Home » 2019 » October » 05

Daily Archives: October 5, 2019

بیرون ملک بھیجے گئے سرمائے کو واپس لانے کا کوئی طریقہ نہیں، شبر زیدی

اسلام آباد:  چیئرمین ایف بی آرشبر زیدی نے کہاہے کہ پاکستان سے ماضی میں پیسہ باہرگیا اورلوگوں نے بیرون ملک محفوظ ٹھکانے بنائے جب کہ بیرون ملک بھیجے گئے سرمائے کو واپس پاکستان لانے کاکوئی طریقہ نہیں ہے۔

معاشی خوشحالی کیلیے علاقائی استحکام کے موضوع پر سیمینارکا انعقادکیاگیا، سمینار میں عالمی بینک کے کنٹری کنٹری ڈائریکٹرالانگو پاچا موتھو، انسانی حقوق کی سرگرم ایکٹویسٹ خالدہ غوث، سینئرصحافی فہد حسین ودیگر نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پراظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آرشبر زیدی نے کہاکہ پاکستان سے ماضی میں پیسہ باہرگیا اور لوگوں نے بیرون ملک محفوظ ٹھکانے بنائے،گزشتہ 20 سال میں پاکستان سے سالانہ 6 ارب ڈالر بیرون ملک گئے، پاکستان میں اب لوگ منی لانڈرنگ، اسمگلنگ، حوالہ ہنڈی پر بات کر رہے ہیں، ماضی میں اس موضوع پر بات نہیں کی جاتی تھی۔ 1990کی دہائی سے ہی سرمایہ بیرون ملک جانا شروع ہوگیا تھا، لوگوں نے دوبئی اوربنگلہ دیش میں بھی سرمایہ کاری کی۔

ان کا کہنا تھا ہم پاکستان کے تمام بزنس ہاؤسز سے بات کر رہے ہیں، ہمیں اندرونی امن واستحکام کیلئے کام کرنا ہوگا۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا پاکستان میں بڑے شہروں کا پراپرٹی ٹیکس میں حصہ کم ہے، تہران سمیت دیگر ملکوں کے بڑے شہروں کا ٹیکسوں میں حصہ کہیں زیادہ ہے، یہ ملک اس طرح نہیں چلایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا پاکستان سے سارا پیسہ قانونی طریقے سے باہرگیا، قانونی طریقے سے باہر جانے والا پیسہ واپس نہیںلایا جا سکتا، فارن کرنسی اکاونٹس کے ذریعے پیسہ باہر گیا، پاکستانیوں نے پیسہ قانونی طریقے سے بغیر ٹیکس ادا کئے بیرون ملک منتقل کیا، ماضی میں پیسہ بیرون ملک جانے سے روکنے کیلیے کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔

انہوں نے کہا ہم نے تعلیم اور صحت کے شعبے کی نجکاری کر دی، لیکن پچھلے بیس سال سے حقیقی نجکاری نہیںکی گئی۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا بیرون ملک بھیجی گئی رقم واپس پاکستان لانیکا طریقہ موجود نہیں، پاکستانی اب بھی اپنا سرمایہ بیرون ملک بھیج رہے ہیں، اس میں کرپشن کا پیسہ 15 سے 20 فیصد ہے، پاکستانی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے کاروباری افرادکا اعتماد بحال کرنا ہوگا، مالدار افرادنے اپنے گھر بیرون ملک بنائے ہوئے ہیں، ان کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں، زراعت سے کوئی ٹیکس نہیں آتا، ڈاکٹرز، انجینئرزٹیکس نہیں دیتے، ریٹیلرز اعشاریہ تین فیصد ٹیکس دیتے ہیں، مینوفیکچرنگ شعبے سے 70فیصد ٹیکس آتا ہے، سیلزٹیکس کی شرح 17فیصد سے نہیں بڑھا رہے، سیلزٹیکس کی شرح 18یا 19فیصد نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہاکہ منی لانڈرنگ سے باہرگیا پیسہ واپس نہیں لا سکتے،کرپشن کا پیسہ واپس لائیںگے۔

