Home » 2019 » September » 01

Daily Archives: September 1, 2019

بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اپیل پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے پوری قوم سڑکوں پرنکل آئی اور بھرپور بے مثال یکجہتی کا اظہار کیا، وزیراعظم نے اس موقع پر مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے، کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہوتی، یہ آخری پتہ کھیل گیا ہے اب کشمیر آزاد ہوگا، ہم جنگ کیلئے تیار ہیں ، فوج بھی تیار ہے، جنرل اسمبلی میں سب کو بتاءوں گا کہ دو ایٹمی قوتیں آمنے سامنے ہیں ، نقصان ہوا تو پوری دنیا کا ہوگا ۔ ہر فورم پر کشمیریوں کے حقوق کی جنگ لڑوں گا، بھارت نے آزاد کشمیر میں کوئی حرکت کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا،عالمی برادری تجارتی مفادات سے ماورا ہوکر سوچے، جب بھی مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو اقوام متحدہ جیسے ادارے خاموش ہو جاتے ہیں نہ ہی بین الاقوامی برادری اس حوالے سے کوئی قدم اٹھاتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے کی مہم شروع کریں گے، دنیا کی خاموشی پر افسوس ہے،80لاکھ کشمیری چار ہفتے سے کرفیو میں بند ہیں ، جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں ملتی پاکستان کی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے، ہ میں سمجھنا ہے کہ آج ہندوستان میں کس طرح کی حکومت ہے جو انسانوں پر ایسا ظلم کررہی ہے، ان کے سمجھنے کیلئے آر ایس ایس کی فلاسفی کا نظریہ سمجھنا پڑے گا، آر ایس ایس میں مسلمانوں کیخلاف نفرت پائی جاتی ہے وہ سمجھتی ہے کہ ہندو سب سے زیادہ اعلیٰ ہے ، جس طرح نازی پارٹی نے جرمنی پر قبضہ کیا اسی طرح آر ایس ایس کا نظریہ ہندوستان پر قبضہ کربیٹھا ہے ۔ دنیا دیکھ رہی ہے کشمیر میں کیا ہورہا ہے ۔ عمران خان نے وعدہ کیا جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہر فورم پر ان کی آزادی کی جنگ لڑوں گا ۔ نیز انہوں نے نیو یارک ٹائمز میں ایک کالم بھی لکھا جس میں بتایا کہ کشمیریوں پر کس طرح سے ظلم ہورہا ہے، آر ایس ایس کا نظریہ مسیحی برادری کیلئے بھی برا ہے، ان پر بھی ظلم و ستم کیا جارہا ہے، اعتدال پسندوں کیلئے ہندوستان عذاب بن چکا ہے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت نے نہرو کی فلاسفی پر عمل نہیں کیا، آر ایس ایس والوں نے گاندھی کو قتل کیا تھا یہ لوگ صرف ہندو راج کو مانتے ہیں ۔ ہم نے عالمی رہنماءوں کو بتایا کہ آج دنیا مود کی فاشسٹ اور نسل پرست حکومت کے سامنے کشمیریوں کیلئے کھڑی نہیں ہوگی اور اس کا اثر ساری دنیا پر جائے گا اور یہ بات یہاں نہیں رکے گی ۔ ہ میں یہ بھی علم ہے کہ بھارت کی کوششیں ہیں کہ دنیا سے کشمیر کی نظر ہٹائی جائے ۔ اس وجہ سے دنیا کو بتارہے ہیں کہ وہ کشمیر کیلئے کچھ نہ کچھ کریں ۔ مودی کو صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ اینٹ کا جواب پتھرسے دیں گے ، ہماری فوج تیار ہے مودی جو تکبر میں کر بیٹھا ہے یہ آخری پتہ کھیل گیا ہے اس کے بعد کشمیر آزاد ہوگا ۔ عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں قتل عام کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اگر دنیا میں کشمیر اور کشمیری عوام پر بھارتی یلغار روکنے کیلئے کچھ نہ کیا تو دو جوہری ریاستوں کے درمیان ممکنہ براہ راست فوجی محاذ آرائی سے پوری دنیا کا امن و امان تہہ و بالا ہو جائے گا ۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے ناجائز الحاق کا فیصلہ واپس لینے کرفیو کے خاتمے اور اپنی افواج کو بیرکوں میں واپس بھیجنے کے بعد ہی مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کی یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ ان اقدامات کی موجودگی میں بھارت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوسکتا ۔ وہ آئے دن کشمیریوں پر ظلم و ستم بڑھاتا جارہا ہے، ماءوں بہنوں کی عزتیں مزید غیر محفوظ ہوگئی ہیں ، ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ ان کا نہیں معلوم کہ وہ اس وقت کہاں پر ہیں ،عمران خان نے اپنے کالم میں مزید لکھا کہ بھارتی وزیر دفاع نے ڈھکے چھپے الفاظ میں پاکستان کو ایٹمی حملے کی دھمکی دے دی ہے ۔ کیونکہ مودی کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں جیسا کہ بتایا جاچکا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہے اسی وجہ سے اس نے آسام میں لاکھوں مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے محروم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے ۔ آسام سے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کیلئے سیکورٹی سخت اور 60ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹیوں پر تعینات کردئیے گئے ہیں اس کے علاوہ 19ہزار فوجی اہلکار بھی آسام پہنچا دئیے گئے ہیں ۔ مودی سرکار اسی مشق کو مغربی بنگال کی سرحدی ریاستوں میں بھی دہرائے گی ۔ ادھر دوسری جانب بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے نکسل علیحدگی پسندوں نے کشمیریوں کی حمایت کا اعلان کردیا ہے ۔ عالمی میڈیا نے بھی مودی کی تمام تر چالاکیوں کا پردہ چاک کردیا ۔ بی بی سی، واشنگٹن ٹائم، وائس آف امریکہ، نیو یارک ٹائمز اور سی این این سمیت کئی دیگر عالمی خبر رساں ادارے وادی میں بھارتی ظلم و ستم کیخلاف واویلا مچا رہے ہیں اور مودی جو بھی الاپ رہا ہے اسے جھوٹا قرار دیا جارہا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا نے واضح کیا کہ بھارتی فورسز گھروں میں گھس کر کشمیریوں کو گرفتار کررہی ہے انہیں تشدد کا بدترین نشانہ بنایا جاتا ہے ، بجلی کے جھٹکے دئیے جاتے ہیں ، الٹا لٹکا دیا جاتا ہے اور کشمیریوں کوزندہ بھی جلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ کیونکہ مودی فاشسٹ ہٹلر نظریے کا حامی ہے جس طرح اس نے لاکھوں یہودیوں کو زندہ گیس کے چیمبر میں جلا دیا تھا اور پھر ہولوکاسٹ رونما ہوا اسی طرح مودی بھی مقبوضہ وادی کے کشمیریوں کو زندہ جلانے کے درپے ہے ۔ یہی کام وہ آسام اور بنگلہ دیش کی مغربی سرحدوں پر بھی کرے گا ۔ نامعلوم دنیا کس لمحے کا انتظار کررہی ہے ۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تازہ اشاعت میں ایک معصوم کشمیری بچے کی کہانی شاءع کی جس میں معصوم بچے کو قابض بھارتی فورسز نے حراست میں لے لیا اور اس پر ظلم و ستم کرنے کی دل دہلا دینے والی تصاویر بھی اپنے اخبار میں شاءع کی ۔ اسی طرح ماں سے چھینے جانے والے13سالہ نوجوان کی دلخراش کہانی بھی شاءع کی ۔ دنیا کیلئے اب ایسی کونسی ایسی گنجائش رہ گئی ہے کہ وہ آواز نہیں اٹھارہی ۔ وقت تقاضا کررہا ہے کہ مودی کو لگام ڈالی جائے ۔ ادھر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ قوم نے کشمیر آور کے دوران اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ جس یکجہتی کا اظہار کیا وہ دنیا کیلئے ایک نہایت مضبوط پیغام ہے ۔ انہوں نے گوجرانوالہ کور ہیڈ کوارٹرز کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا ۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف کو کور کی آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی ۔ چیف آف آرمی سٹاف کا بیان بالکل درست ہے جس میں انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر بگڑتی ہوئی صورتحال خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے ۔ دنیا کو حالات سمجھ کر فی الفور ایکشن لینا چاہیے ۔

