- الإعلانات -

اےف اے ٹی اےف

فنانشل اےکشن ٹاسک فورس کے 27 سفارشات میں پانچ سفارشات پر اےف اے ٹی اےف نے اطمےنان کا اظہار کیا تھا اوراب بقےہ22 سفارشات کے جوابات پر مشتمل رپورٹ ارسال کردی گئی ہے ۔ 21جنوری2020ء کواےف اے ٹی اےف کا اجلاس اسٹرےلیا کے شہر سڈنی کی بجائے چےن کے دارالحکومت بےجنگ میں ہوگا جس میں ان سفارشات پر غور ہوگا اور پھر فروری کے پہلے ہفتے میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے بارے فےصلہ کیا جائے گا ۔ پاکستان نے22 سفارشات کے جوابات کی رپورٹ سےکےورٹی اےنڈ اےکسچےنج کمیشن آف پاکستان (اےس ای سی پی)،فنانشل مانےٹرنگ ےونٹ(اےف اےم ےو)، وزارت خزانہ اور وزارت خارجہ نے تےارکی اوراس رپورٹ میں پاک فوج ،محکمہ انسداد دہشت گردی(سی ٹی ڈی )،اےف آئی اے،نےشنل کاءونٹر ٹےررازم اتھارٹی( نےکٹا) اور سٹےٹ بےنک نے معاونت کی ۔ واضح ہو کہ اس سے قبل 2012ء میں اےف اے ٹی اےف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا تھا لیکن اقدامات کرکے 2015ء میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا گےا ۔ 2018ء میں پاکستان کودوبارہ گرے لسٹ میں ڈالا گےا ۔ جولائی1989ء میں فرانس کے شہر پیرس میں جی سےون ممالک ( امرےکہ، فرانس،جاپان، کینےڈا، برطانےہ،اٹلی اور جرمنی)نے اےف اے ٹی اےف (فنانشل اےکشن ٹاسک فورس) کوقائم کیا ۔ اس تنظےم کے بنےادی طور پر ظاہراً تےن مقاصد ہیں ۔ (۱)ٹےرز فنانسنگ کو روکنا ، (۲)منی لانڈرنگ کی روک تھام ،(۳)ٹےکس کی معافی ۔ دنےا میں کئی ممالک ہیں جہاں بڑے بڑے مافےاز کو ٹےکس معاف کیے جاتے ہیں اور پھر ےہی ممالک معےشت کو سہارا دےنے کےلئے قرضوں پر انحصار کرتے ہیں ۔ وہ ممالک قرضوں کے دلدل میں پھنس جاتے ہےں ۔ دنےا میں کئی ممالک اےسے ہیں جھنوں نے اب تک کھربوں قرضے معاف کیے ہیں اور ےہ قرضے عام لوگوں کے معاف نہیں کیے گئے ۔ اسی طرح حکومتوں کی سبسڈی وغےرہ بھی گےم ہے اور ٹےکس کی معافی بہت بڑا کھےل ہے ۔ کس طرح غرےبوں اور متوسط طبقے کے جےبوں سے رقوم نکالے جاتے ہیں ۔ پھر کھلے دل سے مافےا کو ٹےکس معاف کیے جاتے ہیں اور مخصوص طبقے کو مراعات دیے جاتے ہیں ۔ اےف اے ٹی اےف کا ظاہراً مقصد اےسی سرگرمےوں کی روک تھام ہے ۔ اےف اے ٹی اےف ممبران کی تعدادانتالیس ہے جس میں ( ۱ )امرےکہ (۲)برطانےہ(۳)اسرائےل (۴)انڈےا (۵)فرانس(۶)ناروے (۷) جرمنی(۸) اسپین (۹) روس(۰۱)اٹلی (۱۱) ےورپین کمیشن (۲۱)ارجنٹائن (۳۱)اسٹرےلیا ( ۴۱)آسڑےا ( ۵۱)بےلجیم (۶۱)برازےل (۷۱) کینےڈا ( ۸۱)چےن (۹۱) ڈنمارک ( ۰۲)فن لینڈ (۱۲)ےونان ) ۲۲)خلیجی تعاون کونسل (۳۲)ہانگ کانگ (چےن) (۴۲)آئس لینڈ ( ۵۲) آئرلینڈ (۶۲) جاپان (۷۲) جنوبی کورےا (۸۲)لکسمبرگ ) ۹۲) ملائیشےا (۰۳) میکسےکو (۱۳)نےدر لینڈز (۲۳)نےوزی لینڈ (۳۳) پرتگال (۴۳) سعودی عرب (۵۳)سنگاپور (۶۳)جنوبی افرےقہ (۷۳) ترکی(۸۳)سوےڈن (۹۳)سوءٹزرلینڈ ممالک شامل ہیں لیکن ان انتالیس ممالک میں وطن عزےز پاکستان کا نام شامل نہیں ہے ۔ اس سے ہماری وزرات خارجہ کی کارکردگی بھی عےاں ہوتی ہے ۔ اےف اے ٹی اےف کی دو کےٹگریاں ہیں (۱) گرے اور (۲)بلیک ۔ گرے لسٹ میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور ٹےررسٹ فنائنسنگ کے خلاف کوئی نماےاں اقدمات نہیں اٹھاتے ہیں ۔ گرے لسٹ میں شامل ہونے والے ممالک واچ لسٹ میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ گرے لسٹ میں شامل ہونے سے قرضوں کا حصول مشکل ہوجاتا ہے، اوربےرونی سرماےہ کاری اور تجارت محدود کردی جاتی ہے جبکہ بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے قرضوں کے حصول کا باب بند ہوجاتا ہے اور بےرونی سرماےہ کاری اور تجارت پر قدغن لگ جاتی ہے ۔ اس وقت گرے لسٹ میں (۱) پاکستان (۲)وانواتو(۳)عراق (۴)ےمن (۵) سربےا (۶)شام، (۷) سری لنکا ( ۸)ٹرےنےڈاڈاےنڈ ٹوباگو (۹) تےونس ممالک شامل ہیں ۔ بلیک لسٹ میں (۱)اےتھوپیا ( ۲) بولیوےا (۳)گھانا (۴)انڈونےشےا (۵)کینےا (۶)میانمار (۷)نائیجےرےا ممالک ہیں ۔ گرے اوربلیک لسٹ میں وہی ممالک شامل کیے گئے ہیں جو مغربی ممالک اور ان کے حوارےوں کے مفادات سے متصادم ہوتے ہیں ۔ ےہی وجہ ہے ،ان ممالک کو کسی نہ کسی بہانے سے اس لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ ممالک معاشی لحاظ سے کمزور رہیں اور ترقی نہ کرسکیں ۔ پاکستان کو دوہزار بارہ میں گرے لسٹ میں ڈالا گےا تھا لیکن بعد ازاں پاکستان کے اقدامات کو سراہا گےا اورپاکستان کے نام کو فہرست سے نکال لیا گےا تھا ۔ پاک امرےکہ کشےدگی کے سبب سن دوہزاراٹھارہ میں پاکستان کودوبارہ گرے لسٹ میں ڈالا گےا ۔ امرےکہ اور اس کے حواری بھارت کی کوششوں اور دےگر ممالک پر دباءو ڈال کر پاکستان کا نام واچ لسٹ ےعنی گرے لسٹ میں شامل کیا گےا ۔ حالانکہ پاکستان نے دہشت گردی کو ختم کرنے کےلئے سب سے زےادہ قربانےاں دی ہیں اور پاکستان نے عالمی امن میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ پاکستان کی لازوال قربانےوں کو نظرانداز کرکے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ اس کی سب سے اہم وجہ پاکستان اےک اسلامی ملک اور اٹےمی طاقت ہے ۔ انڈےا کو بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا جاتا ہے حالانکہ انڈےا کی حکومت بدنام زمانہ دہشت گرد تنظےم آر اےس اےس کو فنڈنگ اور سپورٹ کرتی ہے ۔ علاوہ ازےں انڈےا کی دےگر دہشت گرد تنظے میں مقبوضہ کشمےر میں کام کررہی ہیں ۔ قارئےن کرام!اقوام متحدہ، آئی اےم اےف، ورلڈ بےنک اور فنانشل اےکشن ٹاسک فورس کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ مذکورہ تنظیموں کو مغربی ممالک اوران کے حوارےوں کے تحفظ کی بجائے غےر جانبدارانہ کام کرنا چاہیے ۔ پاکستان دنےا کا اہم ملک ہے،اس لئے فنانشل اےکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کو بھی رکنےت دےنی چاہیے ۔ پاکستان اےک ذمہ دار ملک ہے اور ان کے مثبت کردار کو فراموش نہیں کرنا چاہیے ۔