اس موقع پر عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرالانگو پاچا میتھونے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کی بہتری کیلئے مل کرکام کرنے کی ضرورت ہے، اگلے تیس سال میں پاکستان کا شمار بڑی معیشتوں میں ہوگا، پاکستان میں آبادی کا تناسب گروتھ ریٹ سے دوگنا ہے، پاکستان کی معیشت کو مختلف مسائل کا سامنا ہے، حکومت کی ترجیحات درست سمت میں ہیں، رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں ٹیکس ریونیو میں پندرہ فیصد بہتری آئی، پاکستان کو صحت اور تعلیم کیلئے زیادہ فنڈزمختص کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نسبت بنگلادیش اور ویتنام میں ہیلتھ اورتعلیم کیلئے زیادہ بجٹ مختص کیا جاتا ہے، پاکستان میں زرعی شعبے میںجدت لانے کی ضرورت ہے، شوگر،کاٹن اور چاول کی فصلوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے،کراچی معاشی سرگرمیوں کا مرکزلیکن اسے انفراسٹرکچر سمیت بہت مسائل درپیش ہیں، چھوٹے اوردرمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان میں کاروبار کیلئے آسان طریقہ اورآسان ٹیکس سسٹم بہت ضروری ہے، حکومت ٹیکس سسٹم میںآسانیاں پیداکر رہی ہے، جنوبی ایشیا ممالک میں پاکستان کی برآمدات کم ہیں ۔

مولانا فضل الرحمان اپنی ڈوبتی سیاست بچا رہے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ  مولانا فضل الرحمان اپنی ڈوبتی سیاست بچا رہے ہیں اور وہ مدارس میں اصلاحات پر زیادہ پریشان ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی و پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے موجودہ معاشی صورتحال اور معیشت کی بحالی کے لیے اقدامات پر بریفنگ دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن کے احتجاج پر بھی بات چیت کی گئی، اراکین اجلاس کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اب 27 اکتوبر کی تاریخ نہ بدلیں اور اسلام آباد آ جائیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی ڈوبتی سیاست بچا رہے ہیں، وہ مدارس اصلاحات پر ذیادہ پریشان ہیں، مدارس میں اصلاحات سے طلباء ایسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے کوئی پریشانی نہیں ہے، تحریک انصاف سب سے بڑی عوامی قوت ہے، احتجاجی تحریکوں کا مقصد این آر او کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے حکومتی بیانیے کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوئے ترجمانوں کو کہا کہ عوام کو حکومت کی کامیابیوں سے مؤثر طریقے سے آگاہ کیا جائے، اور  مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے مقاصد سے بھی آگاہ کریں۔

پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی ترجیحات میں شامل

قبل ازیں  وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داوٴد، چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز اسٹیل ملزعامر ممتاز اور وزیر نجکاری میاں محمد سومرو نے شرکت کی، اجلاس میں اسٹیل ملز کی بحالی سے متعلق کی جانے والی کوششوں اور مختلف امور پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسٹیل ملز کی بحالی کے حوالے سے چین اور روس کی کمپنیوں نے اظہار دلچسپی کیا ہے، اور اس حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا جارہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سرکاری خزانے پر بوجھ بننے والے اس ادارے کی بحالی کو ماضی کی حکومتوں کی جانب سے فراموش کیا جانا قوم پر ظلم کے مترادف ہے، پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، حکومت کی ہر ممکنہ کوشش ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کو بحال کرکے اسے منافع بخش ادارہ بنایا جائے، جس سے سرکاری خزانے پر ہر ماہ پڑنے والے بوجھ ختم ہوگا وہیں ادارے کو اتنا فعال بنایا جائے گا کہ وہ ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

تجارتی حجم کم ہونا ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے، سپریم کورٹ

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کاروباری طبقے کوسہولیات فراہم کرنے کاحکم جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ تجارتی حجم کم ہونا ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے۔

