Home » 2019 » October » 09

Daily Archives: October 9, 2019

فلاحی ریاست کی جانب پہلاعملی قدم

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز ’احساس سیلانی لنگر‘سکیم کا افتتاح کر دیا ہے، پروگرام کے تحت نادار اور ضرورت مند افراد کو مفت کھانے کی سہولت میر ہوگی،لنگر سکیم حکومت کی جانب سے جاری کردہ سماجی و فلاحی بہبود کے جامع پروگرام احساس کا اہم جزو ہے، اسلام ;200;باد سے شروع کی جانے والی اس سکیم کو ملک بھر میں پھیلایا جائے گا ۔ پاکستان تحریک انصاف نے ’احساس سیلانی لنگر‘سکیم کا آغاز کرکے یقینی طورپرایک غریب شخص کے احساس کرنے کاثبوت دیاہے ،اس پروگرام پر عملدرآمد سے ملک بھر میں غربت کاخاتمہ ہوگا، گوکہ بظاہرحالات یہ بتارہے ہیں کہ وقت مشکل ہے لیکن اس مشکل وقت کے بعد اچھے وقت کی امید ہے ،کیونکہ گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی دیکھی جائے تومحسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپناذاتی مفاد زیادہ اور ملکی وقومی مفاد کوپس پشت ڈال کررکھا، وزیراعظم عمران خان نے نادار افراد کا معیار زند گی بلند کرنے کےلئے ’احساس سیلانی لنگر‘ پروگرام کے تحت غربت میں کمی کی حکمت عملی کا ;200;غاز کیاہے ۔ دنیا کے ننانوے فیصد عوام کا بنیادی مسئلہ روٹی کا ہے،روٹی کے حصول کیلئے عوام مارے مارے پھر رہے ہیں اور نوالے کی تلاش میں ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور نوالہ ہے کہ ان کے ہاتھ نہیں آتا ہے ۔ خاص کرپاکستانی نظام کے سیاسی مسخروں نے عوام کو مہنگائی خوف اور بھوک کے تحفے کے اور کچھ نہیں دیا ہے جب بھی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے پاس عوام کے بنیادی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے اس بنا پر عوام نہ سڑکوں پر نکلتے ہیں اور نہ جمہوریت اور آمریت میں ان کی دلچسپی ہے ان کیلئے وہی لیڈر اچھا ہے جو ان کے بنیادی مسائل حل کرسکے ۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ لوگ صبر نہیں کرتے اور13 ماہ میں کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان، شروع میں ریاست مدینہ کے بھی مشکل حالات تھے، حکومت کاروباری، صنعتی اور امیر طبقے کی مدد کر رہی ہے، ان سے ٹیکس اکٹھا کرکے غریبوں پر خرچ کریں گے، پاکستان بدلے گا لیکن تبدیلی آہستہ آہستہ آئے گی ، پولیس کا نظام تبدیل کررہے ہیں تاکہ تھانوں میں ظلم نہ ہو ۔ نیکی کے کام سے دل میں سکون پیدا ہوتا ہے، پہلے فیز میں 112 لنگر خانے شروع کئے گئے ہیں ، احساس پروگرام غربت کم کرنے کا پروگرام ہے ۔ یہ ملک کی تاریخ کا غربت میں کمی کا سب سے بڑا پروگرام ہے جسے چھوٹے شہروں تک بھی پہنچایاجائے گا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے امریکی ارکان سینیٹ کرس وان ہولین اور میگی حسن نے ملاقات کی جس میں امریکی رکن کانگریس طاہر جاوید، ناظم الامور پال جونز بھی شامل تھے ۔ ا مریکی وفد نے آزاد کشمیر کے دورے کے بعد ذاتی مشاہدے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا ۔ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیرپرتعاون کرنے پرسینیٹرز سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ بھارت نہیں جو میں سمجھتا تھا، مودی نے بھارت کا چہرہ پوری دنیا میں تبدیل کردیا ہے، میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا سب سے بڑا حامی تھا لیکن اب جب تک بھارت کشمیر کے حالات بہتر نہیں کرتا مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتے ۔ بھارت ہندو سپرمیسی کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے خطرناک نتاءج ہوسکتے ہیں ۔ دونوں ملک ایٹمی طاقت ہیں ، معاملات کسی بھی سطح پر جا سکتے ہیں اور اگر معاملات خراب ہوئے تو دنیا کے لیے پریشانی ہوگی ۔ افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس پر مرحلہ وار بات چیت ہونی چاہیے، طالبان چاہتے ہیں کہ امن ہو اور امریکا بھی چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن ہو ۔ اس موقع پرامریکی سینیٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ پر کشمیراورافغان امن عمل آگے بڑھانے پرزوردیں گے ۔ وزیراعظم نے بالکل واضح اوردوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے سینیٹرز کا اس حوالے سے شکریہ بھی ادا کیاکہ انہوں نے مسئلہ کشمیر سے متعلق آوازاٹھائی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اگر خدانخواستہ مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تو پوری دنیا کے لئے یہ ایک ہولناک مسئلہ ثابت ہوگا چونکہ عمران خان نے کہاتھا کہ وہ کشمیریوں کے سفیربنیں گے انہوں نے یہ حق ادا کردیا ۔ پوری دنیا کے سامنے ہٹلر کے پیروکار فسطائیت پرعمل کرنے والے دہشت گرد نام نہاد جمہوریت کے دعویدار مودی کاچہرہ بے نقاب کردیا ہے اوربھارت کابھی وہ مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا ہے جہاں پراقلیتوں کی زندگیاں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں گزررہی ہیں دہشت گرد تنظیم آرایس ایس کے مقاصد اوراس کی مناظرکے حوالے سے دنیا کوآگاہی کرائی اوربتایا کہ مودی فاشسٹ کس طرح اکھنڈبھارت بنانے کے فارمولے پرعمل پیرا ہے لیکن بھارت اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا اب صرف کشمیر ہی آزاد نہیں ہوگابھارت کے اندربھی آزادی کی تحریکوں کا آغاز ہوچکا ہے مودی جواپنے تئیں کوئی نئی تاریخ لکھنے کے لئے کوشاں ہیں لیکن مورخ لکھے گا کہ اس مودی ہی کی وجہ سے بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اوراس ایک بھارت میں سے کئی نئی ممالک ابھریں گے ۔ ادھروزیراعظم نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ری اسٹرکچرنگ پلان کی منظوری دےدی ۔ وزیر اعظم نے پلان حتمی منظوری کےلئے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ ترقیاتی اتھارٹی کی تنظیم نو کا مقصد خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے ۔ چیئرمین سی ڈی اے نے گذشتہ چھ ماہ کی پیشرفت رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی ، بریفنگ میں بتایاگیاکہ پہلی بار ، سی ڈی اے کے مالی حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے سیکٹر کی ترقی تعطل کا شکار رہی،سی ڈی اے اب تعطل کا شکار شعبوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ وزیراعظم کو اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں پیشرفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ۔ ماسٹر پلان میں نظرثانی کے لئے کمیشن کی رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائے گی ۔ وزیر اعظم نے دارالحکومت میں مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بروقت منصوبہ بندی کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے دارالحکومت کے ماسٹر پلان کا جائزہ لینے کے لئے کمیشن کی کوششوں کو سراہا ۔ شہری آبادی میں اضافے کے پیش نظر نئے بلڈنگ کوڈ پر جلد عملدرآمد کیا جائے، بڑھتی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے پانی کی دستیابی یقینی بنائے جائے ۔ دارلحکومت کے گرین بیلٹس کو محفوظ بنانے کےلئے اقدامات بھی کئے جائیں ۔

