس کی گونج برسوں سنائی دیتی رہے گی ۔ وزیراعظم کا یہ خطاب یواین او کی تاریخ کا شاید طویل ترین خطاب تھا ،جس میں انہوں بین الاقوامی برادری کو امت مسلمہ کے حوالے سے پائے جانے والی مخاصمت کا مدلل جواب دیا ۔ خصوصاً مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے دنیا کی منافقانہ پالیسی کو خوب جھنجوڑا ۔ اپنی پچاس منٹ کی تقریر میں میں انہوں نے نصف وقت مسئلہ کشمیر پر بات کی اور بھارتی مظالم اور بھارت حکومت انسانیت کش پالیسیوں کو خوب بے نقاب کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان کے خطاب کو مسلم دنیا میں خوب سراہا جا رہا ہے کہ پہلی بارمسئلہ کشمیر کوانہوں نے حقائق کے تناظر میں مدلل انداز میں اجاگر کیا ہے ۔ اسکے نتیجے میں کئی ممالک نے پاکستان کے موقف کی تائید کی ۔ چین ملائیشیا اور ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے ۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے منشور ، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور باہمی معاہدوں کی بنیاد پرپر امن طریقے سے حل کیا جائے، امید ہے خطے میں جلد امن لوٹ آئیگا ۔ قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں مہاتیر محمد نے جموں و کشمیر کو ایک علیحدہ ملک کہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود اس ملک پر حملہ کرکے قبضہ کیا گیا، ہوسکتا ہے اس اقدام کی کوئی وجوہات ہوں لیکن یہ تب بھی غلط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اقدام عالمی ادارے اور قانون کی حکمرانی کو دیگر طریقے سے نظرانداز کرنے کا باعث بنے گا ۔ مہاتیر محمد وہ چوتھے سربراہ تھے، جنہوں نے رواں اجلاس میں مسئلہ کشمیر کا معاملہ اٹھایا ۔ اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان اور چین کے وزیرخارجہ وانگ یی بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ۔ طیب اردوان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ کشمیر یوں کو اپنے ہمسایہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ محفوظ مستقبل بنانے کےلئے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو تصادم کے بجائے مذاکرات، انصاف اور برابری کے ذریعے حل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے باوجود خطہ زیر تسلط ہے اور 80 لاکھ افراد کشمیر میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ تاہم ان سب سے اہم خطاب وزیراعظم عمران خان کا تھا، جس میں انہوں نے بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، ;200;ر ایس ایس کے نظریے، بھارتی وزیراعظم کے اقدامات کو بے نقاب کیا ۔ اس پر بھارت سیخ پا بھی ہوا ہے ۔ عمران خان کے خطاب نے یورپی اور مغربی اقوام کے ایوان تو جھنجوڑے ہی ہیں اُس پار مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی کرفیوکی پابندیاں توڑتے ہوئے دیوانہ وار باہر نکل آئے اورحمایت پر پاکستان زندہ باد عمران خان زندہ باد کے نعرے لگائے ۔ بین اقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے جب اقوام متحدہ میں اپنی تقریر مکمل کی تو مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیکڑوں افراد اپنے گھروں سے باہر ;200;ئے اور ;200;زادی اور عمران خان کے حق میں نعرے لگائے ۔ یہ صورت حال بھارت کو برداشت نہ ہوئی اوربھارتی فورسز نے مقبوضہ جموں کشمیر میں شہریوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں میں مزید سختی کردی ۔ عینی شاہدین اور مقامی انتظامیہ کے عہدیداروں کے مطابق بھارتی فورسز نے عمران خان کی تقریر کے ایک روز بعد سری نگر کے متعدد علاقوں میں گاڑیوں پر اسپیکر لگا کر اعلان کیا کہ وہ شہریوں کی نقل و حرکت محدود کردی گئی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کو روکنے کے لیے اضافی فوج کو بھی طلب کرلیا گیا ۔ قابض فورسز نے سری نگر کے کاروباری مرکز جانے والے راستوں کو کھاردار تاروں سے بند کردیا ۔ دوسری جانب دو مختلف واقعات میں 6کشمیری شہید ہوگئے اور ایک بھارتی فوجی بھی مارا گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں یہ ردعمل مودی حکومت کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے کہ آخر کب تک تم پابہ زنجیر رکھوگے،ایک نہ ایک دن یہ زنجیریں ٹوٹ گریں گی ۔ اس وقت کیا ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے جہاں جنرل اسمبلی کے اپنے خطاب میں اس جانب توجہ دلائی وہیں ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات بگڑے تو نہ میرے اور نہ ہی امریکی صدر کے قابو میں آئیں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہے، 56 روز سے زائد ہوگئے، 80لاکھ افراد لاک ڈاوَن کا شکار ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں جو ہو رہا ہے وہ بد سے بدتر ہوتا جائے گا اور یہ انتہائی خطرناک ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کو درست طور پر سمجھ نہیں آرہی کہ کشمیر میں ہو کیا رہا ہے ۔ عمران خان نے یہ بات بھی سو فیصد درست کہی کہ جب سے نریندر مودی کی حکومت آئی کشمیریوں پر جبر مزید بڑھا دیا گیا ہے، کشمیری کئی سال سے حق خوداردیت کا مطالبہ کر رہے ہیں ، جب کرفیو ہٹے گا تو وادی کے حالات کھل کر دنیا کے سامنے آجائیں گے ۔ بھارتی فورسز اور کشمیریوں کے درمیان تصادم ہوگا، مجھے خطرہ ہے کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر کشمیریوں کا قتل عام ہوگا ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہندووَں کی اجاداری پر یقین رکھتے ہیں اور انتہا پسند افراد بھارت کو یرغمال بنا کر وہاں حکومت کر رہے ہیں ‘‘ ۔ بلاشبہ بھارت کی سب تدبیریں ناکام ہو رہی ہیں قیدو بند کی صوبتوں سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہو رہے ۔ چہ جائیکہ کرفیو اور پابندیوں کی وجہ سے پوری وادی میں اشیا خورونوش اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ لوگوں کو مریض اسپتال لے جانے میں بھی شدید مشکل پیش آرہی ہے، لیکن جب کبھی انہیں موقع ملتا ہے وہ بھارتی فورسز کے لیے درد سر بن جاتے ہیں ۔ مودی حکومت کے لئے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اپنی سپریم کورٹ کے ذریعے محفوظ راستہ لیتے ہوئے 370کو بحال کرے اور کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کےلئے بولنے کا حق دے ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر آرٹیکل 370 ،35 اے کیس کی سماعت کیلئے بنچ تشکیل دے دیا ہے،5 رکنی یہ بنچ یکم اکتوبر کوسماعت کرےگا ۔ یواین او کی قراردادیں ان کو یہ حق دے رہی ہیں ، کشمیریوں سے ان کا یہ بین الاقوامی حق چھیننا یواین کی قرار دادوں کے سراسر خلاف ورزی ہے ۔