سپریم کورٹ میں فلورملز کو بنک گارنٹی واپس کرنے کے حکم کیخلاف پنجاب حکومت کی اپیل کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سماعت کے بعد پنجاب حکومت کی اپیل خارج کردی۔

عدالت عظمیٰ نے پنجاب حکومت کوآٹابرآمد کرنے والی فلورملزکوبنک گارنٹی واپس کرنے کاحکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ایکسپورٹرزکے کام میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کاروباری طبقے کو سہولیات دی جائیں نا کہ مشکلات پیدا کی جائیں، تجارتی حجم کم ہونا ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے،برآمدات متاثر ہونے سے ملکی تجارتی حجم کم ہوگا۔

فلورملز کے وکیل نے کہا کہ بنک گارنٹی ڈالر میں جمع کرائی گئی جس کی مقامی کرنسی میں تبدیلی کی تصدیق اسٹیٹ بنک نے بھی کی۔ ڈائریکٹرفوڈپنجاب نے موقف اختیار کیا کہ فلورملزمحکمہ خوراک کومطمئن نہ کر سکیں۔

جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ آپ نے اپنے اطمینان کیلئے کونسے دستاویزات مانگے تھے جو نہیں ملے؟، آپ پتا نہیں کس طرح کا اطمینان چاہتے ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ایک طرف کہتے ہیں کاروباری طبقے کو سہولیات دی جائیں گی، دوسری طرف کاروباری افراد کیلئے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔

فضل الرحمان 27 اکتوبر کے روز احتجاج پر نظرثانی کریں، شاہ محمود قریشی

 اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے لیے 27 اکتوبر کی تاریخ پر نظرثانی کریں۔

شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر کو مولانا نے مارچ کا اعلان کیا ہے اور 27 اکتوبر کو ہی بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا تھا، یہ دن کشمیریوں سے منسوب ہے، اس روز دھرنے سے پاکستان اور کشمیر کے کاز کو نقصان پہنچے گا، لہذا مولانا 27 تاریخ پر نظرثانی کریں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان قابل احترام ہیں، 27 اکتوبر کو کشمیرکےعلاوہ کوئی بات ہوتی ہے تو بھارت اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرے گا، یہ وہ دن ہے جس دن بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیاتھا، مولانا فضل الرحمان احتجاج کریں لیکن اسے کشمیر کے ساتھ نتھی نہ کریں۔

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو آزادی مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

27 فروری کو اپنا ہی فوجی ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا، بھارتی فضائیہ چیف کا اعتراف

نئی دلی: بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل راکیش کمار سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ ہم نے اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو غلطی سے مار گرایا تھا جس کے لیے دو افسران کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین ایئر فورس کے نئے سربراہ راکیش کمار سنگھ نے صحافیوں سے گفتگو میں اپنی فوج کی نااہلی اور غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ 27 فروری کو سری نگر میں کریش ہونے والا بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر دراصل زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے تباہ ہوا تھا اور یہ میزائل خود بھارتی فضائیہ نے پاکستانی ہیلی کاپٹر سمجھ کر چلائے تھے۔

بھارتی ایئر چیف نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے تحقیقات مکمل کرلی ہیں جس میں غلطی سے اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے میں ہمارے دو افسران ملوث پائے گئے ہیں جن کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی، ہم اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں اور دوبارہ ایسے حادثات نہ ہونے کے لیے ضروری اقدامات کرلیے گئے ہیں، اپنی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔

واضح رہے کہ 27 فروری کو پاک فضائیہ کے طیاروں نے بھارتی طیارہ مارگرایا تھا اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اسی بوکھلاہٹ اور دباؤ میں مبتلا بھارتی فضائیہ نے سری نگر میں ایک میزائل کے ذریعے اپنے ہی ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کو پاکستانی ہیلی کاپٹر سمجھ کر مار گرایا گیا تھا۔

وزیراعظم سے افغان طالبان وفد کی ملاقات، امن عمل مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق

امریکہ نے افغانستان کے معاملے میں پاکستان کی مدد طلب کی تھی ۔ پاکستان ہمیشہ ہی اس بات پر کاربند رہا کہ مسائل جنگ سے نہیں مذاکرات سے حل ہوتے ہیں ۔ اسی سلسلے میں ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں طالبان کا وفد امریکہ سے مذاکرات میں تعطل کے بعد روس گیا اور اب پاکستان آیا ہوا ہے جہاں اس نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کی ۔ اس سے قبل وزیر خارجہ سے بھی ملاقات ہوئی ۔ وفد نے اس بات کا اظہار کیا کہ مذاکرات میں تعطل امریکہ کی وجہ سے آیا ہے ۔ طالبان آج بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں ۔ امریکہ کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر وہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا چاہتا ہے تو اسے مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا ۔ ماضی کی تاریخ دیکھ لیں کہ جس ملک نے خطہ افغانستان کی سرزمین پر قدم رکھا اس کو فاتح کرنا چاہا تو وہ یہاں سے مقتوح ہوکر ہی نکلا ۔ چاہے اپنی شکست تسلیم کرے یا نہ کرے مگر حقیقت یہ ہی ہے کہ روس کو نہ صرف شکست ہوئی بلکہ افغانستان سے ہزیمت کے بعد شکست و ریخت کا بھی شکار ہوگیا پھر دنیا میں صرف امریکہ ہی سپر پاو رہ گیا ۔ طاقت کی تقسیم ختم ہونے کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی ۔ کیونکہ گاءوں کا ایک چوہدری ہو تو وہ جو مرضی کرے اگر اسے آگے سے کوئی روکنے والا موجود ہو تو پھر وہ من مانی نہیں کرسکتا اب امریکہ کی بھی یہی پوزیشن ہے ۔ وہ چاہے دنیا کے کسی بھی ملک کو تختہ مشق بنالے لیکن افغانستان میں حالات مختلف ہیں ۔ یہاں پوری ایک نسل جنگ کے حالات میں جوان ہوچکی ہے ، بارود، دھماکے ، فائرنگ ان کیلئے کوئی حیثیت نہیں رکھتے پھر افغانستان کی سرزمین پر باہر سے آنے والا حملہ آور زمینی جنگ کسی صورت نہیں جیت سکتا ، چھاپہ مار کارروائیوں میں آنے والی بیرونی قوتوں نے ہمیشہ ہی نقصان اٹھایا ۔ اب یہ ہی حالت امریکہ کی ہے ۔ مصداق اس کے کہ امریکہ اس کمبل کو چھوڑنا چاہتا ہے مگر اب کمبل اس کو نہیں چھوڑ رہا ۔ اسی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے مدد طلب کی ہے ۔ افغان طالبان کے اعلی سطحی وفد نے ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں وزیر اعظم ہاوس میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے ۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیر خارجہ سے وفد کی ہونے والی ملاقات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ملاقا ت کے دوران طالبان کے سیاسی وفد کی سربراہی ملا عبدالغنی برادر نے کی اور اس ملاقات کے دوران خطے کی صورتحال اور افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا ۔ اس ملاقات کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ برادرانہ تعلقات، مذہبی، ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں پاکستان گذشتہ 40 برسوں سے افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ یکساں طور پر بھگت رہا ہے ۔ پاکستان صدق دل سے سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور افغانستان میں قیام امن کے لیے ;39;مذاکرات;39; ہی مثبت اور واحد راستہ ہے ۔ ہ میں خوشی ہے کہ ;200;ج دنیا، افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے موقوف کی تائید کر رہی ہے ۔ پاکستان نے افغان امن عمل میں مشترکہ ذمہ داری کے تحت نہایت ایمانداری سے مصالحانہ کردار ادا کیا ہے کیونکہ پرامن افغانستان پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے ۔ ہماری خواہش ہے کہ فریقین مذاکرات کی جلد بحالی کی طرف راغب ہوں تاکہ دیرپا، اور پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے ۔ گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان دنیا کو یہ یاد کرواتا رہا ہے کہ وہ افغانستان کی ہارڈ کور سخت گیر سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تہذیبی زمینی حقائق کو نظرانداز نہ کریں ۔ افغان تنازعے کا پرامن حل تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی کا باعث بنے گا ۔ افغانستان میں امن کے حصول کے لیے موجودہ علاقائی اور بین اقوامی اتفاق رائے نے ایک بے مثل موقع فراہم کیا ہے جو کسی صورت ضائع نہیں ہونا چاہیے ۔ تعطل کے شکار افغان امن عمل کی دوبارہ شروعات جلد ہی ہو گی ۔ دوسری جانب افغانستان کے چیف ایگزیکیوٹو عبداللہ عبداللہ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کی خاطر طالبان کو کابل کے ساتھ بات چیت کرنے پر ;200;مادہ کر پائے گا ۔ کابل میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ خان سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انھیں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر ;200;مادہ کر پائے تو ملک میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی ۔ ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم افغان طالبان کے سیاسی دفترکے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی رابطوں کی ویب ساءٹ ٹویٹر میں کہاکہ امارت اسلامیہ کے وفد نے اسلام آباد میں پاکستان کے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ۔ وفد نے دونوں ممالک کے تعلقات سیاسی امور اور امن پر بھی بات کی ، وفد نے افغان مہاجرین کی تعلیم ، صحت اور ویزہ کی ادائیگی کیلئے سہولیات کا مطالبہ کیاجبکہ حکومت پاکستان سے افغان تاجروں کے ساتھ تعاون کی اپیل بھی کی ۔ پاکستان نے وعدہ کیا کہ وہ تمام شعبوں میں مکمل تعاون کریں گے ۔ وزیرخارجہ نے کہاہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو اور معاملات سلجھیں ۔ ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ;200;ج ملا برادر کی سربراہی میں طالبان کے سیاسی کمیشن کے 12 رکنی وفد سے سوا گھنٹے ملاقات ہوئی، ہم نے طالبان کے سامنے پاکستان کانقطہ نظر پیش کیا اور ان کا موقف سنا ۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ طالبان وفد نے مذاکرات میں تعطل کی وجوہات اور اسے معطل کرنے سے متعلق اپنا موقف پیش کیا ۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو اور معاملات سلجھیں ، خطے میں امن نہ چاہنے والی قوتیں خون خرابہ چاہتی ہیں ۔ امن مخالف قوتیں چاہتی ہیں کہ مسلمان ;200;پس میں الجھتے رہیں اور ان کی دکان چمکتی رہے، ان قوتوں کے مفادات ہیں ،ان کے کِک بیکس، کمیشن اور کھانا پینا لگا ہوا ہے ۔ افغان مسئلے کا واحد حل سیاسی حل ہے، بہ زور بازو افغان مسئلے کا حل نکلنا ہوتا تو 19 سال کا عرصہ کافی تھا ۔ افغان طالبان سے گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ بات ساری طے ہوچکی تھی، معاہدے پر تقریبا رضا مندی ہوگئی تھی، میری دعا ہے اور یہ کہوں گا کہ بات بہت ;200;گے بڑھ چکی ہے اور حوصلہ افزا ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغان طالبان کی اور بھی نشستیں ہوں گی، امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد بھی پاکستان میں ہیں ان سے بھی طالبان کی ملاقات ہوگی ۔ دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان مسئلے کے جلد پر امن حل کیلئے تمام ممکنہ کوششیں کرنے کا وقت ہے اور افغانستان میں مستقل امن کیلئے پاکستان تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا ۔ مذاکرات کے بعد نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی پر تیار ہیں ، امریکا مذاکرات میں واپس ;200;ئے تو اسے خوش ;200;مدید کہیں گے ۔ ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا، اور اس معاہدے پر ;200;ج بھی قائم ہیں ۔