آزادی مارچ،جے یو آئی کی جانب سے مثبت قدم

مولانافضل الرحمن ایک زیرک سیاستدان ہیں انہوں نے ہمیشہ اپنی سیاست حالات اورواقعات کومدنظررکھتے ہوئے کی اور جیسے ہی وہ سیاسی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں توانہیں بخوبی علم ہوجاتا ہے کہ سیاسی مہرے کیاچال چل رہے ہیں ، آزادی مارچ کا اعلان کیا اس سے قبل بیک ڈورڈپلومیسی کی، سب کوراضی کیامگر آخر میں نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے تحفظات سامنے آگئے انہی تمام معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے رہبرکمیٹی کے تحت اے پی سی اجلاس بلانے پراتفاق کیاگیا اور اس کے بعدجمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی جماعت کا اسلام آباد کے لاک ڈاوَن یا دھرنے کا کوئی پروگرام نہیں ، لاک ڈاوَن اور دھرنے کے الفاظ جلتی پہ تیل کا کام کر رہے ہیں ، جمعیت علمائے اسلام کے احتجاج کا نام صرف ’آزادی مارچ‘ ہے، یہ مارچ کتنا طویل ہونا چاہیے اس کا فیصلہ وقت اور حالات کے مطابق کیا جائے گا، ہم اپنے پَتے وقت سے پہلے شو کرنا نہیں چاہتے ۔ ;200;مدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات اور ہاءوسنگ فاونڈیشن کے دو منصوبوں ٹھیلیاں اور بہارہ کہو پراجیکٹ سے متعلق سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی سے نیب راولپنڈی کی ٹیم نے چار گھنٹوں سے زائد وقت تک پوچھ گچھ کی گئی، اکرم خان درانی کو نیب کی جانب سے سوالنامہ بھی تھما یا گیا ہے، اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ جس انکوائری میں انھیں طلب کیا گیا ہے اس کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ،نیب جب بلائے گا پیش ہوں گے، ;200;زادی مارچ پر بات کرتے ہوئے اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ ہم ;200;زادی مارچ ضرور کرینگے، کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے 27 اکتوبر کی تاریخ رکھی گئی ہے،لاک ڈاون اور دھرنا کی بات ہم نے نہیں میڈیا نے کی، تمام اپوزیشن جماعتوں کا احترام کرتے ہیں ،مولانا فضل الرحمان کی مشاورت کے بعد دو تین روز میں رہبر کیمٹی کا اجلاس بلایا جاسکتا ہے، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر سے حکومت کیخلاف اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق 27 اکتوبر سے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع ہوجائے گا، ملک بھر سے قافلے اس مارچ میں شریک ہوں گے، مولانا کے مطابق اس حکومت کو چلتا کرکے دکھائیں گے ۔ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں مولانا فضل الرحمان سمیت کئی بڑے ناموں کو شکست ہوئی جس کے فوراً بعد جے یو آئی ف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی و دیگر جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور انتخابی نتاءج کو مسترد کرتے ہوئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا ۔ 19 اگست 2019 کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد میں ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے ۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کمر کے درد اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی دورے کے باعث اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے تھے ۔ مولانافضل الرحمن کاکہناہے کہ حکمرانوں کو مزید وقت دیا گیا تو وہ ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیں گے ۔ ہماری جنگ ملک دشمن پالیسی سازوں سے ہے، احتجاج آئین و قانون کے دائرے میں پرامن ہوگا، آئین کی اسلامی شقوں کا تحفظ، دوبارہ انتخابات اور وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مشترکہ ومتفقہ بیانیہ ہے ۔

ایف اے ٹی ایف،بھارت کوایک اورہزیمت کاسامناکرناپڑے گا

پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع کا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق بیان مسترد کر دیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا بھارت ایف اے ٹی ایف کو پاکستان کے خلاف سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے ۔ بھارت ایف اے ٹی ایف کی پاکستان سے متعلق کارروائی پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔ بھارت ایشیا پیسفک گروپ میں اپنی معاون چیئرمین شپ کا غلط استعمال کر رہا ہے، پاکستان اس سلسلے میں اپنے تحفظات رکن ممالک کے سامنے رکھ چکا ہے ۔ توقع ہے کہ ارکان بھارت کی ان گمراہ کن سازشوں میں نہیں آئیں گے اور ارکان بھارت کی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں کو مسترد کر دیں گے ۔ بھارتی وزیر دفاع کا ایف اے ٹی ایف پر بیان حقائق کے منافی ہے ۔ بھارت کے اس جانبدار طرز عمل کو ٹاسک فورس کے سامنے رکھیں گے ۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا تھا پاکستان کسی بھی وقت بلیک لسٹ ہو جائے گا ۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بھارتی خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا پاکستان اس حوالے سے تمام وہ شرائط جو ملک وقوم کے مفاد میں ہوں انہیں پورا کرنے کے لئے ہمہ تن گوش ہے تاہم چونکہ بھارت ہمارا اذلی دشمن ہے اوروہ کبھی بھی ،کہیں بھی یہ نہیں چاہتاکہ پاکستان کو کسی طرح کوئی بھی فائدہ حاصل ہو ۔ گزشتہ تاریخ کامطالعہ کیاجائے تو ہر فورم پر اس نے پاکستان کی مخالفت کی لیکن اس کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی اب بھی وہ ایف اے ٹی ایف میں پوررا زورلگارہاہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان شکنجے میں آجائے لیکن تاحال ایسا ہوتانظرنہیں آرہا ۔ البتہ اس امر پر ضرورفکرمندی ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے جوشرائط پاکستان کے سامنے رکھی تھیں اس کو مکمل طورپرپایہ تکمیل تک نہ پہنچانے کی وجہ سے فیٹف نے بھی تحفظات کا اظہار کیاہے ۔ امیدقوی ہے کہ پاکستان انہیں ہرممکن پورا کرلے گا اور یہاں پربھی حسب روایت بھارت کو ایک اورہزیمت کاسامناکرناپڑے گا ۔

