- الإعلانات -

ترقی کو فروغ دینے کے لئے تھنک ٹینک بنایاجائے

اگر ہم غور کریں تو ترقی یافتہ اقوام میں تھنک ٹینک ;84;hink ;84;anks ہوتے ہیں جو ان ممالک کےلئے توانائی ، دفاع، زراعت ، خارجہ پالیسی ، ماحولیات ، صنعت و حرفت، تجارت بین الاقوامی تعلقات عامہ کے لئے راہنما اصول اور پالیسیاں بناتے ہیں اور ان ٹھنک ٹینک کے پالیسیوں اور راہنماء اصولوں کی روشنی میں قو میں ، ریاستیں اور ممالک اپنے لئے پالیسیاں بناتے ہیں ، امریکی حکومت کے بارے میں دنیا بھر کے سیاسی ، اقتصادی اور عالمی اُمور کے ما ہرین متفق ہیں کہ اسے نہ توو ہاءٹ ہاءوس میں بیٹھے والا صدر چلاتا ہے اور نہ سینیٹ ایوان نمائندہ گان میں منتخب ہو کر آنے والے اراکین چلاتے ہیں ۔ یہ تو دنیا بھر کو دکھانے کے لئے ایک جمہوری چہرہ ہے ورنہ آپ امریکی صدور یا ممبران سینیٹ سے پو چھ لیں انکو اکثریت کو اس بات کا پتہ نہیں ہوتا کہ ملک کی خارجہ پالیسی ، داخلہ یا دفاعی پالیسیوں کے مقا صد اور اہداف کیا ہیں ۔ کسی ملک کے تھنک ٹینک یا پالیسی ادارے وہ آرگنائزیشن ہوتے ہیں جو ملک کے مختلف شعبوں کے ملکی اور بین الاقوامی معاملات اور پالیسی کے بارے میں تحقیق اور غور و حو ص کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک امریکہ ،بر طانیہ ، نیوزی لینڈ اور چین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ یہ ممالک موثر پالیسی اور حکمت عملی اور تھینک ٹینک کی وجہ سے ترقی کر گئے ۔ آج کل بھارت کی شرح نمو دنیا میں سب سے زیادہ یعنی 7;46;5ہے ۔ تقریباً 90 فیصد تھینک ٹینک 1952 کے بعد وجود میں آئے ۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو امریکہ میں اس وقت 1853 تھنک ٹینک کام کرتے ہیں ۔ چین دوسرے نمبر پر ہے جہان پر تھنک ٹینک کی تعداد 512 بر طانیہ میں 444 اور ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں 293 تھینک ٹینک کام کرتے ہیں اور وہ ملک کے قانون سا زاداروں کی راہنمائی کےلئے ایسے ;84;ipsبتاتے ہیں جو ملک کی ترقی اور کامرانی کےلئے مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک جنکے پا س تھنک ٹینک ہیں وہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ ساءوتھ کو ریا ہمارا پانچ سالہ منصوبہ لے گیا جسکی وجہ سے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ہم نے منصوبہ بندی چھوڑی تو ہم پتھر اور دھات دو ر کے رہ گئے ۔ مگر یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ کم و بیش 230ممالک کی فہرست میں کوئی بھی اسلامی ملک نہیں جسکے پاس تھنک ٹینک ہو ۔ اگر مسلمانوں اور خا ص طور پر پاکستان کے زوال کے اسباب دیکھیں تو مسلمان اور بالخصوص پاکستان کے پاس ہر قسم کے 70 فی صد وسائل ہیں مگر یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے پاس موثر منصوبہ بندی ، منصوبہ سازی اور ٹھینک ٹینک نہ ہونے کی وجہ سے ہم زوال اور پستیوں میں جا رہے ہیں ۔ پاکستان اور بالخصوص مسلم دنیا میں ماہر اقتصادیات ماہر توانائی ، ماہر علم الرض ، زراعت ، دفاع ، ما حولیا ت اور اسی طرح ہزاروں شعبوں میں ما ریں اور تھنک ٹینک نہ ہونے کی وجہ سے ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ ہمارا کوئی ریاستی شعبہ سائنسی بنیادوں پر نہیں جسکی وجہ سے مسلمان اور خاص طور پر پاکستان کے ریاستی ادارے تباہی اور بر بادی کے دہانے پر ہے ۔ آج کل سائنس اور ٹیکنالوجی اور تعلیم کا دور ہے اور دنیا میں وہ ممالک ترقی کے منازل طے کرتے ہیں جنکے پاس مختلف اُمور کے لئے بُہت سارے ما ہریں اور تھنک ٹینک ہو ۔ ترقی یا فتہ ممالک میں مختلف اُمور کے تھنک ٹینک اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر حکومت کورپورٹس اور سفارشات دیتے اور یہ سفارشات قانون ساز اداروں کو منظوری کےلئے دئے جاتے ہیں اور اسی طرح ملک کےلئے موثر پالیسیاں بنائی جاتی ہیں ۔ کسی بھی ملک ملک اور خاص طور پر جمہوری ممالک میں قانوں سازاتنے اعلی تعلیم یافتہ اور تجربہ کار نہیں ہوتے جد ہر چیز کے بارے میں ایک اچھی راہنمائی دے سکیں ۔ اگر ہم پاکستان کے قانون ساز اداروں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے لیول پر سٹینڈنگ کمیٹیوں کا تجزیہ کریں تو یہ بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے مگر یہ جُز وقتی ہوتے ہیں اور اور یہ بھی اتنے مو ثر نہیں ہو تے کیونکہ انکا ایجوکیشن اور تجربے کا معیار وہ نہیں ہوتا جو تھینک ٹینک کا ہوتا ہے ۔ اس کالم کے توسط سے مسلم اُمہ اور بالخصوص پاکستان کےء حکمرانوں سے یہ استد عا کرتا ہوں کہ مختلف شعبوں میں ترقی اور اسکو فروع دینے کےلئے تھنک ٹینک بنائیں تاکہ ملک میں مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ادارے تھنک ٹینک کے اصولوں کے راہنمائی میں آگے چل سکیں ۔ وہ دور گیا جب ریاستیں بغیر کسی موثر بندی کے بادشاہ کے حکم کے تابع ہوتی ۔ پاکستان میں مختلف یو نیور سٹیوں اور مختلف اُمور میں ماہروں کو یہ کام دینا چاہئے ۔ ہم بھارت کے ساتھ ہر بات میں ہم سری کرنا چاہتے ہیں مگر افسوس کہ ہم اُنکو ان چیزوں میں کیوں مقابلہ نہیں کرتے ۔ جمہوری طرز حکمرانی کو چھو ڑ کر کسی صا حب علم تجربہ کار شخص کا غلام ہوجا ءو، کیونکہ دو سو گدھوں کے دماغ سے انسانی فکر پیدا نہیں ہو سکتی ۔ پاکستان بننے یا اسکے بعد تقریباً ۹۲۱ ممالک آزاد ہوئے ہیں مگر پاکستان دنیا میں کیا جنوبی ایشیاء میں بھی سماجی اور اقتصادی اشاروں کے لحاظ سے سب سے نیچے ہے ۔ آج کل کی مہنگائی ، بے روز گاری ، لوڈ شیڈنگ ، مس مینجمنٹ ہمارے سامنے ہیں ۔