کشمیریوں کے حق خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کور کمانڈرز کانفرنس

کشمیر ہماری جان، کشمیر ہماری شہ رگ ہے اس کے بغیر پاکستان نہیں رہ سکتا ۔ اسی وجہ سے ایک مرتبہ پھر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے ۔ 70 دہائیوں سے کشمیر کی مائیں ، بہنیں اور نوجوان آزادی کے حصول کیلئے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں ۔ مودی نے جو مقبوضہ وادی میں ظلم کے پہاڑ توڑے دراصل اس سے کشمیریوں کی آزادی مزید قریب آن پہنچی ہے ۔ آج دنیا بھر کو علم ہے کہ دنیا بھر میں امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے ۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں ۔ اگر خدانخواستہ ان کے مابین جنگ ہوئی تو بھیانک اور ہولنا ک ہوگی جس سے پوری دنیا متاثر ہوگی ۔ کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہاکہ پاک فوج مادر وطن کے دفاع کے لئے مکمل طور پرتیار ہے ۔ مادر وطن کا ہر قیمت پردفاع یقینی بنایا جائے گا ۔ کور کمانڈر کانفرنس میں اعادہ کیا گےا کہ پاک فوج کسی بھی بھارتی جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دے گی،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان آرمی اپنے وطن کی عزت و ناموس اور علاقائی استحکام کی ہر قیمت پر حفاظت کرے گی کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، کشمیریوں کے حق خودارادیت سے متعلق سمجھوتا نہیں کیا جائے گا،کور کمانڈرز کے اس اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا گیا ۔ اس موقع پر شرکا کا کہنا تھا کہ یواین جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیربھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا، ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے والوں کی سازشیں ناکام بنائی گئی ہیں ۔

’’آزادی مارچ‘‘ فیس سیونگ دینے کی ضرورت

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کردیا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) نے اس حوالے سے کسی بھی طرح مارچ کی قیادت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا صاحب آزادی مارچ کی تاریخ آگے بڑھائیں جبکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ مارچ شروع ہونے سے قبل ہی اس کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ یوں تو مولانا صاحب کے پاس مدارس کی صورت میں طلبا کی ایک خاطر خواہ تعداد موجود ہے بلکہ یہ لاکھوں میں ہے لیکن ان طلباء کا سیاست کیلئے استعمال اچھا نہیں ہوگا ۔ وزیراعلیٰ کے پی کے نے بھی کہا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کو کے پی کے سے آگے نہیں جانے دیں گے ۔ ہم تو حکومت سے کہیں گے کہ سیاسی مڈبھیڑ سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ کوئی درمیانہ راستہ نکالا جائے جس سے سیاسی انارکی نہ پھیلے، ہمارے سرحدی حالات باہمی اتفاق کا مطالبہ کررہے ہیں نہ کہ نفاق کا ۔ ایسے میں مولانا صاحب جوکہ ایک زیرک سیاستدان ہیں انہیں بھی مفاہمت کی ج انب آنا چاہیے فریقین کو فیس سیونگ دینا ہوگی تب ہی حالات کنٹرول ہوسکتے ہیں ۔ دمادم مست قلندر کسی صورت بھی جمہوریت اور ملکی استحکام کے حق میں نہیں ۔