ےہ قےاس آرائےاں کےوں ۔ ۔ ۔

زلزلے ہمےشہ اچانک آتے ہےں ۔ ان کے بارے مےں قبل از وقت کوئی حتمی پےشن گوئی نہےں کی جا سکتی ۔ ماہرےن کے بقول دنےا مےں 50فےصد زلزلے سرسبز پہاڑی علاقوں مےں ،40فےصد ساحلوں پر اور10فےصد صحراءوں ےا عام مےدانی علاقوں مےں آتے ہےں ۔ سائنسی ترقی سے پہلے قدےم زمانے کے انسان زلزلے کے بارے مےں الگ الگ نظرےات کے پےروکار تھے لےکن تازہ ترےن تحقےق کے مطابق زمےن اندر سے چھ بڑی پلےٹوں ےا ٹکڑوں پر مشتمل ہے ۔ ےہ ٹکڑے الگ الگ ہوتے ہےں وہ اےک دوسرے سے ٹکراتے ےا اچانک دور چلے جاتے ہےں تو زمےن ہلنے لگتی ہے ۔ ےہ چھ پلےٹےں اےشےاء افرےقہ ،شمالی اور جنوبی امرےکہ اور آسٹرےلےا تک پھےلی ہوئی ہےں ۔ ےہ مسلسل حرکت مےں رہتی ہےں ۔ بعض اوقات ان کے ٹکرانے سے سمندروں کے اندر بڑے بڑے پہاڑ ابھر آتے ہےں ۔ تحقےق کے مطابق کوہ ہمالےہ،قراقرم اور ےورپ وغےرہ کے پہاڑوں کی جگہ پہلے سمندر تھے ۔ زمےن کی پلےٹوں کے ٹکرانے سے پہاڑ ابھر آئے ۔ حالےہ زلزلہ جو آزاد کشمےر مےر پور سے اےک کلو مےٹر دور جاتلاں مےں آےا کافی جانی و مالی نقصان کا باعث بنا ۔ اس زلزلے کے آفٹر شاکس ابھی تک نقصان کر رہے ہےں ۔ انہی دنوں حالےہ زلزلے کی تباہی کے حوالہ سے مختلف قےاس آرائےاں سامنے آئےں کہ ےہ خدا کا عذاب ہے ،ےہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے ،ےہ ہماری شامت اعمال ہے ،ہمےں اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئیے ۔ معزز قارئےن گو، اس نازک موضوع کو ماضی مےں بھی عنوان بنا چکا ہوں اےک بار پھر اس موضوع پر قلم آرائی کر رہا ہوں ۔ موضوع کے حوالہ سے اےک طبقہ فکر کا نظرےہ بےان کر چکا ہوں دوسرے طبقہ فکر کے خےال مےں عذاب اور سزا تو مجرموں کےلئے ہےں اس زلزلہ مےں کچھ معصوم بچے بھی جان سے گزر گئے ہےں وہ کےوں ناکردہ گناہوں کی سزا کے مستحق ٹھہرے ےہ تو خدا کے قانون عدل کے بھی خلاف ہے ۔ اس زلزلہ کو انسانی اعمال کے ساتھ منسلک کرنا قرےن انصاف نہےں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ےہ زمےن کی طبعی صورتحال کی تبدےلی ہے اور زلزلے کے نقصانات سے بچاءو ممکن نہےں لےکن پھر بھی انہےں بڑی حد تک کم کےا جا سکتا ہے ۔ ہم اپنے اعمال کی سزا صاف ستھری زندگی گزارنے والے پہاڑوں کے جفا کش باسےوں پر نہےں ڈال سکتے ۔ معزز قارئےن راقم نہ تو کسی قسم کی مناظرانہ جنبہ داری مےں پڑنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی اپنے محدود ناقص علم کے سبب خود کو اس قابل پاتا ہے کہ اس نازک موضوع پر حاشےہ آرائی کر سکے ۔ باب شہر علوم حضرت علی کرم ا;203; وجہہ کا بھی فرمان ہے کہ ’’ جس چےز کی گہرائےوں تک نگاہ نہ پہنچ سکے اور فکر کی جولانےاں عاجز رہےں اس مےں اپنی رائے کو کار فرما نہ کرو‘‘باوجود اس کے اس موضوع پر اپنی حقےر سوچ کے مطابق سعی کی ہے جو ناظرےن کے پےش خدمت ہے ۔ معزز قارئےن ہماری نگاہوں کے سامنے جو حادثات و واقعات ظہور پذےر ہوتے ہےں ہم ابھی تک ان کے اسباب کو ہی نہےں جان سکے اشےائے کائنات کا علم کلی تو صرف خدائے بصےر کو ہے ۔ آفات ارضی و سماوی کے آگے انسان آج بھی اتنا ہی بے بس ہے جتنا کئی سو برس پہلے تھا ۔ زلزلے کے دو جھٹکے ہی ےہ فلک بوس عمارتےں اور ڈےم زمےن بوس کرنے کےلئے کافی ہےں اور ابھی زلزلے پر قابو پانا بھی انسان کے بس مےں نہےں ۔ پنسلےن کے موجد سر الےگزنڈر فلےمنگ نے کہا تھا کہ سائنس دانوں کی بلندی پر نگاہ دوڑائےں تو اےٹم بم کو پھاڑتے دکھائی دےتے ہےں ان کی بے بسی دےکھےں کہ وہ سب مل کر آج تک معمولی زکام کا علاج نہےں کر پائے ۔ سائنس کی دنےا ےہ بھی تسلےم کرتی ہے کہ قدرت کی طرف سے بعض حسےں جو جانوروں کو ودےعت کی گئی ہےں انسان کو ان سے محروم رکھا گےا ہے زلزلہ کی آمد سے قبل پرندوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے گھونسلوں سے نکل کر پرےشانی کے عالم مےں اڑنے لگتے ہےں ۔ سائنسدانوں کا خےال ہے کہ جانوروں کی چھٹی حس اےسے مواقع پر جلدی بےدار ہو جاتی ہے اور وہ آنے والے خطرے کی بو پہلے سونگھ لےتی ہے اگست1976ء مےں سی چوان (چےن) مےں ہی زلزلہ آنے سے پہلے رےنگنے والے جانور 40مےٹر دور اےک گڑھے مےں اکٹھے ہو گئے ۔ سونامی آنے سے قبل سری لنکا سے ہاتھی بھاگ کر دور دراز مقامات پر چلے گئے ۔ کچھ چےزےں اےسی بھی ہےں جو قدرت کی طرف سے پردہ غےب مےں لپےٹ دی گئی ہےں جن کا علم خدائے بزرگ و برتر نے صرف اپنے پاس رکھا ہے ۔ قرآن مجےد کی سورہ لقمان کی آخری آیت مبارکہ مےں اس کا ذکر کےا گےا ہے ان کی تفصےل مےں اےک قےامت کا علم ہے انسان نہےں جانتا کہ ےہ کب آئے گی وہ ےہ بھی نہےں جانتا کہ وہ کس سرزمےن پر مرے گا بارش کب ہو گی کوئی شخص کل کےا کرے گا اور ماں کے پےٹ مےں بچہ خوبصورت ہے ،ےا بد صورت ہے ۔ قارئےن انسانی علم کا انحصار تجربہ ، مشاہدہ اور اےمان پر ہے ہم اس نسبت سے اشےائے کائنات سے متعلق اپنی حتمی طور پر رائے قائم کرنے کے قابل ہوتے ہےں ا;203; کے قوانےن غےر متبدل ہےں قرآن مجےد مےں تسخےر کائنات کے سلسلہ مےں بہت سی قرآنی آےات نازل ہوئےں جن مےں شمس وقمر کی تسخےر ،لےل و نہار کی تسخےر ،سمندروں اور درےاءوں کی تسخےر حتیٰ کہ ارضی و سماویٰ تسخےر شامل ہے اس مےں مومن و کافر کا بھی فرق نہےں ہوتا جو انسان ےا قوم بھی چاہے ان قوتوں کو مسخر کر کے اپنی مرضی کے مطابق کام لے سکتی ہے ۔ کائنات کا متعےن کردہ راستہ علم و فکر کی وادےوں اور فہم و شعور کی پگڈنڈےوں سے گزرتا ہے جس کسی نے علم کا راستہ پا لےا اس نے دنےا مسخر کر لی ۔ ان قوتوں کی تسخےر انسانی علم کی ترقی اور وسعت کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے فطرت کی قوتےں بے باک ہونے پر تباہی لاتی ہےں اور جب انسان انہےں اپنا تابع فرمان کر لےتا ہے تو پھر مرضی کے نتاءج برآمد ہوتے ہےں زلزلے اور سےلاب کا تعلق بھی نظام فطرت سے ہے جو قومےں ان قوانےن کا علم حاصل کر کے حفاظتی تدابےر اختےار کر لےتی ہےں ان کے ہاں ےہ حوادث اتنی تباہی نہےں مچاتے آج ترقی ےافتہ اقوام فطرت کے ان حوادث کا مقابلہ کرتی ہےں اور بچاءو مےں بڑی حد تک کامےاب بھی ہوتی ہےں ترقی ےافتہ قوموں نے تسخےر کائنات کا راز سمجھ لےا ہے جس کے باعث وہ فطرت کے ان حوادث کا مقابلہ اور ان کی روک تھام کے قابل ہو گئی ہےں ۔ ہالےنڈ ،پورے کا پورا ملک ساحل سمندر پر واقع ہے اور سطح سمندر سے بھی کتنے فٹ نےچا لےکن انہوں نے اےسا انتظام کر رکھا ہے کہ سمندر کا اےک قطرہ پانی بھی ان کے ملک مےں نہےں آسکتا چےن مےں درےائے زرد کا نام ہی ’’بلائے موت‘‘ تھا ےہ ہر سال ہزاروں چےنےوں کی جانےں لےنے کے ساتھ ساتھ ان کے بے حد و حساب مال و متاع اور موےشےوں کے نقصان کا سبب بنتا لےکن آج بند باندھنے اور جدےد انتظامات کے باعث ےہ اسی راستہ پر سفر کرنے پر مجبور ہے جو اس کےلئے مقرر کر دےا گےا ہے ۔ جاپان دنےا کا اےسا ملک ہے جہاں سب سے زےادہ زلزلے آتے ہےں لےکن اس کے ادارے مضبوط ہےں جو حالات کا مقابلہ کرنا جانتے ہےں انہوں نے اےسے مکانات بنا لئے ہےں جن کا زلزلے سے نقصان نہےں ہوتا ۔ اےک معتبر کالم نوےس نے واضع کےا کہ ےہ ہماری لاعلمی کی سزا ہے لاعلمی کی سزا کا اندازہ اس سے لگاےا جا سکتا ہے کہ 1976ء مےں چےن مےں آنے والا زلزلہ پانچ لاکھ سے زےادہ انسانی جانوں کے ضےاع کا باعث بنا جبکہ سان فرانسسکو مےں بھی اسی سکےل کا زلزلہ آےا مگر اس مےں صرف اےک انسان مرا وجہ صرف ےہ تھی کہ اس دور کا چےن اس وقت آفت سے بچنے کےلئے تےار نہےں تھا جبکہ امرےکہ نے اس مےں پکے مکانات کی تعمےر پر پابندی لگا رکھی تھی ۔ 1970ء مےں خلےج بنگال کے طوفان مےں ساڑھے تےن لاکھ بنگالی لقمہ اجل بن گئے جبکہ امرےکہ مےں آنے والا طوفان رےٹا اس سے بڑا تھا لےکن جانی نقصان نہ ہونے کے برابر ہوا کےونکہ انہوں نے وارننگ کے باعث پہلے سے اپنی بچت کا اہتمام کر لےا تھا ۔ مجھ جےسا گناہ گار انسان تو بس سن سکتا ہے کہ جان سکے کہ ا;203; کا عذاب کےونکر اور کےسے نازل ہوتا ہے اس لئے اپنے مضمون کا اختتام مشہور اور جےد عالم دےن مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کے اس بےان پر کر رہا ہوں جو انہوں نے اکتوبر2005ء کے زلزلے کو گناہوں کی سزا قرار دےنے والے بعض دانشوروں کے جواب مےں اےک لےکچر مےں کہے تھے انہوں نے کہا تھا زلزلوں مےں ہونے والی تباہی ہمارے اعمال کا نتےجہ نہےں ہے ، گناہوں کی سزا کےلئے وہ دن مقرر ہے جب قےامت کے بعد سب خدا کے حضور پےش ہوں گے ، کراچی اور لاہور بداعمالےوں کے سب سے بڑے اڈے ہےں ۔ انہوں نے زلزلے کو فطرت کا اےک تسلسل قرار دےا آج جو لوگ قدرتی آفات کو گناہوں کی سزا قرار دے رہے ہےں وہ عمل سے رو گردانی علم و تحقےق کے دروازے بند کر رہے ہےں ۔

