Home » 2019 » October

Monthly Archives: October 2019

آزادی مارچ اسلام آباد کی جانب گامزن، حکومتی حکمت عملی بھی تیار

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کا آزادی مارچ اپنے آخری مرحلے میں وفاقی دارالحکومت کی جانب گامزن ہے تو حکومت نے بھی تمام صورت حال کے تناظر میں حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

حکومت سے طے پائے گئے معاہدے کے مطابق سیکٹر ایچ 9 کے اتوار بازار کے قریب میدان میں جے یو آئی (ف) کی تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں، شرکاء کے کھانے پینے کیلئے میدان میں ہی کنٹین اور 5000 بیت الخلاء بنائے گئے ہیں۔ آزادی مارچ کے شرکاءاپنے کھانے پینے کا سامان بھی اپنے ساتھ لائیں گے جبکہ آزادی مارچ کے شرکاءکو بستر،اضافی کپڑے اور راشن لانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

جلسہ کے شرکاء کی پارکنگ کیلئے جگہ مختص کر دی گئی، جس کے مطابق موٹروے اور پشاور جی ٹی روڈ سے آنے والے شرکاء 26 نمبر چونگی براستہ کشمیر ہائی وے، پروجیکٹ موڑ اور جی نائن ٹرن کشمیر ہائی وے کے دونوں اطراف گاڑیاں پارک کریں گے، اسی طرح لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ ایکسپریس وے اور مری بارہ کہو سے آنے والے حضرات فیض آباد سے ڈھوک کالا خان فلائی اوور سے واپس فیض آباد براستہ 9تھ ایونیوچوک سے سروس روڈ ویسٹ پر گاڑیاں پارک کرکے جلسہ گاہ میں داخل ہوں گے۔

وزارت داخلہ کے انتظامات

آزادی مارچ کے حوالے سے وزارت داخلہ میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت معاہد ے کی پاسداری کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ سیکیورٹی کے لئے پہلے لیول پر پولیس، دوسرے لیول پر رینجرز اور حساس مقامات کی حفاظت کے لئے آرمی کی خدمات لی جائیں گی۔

ٹریفک پلان

اسلام آباد میں مقیم اور گردو نواح سے آنے والے لوگوں کی سہولت کے لئے ٹریفک پلان بھی مرتب کیا گیا ہے۔ شہری اسلام آباد کی طرف آنے جانے کیلئے براستہ 26نمبر چونگی فلائی اوور سے مہر آباد پیر ودھائی، آئی جے پی روڈ سے فیض آباد فلائی اوور سے مری روڈ، ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو استعمال کرسکتے ہیں۔

حاجی کیمپ چوک سے اسلام آباد چوک تک ٹریفک کے لئے ڈائیورژن ہوگی، شہری آمدورفت کے لئے پشاور جی ٹی روڈ سے اسلام آباد آنے جانے کے لئے براستہ 26 نمبر چونگی فلائی اوور سے ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو استعمال کرسکتے ہیں۔ کشمیرہائی وے جی الیون سے بجانب اسلام آباد چوک ٹریفک کے لئے ڈائیورژن ہوگی، شہریوں کی آمدورفت کیلئے حاجی کیمپ چوک سے آنے والی ٹریفک مہر آباد آئی جے پی روڈ پر موڑ دی جائے گی، جی نائن،جی ٹین،جی الیون سے موٹر وے پشاور اور نیو اسلام آباد ائیرپورٹ جانیوالے حضرات جی الیون،جی ٹین،جی نائن سروس روڈ استعمال کرتے ہوئے براستہ جی الیون سگنل سے کشمیرہائی وے استعمال کریں۔

