- الإعلانات -

نہتے کشمیری عوام بھارتی فوج کے مظالم سے خوفزدہ

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت کی جبری پابندیوں کو93 روز گزر چکے ہیں ۔ فاشسٹ مودی حکومت نے جنت نظیر وادی کشمیر کو جیل میں بدل کر رکھ دیا ہے ۔ کشمیریوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے ۔ بزدل قابض فوج نے کرفیو لگا کر کشمیریوں کو گھروں میں بند کررکھا ہے ۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں با الخصوص مریضوں اور ڈاکٹروں کو ہسپتال پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اورمقبوضہ علاقے میں بھارت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف خاموش احتجاج کے طور پر دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف احتجاج کرنے کی وجہ سے بچوں کو غیر قانونی شکل میں گرفتار کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ حراست میں لئے گئے بچوں کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو غیر قانونی نظر بندیوں میں رکھا اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے ۔ متاثرہ بچوں میں سے 14 سالہ 10 ویں جماعت کے طالبعلم عفان کے والد منظور احمد غنی نے کہا ہے کہ اس کے بیٹے کو دیگر قیدیوں کے ہمراہ ایک چھوٹے سے سیل میں رکھا گیا ۔ رہائی کے بعد بچے کو پورے جسم میں درد محسوس ہو رہا تھا اور اس کی پشت پر زخموں کے نشان تھے ۔ کئی دن تک جیل میں رہنے کے بعد بچہ شدید ڈپریشن کا شکار تھا اور ذہنی حوالے سے اس کی حالت بے حد خراب تھی ۔ گیارہ دن تک پولیس کی حراست میں رہنے والے 15 سالہ عمر نے بھی بتایا ہے کہ اسے مارا پیٹا گیا اور جذباتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ بھارت کی نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن نامی سول سوساءٹی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے لے کر اب تک علاقے میں 13 ہزار بچوں کو حراست میں لیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت، خوف اور دھمکیوں کی کہانی جاری ہے ۔ بھارتی صحافی اشوک سوائین اس کے چشم دید گواہ ہیں ۔ انہوں نے بھارتی اخبار دی ہندو میں رپورٹ دی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ جوانوں ، بزرگوں ، بچوں پر تشدد اور گرفتاریاں روز کا معمول بن گئی ہیں ۔ بھارتی سرکار نے عوام سے تشدد اور بربریت کی شکایت کا حق بھی چھین لیا ہے ۔ کشمیری عوام کو میڈیا سے دور رکھنے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر کسی نے بھی میڈیا سے بات کی تو اس کا برا حشر کیا جائے گا ۔ جنوبی کشمیر میں وامہ، شوپیاں کے عوام بھارتی فوج کا نشانہ ہیں ۔ شمالی کشمیر میں باندی پورا، سوپور میں بھی صورت حال مختلف نہیں ۔ تشدد اور دباوَ کے نت نئے طریقے متعارف کرائے جا رہے ہیں ۔ شوپیاں میں گرفتار 26 سالہ نوجوان کو جیپ سے باندھ کر گھسیٹا گیا ۔ راشٹریہ راءفل کیمپ میں نوجوان کو برہنہ کر کے یخ بستہ پانی میں غوطے دیے گئے ۔ اس کے بعد اسے ایک بد بودار سیال مادہ پینے پر بھی مجبور کیا گیا ۔ ایک نوجوان کو بجلی کے کھمبے سے باندھا گیا ۔ نوجوان کو تشدد کے ساتھ کرنٹ بھی لگایا جاتا رہا ۔ چیل پورہ، ترن کے علاقوں میں بھی ایسی کہانیاں عام ہیں ۔ نہتے اور مظلوم لوگوں نے خوف کے مارے اپنے لب سی رکھے ہیں ۔ پنجورا نامی گاؤں میں لوگوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں ۔ پلواما میں تاجر بھی میڈیا سے بات کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہ میں بھی دھمکی دی گئی کہ اگر میڈیا سے بات کی تو تمھارے بچوں کو ہزار کلو میٹر دور عقوبت خانوں میں بھیج دیا جائے گا ۔ ستم یہ کہ یہ دھمکیاں پبلک سیفٹی جیسے ڈراوَنے قانون کے نام پر دی جاتی ہیں جس کے تحت بغیر مقدمہ چلائے 6 ماہ سے 2 سال قید رکھا جا سکتا ہے ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابقہ مستقل مندوب، سفارتکار ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ بھارت کے قبضے میں کشمیری عوام کی زندگی ;39;ایک قبرستان کی خاموشی میں مسلح پنجرے میں رہنے;39; جیسا ہے ۔ پاکستان نے مظلوم کشمیریوں کی ترجمانی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اجاگر کیا ۔ ملیحہ لودھی نے دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ مقبوضہ کشمیر میں تشدد اور زبردستی گرفتاریوں کی داستانیں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں کہ کس طرح بچوں سمیت ہزاروں لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گھر سے لے جایا گیا ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بچوں کو درپیش اس ;39;سنگین حقیقت;39; پر توجہ دلوائی، جو 2 ماہ سے زائد عرصے سے سخت لاک ڈاوَن میں موجود ہیں ۔ رات میں چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں بچوں کو اٹھالیاجاتا ہے ۔ ساتھ ہی عالمی برادری اور یونیسیف، اقوام متحدہ کی بچوں کی ایجنسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی امداد کے لیے آئیں ۔ بھارتی فورسز کے ظلم و ستم اور کشمیر کی تقسیم کے خلاف کشمیری عوام بڈگام‘ شوپیاں ‘ پلوامہ‘ کلگام سمیت کئی اضلاع میں سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات پر شدید احتجاج کیا ۔ بھارتی فورسز نے احتجاج کرنے والوں پر پیلٹ گن چلائی جس سے بیسیوں نوجوان زخمی ہو گئے ۔ مظاہرے کی کوریج پر آئے صحافیوں پر قابض فورسز نے تشدد کیا جس سے تین صحافی زخمی ہوگئے ۔ ایک فوٹو جرنلسٹ کے مطابق وہ سرینگر کے علاقے خانیار میں بھارت مخالف مظاہرے کی تصاویر بنا رہا تھا کہ بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے اس پر پیلٹ بندوق تان لی اور اسے مارا پیٹا ۔ ایک خاتون رپورٹر کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اسے بھی سخت توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا ۔ جب سے بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اس خطے کو دو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ان دونوں علاقوں وادی اور لداخ کو مرکزی حکومت کے تحت قرار دیا ہے، کشمیری عوام اس صورتحال پر سراپا احتجاج ہیں ۔ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں فوج کی نفری بڑھا دی ہے ۔ دوہزار کے قریب سیاسی و سماجی شخصیات کو گرفتار کرلیا گیا یا انہیں نظربند کردیا گیا ہے ۔ عام سرگرمیوں اور نقل و حرکت کو محدود کرکے شہریوں کے حقوق کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اب یہ بہت ضروری ہوگیا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں سویلین راءٹس کے تحفظ اور سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے اور امن عمل بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے ۔