Home » 2019 » September » 08

Daily Archives: September 8, 2019

پاکستان نے بھارتی صدرکوفضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کے صدررام ناتھ کووند کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

بھارتی صدر رام ناتھ کووند کو 8 ستمبر کو آئس لینڈ جانا تھا۔ بھارت نے صدرکے لیے پاکستان سے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مانگی تھی تاہم پاکستان نے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور بھارتی صدر کے طیارے کے لئے کلیرنس نہیں دی۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی صدر کو پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دی جارہی، بھارتی جنونیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے یہ فیصلہ کیا، بھارت نے گزشتہ 34 روز سے کشمیریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کررکھا ہے، ہم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور نہایت محتاط طریقے سے مسئلے کو اٹھایا لیکن بھارتی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی،

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے فرانس پہنچا تھا جس کی اجازت پاکستان کی جانب سے باقائدہ دی گئی تھی۔

ایک اور بھارتی جھوٹ بے نقاب؛ 2 دہشتگرد پکڑنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا، آئی ایس پی آر

 راولپنڈی: بھارت کی جانب سے خطے میں کشیدگی بڑھانے اور اپنے عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کرنے کی ایک اور جھوٹی کہانی بے نقاب ہوگئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج اور میڈیا نے ایل او سی پر 21 اگست کو 2 دہشت گرد پکڑنے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ درحقیقت 21 اگست کو ایل او سی کے حاجی پیر سیکٹر میں محمد ناظم اور خلیل احمد نامی 2 کسانوں نے غلطی سے لائن آف کنٹرول کراس کی۔
واقعہ پر فوجی حکام نے 27 اگست کو ہاٹ لائن پر رابطہ کیا، 3 ستمبر کو پاکستانی حکام نے اس معاملے پر بھارتی حکام سے ہاٹ لائن پر بات کی، بھارتی حکام نے دونوں پاکستانی شہریوں کی موجودگی کااعتراف کیا۔ بھارتی حکام نے پاکستانی حکام کے مطالبے کی توثیق اور ضابطے پر عمل کا وعدہ کیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ واقعہ پر فوجی حکام نے 27 اگست کو ہاٹ لائن پر رابطہ کیا، 3 ستمبر کو پاکستانی حکام نے اس معاملے پر بھارتی حکام سے ہاٹ لائن پر بات کی، بھارتی حکام نے پاکستانی حکام کے مطالبے کی توثیق اور ضابطے پر عمل کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے جھوٹے آپریشن کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے، بھارتی میڈیا 2 پاکستانیوں کو دہشت گرد قرار دے کر حقائق مسخ کررہا ہے.

مودی سرکار نے چاند پر غریب بھارتیوں کے 2,000 کروڑ روپے غرق کردیئے

نئی دہلی: خلائی تحقیق کے بھارتی ادارے ’’اِسرو‘‘ (ISRO) کی جانب سے چاند کے مخالف حصے کی طرف بھیجے گئے مشن ’’چندریان 2‘‘ کا زمینی اسٹیشن سے رابطہ منقطہ ہوگیا ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ مشن ناکام ہوچکا ہے۔ اس مشن پر 978 کروڑ بھارتی روپے لاگت آئی جو 2130 پاکستانی روپیوں کے برابر بنتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، چندریان 2 مشن اپنے پورے سفر میں ٹھیک کام کرتا رہا لیکن جب اس کی چاند گاڑی (مون لینڈر) ’’وکرم‘‘ نے چاند کی سطح پر اترنا شروع کیا تو صرف 2100 میٹر کی اونچائی رہ جانے پر اچانک ہی اس کا رابطہ زمینی مرکز سے منقطع ہوگیا۔ اس کے بعد سے اب تک چندریان 2 کا رابطہ منقطع ہے۔ اس بارے میں اندازہ یہی ہے کہ چندریان 2 مشن ناکام ہوچکا ہے۔

