Home » 2019 » September » 10

Daily Archives: September 10, 2019

عالمی برداری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر لاتعلق نہیں رہنا چاہیے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی تشویش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی برادری کے ردعمل اور تشویش کا خیر مقدم کرتے ہوئے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی رہنماؤں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز اور اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق میشیل باچلیٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں چھ ہفتے سے جاری کرفیو کو ختم کیا جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عالمی برداری کو مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کے بہیمانہ مظالم اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔

عمران خان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ اب عمل کا وقت آگیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر غیر جانبدار انکوائری کمیشن بنایا جائے۔ عمران خان نے کہا کہ خود اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اپنی گزشتہ 2 رپورٹس میں ایسا تحقیقاتی کمیشن بنانے کی سفارش کی تھی۔

آرمی چیف سے امریکی سینٹ کام کمانڈر کی وفد کے ہمراہ ملاقات

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینٹ کام کمانڈر جنرل کینتھ میک کینزی نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینٹ کام جنرل کینتھ میک کینزی نے ملاقات کی جس میں افغانستان، کشمیر،علاقائی سلامتی کی صورتحال اور جیو اسٹریٹیجک حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات میں امریکی سینٹ کام کے کمانڈر کے ساتھ دیگر امریکی حکام بھی موجود تھے۔

اقوام متحدہ کو باتوں سے آگے بڑھ کرمقبوضہ کشمیر کے لیے کچھ کرنا ہوگا، پاکستان

نیو یارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر کے لیے باتوں سے آگے بڑھ کر کچھ کرنا ہوگا۔

امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں ملیحہ لودھی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ فلسطین کے مسئلے جیسا ہے دونوں ہی متنازع علاقے ہیں، دونوں میں لوگوں کو محصور کردیا گیا ہے۔ دونوں علاقے اقوام متحدہ کے ایجنڈے کے پرانے مسئلے ہیں۔

ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت سے سب آگاہ ہیں، مقبوضہ وادی میں پیلٹ گنز کے استعمال سے نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مقبوضہ وادی سے آنے والی رپورٹس وہاں پر جاری بدترین تشدد دکھاتی ہیں، مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی آزادی کو مکمل ختم کردیا گیا ہے۔

پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدام سے مقبوضہ وادی میں بڑے انسانی المیے کا خطرہ ہے۔ مغربی میڈیا سمیت بین الاقوامی توجہ مسئلہ کشمیر پر ہے، کشمیریوں کی حالت زار پر بین الاقوامی تنظیمیں بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کو باتوں سے آگے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔

ٹرمپ کاطالبان سے امن مذاکرات کی منسوخی کاغیرمناسب فیصلہ

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات ہونے جارہے تھے طالبان کے مطابق معاہدے کی تاریخ 23ستمبر طے تھی تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کرنے کے اعلان کے ساتھ ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی خفیہ ملاقات کو بھی منسوخ کردیا ہے، طالبان نے کہا کہ زیادہ نقصان امریکہ کو ہی ہوگا ۔ ٹرمپ نے کہاکہ مذاکرات کے اہم مرحلے پر کابل میں حملہ کیا گیا جس میں ایک فوجی اور متعدد افراد ہلاک ہوگئے ۔ اگر طالبان فائربندی پر متفق نہیں ہوسکتے تو انہیں مذاکرات کا بھی کوئی حق نہیں ۔ آخر طالبان کتنی دہائیوں تک جنگ لڑنا چاہتے ہیں ۔ طالبان نے کہاکہ مذاکرات پایہ تکمیل تک پہنچ چکے تھے اب بھی ہم مفاہمت کی پالیسی پر قائم ہیں ، یقین ہے کہ امریکہ دوبارہ مذاکرات کا راستہ اپنائے گا ۔ جبکہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کو پیشکش کی ہے کہ وہ ہم سے جنگ نہیں مذاکرات کریں ۔ افغان حکومت اپنے اتحادیوں کی مخلص کوششوں کو سراہتا ہے ۔ اصل معنوں میں امن تب ہی ممکن ہے جب طالبان دہشت گردی روک کر حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں تب ہی امن آئے گا ۔ طالبان کو جنگ بندی کیلئے راضی ہو جانا چاہیے ۔ خطے میں قیام امن کیلئے ان مذاکرات کا کامیاب ہونا انتہائی اہمیت کا حامل تھا اب بین السطور ایسی کیا وجوہات تھیں جس کی بنا پر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ۔ بظاہر تو کابل کا حملہ دکھائی دیتا ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ فریقین کو صبر سے کام لینا چاہیے تھا اور ایسے موقع پر امریکہ کو بھی چاہیے کہ وہ سپر پاور ہونے کے ناطے اپنا دل بڑا رکھے اور طالبان کیلئے بھی ضروری تھا کہ وہ امن مذاکرات عمل کے دوران ایسا کوئی حتمی قدم نہ اٹھاتے جس کی وجہ سے حالات خراب ہوگئے ہیں ۔ فریقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی طرح بھی مذاکرات کو دوبارہ شروع کریں ۔ چین نے بھی کہا ہے کہ خطے میں امن و امان کیلئے فریقین مذاکرات پر آمادہ ہوں ۔ پاکستان کی بھی یہی کوشش رہی ہے اور ہے کہ مسائل کو مذاکرات سے حل کیا جائے ۔ دنیا کے بڑے بڑے جتنے بھی مسائل رہے ہیں وہ آخر کار مذاکرات سے حل ہوئے ۔ چونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان کی مدد بھی طلب کی تھی اس حوالے سے پاکستان حتی الامکان کوشاں تھا کہ یہ سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں حل ہو جائے اور معاملات بہت حد تک حل ہونے کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن ایک حملے نے سارا مسئلہ تلپٹ کرکے رکھ دیا ۔ اب وقت کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور افغانستان کی جتنی بھی اتحادی قوتیں ہیں وہ ان دونوں کو مذاکرات کی میز پر لائیں چونکہ طالبان نے کہہ دیا ہے کہ ان حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں دہشت گردی بڑھے گی اور طالبان بھی افغانستان میں حملوں میں اضافہ کردیں گے ۔ ویسے بھی آمدہ دنوں میں موسم سرما کا آغاز ہونے جارہا ہے اور ایسے موسم میں افغانستان میں طالبان کے حملے تیز ہو جاتے ہیں ۔ افغانستان کی تاریخ واضح طورپر بتاتی ہے کہ افغانیوں نے آج تک کسی بھی حملہ آور کو قبول نہیں کیا ، ماضی قریب میں ہی دیکھ لیا جائے تو روس کیخلاف وہ عرصہ دراز سے نبردآزما رہے ہیں اور آخر کار روس کو ہی ہزیمت کی صورت میں واپس جانا پڑا ۔ اب امریکہ نے یہاں پر قدم براجماں کیے ہیں لیکن ٹرمپ بھی یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی افواج کو کسی نہ کسی صورت یہاں سے نکال کر لے جائیں تو ایسے میں مسئلہ صرف صبرو تحمل سے ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔ مذاکرات کے علاوہ کوئی بھی راستہ اپنایا گیا تو اس سے حالات مزید اور خراب ہوں گے اور خطہ بھی جنگ میں جھونک دیا جائے گا ۔ دونوں جانب کا جانی اور مالی نقصان بھی ہوگا ۔

