Home » 2019 » September » 09

Daily Archives: September 9, 2019

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں معمولات کی بحالی کا بھارتی دعوی مسترد کر دیا

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی قومی سلامتی مشیر کی حالیہ بریفنگ مسترد کر تے ہیں، بریفنگ میں مقبوضہ کشمیر میں معمول کی صورتحال کا غلط تاثر دیا گیا۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق بھارتی قومی سلامتی مشیر کی حالیہ بریفنگ مسترد کر تے ہوئے کہا کہ بریفنگ میں مقبوضہ کشمیر میں معمول کی صورتحال کا غلط تاثر دیا گیا حالانکہ مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے اور معصوم کشمیریوں کے خلاف بھارتی قابض افواج کے وحشیانہ حملے جاری ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی دعووٴں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کرفیو بدستور جاری ہے، کشمیری رہنما ، خاص طور پر حریت قیادت نظربند ہیں، کشمیری مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے قاصر ہیں اور کھانے پینے کی اشیا ،ادویات کی قلت ہے جب کہ بھارتی اپوزیشن رہنماوٴں کو بھی مقبوضہ کشمیرکا دورہ کرنے کی اجازت نہیں، بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی مظالم کو بے نقاب کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان پرغلط الزامات لگا کر سچائی کوچھپانے کی فرسودہ کوشش کی جا رہی ہے، بھارتی فوج نے دو پاکستانیوں ، محمد نسیم اور خلیل احمد کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا، اس طرح کے مکروہ ہتھکنڈے ہندوستانی مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں اور پاکستان نے بین الاقوامی برادری کو بھارت کی طرف سے جھوٹے چم آپریشن کے خطرے سے آگاہ کیا۔

پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بھارت بین الاقوامی مشنوں کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دے، بے گناہ کشمیریوں کے خلاف مظالم کو فوری طور پر بند کرے اور من گھڑت کہانیاں بنانے کے بجائے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تعمیل کرے۔

کرفیو اور لاک ڈاؤن نے مقبوضہ کشمیر میں سنگین صورت حال پیدا کردی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 35 دن سے جاری کرفیو، لاک ڈاون اور مواصلات کی بندش نے مقبوضہ کشمیر میں سنگین صورت حال پیدا کردی ہے۔

پاکستان کے دورے پر آئے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی  نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے چینی وزیر خارجہ کو مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے بھارتی اقدام اور غیر قانونی کارروائیوں سے آگاہ کیا اور چین کےساتھ خطےکےامن واستحکام کیلیے قریبی تعاون جاری رکھنے کےعزم کا اعادہ بھی کیا جب کہ وزیر اعظم نے سی پیک سے مستفید ہونے کے لیے مزید چینی سرمایہ کاروں کا پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ  چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد پر مبنی شراکت داری اور خطے کے امن و استحکام کے لئے ضروری ہے، خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لئے پاک چین مشاورتی عمل جاری رکھا جائے گا جب کہ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کی معاشی بحالی میں انقلابی منصوبہ ہے پاکستان سی پیک کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔

اس موقع پر چینی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم عمران خان کو چینی صدر کی نیک خواہشات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر پاک چین تعلقات کو بہت مظبوط مانتے ہیں، چین اور پاکستان کے تعلقات سخت ٹھوس اور اٹوٹ ہیں، چین موجودہ حالات میں پاکستان سے ہر طرح کا تعاون جاری رکھے گا، بھارت کےایسے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کریں گے جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہو۔