اِسرو کے زمینی مرکز میں موجود نریندر مودی سے یہ ناکامی برداشت نہ ہوئی اور وہ کسی سے بات کیے بغیر فوراً ہی وہاں سے چلے آئے۔ ذرا ذرا سی بات پر ٹویٹ کرنے والے مودی جی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ اس سانحے کے بعد سے اب تک بالکل خاموش ہے۔

واضح رہے کہ زمین کے گرد چاند اس انداز سے گردش کرتا ہے کہ ہمیشہ اس کا صرف ایک رُخ ہماری طرف رہتا ہے جبکہ دوسرا رُخ ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ اس کیفیت کو سائنسی اصطلاح میں ’’ٹائیڈل لاک‘‘ کہا جاتا ہے۔

چندریان 2 مشن کا مقصد، چاند کے اس حصے پر اُتر کر وہاں کا جائزہ لینا تھا جو زمین سے مخالف سمت میں ہے اور ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس خلائی مشن کی ناکامی کے بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہوگا۔

22 جولائی 2019 کو روانہ ہونے والا ’’چندریان 2‘‘ اسپیس مشن 20 اگست 2019 کو چاند کے گرد اپنے مقرر کردہ مدار میں داخل ہوا۔ بھارتی وقت کے مطابق اس کے مون لینڈر ’’وکرم‘‘ کو رات ڈیڑھ بجے سے ڈھائی بجے کے درمیان چاند کے جنوبی قطب پر اُترنا تھا۔

بتاتے چلیں کہ چندریان 2 سے پہلے چاند کی طرف بھیجے گئے درجنوں مشن ناکام ہوچکے ہیں جن میں سے 16 ایسے تھے جو اپنے آخری مراحل پر ناکامی کا شکار ہوئے۔

فلیگ شپ فونز کی ٹکر کا سستا اسمارٹ فون

موٹرولا نے اپنا نیا اسمارٹ فون ون زوم متعارف کرایا ہے جو کہ فیچرز کے لحاظ سے فلیگ شپ فونز کی ٹکر کا ہے مگر اس کی قیمت بہت کم ہے۔

جرمنی میں جاری آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران موٹرولا کی جانب سے اس فون کو متعارف کرایا گیا جو کہ کمپنی کا پہلا 4 بیک کیمروں والا فون بھی ہے۔

اس میں 6.4 انچ کا او ایل ای ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے جس میں یو شکل کا نوچ موجود ہے۔

اس کے علاوہ 4000 ایم اے ایچ بیٹری 18 واٹ ٹربو پاور چارجنگ سپورٹ کے ساتھ ہے جو کمپنی کے بقول 2 دن تک چل سکتی ہے۔

کوالکوم اسنیپ ڈراگون 675 پراسیسر،4 جی بی ریم، 128 جی بی اسٹوریج، یو ایس بی سی پورٹ، ہیڈ فون جیک، اسپلیش ریزیزٹنٹ، اینڈرائیڈ 9 آپریٹنگ سسٹم وغیرہ قابل ذکر فیچرز ہیں۔

مگر اس کی سب سے خاص بات بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ ہی ہے۔

اس کا پرائمری کیمرا 48 میگا پکسل کا ہے جس میں او آئی ایس اور نائٹ ویژن موڈ دیا گیا ہے، 8 میگا پکسل ٹیلی فوٹو لینس میں 3 ایکس آپٹیکل جبکہ 10 ایکس ہائیبرڈ زوم موجود ہے۔

تیسرا کیمرا 16 میگا پکسل الٹرا وائیڈ اینگل لینس ہے جو کہ 117 ڈگری تک کا منظر لے سکتا ہے جبکہ 5 میگا پکسل ڈیپتھ کیمرا دھندلے پس منظر والی تصاویر کا معیار بہتر بنانے میں دیتا ہے۔

اس کے فرنٹ پر 25 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے جو کہ 4 کے الٹرا ایچ ڈی ویڈیو ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ فون پہلے یورپ میں 450 ڈالرز (70 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا جس کے بعد یہ دیگر ممالک میں صارفین کے لیے متعارف کرادیا جائے گا۔