حکومتی حکمت عملی

دوسری جانب آزادی مارچ سے متعلق حکومتی حکمت عملی بھی تیار ہے، وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزراء کو دھرنے کے دنوں میں اسلام آباد سے باہر جانے سے روک دیا۔ وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو ہدایت کی ہے کہ آزادی مارچ کے پس پردہ مقاصد میڈیا پر نے نقاب کیے جائیں۔ مارچ کے جلسہ گاہ پہنچنے تک کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی جائے گی، دھرنے کی صورت میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی ایک بار پھر اپوزیشن رہنماوں سے مذاکرات کرے گی، اپوزیشن نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔دھرنا دینے پر پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی اپوزیشن رہنماؤں سے مذاکرات کرے گی تاہم مذاکرات میں وزیر اعظم کے استعفے کی شرط نہیں ہوگی۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن معاہدے پر قائم رہتی ہے تو حکومت بھی پاسداری کرے گی، احتجاج میں اسلام آباد کے رہائشیوں کو کسی قسم کا مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہیے۔ حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں وزیراعظم نے موجودہ میڈیا حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی ایجنڈے کے بجائے حکومتی پالیسی کا دفاع کیا جائے، حکومتی اقدامات اور پالیسی کو موثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔

آزادی مارچ سے نتائج نہ ملے پھر بھی تحریک نہیں رکے گی، مولانا فضل الرحمان

لاہور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ ایک تحریک ہے دھرنا نہیں اور یہ تحریک ضرور کامیاب ہوگی۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اگراسلام آباد پہنچنے پرعوام کی رائے کا احترام نہ کیا گیا تو اس تحریک مزید سخت کریں گے، یہ تحریک ہے یہ کوئی دھرنا نہیں ہے، ہم نے اسکے لئے دھرنے کا لفظ استعمال نہیں کیا، یہ ایک عوامی تحریک ہے اوراس سے نتائج نہیں ملتے تواس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ تحریک رک جائے گی۔ کراچی سے لاہور اور اسلام آباد تک عوام نے طے کرلیا ہے کہ اس حکومت کی مزید گنجائش نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں، کراچی سے اسلام آباد تک قوم یکسو ہے کہ عمران خان استعفی دیں اور بھیانک انجام سے بچیں، اس حکومت نے کشمیر کو بیچا ہے، کشمیر کو بیچنے والے ملک میں حکومت نہیں کرسکتے۔

فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت کے احتساب کے ڈراموں کے اختتام کا وقت آگیا ہے، آج مزدور، کسان اورغریب روزگارکے لئے پریشان ہے، نوجوان مستقبل کو اندھیرے میں دیکھ رہا ہے، مذہبی طبقی اس لئے فکرمند ہیں کہ اس حکومت میں ختم نبوت اورمعیشت بھی غیر محفوظ ہے، تمام جماعتوں نے آزادی مارچ میں شرکت کر کے قومی یکجہتی کا ثبوت دیا ہے جس کے لیے مسلم لیگ (ن) ،پیپلز پارٹی اور دیگر تمام تنظیموں کے دوستوں کا شکرگزارہوں۔

بعد ازاں اسلام آباد روانگی سے قبل مینار پاکستان آزادی چوک میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ گزشتہ 9 ماہ میں 15 ملین مارچ کیے جو پرامن تھے، ہمارے کارکن ملک کے امن کو سب پر مقدم رکھتا ہے، یہ قافلہ کوئٹہ اور کراچی سے چلا تھا، راستے میں کسی شہری کو خراش تک نہیں آئی۔ اس آزادی مارچ کو پاکستان کے ہر شہری کی حمایت کی ہے، ہمارا مطالبہ اب بھی یہی ہے، 25 جولائی کے انتخابات ہوئے ان میں بدترین دھاندلی ہوئی، اس کے نتائج قبول نہیں کرتے، ہم نے پہلے ہی دن سے حکومت کو تسلیم نہیں کیا، اس کے خلاف مارچ خروج نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا ووٹ کی امانت میں خیانت کی گئی، یہ حکومت ناجائز ہے اور ایک سال کی کارکردگی میں نااہل ثابت ہوئی ہے، یہ پاکستان کی آزادی اور بقا کے لیے مارچ ہے۔ تاجر برادری کے لیے کاروبار کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں، 50 لاکھ گھربنانے کا وعدہ کرنے والوں نے تجاوزات کے نام پر 50 لاکھ گھر گرا دیئے ہیں۔ روزگار دینے کی بجائے 26 سے 30 لاکھ نوجوان بیروزگار ہوچکے ہیں۔