پاک چین اور افغانستان سہ فریقی بات چیت،خوش آئند کوشش

مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ افغانستان بھی اس خطے کا ایک اہم مسئلہ بن ہوا ہے جو دنیا کے امن کو متاثر کر رہا ہے خصوصاً جنوبی ایشیاء کا امن اس کی وجہ سے داوَ پر لگا ہوا ہے،تاہم خوش ;200;ئند امر یہ ہے کہ اسکے حل کےلئے کچھ عرصہ سے کوششیں بھی تیزی ہو چکی ہیں ۔ ان کوششوں میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے،چاہے وہ امریکہ طالبان مذاکرات ہوں ،روس طالبان بات چیت ہو یا پھر چین افغانستان ڈائیلاگ ہو ان سب میں پاکستان پیش پیش رہتا ہے ۔ اس سلسلے میں ہفتہ کے روز بھی سہ فریقی بات چیت کا ایک اہم دور اسلام ;200;باد میں ہوا جس میں پاکستان ، چین اور افغانستان نے افغان امن عمل کے سلسلے میں اقتصادیات، رابطہ سازی، سیکورٹی ، انسداد دہشت گردی اور سفارتی تربیت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ سمیت پانچ نکاتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے ۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، چینی وفد کی قیادت چینی وزیر خارجہ وانگ ژی جبکہ افغانستان کے وفد کی قیادت ان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کر رہے تھے ۔ دوران مذاکرات تینوں وزرائے خارجہ کی طرف سے افغانستان کے مسئلے کے جلد پر امن حل کی امید کا اظہار کیا گیا ۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے افغان قیادت کی سربراہی میں جاری کاوشوں کی حمایت کا عندیہ بھی دیا گیا ۔ بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی افغان امن عمل کے حوالے سے تینوں ممالک میں طے پانے والے5نکاتی اتفاق رائے کی تفصیل بتائی گئی ۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے بتایا نے کہ ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا مرحلہ وار اور ذمہ دارانہ ہونا چاہئے ۔ پاکستان اور چین افغان تنازع کے پرامن حل کیلئے طالبان اور افغان حکومت میں براہ راست مذاکرات کے خواہاں ہیں ،افغان فریقین پرمشتمل مذاکرات کے ذریعے ہی مستقبل کے سیاسی معاہدے کی ضرورت ہے اور فریقین معاہدے تک مذاکرات جاری رکھیں ۔ پاکستان چین اور افغان حکومت کے مابین سہ فریقی بات چیت کا یہ تیسرا دور تھا ۔ قبل ازیں 2017 اور2018 میں دو دور ہو چکے ہیں ۔ سہ ملکی مذاکرات کے پہلے دو ادوار بیجنگ اور کابل میں ہوئے جبکہ تیسرا دور ہفتہ کو اسلام آباد میں ہوا ۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد اقتصادی رابطوں کا فروغ ہے تاکہ سرحد ;200;ر پار تجارتی سرگرمیاں پرامن طریقے سے جاری رہیں ۔ اس سلسلے میں چین نے افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر تاجروں اور لوگوں کی سہولت کے لیے کولڈ اسٹوریج، طبی مراکز، ایمیگریشن کاونٹرز اور واٹر سپلائی اسکیم میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ مشترکہ پریس بریفنگ کے موقع پر افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کہا کہ حکومت امن مذاکرات کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے گی تاہم طالبان کو بھی امن مذاکرات میں اپنے مکمل خلوص کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان اور چینی ہم منصب وزرائے خارجہ کی آمد کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ چین ہمارا دیرینہ ہمسایہ اور آزمودہ دوست ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں سیاسی تعلقات، افغان امن عمل، سیکورٹی تعاون پر بات ہوئی تاہم ہم افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے امید ظاہر کی وہ اگلے مرحلے میں افغانستان اور پورے خطے میں پائیدار امن کیلئے بین الافغان مذاکرات کی جانب پیشرفت کریں گے ۔ سہ فریقی اجلاس میں آئندہ مذاکرات بیجنگ میں کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں افغان امن عمل پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے ۔ یہ سہ ملکی میکانزم انتہائی سود مند فورم ہے ۔ پاکستان اور افغانستان تاریخی اور جغرافیائی طور پر جڑے ہوئے ملک ہیں ،انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ پاک افغان تعلقات آنے والے دنوں میں مزید بہتر ہونگے ۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے پریس کانفرنس میں اجلاس کے انعقاد اور بہترین میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔ چین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امن وا مان کے لیے علاقائی رابطوں کا فروغ ضروری ہے‘‘ ۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے اب تک جتنی بھی کوششیں ہو رہی ہیں گرچہ وہ ابھی تک سود مند ثابت نہیں پا رہیں کیونکہ افغانستان تاحال دہشت گردانہ حملوں سے لرز رہا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ نے ان حملوں کو جواز بناتے ہوئے گزشتہ روز طالبان سے بات چیت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ تاہم اس بات کے امکانات ابھی بھی ہیں یہ تعطل زیادہ دیر نہیں رہے گا اور جلد امریکہ اور طالبان کے درمیان کوئی امن معاہدہ طے پا جائے گا جس سے اس سلسلے ہونے والی دیگر کوششوں کو بھی تقویت ملے گی ۔ افغانستان تنازعہ کے بنیادی فریق تو امریکہ طالبان اور افغان حکومت ہے لیکن بدقسمتی تینوں کے مابین اعتماد کی فضا قائم نہیں ہے جسے بہرحال دور کرنا بے حد ضروری ہے،خصوصاً افغان حکومت کو اعتماد لیے بغیر کوئی معاہدہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ امریکہ، روس پاکستان اور چین فریق بننے کی بجائے ضامن بنیں ۔ اگر افغان حکومت اور طالبان کا اعتماد بحال ہوگا تو ;200;ئندہ کوئی بھی معاہدہ پائیدار ہوگا، بصورت دیگر ہر طرح کی بات چیت کی کوششیں رائیگاں جائیں گی ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ افغانستان کا امن پاکستان اور دنیا کے امن کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس لیے حکومتِ پاکستان سمیت دیگر ممالک کو بھی ان امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے اس طرز کی کوششیں بھی کرنی ہوں گی کہ جس میں افغان حکومت کو بھی اعتماد میں لایا جا سکے ۔ یہاں طالبان قیادت جو امریکہ سے بات چیت کر رہی ہے وہ بھی اپنی کارروائیاں روک کر صرف امن کے لیے ;200;گے بڑھیں ۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ جیسے جیسے افغانستان میں امن مذاکرات کی بات ;200;گے بڑھ رہی ہے دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، جن کے تدارک کےلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر جس طرح امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان سے بات چیت معطلی کا اعلان کیا ہے اور افغان طالبان بھی مکمل طور پر پیچھے ہٹ گئے وہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔

فضائی حدود کی بندش، مزید سخت اقدام کی ضرورت ہے

پاکستان نے بھارتی صدر کی جانب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، اور کہا ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کرفیو ختم نہ ہوا تو اس سلسلے میں مزید سخت اقدام ہوسکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ رام ناتھ آئس لینڈ جانے کیلئے پاکستانی حدود سے گزرنا چاہتے تھے، فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنونیت کی وجہ سے کیا،کشمیر میں بربریت و ظلم جاری ہے، ہم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرکے نہایت محتاط طریقے سے مسئلے کو اٹھایا لیکن بھارت ٹس سے مس نہیں ہو رہا،فضائی اجازت نہ دینے کی منطوری وزیراعظم نے دی ہے، دوسری جانب وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے بھی بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ کشمیر میں اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو اس کے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دیں گے ۔ پاکستان کا یہ فیصلہ احسن بھی اور وقت کا تقاضہ بھی کیونکہ بھارت نے جو کشمیر میں اندھیر نگر مچا رکھی ہے اس کے تدارک کے لئے پاکستان سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ کرے ۔ آخر مظلوم کشمیر بھائیوں کے دکھوں میں پاکستان شریک نہیں ہوگا تو اور کون ہوگا ۔ اگرچہ ایسے اقدامات پوری مسلم ورلڈ کواُٹھانے چاہئیں تاکہ وحشی مودی کو اپنے وحشیانہ اقدامات کے لئے کہیں سے جواز نہ ملے،لیکن دوسری طرف یہ بھی بدقسمتی ہے کہ مسلم ورلڈ پر ایک سکوت سا چھایا ہے ۔ پاکستان یہ ایک ایسا کڑا وار ہے کہ اس کی معیشت کی بنیادیں ہل سکتی ہیں ۔ پچھلے دنوں جب 3ماہ کے لیے فضائی حدود بند کی گئی تو بھارت کی ایک نجی ایئرلائن دیوالیہ ہو گئی ۔ پاکستان کو ایسے مزید سخت اقدامات اُٹھانے چاہئیں تاکہ بھارت پر دباوَ بڑھے اور وہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے پر مجبور ہو ۔

اجیت دوول کا بیان،الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے

بھارت میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے مقبوضہ کشمیر جاری بربریت پر عجیب جواز گھڑا ہے کہ اگر پاکستان اپنا رویہ درست کرے گا اور مبینہ دراندازی بند کردے گا اور اپنے ٹاورز سے مقبوضہ وادی میں سگنلز بھیجنا بند کردے گا تو ہم وادی میں عائد تمام پابندیاں ختم کردیں گے ۔ انہوں نے کشمیر کے سیاسی رہنماءوں کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ ان رہنماءوں کو حفاظتی طو پر قید کیا گیا ہے اور انہیں اس وقت تک قید رکھا جائے گا جب تک کہ جمہوریت کیلئے ماحول سازگار نہیں ہوجاتا ۔ ان کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں تمام پابندیوں کا خاتمہ ہو لیکن اس کا انحصار پاکستان کے رویے پر منحصر ہے ۔ کشمیر میں جاری بھارتی سکیورٹی فورسسزکے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےخلاف دنیا بھر میں آواز بلند ہو رہی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ بھارت کو شدید سبکی کا سامنا ہے مگر ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ وہ الٹا پاکستان پر الزام تراشی کررہا ہے،یہی روش فساد کی اصل جڑ ہے ۔ جب تک بھارت زمینی حقائق کو تسلیم نہیں کرتا تب تک وہ کشمیر کی دلدل میں سکھ کا سانس نہیں لے پائے گا ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا محرم الحرام کے جلوس پر پیلٹ گنز کا استعمال