افغانستان میں پر امن صدارتی الیکشن،پاکستان کی مبارکباد

28ستمبر کوجنگ زدہ افغانستان میں طالبان کے حملوں کے خطرات کے باوجود صدارتی انتخاب ہوئے ۔ جس میں موجودہ صدر اشرف غنی کا انکے موجودہ چیف ایگزیکٹو اور شریک اقتدار عبداللہ عبداللہ اور سابق وار لارڈ حکمت یار سے کانٹے دار مقابلہ ہوا ۔ پولنگ کا ;200;غاز مقررہ وقت پر ہوا جو دو گھنٹے کی توسیع کے بعد شام 7 بجے تک بلاتعطل جاری رہا ۔ اگرچہ مجموعی طور پر الیکشن پرامن رہے تاہم کابل، جلال ;200;باد اور قندھار سمیت دیگر علاقوں میں قائم پولنگ اسٹیشنوں پر بم دھماکوں کے نتیجے میں دو افرادجاں بحق اور 27 سے زائد زخمی ہوئے ۔ مجموعی طور پر5 ہزار 373 پولنگ سینٹرز بنائے گئے تھے72 ہزار سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے سیکیورٹی کے فراءض انجام دیے ۔ صدارتی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر صدر اشرف غنی نے عوام اور سیکیورٹی فورسز سے اظہار تشکر کیا ۔ اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے عمل میں حصہ لینے پر افغان عوام اور بحفاظت انتخابی عمل کے لیے افغان فورسز کے شکرگزار ہیں ، افغان عوام نے اپنی ذمہ داری ادا کردی اب الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہے ۔ جبکہ انہوں نے ایک بار پھر طالبان سے امن کا مطالبہ بھی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان سے جنگ ختم کرنے کی توقع کرتے ہیں ، وہ عوام کی امن کی خواہش کا احترام کریں ۔ پاکستان نے بھی افغانستان میں صدارتی انتخابات مکمل ہونے پر کابل کو مبارکباد پیش کی ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان عوام کامیاب انتخابی عمل کی تکمیل پر مبارکباد کے مستحق ہیں افغان عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ تمام مشکلات کے باوجود جمہوری دوام چاہتے ہیں انتخابات کے کامیاب انعقاد پر افغانستان کے لیے پاکستان کے تہنیتی پیغام میں کہا گیا ہے کہ امید ہے کہ نئی حکومت تعطل کا شکار امن عمل کو آگے بڑھائے گی ۔