حکومت اور تاجروں کے مذاکرات کامیاب، شناختی کارڈ کی شرط موخر

اسلام آباد: حکومت اور تاجروں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور شناختی کارڈ کی شرط موخر کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور مرکزی تنظیم تاجران کے وفد کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں معاہدہ طے پاگیا جس کے نتیجے میں تاجروں نے شٹرڈاؤن ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

حکومت اور تاجروں کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کے تحت خرید و فروخت پر شناختی کارڈ کی شرط پر کارروائی31 جنوری 2020 تک موخر کردی گئی ہے، 10 کروڑ تک کے سالانہ ٹرن اوور والا ٹریڈر ڈیڑھ فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے بجائے اعشاریہ 5 فیصد ٹرن اوور ٹیکس دے گا۔ 10 کروڑ تک کے سالانہ ٹرن اوور والا ٹریڈر ود ہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنے گا۔ سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کے لئے سالانہ بجلی کے بل کی حد 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔

معاہدے کے مطابق موبائل فون ، الیکٹرونکس اور کموڈیٹیز آئیٹمز جیسے کم ترین منافع رکھنے والے سیکٹرز کے ٹرن اوور ٹیکس کا تعین ازسرنو کیا جائے گا، اس ٹیکس کی شرح اعشاریہ 25 فیصد تک بھی کی جاسکتی ہے، یہ سارا عمل تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا۔ تاجروں پر مشتمل ریجنل اور مرکزی سطح پر کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے جو ایف بی آر کے ساتھ تاجروں کے جملہ مسائل حل کریں گیں۔ جیولرز ایسوسی ایشنز کے ساتھ ملکر جیولرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ آڑھتیوں پر تجدید لائسنس فیس پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔

طے پائے گئے معاہدے کے تحت ایک ہزار مربع فٹ کی کون سی  دکان سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے مستثنیٰ ہوگی اس کا فیصلہ تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا۔ ریٹیلرز جو ہول سیل کا کاروبار بھی کررہا ہے ،ان کی سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کا فیصلہ تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا۔ کار ڈیلرز کے مسائل پر ایف بی آر اور کار ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان علیحدہ مذاکرات ہوں گے۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ ٹریڈرز کے مسائل کے فوری حل کے لئے ایف بی آر اسلام آباد میں خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ نیا رجسٹریشن اور ٹیکس ریٹرن فارم اردو میں مہیا کیا جائے گا، ملکی اور مقامی سطح پر مسائل کے حل کیلئے تاجر نمائندگان کی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔

چیئرمین ایف بی آرشبر زیدی نے کہا کہ تاجروں کے لئے شناختی کارڈ کی شرط کا قانون اپنی جگہ موجود ہے، صرف جنوری 2020 میں شناختی کارڈ نہ دینے پر کارروائی مؤخر کی ہے، تاجر کچھ بھی کر لیں سی این آئی سی کی شرط ختم نہیں ہوگی، جنوری 2020 کے بعد شناختی کارڈ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

واضح رہے کہ اضافی ٹیکسز اور شناختی کارڈ کی شرط کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں تاجروں کی دوسرے روز بھی شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے تاجروں کیلئے فکسڈ ٹیکس اسکیم بھی تیار کرلی ہے۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اسلام آباد پہنچنے پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔

اپوزیشن سے مذاکرات کے لئے وزیراعظم عمران کی جانب سے تشکیل کردہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری ہے، اجلاس میں وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں حکمت عملی پر مشاورت کی جارہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کو معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنے کی ہدایت دی تھی، جس پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اسلام آباد پہنچنے پرمولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ معاہدہ کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے اپوزیشن سے مسلسل رابطے رکھے جائیں گے۔