مسئلہ کشمیر،چین کی جانب سے

اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت

چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین جزو ہیں ، سی پیک پاکستانی معیشت کے استحکام کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ وزیر اعظم سے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، و زیر اعظم نے کہا چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین جزو ہیں ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے ;200;گاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 35 دن سے جاری کرفیو سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔ مقبوضہ وادی میں جاری کرفیو اور دیگر پابندیاں فوری اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سی پیک پاکستانی معیشت کے استحکام کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے چینی صدر اور وزیر اعظم کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ پاک چین تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی دوستی کا مظہر ہیں ۔ قومی ترقی کے مقاصد کے حصول کی جانب پاکستانی اقدامات قابل تحسین ہیں ۔ چینی وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں یک طرفہ بھارتی اقدام کی مخالفت کا اعادہ کیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک تاریخی تنازعہ ہے اور چین کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کیا جائے، خطے کے فریقین کو باہمی عزت و برابری کی بنیاد پر تنازعات کا پرامن حل نکالنے کی ضرورت ہے، مقبوضہ کشمیر پر کسی بھی یک طرفہ اقدام سے صورتحال خراب ہو سکتی ہے، مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر،سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے جب کہ چین کا پاکستان کی علاقائی خودمختاری، سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے کیے حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ۔ ملاقات میں خطے کے امن و استحکام اور ترقی کیلئے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق چین نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کشمیر کامسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر ، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن انداز میں حل ہونا چاہیے، افغان طالبان سمیت فریقین افغانستان میں جلد امن و استحکام کو یقینی بنانے کےلئے افغانوں کے مابین مذاکرات کا آغاز کریں جبکہ پاکستان اور چین نے اتفاق کیا ہے کہ نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے منزل کے حصول کےلئے قریبی پاک چین کمیونٹی کے قیام میں پرعزم ہیں ۔ خطے میں تمام فریقوں کو مذاکرات، مساوات اور باہمی تعاون کے اصولوں کے مطابق اپنے تنازعات کو حل کرنا چاہیے ۔ چینی وزیر خارجہ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی ۔ ان ملاقاتوں کے دوران فریقین میں دوطرفہ علاقائی، بین الاقوامی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ دونوں فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ۔

بین الاقوامی برادری وادی

میں بھارتی مظالم کوروکے

مقبوضہ وادی میں کرفیو اور لاک ڈاءون کو 35 روز ہوچکے ہیں ، روز مرہ کی زندگی قطعی طورپر معطل ہے، مواصلات ، نیٹ اور دیگر سہولیات ناپید ہوچکی ہیں ، محرم الحرام میں بھی بھارت نے کشمیریوں کی مذہبی آزادی سلب کرلی ہے ۔ عزاداروں اور فورسز کے مابین جھڑپوں کے دوران چھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے، وادی میں باقاعدہ طورپر لاءوڈ اسپیکر سے دھمکیاں اور شہریوں کو گھر میں پابند رہنے کی ہدایات دی جارہی ہیں ۔ محرم کے پہلے عشرے کے دوران مقامی مسلمانوں نے ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن بھارتی دستے شرکا کو جلوس کی صورت میں شہر میں نکلنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہ تھے ۔ خلا ف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں ۔ محرم الحرام کے جلوسوں پر پیلٹ گن اور شیلنگ کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے، بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت ان مظالم کو روکے، اگر حالات اسی طرح چلتے رہے اور مودی کو روکا نہ گیا تو خطہ پہلے ہی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اب ذرا سی بھی غلطی پورے خطے کو جنگ میں جھونک سکتی ہے جس سے صرف پاکستان یا بھارت کا ہی نہیں پوری دنیا کا نقصان ہوگا ۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنے امن دستے وادی میں بھیجے اور بھارت کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہاں پر عام زندگی بحال کی جائے ۔

بھارت کشمیر میں کرفیو ختم اور بنیادی سہولیات فراہم کرے، اقوام متحدہ ہائی کمشنر

جنیوا: اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق میشیل باچلیٹ نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو میں نرمی کرے اور کشمیریوں کو بنیادی سہولتوں تک رسائی فراہم کرے۔

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق میشیل باچلیٹ نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات سے انسانی حقوق متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور ذرائع مواصلات معطل ہیں، پرامن مظاہروں پر پابندی ہے اور سیاسی رہنماوٴں کو بند کردیا گیا ہے۔

میشیل باچلیٹ نے بھارت پر زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو میں نرمی کرے اور کشمیریوں کو بنیادی سہولتوں تک رسائی فراہم کرے، کشمیر کے مستقبل سے متعلق ہر فیصلے میں کشمیریوں کو شامل کیا جائے۔