کشمیر کو بیچا گیا، اس راز سے امریکہ اور انڈیا واقف ہیں، مولانا فضل الرحمان

ڈی آئی خان: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ کشمیر کو بیچا گیا اور اس راز سے امریکہ اور انڈیا واقف ہیں۔

ڈی آئی خان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ چمن میں دہشت گردی ریاستی اداروں کی ناکامی کا سبب ہے، ہمیں سیکولر اسٹیٹ بنانے کی سنگین سازش ہو رہی ہے، عمران خان کو بین القوامی ایجنڈے کے تحت مسلط کیا گیا، عمران خان کے غیر سنجیدہ اقدامات نے ملک کو مشکل دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کشمیر کو بیچا گیا اور اس راز سے امریکہ اور انڈیا واقف ہیں، ہم کشمیر کے مسئلے پر دنیا کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں،  اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد بھی ہمارے موقف کو عالمی سطح پر پزیرائی نہیں مل سکی، دنیا ہمیں زمہ دارریاست ماننے کو تیار نہیں ہے جب کہ کشمیر اور دہشت گردی پر ہمارا موقف کمزور ہے۔

زبردست ۔ ۔ ۔ ۔ آگے کیا ہوگا

بلاشبہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں زبردست اور شاندار تقریر کی ہے اور کشمیریوں کے سفیر ہونے کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔ عمران خان نے پوری دنیا کو کشمیریوں کے ساتھ بھارت کے ظلم و جبر سے آگاہ کیا ۔ مقبوضہ وادی سے بھارت کے نافذ کردہ کرفیو ہٹانے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا پر زور مطالبہ کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے جنگ سے احتراز کرنے کی پاکستانی پالیسی کو بھی دنیا کے سامنے رکھا ۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اگر پاکستان پرجنگ مسلط کی گئی تو پاکستان آخری دم تک لڑے گا ۔ انھوں نے دنیا کو خبردار بھی کیا کہ اگر جنگ شروع کی گئی تو شاید یہ روایتی جنگ نہ رہے ۔ جب دو ایٹمی ملک جنگ کی صورت میں آمنے سامنے ہونگے تو کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور کچھ ہونے سے نہ صرف یہ خطہ نہیں بلکہ پوری دنیا متاثر ہو سکتی ہے ۔ ان کی تقریر میں دو نکات نہایت اہم اور کشمیر کے بارے میں خطاب کے اس حصے کا نچوڑ ہے ۔ ان دو نکات میں پہلا نکتہ کشمیر کی تازہ صورت حال اور بھارت کے ناجائز قبضے،کرفیو اور کشمیر پر ڈھائے جانے والے ظلم و بربریت سے دنیا کو آگاہ کرنا تھا ۔ دوسرا نکتہ کرفیو ہٹنے کے بعد مقبوضہ وادی میں بننے والی صورتحال اور بھارت کی طرف ممکنہ جنگ اور اس کے اثرات سے متعلق تھا ۔ وزیراعظم عمران خان سے پہلے ایوب خان،ذولفقار علی بھٹو،ضیاء الحق،محترمہ بینظیر بھٹو، میاں نواز شریف اور پرویز مشرف نے اپنے اپنے دور اقتدار میں اقوام متحدہ میں تقاریر میں نہ صرف مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے بلکہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔ لیکن ان تمام ادوار میں مقبوضہ کشمیر میں شاید ایسے حالات نہیں تھے جیسے کہ اب ہیں ۔ لیکن اب جیسے حالات ہیں وزیراعظم عمران خان نے ان حالات کے مطابق کشمیریوں کی زبردست ترجمانی کی ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نریندر مودی اور عمران خان دونوں سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں ۔ دونوں میں سے ناراض کسی ایک کو بھی نہیں کیا بلکہ وہ تو مودی کے جلسے میں بھی گئے اور وہاں بھارتیوں سے خطاب بھی کیا اور مودی کی بہت تعریف بھی کی ۔ عمران خان سے ملاقات میں صدر ٹرمپ نے عمران خان کو عظیم لیڈر قرار دیا ۔ امریکی صدر کے اس رویہ اور پالیسی کو دیکھتے ہوئے ایک قصہ یاد آیا ۔ دو لوگوں کا آپس میں کسی مسئلے پر جھگڑا تھا ۔ طے یہ پایا کہ فلاں بندہ بہت معزز اور علاقے کا بڑا ہے اس کے پاس جا کر مسئلہ بتاتے ہیں وہ جو بھی فیصلہ کرے ۔ دونوں نے جا کر اپنا مسئلہ اور اپنا اپنا موقف بیان کیا ۔ الیکشن قریب تھے اور مذکورہ بڑے نے دونوں کے عزیز و اقارب سے ووٹ لینے تھے ۔ مسئلہ سننے کے بعد اس نے ایک سے کہا کہ آپ کا موقف درست ہے ۔ دوسرے سے کہا کہ بات آپ کی بھی غلط نہیں ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بالکل وہی پالیسی اپنائی اور ثالثی کی تیسری بار پیش کش بھی کی ۔ میں پہلے بھی اپنے کئی کالموں میں اس خدشہ کا اظہار کر چکا ہوں کہ امریکہ کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں اور جو بھی امریکی صدر ہو وہ اس پالیسی سے ہٹ کر محض انسایت یا ذاتی تعلق کی بناء پر کچھ نہیں کر سکتا ۔ کسی بھی ملک سے متعلق یا کسی بھی اقدام سے پہلے مختلف ادارے اس کو جانچتے ہیں اور اپنی اپنی رائے دیتے ہیں گو کہ امریکی صدر ہی فیصلہ کرتے ہیں لیکن اس فیصلے میں تمام اداروں اور مقتدر لوگوں کی آراء کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور دونوں کے مفادات بھارت سے ہیں انسانیت سے نہیں ۔ امریکہ نے اپنے دوست عراقی صدر صدام حسین کے ساتھ کیا کیا ۔ عراق میں قتل عام، شام، فلسطین، افغانستان، پہلے مجاہدین اور پھر دہشت گرد طالبان اور خود پاکستان کے ساتھ امریکی سلوک جیسی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ مطلب یہ کہ پاکستان کو نہ تو امریکہ کا اعتبار کرنا چاہیئے اور نہ ہی امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کو قبول کرنا چاہیئے ورنہ پھر نہ ہم آگے جانے کے قابل ہوں گے نہ پیچھے جانے کے ۔ جہاں تک مقبوضہ کشمیر کے حالات کا تعلق ہے ۔ علم الاعداد کے طالب علم کی حیثیت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کشمیریوں کا مسئلہ باتوں سے حل ہوگا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی تقاریر اور بیانات کا بھارت پر کوئی اثر ہوگا ۔ غیب کا علم تو خدا جانتا ہے لیکن علم الاعداد کی روشنی میں جو نظر آتا ہے وہ یہ ہے ۔ بھارت کرفیو ضرور ہٹائے گا اور اس کے بعد کشمیریوں کا ردعمل آئے گا ۔ اس دوران بھارت پلوامہ جیسا کوئی ڈرامہ کرے گا اور الزام پاکستان پر لگا کر جوابی کاروائی کا جواز بنائے گا ۔ یا کرفیو کے ہٹنے کے بعد کشمیریوں کے ردعمل کو پاکستان کی طرف سے دراندازی قرار دے گا ۔ اور یہ الزام لگائے گا کہ پاکستان نے مقبوضہ وادی میں دہشت گرد داخل کیئے ہیں یا پاکستانی فوجی دہشت گردوں کے روپ میں مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی مدد کے لیئے داخل ہو گئے ہیں اور پاکستان کے خلاف کارروائی کا اب بھارت کو حق حاصل ہے ۔ چونکہ پاک افواج بھی تیار ہیں اور پیچھے نوے لاکھ کشمیری ہیں اس لیئے بھارت کو یہ معلوم ہے کہ ایسی صورت میں وہ اپنی حکمت عملی تیار کر رہا ہے ۔ جنگ کی صورت میں اسرائیل اور بعض یورپی ممالک کھلے عام یا درپردہ بھارت کا ساتھ دینگے ۔ اور پھر کچھ دنوں کی جنگ کے بعد امریکہ مقبوضہ وادی میں مداخلت کرے گا ۔ جس کو وہ امن قائم کرنے کےلئے درست امریکی قدم بتائے گا ۔ نتیجے کے طور پر اس جنگ اور ایسے حالات پیدا کرنے کے دوران سب سے زیادہ جانی نقصان کشمیریوں کا ہوگا لیکن پاکستان اور بھارت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے ۔ اس لیئے پاکستان کو بڑی تیزی کے ساتھ حکمت عملی بنانی چاہیئے ۔ صرف وزیراعظم عمران خان کی امریکہ میں ملاقاتوں اور اقوام متحدہ میں ان کی تقریر کو ہی مسئلہ کشمیر کا حل سمجھ کر بیٹھنا نہیں چاہیئے ۔ ملک کے اندر یکجہتی کی فضاء قائم کرنے کےلئے افہام و تفہیم کی پالیسی بھی فوری بنا کر اس پر عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں ۔ بیرونی دنیا سے رابطہ اور دورے کر کے بھارت کی آئیندہ کی حکمت عملی سے آگاہ کرنا چاہیئے ۔ اور بھارت کو واضح اور دوٹوک پیغام بھی دینا چاہیئے ۔ امریکہ سے واپسی پر مودی کے ہونےوالے اقدامات سے حالات کے رخ کی سمت کا اندازہ ہو جائے گا ۔ اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر اور دنیا کے سربراہان اور اکابرین سے ملاقاتوں کا نتیجہ بھی معلوم ہو جائے گا ۔ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ کشمیر کے بارے میں آئیندہ کی صورتحال اب واضح ہونا شروع ہو جائے گی ۔ لیکن بھارت پر ان خطبات کا اکوئی اثر پڑتا نظر نہیں آتا ۔ اور یہ وقت بتائے گا ۔ اب پاکستان کو بہت زیادہ ہوشیار رہنے کا وقت ہے ۔ ادھر افغانستان میں قیام امن کی روشنی دور ہوتی نظر آرہی ہے ۔

