- الإعلانات -

پاک بھارت ایٹمی جنگ کا خدشہ

امریکی قیادت پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے اب بھی تیار ہے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ دونوں فریق آمادہ ہوں محض ایک فریق کی خواہش پر ثالثی کا کردار نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا ۔ امریکا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے ۔ اگر بھارت اپنے اقدامات سے باز نہ آیا تو پاک بھارت ایٹمی جنگ ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے ۔

امریکن تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے ۔ جوہری صلاحیت کے حامل پڑوسی ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت کشیدگی عروج پر ہے جس کا آغاز نئی دہلی کی جانب سے غیرقانونی طور پر کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کو آئینی طور پر ختم کرنے سے ہوا ۔ جوہری جنگ کے امکانات میں اس وقت اضافہ ہوا جب بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کھلے الفاظ میں خطے میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی ۔ راج ناتھ نے ہتھیار استعمال کرنے کے آپشن میں کسی ملک کا نام تو نہیں لیا تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی دھمکی واضح طور پر پاکستان کے لیے تھی ۔

اگر پاکستان اور بھارت نے نیوکلیئر ہتھیاروں کا استعمال کیا تو امریکا اور جاپان کی 1945ء میں ہونے والی جنگ کے دوران جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی کے بعد یہ جوہری جنگ کا پہلا واقعہ ہوگا ۔ تھنک ٹینک نے اس بات کو مسترد کردیا کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے بالکل واضح طور پر کہا کہ پاک بھارت اختلافات ایٹمی جنگ سے حل کرنا خودکشی ہوگی ۔ امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں ۔ بھارت کشمیر میں جو کچھ کررہا ہے وہ وحشیانہ عمل ہے ۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی مقامی ہے ۔ بھارت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹا آپریشن کر سکتا ہے ۔ بھارتی میڈیا دعوے کررہا ہے کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ وادی اور بھارتی جنوبی علاقوں میں بھی داخل ہوئے ہیں تاہم یہ دعوے مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کے ایجنڈے سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں ۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے توجہ ہٹانے کیلئے دہشتگردی کے جھوٹے الزامات متوقع ہیں ۔ ہم متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ دو ایٹمی قوتوں کو جنگ سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ مشترکہ خودکشی کے مترادف ہو گا ۔

وفاقی وزیر یلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ اکتوبر نومبر میں پاکستان بھارت جنگ دیکھ رہا ہوں ۔ اب جنگ ہوئی تو آخری ہوگی ۔ کشمیر کی آخری جدوجہد کا وقت آگیا ۔ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے تو وقت ہ میں معاف نہیں کرے گا ۔ فوج نے جو 23 سال سے تیاری کی اب اس کے استعمال کا وقت آگیا ہے ۔ فاشسٹ مودی کی راہ میں صرف پاکستان رکاوٹ ہے ۔ چاہ بہار جانے کے لئے مودی گوادر کو رکاوٹ سمجھتا ہے ۔ قائداعظم نے مسلم دشمن سوچ کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا ۔ خونخوار مودی کی وجہ سے کشمیر سے بارود کی بو آرہی ہے ۔ پاک بھارت میں دس جنگیں ہوچکیں یا ہوتے رہ گئیں اب یہ آخری جنگ ہوگی ۔

بھارت نے جب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا آرٹیکل 370 منسوخ کیا ہے اس پر عالمی دباوَ بڑھتا جا رہا ہے ۔ خود بھارت کے اندر سے بھی کشمیریوں کی آزادی اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے بارے میں آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ سلامتی کونسل اوردوسرے عالمی فورمز پر شکست کے بعد مودی حکومت کا لب ولہجہ انتہائی جارحانہ ہو گیا ہے ۔ بھارتی حکومت اپنی دہشت قائم رکھنے اور اپنی حیثیت منوانے کےلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے چاہے وہ جوہری جنگ ہی کیوں نہ ہو ۔

وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ہندو برتری کی خواہشمند انتہا پسند مودی حکومت کے ہاتھوں میں موجود بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں سوچنا چاہئے کیونکہ وہ فسطائی اور نسل پرست ہندو برتری کی خواہشمند مودی حکومت کے کنٹرول میں ہیں ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو نا صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر اثرانداز ہو سکتا ہے ۔ جس طرح جرمنی پر نازیوں نے قبضہ کیا تھا بالکل اسی طرح بھارت پر ہندو برتری کی خواہشمند انتہا پسند اور نسل پرست نظریات کی قائل مودی حکومت قابض ہے ۔ مودی حکومت نے 90 لاکھ کشمیریوں کو گزشتہ دو ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر میں قید کر رکھا ہے جس نے پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور اقوام متحدہ کے مبصرین حالات کا جائزہ لینے کے لیے مقبوضہ وادی میں بھیجے جا رہے ہیں ۔