کرپشن کے خاتمے کیلئے چیئرمین نیب کمربستہ

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کا حکومت سے کوئی گٹھ جوڑ نہیں ، جنہیں سائیکل پر دیکھا ;200;ج ان کے دبئی میں ٹاورز ہیں ، میری منظوری تک پلی بارگین نہیں ہوسکتی، ہم کب ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں گے ;238; ۔ تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کے کئی کیس ہمارے حوالے کیے، نیب اپنے دائرہ اختیار سے نکل کر کوئی اقدام نہیں کرتا، ہم نے ٹیکس کا کوئی کیس نہیں لیا، ٹیکس معاملات کا کوئی کیس نیب نہیں دیکھے گا، ٹیکس سے بچنا اور منی لانڈرنگ مختلف معاملات ہیں ، ٹیکس معاملات کے تمام کیسز ایف بی ;200;ر کو بھیجیں گے، پاناما لیکس کے دیگر کیسز بھی چل رہے ہیں ۔ مجھے تو دو روز کسی کو قید رکھنے کا اختیار نہیں ، اختیار دیں پھر دیکھیں 3 ہفتوں میں سب کچھ واپس لاءوں گا ۔ نیب انسان دوست ادارہ ہے، منی لانڈرنگ اور بزنس میں بہت فرق ہے، سزا اور جزا ملکی قانون کے تحت عدالتوں کا کام ہے، ;200;پ کا تشخص پاکستان کی وجہ سے ہے، ملک کو ترجیح دیں ، ملک کے مقروض ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں ، ہسپتال میں ایک بستر پر 4، 4 مریض ہیں ، ملک میں بہت سے مافیاز کی داستانیں ہیں ، ملک 100 ارب ڈالر کا مقروض ہے، 100 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے ;238; ۔ ہمارے ہاتھوں میں کشکول ہے، دیگرممالک سے برابری کی بنیاد پر بات نہیں کرسکتے، ایک چھوٹے سے ملک نے بھی شواہد دینے سے انکار کر دیا، واپسی کیلئے رابطہ کیا تو اس ملک کی عدالت نے سٹے دے دیا، 100 روپے کی کرپشن پر 10 روپے واپس کرنا زیادتی ہے، میں نے ساری عمر منصفی کی ہے، مجھے ہر ایک کی عزت نفس کا خیال ہے ۔

حکومت کو مزید وقت دینا ملک کے مفاد میں نہیں، آصف زرداری

 اسلام آباد: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور ان سے اہم امور پر مشاورت کی۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور احتساب عدالت میں پیش ہوئے اس موقع پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور سے آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو سمیت پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماؤں نے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔

بعد ازاں بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں قمر زمان کائرہ، فرحت اللہ بابر ، شیری رحمان ملاقات میں موجود تھے۔ اس موقع پر بلاول نے اپنے والد کی خیریت دریافت کی اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آصف زرداری کو آگاہ کیا، ملاقات کے دوران اہم امور پر مشاورت بھی ہوئی۔

احتساب عدالت سے واپسی کے موقع پر صحافی نے سوال کیا مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کردیا ہے،اس پر آپ کا کیا کہنا ہے، آصف علی زرداری نے جواب دیا، انشااللہ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں، مولانا میرے دوست ہیں لیکن سیاست چیئرمین بلاول نے کرنی ہے، مولانا کی اپنی جماعت اور سیاست ہے البتہ ہماری دوستی رہے گی۔

آصف زرداری نے کہا کہ کارباری طبقہ آرمی چیف سے ملاقات میں رو رہا ہے اور وزیراعظم کی شکایات ان سے لگا رہے ہیں جنھوں نے وزیراعظم بنایا جب کہ حکومت کو مزید وقت دینا ملک کے مفاد میں نہیں، تمام جمہوری پارٹیوں کو اب مل کر عملی جدوجہد کرنا ہو گی۔ اسٹیبلمشنٹ کے ساتھ ڈیل پر آصف زرداری نے برجستہ جواب دیا کہ ’’معافی وہ مانگیں‘‘، مگر پھر رک گئے۔

صحافی نے سوال کیا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی پر کوئ پشیمانی محسوس ہو رہی ہے، جس پر آصف زرداری نے جواب دیا کہ شاہد خاقان عباسی چئیرمین نیب کی تقرری پر معافی مانگ چکے ہیں۔

آدم خوروں پر بنی فلم ’درج‘ کو نمائش کی اجازت نہ مل سکی

فلم ساز شمعون عباسی کی آنے والی ہارر فلم ’درج‘ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت نہیں مل سکی اور اب خیال کیا جارہا ہے کہ ان کی فلم ملک میں ریلیز نہیں کی جائے گی۔

فلم کی ٹیم کے پاس اجازت نہ دیے جانے کے خلاف درخواست دائر کرنے کا حق حاصل ہے اور اگر فلم کی ٹیم نے فلم سینسر بورڈز کے خلاف درخواست دائر کردی تو اس پر سماعت کرنے والا پینل فلم کو ریلیز کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کرے گا۔