سعودی عرب میں حرمین ٹرین اسٹیشن پر خوفناک آتشزدگی، 9 زخمی

جدہ: سعودی عرب میں حرمین ہائی اسپیڈ ریل اسٹیشن پر اچانک خوفناک آگ بھڑک اُٹھی جس کے نتیجے میں 9 افراد زخمی ہوگئے۔

سعودی میڈیا کے مطابق جدہ میں حرمین ہائی اسپیڈ ٹرین اسٹیشن پر اچانک آگ بھڑک اُٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ بلند شعلوں میں تبدیل ہوگئے جس کے باعث آسمان پر کالے بادل چھا گئے۔ خوش قسمتی سے حادثے کے وقت اسٹیشن پر لوگوں کی تعداد معمول سے کم تھی۔

ریسکیو ادارے، سول ڈیفنس اور طبی ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کاموں کا آغاز کیا اور 6 گھنٹے کی مسلسل مشقت کے بعد آگ پر قابو پالیا ہے جس کے لیے سعودی فوج کے ایک ہیلی کاپٹر کی بھی مدد لی گئی۔

ایمبولینس کے ذریعے 5 زخمیوں کو اسپتال لایا گیا ہے جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ 4 زخمیوں کو جائے وقوعہ پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے حکومت نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

واضح رہے کہ حرمین ریل اسٹیشن کو 6.7 بلین یورو کی خطیر رقم سے تعمیر کیا گیا تھا اور گزشتہ برس ہی اسٹیشن کا افتتاح کیا گیا تھا۔ اس اسٹیشن سے مکہ اور مدینہ جانے کے لیے 450 کلومیٹر طویل ٹریک بنایا گیا تھا۔

