- الإعلانات -

کچھ نہ کچھ تو ہو گا گھبرائےں کےا

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو دو دن کا وقت دےا جو گزر چکا ۔ بعد ازاں مزےد وقت دے دےا گےا ۔ اس حوالے سے عوام تجسس کا شکار اور متذبذب کہ مولانا کا آئندہ کا لاءحہ عمل کےا ہو گا;238; آےا ےہ سب کچھ سےاسی سٹنٹ ہے ،حکومت کو دباءو مےں لانا مقصود ہے ےا پھر ےہ نعرہ اور پروگرام کسی اگلی تارےخ ےا اگلے لاءحہ عمل پر موخر کر دےا جائے گا ۔ وطن عزےز کا عام شہری ےہ سوچنے مےں حق بجانب ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اپنی ذات کے بل بوتے پر عمران خان کا استعفیٰ چاہتے ہےں ےا پھر سےاسی لےڈر کہلا کر بھی سےاسی جمہوری نظام کو تسلےم کرنے سے گرےزاں ہےں اور بغےر الےکشن کے ہی بزور استعفیٰ کے خواہاں ہےں جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزےر اعظم کےوں استعفیٰ دےں ۔ ہم پانچ سال کےلئے منتخب ہو کر آئے ہےں ۔ اےسے لوگ ملک کا کچھ نہےں بگاڑ سکتے ۔ چند ہزار لوگوں کو کروڑوں پاکستانےوں کا مےنڈےٹ تبدےل کرنے کا حق نہےں ۔ مولانا فضل الرحمٰن عمران خان سے مستعفی ہونے کا جس طرےقہ کار کو اپنا کر مطالبہ کر رہے ہےں اس کی آئےن مےں کوئی گنجائش نہےں ہے اور مولانا خود ماضی مےں اپنے موجودہ رویے کی طرح حرکات کو جمہورےت کش قرار دے چکے ہےں ۔ ان کا دعویٰ کہ مارچ مےں پندرہ لاکھ افراد شرکت کرےں گے لےکن ےہ لاکھوں پر مشتمل مارچ ہزاروی ہی ثابت ہوالےکن ےہ بھی سچ ہے کہ مولانا کے آزادی مارچ کے شرکاء کی تعداد تحرےک انصاف اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے دھرنے اور مارچ سے کہےں زےادہ ہے ۔ گو ن لےگ اور پےپلز پارٹی کے قائدےن نے سٹےج پر آ کر مولانا سے اظہار ےکجہتی کےا مگر دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے مارچ مےں شمولےت اختےار نہےں کی ۔ آزادی مارچ کے دھرنے کے آغاز پر مولانا فضل الرحمٰن بظاہر جنگ پر آمادہ دکھائی دےتے تھے لےکن شہباز شرےف مفاہمت کی راہ پر چلتے نظر آئے ۔ آج جبکہ کشمےرےوں کی جدو جہد آزادی فےصلہ کن مرحلے مےں داخل ہو چکی ہے ان حالات مےں اور پھر اسی روز کا آزادی مارچ کےلئے انتخاب کرنا جس دن پاکستان سمےت دنےا بھر مےں کشمےری ےوم سےاہ مناتے ہےں حےران کن تھا ۔ احتجاج کرنا ،دھرنا دےنا ےا پھر تحرےکےں چلانا جمہورےت کا حصہ ہے لےکن ان کا اصل مقصد مطلوبہ نتاءج کا حصول ہوتا ہے ۔ 70کی دہائی سے ملک مےں بھرپور احتجاجی تحرےکےں چلےں ،نتاءج بھی حاصل کئے کم از کم حکومتوں کو چلتا ضرور کےا ۔ ان تحرےکوں مےں مذہبی جماعتےں ہمےشہ ہراول دستہ رہےں ۔ ان کے کارکنوں نے قربانےاں دےں ،جےلےں کاٹےں لےکن منزل انہےں ملی جو شرےک سفر نہ تھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو جن کے خلاف مخلوط اپوزےشن تحرےک کو بڑی تےزی سے نظام مصطفیٰ مےں بدل دےا گےا تھا وطن عزےز پاکستان کے عوام مذہب کے نام پر جس شدت اور جذبے سے اکٹھے اور متحرک کئے جا سکتے ہےں کوئی دوسرا محرک کارگر نہےں ہوسکتا ۔ پاکستان قومی اتحاد نے ذوالفقار علی بھٹو جےسے ہر دلعزےز لےڈر کو رخصت کےا ۔ اس تحرےک کی کوکھ سے ضےاء الحق کے مارشل لاء نے جنم لےا ۔ گےارہ برسوں تک انہوں نے بلاشرکت غےرے کروڑوں پاکستانےوں کو لاٹھی سے ہانکا ۔ اسلام کے مقدس نام پر ملائےت کا اےک اےسا عفرےت کھڑا کےا کہ کئی عشروں کی رےاضت ،قربانےوں اور شہادتوں کے بعد اب جا کر اس مائنڈ سےٹ سے نجات ملی ۔ مولانا کے آزادی مارچ کے مطالبے پر وزےر اعظم استعفیٰ دےنے والے نہےں ۔ ن لےگ اور پےپلز پارٹی مولانا کے پرتشدد احتجاج مےں شامل ہونے کو تےار نہےں مولانا پسپائی پر بھی تےار نہےں تو دےکھےں کونسا تےسرا راستہ نکالا جاتا ہے ۔ اگر ماضی کا مطالعہ کےا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب جنرل مشرف ن لےگ اور پےپلز پارٹی کے خلاف برسر پےکار تھے تو مولانا فضل الرحمٰن ان کے ساتھ تھے ۔ جب ےہ دو جماعتےں جنرل پروےز مشرف کا قصر اقتدار گرا رہی تھےں تو مولانا ان کے ساتھ تھے ۔ پےپلز پارٹی اور ن لےگ اےک دوسرے کے خلاف لڑ رہی تھےں تو جب تک پےپلز پارٹی کا پلڑا بھاری رہا مولانا اس کے ساتھ رہے لےکن جب ن لےگ نے حکومت بنا لی تو مولانا اس کا حصہ بن گئے عمران خان کو چاہیے تھا وہ بھی مولانا کو اپنی حکومت مےں شامل کر لےتے تو نوبت ےہاں تک نہ آتی ۔ اس وقت مقتدر قوتوں کی حماءت مولانا اور حزب اختلاف کے ساتھ نظر نہےں آتی البتہ افواہوں کا بازار گرم ہے اور خواہشات کو خبر اور تجزےہ بنا کر پےش کرنے کا کاروبار زوروں پر ہے ۔ مولانا نے جوش خطابت مےں حکومتی اداروں کو خبردار کےا کہ حکومت کا ساتھ نہ دےں جو فراڈ الےکشن کے ذرےعے وجود مےں آئی ۔ افواج پاکستان کے ترجمان مےجر جنرل آصف غفور نے مولانا کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آخر وہ کس ادارے کے خلاف باتےں کر رہے تھے اس کی نشاندہی کرےں اگر ان کا اشارہ الےکشن کمےشن ےا دوسرے اداروں کی طرف تھا تو اس سے رجوع کرےں ۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو انہےں ےہ کہنے مےں کوئی جھجک نہےں کہ افوج پاکستان نے انتخابات مےں اپنا آئےنی اور قانونی فرض ادا کےا ۔ فوج کسی بھی سےاسی جماعت کی حماےت نہےں کرتی وہ صرف اور صرف جمہوری طور پر منتخب ہونے والی حکومت کا ساتھ دےتی ہے ۔ مولانا فضل الرحمٰن نے فوجی ترجمان کو جواب الجواب دےتے ہوئے کہا کہ ڈی جی اےس پی آر نے کہا کہ بتائےں کونسا ادارہ ہے ان کی بات مےں ادارہ خود سامنے آگےا ۔ مولانا فضل الرحمٰن کے اداروں سے ٹکراءو پر مبنی رویے کو ملک کی اکثرےت نے پسندےدہ قرار نہےں دےا ۔ اےک طرف مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت تحرےک انصاف کے دھرنے کی مقلد دکھائی دےتی ہے لےکن دوسری طرف ان کا کہنا ہے کہ ان کی 126دن والے دھرنے سے کوئی مماثلت نہےں ان کے اپنے مطالبات ہےں مولانا فضل الرحمٰن نے جس جارحانہ انداز سے دو دن کے اندر اندر استعفیٰ مانگا اور مطالبہ نہ ماننے کی صورت مےں زبردستی کرنے کا عندےہ دےا ۔ ےہی کچھ تو موجودہ وزےر اعظم عمران خان 2014ء کے دھرنے کے دوران بار بار کر چکے ہےں ۔ عمران خان کے ہی ےہ الفاظ تھے کہ مےرا دل چاہتا ہے وزےر اعظم کو گرےبان سے پکڑ کر پھےنک دوں ،سونامی وزےر اعظم ہاءوس اور پارلےمنٹ ہاءوس بھی جا سکتا ہے ،پولےس روک سکتی ہے نہ فوج لےکن آج افسوسناک حقےقت ےہی ہے کہ عمران خان اور ان کے حواری مولانا کے رویے کو تو غلط اور جمہورےت کش قرار دے رہے ہےں مگر ےہ ماننے کےلئے تےار نہےں کہ ماضی مےں مولانا کی طرح کا روےہ اختےار کر کے انہوں نے کوئی غلطی کی تھی ۔ آزادی مارچ سے در حقےقت کسے نقصان اور کسے فائدہ ہو رہا ہے ۔ راقم کے خےال مےں مےاں نواز شرےف ،آصف علی زرداری اور دشمن قوتوں کو ۔ مےاں صاحب تو آزادی مارچ کے ثمرات سے مستفےد ہونا شروع بھی ہو چکے ۔ اگلا نمبر زرداری صاحب کا ہے ۔ اس آزادی مارچ سے کچھ سرکردہ لےڈر تو مستفےد ہو گئے لےکن ملک ہمےشہ کی طرح کامےاب نہےں ہو سکا ہر کوئی اپنے اپنے ذاتی مفاد کی طرف بھاگ رہا ہے اور قومی مفاد ہمےشہ کی طرح کسی نظر التفات کا حقدار نہےں ٹھہرا ۔ تادم تحرےر اسلام آباد مےں مولانا فضل الرحمٰن کی اقتدا مےں آزادی مارچ کا اجتماع جاری ہے ۔ اس مشق کے حال احوال سے تو راقم کماحقہ آگاہی نہےں رکھتا کےونکہ براہ راست مشاہدے اور روبرو رسائی سے محروم ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہی پوشےدہ حقائق منظر عام پر آئےں گے اس حقےقت سے صرف نظر نہےں کےا جا سکتا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزےشن کے ساتھ طوےل مشاورت کے بعد اپنی زندگی کا سب سے بڑا سےاسی طاقت کا مظاہرہ کےا ۔ ان کےلئے واپسی بھی مشکل دکھائی دےتی ہے ۔ اگر وہ اپنے مطالبات سے دستبردار ہوتے ہےں تو نہ صرف اپوزےشن کی سےاست پر منفی اثرات پڑےں گے بلکہ خود مولانا فضل الرحمٰن کو بھی سےاسی طور پر نقصان ہو گا ۔ آزادی مارچ کے آغاز پر تو مولانا کا موقف سخت تھا کہ وہ استعفیٰ لئے بغےر واپس نہےں جائےں گے ۔ اب اچانک ہی ان کے موقف مےں تبدےلی نظر آئی کہ ہمارا تو دھرنے کا ارادہ ہی نہےں تھا ،صرف مارچ تھا اور اس کے بعد ملک بھر مےں مارچ ،جلسے اجتماعات کرےں گے ۔ مولانا نے ڈی چوک اور وزےر اعظم ہاءوس پر ےلغار کے ارادے کی نفی کر دی ہے ۔ اور اب دےکھنا ےہ ہے کہ مولانا اپنی اے پی سی سے کےا اعلامےہ برآمد کرتے ہےں ۔ بظاہر ان کے دھرنے کا ڈراپ سےن ہوتا نظر آتا ہے ۔