فلم ساز شمعون عباسی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی فلم کو پنجاب اور سندھ سینسر بورڈز کے علاوہ مرکزی سینسر بورڈ نے بھی اجازت نہیں دی۔

شمعون عباسی نے بتایا کہ ابتدائی طور پر سندھ اور پنجاب فلم سینسر بورڈز نے ان کی فلم کو نمائش کی اجازت دی تھی، تاہم مرکزی فلم سینسر بورڈ کی جانب سے اجازت نہ دینے کے بعد دونوں صوبائی بورڈز نے بھی اجازت منسوخ کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں فلم کو نمائش کی اجازت نہ دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں بتائی گئی اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر فلم کو کس اعتراض پر روکا گیا؟

ماہرہ خان نے فلم میں مرکزی کردار ادا کیا ہے—اسکرین شاٹ
ماہرہ خان نے فلم میں مرکزی کردار ادا کیا ہے—اسکرین شاٹ

انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی فلم میں کوئی بھی قابل اعتراض منظر نہیں اور نہ ہی اس میں شدید خون خرابا دکھایا گیا ہے، تاہم پھر بھی نہ جانے کیوں ان کی فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

شمعون عباسی کے مطابق ’درج‘ پنجاب کے 2 بھائیوں کی سچی کہانی سے متاثر ہوکر بنائی گئی فلم ہے اور اس کی کہانی تحقیق کے بعد لکھی گئی۔

ان کے مطابق فلم کی کہانی قبروں سے 100 مردے نکال کر کھانے والے افراد کے گرد گھومتی ہے اور اس میں کوئی بھی ایسا سین نہیں جس کی بنیاد پر فلم کو نمائش سے روکا جائے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے پاس فلم سینسر بورڈز کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اختیار ہے اور وہ اس کو استعمال کریں گے۔

شمون عباسی بھی مرکزی کردار میں دکھائی دیں گے—اسکرین شاٹ
شمون عباسی بھی مرکزی کردار میں دکھائی دیں گے—اسکرین شاٹ

دوسری جانب سینٹرل بورڈ آف فلم سینسر (سی بی ایف سی) کے چیئرمین دانیال گیلانی نے بھی فلم کو نمائش کی اجازت نہ دیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فلم میں ایسے مناظر تھے جس کی وجہ سے اسے ریلیز کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مزید پڑھیں: شمعون عباسی کی ’درج‘ کو دنیا بھر میں ریلیز تاریخ مل گئی

واضح رہے کہ ’درج‘ کی کہانی اگرچہ آدم خور انسانوں کے گرد گھومتی ہے لیکن فلم میں ایک ساتھ دوسری کہانیاں بھی دکھائی جائیں گی لیکن تمام کہانیوں کا آپس میں تعلق ہوتا ہے۔

فلم کے جاری کیے گئے ٹریلر میں جہاں ایک خاتون کو اپنے لاپتہ شوہر کو تلاش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے وہیں یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ ان کے لاپتہ شوہر کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش قبر سے نکال کر غائب کردی جاتی ہے اور شوہر کو تلاش کرتی خاتون کو کئی حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فلم کے ٹریلر کو بہت سراہا گیا تھا—اسکرین شاٹ
فلم کے ٹریلر کو بہت سراہا گیا تھا—اسکرین شاٹ

جہاں ’درج‘ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت نہیں مل سکی وہیں اس فلم کو آئندہ ہفتے متحدہ عرب امارات، امریکا، برطانیہ و یورپ کے دیگر ممالک میں ریلیز کیا جائے گا۔

’درج‘ کی ہدایات شمعون عباسی نے دی ہے جب کہ انہوں نے اس کی کہانی بھی لکھی ہے۔

فلم کی کاسٹ میں جہاں خود شمعون عباسی ایکشن دکھاتے نظر آئیں گے تو وہیں ان کے ساتھ مائرہ خان، شیری شاہ، نعمان جاوید اور دیگر اداکار شامل ہیں۔

Google Analytics Alternative