اپوزیشن معاہدے پر قائم رہی تو حکومت بھی پاسداری کرے گی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے آزادی مارچ سے متعلق اپوزیشن سے ہونے والے رابطوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن معاہدے پر قائم رہتی ہے تو حکومت بھی پاسداری کرےگی۔

وزیراعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی ٹیم اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ملاقات کی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اور پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹیم نے وزیراعظم کو اپوزیشن سے مذاکرات میں پیشرفت سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن معاہدے پر قائم رہتی ہے تو حکومت بھی پاسداری کرےگی، احتجاج میں اسلام آباد کے رہائشیوں کو کسی قسم کا مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہیے۔

اسپیکر اسد قیصر نے وزیراعظم کو مسئلہ کشمیر پر پارلیمانی سفارتکاری سے آگاہ کیا اور پارلیمنٹ میں قانون سازی اور ایوان کے موثر کردار پر بھی بات چیت کی۔

اسپیکر نے سیاسی صورت حال اور حزب اختلاف سے رابطوں پر وزیراعظم کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو پیغام دیا ہے امن و امان کی صورت حال پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، کسی بھی قسم کا سیاسی انتشار نہیں پھیلنا چاہیے، اپوزیشن ارکان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے موجودہ میڈیا حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کیا، اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ذاتی ایجنڈے کے بجائے حکومتی پالیسی کا دفاع کیا جائے، حکومتی اقدامات اور پالیسی کو موثر انداز میں اجاگر کیا جائے جب کہ ذاتی ایجنڈے سے حکومت کا غلط تاثر جاتا ہے لہذا نواز شریف کی بیماری کو موضوع نہ بنایا جائے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ترکی کو نسل کش قرار دینے کی قرارداد منظور

واشنگٹن: امریکا کے ایوان نمائندگان نے سرکاری سطح پر سلطنت عثمانیہ کو نوے کی دہائی کے آغاز سے وسط تک آرمینیائی قوم کی نسل کشی کا مرتکب قرار دے دیا ہے جب کہ کردوں کے خلاف فوجی کارروائی پر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں 1915 سے 1923 کے درمیان 15 لاکھ سے زائد آرمینیائی مرد، خواتین اور بچوں کے قتل عام پر سلطنت عثمانیہ کو مرتکب ٹھہرانے کے لیے قرارداد پیش کی گئی جس کی حمایت میں 405 ووٹ پڑے جب کہ مخالفت میں صرف 11 ووٹ آئے، علاوہ ازیں امریکی ایوان نمائندگان نے کردوں کیخلاف فوجی کارروائی پر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ترکی کو آرمینیائیوں کی نسل کشی پر ترکی کی مذمت سے متعلق قرارداد پیش کرنے کے لیے 19 برس سے کوششیں جاری تھیں جو کسی نہ کسی مرحلے پر دم توڑ جاتی تھیں تاہم اس بار نہ صرف قرار داد پیش ہوئی بلکہ اسے تالیوں کی گونج میں کثرت رائے سے منظور بھی کرلیا گیا۔

سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں لاکھوں آمینیائی باشندوں کی ہلاکت کو 30 ممالک سرکاری سطح پر تسلیم کرتے ہیں جس میں نیا اضافہ امریکا ہے تاہم ترکی اس الزام کو مسترد کرتے آیا ہے۔ ترکی نے امریکی ایوان نمائندگان کی قراداد پر شدید ردعمل دیا ہے اور جلد ہی صدر طیب اردگان آرمینیائی نسل کشی اور پابندیوں پر پالیسی بیان جاری کریں گے۔

