Home » 2019 » September » 12

Daily Archives: September 12, 2019

اختلافی آواز کو دبانا جمہوری نظام کیلیے خطرہ ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا اور جب ضروری ہوا تب عدالت ازخود نوٹس لے گی۔

اسلام آباد میں نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ میں نے تقاضا کیا تھا کہ انتظامیہ اور قانون سازعدالتی نظام کی تنظیم نو کے لیے نیا تین تہی نظام متعارف کروائیں لیکن حکومت اور پارلیمنٹ نے عدالتی نظام کی تنظیم نو کی میری تجویز پر غور نہیں کیا، سپریم کورٹ جوڈیشل ایکٹوازم کی بجائے عملی فعل جوڈیشل ازم کو فروغ دے رہی ہے، لیکن سوسائٹی کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹوازم میں عدم دلچسپی پرناخوش ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تقریر میں کہہ چکا ہوں کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا اور جب ضروری ہوا یہ عدالت سوموٹو نوٹس لے گی، آئندہ فل کورٹ میٹنگ تک از خود نوٹس کے استعمال سے متعلق مسودہ تیار کر لیا جائے گا، ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردارادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ سوموٹوسےعدالتی گریززیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اختلاف کو برداشت نہ کرنے سے اختیاری نظام جنم لیتا ہے، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بداعتمادی کو جنم دیتا ہے، بد اعتمادی سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کے بارے میں کہا کہ قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی بھی توقع نہ رکھی جائے اور کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھے گی، سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران اور چیئرمین اپنے حلف پرقائم ہیں، کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور بااختیار ہے۔

صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پراثر اندازنہیں ہوتی

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو مشکل ترین عمل قراردیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں 9 شکایات زیرالتواء ہیں، صدر مملکت کی جانب سے دائر دوریفرنس شامل ہیں، صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے دونوں ریفرنسز پر کونسل کارروائی کررہی ہے، صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پراثر اندازنہیں ہوتی، سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کرسکتی، آئین صدرمملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دنیا بھر میں پہلی بار سپریم کورٹ پاکستان نے ای کورٹ سسٹم متعارف کروایا، لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے مطابق زیر التواء مقدمات کی تعداد کم ہوکر 1.78 ملین ہوگئی ہے، گزشتہ عدالتی سال کے آغاز پرعدالتوں میں زیرالتواء مقدمات کی تعداد 1.81 ملین تھی۔

واضح رہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد کریم خان آغا کیخلاف حلف کی خلاف ورزی اور مس کنڈکٹ کی شکایات کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہے۔

بلاول کا مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کے بجائے اخلاقی حمایت کا فیصلہ

جامشورو: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست اور ایشوز کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتے ہیں تاہم دھرنے سے متعلق پالیسی پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک ہے۔

جامشورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم نے کشمیریوں کی آواز بننے کی کوشش نہیں کی، وزیراعظم جو بھی اعلان کرتے ہیں اس پر یوٹرن لیتے ہیں، مسئلہ کشمیر پر حکومت کی نااہلی برداشت نہیں کرسکتے اور نہ اس معاملے پر کوئی بھی پاکستانی کسی قسم کی کوتاہی برداشت کرے گا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو جیل میں بدل دیا، یہ تاریخی حملہ ہے، ذوالفقار بھٹو شہید نے کہا تھا کہ نیند میں بھی کشمیر پر غلطی نہیں کرسکتا لیکن سلیکٹڈ نمائندےغلطی پرغلطی کررہے ہیں، ہماری حکومت ہوتی تو وزیر اعظم پورے ملک کا وزیراعظم ہوتا، ہماراوزیراعظم کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچاتا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت غیرجمہوری رویہ اپنارہی ہے،پیپلز پارٹی نے ہر دور میں آمروں کا مقابلہ کیا، سلیکٹڈ حکومت میں یہ اہلیت نہیں کہ وہ ملکی معیشت سنبھال سکے جب کہ کلین کراچی مہم میں کچرا ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیا گیا، ہمارے صوبے اور عوام کا معاشی قتل کیا جارہا ہے، پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ وفاق این ایف سی کی مد میں صوبے کا حصہ دے، پہلے دن کہا تھا جیل میں بند کرنا ہے تو کردیں پیپلز پارٹی ہرظلم برداشت کرنے کے لئے تیار ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست اور ایشوز کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتے ہیں تاہم دھرنے سے متعلق پالیسی پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک ہے، پیپلزپارٹی پہلے بھی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دھرنا سیاست میں شریک نہیں ہوئی۔  جے یو آئی (ف) کے امیر فضل الرحمان کے دھرنے کے ساتھ اخلاقی حمایت رہے گی۔ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں ہوں گے اور میں پورے پاکستان کا دورہ کروں گا، دونوں کا بیانیہ ایک ہی ہوگا کہ کٹھ پتلی حکومت کو برداشت نہیں کرسکتے۔