ماڈل کورٹس نے عدالتی نظام میں جان ڈال دی

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ماڈل کورٹس نے آئین کے آرٹیکل 37;68; کے مطابق تیز تر اور سستے انصاف کے تصور کو عملی جامہ پہنایا ہے ۔ سستے انصاف کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہے ۔ سائلین اب جلد انصاف حاصل کررہے ہیں ، ملک بھر میں 167 ماڈل کورٹس نے صرف پانچ ماہ میں 12584 قتل اور نارکوٹکس کے مقدمات نمٹائے جوکہ قابل تحسین ہیں ۔ چیف جسٹس نے ججز میں ایوارڈز تقسیم کیے جس میں اسلام آباد کے سیشن جج سہیل ناصر نے پاکستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی ۔

نئے سسٹم سے ہماری کرکٹ میں بہتری ضرور آئے گی، چیئرمین پی سی بی

لاہور: چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا ہے کہ ہمارے سسٹم میں بہتری آنے میں وقت لگےگا لیکن پرامید ہوں نئے سسٹم سے ہماری کرکٹ میں بہتری ضرور آئے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پروفیشنل ازم کا معیار دوسرے ملکوں سے بہت کم ہے، ہم ایک دن بہت اچھا پرفارم کرتے ہیں پھر دوسرے ہی دن بہت ہی برا کھیل جاتے ہیں، ہمیں ایسے پروفیشنل کرکٹرز چاہیے جو کسی بھی کنڈیشنز میں بہترین کھیل پیش کرسکیں، آسٹریلوی کرکٹرز ہر طرح کی کنڈیشنر میں بہترین کھیل اس لئے پیش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کیونکہ ان کا سسٹم  بہت اچھا ہے۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ کتنے دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد  ہمیں ان کا متبادل کوئی اچھا پلیئر نہیں مل رہا۔ احسان مانی نے کہا کہ ہمیں کوانٹیٹی نہیں بلکہ کوالٹی کرکٹ چاہیے، ہمارے سسٹم میں بہتری آنے میں وقت لگے گا لیکن  پر امید ہوں کہ نئے سسٹم سے ہماری کرکٹ میں بہتری ضرور آئے گی

او آئی سی کا کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی، کرفیو اُٹھانے اور مواصلاتی نظام کی بحالی کا مطالبہ

جدہ: اسلامی تعاون کی تنظیم نے بھارت سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کرنے اور کرفیو ختم کر کے مواصلاتی نظام کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

دنیا بھر کے 57 مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی عالمی تنظیم ’او آئی سی‘ نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی سطح پر تسلیم شدہ دو طرفہ مسئلہ ہے جس پر بھارت یک طرفہ طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔

او آئی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے یک طرفہ طور پر آرٹیکل 370 اور 35-اے کو منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا فیصلہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھارت سے 25 روز سے جاری مسلسل کرفیو کو ختم کرکے مواصلاتی نظام کو بحال کرنے مطالبہ کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ او آئی سی اقوام متحدہ کی قراردوں کے تحت کشمیر کی خصوصی حیثیت تسلیم کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہی مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل نکالا جانا چاہیئے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی آئینی حثیت میں تبدیلی بھارت کا یکطرفہ اقدام ہے۔