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محرم الحرام کے جلوس پر بھی پیلٹ گنز اور شیلنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔

جنت نظیر وادی میں مودی حکومت کے کرفیو کو آج 35 روز گزر چکے ہیں، مودی حکومت نے کشمیریوں سے نہ صرف حق خودارادیت کو چھین لیا ہے بلکہ کشمیریوں کی مذہبی آزادی کا حق بھی غصب کرلیا ہے۔

بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی میں محرم الحرام کی مناسبت سے نکلنے والے تمام جلوسوں پر پابندی لگا رکھی ہے جب کہ سری نگرمیں ماتمی جلوس پر آنسو گیس، پیلٹ گنز اور لاٹھی چارج کرکے کئی عزاداروں کو زخمی کردیا گیا۔

دوسری جانب کھانے پینے کی چیزوں اور ادویات کی قلت نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنارکھی ہے ۔ ٹرانسپورٹ، کاروبار، دکانیں اور دفاترمکمل بند ہیں، کرفیواور سخت پابندیوں کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے ۔

پاکستان اور چین کا سی پیک منصوبوں کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق

اسلام آباد:چینی وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان مکمل ہونے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا کہ خطے کی بدلتی صورتحال دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔

چینی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان مکمل ہونے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے وزیراعظم، وزیر خارجہ اور آرمی چیف سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور چین نے مختلف فورمز پر باہمی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا، علاقائی و عالمی تبدیلیوں سے دونوں ممالک کی شراکت داری متاثر نہیں ہوسکتی اور خطے کی بدلتی صورتحال دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات میں رکاوٹ نہیں بن سکتے جب کہ دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی امور پر تعاون کو مستحکم کرنے، سی پیک کے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔

مشترکہ اعلامیہ میں سی پیک منصوبوں سے روزگار کی فراہمی، صنعتی پارکس اور زراعت کے شعبے میں تعاون، دونوں ممالک کا خطے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں اور اسٹریٹجک اعتماد اور سدا بہار تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سی پیک منصوبہ ایک نئے فیز میں داخل ہو چکا ہے۔

مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک کا دوطرفہ قیادت کے دوروں اور ملاقاتوں کا تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا اور دونوں ممالک کا قیادت کے درمیان پائے جانے والے اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کو باہمی مسائل پر ایک دوسرے کی حمایت حاصل ہے،  دونوں ممالک مستقبل میں بھی کمیونٹی کی تعمیر و ترقی میں تعاون جاری رکھیں گے۔

مشترکہ اعلامیہ کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی مضبوطی دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کی ترجیح ہے، چین اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ خطے کے امن و استحکام کے لئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پرامن، مستحکم، معاون اور خوشحالی جنوبی ایشیاء تمام فریقین کے مفاد میں ہے۔

اعلامیہ میں چینی وفد نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک تاریخی تنازعہ ہے اور چین کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کیا جائے، خطے کے فریقین کو باہمی عزت و برابری کی بنیاد پر تنازعات کا پرامن حل نکالنے کی ضرورت ہے، مقبوضہ کشمیر پر کسی بھی یک طرفہ اقدام سے صورتحال خراب ہو سکتی ہے، مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر،سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے جب کہ چین کا پاکستان کی علاقائی خودمختاری، سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے کیے حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔

کتاب ’’حلقہ احباب‘‘ اورسفر آمادہ لوگ!!