پاک فوج کے 4 میجر جنرلز کی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ 4 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے 4 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ترقی پانے والوں میں میجر جنرل محمد عامر ، میجر جنرل محمد چراغ حیدر ، میجر جنرل ندیم احمد انجم اور میجر جنرل خالد ضیا شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یو این کی قراردادوں کی حمایت کردی

بھارت کو سفارتی سطح پر لگاتار ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہاہے ، بین الاقوامی برادری یہ جان چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ، ہر قسم کی بنیادی سہولیات ناپید کردی گئی ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی دنیا آگے بڑھے اور بیانات کے بجائے عملی اقدام اٹھائے ۔ کیونکہ اگر بھارت کو نہ روکا گیا تو وہ پوری دنیا کو ایٹمی جنگ میں جھونک دے گا ۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور دیگر ذراءع مواصلات بحال کیے جائیں ۔ پرامن اجتماعات پر عائد پابندی ختم کی جائے کمشنر انسانی حقوق مشیل باشلے نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر سے متعلق انسانی حقوق یک ابتر صورتحال کی خبریں موصول ہورہی ہیں ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ وادی اس وقت مکمل طورپر جیل میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ وہاں پر لاکھوں افراد گھوں میں مقید ہیں ، مریضوں کو ادویات نہیں مل رہی ہیں ، کھانے پینے کی اشیاء ناپید ہوچکی ہیں ، سکول و کالج بند ہیں ، پوری وادی میں ایک ہوکا عالم ہے، خوف و ہراس کی فضا قائم ہے ۔ نوجوانوں کو گھروں سے گرفتار کیا جارہا ہے، رات کے وقت خواتین کو گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے ، وادی کی کوئی خبر باہر نہیں آرہی ہے ۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے وہاں انسانی المیہ جنم لیتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کی کمشنر انسانی حقوق نے مزید کہاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ وادی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا اس میں کشمیریوں کی رائے کو مقدم رکھنا لازمی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کا واحد حل استصواب رائے ہے ۔ بھارت نے جو دہشت گردی اپنی فوج کے ذریعے وہاں پھیلا رکھی ہے وہ آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ آئین کی شق 370 اور 35;65; کو ختم کرنا بھی غیر آئینی ہے ۔ بھارتی ہٹ دھرمی انتہا کو پہنچ چکی ہے، وادی میں کرفیو اور لاک ڈاءون کو40روز ہوچکے ہیں ۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین کشمیر پر تنازع ہے اس سلسلے میں دونوں ممالک کی مدد کرنا چاہتا ہوں ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ امریکہ اور دیگر طاقتیں عملی طورپر بھارت کو بربریت سے روکیں ۔ آخر نہتے کشمیریوں پرکب تک مودی ظلم ڈھاتا رہے گا ، محرم الحرام میں بھارتی فوج نے وہاں پر مذہبی آزادی بھی سلب کرلی ہے ۔ عزاداروں کو ماتم اور جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ عاشورہ کا جلوس روکنے کیلئے خاردار تاریں لگا کر راستہ روک دیا گیا ، پابندیوں کے باوجود سری نگر کے مختلف علاقوں میں نویں محرم الحرام کے جلوس نکلے ۔ ماتمی جلوس میں شامل عزاداروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ ان پرپیلٹ گنز کا استعمال اور آنسو گیس کے شیلوں کی بارش کی گئی جس سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے سری نگر کے لعل چوک اور ملحقہ علاقوں کو نوگو ایریاز میں تبدیل کردیا گیا ۔ دہشت گرد قابض بھارتی فوج لاءوڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی دھمکیاں دیتی رہی ۔ جلوس میں شریک نہتے افراد پر بے دریغ لاٹھی چارج کیا گیا جس سے 4 صحافی بھی زخمی ہوگئے ۔ ایسے میں انسانی حقوق کی تنظی میں کدھر ہیں ۔ آج انہیں نظر نہیں آرہا ہے کہ مودی فاشسٹ نے وادی کو نرگ بنا کر رکھ دیا ہے ۔ بچے دودھ کو ترس رہے ہیں ، فاقہ کشی کی نوبت آن پہنچی ہے ۔ ایمبولینسوں تک کو جانے کی اجازت نہیں ۔ مریض مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم دے رہے ہیں ۔ کیا ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ مسلمان ہیں ۔ امریکی صدر ٹرمپ اپنا ایک فوجی مرنے پر طالبان سے امن مذاکرات منسوخ کرسکتے ہیں تو کیا بھارت کو روکنے والا کوئی نہیں ۔ وہاں پر ہر روز بے گناہ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے ۔ پیلٹ گنز سے شہریوں کو نابینا کیا جارہا ہے ، ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے جگہ نہیں ۔ بھارتی ظلم و ستم اور پابندیوں کی وجہ سے وادی میں بیروزگاری پھیل چکی ہے، مواصلاتی رابطوں میں بندش کی وجہ سے آئی ٹی کی کمپنیوں نے 1500 جوانوں کو ملازمت سے فارغ کردیا ہے ۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کی پیشکش کرنے کی بجائے بھارتی ظلم و ستم کے آگے بند ھ باندھے اسی کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ بین الاقوامی دنیا کو مقبوضہ کشمیر پر خاموش نہیں رہنا چاہیے ۔ اقوام متحدہ ہو یا جنیوا یا سلامتی کونسل غرض کہ ہر عالمی پلیٹ فارم پر بھارت کو سبکی اور ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہورہا ۔ لیکن اس کے باوجود اس نے نہتے کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھا ہوا ہے لیکن اب وقت کشمیریوں کی آزادی کی دستک دے رہا ہے ۔ وہ وقت دور نہیں جب کشمیری آزاد ہوں گے ، صرف مقبوضہ وادی ہی نہیں بھارتی تسلط سے آزاد ہوگی دیگر ریاستیں بھی آزادی مانگ رہی ہیں ۔ سکھوں کی خالصتان کی تحریک بھی زور پکڑ رہی ہے، مودی کے دور میں بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا ۔