یاد رہے کہ مغربی ممالک 1915 سے 1923 تک آرمینیا میں سلطنت عثمانیہ پر لاکھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کا الزام دھرتے ہیں تاہم ترکی کا موقف ہے کہ آرمینیائی قوم نے پہلے آذری مسلمانوں کی نسل کشی اور انہیں آذر بائیجان ہجرت پر مجبور کیا جس کے بعد آرمینیائی ترکی کے علاقوں پر قابض ہونے کی کوشش کی۔ جنگ عظیم اول میں ترکی میں آباد آرمینیائی باشندے فرانس، برطانیہ اور روس کے حامی تھے اور اس دوران ہونے والی ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

آزادی مارچ، قانون کو ہاتھ میں لیا گیا تو ریاست حرکت میں آئے گی

آزادی مارچ اسلام آبادپہنچنے کو ہے ، اس کا پشاور موڑ پر پڑاءو ہوگا، اسلام آباد انتظامیہ اور مارچ کے رہنماءوں کے مابین معاہدہ ہوچکا ہے جس کے تحت وہ پشاورموڑ پر جلسہ کریں گے، وزیراعظم نے کہا ہے کہ اگر قانون کو ہاتھ میں لیا گیا تو سخت کارروائی ہوگی ۔ مولانا فضل الرحمن کا مقصد اور منزل اسلام آبادپہنچنا تھا سو وہ پہنچ رہے ہیں حکومت نے خاطر خوا رکاوٹیں بھی کھڑی نہیں کیں ۔ سوائے اس کے کہ ریڈ زون سیل کردیا گیاہے ۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم لمحہ بہ لمحہ آزادی مارچ کو چیک کررہی ہے، اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ بھی حالات کودیکھتے ہوئے تعاون کا ہاتھ بڑھائے اور باہمی گفت و شنید سے مسائل کو حل کرے ۔ اب چونکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی العزیزیہ کیس میں 8ہفتے کی ضمانت پر رہائی مل گئی ہے ۔ حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ نواز شریف صحت مند ہوں اور پھر سیاسی اکھاڑے میں اتریں ۔ ابھی تک ان کی طرف سے بیرون ملک علاج کی کوئی درخواست نہیں آئی ہے ۔ حالات یہ بتاتے ہیں کہ کچھ عرصہ نواز شریف اندرون ملک ہی علاج کرائیں گے پھر وہ دیکھیں گے کہ حالات کس کروٹ بیٹھتے ہیں پھر شاید ان کی سیاست میں کوئی نیا موڑ آجائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے اراکین کو بھی نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بیان بازی سے روک دیا ہے ۔ زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ وزیراعظم نواز شریف کی عیادت کیلئے خود چل کر چلے جاتے تو پھر بہت ساری سیاسی مخالفتوں کی برف پگھل جانی تھی کیونکہ کسی بیمار کی عیادت کرنا سنت رسول پاکﷺ ہے اس اقدام کے اٹھانے سے اختلافات میں بھی بہت ساری کمی آسکتی ہے ۔ سیاسی انارکی بھی ختم ہوسکتی ہے ۔ حالات بھی درست ہوسکتے ہیں اور اگر عمران خان یہ قدم اٹھا لیتے ہیں تو یہ انتہائی مفاہمت کا عمل ہوگا ۔ وفاقی کابینہ نے بے نامی ٹرانزیکشن (ممانعت )ایکٹ2017ء کے تحت ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی کے ممبران ،داسو ہائیڈرو پراجیکٹ (اسٹیج ون) کے لئے زمین کے حصول کے لئے اراضی کی نظر ثانی شدہ قیمت کی ادائیگی اور دیگر تخمینوں ،کراچی ، لاہور، پشاور اور ملتان کے بعض مخصوص علاقوں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کی اجازت دینے اور وزیر برائے اقتصادی امور کو نیشنل ایگزیکٹیو کمیٹی کی جنرل کمیٹی کے ممبرز کے طورپر شامل کرنے کی منظوری دیدی ہے، وزیراعظم کی ہدایات پر ہر ہر وزارت عام شہریوں کی زندگیوں کی بہتری کےلئے اقدامات اٹھا رہی ہے ،پاور ڈویژن میں سردیوں میں بجلی کے نرخ کم کرنے کی ایک تجویز پر غور کیا جا رہا ہے،وزارت اطلاعات و نشریات نے غلط ،بے نیاد اور جھوٹی خبروں کے تدارک کےلئے ای ۔ نیوز لیٹر کے اجراء کی تجویز پیش کی ،ہر ہفتہ ای نیوز لیٹر کا اجراء ہوگا جس میں فیک نیوز پر حقائق سامنے لائے جائیں گے ، وزارت ہوابازی نے ملک بھر کے تمام ائیر پورٹ پر بچوں کے لئے ;34; پلے ایریاز;34; کے قیام کا فیصلہ کیا ہے ،احساس پروگرام کے تحت 50ہزار انڈر گریجویٹس کو سکالرز شپ دی جائے گی ،120یونیوسٹیاں اس سکیم سے مستفید ہوسکیں گی،فروری2020 تک اپنی معیشت کو بہتر ،منی لانڈرنگ کو روکنے اورکالے دھن کو ریگولیٹ کرنے کےلئے انٹیلی جنس بیسڈ انفارمیشن شیئرنگ کی جائے گی ، وزیراعظم نے ہدایات دی ہیں کہ متروکہ وقف املاک کی زمینوں پر قبضہ واگذار کر اکے ہسپتالیں ،سکول اور دیگر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے بنائیں جائیں ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا بریفنگ کے دوران مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ضمانت اور سزا معطلی کے عدالتی فیصلے کو حکومت تسلیم کرتی ہے، ابھی تک نواز شریف کی جانب سے بیرون ملک علاج کی درخواست نہیں ;200;ئی، فتنہ مارچ پتہ نہیں کہاں اختتام پذیر ہو گا، مارچ میں ;200;تشیں اسلحہ کی نمائش کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کو ووٹ کی پرچی نے پارلیمنٹ میں پہنچایا اور اراکین پارلیمنٹ نے اپنی طاقت سے انھیں وزیراعظم منتخب کیا، مولانا کی بے وقت کی راگنی اور باربار استعفیٰ مانگنا مضحکہ خیز ہے، عوام اس پر کان نہیں دھریں گے ۔