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر نے بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں سمیت 19 لاکھ سے زائد افراد کی شہریت منسوخ کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ میشیل باچلیٹ نے کہا کہ آسام میں 19 لاکھ افراد کی شہریت کی منسوخی نے غیر یقینی اور پریشانی کو جنم دیا، بھارت شہریت منسوخی کیخلاف اپیلوں کے دوران قانونی ضابطوں پر عملدرآمد یقینی بنائے اور متاثرہ افراد کو ملک بدر یا قید نہ کرے۔

میدانِ کربلا اور فلسفہ شہادت

آج ےوم عاشور ہے ۔ عاشور اسلامی سال کے پہلے عشرے کے آخری دن کو کہتے ہےں ۔ 10محرم 61ھ کو تارےخ اسلام کا وہ دردناک سانحہ برپا ہو گےا کہ جس نے پوری انسانےت کو لرزہ بر اندام کر دےا ۔ مصائب و آلام سے بھری اس دنےا مےں کوئی سانحہ اےسا رونما نہےں ہوا جس پر صدےوں تک آنسو بہائے جائےں ۔ کوئی بھی دلدوز منظر دےکھ اور سن کر رنجےدہ و غمگےن ہونا فطری امر ہے لےکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اثرات کی حدت وشدت کم ہوتی چلی جاتی ہے لےکن جو قربانی10محرم الحرام کو فرات کے کنارے حضرت امام حسےن;230; نے پےش کی اس کی شان ہی نرالی ہے ۔ تارےخ اسلام ہر سال کے آغاز پر اسی طرح دہراتی رہے گی اور جوان مردی پر صدق دل سے انہےں خراج تحسےن پےش کرتی رہے گی ۔ 61ھ سے پہلے کا منظر ہے،اےسا دلفرےب و پاکےزہ منظر، فضائےں معطر،ہوائےں آسمانی نغموں سے معمور،فرشتے خوشی ومسرت سے سرشار پروردگار عالم کی تقدےس کرتے ہوئے ادھر سے ادھر محو پرواز ہےں ،کائنات مسحور کن کےفےتوں کاشاہکار بنی آسمانی ضےاء پاشےوں سے جگمگا رہی ہے ۔ چاند اور تارے نئی چمک و دمک سے جھلملا رہے ہےں ،شہر کی روشنےاں نرالی آب و تاب سے مزےن ہےں ۔ رب کعبہ کا بندہ اعظم آنے والے بچے کے احترام مےں سر بسجود ہے،کےوں نہ ہوآج خدا کا حسےن ترےن شاہکار عالم وجود مےں آنے والا ہے،ےکاےک فاطمہ;230; کا حجرہ مبارک نور سے جگمگا اٹھا اور درو دےوار روشن ہو گئے ۔ رسول خدا ﷺ نے بچے کو زانو پر لٹا کر اس کے گلے کا بوسہ دےا اور فرماےا کہ مےرا ےہ بےٹا جس کے کارنامے کو دنےا ہمےشہ ےاد رکھے گی ۔ علی کرم ا;203; وجہہ تمہےں ےہ بےٹا مبارک ہو ۔ آپ;248; نے ےہ پشےن گوئی کر دی تھی کہ اےک وقت اےسا آئے گا کہ مےری ہی امت کے لوگ مےرے حسےن;230; کی گردن پر تلوار چلائےں گے ۔ آخر وہ وقت آگےا ۔ دشت کرب و بلا مےں وہ قافلہ لٹ گےا جو روئے زمےن پر سب سے مقدس قافلہ تھا،اےک پاکےزہ گھرانہ اجڑ گےا جس کے دم سے ےہ کائنات بس رہی ہے،وہ جوان شہےد کر دیے گئے جن کی شرافت کی قسم ملاءک کھاتے تھے،وہ معصوم بچے ذبح کر دیے گئے جنہےں حوران بہشتی لوری دےا کرتی تھےں ، وہ عفےفہ بےبےاں بے حجاب کر دی گئےں جن سے زمانے نے حےاء پائی ۔ رحمت دوعالم نے بچے کو زانو پر بٹھا کر جو فرما ےا تھا اور جو پشےن گوئی کی تھی وہ سچی ثابت ہوئی ۔ اےک آواز تھی جو کربلا کی صحراءوں کو چےرتی ہوئی ابھری،جس نے فضاءوں مےں ارتعاش پےدا کر دےا، پرندے ٹھہر گئے،ہوائےں ساکن ہو گئےں ، دھوپ کی رنگت زرد پڑ گئی ۔ ےہ امن کے شہزادے حسےن;230; ابن علی;230; کی آواز تھی جو کہہ رہی تھی’’ لوگو مےرا حسب نسب ےاد کرو،اپنے گرےبانوں مےں منہ ڈالو،اپنے ضمےر کا محاسبہ کرو،کےا تمہارے لئے مےرا قتل کرنا اور مےری حرمت کا رشتہ توڑنا روا ہے ۔ ۔ ۔ ;238; کےا مےں تمہارے نبی;248; کی بےٹی کا بےٹا اور ان کے عم زاد کا بےٹا نہےں ہوں ;238; کےا سےد الشہداء حضرت حمزہ;230; مےرے چچا نہےں تھے;238; کےا تم نے رسول;248;کا وہ مشہور قول نہےں سنا کہ حسن;230; اور حسےن;230; جوانان جنت کے سردار ہےں ;238; لےکن اعدائے حسےن;230; کے کان سماعت سے محروم ہو چکے تھے ۔ نو اور دس کی درمےانی رات اپنی سےاہ زلفےں بکھےر چکی ہے صحرائے کربلا مےں دسوےں رات کے چاند کی اداس کرنےں کہہ رہی ہےں کہ اے کربلا کی سر زمےن تےری پشت پر اس قافلے کی ےہ آخری رات ہے کل ےہ پےاسا قافلہ لٹ جائے گا زہرائے ثانی زےنب;174; سےد سجاد کی تےمار داری مےں مصروف ہےں ۔ اچانک اس صابرہ کے ہاتھ سے دامن صبر جاتا رہا،ساتھ والے خےمے سے امام مظلوم کی آواز آرہی ہے ۔ ’’ اے زمانے تےرا برا ہو، تو کےا بے وفا دوست ہے صبح شام تےرے ہاتھ سے کتنے مارے جاتے ہےں ،تو کسی کی رعاءت نہےں کرتا،کسی سے عوض قبول نہےں کرتا اور سارا معاملہ ا;203; کے ہاتھ مےں ہے،ہر زندہ موت کی راہ پر چلا جا رہا ہے ۔ ‘‘امام عالی مقام;230; نے اپنے وفا شعار عزےزوں ،بھائےوں اور اعےان و انصار سے فرماےا کہ آج کسی شخص کے ساتھ اےسے وفا شعار اور نےکوکار نہےں ہےں جےسے مےرے ساتھی اور کسی کے اہلبےت مےری اہلبےت سے زےادہ ثابت قدم نظر آتے ہےں ۔ مےرے وفادار ساتھےو! مےری طرف سے آپ پر کوئی دباءو نہےں ،مےں جانتا ہوں کہ ےہ مےدان کارزار مےرا مقتل بننے والا ہے دشمن مےرا طلبگار ہے جب وہ مجھے پا لےں گے تو پھر وہ کسی سے تعرض نہ کرےں گے ۔ مےری طرف سے تم آزاد ہو اپنی اپنی آبادےوں اور شہروں مےں پھےل جاءو ۔ امام عالی مقام تقرےر فرما رہے ہےں اور حاضرےن کی آنکھوں مےں آنسو تےر رہے ۔ ہےں ان کے تمتماتے چہرے بتا رہے ہےں کہ ان کے سےنوں مےں اےک لاوا ہے جو ابھی پھٹ پڑے گا ۔ تقرےر کے خاتمہ پر سب بول اٹھے ہم آپ پر اپنی جان ومال،آل اولاد سب کچھ قربان کر دےں گے ۔ آپ کے بعد خدا ہمےں زندہ نہ رکھے ۔ آخر دسوےں محرم کا سورج طلوع ہوا جس نے اس سے قبل خطہ ارض پر اےسا ظلم نہ دےکھا تھا ،نبی;248; کا نواسہ جس کے گلے پر سرتاج انبےاء نے بوسے دیے تھے آج دشمن نے اس کی گردن کے خون سے اپنی تلوارےں سرخ کر لےں ۔ کربلا کی فضاءوں مےں وہ منظر آج بھی تابندہ ہے کہ کسی کی کمان مےں تےر تھا کسی کے ہاتھ مےں پتھر اور کسی کے ہاتھ مےں تلوار لشکر حسےن;230; پر پھےنکنے کےلئے ۔ کوئی اپنی جان کا نذرانہ لے کر دشمن کے لشکر سے بھاگا آ رہا تھا کہ قدموں مےں لوٹ کر سعادتوں سے جھولےاں بھرے ۔ حر;230; کے ےہ الفاظ جو اس نے اوس بن حاجر کے جواب مےں کہے تھے تارےخ کا درخشاں حصہ بن گئے کہ’’ مےں بخدا جنت ےا دوزخ سے اےک کا انتخاب کر رہا ہوں اور ا;203; کی قسم مےں نے اپنے لئے جنت کا انتخاب کر لےاہے اگرچہ مجھے اس کے عوض ٹکڑے ٹکڑ ے کر دےا جائے‘‘ ۔ حر جو ابھی تھوڑی دےر پہلے جہنم کے دہانے پر کھڑا تھا آن واحد مےں جنت کے سبزہ زاروں مےں پہنچ گےا ۔ اس کی آنکھوں سے بہنے والے ندامت کے آنسوءوں نے جہنم کے لپکتے بھڑکتے شعلوں کو سرد کر دےا ۔ حر کو تسکےن قلبی مل گئی ۔ کربلا کے صحرا مےں اےک طرف مادی وسائل کا مظاہرہ تھا تو دوسری طرف ارفع خصائل کی نمود ۔ آپ نے شبےہ رسول;248; کی نعش تپتی رےت پر تڑپتے دےکھی ۔ ننھے علی اصغر کو دم توڑتے دےکھا،بھائی کی امانت قاسم کے لاشے کو سمےٹ کر لائے،عباس علمدار جےسے بہادر کی مفارقت کی پروا نہ کی،اپنے فرض کو ادا کےا اور مستقبل کےلئے تلاش حق کی منزل مےں نشان راہ متعےن کر دےئے ۔ ان کی ےہی قربانی جادہ حق کے راہبروں کےلئے مےنارہ نور اور نشان منزل ہے ۔ آخرکار لشکر اعداء تنہا حسےن;230; پر ٹوٹ پڑا،تشنہ لب حسےن;174; اب بھی پہاڑ کی طرح ثابت قدم تھے مسلسل وار سہہ رہے تھے کہ تےر آےا اور آپ;174; کے حلق مےں پےوست ہو گےا ۔ تےر کھےنچا ہاتھ منہ کی طرف اٹھا تو چلو خون سے بھر گئے ۔ خون آسمان کی طرف اچھال دےا اور فرماےا’’ ا;203; تےرا شکر ہے،مےرا شکوہ تجھی سے ہے،دےکھ تےرے رسول;248; کے نواسے سے کےا ہو رہا ہے‘‘ ۔ ےہ تارےخ کے سےاہ ترےن اوراق ہےں اور ظلم کی بدترےن مثال کہ شہادت کے بعد آپ;248; کے نواسہ کو گھوڑوں تلے پامال کر دےا گےا اور سر اقدس کو نےزے کی نوک پر بلند کےا ۔ امام مظلوم نے نےزے کی نوک پر کتاب ا;203; کی تلاوت فرما کر شہےد کی حےات جاوداں کی تصدےق فرما دی ۔ آپ;248; کی شہادت پر حضرت زےد ;230;بن ارقم کے ےہ الفاظ کبھی فراموش نہےں کئے جا سکتے جو انہوں نے آپ;230; کا کٹا ہوا سر دےکھ کر ابن زےاد کے دربار مےں کہے تھے’’ اے عرب! آج سے تم غلام ہو تم نے ابن فاطمہ;230; کو قتل کےا ابن مرجانہ عبےدا;203; ابن زےاد کو حاکم بناےا وہ تمہارے نےک انسان قتل کرتا اور تمہارے شرےروں کو غلام بناتا ہے،ا;203; تمہےں تباہ کرے جو ذلت قبول کرتے ہےں ‘‘ ۔ امام عالی مقام نے اپنی اور ساتھےوں کی قربانےاں دے کر دنےا پر ےہ حقےقت آشکار کی کہ غصب و ناجائز طرےقے سے جو حکومت بھی قائم ہو ارباب عزےمت کا فرض ہے کہ اس سے اپنی بےزاری کا اظہار کرےں اور اس کے راستے مےں دےوار بن جائےں اس کےلئے خواہ کتنے ہی ظلم سہنے پڑےں ۔ حق وباطل مےں ازلی آوےزش کا ےہ آخری معرکہ درےائے فرات کے کنارے جس انداز مےں حسےن;230; ابن علی;230; نے لڑا دنےا کی تارےخ اس کا جواب پےش نہےں کر سکتی ۔ آپ;230; نے ظلم وجور اور فسق و فجور کے بڑھتے ہوئے طوفان کے آگے اپنے مقدس خون سے وہ سرخ لکےر کھےنچ دی جسے قےامت تک طاغوتی قوتےں نہ مٹا سکےں گی ۔ آ ج دنےا مےں جمہورےت اور اقتدار اعلیٰ تک پہنچنے کےلئے جو بھی اخلاقی، سماجی اور سےاسی اصول و ضوبط اور قوانےن موجود ہےں ان کی اساس در اصل وہی قربانی ہے جو کربلا کے مقام پر امام حسےن;230; اور ان کے ساتھےوں نے دی ۔