ایک اور سازش ناکام

پاکستان مدتوں دہشت گردی کا شکار رہا سالوں عوام اس عذاب سے گزرتے رہے بلکہ اب بھی کسی نہ کسی صورت میں گزر رہے ہیں اور وقتا فوقتا دھماکے اور دہشت گردی کی خبریں آتی رہتی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ دشمن اب بھی سرگرم عمل ہے اور اس کے کارندے کسی نہ کسی صورت میں ملک کے اندر موجود ہیں اور اپنے آقاءوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل اور پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں سے ہم اس عفریت سے نپٹنے میں کافی تک کامیاب ہو چکے ہیں اور ملک میں معمول کی سر گرمیاں معمول پر آ چکی ہیں ۔ اس دہشت گردی نے جہاں ہ میں بے انتہا جانی نقصان پہنچایاوہاں معاشی، معاشرتی بلکہ مذہبی معمولات کو بھی بے اندازہ نقصان پہنچایا اور تو اور کھیل بھی اس کی زد میں آیا ۔ پاکستان رواےتی کھیلوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی طور پر کھیل کے میدان کا ایک اہم رکن رہا ہے اور مختلف کھیلوں میں اپنا لوہا منواتا رہا ہے اور ہاکی، کرکٹ، سکواش، ریسلنگ اور مختلف اوقات میں دیگر کھیلوں میں وکٹری سٹینڈ کا حصہ بنتا رہا ہے لیکن کرکٹ کی مقبولیت عوامی سطح پر سب سے بڑھ کر ہے اور اسی لیے دہشت گردوں نے اسی کھیل کو خاص کر نشانہ بنایا اور مارچ 2009 میں جب سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی اور دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کے کھیل کے لیے قذافی سٹیڈیم صدارتی لیول کی سیکیورٹی کے ساتھ جارہی تھی کہ لیبرٹی چوک کے قریب دہشت گردوں نے اس کی ایک بس پر حملہ کیا ،پولیس نے ڈٹ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جبکہ ڈرائیور مہر محمد خلیل بس کو برسٹ ٹائروں کے ساتھ تقریباََ ایک کلو میٹر سے زیادہ بھگا کر لے گیا اور مہمان ٹیم کو محفوظ سٹیڈیم تک پہنچادیا ۔ اس حملے میں مہمان ٹیم کے چھ ارکان کو ہلکے زخم آئے تاہم وہ مجموعی طور پرمحفوظ رہے ۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی مغربی ٹی میں پاکستان نہ آنے کےلئے کئی طرح کے بہانے اور تو جیہات ڈھونڈتی تھیں لیکن اس کے بعد تو باقاعدہ طور پر پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بند ہو گئی اور جن مقابلوں کی میزبانی کی ذمہ داری پاکستان کو دی جاتی انہیں دُبئی میں کھیلا جاتا اورمدتوں کرکٹ کے روایتی ملک میں اس کے میدان ویران اور سنسان پڑے رہے یہاں تک کہ ڈومیسٹک کرکٹ بھی متا ثر ہوئی اور کچھ حالات اورکچھ سازشیں دشمن کا کام آسان کرتی گئیں پاکستان کی متعد د یقین دہاےنوں کے باوجود غیر ملکی ٹی میں پاکستان آنے سے انکاری رہیں اور اس بات کو بھارت خاص کر اُچھالتا رہا اور اپنے طے شدہ دورے کو کرنے سے ابھی تک انکاری ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی مسلسل کوششوں سے جب پی اس ایل کا انعقاد شروع ہوا تو بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کے پاکستان آنے سے انکار پر مجبورا اسے دبئی اورشارجہ کے گراونڈوں میں کرانا پڑا لیکن اس کے باوجود اسے شاندارکامیابی ملی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی بھر پور شرکت سے مزید پزیرائی بھی ملی اگرچہ اس کے کچھ میچز اور فائنل پاکستان تک پہنچ چکے ہیں لیکن پورا پی ایس ایل ابھی تک پاکستان نہیں لایا جا سکا تاہم کرکٹ پاکستان کے دشمنوں کو ایک بڑی ناکامی اب ہوئی ہے جب سری لنکا کی قومی ٹیم اپنی ایک روزہ اورٹی ٹونٹی میچوں کی سیر یز کھیلنے پاکستان پہنچی اور اب تک سیر یز بفضل خدا بڑی کامیابی سے جاری ہے اس دورے کےلئے جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کامیابی پر مبارکباد کی مستحق ہے وہیں سری لنکا کرکٹ بورڈ کی ہمت کی بھی داد دینا پڑے گی جس نے اپنی ٹیم کو دوبارہ پاکستان بھیج کر پاکستان کے حالات ،سیکیورٹی اور کرکٹ بورڈ پر اعتماد کا اظہار کیا اور پھر ان میچوں میں تماشائیوں کی کثیر تعداد اور بھر پورلچسپی نے بھی ظاہر کر دیا کہ پاکستانی کھیلوں سے محبت کرنے والے پرامن لوگ ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن مسائل پر قابر پا چکے ہیں جن کو بنیاد بنا کر اور بڑھا چڑھا کر پیش کر کے پاکستان سے کرکٹ کو ختم کر نے کی کوشش کی گئی اور سمجھا گیا کہ اب پاکستان کے کھیل کے میدان کبھی آباد نہیں ہو سکیں گے ۔ سری لنکا کی ٹیم کے کامیاب دورے کے بعد کوئی وجہ نہیں رہتی کہ دنیا کی دوسری ٹی میں پاکستان نہ آئیں ۔ اس بار بھی سری لنکن ٹیم کے کھلاڑیوں کو جس طرح آئی پی ایل سے نکالنے کی دھمکی دے کر روکا گیا وہ بھی اپنی جگہ ایک مجرمانہ فعل ہے جس پر بھارت کی کھیل میں سیاست کو داخل کرنے پر شنوائی ہونی چاہیے ۔ دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کو پاکستان میں غیر ملکی ٹیموں کو لانے کے لیے نہ صرف اپنی کوششوں کو جاری رکھنا ہے بلکہ انہیں تیزتر کرنا ہو گاتاکہ جو سلسلہ ایک دفعہ چل پڑاہے اُسے جاری رکھا جائے ہم نے دنیا کو باور کرانا ہوگا کہ پاکستان بدامنی پر قابو پا چکا ہے اور یہ دوسرے ملکوں کی طرح بلکہ کئی ایک سے زیادہ محفوظ ہے ۔ یہاں جس طرح عام غیر ملکی باشندے پرامن طور پر رہ رہے ہیں اُسی طرح کسی بھی کھیل ک غیر ملکی کھلاڑی اپنے کھیل کے یادگار لمحات پاکستان میں گزار سکتے ہیں ۔ کرکٹ کامنقطع سفر جو دوبارہ شروع ہوا ہے اسے ہر صورت جاری رہنا چاہیے اور اُمید ہے کہ انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا اور ایک بار پھر ان میچوں کو دیکھنے کے لیے ہمارے سٹیڈیم اسی طرح بھرے اور بھرپور ہونگے جیسے دہشت گردی کی عفریت کے حملے سے پہلے ہوتے تھے ۔