افغانستان بھی بھارت

کے نقشے قدم پر

افغانستان نے بھی بھارت کی دیکھا دیکھی خطے کا امن تہہ و بالا کرنا شروع کردیا ہے ۔ سرحد پار سے افغان فورسز کی سول آبادی پر فائرنگ کا مقصدامن و امان کو تہہ وبالا کرنے کے مترادف ہے جبکہ افغان حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ پاکستان طالبان مذاکرات کے حوالے سے کتنی اہمیت کے حامل اقدامات اٹھارہا ہے حتیٰ کہ امریکہ نے بھی اس سلسلے میں پاکستان سے تعاون مانگا ہے تاکہ امریکی فوجیں افغانستان سے پرامن طریقے سے نکل سکیں ۔ ایسے میں افغانستان کی جانب سے سول آبادی پر فائرنگ کرنا تمام امن و امان کے حالات کو نیست و نابود کرنے کے مترادف ہے ۔ بھارت کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے افغانستان خطے کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کررہا ہے ۔ افغان فورسز نے صوبے کنڑ سے چترال کے گاءوں اروندو کی شہری آبادی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 6 جوان اور ایک خاتون سمیت 5 شہری زخمی ہوئے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق افغان سیکورٹی فورسز نے مارٹر گولوں اور بھاری مشین گنوں کا استعمال کیا ۔ پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں افغان سرحدی پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا ۔ دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان رابطے کے بعد فائرنگ رک گئی ۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال سے توجہ ہٹانے کےلئے بھارت ایل او سی پر اشتعال انگیزی بڑھا رہا ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ بھارتی فورسز نے ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا ۔ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے باغسر سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی، فائرنگ کے نتیجے میں ضلع بھمبر کے گاؤں مندیکا کی رہائشی ایک خاتون سمیت تین معصوم شہری زخمی ہوگئے ۔