معدے میں تیزابیت سے نجات کے لیے بہترین غذائیں

معدے میں تیزابیت کا مسئلہ کسی کو کسی بھی وقت لاحق ہوسکتا ہے جس کے دوران معدے میں گیس اور سینے میں جلن جیسی شکایات کا سامنا ہوتا ہے۔

اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جس میں سب سے عام کھانے کے اوقات میں بہت زیادہ وقفہ، بہت زیادہ مرچ مصالحے والی غذا یا چائے کو بہت زیادہ پینا وغیرہ ہیں۔

مگر کچھ غذائیں ایسی ہیں جو آسانی سے کچن میں دستیاب ہوتی ہیں اور تیزابیت سے فوری نجات میں مدد بھی دیتی ہیں۔

کیلے

کیلے معدے میں تیزابیت کے لیے قدرت کا بہترین تحفہ ہیں، پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ یہ پھل تیزابیت کے خلاف موثر ثابت ہوتا ہے، اگر آپ اکثر تیزابیت کا شکار رہتے ہیں تو روزانہ ایک کیلا کھانا عادت بنالیں، سینے میں جلن کا احساس ہو تو بھی اسے کھالیں۔

دارچینی

یہ مصالحہ معدے کی تیزابیت کے خلاف کام کرتا ہے اور معدے کی صحت ہاضمے اور غذا کو جذب کرنے میں مدد دے کر کرتا ہے۔ معدے میں تیزابیت کو دور کرنے کے لیے دار چینی کی چائے مفید ثابت ہوتی ہے۔

چھاچھ

چھاچھ کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے جو معدے میں تیزابیت کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتی ہے، زیادہ مرچ مصالحے والا کھانا یا بہت زیادہ مقدار میں کھانے کے بعد ایک گلاس چھاچھ میں کچھ مقدار میں کالی مرچ پاﺅڈر یا زیرے کا سفوف ملا کرپینا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

ناریل کا پانی

ناریل کا پانی جسم میں تیزابیت کی سطح کو معمول پر لانے کے ساتھ ساتھ معدے کو تیزابیت کے اثر سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