اسلامی تعاون کی تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بحالی اور کشمیریوں کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر تحفظات ہیں مسئلہ کشمیر کا حل طاقت میں نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں ہے۔

’آصف زرداری کے لوگ ڈیل کیلئے تیار، نواز شریف کے لوگ بھی غور کریں‘

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے لوگ ڈیل کے لیے تیار ہیں، مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے لوگ بھی اس پر غور کریں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مرکز میں مسلم لیگ (ن) ٹو بننے جارہی ہے تاہم یہ نہیں معلوم کہ اس کی قیادت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کریں گے یا سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی وزیراعظم عمران خان کو پیسہ لینے کی تجویز پیش کی تھی۔

شیخ رشید نے انکشاف کیا کہ سابق صدر اور نیب کے ہاتھوں گرفتار پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے لوگ حکومت کے ساتھ ڈیل کرنے اور کچھ دینے دلانے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو مشورہ دیا کہ لیگی رہنما بھی اس حوالے سے سوچ بچار کریں۔

’جلد ریلوے اسٹیشنز پر تزئین و آرائش کا افتتاح کروں گا‘

وزیر ریلوے نے بتایا کہ وہ آئندہ ماہ 6 ستمبر کو بہاولپور ریلوے اسٹیشن جبکہ 7 ستمبر کو راجن پور ریلوے اسٹیشن اور ڈی جی خان ریلوے اسٹیشن پر تزئین و آرائش کے کاموں کا افتتاح کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ محرم الحرام کے مہینے کے بعد 5 سے 8 ٹرینیں چلائی جائیں گی جبکہ وعدہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان ایم ایل ون بنا کر رہیں گے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سندھ میں بارشوں کی وجہ سے ریلوے کا نظام شدید متاثر ہوا ہے تاہم کوشش کی گئی کہ مال بردار ٹرینوں کے اوقار کار میں تبدیلی کی جائے اور مسافر ٹرینوں کو تاخیر سے بچایا جائے۔

مقبوضہ کشمیر سے یکجہتی کے لیے ریلوے کے کردار پر بتایا کہ ٹرینوں پر کشمیر کی جدوجہد کے سلوگن لگائے جائیں گے۔

شیخ رشید نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم کرتار پور ریلوے اسٹیشن کا بھی جلد افتتاح کریں گے۔

’ہمارے پاس چورن کی چھوٹی، بڑی گولی موجود ہے، بس آپ آئیں‘

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارتی وزیراعظم مودی نے بہت بڑی حماقت کی ہے۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ اب مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دوبارہ 1947 کی طرح ہوچکی ہے، اب پاکستانی قوم اور فوج کچھ بھی کرے اسے حق حاصل ہے۔

انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ اگر آپ نے آزاد کشمیر یا لاہور کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو انہیں ختم کردیا جائے گا۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اسمارٹ بم موجود ہیں جو صرف ان فوجیوں کو اڑانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس ہر طرح کا مصالحہ ہے، چورن کی چھوٹی گولی بھی موجود ہے اور بڑی بھی، بس آپ آئیں ہم تیار ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ (حملہ کرنے) نہ آئیں تو ایک اور راستہ ہے جو بات چیت کا ہے جس کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل کریں تو یہ دونوں قوموں کے لیے بہتر ہے۔‘

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا میں انہیں ایک جنگجو کی طرح پیش کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے میرے کرنٹ لگنے والی افواہ کو کروڑوں لوگوں میں شیئر کیا گیا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ جس دن میں مروں گا تو اس دن مودی کیمرا مین سے کفن ہٹا کر بھی پوچھے گا کہ یہ زندہ ہے یا مر گیا۔

شیخ رشید نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے بہت محنت کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ بھی کام کیا ہے، لیکن جو بات ایک حکمران کو کہنی چاہیے وہ عمران خان کہہ رہے ہیں۔‘

وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ بھارت میں 22 پاکستان بنیں گے۔

انسدادِ دہشت گردی آپریشنز نے پاک فوج کو مزید سخت جان بنا دیا ہے، آرمی چیف

لاہور: سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی آپریشنز نے  پاکستان آرمی کو مزید سخت جان فوج بنا دیا ہے۔

پاک فوج کے شبعہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جا وید باجو ہ نے لاہور کور اور پاکستان رینجرز پنجاب کا دورہ کیا، آرمی چیف کو سرحدی صورتحال اور  پیشہ وارانہ تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز نے پاک فوج کو جنگ کے لیے مزید سخت اور طاقتور فوج بنادیا ہے، پاک فوج  ہرمحاذ پر ثابت قدم اور ہرطرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

سربراہ پاک فوج کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے افسران اور فوجی جوانوں پر فخر ہے، افسر اور جوان دہشت گردی کے خلاف قوم کی توقعات پرپورا اترے ہیں۔

 

‘فہد مصطفیٰ سے شادی اور ہمایوں سعید کو بوائے فرینڈ بناؤں گی’

پاکستانی اداکارہ مہوش حیات ویسے تو اپنے کیریئر میں ایک کے بعد ایک بڑے پروجیکٹ کا حصہ بن کر کامیابی کی جانب گامزن ہیں۔

تاہم آج کل وہ اپنے انٹرویوز اور بیانات کی وجہ سے خبروں میں جگہ بنا رہی ہیں۔

مہوش حیات حال ہی میں اداکار علی سلیم کی ویب سیریز ‘بیگم از بیک’ کا حصہ بنیں۔

یاد رہے کہ اس سیریز میں علی سلیم اپنے کامیاب کردار ‘بیگم نوازش علی’ کے روپ میں نامور ستاروں کا انٹرویو کرتے ہیں۔

اس دوران علی سلیم نے مہوش حیات سے سوال کیا کہ وہ انڈسٹری کے کچھ بہترین اداکاروں کے ساتھ کام کرچکی ہیں لیکن اگر انہیں ہمایوں سعید اور فہد مصطفیٰ کے درمیان شوہر اور بوائے فرینڈ کا انتخاب کرنے کا موقع ملے تو وہ کسے کیا بنائیں گی؟

اس پر اداکارہ نے پہلے تو ہچکچاتے ہوئے کہا کہ انہیں دونوں ہی اداکار پسند ہیں اور ان کے بےحد اچھے دوست بھی ہیں۔

لیکن پھر مہوش حیات نے کہا کہ وہ فہد مصطفیٰ سے شادی کرنا چاہیں گی جبکہ ہمایوں سعید بوائے فرینڈ کے روپ میں ٹھیک رہیں گے۔

شو کے دوران بیگم نوازش علی نے یہ بھی کہا کہ وہ مہوش حیات کی شادی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کرانے کے خواہش مند ہیں جس پر مہوش حیات ہنس پڑیں۔

خیال رہے کہ مہوش حیات ہمایوں سعید کے ساتھ دو کامیاب فلموں ‘جوانی پھر نہیں آنی’ اور پنجاب نہیں جاؤں گی’ میں کام کرچکی ہیں۔

فلم ‘جوانی پھر نہیں آنی’ 2015 میں ریلیز ہوئی تھی جس میں مہوش حیات ہمایوں سعید کی ہیروئن بنیں تھی۔

ان دونوں کی فلم ‘پنجاب نہیں جاؤں گی’ 2017 میں ریلیز ہوئی تھی اور یہ فلم بھی باکس آفس پر خوب ہٹ ہوئی۔

مہوش حیات اور ہمایوں سعید ایک دوسرے کے اچھے دوست بھی ہیں اور مستقبل میں مزید پروجیکٹس پر ساتھ کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔

یہ دونوں اے آر وائے کے ڈرامے ‘دل لگی’ میں بھی ایک ساتھ کام کرچکے ہیں۔

دوسری جانب فہد مصطفیٰ کے ساتھ بھی مہوش حیات نے دو بڑی فلموں میں کام کیا۔

ان میں ‘ایکٹر ان لا’ اور ‘لوڈ ویڈنگ’ شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ‘ایکٹر ان لا’ 2016 میں ریلیز ہوئی تھی، جو باکس آفس پر خوب کامیاب ہوئی۔

جبکہ ‘لوڈ ویڈنگ’ 2018 میں سامنے آئی، اس فلم میں فہد اور مہوش کی جوڑی کو خوب سراہا گیا جبکہ فلم کو بھی شائقین اور تجزیہ کاروں کا اچھا ردعمل ملا۔

بھارت نے مسلمانوں سمیت 19 لاکھ سے زائد افراد کی شہریت منسوخ کردی

نئی دہلی: مودی حکومت نے بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں 19 لاکھ سے زائد افراد کی شہریت ختم کرتے ہوئے انھیں ’غیر ملکی‘ قرار دے دیا۔

مودی سرکار کی جانب سے بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور مسلمانوں کے بعد دیگر اقلیتوں کا بھی بھارت میں رہنا مشکل کردیا گیا ہے۔

انتہا پسند حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے بعد آسام میں بھی مسلمانوں کو نشانے پر رکھ لیا۔ حکومت نے آسام کے 19 لاکھ افراد سے بھارتی شہریت چھین لی ہے جن میں سے زیادہ تر مسلمان ہیں جنہیں بنگلہ دیشی قرار دے دیا گیا ہے۔

نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کی حتمی فہرست سے ان لوگوں کے نام نکال دیے گئے جو یہ ثابت نہ کرسکے کہ وہ 24 مارچ 1971 کو یا اس سے پہلے آسام پہنچے تھے۔ ان میں ہندو بھی شامل ہیں۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ لوگ بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر نقل مکانی کرکے آسام میں آباد ہوگئے تھے۔ ان 19 لاکھ افراد کو اپیل کیلئے چار ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

بھارتی اقدام سے اب مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے 19 لاکھ سے زیادہ افراد نہ صرف بے گھر ہو گئے ہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اب انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا جس کے لیے پہلے سے ہی آسام میں دس جیلوں کی تعمیر جاری ہے۔ ایک جیل میں تین ہزار افراد تک کو قید کرنے کی گنجائش ہے۔

مودی سرکار نے ریاست آسام میں ممکنہ احتجاج کو طاقت کے زریعے دبانے کا منصوبہ بھی بنایا ہوا ہے۔ علاقے میں صورتحال پر قابو رکھنے کیلئے 60 ہزار پولیس اہلکار اور 19 ہزار پیرا ملٹری اہلکار تعینات کر دئیے گئے۔ احتجاج کرنے والوں کو ملک بدر کرنے یاجیلوں میں ڈالنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔

پاک بھارت ایٹمی جنگ کا خدشہ

امریکی قیادت پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے اب بھی تیار ہے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ دونوں فریق آمادہ ہوں محض ایک فریق کی خواہش پر ثالثی کا کردار نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا ۔ امریکا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے ۔ اگر بھارت اپنے اقدامات سے باز نہ آیا تو پاک بھارت ایٹمی جنگ ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے ۔

امریکن تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے ۔ جوہری صلاحیت کے حامل پڑوسی ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت کشیدگی عروج پر ہے جس کا آغاز نئی دہلی کی جانب سے غیرقانونی طور پر کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کو آئینی طور پر ختم کرنے سے ہوا ۔ جوہری جنگ کے امکانات میں اس وقت اضافہ ہوا جب بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کھلے الفاظ میں خطے میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی ۔ راج ناتھ نے ہتھیار استعمال کرنے کے آپشن میں کسی ملک کا نام تو نہیں لیا تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی دھمکی واضح طور پر پاکستان کے لیے تھی ۔