محرم الحرام میں قیام امن وامان قابل ستائش

پاکستان میں رب کریم کی رحمت سے نویں اور دسویں محرم الحرام خیروعافیت سے گزر گیا ۔ اس موقع پر حکومت کے حفاظتی اقدامات قابل تعریف رہے ۔ ماتمی جلوسوں کے راستوں کی سیکورٹی کا بہترین ا نتظام کیا گیا تھا ۔ جلوس کے شرکاء کی باقاعدہ تلاشی لی گئی ۔ نیز فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی ۔ وفاقی دارالحکومت سمیت ، چاروں صوبوں ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں متعلقہ ادارے ہائی الرٹ رہے ،گورنر سندھ نے بھی ماتمی جلوسوں کا دورہ کیا ، سیکورٹی اداروں کے اقدامات بھی قابل ستائش رہے ۔ محرم الحرام امن و امان کا درس اور آپس میں بھائی چارے سے رہنے کا سبق دیتا ہے ۔ حق و باطل میں فرق سمجھاتا ہے ۔ صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے اسلامی روایات کی پاسداری کے ساتھ دہشت گردی ، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے سدباب کیلئے ہر اقدام کرنے کی تجدید کا عہد کرنے کو کہا کیونکہ اس وقت ہ میں سب سے بڑا مسئلہ ہی عدم برداشت کا درپیش ہے اگر ایک دوسرے کو برداشت کرنا شروع کردیں تو تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں اور سب مل کر ساتھ چل سکتے ہیں ۔ اسوہ حسینی;230; فروغ حق اور اسلامی روایات کی پاسداری کا کہتا ہے ۔ آج ضرورت بھی اسی امر کی ہے کہ اسلامی اقدار پر من و عن عمل کیا جائے اور یہی ایک واحد ذریعہ ہے جس کے تحت کفر کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔

پولیس کی انوکھی منطق

پولیس نے اپنا تشدد چھپانے کیلئے عجیب و غریب اقدام اٹھایا ہے جس کے تحت پنجاب کے تھانوں میں سمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی ہے ۔ آئی جی پنجاب عارف نواز نے تمام تھانوں میں کیمرے والے موبائل لے کر جانا منع کردیا ہے سوائے ایس ایچ او اور تھانہ محرر کے کیونکہ موبائل کی وجہ سے پولیس کا وہ اصل چہرہ عوام کے سامنے آرہا تھا جس میں وہ دوران تفتیش شہریوں پر تشدد کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے ۔ بجائے اس کے کہ پولیس اپنا قبلہ درست کرتی تو اس نے انوکھی چال چلتے ہوئے سمارٹ فون پر ہی پابندی عائد کردی ۔ نہ فون ہوگا نہ کوئی ویڈیو بنا سکے گا، حکومت کو اس جانب توجہ دینی چاہیے کہ یہ اقدام پولیس کی بربریت کو مزید تقویت دے گا اور وہ تھانے میں جو چاہے مرضی کریں انہیں کوئی روکنے یا پوچھنے والا نہیں ہوگا ۔ دیکھنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آیا پولیس کو تھرڈ ڈگری استعمال کرنے کی اجازت ہے یا نہیں پھر وہ کس قانون کے تحت ملزمان کی ہڈی ، پسلیاں توڑ کر انہیں لقمہ اجل بنا دیتے ہیں ۔ اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص جوکہ ابھی ملزم تھا اور پولیس تشدد کی وجہ سے جاں بحق ہوگیا تو پولیس اہلکار کو بھی اس کی باقاعدہ سزا ملنی چاہیے ۔ جب کبھی ایسا وقوعہ درپیش آتا ہے تو پیٹی بھائی اپنے بھائیوں کو بچانے کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں ۔ ایسا قطعی طورپر نہیں ہونا چاہیے اور آئی جی نے جو اقدام اٹھایا ہے وہ قابل مذمت ہے ۔

دہشت گردی کی اصل وجہ ’’نظریہ پاکستان‘‘ ہے، مودی کی زہرافشانی

نئی دہلی: بابری مسجد کی شہادت اور گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے حوالے سے ’’گجرات کا قصاب‘‘ کے نام سے شہرت رکھنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے  دہشت گردی کو بنیاد بناکر پاکستان کے خلاف زہراگلنا شروع کردیا ہے ۔

نریندر مودی نے ’’نائن الیون‘‘ (9/11) کے اٹھارہ سال مکمل ہونے پر دہشت گردی کو ’’عالمی خطرہ‘‘ کہا اور پاکستان کی نظریاتی اساس  کو دہشت گردی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور 5 اگست 2019 سے جاری کرفیو اور لاک ڈاؤن کو فخریہ انداز سے بیان کرتے ہوئے  مودی نے کہا کہ پچھلے دنوں میں ان کی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف جرأت مندانہ اقدامات کیے ہیں۔

نریندر مودی نے الزام لگایا کہ پاکستان خفیہ طور پر سیالکوٹ، جموں اور راجستھان سیکٹرز میں بڑی کارروائی کی تیاریاں کررہا ہے۔

آئی فون 11 میں ایسا کچھ نہیں جسے ’سرپرائز‘ کہا جائے

سلیکان ویلی: گزشتہ روز سلیکان ویلی، امریکا میں آئی فون 11 کی تقریبِ رونمائی میں نئے آئی فون کے نئے ڈیزائنز کے علاوہ نئی ایپل واچ اور نیٹ فلکس کے مقابلے پر ’’ایپل ٹی وی‘‘ کی بھی ایک جھلک پیش کی گئی ہے جسے جلد ہی متعارف کروایا جائے گا۔

یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اب کی بار آئی فون 11 میں ایسا کچھ بھی نہیں جسے غیر متوقع یا غیر معمولی قرار دیا جاسکے۔ چند ماہ سے آئی فون 11 سے متعلق جتنی بھی افواہیں اور پیش گوئیاں گردش میں تھیں، ان میں سے بیشتر درست ثابت ہوئی ہیں۔

مثلاً یہ کہ نئے آئی فون میں فائیو جی کی سہولت موجود نہیں، جسے 2020 کے ڈیزائن میں شامل کیا جائے گا۔ آئی فون 11 کی بیٹری بھی پہلے کے مقابلے میں 4 گھنٹے زیادہ کام کرتی ہے، اس میں وائرلیس چارجنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔ آئی فون 11 میں 12 میگا پکسل کا صرف ایک عقبی کیمرہ ہے جبکہ آئی فون 11 پرو اور ’’پرو میکس‘‘ ورژنز میں تین عقبی کیمرے موجود ہیں۔

اندرونی گنجائش بھی 64 جی بی سے لے کر 512 جی بی تک ہے جبکہ تینوں ورژنز کی قیمتیں ایک لاکھ 10 ہزار پاکستانی روپے سے لے کر ایک لاکھ 75 ہزار پاکستانی روپے تک ہیں جو حکومتِ پاکستان کے عائد کردہ ٹیکس شامل کرنے کے بعد، مالدار پاکستانیوں کےلیے ڈیڑھ لاکھ سے ڈھائی لاکھ روپے میں دستیاب ہوں گے۔

اور تو اور، آئی فون 11 کا آپریٹنگ سسٹم تک ’’آئی او ایس 13‘‘ ہے جس کی پیش گوئی پہلے ہی کی جاچکی تھی۔