یو م دفاع۔۔۔سیاسی وعسکری قیادت کا ایل او سی کادورہ،جوانوں کے عزم کوسراہا

ملک بھر میں یوم دفاع انتہائی ملی جوش وجذبے اورشہدائے وطن کے ساتھ محبت اورعقیدت کے ساتھ منایاگیا، عوامی ریلیاں منعقدکی گئیں ، شہداء کے مزاروں پرحاضری اوران کے اہلخانہ سے ملاقاتیں کی گئیں ،شہرقائد میں مزارقائدپرگارڈزکی تبدیلی ہوئی، آزاد کشمیر میں بھی یوم دفاع وشہداء منایاگیا، قوم نے یوم دفاع اورشہداء کے ساتھ یوم یکجہتی کشمیر’’کشمیربنے گاپاکستان ‘‘ کے نعرے کے ساتھ منایاگیا، یوم دفاع پروفاقی دارالحکومت میں دن کا آغاز اکتیس اور صوبائی دارالحکومت میں اکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ ہوا،نمازفجر کے بعد مساجد میں ملکی سلامتی اور کشمیریوں کی آزادی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ،وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی آئی کے مختلف رہنما شہداء کے گھرگئے اور انہیں وزیراعظم کے خصوصی پیغامات پہنچائے، وزیراعظم عمران خان ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے اس موقع پرلائن آف کنٹرول کادورہ کیا ،سیاسی وعسکری قیادت نے اگلے مورچوں پرپاک فوج کے افسران اور جوانوں سے ملاقاتیں کیں ، ان کے بلند حوصلے کی تعریف کی، وزیراعظم نے کہاکہ بھارتی مہم جوئی کامنہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہیں ، وزیراعظم کوایل او سی کی تازہ ترین صورتحال پربھی بریفنگ دی گئی، عمران خان نے بھارتی جارحیت کانشانہ بننے والے افراد سے ملاقات کی، انہو ں نے پاک فوج کی آپریشن تیاریوں اوربھارت کے سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کاموثرجواب دینے پرپاک فوج کوسراہا، وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان حق خودارادیت دلانے کے لئے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے ،ہماری توجہ فی الحال فاشٹ بھارتی حکومت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے پرہے ،آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے یوم دفاع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرتکمیل پاکستان کانامکمل ایجنڈا ہے ،پاکستان کبھی بھی کشمیریوں کو تنہا اورحالات کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑے گا،آخری گولی، آخری فوجی اورآخری سانس تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، کشمیریوں پرحملہ ہمارے اورپورے عالم انسانیت کے لئے چیلنج ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد اب غربت ،جہالت اور پسماندگی کے خلاف جنگ لڑیں گے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کراپنافرض پورا کردیاہے ، سیاسی اور عسکری قیادت کے عزم کو دیکھاجائے تووہ انتہائی پختہ ہے ، وزیراعظم نے بھی درست کہاکہ پاک فوج دشمن کوہرطرح کاجواب دینے کے لئے تیار ہیں جبکہ آرمی چیف کی جانب سے یہ کہنا کہ آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں یہ بھارت کے لئے واضح اور دوٹوک پیغام ہے وہ کسی طرح بھی خام خیالی میں نہ رہے کہ 370 اور 35 اے ختم کرکے وہ مقبوضہ کشمیرپرقبضہ جمالے گا،مسئلہ کشمیر کاحل صرف حق خودارادیت اوراقوام متحدہ کی قراردادوں میں مضمر ہے کیونکہ یو این کی قراردادوں کے خلاف کوئی بھی حل یہاں قابل قبول نہیں اورنہ ہی اس کی کوئی حیثیت ہے ،مسئلہ کشمیر میں تین فریقین ہیں جن میں پاکستان، کشمیری اوربھارت شامل ہیں اور فریق اول کی حیثیت کشمیریوں کو حاصل ہے اور ان کی مرضی کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، آرمی چیف نے کہاکہ پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے ،شہید ہماری پہچان ہیں ، اپنے شہیدوں کے خاندانوں کاحوصلہ دیکھ کراعتمادبڑھا ہے، قیام پاکستان سے بقائے پاکستان کاسفرشہداء کی عظیم قربانیوں سے سجا ہوا ہے ، میں پورے یقین سے کہہ رہاہوں کہ ہمارے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، جب بھی ضرورت پڑی وطن کے بیٹوں نے لبیک کہا، دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ دنیا کےلئے ایک مثال ہے، جب تک وطن کے جانثارموجود ہیں کوئی بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، پاکستان میں امن کی فضاء بہتر ہے ،اب اقوام عالم کی ذمہ داری ہے کہ انتہاپسندی کو عملی طورپررد کردے ،امن برقراررکھنا دنیا کی ذمہ داری ہے ۔ ہم نے ہمیشہ افغانستان میں پائیدارامن کی کوشش کی ہے آئندہ بھی کوششیں جاری رکھیں گے، مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی عروج پر ہے ، وہاں پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ہ میں وہاں پر اپنے بھائیوں اوربہنوں کی مصیبتوں کا ادراک ہے آج کاکشمیرہندوتوا کی پیروکارہندوستانی حکومت کے ظلم وستم کاشکاربن چکاہے ،کشمیری خون ارزاں ہوچکا ہے اورجنت نظیر کشمیرظلم کی آگ میں جل رہاہے،ہندوستانی قیادت نے مذہبی جنونیت ،نفرت اورطاقت کے زعم میں کشمیریوں پرجوحملہ کیا وہ بلاشبہ ہمارے اورپورے عالم انسانیت کے لئے ایک آزمائش ہیں ، قبل ازیں آرمی چیف نے یادگارشہداء پر حاضری دی اورپھول چڑھائے ۔