ٹھنڈا دودھ

ٹھنڈا دودھ معدے میں موجود سیال کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے، دودھ کیلشیئم سے بھرپور ہوتا ہے جو معدے میں تیزابیت کی اضافی مقدار کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، یہ معدے میں تیزابیت سے نجات کی سب سے سادہ اور موثر طریقہ ہے، بس دودھ کا ٹھنڈا گلاس لیں اور پی لیں۔

سونف

اگر اکثر معدے میں تیزابیت کی شکایت رہتی ہے تو ہر کھانے کے بعد کچھ مقدار میں سونف کو کھالیں، سونف کی چائے بھی غذائی نالی کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہے جبکہ بدہضمی اور پیٹ پھولنے کے مسئلے سے بچنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

الائچی

الائچی کھانے کی عادت نظام ہاضمہ کو متحرک کرتی ہے اور پیٹ کے درد سے ریلیف بھی ملتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ معدے میں تیزابیت کی اضافی مقدار کے نقصان دہ اثرات سے بھی تحفظ ملتا ہے۔ اگر تیزابیت کی شکایت ہو تو 2 الائچی لیں اور اسے کچل کر پانی میں ابال لیں، اسے ٹھنڈا کریں اور پی لیں، فوری ریلیف ملے گا۔

گڑ

گڑ میں میگنیشم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو آنتوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے نظام ہاضمہ بھی بہتر ہوتا ہے۔ کھانے کے بعد کچھ مقدار میں غر کھالینا معدے کو تیزابیت اور گرمی سے بچاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

جاپان میں طوفان ’فکسائی‘ سے نظام درہم برہم، درجنوں پروازیں منسوخ

جاپان میں آنے والے فکسائی طوفان نے تباہی مچادی جس سے درجنوں پروازیں منسوخ اور بجلی سمیت ٹرانسپورٹ کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جاپان میں آنے والے طاقتور طوفان کے باعث درجنوں پروازیں منسوخ ہونے سے ہزاروں مسافر ہوائی اڈوں پر پھنس گئے جب کہ طوفان کے نتیجے میں 10 لاکھ کے قریب گھر بجلی سےمحروم ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طوفان کے نتیجے میں پیر کے روز جاپان کے ساحلی شہر چھیبا میں موسلا دھار بارشیں ہوئی اور 120 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں جس سے شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔

طوفان نے ٹوکیو شہر کو بھی متاثر کیا جس سے شہر میں ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج ہوگیا جس کے باعث شہر کے بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر بلٹ ٹرین اور سب وے سروسز کے لیے مسافروں کا جم غیر جمع ہوگیا۔

طوفان کے باعث ٹوکیو شہر میں متاثر ہونے والی ٹرین سروس عارضی بحال ہوگئی ہے تاہم تمام ٹرینیں تاخیر کا شکار ہیں جب کہ ٹوکیو کے ائیرپورٹس سے چلنے والی 100 سے زائد پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں، اس کے علاوہ ٹوکیو اور یوکوماہا سے ہنیڈا ائیرپورٹ تک چلنے والی تمام ٹرینیں بھی منسوخ ہیں۔

فوٹو: بشکریہ سی این این

طوفان کے باعث ٹوکیو کے نریتا ائیرپورٹ پر 7 ہزار کے قریب مسافر پھنس گئے، ہائی ویز بلاک اور ریلوے سروس معطل ہیں جب کہ پروازوں سے آنے والے مسافروں کے لیے ائیرپورٹ سے دوسرے مقام تک جانے کے لیے کوئی ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں۔

حکام نے ٹوکیو پورٹ سے جانے والے بحری جہازوں کو بھی روک دیا ہے جب کہ 10 لاکھ سے زائد گھر بجلی سے محروم ہوگئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طوفان کے نتیجے میں ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں تاہم 10 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

طوفان سے قبل حکام کی جانب سے شہریوں کو سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے خبردار کرتے ہوئے انہیں گھروں میں رہنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی گئیں۔

Google Analytics Alternative