تاجروں کی شٹرڈاءون

ہڑتال، اربوں کا نقصان

تاجروں کی دوسرے روز بھی ہڑتال ہوئی ایک دن کی ہڑتال سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے یہی بات روز نیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی نے بھی کہی ۔ انہوں نے کہاکہ حالات کو درست کرنا ہوگا اس میں کوئی دوسری بات نہیں کہ ایسی ہڑتالوں سے معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے ۔ ایف بی آر کو بھی دیکھنا ہوگا کہ تاجر برادری کے جو جائز مطالبات ہیں انہیں تسلیم کیا جائے اورتاجر برادری بھی یہ سوچے کہ اگر حکومت ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے یا کاروباری طبقے کی مزید ترقی کیلئے کوئی مثبت اقدامات اٹھارہی ہے تو اس سلسلے میں تعاون کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ اضافی ٹیکسوں اور شناختی کارڈ کی شرط کیخلاف ملک بھر میں تاجروں نے شٹر ڈاون ہڑتال کی،چھوٹے بڑے شہروں میں کاروبار بندرہا، تاجروں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج اور تحریک میں شدت لانے کا عندیہ بھی دیدیا ۔ تاجروں نے شبر زیدی کو ہٹانے اور 50 ہزار کی خریداری پرشناختی کارڈ دکھانے کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ کیاجبکہ حیدرآباد کے تاجر ٹیکس اور مہنگائی کے خلاف ہڑتال کی کال پر تقسیم ہوگئے ۔ آل پاکستان انجمن تاجران کی اپیل پر گزشتہ روز کراچی کی اہم مارکیٹیں اور شاپنگ سینٹرز بند رہے،تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کامیا ب ہڑتال کرکے ثابت کردیا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کا ایجنڈاکسی صورت قبول نہیں ، ہڑتال کے باعث شہر میں تمام بڑے چھوٹے تمام کاروباری مراکز بند رہے ۔ دوسری جانب اسلام آباد میں ہڑتالی تاجروں کے وفد سے ملاقات کے بعد مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کی مدد سے ہی معیشت میں بہتری لائی جا سکتی ہے جبکہ 30 سے 35 لاکھ تاجر ٹیکس کے نظام میں شامل ہی نہیں ہیں ۔ تاجروں کو حکومت ریاست کا اہم جز سمجھتی ہے اور تاجروں کے ٹیکس سے متعلق بات چیت جاری ہے ، 30 سے 35 لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کےلئے ٹیکس میں کمی، ایف بی آر میں اصلاحات اور کرپشن سے پاک پالیسی لائی جا رہی ہے، ٹیکس دینے والے تاجروں کےلئے آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں ۔

کولمبیا کی گورنر قاتلانہ حملے میں 4 محافظوں سمیت ہلاک، 6 زخمی

بوگوٹا: کولمبیا میں مسلح افراد نے صوبائی گورنر کرسٹینا بوتیستا کی گاڑی پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں خاتون گورنر اور ان کے 4 محافظ ہلاک ہوگئے جب کہ 6 افراد زخمی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے کاؤکا میں خاتون گورنر کرسٹینا بوتیستا اپنے محافظوں کے ہمراہ توری بیو شہر کے مضافاتی علاقے کے دورے پر تھیں کہ ان کی گاڑی پر مسلح افراد نے حملہ کردیا۔ اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آکر گورنر اپنے چاروں محافظوں سمیت ہلاک ہوگئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کا حملہ اتنا اچانک تھا کہ محافظوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل سکا اور وہ ردعمل میں کچھ نہیں کرسکے۔ حملے میں 6 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں دو زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

کولمبیا کے صدر ایوان ڈوق نے اپنے بیان میں خاتون گورنر کے قتل پر اظہار افسوس کرتے ہوئے بزدلانہ حملے کی مذمت کی ہے اور پولیس کو قاتلوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی احکامات جاری کیے ہیں۔

Google Analytics Alternative