’’حلقہ احباب‘‘ بڑا دلچسپ لفظ ہے، آپ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں یہ سارے کاسارا بھید کھل جاتا ہے اور یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ اگر کہاجائے کہ وہ شخص میرے حلقہ احباب میں ہے تومطلب اورنکلتا ہے مثلاً میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ مجیدنظامی میرے حلقہ احباب میں تھے بلکہ میں یہ لکھونگی یاکہوں گی کہ میں مجیدنظامی کے حلقہ احباب میں شامل تھی ۔ کالم کے آخر میں بتائیں گے کہ ہم نے حلقہ احباب سے بات کیوں شروع کی;238; مجھے یاد ہے کہ جن دنوں میں نے مجیدنظامی کی یادداشتوں پرمشتمل کتاب جب تک میں زندہ ہوں لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا توبہت سارے احباب نے منع کیا کہ اس قسم کی کتاب لکھنے کی کوشش اورارادہ انورسدید بھی کرچکے ہیں مگر وہ بھی اس کام کوشروع نہ کرسکے ۔ مجیدنظامی کے حلقہ احباب میں کچھ اورلوگ بھی شامل تھے جو ان کی یادداشتیں مرتب کرنا چاہتے تھے مگر پھر اس بات سے ڈرتے تھے کہ کہیں یہ کام کرتے کرتے نوکری سے ہی ہاتھ نہ دھونا پڑجائے کیونکہ مجید نظامی کی یادداشتیں ان سے مسلسل ملاقاتوں ، سیاست پر بات چیت اورپھر ان کی مختصرکلامی کو ملحوظ خاصر رکھ کرلکھناپڑتی تھی اور پھر مارے احترام کے نہ توبہت زیادہ حجت کی جاسکتی تھی اورنہ ہی یہ کہاجاسکتا تھا کہ فلاں بات سمجھ میں نہیں آئی تو دوبارہ بتادیجئے ۔ یعنی ;69;xposeہی نہیں ہواجاسکتاتھا لیکن ہم نے یہ’’ رسک‘‘ لینے کا ارادہ کیا اورچھ ماہ کے مختصر عرصہ میں کتاب لکھی بھی اورچھپ کربھی آگئی ۔ آج مجید نظامی نہیں ہیں ۔ وقت نیوزبند ہوچکا ہے ۔ نوائے وقت اخبار کے لئے بھی لوگ دعائیں ہی کرسکتے ہیں مگر اچھی بات یہ ہے کہ کتاب’’ جب تک میں زندہ ہوں ‘‘ کی شکل میں مجیدنظامی کی تمام صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ دیگراہم شخصیات سے باتیں اورپھرپاکستان کی تاریخ کے اہم واقعات موجودہیں ۔ ایسی کتابیں اتنی ہی اہم ہوا کرتی ہیں ۔ مجیدنظامی کی کتاب لکھنے کے مرحلے کے دوران کا ایک دلچسپ واقعہ سن لیجئے ۔ میں نے ٹیلی فون لاہور آفس میں ملاقات کے وقت لیناتھا ۔ مجیدنظامی نے کہا آپ پرسوں بارہ بجے آجائیے گا ۔ میں پونے بارہ بجے لاہورآفس پہنچ گئی ۔ مجیدنظامی ایک اہم میٹنگ میں تھے ، میں نے چٹ لکھ کربھیجی ’’نظامی صاحب !بارہ بج چکے ہیں ‘‘ ۔ مجھے فوراً بلالیاگیا بارہ بجنے کا پڑھ کران کے چہرے کے تاثرات میں مسکراہٹ بھی موجودتھی ،کچھ عرصہ کے بعد پھرٹیلی فون پردوبارہ وقت طلب کیاتوکہنے لگے ’’پرسوں بارہ بجے نہیں ڈیڑھ بجے آئیے گا‘‘ اس لطیف کنائے کی بغیروضاحت کئے باقی کے عرصہ میں مسکراہٹوں کے تبادلے کو میں انجوائے کرتی رہی ۔ مجید نظامی کے حلقہ احباب میں ایس کے نیازی بھی شامل ہیں ۔ جن کاتذکرہ ان کی غیرموجودگی میں بھی مجیدنظامی کیاکرتے تھے ۔ ایک مرتبہ دوقومی نظریہ کشمیر کی آزادی اورافواج کے خلاف گفتگو کرکے ملک دشمن عناصر کوتقویت پہنچانے والوں اورنظریاتی، پختگی اورتنزلی جیسے موضوعات پربات ہورہی تھی تومجیدنظامی نے ایس کے نیازی کاذکر کیا کہ وہ مستقبل میں انہی موضوعات کے تحفظ کے لئے کام کرسکتے ہیں ۔ مجیدنظامی مجھے اپنی ’’روحانی بیٹی‘‘تصورکرتے تھے جس کے گواہ جسٹس (ر)میاں آفتاب فرخ بھی تھے جواس دنیا میں نہیں رہے مگر ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر موجود ہے ۔ وقت گزر گیا اورآج میں ایس کے نیازی کی کتاب ’’حلقہ احباب‘‘ کی تزئین وترتیب میں ان کے ساتھ شامل ہوں ،یہ کتاب ایس کے نیازی کے روزنامہ پاکستان میں لکھے گئے کالموں پرمشتمل ہے اوراس کے ساتھ اس کتاب میں کئی اہم باتیں قابل غور ہیں جواگلے کالم میں شامل ہوں گی ۔ اس وقت بات کرتے ہیں ہندوستان کے چاندپرجانے کی کوشش کی جو ناکام ہوگئی ہے مجھے شعریادآرہاتھاکہ ’’انوکھالاڈاکھیلن کومانگے چاند‘‘ اس مرتبہ چاندپرجانے کامشن توناکام ہوگیا مگرمودی ایسا شخص ہے کہ اب اس کوشش کو جاری وساری رکھے گا جب تک اپنی شرمندگی دورنہیں کرلیتا ۔ حالانکہ اگرمودی سرکار کوشرمندگی سے ہی بچنا ہے تو وہ اس خطے کوجنگ میں جھونکنے سے پرہیزکرسکتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیرکے مسلمانوں کوحق خودارادیت دینے پرراضی ہوسکتا ہے ۔ خطے میں امن قائم کرنے کا اعلان اورجنگ وجدل سے دستبرداری اختیارکرسکتاہے مگرمودی اس انداز سے اپنی شرمندگیاں دورنہیں کرے گا بلکہ ہندوستان کے ماہرین اس وقت سرجوڑ کربیٹھ جائیں گے اوراگلے کامیاب تجربے کی طرف جائیں گے تاکہ دنیا کے سامنے فخرکرسکیں اورہندوستان کا یہ رویہ اس لئے ایسا ہے کہ وہ امریکہ کے حلقہ احباب میں ہے کہنے کوتو ایک عرصے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے اس مرتبہ کے دورے کے بعدہ میں یہ محسوس ہونے لگاتھاکہ ہم بھی امریکہ کے حلقہ احباب میں اب آچکے ہیں ۔ مگرپھرکچھ دنوں بعد ہی صدرٹرمپ فرانس کے دورے میں مودی کے ساتھ سولہ سال کے لڑکوں کی طرح ’’ٹھٹھے مذاق‘‘کرتے نظرآئے توایک تویہ یقین نہیں آرہاتھا کہ یہ اتنے بڑے ممالک کے سربراہان ہیں اوردوسرا ان کے چہروں پرجومسکراہٹیں تھیں ان میں کسی طرح کی کوئی معصومیت شامل نہیں تھی، کسی بھی شخص کی ’’باڈی لینگویج‘‘بڑی اہم ہوا کرتی ہے خصوصاً دنیابھرکے سربراہان کی کیونکہ ان کی نیت اورارادوں میں جوبات شامل ہوتی ہے وہ ظاہر ہوجاتی ہے اور دوسرا کون کس کے دباءو میں ہے یہ بات بھی نوٹس کی جاسکتی ہوتی ہے جیساکہ ماضی میں نوازشریف جب بھی امریکہ جاتے تھے تو دباءو میں آجایاکرتے تھے اس کانقصان یہ بھی ہوتاتھا کہ امریکہ جیسے ممالک کا’’ٹہکہ‘‘ تصویردیکھنے والوں پر ہی پڑ جاتاتھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورے میں اس قسم کے تاثر کوختم کردیا اوربڑے اعتماد کے ساتھ تمام فورمز میں شرکت کی اوراس میں وزیراعظم عمران خان کی جلسہ کرنے والی ’’ٹپ‘‘ کوبھی داد دیناپڑتی ہے جس کے بعد خودٹرمپ دباءو میں آگیاتھا اور ہم نے یہاں اورپوری دنیا نے یہ تاثر لیا کہ ہم اب امریکہ کے حلقہ احباب میں ہیں مگریہ علیحدہ بات ہے کہ ہ میں ملحوظ خاطررکھناپڑے گا کہ وزیراعظم عمران خان کی ڈپلومیسی کے بعدماحول توبن گیامگردراصل ہندوستان اورامریکہ آپس میں قریب ہیں اورہم پھربھی ان سے فاصلے پر ہیں اوراس میں چین کے ساتھ دوستی کاعنصر بھی شامل ہے اورگوادر کی ترقی کے ساتھ ہمارامستقبل روشن ہونے کی تکلیف بھی بہت ساری جگہوں پرموجود ہے اورامریکہ کے ان دوروں اورملاقاتوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان نے جارحیت اختیار کرلی ۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے مظالم بڑھانے سے پہلے صدرٹرمپ نے یہ ذکر کردیاتھا کہ ایک راہداری میں مودی نے کشمیر کے مسئلے پربات کی تھی اور ثالثی کرنے کی استدعاکی تھی ۔ اس لئے یہ بات بعیدازقیاس نہیں ہے کہ کھچڑی پک چکی تھی اوراب ساری بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اورپاک افواج نے بھی آخری سانس لک لڑنے کا ارادہ ظاہر کردیاہے ۔ مرتضیٰ برلاس کاشعر ہے کہ