غرض نئے آئی فون میں واقعتاً ایسا کچھ بھی نہیں جسے ’’سرپرائز‘‘ قرار دیا جاسکے

محسن عباس کی بیوی کو شوہر کی غلطیاں نظر انداز کرنی چاہئے تھیں، اداکارہ میرا

کراچی: نامور پاکستانی اداکارہ میرا کا کہنا ہے کہ  محسن عباس حیدر سے غلطی ہوئی ان کی اہلیہ کو اس غلطی کو نظر انداز کرنا چاہیئے تھا۔

فلم’’نامعلوم افراد‘‘سے شہرت حاصل کرنے والے اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر پر ان کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے دو ماہ قبل الزام لگایا تھا کہ محسن انہیں کئی برسوں سے تشدد کا نشانہ بناتے آرہے ہیں،  یہاں تک کہ محسن نے انہیں اس وقت بدترین جسمانی اورذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ حاملہ تھیں۔ اس کے علاوہ فاطمہ نے اپنے شوہر کو بے وفا قرار دیتے ہوئے ان کے اور ماڈل نازش جہانگیر کے درمیان ناجائز تعلقات کا بھی الزام لگایا۔

فاطمہ سہیل نے محسن عباس کے خلاف تشدد اور دھمکیوں کی ایف آئی آر درج کرائی ہے جب کہ شوبز فنکاروں سمیت سوشل میڈیا پر بھی محسن عباس کو  بیوی پرگھریلو تشدد کرنےکے لیے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

جہاں شوبز سے وابستہ افراد اہلیہ تشدد معاملے پر اپنی رائے دے رہے ہیں، وہیں پاکستان کی اسکینڈل کوئین اداکارہ میرانے بھی اس معاملے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ محسن عباس حیدر سے غلطی ہوئی ان کی بیوی کو اس غلطی کو نظر انداز کرنا چاہئے تھا۔

اداکارہ میرا نے حال ہی میں عفت عمر کے شو میں شرکت کی جہاں میزبان کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں اداکارہ میرا نے محسن کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا محسن میرے ساتھ سیٹ پر بہت اچھے تھے، ان کا رویہ بہت دوستانہ تھا۔

میرا نے محسن عباس کو باصلاحیت اداکار قرارد یتے ہوئے کہا انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، تاہم ان غلطیوں کو نظر انداز کرنا چاہئے۔ جس پر میزبان نے کہا اگر غلطیاں ہوتی ہیں تو مان لینی چاہئیں، معافی مانگ لینی چاہئے۔ میزبان کی اس بات پر اداکارہ میرا نے کہا محسن عباس اچھا لڑکا ہے، تاہم میزبان عفت عمر نے بات کو یہیں ختم کردیا۔

واضح رہے کہ محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے لاہور کی فیملی کورٹ میں خلع کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب مزید محسن کے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں۔

امریکا نے ٹی ٹی پی سربراہ سمیت 13 افراد کو عالمی دہشتگرد قرار دے دیا

واشنگٹن: امریکا نے نائن الیون کی 18 ویں برسی پر ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود سمیت دیگر کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے داعش، حزب اللہ، حماس، فلسطین اسلامی جہاد اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے 13 افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے بھی داعش، القاعدہ، حماس اور پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے پابندیاں عائد کردی ہیں۔

امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کا مقصد انہیں دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور حملوں سے روکنا ہے، ان تمام افراد کے اثاثوں اور جائیدادوں پر پابندی لگادی گئی اور لوگوں کو ان افراد کے ساتھ ہر طرح کے لین دین سے روک دیا گیا ہے۔

ٹی ٹی پی نے پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور جون 2018 میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد مفتی نور ولی محسود نے ٹی ٹی پی سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔

عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے گئے دیگر افراد میں فلسطینی تنظیم حماس کی عزالدین قسام بریگیڈ کے نائب کمانڈر مروان عیسیٰ، فلسطین اسلامک جہاد کے نائب سیکرٹری جنرل محمد الہندی، فلسطین تنظیم القدس بریگیڈ کے کمانڈر بہا عبدالعطا، حزب اللہ کے 4 سینئر رہنما علی کاراکی، محمد حیدر، فواد شاکر اور ابراہیم عاقل، داعش کے 3 سینئر رہنما حاجی تیسر، ابو عبداللہ ابن عمر البرناوی اور حاطب حاجان سواد جان جبکہ القاعدہ کے حراس الدین اور فاروق السوری شامل ہیں۔

Google Analytics Alternative