بھارت کاچاندپرجانے کاخواب چکناچور

بھارت کا چاند پر جانے کاخواب چکناچور ہوگیا اسے پوری دنیا میں رسوائی کاسامنا ہوا جس سے900کروڑ روپے کانقصان بھی ہوا،بھارتی وزیراعظم نریندرمودی شن کی ناکامی پرشدید مایوس ہوکر سپیس سنٹرسے چلے گے ۔ انڈین خلائی مشن چندرایان 2 کے ساتھ رابطہ اس وقت منقطع ہو گیا جب اس کا وکرم ماڈیول چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ سے چند لمحے دور تھا ۔ ابھی تک اس خلائی جہاز کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں ۔ انڈین خلائی ریسرچ ;200;رگنائزیشن کے صدر کے سیون نے مشن کے بارے میں کہا کہ چاند گاڑی وکرم منصوبے کے مطابق اتر رہی تھی اور چاند کی سطح سے 2;46;1 کلومیٹر دور سب کچھ معمول پر تھا ۔ لیکن اس کے بعد اس کا رابطہ ختم ہو گیا ۔ اس سیٹلائیٹ کی رات 1;58;30 بجے سے 2;46;30 بجے کے درمیان چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ متوقع تھی ۔ انڈیا کا چندرایان ٹو خلا میں چھوڑے جانے کے ایک ماہ بعد 20 اگست کو چاند کے مدار میں داخل ہوا تھا ۔ اب سے پہلے کوئی ملک چاند کے اس حصہ پر نہیں گیا ۔ اگر انڈیا کو اس مشن میں کامیابی حاصل ہو جاتی تو وہ سابق سوویت یونین، امریکہ اور چین کے بعد چاند کی سطح پر لینڈنگ کرنے والا چوتھا ملک بن جاتا ۔ یاد رہے کہ انڈیا کے چاند کے پہلے مشن چندرائن 1 نے ریڈارز کی مدد سے سنہ 2008 میں چاند کی سطح پر پانی کی پہلی اور سب سے مفصل تلاش کی تھی ۔ انڈیا کا پہلا مشن ;39;چندرایان ون;39;2008 میں چاند کی سطح پر اترنے میں ناکام رہا تھا ۔

مسئلہ کشمیرکاحل

حق خودارادیت میں ہے

قائد حزب اختلاف سینیٹ راجہ ظفر الحق نے روزنیوز کے پرورگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں 23متفقہ قرار دادیں موجود ہیں ۔ ہر قرار داد کے بعد یہ لکھا جاتا ہے کہ اس کی کس نے حمایت کی اورکس نے مخالفت کی اور کون نیوٹرل رہا ۔ اس اعتبار سے تمام قراردادوں پر تمام ممالک نے اتفاق کیا حتیٰ کہ بھارت اور روس نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی ۔ یواین او قائم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مختلف معاشروں کو حق خود ارادیت فراہم کیا جائے اور اس کا تحفظ بھی کیا جائے اس حوالے سے ;200;رٹیکل 2بھی موجود ہے ۔ نیز اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی معاہدہ یا قرارداد ہو نہ وہ قابل تسلیم ہے اور نہ اُس کی کوئی حیثیت ہے ۔ ان معاہدوں میں واضح لکھا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین ایل او سی کا احترام کرنا ضروری ہے اور مسائل مذاکرات کے ذریعے امن کے تحت حل کرینگے ۔ 1971کے تحت جو ایل او سی ہے اس کا احترام کیا جائیگا ۔ نیز دو ممالک یو این کی قراردادوں کے تحت اتفاق کرتے ہوئے جنگ کے بجائے مسئلہ کشمیر کو حل کرینگے ۔ لہٰذا جو لو گ یہ کہتے ہیں کہ شملہ معاہدہ مسئلہ کشمیر کے حل میں رکاوٹ ہے یا لاہور ڈیکلریشن میں کشمیر کا کوئی ذکر نہیں تو وہ قطعی طور پر غلط ہیں ۔ 24جنوری1957 میں قرارداد کے تحت واضح کہا گیا کہ بھارت جو مرضی کرنا چاہے ہم اس کو تسلیم نہیں کرینگے اور مسئلہ کشمیر کا واحد حل استصواب رائے ہی ہے اور اس حوالے سے یواین او کی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔ کشمیر کا جو ڈیسپورا ہے وہاں سے ;200;واز اُٹھانا انہتائی ضروری ہے اس کا بہت اثر ہوگا اس دفعہ جو مسئلہ کشمیر اتنا ہائی لاءٹ ہوا اس میں جہاں دیگرعوامل شامل ہیں وہاں پر برطانیہ میں موجود کشمیریوں کا بھی اہم کردار شامل ہے ۔ بھارت مقبوضہ وادی میں انتہائی ظلم وستم کر رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قدم اٹھایا ہے، بھارت کا اقدام غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ انہوں نے انتخابی منشور میں اعلان کیا تھا، پاکستان نے دیر سے رد عمل دکھایا اور کوئی مناسب ردعمل نہیں دکھایا گیا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاداسلامی دنیا ہے، اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات رکھنا ہمارا فرض ہے ۔ تمام معاملات پر گہری نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کشمیریوں نے ہی کرنا ہے، یہ زمین کا نہیں انسانیت کا مسئلہ ہے ۔

آئی ایس آئی یا کشمیر؛ بھارت خلائی مشن کی ناکامی کا ذمہ دارکسے ٹہرائے گا؟ ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج نے بھارتی خلائی مشن چندریان کی ناکامی پرکہا ہے کہ اب بھارت خلائی مشن کی ناکامی کا ملبہ پھرسے آئی ایس آئی یا معصوم کشمیریوں پرڈالے گا۔

پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفورنے بھارتی خلائی مشن چندریان کی ناکامی پرٹویٹ میں آئی ایس آراو(انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کوتنقیدی  شاباشی دیتے ہوئے کہا کہ چندریان کی ناکامی کا الزام اب بھارت کس کودے گا، کیا ناکامی کی وجہ مقبوضہ کشمیرکے معصوم عوام ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ کیا چندریان مشن کی ناکامی کے پیچھے مسلمانوں یاکسی اوراقلیت کا ہاتھ ہے یا بھارتی سیٹلائٹ کی درست سمت میں لینڈنگ نہ کرنے کی ذمہ دارآئی ایس آئی ہے۔ چاند کو چھوڑیں ہندوتوا کہیں بھی نہیں لے کر جاسکتی، کیا ہندوتوا کےخلاف بلندآوازوں نےمشن چندریان کوچکناچورکردیا۔

بھارت کا پہلا مشن ‘چندریان ون’ سنہ 2008 میں چاند کی سطح پر اترنے میں ناکام رہا تھا۔

واضح رہے کہ چاند کے مخالف حصے کی طرف بھیجے گئے مشن ’’چندریان 2‘‘ کا زمینی اسٹیشن سے رابطہ منقطہ ہوگیا ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ مشن ناکام ہوچکا ہے۔ اس مشن پر 978 کروڑ بھارتی روپے لاگت آئی جو 2130 پاکستانی روپیوں کے برابر بنتی ہے۔

کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے پر کئی پروجیکٹ گنوا دیئے، ارمینا

پاکستانی اداکارہ ارمینا خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے پران کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند ہونے کا خطرہ ہے۔

اداکارہ ارمینا خان ہمیشہ ہی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے خلاف آواز اٹھاتی آئی ہیں۔ ارمینا خان وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا کی جنگ کی حمایت کی دوغلی پالیسی کو بےنقاب کرتے ہوئے انہیں یونیسیف کی خیرسگالی سفیر سے ہٹانے کا مطالبہ کیاتھا۔

تاہم ارمینا خان کو سچ کہنا مہنگا پڑرہا ہے انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ میں ہمیشہ کشمیرمیں انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہوں۔ کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے کی صورت میں مجھے خطرے کا بھی علم ہے اور میں نے بہت سارے پراجیکٹس بھی گنوائے ہیں۔

ارمینا نے کہا اب کشمیر کی حمایت کرنے پر مجھے سنسر کیا جارہاہے اور میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند ہونے کا خطرہ ہے۔ ارمینا خان نے مزید کہا حق اورسچ کے لیے آواز اٹھانے کی یہ قیمت ہے، لیکن میں رکوں گی نہیں۔

واضح رہے کہ ارمینا خان نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے ادارےیونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہینریٹا ایچ فور کو کھلا خط لکھا تھا جس میں پاکستانی خاتون عائشہ ملک کے ساتھ نازیبا زبان استعمال کرنے اورجنگ کی حمایت کرنے پر پریانکا چوپڑا کو امن کی سفیر سے ہٹانے کا مطالبہ کیاتھا۔