یہ تومجھے معلوم نہیں ، یہ منزل ہے یاجادوہے

اتنی خبر ہے شوق سفراب پہلے سے بھی زیادہ ہے

تپتی ریت ،نکیلے کانٹے، راہیں اوجھل، منزل دور

میراشوق آبلہ پائی ،پھر بھی سفرآمادہ ہے

مقبوضہ کشمیرکامسئلہ اب لوہاگرم ہوجانے کے مقام پر ہے،اب پیچھے ہٹ جانے کی صورت میں ہ میں ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے اس لئے اس وقت یہ کہاجاسکتا ہے کہ خارجہ پالیسی کوایک تسلسل دے کر ضرب لگاتے جائیں اورہم نے اپنے حلقہ احباب یعنی اپنے دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں ۔ باقی سول سوساءٹی بھی اہم کرداراداکرسکتی ہے دنیا اب گلوبل ویلج ہے اورپھرسوشل میڈیاکادور ہے کسی بھی نکتہ نظر کوآگے بڑھانے میں آسانیاں موجود ہیں ہ میں ایران اورروس کواپنے حلقہ احباب میں شامل کرنا ہے یا ان کے حلقہ احباب میں شامل ہونا ہے اوراب جب ایس کے نیازی کی آنے والی کتاب حلقہ احباب کامزیذذکرہوگا توآپ کواندازہ ہوجائے گا کہ جس کے نام کے اتنے معنی نکل رہے ہیں اس کتاب میں کیاکچھ شامل ہوگا ۔ ویسے آج کل ڈیل کی بات ہورہی مجیدنظامی کی کتاب کاواقعہ ہے کہ مجیدنظامی عمرے پرجانے لگے تو’’باس‘‘نے مجیدنظامی کوایوان صدربلایا اور کہاکہ آپ عمرے پرجارہے ہیں تو(نوازشریف) سے ملاقات تو ہوگی ،جائیں اورمسلم لیگ کوایک کریں ۔ مجیدنظامی نے بتایا کہ مشرف نے اس موقع پر کوئی تجویز وعمرہ نہیں دی لہٰذا مجیدنظامی نے کہاکہ ہم آپ کومسلم لیگ ’ن‘ پلیٹ میں رکھ کرنہیں دے سکتے آپ کوئی تجویزنہیں دے رہے;238; مجیدنظامی کی جدہ میں نوازشریف سے ملاقات ہوئی اورجب لیگ کوایک کرنے کی بات ہوئی تو نوازشریف کہنے لگے آپ مذاق تونہیں کررہے;238; یہ تو ڈیل ہوئی نا;238;تومجیدنظامی نے کہا ڈیل تووہ تھی کہ جس کے تحت آپ سرورسس جدہ میں ’’سسرور‘‘ لے رہے ہیں اورشاہی مہمان بنے ہوئے ہیں باقی باتیں اگلے کالم میں مگردیکھیں ہم کیسے کیسے لوگوں کے حلقہ احباب میں شامل ہیں ۔

دورہ پاکستان؛ سری لنکن سینئرز نے کورا جواب دے دیا

لاہور: دورئہ پاکستان سے پریشان سری لنکن سینئر کرکٹرز نے کورا جواب دے دیا۔

پی سی بی رواں سال اکتوبر میں سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریزکی ہوم گراؤنڈز پر میزبانی کا خواہاں تھا،انتظامات کا جائزہ لینے کیلیے ایس ایل سی کا ایک سیکیورٹی وفد بھی کراچی و لاہور آیا اور اطمینان کا اظہار کیا، جس کے بعد چیئرمین احسان مانی نے سری لنکن بورڈ کے صدر سے فون پر بات کی تھی،بالآخر اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا کہ پہلے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی جائے گی، ٹیسٹ سیریز دسمبر میں ہوگی جس کے شیڈول اور وینیو کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