اسرائیلی پولیس کے پہرے میں سیکڑوں یہودی زبردستی بیت المقدس میں داخل

غزہ / مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی پولیس کے حفاظتی حصار کے ساتھ سیکڑوں یہودی زبردستی مسجد اقصیٰ میں داخل ہوگئے اور مسلمانوں کو عبادت کی ادائیگی سے روک کر اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق قابض اسرائیلی پولیس نے 200 سے زائد یہودیوں کو زبردستی بابِ رحمت سے  مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل کیا، جہاں یہودیوں نے عبرانی کیلنڈر کے سال کے آغاز کے اعتبار سے مذہبی تہوار روش ہاشنہ منایا اور مذہبی رسومات ادا کیں۔

اس موقع پر قابض اسرائیلی فوج نے مسجد کے صحن میں نماز کی ادائیگی کے لیے موجود مسلمانوں پر تشدد کیا اور جبری طور پر بے دخل کردیا۔ اس موقع پر انتہا پسند یہودی گروپ گلک کے ارکان بھی موجود تھے۔ فلسطینیوں نے اسرائیلی پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور سخت احتجاج کیا۔

قابض اسرائیلی پولیس کے متعصبانہ عمل اور یہودیوں کی دیدہ دلیری کو مدنظر رکھتے ہوئے بیت المقدس کی سپریم اسلامی اتھارٹی کے سربراہ شیخ عکرمہ صابری کی اپیل پر مسلمانوں کی بڑی تعداد ہمہ وقت مسجد اقصیٰ کے صحن میں موجود ہے تاکہ اسرائیلوں کو دوبارہ داخل ہونے سے روکا جاسکے