عمران خان بیوروکریسی کے شکنجے میں

مدینے کی اسلامی ریاست کےلئے72 سال سے ترستی آنکھوں والے غریب عوام نے جب عمران خان صاحب وزیر اعظم پاکستان کو عنان حکومت پر بیٹھتے دیکھا تو اُس سے اُمیدیں باندھ لی تھیں کہ انہیں اب انصاف ملے گاکیونکہ عمران خان صاحب ۳۲ سال سے تسلسل سے کہہ رہے تھے کہ میں اقتدار میں آکر حضرت علامہ شیخ محمد اقبال ;231; شاعر اسلام کے خواب اور حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کے وژن کے مطابق ،مملکت اسلامیہ جمہوریہ پاکستان مثل مدینہ ریاست کو مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست کے مطابق بناءوں گا ۔ ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا ۔ حقدار کو حق ملے گا ۔ ملک کو کرپشن فری کروں گا ۔ غربت ختم ہو جائے گی ۔ ملک میں امن وامان ہوگا ۔ عمران کہتے تھے کہ ملک کا چیف اگر ایمان دار ہے تو رفتہ رفتہ نیچے والے بھی ایمان دار ہو جائیں گے ۔ اس بیانیہ کو عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بننے سے آج تک اپنی تمام تقاریر میں میں بڑے عزم اور حوصلے سے دھراتے رہے ہیں ۔ مگر ۲۷ سال سے جن کے منہ کو کرپشن کاخون لگا ہوا ہے ان کو عمران خان آج تک درست نہیں کر سکے ۔ ان کے ارد گرد آج بھی پہلے والی سیاسی پارٹیوں کے کرپٹ اور قرضے معاف کرانے والے لوگوں کا جھمگٹا ہے ۔ کرپٹ لوگوں کے حمائیتی بیوروکریٹس حکومت میں اب بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے عمران خان کو اپنے شکنجے میں جھگڑ رکھا ہے ۔ سرمایہ داروں کے حمایتی بیوروکریٹس نے اب عمران خان سے غریب عوام کی محنت مزدوری سے کمایا ہوئے پیسے، جو ان سے گیس کے معاملات کو درست کرنے کے لئے ٹیکس کے ذرےعے وصول کیے تھے ۔ وہ گیس کے معاملات کو درست کرنے کی مد میں خرچ کرنے کے بجائے سرمایاداروں ، جن کے پاس پہلے سے اربوں سرمایا موجود ہے کو معاف کر دیا ہے ۔ غریب عوام کے۰۰۳;241; ارب روپے قرضے معاف کر کے ایک صدارتی آرڈینس کے ذریعے سے لوٹ لیے گئے ہیں ۔ اس اقدام سے ملک میں شور مچ گیا ہے ۔ الیکٹرونک میڈیا میں عمران خان کے پرانے بیانات کو بار بار دھرایا جا رہا ہے ۔ جس میں عمران خان کہہ رہے ہیں کہ کیا غریب عوام کے پیسے جو حکومت ٹیکس کی مدد میں وصول کرتی ہے، کسی بھی معاف کرانے والے اور معاف کرنے والوں کو عمران خان کہتے تھے کہ کیا یہ پیسہ تمھارے باپ کا پیسہ ہے ۔ جو تم معاف کروا رہے ہو یا معاف کر رہے ہو ۔ اب خود اپنے ارد گرد کے سرمایا داروں کے قرضے ایک صدارتی ایکٹ نافذ کر کے معاف کر دیے ہیں ۔ لوگ کہہ رہے کہ کیا یہ پیسے قرضے معاف کرانے والے یاعمران خان کے باپ کے پیسے ہیں جو سرمایا داروں کو معاف کر دیے ہیں ۔ عمران خان کو اپنے پرانے بیانیہ کے مطابق ان سے یہ پیسے وصول کرنے چاہیے تھے ۔ مخالفوں کے مطابق آتے ہی عمران خان نے کچھ نمائشی اقدامات کیے ۔ وزیر اعظم ہاءوس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنا ۔ وزیر اعظم ہاءوس کی بجائے خود اپنے گھر بنی گالہ میں بیٹھ کر امور حکومت چلانا ۔ وزیر اعظم ہاءوس ، گورنرز ہاءوسز اورمملکت کے دفاتر میں خرچے کم کرنا ۔ گورنرز ہاءوسز کو حکومتی استعمال کے بجائے عوام کے مفاد میں استعمال کرنا ۔ ریسٹ ہاءوسز کو حکومتی اہلکاروں کے استعمال کے بجائے ان کو کمر شل استعمال کرنا ۔ غریب عوام کےلئے شیلٹر ہاءوسز بنانا ۔ وزیر اعظم کابیرونی دوروں کےلئے جہاز چارٹیڈ کرنے کے بجائے عام فلاءٹ میں سفر کرنا ۔ مگرکیا ان اقدامات سے عوام کو کچھ فائدہ ہوا ہے ۔ نہیں قطاً نہیں بلکہ عوام پہلے سے زیادہ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ پٹرول اور گیس مہنگی ہو گئی ۔ عمران کیں کے کچھ اقدامات کا مذاق بھی اُڑایا جاتا ہے ۔ مثلاً وزیر اعظم ہاءوس میں رکھی بھینسوں کی نیلامی، مرغیان انڈے ، کٹے پالنا ۔ لوگ کہتے ہیں عمران خان صاحب ان اقدامات سے ملک ترقی نہیں کرتے یہ تو صرف ٹوٹکے ہیں جو تم نے چھوڑے ہیں ۔ عمران خان ملک کی بند انڈسٹری کو چلانے کے اقدامات کرو ۔ ملک کی واحد اسٹیل ملز کو دوبارا سے فعال کرو ۔ ملک میں بند کاٹن انڈسٹریل یونٹ کو پھر بحال کرو ۔ ایکسپورٹ بڑھا ہو ۔ باہر سے سرمایہ لانے کے اقدامات کرو ۔ تب ملک ترقی کرے گا ۔ عمران خان اپنے الیکشن میں عوام سے کہتے رہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی ۰۳ سال سے اپنی اپنی باریاں پوری کرتی رہیں ۔ میثاق جمہوریت نہیں ، میثاق کرپش پر ایک دوسرے کی کرپشن چھپائی ۔ میں اقتدار میں آکر ان سے کرپشن کا ایک ایک پیسہ نکلواءوں گا ۔ ملک کے بیوروکریٹس ان دونوں پارٹیوں سے ملے ہوئے ہیں ۔ گو کہ ملک کی اعلیٰ عدالت نے بھی آف شورکمپنی کیس میں ریمارکس دیے تھے کہ حکومتی اہل کاروں کی سمت صحیح نہیں ۔ سفارشی بھرتی کیے ہوئے حکومتی اہلکار کرپٹ لوگوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں ہونے دیتے ۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاءونٹ کمیٹی نے بھی کرپشن پکڑنے والے اداروں کے سربراہوں کو بلایا تو پہلے تو وہ آنے کےلئے تیار ہی نہیں ہوئے ۔ جب تنگ آ کر قانونی نوٹس جاری کیے گئے تو پھر تشریف لائے ۔ معلوم کرنے پر بیان دیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ ملک میں رفتہ رفتہ پہلے سے زیادہ بدحالی ، بے روز گاری اور مہنگائی ہو گئی ہے ۔ کہاوت ہے نا کہ’’پیٹ نہ پیاں روٹیاں تے ساری گلاں کھوٹایاں ‘‘ کیاعوام کی قسمت میں وہی پہلے والی، بلکہ اُس سے بھی زیادہ لکھی ہوئی ہے;238; عمران خان کی سیاسی پارٹی کا نام ہی تحریک انصاف ہے، یعنی عوام کو انصاف مہیا کرنے والی پارٹی ۔ عمران خان نے اپنے سیاسی بیانات میں کرپشن سے پاک پاکستان کا بیانیہ عوام میں عام کیا تھا ۔ اِسی بیانیے کو تحریک انصاف کے منشور میں شامل کیا ۔ آتے ہی پہلے دور میں رجسٹرڈ کیے گئے میگا کرپشن کے مقدمات، جن کی سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی لسٹ مانگی تھی، نیب کی طرف سے کھولے گئے ۔ جن میں نواز شریف صاحب،مریم صفدر صاحبہ اور داماد کیپٹن صفدر صاحب کو سزا ہوئی ۔ مریم صفدر صاحبہ ضمانت پر ہیں اور نیب نے ایک نئے مقدمے میں تفتیش کے لیے گرفتار بھی کیا ہوا ہے ۔ مگر عوام کہتے ہیں ان کو سزا اور گرفتاریوں سے ہ میں کیا فائدہ ہوا ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ عمران خان صاحب بےورو کریٹس کے شکنجے سے باہر نکل کر اس صدارتی ایکٹ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرو ۔ ورنہ مکافات عمل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو جاءو ۔ غریب عوام اب اعلانات پر یقین نہیں کرےں گے بلکہ آپ کی حکومت گرانے والوں کا ساتھ دینے پر مجبور ہو جائے گی ۔

Google Analytics Alternative