اگر پاکستان اور بھارت نے نیوکلیئر ہتھیاروں کا استعمال کیا تو امریکا اور جاپان کی 1945ء میں ہونے والی جنگ کے دوران جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی کے بعد یہ جوہری جنگ کا پہلا واقعہ ہوگا ۔ تھنک ٹینک نے اس بات کو مسترد کردیا کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے بالکل واضح طور پر کہا کہ پاک بھارت اختلافات ایٹمی جنگ سے حل کرنا خودکشی ہوگی ۔ امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں ۔ بھارت کشمیر میں جو کچھ کررہا ہے وہ وحشیانہ عمل ہے ۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی مقامی ہے ۔ بھارت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹا آپریشن کر سکتا ہے ۔ بھارتی میڈیا دعوے کررہا ہے کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ وادی اور بھارتی جنوبی علاقوں میں بھی داخل ہوئے ہیں تاہم یہ دعوے مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کے ایجنڈے سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں ۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے توجہ ہٹانے کیلئے دہشتگردی کے جھوٹے الزامات متوقع ہیں ۔ ہم متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ دو ایٹمی قوتوں کو جنگ سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ مشترکہ خودکشی کے مترادف ہو گا ۔

وفاقی وزیر یلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ اکتوبر نومبر میں پاکستان بھارت جنگ دیکھ رہا ہوں ۔ اب جنگ ہوئی تو آخری ہوگی ۔ کشمیر کی آخری جدوجہد کا وقت آگیا ۔ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے تو وقت ہ میں معاف نہیں کرے گا ۔ فوج نے جو 23 سال سے تیاری کی اب اس کے استعمال کا وقت آگیا ہے ۔ فاشسٹ مودی کی راہ میں صرف پاکستان رکاوٹ ہے ۔ چاہ بہار جانے کے لئے مودی گوادر کو رکاوٹ سمجھتا ہے ۔ قائداعظم نے مسلم دشمن سوچ کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا ۔ خونخوار مودی کی وجہ سے کشمیر سے بارود کی بو آرہی ہے ۔ پاک بھارت میں دس جنگیں ہوچکیں یا ہوتے رہ گئیں اب یہ آخری جنگ ہوگی ۔

بھارت نے جب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا آرٹیکل 370 منسوخ کیا ہے اس پر عالمی دباوَ بڑھتا جا رہا ہے ۔ خود بھارت کے اندر سے بھی کشمیریوں کی آزادی اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے بارے میں آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ سلامتی کونسل اوردوسرے عالمی فورمز پر شکست کے بعد مودی حکومت کا لب ولہجہ انتہائی جارحانہ ہو گیا ہے ۔ بھارتی حکومت اپنی دہشت قائم رکھنے اور اپنی حیثیت منوانے کےلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے چاہے وہ جوہری جنگ ہی کیوں نہ ہو ۔

وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ہندو برتری کی خواہشمند انتہا پسند مودی حکومت کے ہاتھوں میں موجود بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں سوچنا چاہئے کیونکہ وہ فسطائی اور نسل پرست ہندو برتری کی خواہشمند مودی حکومت کے کنٹرول میں ہیں ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو نا صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر اثرانداز ہو سکتا ہے ۔ جس طرح جرمنی پر نازیوں نے قبضہ کیا تھا بالکل اسی طرح بھارت پر ہندو برتری کی خواہشمند انتہا پسند اور نسل پرست نظریات کی قائل مودی حکومت قابض ہے ۔ مودی حکومت نے 90 لاکھ کشمیریوں کو گزشتہ دو ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر میں قید کر رکھا ہے جس نے پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور اقوام متحدہ کے مبصرین حالات کا جائزہ لینے کے لیے مقبوضہ وادی میں بھیجے جا رہے ہیں ۔

Google Analytics Alternative