تے فیر چاپیءو

میرے چند دوستوں نے 2اکتوبر کوپاکستان اخبار میں شالا خیر تھیوے کے عنوان سے کالم پڑھا توفون پر کہنے لگے میاں صاحب آپ نے بھی جھولی چک کالم نویس بننے کی کوششیں شروع کردیں میں نے جواباً عرض کیا بھائی آپ دوستوں کو جن کے ساتھ عمر کا بیشتر حصہ گزارا ہے انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ہمیشہ دوسروں میں خامیاں نہیں تلاش کرتا بلکہ اچھی بات کو اچھا اوربری بات کو منہ پر برا کہنے والاہوں ۔ من حیث القوم ہمارا کام دوسرو ں میں خامیاں تلاش کرنا ہی ہے ۔ کسی کے اچھے کام پر اگر تعریف کرنا ہو تو دندل پڑ جاتی ہے اور اگر برا کہنا ہوں تو زبان بتیس دانتوں کے قابو میں نہیں رہتی ۔ تبصرہ کرنے والوں کو اپنی تحریر میں توازن ضرور رکھنا چاہیے ۔ گزشتہ حکومتوں کے اچھے کاموں کو ضرورسراہا لیکن کرپشن پر میں نے دل کھول کر بھی لکھا ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف میری تحریر کاجھکاءو نہیں رہا ۔ لکھنے والوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے وہ رائے عامہ ہموارکرنے والے ہوتے ہیں اس لئے درباری لکھاری بننے کی بجائے عوامی لکھاری بننا چاہیے عوام کے مسائل حکومت وقت تک پہنچانا نہ صرف اسکا صحیح معنوں میں تجزیہ کرنا بلکہ اپنی رائے کا اظہار بھی ضروری ہوتا ہے ۔ یہ ذمے داری ہرلکھاری کی ہے اور پھر ہر شخص کی سوچ کا اندازہ مختلف ہے کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے آپ کو کسی خاص جماعت کے ساتھ منسلک کرلے اورہر کام پر تعریف کے ڈونگرے برساتا رہے ۔ بہرحال اپنی اپنی سوچ کا انداز ہے ۔ موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے کیلئے کوششوں میں مصروف ہے لیکن کرپٹ افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے سے رشوت کے ریٹ میں اضافہ بھی ہوگیا ہے ۔ ابھی تک تبدیلی کے اثرات واضح طورپرسامنے نہیں آسکے کچھ تو ناتجربہ کار وزراء کی کارکردگی جو قطعی طورپر تسلی بخش نہیں رہی اور پھر یہ کہ کئی وزارتوں میں سیکرٹری تعینات نہیں کیے گئے ایڈیشنل چارج کے ذریعے کام چل رہا ہے اسی طرح دیگر ماتحت اداروں کا بھی یہی حال ہے ۔ سرکاری دفاتر میں جب تک تجربہ کار سربراہ نہیں لگائے جاتے انکی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہوسکتی ۔ بیورو کریسی دلجمعی سے کام نہیں کررہی کیونکہ انہیں یہ خوف ہے کہ اگر وہ اپنے اختیارات کے ذریعے کام کریں گے یا فیصلے تحریر کردیں گے تو کہیں نیب ان کے پیچھے نہ پڑ جائے جن وزارتوں میں برانڈ نیو وزراء ہیں ان کو پالیسی سازی کا تجربہ نہیں وہ تو سیکرٹری کے رحم کرم پر ہوں گے اور اگر سیکرٹری وزیر کو کسی غیر قانونی کام سے روک دے تووہ یہ سمجھتا ہے کہ سیکرٹری کی جراَت کیسے ہوئی کہ وزیر کوڈکٹیٹ کرے ۔ لہذا سیکرٹری کی تبدیلی ناگزیر ہے ۔ یونس ڈھاگا جیسے قابل ایماندار محنتی سیکرٹری کا حال یہ ہے کہ اس نے قبل ازوقت ریٹائرمٹ کیلئے اپلائی کردیا اسکی قابلیت اور صلاحیتوں سے ہم کوئی فائدہ اٹھانے کے موڈ میں نہیں ۔ ایف آئی اے کے بشیر میمن کا بھی یہی حال ہوا وہ اب گھر بیٹھا ہے ان کے علاوہ کئی ہیں جو گمنام رہنا زیادہ پسند کررہے ہیں ۔ بیورو کریسی حکومت کی پالیسیوں سے نہ تو مطمئن ہے اور نہ ہی بلا خوف و ہراس کام کررہے ہیں ، مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہے ابھی تک حکومت اس پر قابو نہیں پاسکی ۔ بجلی کی قیمت میں اضافے سے اور پٹرول ، ڈیزل کی ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا مناسب تعین نہ ہونا بھی مہنگائی کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے عوام کی مہنگائی کیوجہ سے سانس بند ہونے کے قریب ہے ۔ ہر دور کی حکومت نے یہی دعویٰ کیا کہ ان سے پہلے کی حکومتوں نے ملک کی معاشی حالت کا برا حال کردیا ، اسکو سدھارنے کیلئے وقت لگے گا ۔ سات دہائیوں سے یہی کچھ سننے کو مل رہا ہے لیکن ملک کی اور لامحالہ عوام کی معاشی حالت ہر آنے والے دن میں کمزور سے کمزور ترین ہوتی چلی گئی ۔ اب تو ہر شہری نے اس تبدیلی کو کوسنا شروع کردیا ہے ۔ وزیراعظم کو تو صرف اعدادوشمار ہی سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں انہوں نے خود تو شاپنگ بیگ ہاتھ میں لیکر گھر کا سودا خریدنے کیلئے مارکیٹوں میں نہیں جانا پیسے والوں کو تو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ مہنگائی کس شے کا نام ہے ۔ ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔ سرکاری زمینوں پر قبضے سرکاری اہلکار ہی کرواتے ہیں اور ماہانہ بھتہ وصول کرتے ہیں ۔ اسلام آباد کی مارکیٹوں کو دیکھ لیں یا نرسریز والوں کوچیک کرلیں انہیں اگر چند گز زمین برائے نرسری دی جاتی ہے تو وہ کچھ ہی عرصے میں نرسری اتنی پھیلا دیتے ہیں کہ چار کنال تک تو کم سے کم کہہ لیں زیادہ سے زیادہ انکی ہمت اور سرکاری اہلکاروں کے تعاون کی گیم ہے ۔ اسی طرح ریلوے کی زمین پر قبضہ عام بات ہے ۔ ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی کے ناسور اپنی جگہ بدبو پھیلا رہے ہیں ۔ اخلاقیات نام کی کوئی چیز معاشرے میں نہیں ۔ کچھ ہی عرصہ پہلے پولیس ریفارمز کی بات ہورہی تھی ۔ کے پی کے کی پولیس کا چرچہ تھا مثالی پولیس بن گئی پھر کمیٹی نے جو سفارشات دیں ان پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔ پورے پاکستان کی پولیس کی یونیفارم سے لیکر قوانین تک ایک ہونے چاہئیں ۔ اسی طرح تعلیم کا سسٹم ہر صوبے میں الگ ہے مدارس کے بچے مین سٹریم سے باہر ہیں تعلیمی نظام اور نصاب ہر صوبے میں ایک ہی ہو بچوں کی یونیفارم بھی ایک ہونی چاہیے ۔ کس کس چیز کا رونا رویا جائے ہمارے ملک کے مسائل الجھے ہوئے دھاگے کی طرح ہیں جسکا کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا ۔ تحریک انصاف کی حکومت جس سے لوگوں کی امید بندھی ہیں مایوسی کی طرف جارہی ہے ۔ تاجر برادری ، وزارت تجارت ، وزارت خزانہ کے وزیروں ، مشیروں سے ملنے کی بجائے چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملنے پر مجبور ہوئے ۔ لوگ اب کیوں آرمی کی طرف دیکھ رہے ہیں ان کو مسائل سے آگاہ کررہے ہیں ۔ آرمی چیف نے بھی تو وزیراعظم سے ہی بات کرنا ہے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کا مشورہ دینا ہے ۔ آرمی براہ راست تو کچھ نہیں کرسکتی انہیں اس وقت صرف سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے سرحدوں پر خصوصی طورپر بھارت سے جوکشیدہ تعلقات ہیں ان پر نظر رکھنی ہے انہیں دوسرے کاموں میں گھسیٹنا درست نہیں سول حکومت اگرملکی مسائل کو حل نہیں کرسکتی تو پھر فوجی حکومت بہتر ہے ۔ ملک کیلئے ان کی خدمات ترقی معاشی پالیسیاں تاریخ کا حصہ ہیں سیدھے سادے الفاظ میں یوں کہیے فوجیوں نے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں شب و روز محنت کی ایوب خان ، ضیاء الحق اور مشرف کے ادوار کو ذہن میں لائیں تو سول حکومتوں کی کارکردگی مایوس کن لگتی ہے ۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے اگرچہ اچھے بھی کام کیے لیکن مجموعی طورپر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کرپشن بھی عروج پر رہی جسکا خمیازہ قوم اب بھگت رہی ہے ۔ ہمارے رونے سے کچھ بنے گا نہیں نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ۔ مجھے حضرت واصف علی واصف ;231; کا ایک واقعہ یاد آگیا آپ کو بھی سناتاہوں ۔ ’’ ان سے ایک صاحب ملنے کیلئے آئے اور کچھ ہی دیر بعدبہت سنجیدہ اور متفکر لہجے میں کہنے لگے واصف صاحب ملکی حالات بہت خراب ہیں خطرات منڈلارہے ہیں معاشی طورپر ملک بہت کمزور ہوتا جارہا ہے ۔ آپ ان صاحب کو باتیں سنتے رہے ۔ پوچھا چائے پیءو گے اثبات میں جواب پر آپ نے چائے منگوالی اور پھر گویا ہوئے بھئی یہ حالات تم نے خراب کیے ہیں وہ صاحب بولے نہیں پھر کہنے لگے ان برے حالات کو تم ٹھیک کرسکتے ہوں وہ صاحب بولے نہیں واصف صاحب نے فرمایا ’’ تے فیر چاپیءو‘‘ ۔ یہی حال ہمارا ہے ملکی حالات پر لکھتے لکھتے تھک گئے ہیں کچھ فرق نہیں پڑ رہا بس اب چائے ہی پی رہے ہیں ۔ اللہ کرے ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ ملک ترقی کی راہ پر چلتے ہوئے ویلفیئر سٹیٹ بن جائے ۔ چلئے اتنا تو ہے کہ اب حکومت وقت کو احساس ہے کہ ملک سنوارو کی سوچ غالب ہونی چاہیے بے خبر زندگی میں باخبر ہوجانا منزل کا احسان اول ہوتا ہے ۔ ہمارے حکمران خود کو گریٹ لیڈر کے طورپر منوانے کی دوڑ میں لگے رہے گریٹ وہ ہوتا ہے جسے اللہ بنائے پھر اس میں تحمل مزاجی ہوگی اور جو خود ساختہ گریٹ ہوگا وہ بڑا مفرور ہوگا اس طرح جہنم کا ایندھن بننے کا خطرہ ہوتا ہے جو ہمارے لیڈر ملک کی دولت لوٹ کر بیرونی دنیا میں مسکن بناتے ہیں وہ پاکستان کے وفادار نہیں ۔