نئے پلان کے مطابق سری لنکا کی ٹیم 25 ستمبر کو کراچی پہنچے گی جہاں 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز 27، 29 ستمبر اور 2 اکتوبر کو نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے، ٹی ٹوئنٹی سیریز کے تینوں میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں 5، 7 اور 9 اکتوبر کو ہونا ہیں۔

دوسری جانب یہ اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ بعض سری لنکن کھلاڑیوں کو دورے پر تحفظات ہیں، اب برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیم کے متعدد سینئر کھلاڑیوں نے پاکستان میں ہونے والی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے سے انکار کر دیا ہے، ون ڈے کپتان ڈیموتھ کرونارتنے، ٹی ٹوئنٹی قائد لسیتھ مالنگا اور سابق کپتان انجیلومیتھیوز کو تاحال قائل نہیں کیا جا سکا۔

سری لنکا کے وزیر کھیل ہیرن فرنانڈو نے تصدیق کی کہ کچھ کھلاڑیوں نے اپنے اہل خانہ کی طرف سے اٹھائے گئے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر کھیلنے سے انکار کیا ہے، انھوں نے کہا کہ سری لنکن کرکٹ حکام پیر کوکھلاڑیوں سے ملاقات کریں گے تاکہ دورے پر راضی کر سکیں۔ وزیر کھیل نے کہا کہ میں پلیئرز سے پہلے ہی کہہ چکا کہ ان کے ساتھ پاکستان جانے کو تیار ہوں۔

یاد رہے کہ بعض سری لنکن کرکٹرز کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیے جانے کے باوجود پی سی بی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کی میزبانی کیلیے تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہے، قذافی اسٹیڈیم میں گھاس کی کٹائی مکمل ہوچکی، اسٹینڈز کا کام بھی شروع ہونے والا ہے، میڈیا باکس کی تزئین و آرائش کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ٹکٹوں کی فروخت یوم عاشور کے بعد شروع ہوگی، پہلے مرحلے میں آن لائن اور پھر نجی کوریئر کمپنی کے ذریعے ٹکٹ دستیاب ہوں گے،کم سے کم قیمت 500 روپے رکھی گئی ہے، وی وی آئی پی انکلوژر کا ٹکٹ 3 ہزار روپے تک میں ملنے کا امکان ہے۔

پی سی بی کے ترجمان پہلے ہی کہہ چکے کہ پاکستان بھجوانے کیلیے کھلاڑیوں کا انتخاب اور ان کے تحفظات دور کرنا سری لنکن بورڈ کا کام ہے،ہماری طرف سے تیاریاں مکمل ہیں۔

وکیل تھپڑکیس؛ لیڈی کانسٹیبل نے انصاف نہ ملنے پر ملازمت سے استعفی دے دیا

شیخو پورہ: وکیل کے ہاتھوں تھپڑ کھانے والی لیڈی کانسٹیبل نے انصاف نہ ملنے پر پولیس کی نوکری سے ہی استعفی دے دیا۔

ا فیروزوالہ کچہری میں ڈیوٹی کے دوران طاقت کے نشے میں چوُر وکیل احمد مختار سے تھپڑ کھانے والی لیڈی کانسٹیبل فائزہ نے اپنے ہی محکمے کے ہاتھوں دھوکا کھانے اور انصاف نہ ملنے پر نوکری سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اس حوالے سے اپنے وڈیو بیان میں فائزہ نے کہا کہ میں نوکری عوام کی خدمت کرنے کے لیے کر رہی تھی لیکن مجھے ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، میں کمزور عورت ہوں جو میرا جرم ہے۔ اس مافیا کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔  سمجھ نہیں آرہی کہ کہاں جاؤں یا خودکشی کرلوں۔ ریاست مدینہ پاکستان میں مجھے انصاف ملتا نظر نہیں آرہا، اس لئے محکمہ پولیس سے استعفی دے رہی ہوں۔

واضح رہے کہ فیروزوالہ کچہری میں ڈیوٹی پر موجود لیڈی کانسٹیبل کو وکیل احمد مختار نے بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھپٹر مارا اور گالی گلوچ کی جب کہ پولیس نے اپنی ہی ساتھی کانسٹیبل سے ہاتھ کر دیا۔ ڈی پی او شیخوپورہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھالیکن سب انسپکٹر نے اندراج مقدمہ کے وقت غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور وکیل کا نام احمد مختار کے بجائے احمد افتخار لکھ دیا۔ عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا بھی کردیا ہے۔

Google Analytics Alternative