وزیراعظم تقریر،مسائل کا سمندر کوزے میں بند

27ستمبر2019ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جیسے ہی وزیراعظم عمران خان کی تقریر ختم ہوئی تو ایسا محسوس ہوا جیسے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کے سمندر کو کوزے میں بند کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے جس انداز میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش ریاستی مسائل کو دنیا کے سامنے رکھا بالکل ایسا لگ رہا تھا کہ بغیر کسی لگی لپٹی وزیراعظم نے دو ٹوک انداز میں دنیا بھر کے مسلمانوں کا موَقف دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تقریر پر وزیراعظم عمران خان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان نے دنیا با الخصوص اسلامی رہنماؤں کو بھی بتا دیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جیسے بڑے فورم پر اپنے مسائل کس طرح بیان کیے جاتے ہیں ،وزیراعظم عمران خان کے لب و لہجے میں کہیں خوف تھا نہ ہی کوئی مصلحت نظر آئی،باڈی لینگوءج بھی مثالی تھی ۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی تقریر آج تک کسی پاکستانی لیڈر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نہیں کی ویسے یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 70سے زائد ملاقاتیں بھی آج تک کسی وزیراعظم نے نہیں کی ۔ آج تک پاکستانی موَقف کو اس موَثر انداز میں بھی کسی جمہوری لیڈر نے نہیں اٹھایا اور اگر مزید سچ بولا جائے کہ تو آج سے پہلے پاکستان کے کسی حکمران کے دورہ امریکہ کو اس طرح کورنہیں کیا گیا جس طرح وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کو دنیا کے میڈیا نے کور کیا ۔ اللہ پاک جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ۔ میں 27ستمبر2019سے قبل بھی پاکستان کے حکمرانوں کی تقاریر کو یونائیٹڈ نیشن کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سن اور دیکھ چکا ہوں مگر بغیر لکھے تقریر کرنے کی اہمیت کو صرف عمران خان کے سمجھنے پر انکو خراج تحسین پیش نہ کرنا زیادتی ہو گی ۔ جب بھی آپ کوئی تحریر شدہ تقریر کرتے ہیں تو اس کیلئے جتنا وقت لگتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ اپنا بیانیہ زبانی بیان کیا جا سکتا ہے اور یہی وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے سب سے بڑے فورم پر کیا اور کم وقت میں بہت کچھ کہ گئے ۔ مجھے وزیراعظم عمران خان کے سیاسی مخالفین پر حیرت ہو رہی ہے جو آج بھی وزیراعظم پر تنقید کرتے نہیں تھکتے اور یہ کہ رہے ہیں کہ صرف تقریر سے کیا ہو تا ہے،ایسے پاگل لوگوں کو کوئی علاج نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے بیانیے کو سامنے رکھ کر ان سے مخاطب ہونا بھی ایک ظلم ہے یہ لوگ اس رویے کے بھی مستحق نہیں کہ ان کو کوئی بھی جواب دیا جائے کیونکہ ان کا کام صرف اور صرف تنقید کرنا ہے اور یہ تنقید کرتے چلے جائیں گے،ہ میں انکی تنقید کو مدنظر رکھ کر نہیں بلکہ اپنے دل و دماغ کے مطابق سوچنا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ امریکہ میں کردار کیسارہا اور دل یہی کہتا ہے کہ وزیراعظم کا کردار مثالی رہا اور دماغ کہتا ہے کہ اس فورم پر اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔ وزیراعظم کے ناقدین کو کشمیر پر کم بولنے پر اعتراض ہے تو جناب مقبوضہ کشمیر میں توکرفیو کے باوجود وزیراعظم کی تقریر پر کشمیریوں نے جشن منایا اور خوشی کے مارے سڑکوں پر نکل آئے ۔ کشمیری عوام نے پٹاخے بھی چلائے اور خوشی سے رقص بھی کیا، اس موقع پر لوگوں نے پاکستان اور آزادی کے حق میں جبکہ بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے بھی لگائے ۔ کیا مقبوضہ وادی کے لوگوں سے زیادہ کشمیر سے متعلق وزیراعظم کی تقریر کو کوئی بہتر سمجھتا ہے;238;سچ چھپائے نہیں چھپتا،اور سچ یہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا اور مسلسل محاصرے اور ذراءع مواصلات کی بندش کے باعث کشمیر یوں کو درپیش مصائب و مشکلات کو بھر پور اور موَثر انداز میں اجاگر کیا ۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم سے متعلق کہا کہ مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں جو ہٹلر اور مسولینی کی پیروکار تنظیم ہے، آر ایس ایس کے نفرت انگیز نظریے کی وجہ سے گاندھی کا قتل ہوا، آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کررہی ہے ۔ کیا اس سے بہتر بھی کہا جا سکتا تھا ;238;نہیں بالکل نہیں کیونکہ ہ میں وقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے ۔ وزیراعظم عمران خان نے دبنگ انداز میں ایک ایٹمی طاقت کا حامل ملک کا وزیراعظم جیسے بیان کرتا ہے بالکل ویسے ہی یا اس سے بھی بہتر انداز میں دنیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ جب ایٹمی طاقت کا حامل ملک آخری حد تک جنگ لڑتا ہے تواس کے اثرات صرف اس کی سرحد تک محدود نہیں رہتے، دنیا بھر میں ہوتے ہیں ، میں پھر کہتا ہوں کہ یہی وجہ ہے کہ میں آج یہاں کھڑا ہوں ، میں دنیا کو خبردار کررہا ہوں ، یہ دھمکی نہیں ، لمحہ فکریہ ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اقوام متحدہ کیلئے ٹیسٹ کیس ہے، اقوام متحدہ ہی تھا جس نے کشمیریوں کو حق خودارادیت کی ضمانت دی تھی ۔ عمران خان نے کہا کہ یہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کیخلاف ایکشن لینے کا وقت ہے اور سب سے پہلا کام مقبوضہ کشمیر میں یہ ہونا چاہیے کہ بھارت وہاں 55 روز سے جاری غیر انسانی کرفیو کو فوری طور پر ختم کرے ۔ ان اقدامات کے بعد عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوائے ۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے انتہاپسندی کا اسلام سے جوڑنے پربھی دنیا کو مدلل اور موَثر جواب دیا ۔ دنیا کے اسلامی ممالک کے ضمیر کو بھی جھنجوڑنے کی کوشش کی ۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ اتنا مفید تھا کہ اس پرجتنا بھی لکھا جائے کم ہے ۔ میں آخر میں اتنا کہ کر بات کو سمیٹوں گا کہ ویلڈن وزیراعظم عمران خان ویلڈن

Google Analytics Alternative