ڈینگی اورحکومتی اقدامات

اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پانچ کروڑ سے زائد افراد ڈینگی بخار کا شکار ہوتے ہیں اور سالانہ بیس ہزار سے زائد افراد اس کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ دنیا کے ایک سو کے قریب ممالک میں ڈینگی وائرس پھیلانے والے اڑتیس اقسام کے مچھر ہیں جس میں سے پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے ۔ ڈینگی فیور سے بچاءو کی نہ تو کوئی دوا ہے اور نہ ہی کوئی ٹیکہ ۔ ڈینگی بخار کو صرف حفاظتی تدابیر سے روکا جا سکتا ہے ۔ پاکستان سمیت ایشیا میں ڈینگی بخار کا خطرہ بڑھ رہا ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایشیا میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسوں کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ کئی علاقوں میں شدید بارشیں سیلاب اور بڑھتی ہوئی آبادی ہے ۔ پاکستان میں ڈینگی بخار پھر سر اُٹھا رہا ہے ۔ اگست، ستمبر میں کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی کے سینکڑوں کیس رپورٹ ہوئے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے لیے اسپیشل وارڈ بنا دیئے ہیں ۔ پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی ڈینگی مچھر سے متاثرہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ 2010-11ء میں ڈینگی بخار کرنے والے مچھر نے پنجاب میں عموماً اور لاہور میں خصوصاً تباہی مچائی ۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نے دل جمعی سے ڈینگی کے خلاف مہم چلائی ۔ سری لنکا اور انڈونیشیا سے ڈاکٹروں کی خصوصی ٹی میں لاہور آئیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اس حد تک ڈینگی کے خلاف منہمک تھے کہ انہیں اس وقت ’’ڈینگی برادران‘‘ کا طعنہ دیا گیا ۔ ہمارے دوست ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے ڈینگی کے حوالے سے بہت سے معلومات بہم پہنچائیں جنہیں میں آپ سے شیئر کررہا ہوں ۔ ڈینگی بخار کا باعث بننے والا مچھر بہت نفیس اور صفائی پسند ہے ۔ یہ خطرناک مچھر گندے جوہڑوں میں نہیں بلکہ بارش کے صاف پانی گھریلو واٹر ٹینک کے آس پاس صاف پانی کے بھرے ہوئے برتنوں ، گھڑوں اور گلدانوں ، گملوں وغیرہ میں رہنا پسند کرتے ہیں ، جو گھروں میں عام طور پر سجاوٹ کے لیے رکھے جاتے ہیں ۔ یہ مچھر انسان پر طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس بخار کا علم تین سے سات دن کے اندر ہوتا ہے ۔ عام سے نزلہ بخار کے ساتھ شروع ہونے والا بخار شدید سر درد پٹھوں میں درد اور جسم کے جوڑ جوڑ کو جکڑ کر انسان کو بالکل بے بس کر دیتا ہے اسی وجہ سے اس بخار کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے جسم کے اوپری حصوں پر سرخ نشان ظاہر ہوتے ہیں ۔ نوعیت شدید ہو جائے تو ناک اور منہ سے خون بھی جاری ہو جاتا ہے ۔ ڈینگی کی بیماری کی ابتدائی علامات میں بخار، کمزوری پسینہ آنا اور بلڈ پریشر کم ہو جانا شامل ہیں ۔ آہستہ آہستہ یہ جسم کے سارے نظاموں پر اثر کرتا ہے ۔ خون کی باریک نالیاں پھٹنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ جسم کے جس حصہ پر یہ دھبے نمایاں ہوں وہ حصہ نمایاں ہوتا ہے ۔ جب یہ بیماری دماغ اور حرام مغز پر حملہ کرتی ہے تو مریض کی موت بھی ہو سکتی ہے لیکن زیادہ تر مریض ایک یا ڈیڑھ دن میں بہتر ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ بہتری نہ ہونے کی صورت میں بخار، سر درد، پٹھوں ، جوڑوں میں درد، بھوک کم لگنا، الٹی آنا، پسینہ زیادہ آنا، جسم ٹھنڈا ہو جانا جیسی علامات ہوتی ہیں ۔ مریض کا بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے نبض ۔ آہستہ آہستہ اور کمزور ہو جاتی ہے ۔ جسم پر دھبے پڑ جاتے ہیں اور جگر بڑھ جاتا ہے ۔ جب بیماری دماغ اور حرام مغز پر حملہ کرتی ہے تو فالج بے ہوشی، لقوہ جیسی علامات ہوتی ہیں یا تو مریض کے جسم کا کوئی حصہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یا وہ بے ہوش ہو جاتا ہے ۔ اس بیماری کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ اور ایکسرے کیے جاتے ہیں ۔ دماغ اور حرام مغز میں پہنچنے والی بیماری کی تشخیص سی ٹی ;6784; اور ایم آر آئی ;778273; سکین سے کی جاتی ہے ۔ پہلے مرحلے میں ہی مریض کی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے جس کی وجہ شدت کا بخار اور درد ہے ۔ تین سے چار دنوں میں بخار میں کمی آ جاتی ہے اور مریض کی حالت سنبھلنے لگتی ہے ۔ اس مرض کا بچاءو صرف اور صرف ڈینگی مچھر سے بچاءو ہے ۔ جہاں جہاں یہ مچھر پیدا ہو وہاں اس کے لیے مچھر مار دواءوں کا استعمال کثرت سے کرنا چاہیے ۔ مارکیٹ میں ایسے تیل بھی ہیں جو جسم اور ہاتھوں کے کھلے حصے پر لگانے سے مچھر آپ کو نہیں کاٹتا ۔ اس بیماری کا علاج مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جا سکتا ہے ۔ بیماری کے دوران مکمل آرام کیا جائے ۔ پینے والی اشیاء صاف پانی، مشروبات فریش فروٹ جوس سوپ کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے ۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں کے سوپ کا استعمال بھی مریض کی توانائی بحال کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ بہرحال پرہیز علاج سے بہتر ہے اس مچھر سے ;65;edes ;65;egypti کو پھلنے پھولنے سے مکمل طور پر روکا جائے ۔ سب سے اہم بات ایسی جگہوں پر اسپرے ہے جہاں مچھر پیدا ہوتے ہیں اسی طرح سے جہاں بھی پانی کھڑا ہو جائے وہاں پانی کو کھڑا نہ ہونے دیا جائے ۔ جہاں ایسا ممکن نہ ہو وہاں فوراً اسپرے کیا جائے ۔ گھروں میں مچھر کے بچاءو کی تدابیر کرانی چاہئیں جن میں مچھر دانی یعنی ;77;osquite net کا استعمال بہت ضروری ہے ۔ ڈینگی کے علاج کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔ اس سلسلے میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوساءٹی کے تحت چلنے والا فلاحی ہسپتال میں ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں کا جوس نکال کر اس میں چند دوسری مفید جڑی بوٹیاں شامل کر کے ’’شربت پپیتہ‘‘ تیار کیا گیا ہے ۔ پپیتہ کے پتے ڈینگی کا بخار ختم کرنے، جسم میں مدافعت پیدا کرنے اور بیماری کی حالت میں خون کی ’’پلیٹلٹس کی مقدار‘‘ نارمل رکھنے میں بے حد کارآمد ہیں ۔ پپیتہ کے پتوں میں ایک انزائم ’’پاپین‘‘ پایا جاتا ہے ۔ جس میں 212 امائنو ایسڈ ہوتے ہیں ۔ یہ انزائم جسم میں داخل ہو کر ڈینگی وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے جس سے وائرس کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ وائرس کے ختم ہونے سے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار بھی نارمل ہو جاتی ہے ۔ گزشتہ سالوں میں میں ڈینگی کے خلاف شربت پپیتہ کا وسیع پیمانے پر ا ستعمال کیا گیا ۔ لاہور میں ہزاروں لوگ اس شربت کی بدولت شفایاب ہوئے اور ہزاروں ڈینگی سے محفوظ رہے ۔
Google Analytics Alternative